Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    نبیل گبول نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت میں آج سے مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے اور فریقین میں ایک بریک تھرو کی صورتحال بن سکتی ہے۔حکومت کی شرط یہ ہے کہ مذاکرات پی ٹی آئی کے وکیلوں سے کیے جائیں گے، پشاور والوں سے نہیں، تاہم پشاور کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں۔ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقین کی طرف سے مذاکرات کے لیے راستے کھلے ہیں لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت سے ابھی تک کوئی مزاکرات شروع نہیں ہوئے ،مزاکرات جب بھی ہوں گے، اوپن ہوں گے ،سب کے سامنے ہوں گے،مزاکرات کیسے ہوں گے اس کی تفصیلا ت میں جائیں ،مزاکرات خفیہ نہیں کریں گے لوگوں کے سامنے ہوگا ،ابھی مزاکرات کے حوالے سے قوائدو ضوابط طے ہورہے ہیں،

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ابھی مزاکرات شروع نہیں ہوئے تاہم.ہم سب کے ساتھ مزاکرات کرنے کو تیار ہیں ،بانی پی ٹی ْآئی نے کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کے نام بھی بتادئیے ہیں، ہم کمیٹی کے ارکان اب مزاکرات کے لئے دستیاب ہیں ،اسپیکر سے مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،اسپیکر سے میں اور عامر ڈوگر نے گزشتہ روز انکی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی تھی ،گزشتہ رات اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے بھی اسپیکر سے تعزیت کرنے گئے تھے

    اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔عرفان صدیقی
    ن لیگی رہنما عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔ پی ٹی آئی ہر جگہ سے بے بس اور لاچارہوگئی تو مذاکرات کیلئے تیارہوگئی۔ سول نافرمانی کی تلوار ہماری گردنوں میں لٹکا کر مذکرات کی طرف نہ آئیں ۔مذاکرات میں شرائط ہوتی ہیں، جیلوں میں ایک لاکھ قیدی کسی نہ کسی جرم میں پڑے، حکومت کیسے قیدی چھوڑ دے، یا تو وہ کہہ دیں کہ ہمارے سارے راستے بند ہو چکے ، عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے ہم مجبور بے بس لاچار ہوچکے ہیں ہم سے بات کرو، پھر بات ہو جائے گی، سول نافرمانی کی تلوار لٹکی ہو گی تو بات نہیں ہو گی، ڈاکوؤں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں تو بات ہو جائے گی

    پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کہتی ہیں کہ ہم ملک کی خاطر مذاکرات کرتے ہیں, ہمیں لوگوں نے وٹ دیا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ظلم بھی ہم پر ہوں اور جھوٹے کیسز میں بھی ہم کورٹس کے چکر لگاتے رہے ، مذاکرات کا کل پہلا دن تھا،عمران خان نے سیاسی کمیٹی بنائی ہے جس کومذاکرات کا مکمل اختیار ہے، مذاکرات میں جو پیشرفت ہو گی شئیر کی جائے گی

    سینیٹر عون عباس کہتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتی تو پھر سول نافرمانی کی تحریک اور ڈی چوک پر دوبارہ احتجاج کی ذمہ دار حکومت وقت ہوگی،

    ایم کیو ایم کی مذاکرات کے لئے کردار کی پیشکش
    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے لئے خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کر دی، ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دنیا میں مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلتا ہے،ہمارے سیاسی بحران سے معاشی بحران جڑا ہو ا ہے، لوگ مہنگائی بے روزگاری کی چکی میں پسے ہوئے ہیں ، مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہئے،فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے ایم کیو ایم کے اراکین اور سیاسی رہنما کردار ادا کرکے نوابزادہ نصراللہ کی یاد تازہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ فریقین مانیں،

    گزشتہ روز بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی تھی، جس میں پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کی تردید کر دی تھی۔

    گزشتہ روز پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایک کمیٹی اس لیے بنائی ہے تاکہ پارٹی کی غلطیوں کو درست کیا جا سکے اور اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانا چاہیے تاکہ اس معاملے کا صحیح سے جائزہ لیا جا سکے۔

    عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ جب مذاکرات ہوں گے تو یہ اوپر کی سطح پر ہوں گے اور ان مذاکرات میں عطا تارڑ کو شریک نہیں کیا جائے گا۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں مذاکرات کے لیے اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی اور حکومت کو اس کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی باتیں تیزی سے گردش کر رہی ہیں، اور دونوں طرف سے اس پر مختلف ردعمل آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، اس وقت تک مذاکرات کی صورت میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی اس معاملے پر کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔

    آئیے ہاتھ بڑھائیے

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

  • افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک منقسم پارٹی بن چکی ہے اور اس کے اندر کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کسی کا قبلہ ایک طرف ہے تو کسی کا قبلہ دوسری طرف ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنما ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہدایات لے رہے ہیں۔ "کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ پارلیمان میں آئیں اور یہاں آ کر سیاست کریں۔”شرمیلا فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما ملک دشمن بن جائیں گے اور مسلح افواج کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ "اگر آپ اپنی مسلح افواج کے خلاف ہوں گے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، کیونکہ ملکی دفاع اور افواج کا وقار ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔”

    شرمیلا فاروقی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاست کو پارلیمنٹ کے اندر کریں اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ پی ٹی آئی میں بے چینی اور انتشار کا ماحول ہے اور پارٹی کے داخلی اختلافات اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    امریکہ میں پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

  • سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیس میں 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں ملٹری کورٹس کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 میں آرمی قوانین کا ذکر ان کے ڈسپلن سےمتعلق ہے، حضرت عمرؓ نے سخت ڈسپلن کی وجہ سےہی فوج کو باقی عوام سے الگ رکھا، فوج کا ڈسپلن آج بھی قائم ہے اور اللہ اسے قائم ہی رکھے، فوج کو ہی بارڈرز سنبھال کر ملک کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ فوجی کو قتل کرنے والے کا مقدمہ عام عدالت میں چلتا ہے، فوجی تنصیبات پر حملہ بھی تو انسداددہشتگردی ایکٹ کےتحت ہی جرم ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ذاتی عناد پر فوجی کاقتل الگ اور بلوچستان طرز پر فوج پر حملہ الگ چیزیں ہیں،جسٹس مظہر علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس میں جن رولز کے تحت ٹرائل ہوتا ہے اس کی تفصیل فراہم کریں۔جسٹس مسرت ہلالی نے حکومتی وکیل کو 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیل دینے کی ہدایت کر دی،بعد ازاں آئینی بینچ نے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ،عمران خان کی 9 مئی کی جوڈیشیل تحقیقات کی درخواست منظور

    سپریم کورٹ،عمران خان کو خیبر پختونخوا منتقلی کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

  • وزیرداخلہ محسن نقوی سے  پرویز خٹک کی ملاقات

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے پرویز خٹک کی ملاقات

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے بانی اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کی اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور دیگر اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔پرویز خٹک نے اسلام آباد میں حالیہ احتجاج کے دوران شر پسندوں کے حملے میں شہید ہونے والے پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں، اور ہم شہید اہلکاروں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

    اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ہمارا مشترکہ وطن ہے اور ہمیں سب کو مل کر اس کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن اور تابناک ہے، اور دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عوام صرف اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، اور حکومت ان مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    ثانیہ عاشق کے سپیشل ایجوکیشن تعلیمی اداروں کے دورے

  • پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاززہرابلوچ نے ہفتہ واربریفنگ میں کہا ہے کہ ساتواں پاکستان ،تاجکستان مشترکہ کمیشن کا اجلاس اسلام آبادمیں ہوا.فریقین نے توانائی ،سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا.

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فرانس نے سلامتی معاملات کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی.پاکستان اور فرانس نے باہمی طور پر چیلنجز کا سامنا کرنے پر اتفاق کیا.پاکستان غزہ میں غیرمشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتاہے.پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.شام کی سلامتی اور خود مختاری کی حمایت کرتے ہیں.عالمی برادری اسرائیل کو جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے.فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بربریت کاسلسلہ جاری ہے.اسرائیل کی جانب سے گولان کی پہاڑیو ں پر قبضہ قابل مذمت ہے.مقبوضہ کشمیرکے عوام کی سیاسی، اخلاقی اورسفارتی حمایت جاری رکھیں گے.کشتواڑ میں کشمیریوں کی جائیدادوں پر بھارتی قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ خلیل الرحمٰن حقانی کی وفات پر وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے دکھ کا اظہار کیا ہے ،ہم سمجھتے کہ دہشتگردی کی ہر کاروائی کی مذمت کرنی چاہیئے،ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں اور اس واقعے کی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں

    نو منتخب امریکی صدر کے حلف میں پاکستانی حکام کی شرکت پر ترجمان دفتر خارجہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ
    امریکی صدر کی تقریب حلف برادری کے دعوت نامہ کے حوالے سے اب تک کوئی معلومات نہیں ہیں.

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    ثانیہ عاشق کے سپیشل ایجوکیشن تعلیمی اداروں کے دورے

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    آئی جی اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر بدنیتی پر مبنی مہم چلانے والے ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    ملزمان میں صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمن، اظہر مشوانی، کومل آفریدی، عروسہ ندیم شاہ اور ایم علی ملک شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) نے ان تمام ملزمان کو 13 دسمبر 2024 کو طلب کر لیا ہے، اور نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انہیں اس دن تفتیش کے لیے حاضر ہونا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر یہ بدنیتی پر مبنی مہم ملک میں انتشار اور بد امنی کی وجہ بنی، جس کا مقصد عوامی امن و سکون کو متاثر کرنا تھا۔

    وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لیے پی کی اے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کا مقصد ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کی تحقیقات کرنا ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں بد امنی اور انتشار پھیلانے کے لیے پروپیگنڈا کیا۔ جے آئی ٹی اس وقت اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح یہ مہم ملک کے اندر امن و سکون کے لیے خطرہ بن گئی۔

    جے آئی ٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید مجرموں کی شناخت کی جا رہی ہے جو اس مہم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے مزید قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

    آئی جی اسلام آباد نے اس معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کریں تاکہ اس طرح کی بدنیتی پر مبنی مہموں کا سدباب کیا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے مواد کی نشاندہی کریں اور فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب نے اسلامک کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کے حوالے سے زوم پر خطاب کرتے ہوئے اظہار خیال کیا اور مختلف مالیاتی اداروں کی کاوشوں کی تعریف کی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور اس کے انعقاد پر پاکستان کے مالیاتی اداروں جیسے ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان)، ایوفی (اسلامی فنانس انسٹی ٹیوٹ) اور اسلامی ترقیاتی بینک کو مبارکباد پیش کی۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ خود اس کانفرنس میں کراچی آ کر شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی مصروفیات کے باعث وہاں نہیں پہنچ سکے۔ تاہم، انہوں نے بیرونی مندوبین کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان اسلامی مالیاتی مارکیٹس کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کا انعقاد اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کا مالی نظام شریعہ اصولوں پر منتقلی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کی راہ میں پیش رفت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی کا نشان ہے جو نہ صرف مالیاتی شعبے کو مستحکم کرے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی تقویت دے گی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے اس سفر میں تمام اداروں اور افراد کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔ شریعہ اصولوں پر مبنی مالیاتی مصنوعات تیار کرنا اور ان مصنوعات سے صارف کا اعتماد حاصل کرنا اس تبدیلی کی بنیاد ہے۔ یہ صرف ایک مالیاتی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی تبدیلی کی طرف بھی ایک قدم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی خدمات کی مانگ بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو اس بڑھتی ہوئی عالمی طلب کا فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی مالیاتی مارکیٹوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر اسلامی فنانشل خدمات کے لیے ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اور پاکستان کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔وزیر خزانہ نے ایس ای سی پی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ماحول فراہم کر رہا ہے تاکہ مالیاتی ادارے شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے تحت کام کر سکیں۔ ایس ای سی پی کا یہ عمل مالیاتی شعبے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی اہم ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے اور ملکی معیشت میں استحکام آئے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے عمل میں حکومت اور مالیاتی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت

    ریڈ بال کوچ ٹم نیلسن کا پاکستانی ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر

  • سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ نے پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر کی دائر درخواستیں خارج کر دی ہیں

    آئینی بینچ نے پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستوں کو مسترد کرنے کا فیصلہ دیا،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس ختم ہو چکا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈیننس کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کر دی ہے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت کمیٹی کے ایکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون آجائے تو آرڈیننس خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت بنی کمیٹی ختم ہوگئی، کمیٹی کے فیصلوں کو پاس اینڈ کلوز ٹرانزیکشنز کا تحفظ ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین صدر پاکستان کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف گوہر علی خان، افراسیاب خٹک، احتشام الحق اور اکمل باری نے آرڈیننس کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں،بیرسٹر گوہر کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار دیا جائے،ترمیمی آرڈیننس عدلیہ کی آزادی اور قانون و آئین کے برخلاف ہے، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ آرڈیننس ایمرجنسی حالات میں ہی جاری ہوسکتا ہے،ایسی کوئی ایمرجنسی صورتحال نہیں تھی کہ آرڈیننس جاری کیا جاتا، آرڈیننس کے اجراء کی کوئی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں؟ درخواست پر فیصلے تک آرڈیننس کو معطل کیا جائے،پی ٹی آئی نے آرڈیننس سے پہلے والی ججز کمیٹی بحال کرنے کی بھی استدعا کر دی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں؟جسٹس مندوخیل

    غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں؟جسٹس مندوخیل

    سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس فیصلہ کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت کے وکیل خواجہ حارث نےدلائل دیئے ، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کورٹ کے زیر حراست افراد کی ایف آئی آر کی نقول نہیں دی گئی۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس میں عدالتی فیصلہ دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک حصہ میں آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا۔دوسرے حصہ میں ملزمان کی ملٹری کورٹ میں کسٹڈی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس کا پورا کیس آرٹیکل 8 کے گرد گھومتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا پانچ رکنی بینچ نے آرمی ایکٹ دفعات کو آرٹیکل 8 سے متصادم قرار دیا۔ آرمی ایکٹ کی دفعات کو آرٹیکل 8 سے متصادم ہونے کا کیا جواز فیصلہ میں دیا گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جو شخص آرمڈفورسز میں نہیں وہ اس کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آ سکتا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اگر قانون اجازت دیتا ہے تو ڈسپلن کا اطلاق ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک شخص آرمی میں ہے اس پر ملٹری ڈسپلن کا اطلاق ہوگا۔ایک شخص محکمہ زراعت میں ہے اس پر محکمہ زراعت کے ڈسپلن کا اطلاق ہوگا۔اگر کوئی شخص کسی محکمہ میں سرے ہیں نہیں اس پر آرمی فورسز کے ڈسپلن کا اطلاق کیسے ہوگا۔کیا غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مخصوص حالات میں سویلین پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، عدالت کے پاس آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم کرنے کا اختیار نہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اس طرح تو اگر کوئی اکسانے کا سوچے تو آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا، کیا آرمی ایکٹ نے آئین کے آرٹیکل8کا سیکشن 1 غیرمؤثرنہیں کردیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں بھی فیئر ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے موجود ہوتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا عہدہ صدر مملکت کا ہے، اگر صدرہاؤس پرحملہ ہو تو ملزم کا ٹرائل انسداد دہشتگردی عدالت میں ہوگا مگر آرمی املاک پر حملہ ہو تو ٹرائل ملٹری کورٹس میں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ فیصلہ قانون سازوں نے قانون سازی سے کیا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس کے زیر حراست افراد کی ایف آئی آر کی نقول نہیں دی گئیں، کیا ملٹری کورٹ ٹرائل میں وکیل کی اجازت ہوتی ہے؟ کیا ملٹری کورٹ میں ملزم کو تمام مواد فراہم کیا جاتا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا جی ملٹری کورٹ میں ملزم کو وکیل اور تمام متعلقہ مواد فراہم کیا جاتا ہے۔،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا اگر ایک فوجی اپنے افسر کا قتل کردے تو کیس کہاں چلے گا؟ خواجہ حارث نے جواب دیا قتل کا کیس عام عدالت میں چلے گا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے کیس کی مزید کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    بہن کی عیادت کیلئے جانے والی 5 بہنیں ٹریفک حادثے میں جاں‌بحق

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    صدر زرداری سے بلاول ہاؤس میں چینی کاروباری وفد کی ملاقات