Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلام آباد، لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی، اجلاس طلب، نام تجویز

    اسلام آباد، لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی، اجلاس طلب، نام تجویز

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی : جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبر کو طلب کیا گیا ہے جس میں اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ناموں پر غور کیا جائے گا،اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ سیشن جج اعظم خان اور ڈسٹرکٹ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے نام کے تجویز کردیئے گئے ہیں۔
    judges
    جوڈیشل کمیشن کے رکن بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے ایڈووکیٹ کاشف علی ملک اور رکن جوڈیشل کمیشن اسلام آباد ذوالفقار علی عباسی کی جانب سے سید قمر حسین سبزواری کی تجویز دی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے سلطان مظہر شیر خان، ممبر جوڈیشل کمیشن روشن خورشید بھروچہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ہمایوں دلاور کے نام کی تجویز دی گئی ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے قمر حسین سبزواری، عمر اسلم خان، دانیال اعجاز، کاشف علی کے نام تجویز کردیئے گئے ہیں۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 21 نام تجویز کیے ہیں جن میں محمد صدیق اعوان،چوہدری اقبال احمد خان ،محمد آصف سعید رانا کے نام بطور جج تجویز کیے ہیں۔
    judges
    ان کے علاوہ محمد اجمل زاہد ،عبدالباسط خان بلوچ،حسن نواز مخدوم ،عامر عجم ملک اور شیریں عمران کے نام بھی بطور جج لاہور ہائیکورٹ تجویز کیے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ملک وقاص حیدر اعوان، ایڈووکیٹ اسد محمود عباسی، محمد امجد پرویز ، شہزاد محمود بٹ ،احسن رضا کاظمی ،خالد بن عزیز، محمد جواد ظفر اور خالداسحاق کے نام بھی بطور جج لاہور ہائیکورٹ تجویز کیے ہیں۔

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی کیلیے 11نام تجویز کیے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے تین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے نام لاہور ہائیکورٹ کیلیے بطور جج تجویز کیے ان میں ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن جج قیصر نذیر بٹ ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکمل خان اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جزیلہ اسلم شامل ہیں۔

    جزیلہ اسلم سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ کیلیے بطور جج ایڈووکیٹ حیدررسول مرزا ،منور السلام ،خالد اسحاق ،رافع ذیشان ، جاوید الطاف، ایڈووکیٹ قاسم علی چوہان ، سید شہاب قطب،عاصمہ حامد،ث مینہ خالد محمود کے نام بھی بطور لاہور ہائیکورٹ جج تجویز کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں ممبر جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر نے لاہور ہائیکورٹ کیلیے تین نام تجویز کیے، ان میں ایڈووکیٹ محمد ثاقب جیلانی ،بیرسٹر قادر بخش اور ایڈووکیٹ ہما اعجاز زمان کے نام شامل ہیں۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعیناتی کیلیے 8 وکلاء کے نام تجویز کیے ہیں جن میں ملک جاوید اقبال وائیں، حسیب شکور پراچہ، مجیب الرحمان کیانی، سہگل اعجاز، ثاقب جیلانی، آیان طارق بھٹہ، نوازش پیرزادہ اور صباحت رضوی شامل ہیں۔
    judges
    جبکہ لاہور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لئے اختر حسین نے 2 وکلا کے نام تجویز کئے ہیں جن میں ملک جاوید اقبال اور سید علی عمران شامل ہیں-

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبرکو شام 4 بجے ہوگا۔

  • عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف  بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ماضی کی کچھ انتہائی سنسنی خیز باتوں کو منظر عام پر لایا ہے

    جاوید بدر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی سرگرمیاں 2013 سے ہی ملک دشمن تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا فوری طور پر فوجی ٹرائل شروع ہونا چاہیے۔جاوید بدر نے انکشاف کیا کہ 2013 میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مدد حاصل کی تھی۔ عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بیان دینے سے روک دیا تھا، جبکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور میٹنگز پر بم دھماکے اور فائرنگ ہو رہی تھی۔جاوید بدر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ "ٹی ٹی پی کے ساتھ میری بات ہوگئی ہے، وہ ہمیں مکمل سپورٹ کریں گے اور صوبے میں کسی اور پارٹی کو کمپین نہیں کرنے دیں گے۔” ان کے مطابق، عمران خان نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان دینے سے روک دیا تھا۔

    جاوید بدر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کی خواہش میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اور انہوں نے اپنے مفادات کے لیے دہشت گرد تنظیموں سے ہاتھ ملایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹی ٹی پی اس وقت ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر رہی تھی، اور عمران خان نے ان سے حمایت حاصل کی۔”عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے اور یہ تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ جاوید بدر کے مطابق، پی ٹی آئی کے ہر احتجاج میں دہشت گرد عناصر شامل ہوتے ہیں، اور عمران خان نے "تبدیلی” کے نام پر ملک کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ڈرون حملوں کو سیاسی بیانیہ بنا کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔

    پنجاب کو معاشی طورپر مستحکم اور ایک عوامی فلاحی صوبہ بنانا چاہتی ہوں،مریم نواز

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ کر دیا گیا

    26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف 12 سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی ،بلوچستان بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے دائر درخواستوں کو بھی نمبر لگا دیا گیا ،بلوچستان بار کونسل کی طرف سے دائر درخواست کو 49/24 اور بلوچستان ہائی کورٹ بار کی درخواست کو 50/24 نمبر لگایا گیا،جماعت اسلامی کی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست کو بھی نمبر لگا دیا گیا،رجسٹرار آفس نے 12 درخواستوں کو نمبر الاٹ کردیا ہے

    چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    نبیل گبول نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت میں آج سے مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے اور فریقین میں ایک بریک تھرو کی صورتحال بن سکتی ہے۔حکومت کی شرط یہ ہے کہ مذاکرات پی ٹی آئی کے وکیلوں سے کیے جائیں گے، پشاور والوں سے نہیں، تاہم پشاور کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں۔ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقین کی طرف سے مذاکرات کے لیے راستے کھلے ہیں لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت سے ابھی تک کوئی مزاکرات شروع نہیں ہوئے ،مزاکرات جب بھی ہوں گے، اوپن ہوں گے ،سب کے سامنے ہوں گے،مزاکرات کیسے ہوں گے اس کی تفصیلا ت میں جائیں ،مزاکرات خفیہ نہیں کریں گے لوگوں کے سامنے ہوگا ،ابھی مزاکرات کے حوالے سے قوائدو ضوابط طے ہورہے ہیں،

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ابھی مزاکرات شروع نہیں ہوئے تاہم.ہم سب کے ساتھ مزاکرات کرنے کو تیار ہیں ،بانی پی ٹی ْآئی نے کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کے نام بھی بتادئیے ہیں، ہم کمیٹی کے ارکان اب مزاکرات کے لئے دستیاب ہیں ،اسپیکر سے مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،اسپیکر سے میں اور عامر ڈوگر نے گزشتہ روز انکی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی تھی ،گزشتہ رات اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے بھی اسپیکر سے تعزیت کرنے گئے تھے

    اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔عرفان صدیقی
    ن لیگی رہنما عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔ پی ٹی آئی ہر جگہ سے بے بس اور لاچارہوگئی تو مذاکرات کیلئے تیارہوگئی۔ سول نافرمانی کی تلوار ہماری گردنوں میں لٹکا کر مذکرات کی طرف نہ آئیں ۔مذاکرات میں شرائط ہوتی ہیں، جیلوں میں ایک لاکھ قیدی کسی نہ کسی جرم میں پڑے، حکومت کیسے قیدی چھوڑ دے، یا تو وہ کہہ دیں کہ ہمارے سارے راستے بند ہو چکے ، عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے ہم مجبور بے بس لاچار ہوچکے ہیں ہم سے بات کرو، پھر بات ہو جائے گی، سول نافرمانی کی تلوار لٹکی ہو گی تو بات نہیں ہو گی، ڈاکوؤں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں تو بات ہو جائے گی

    پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کہتی ہیں کہ ہم ملک کی خاطر مذاکرات کرتے ہیں, ہمیں لوگوں نے وٹ دیا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ظلم بھی ہم پر ہوں اور جھوٹے کیسز میں بھی ہم کورٹس کے چکر لگاتے رہے ، مذاکرات کا کل پہلا دن تھا،عمران خان نے سیاسی کمیٹی بنائی ہے جس کومذاکرات کا مکمل اختیار ہے، مذاکرات میں جو پیشرفت ہو گی شئیر کی جائے گی

    سینیٹر عون عباس کہتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتی تو پھر سول نافرمانی کی تحریک اور ڈی چوک پر دوبارہ احتجاج کی ذمہ دار حکومت وقت ہوگی،

    ایم کیو ایم کی مذاکرات کے لئے کردار کی پیشکش
    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے لئے خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کر دی، ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دنیا میں مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلتا ہے،ہمارے سیاسی بحران سے معاشی بحران جڑا ہو ا ہے، لوگ مہنگائی بے روزگاری کی چکی میں پسے ہوئے ہیں ، مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہئے،فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے ایم کیو ایم کے اراکین اور سیاسی رہنما کردار ادا کرکے نوابزادہ نصراللہ کی یاد تازہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ فریقین مانیں،

    گزشتہ روز بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی تھی، جس میں پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کی تردید کر دی تھی۔

    گزشتہ روز پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایک کمیٹی اس لیے بنائی ہے تاکہ پارٹی کی غلطیوں کو درست کیا جا سکے اور اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانا چاہیے تاکہ اس معاملے کا صحیح سے جائزہ لیا جا سکے۔

    عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ جب مذاکرات ہوں گے تو یہ اوپر کی سطح پر ہوں گے اور ان مذاکرات میں عطا تارڑ کو شریک نہیں کیا جائے گا۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں مذاکرات کے لیے اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی اور حکومت کو اس کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی باتیں تیزی سے گردش کر رہی ہیں، اور دونوں طرف سے اس پر مختلف ردعمل آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، اس وقت تک مذاکرات کی صورت میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی اس معاملے پر کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔

    آئیے ہاتھ بڑھائیے

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

  • افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک منقسم پارٹی بن چکی ہے اور اس کے اندر کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کسی کا قبلہ ایک طرف ہے تو کسی کا قبلہ دوسری طرف ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنما ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہدایات لے رہے ہیں۔ "کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ پارلیمان میں آئیں اور یہاں آ کر سیاست کریں۔”شرمیلا فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما ملک دشمن بن جائیں گے اور مسلح افواج کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ "اگر آپ اپنی مسلح افواج کے خلاف ہوں گے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، کیونکہ ملکی دفاع اور افواج کا وقار ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔”

    شرمیلا فاروقی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاست کو پارلیمنٹ کے اندر کریں اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ پی ٹی آئی میں بے چینی اور انتشار کا ماحول ہے اور پارٹی کے داخلی اختلافات اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    امریکہ میں پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

  • سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیس میں 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں ملٹری کورٹس کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 میں آرمی قوانین کا ذکر ان کے ڈسپلن سےمتعلق ہے، حضرت عمرؓ نے سخت ڈسپلن کی وجہ سےہی فوج کو باقی عوام سے الگ رکھا، فوج کا ڈسپلن آج بھی قائم ہے اور اللہ اسے قائم ہی رکھے، فوج کو ہی بارڈرز سنبھال کر ملک کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ فوجی کو قتل کرنے والے کا مقدمہ عام عدالت میں چلتا ہے، فوجی تنصیبات پر حملہ بھی تو انسداددہشتگردی ایکٹ کےتحت ہی جرم ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ذاتی عناد پر فوجی کاقتل الگ اور بلوچستان طرز پر فوج پر حملہ الگ چیزیں ہیں،جسٹس مظہر علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس میں جن رولز کے تحت ٹرائل ہوتا ہے اس کی تفصیل فراہم کریں۔جسٹس مسرت ہلالی نے حکومتی وکیل کو 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیل دینے کی ہدایت کر دی،بعد ازاں آئینی بینچ نے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ،عمران خان کی 9 مئی کی جوڈیشیل تحقیقات کی درخواست منظور

    سپریم کورٹ،عمران خان کو خیبر پختونخوا منتقلی کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

  • وزیرداخلہ محسن نقوی سے  پرویز خٹک کی ملاقات

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے پرویز خٹک کی ملاقات

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے بانی اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کی اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور دیگر اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔پرویز خٹک نے اسلام آباد میں حالیہ احتجاج کے دوران شر پسندوں کے حملے میں شہید ہونے والے پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں، اور ہم شہید اہلکاروں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

    اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ہمارا مشترکہ وطن ہے اور ہمیں سب کو مل کر اس کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن اور تابناک ہے، اور دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عوام صرف اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، اور حکومت ان مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    ثانیہ عاشق کے سپیشل ایجوکیشن تعلیمی اداروں کے دورے

  • پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاززہرابلوچ نے ہفتہ واربریفنگ میں کہا ہے کہ ساتواں پاکستان ،تاجکستان مشترکہ کمیشن کا اجلاس اسلام آبادمیں ہوا.فریقین نے توانائی ،سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا.

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فرانس نے سلامتی معاملات کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی.پاکستان اور فرانس نے باہمی طور پر چیلنجز کا سامنا کرنے پر اتفاق کیا.پاکستان غزہ میں غیرمشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتاہے.پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.شام کی سلامتی اور خود مختاری کی حمایت کرتے ہیں.عالمی برادری اسرائیل کو جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے.فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بربریت کاسلسلہ جاری ہے.اسرائیل کی جانب سے گولان کی پہاڑیو ں پر قبضہ قابل مذمت ہے.مقبوضہ کشمیرکے عوام کی سیاسی، اخلاقی اورسفارتی حمایت جاری رکھیں گے.کشتواڑ میں کشمیریوں کی جائیدادوں پر بھارتی قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ خلیل الرحمٰن حقانی کی وفات پر وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے دکھ کا اظہار کیا ہے ،ہم سمجھتے کہ دہشتگردی کی ہر کاروائی کی مذمت کرنی چاہیئے،ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں اور اس واقعے کی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں

    نو منتخب امریکی صدر کے حلف میں پاکستانی حکام کی شرکت پر ترجمان دفتر خارجہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ
    امریکی صدر کی تقریب حلف برادری کے دعوت نامہ کے حوالے سے اب تک کوئی معلومات نہیں ہیں.

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    ثانیہ عاشق کے سپیشل ایجوکیشن تعلیمی اداروں کے دورے

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    آئی جی اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر بدنیتی پر مبنی مہم چلانے والے ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    ملزمان میں صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمن، اظہر مشوانی، کومل آفریدی، عروسہ ندیم شاہ اور ایم علی ملک شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) نے ان تمام ملزمان کو 13 دسمبر 2024 کو طلب کر لیا ہے، اور نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انہیں اس دن تفتیش کے لیے حاضر ہونا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر یہ بدنیتی پر مبنی مہم ملک میں انتشار اور بد امنی کی وجہ بنی، جس کا مقصد عوامی امن و سکون کو متاثر کرنا تھا۔

    وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لیے پی کی اے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کا مقصد ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کی تحقیقات کرنا ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں بد امنی اور انتشار پھیلانے کے لیے پروپیگنڈا کیا۔ جے آئی ٹی اس وقت اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح یہ مہم ملک کے اندر امن و سکون کے لیے خطرہ بن گئی۔

    جے آئی ٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید مجرموں کی شناخت کی جا رہی ہے جو اس مہم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے مزید قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

    آئی جی اسلام آباد نے اس معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کریں تاکہ اس طرح کی بدنیتی پر مبنی مہموں کا سدباب کیا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے مواد کی نشاندہی کریں اور فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا