Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    سی ڈی اے نے انٹر نیشنل میڈیا سے وابستہ ادارے وائس آف امریکہ کو رہائشی ایریا میں آفس رکھنے پر نوٹس جاری کر دیا۔

    سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/3 میں واقع ایک رہائشی گھر پر غیر قانونی تجارتی استعمال کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ڈائریکٹریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گھر نمبر 1، گلی نمبر 89، سیکٹر جی-6/3 میں رہائش پذیر شخص، مس شمیم غلام، نے اپنے رہائشی مکان کو غیر قانونی طور پر دفتر یا میڈیا ہاؤس کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی واضح خلاف ورزی ہے۔سی ڈی اے کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اوپر ذکر کردہ غیر متناسب استعمال کو اس نوٹس کی تاریخ سے 15 دن کے اندر ختم کر دیا جائے، ورنہ سی ڈی اے مذکورہ خلاف ورزی کو ختم کرنے کے لئے قانونی کارروائی کرے گی۔

    اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے مطابق، رہائشی مقامات پر غیر تجارتی یا غیر متعلقہ استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں صرف رہائشی سرگرمیاں کی جائیں اور تجارتی یا دفاتر کی تعمیرات نہ ہوں، تاکہ شہری سہولتوں اور ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ اگر نوٹس میں درج ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو اتھارٹی اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی، جن میں عمارت کی سیلنگ اور الاٹمنٹ کی منسوخی شامل ہو سکتی ہے۔

    سی ڈی اے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری مکمل طور پر متعلقہ فرد پر ہوگی، اور اس کے اخراجات بھی اسی کے ذمہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اس طرح کی خلاف ورزیاں مقامی انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہیں، اور اس سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہر کی ترقی اور رہائشی معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مکانات اور جائیدادوں کے استعمال کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کا احترام کریں تاکہ شہر میں قانون کی حکمرانی قائم رہے اور شہریوں کو بہتر رہائشی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    notice

  • پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے، پارٹی نے اپنی حالیہ ڈی چوک احتجاج کے دوران مسنگ پرسنز کی فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں کئی ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جن کا پی ٹی آئی کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور بعض افراد کے نام کے ساتھ والد کا نام تک نہیں لکھا گیا، جو ایک حیران کن بات ہے۔

    خاص طور پر، پی ٹی آئی نے مسنگ پرسنز کی فہرست میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا ہے جس کا نہ تو پی ٹی آئی سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی وہ احتجاج میں شامل ہوا تھا۔ یہ شخص خالد مزاری ہیں، جو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی ویڈیو پیغام کے ذریعے اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    خالد مزاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: "میں راجن پور سے مخاطب ہوں، اور سوشل میڈیا پر پہلی بار آپ سے بات کر رہا ہوں۔ 139 مسنگ پرسنز کی پی ٹی آئی کی فہرست میں میرا نام موجود ہے۔ اللہ معاف کرے، میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی میں احتجاج میں شامل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا تھا۔ ان کا جھوٹ اور پروپیگنڈہ دیکھیں، لوگ یہی سمجھیں گے کہ اتنے لوگ مسنگ پرسن ہیں۔ اب 59 پرسنز پر میرا نام ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوں۔”مزاری نے مزید کہا کہ ان کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈہ کرنے والے افراد کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور دعا کی کہ وہ عمران خان کا جنازہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔

    اس واقعہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مسنگ پرسنز کے بارے میں کیے جانے والے جھوٹے دعوؤں کو مزید اجاگر کیا ہے، اور ایک بار پھر پارٹی کے پروپیگنڈہ کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ خالد مزاری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور وہ ایکس پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خالد مزاری کا تعلق ن لیگ سے ہے، باخبر ذرائع کے مطابق خالد مزاری کے دوستوں نے باہمی مشورے سے اس کا نام پی ٹی آئی والوں کو بھیجا اور پی ٹی آئی کی ٹیم نے بغیر کسی تصدیق کے خالد مزاری کا نام مسنگ پرسن کی لسٹ میں ڈال دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مسنگ پرسن کے نام پر پروپیگنڈہ کر رہی ہے.

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

  • ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ڈی چوک احتجاج ،یوٹیوبر،وی لاگرز،صحافیوں کیخلاف ریاست مخالف جھوٹا بیانہ بنانےکےمقدمات درج کر لئے گئے

    ایف آئی اےسائبرکرائم ونگ کی جانب سے ہرمیت سنگھ،احمد نورانی، عبدالقادر،حسنین رفیق، سلمان درانی، عمران کھٹانہ،مریم شفقت ملک اور رضوان احمد خان و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،یہ مقدمات ‘پیکا ایکٹ’ کی شق 9، 10، 11 اور 24 کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد میں درج کیے گئے ہیں۔ ہرمیت سنگھ پر درج مقدمے کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے

    درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ @HarmeetSinghPk کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹے اور تخریبی مواد کو فروغ دیا، جس سے ملک میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔مقدمہ 6 دسمبر 2024 کو ایف آئی اےسائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد میں درج کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، ہرمیت سنگھ نے اپنی ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا۔ یہ مواد عوام کو تشویش، خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا تاکہ عوام کو ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف اکسا کر ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرایا جا سکے۔ ہرمیت سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 9، 10، 11 اور 24 کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 505 کے تحت بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے عوام میں دہشت اور خوف پھیلانے کی کوشش کی اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کی سازش کی۔

    ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محمد وسیم خان نے رپورٹ درج کرنے کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں ہرمیت سنگھ کے ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پھیلائے گئے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگھ نے 24 سے 27 نومبر 2024 کے دوران کئی مرتبہ اپنے ٹویٹس کے ذریعے عوام کو بدامنی اور تشویش میں مبتلا کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنگھ کے خلاف اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو ایف آئی آر کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

    پاکستان کے حکومتی اور سیکیورٹی اداروں نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے خلاف سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس قسم کے تخریبی مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں اور اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    fia

  • سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف 30 شکایات خارج کردی،جبکہ 5 شکایات پر ججز سے جواب طلب کرلیا,سپریم کورٹ ترجمان نے جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاسسسپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز جناب جسٹس منصور علی شاہ، جناب جسٹس منیب اختر، جناب جسٹس عامر فاروق (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) اور جناب جسٹس محمد ہاشم کاکڑ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں دستور کے آرٹیکل 209(8) اور 2005 کے سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی بنیاد پر ججوں کے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی بابت ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی جناب جسٹس منیب اختر کریں گے، تاکہ ضابطہ اخلاق اور انکوائری کے طریقہ کار میں مناسب ترامیم کی تجویز پیش کی جا سکے۔

    کونسل نے دستور کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کردہ 35 شکایات کا جائزہ لیا۔ ان شکایات میں سے 30 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ 5 شکایات پر جواب طلب کر لیا گیا ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات  کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں

    پاکستان کے صدر مملکت، آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے اس بل کی مختلف شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے بل میں مدارس کی تعریف میں تضاد موجود ہے اور موجودہ قوانین کے تحت نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بل کی منظوری سے مدارس کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا پاکستان کے تعلیمی نظام اور بین الاقوامی شہرت پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    صدر زرداری نے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ قوانین میں مدارس کے لیے واضح ضوابط اور رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جس کی بنا پر نئے بل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان موجودہ قوانین کو بہتر بنانے اور ان پر عملدرآمد کی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔صدر مملکت نے نئے بل میں مدارس کی تعریف کے حوالے سے تضاد کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انہیں تعلیمی اداروں کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔ تاہم، یہ تضاد پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مدارس صرف تعلیمی مقصد کے لیے قائم ہیں یا ان کا کردار وسیع تر ہے، جس میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی پہلو بھی شامل ہیں۔ اس تضاد کے باعث، بل کی منظوری سے مدارس کے تعلیمی کردار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو بحیثیت سوسائٹی رجسٹر کرانے سے ان کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا، تو ان کا استعمال تعلیمی مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے مدارس کو صرف تعلیمی اداروں کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ان کے دیگر سماجی، مذہبی یا سیاسی کردار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    صدر مملکت نے بل کی منظوری کے نتیجے میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختلف مدارس کو ایک ہی سوسائٹی کے تحت رجسٹر کیا جائے گا، تو ان مدارس میں اختلافات اور فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سوسائٹی میں مختلف مدارس کی موجودگی سے فرقہ وارانہ تشدد اور عدم برداشت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ جب مدارس مختلف تنظیموں یا افراد کی ملکیت بن جائیں گے، تو ان کے اندر مفادات کی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جس سے مدارس کی انتظامیہ میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ نہ صرف مدارس کے اندر بلکہ مقامی کمیونٹی میں بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے بل کی منظوری کے عالمی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے پاکستان کے حوالے سے عالمی اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی تنظیموں کے ردعمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی ادارے پاکستان کے تعلیمی نظام اور مدارس کی رجسٹریشن پر منفی رائے قائم کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ریٹنگز پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے نقصان ہو سکتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن کا اثر نہ صرف مدارس کے تعلیمی نظام پر پڑے گا، بلکہ اس کا پاکستان کے داخلی امن و امان، فرقہ واریت، اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، مدارس کی رجسٹریشن کے لیے موجودہ قوانین میں بہتری لانا اور ان پر مؤثر عمل درآمد کرنا زیادہ مناسب حل ہو گا۔

    اس موقع پر صدر نے تجویز دی کہ حکومت اس بل کو دوبارہ نظرثانی کرے اور مدارس کے حوالے سے موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری اصلاحات کرے تاکہ مدارس کے تعلیمی اور سماجی کردار کو بہتر بنایا جا سکے، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    جعلی ڈگری،نادرا کے ڈی جی کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    اسلام آباد: نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو جعلی ڈگری رکھنے پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ذوالفقار احمد کی ایم بی اے اور بی بی اے ڈگریوں کی تصدیق کے بعد ان میں واضح بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں،ذوالفقار احمد کی ایم بی اے ڈگری پر جو دستخط ہیں، وہ اس وقت کے صدر جارج میسن یونیورسٹی امریکہ کے نہیں تھے۔ جبکہ ان کی بی بی اے کی ڈگری میں بھی کالج کا نام وہ نہیں تھا جو اس وقت ڈگری کے اجراء کے دوران درست تھا۔نادرا نے اس معاملے پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے انکوائری کی درخواست کی تھی، جس کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام معلومات کی مکمل تصدیق کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ ذوالفقار احمد کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نادرا نے جو معلومات حاصل کی تھیں، وہ درست تھیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نادرا کے انتظامیہ نے ذوالفقار احمد کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا، لیکن انہوں نے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ اس پر چیئرمین نادرا نے ہائی کورٹ کے فیصلے اور شوکاز نوٹس کے غیر تسلی بخش جواب کی بنیاد پر تادیبی کارروائی شروع کی۔اس صورتحال کے بعد، نادرا کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ نادرا کی جانب سے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارے میں بدعنوانی یا کسی بھی قسم کی جعلسازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس سے ادارے کی ساکھ پر اثر پڑتا ہے۔

    کراچی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری،امریکہ جانیوالی خاتون کو چھ برس کی سزا

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    ایف آئی اے کی کاروائی،جعلی ڈگری پر پی آئی اے میں 17 برس نوکری کرنیوالا گرفتار

  • وزیراعظم کا زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنیوالے بجلی گھر کو بند کرنے کا حکم

    وزیراعظم کا زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنیوالے بجلی گھر کو بند کرنے کا حکم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بجلی صارفین کیلئے بجلی کے نرخوں کو مزید کم کرنے اور مستقبل کے بجلی کے پیداواری منصوبوں کے حوالے سے لائحہ پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں مستقبل کے لیے بجلی کے پیداواری منصوبوں، بجلی شعبے بالخصوص ترسیلی نظام پر جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس کو بجلی کے نئے مجوزہ منصوبوں، جاری منصوبوں کی تعمیر پر پیش رفت اور ملک میں بجلی کے شعبے کی جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بجلی کی موجودہ طلب اور استعداد سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو درآمدی ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں کی تحلیل اور ترسیلی نظام کی اصلاحات پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا.

    وزیرِاعظم نے بجلی شعبے کی اصلاحات کیلئے تمام تر اقدامات کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کم لاگت بجلی منصوبوں کو ہی ترجیح دی جائے.بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے لیے مقامی وسائل کو ترجیح دی جائے، وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں جاری پن بجلی کے منصوبوں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے منصوبے کم لاگت بجلی کے ایسے ذرائع ہیں جن سے صارف کو ماحول دوست اور سستی بجلی فراہم ہوگی.بجلی کی موجودہ استعداد کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے.دنیا بھر میں ماحول دوست کم لاگت شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے. پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ملک ہے کہ ملک میں شمسی توانائی کی وسیع استعداد موجود ہے.

    وزیرِاعظم کو زیادہ ایندھن سے کم بجلی بنانے والے غیر مؤثر بجلی گھروں کو ختم کرنے کے حوالے سے پیش رفت پر بھی آگاہ کیا گیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ زیادہ ایندھن سے کم بجلی پیدا کرنے والے فرسودہ بجلی گھروں کو فوراً بند کیا جائے. ایسے بجلی گھروں کی بندش سے نہ صرف ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زر مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ صارف کیلئے بجلی کی لاگت بھی کم ہوگی. ایسے تمام افسران جو بجلی شعبے کی اصلاحات میں دانستہ طور پر رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے. بجلی ترسیل کے نظام میں جاری اصلاحات پر عمل درآمد کو تیز کیا جائے. بجلی ترسیل کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جائے.بجلی کی پیداواری لاگت کے لحاظ سے کم لاگت بجلی کے انتخاب و ترسیل کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے نظام کے نفاذ پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے.

    بجلی تقسیم کاجدید نظام، ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 20 کروڑ ڈالر قرض منظور

    بجلی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی سے 281 ارب روپے کا نقصان ہوا

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری

  • عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کے پاسپورٹ کو ان کے اہل خانہ کے پاس رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے اور انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ "میرے اپنوں نے میرا پاسپورٹ رکھا ہوا ہے، مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حکومت پاکستان نے جو خط امریکا کو لکھا ہے، اس میں وزیرِ اعظم کا پیغام شامل ہے۔ اگر وزیرِ اعظم خود یہ خط بھیج سکتے ہیں تو کم از کم ڈپٹی وزیرِ اعظم یا وزیرِ خارجہ کو بھی اس خط کے ساتھ امریکا بھیجنا چاہیے تھا تاکہ خط کو عزت ملتی۔”انہوں نے مزید کہا کہ، "اگر چیئرمین سینیٹ یا وزیرِ خارجہ خود یہ خط لے کر جاتے تو امریکی حکومت پر اس کا زیادہ اثر پڑتا۔ بدقسمتی سے مجھے امریکا جانے سے روکا گیا اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔”ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 1500 افراد کو ایک ہی دن میں معافی دینے کا ذکر کیا اور کہا کہ، "صدر بائیڈن نے ایک دن میں 1500 افراد کو معافی دی، جبکہ ہمارے وفد کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکا اور وہ بغیر کسی نتیجے کے واپس آ رہا ہے۔ عافیہ کی رہائی کوئی معمولی بات نہیں ہے، یہ ایک نیکی ہے لیکن ان کے حق میں نہیں کی جا رہی۔”انہوں نے اپنے عوام کا شکریہ ادا کیا جو ان کی اور عافیہ کی آواز بنے ہیں، اور ان کے لیے حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی آج کی عدالتی کارروائی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکا جانے کے لیے ایک وفد بھیجا تھا لیکن یہ وفد محض تین دن کے لیے امریکا پہنچ سکا جبکہ کم از کم اس وفد کا دورہ آٹھ دن کا ہونا چاہیے تھا۔عمران شفیق کا کہنا تھا کہ، "وفد پانچ دن کی تاخیر سے پہنچا اور ان کی ملاقاتیں اور اہم میٹنگز جو طے کی گئی تھیں، وہ نہیں ہو سکیں۔ امریکی وکیل اسمتھ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک ڈیکلریشن عدالت میں جمع کرایا، جسے عدالت میں پڑھا گیا، اور یہ ایک دل توڑنے والی داستان ہے۔”وکیل نے مزید کہا کہ حکومت نے جو وفد امریکا بھیجا تھا، وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ "جو اہم ترین میٹنگز ہونی تھیں، ان میں بھی وفد تاخیر کا شکار ہو گیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔”

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

  • 24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی نےوزیر اعظم سمیت و دیگر کے خلاف کاروائی کے لئے عدالت سے رجوع کر لیا

    بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرمنل کمپلینٹ دائر کر دی،بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر درخواست میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، خواجہ آصف ، عطا تارڑ کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں آئی جی ، ایس ایس پی ، ڈی آئی جی و دیگر کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے،سردار لطیف کھوسہ نے بیرسٹر گوہر کے ذریعے کمپلینٹ دائر کی،جس میں کہا گیا کہ کرمنل کمپلینٹ منظور کر کے فریقین کو طلب کیا جائے ،38 زخمیوں کی فہرست بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے،درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

  • مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور اس ضمن میں عمران خان نے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے تا ہم حکومت کی جانب سے ابھی تک پی ٹی آئی سے مذاکرات بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، مذاکرات کے حوالہ سے پی ٹی آئی قیادت میں بھی اختلافات دیکھنے کو ملے ہیں

    مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مذاکرات کا طریقہ غلط ہے اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں کہ مذاکرات کریں،میں نے عمران خان سے بات کی انہوں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات چیت کا ،اس طریقہ کار سے عمران خان بہت غصے میں ہیں،ہم پر الزام تھا کہ بات چیت کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں ہم نے صرف مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،ہم نے مذاکرات بھی شرائط کے ساتھ رکھے ہیں،میری خواہش ہے کہ اگر مزاکرات ہوتے ہیں تو اس کا آغاز پارلیمنٹ سے ہو ،پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اندر بات چیت کا آغاز کیا جائے،ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ مزاکرات ان سے ہونے چاہیے جو بااختیار ہو ،حکومت کو شاید ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا اس لیے وہ مزاکرات شروع نہیں کر رہے ۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے، ابھی تو صرف سلام دعا ہوئی ہے، 15 دسمبر سے پہلے پہلے بات ہو جائے تو ملک کے لیے اچھا ہے، 15 دسمبر کو بانی نے ترسیلات زر سے متعلق کال دی ہوئی ہے، حالات جوں کے توں رہے تو کال پر عمل درآمد ہو گا۔

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و تحریکِ انصاف کے رہنما احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ بااختیار لوگوں سے مذاکرات چاہتے ہیں، بااختیار حکومت نہیں اسٹیبلشمنٹ ہے، جب اسٹیبلشمنٹ کی مرضی ہو گی تب مذاکرات ہوں گے، 26 نومبر کو جو ہوا اس کے ذمے دار شہباز شریف ہیں ،24 سے 26 نومبر تک جو کچھ ہوا اس کی ذمے دار پنجاب حکومت ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی حکومت کی نیت پر منحصر ہے، کیا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو، آئین کی سپرمیسی ہو، عوام کی بات سنی جائے، عوام کو حقوق ملیں ،اختیار حکومت کے پاس ہے، ہم تو اپوزیشن میں ہیں احتجاج کر رہے ہیں، ہم پر دہشت گردی کے پرچے کاٹے جا رہے ہیں.