Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی ہمشیرہ کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات سے قبل نکتہ اعتراض دینے سے انکار کردیا ،شازیہ مری نے کہا کہ آپ کی رولنگ کے باوجود آج بھی ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کی ناراضی یا رولنگ کا حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے؟ پارلیمانی سیکرٹری کا میں احترام کرتی ہوں لیکن ایوان پر ،عوام پر مہربانی کریں، وفاقی حکومت ذمہ دار ہے کیا آپ کے رولنگ کی وقعت نہیں، آج بھی کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں،شاید وزیروں نے کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سارے معاملے پر کل خط لکھا ہے۔پہلے وقفہ سوالات، ایجنڈا اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جاسکتا ہے،

    اپوزیشن ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کی اجازت مانگی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس طرح ایجنڈا رہ جاتا ہے، شازیہ مری نےپارلیمانی سیکرٹری سے اپنے سوال کا جواب لینے سے انکار کر دیا،شازیہ مری نے کہا کہ میرا سوال اتنا اہم ہے، سانگھڑ کے لوگوں کو تیل کے ذخائر کے عوض کیا مل رہا ہے؟ اسد قیصر نے کہا کہ آپ کے مسلسل نوٹس لینے کے باوجود حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی۔حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کا مطالبہ کر دیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ دس منٹ کا وقفہ لے رہے ہیں۔وقفے کے بعد وزراء کے نے آنے پر ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی جائے گی۔

    واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔اسد قیصر
    وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس ہوا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں میرے بارے میں کہ کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ ہو رہے ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تھا، وہاں کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔ کل مزید خبریں چلیں کہ حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو میں پھر سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اور جب حکومت سنجیدگی دکھائے گی اور عمران خان کی اجازت ہو گی، تب بات چیت کی جائے گی۔

    رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے درآمدی گیس اور مقامی گیس کو ایک قیمت پر دینے کے مضحکہ خیز تجویز کو مسترد کر دیا۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جہاں ڈومیسٹک کنزیومر کی ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے، ہر ایک کو کھانا بنانے کے لئے گیس چاہئے، گیس نہیں مل رہی، ہمارا اور عوام کا درست جواب نہ دے کر ٹائم ضائع کیا جا رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ایل این کے گاہک نہیں، یہ مہنگی گیس ہے،

    حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی،شازیہ مری
    اپوزیشن اراکین کو فلور نا ملنے پر احتجاج کیا گیا، آغا رفیع اللہ نے اسد قیصر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے لیڈر کے حوالے سے بات کرنی ہے پریس کانفرنس کر لیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران عالمی عدالت میں گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ گیس کی طلب بڑھنے کے باوجود قدرتی گیس کیپٹو پاور پلانٹس کو کیوں دی جا رہی ہے؟وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں میں نے کیا کہا جس پر اتنی ناراضی ہوگئی۔ آج تو پیپلز پارٹی والے سارے بہت ناراض لگ رہے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قدرتی گیس ایل این جی کی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس دستیاب ایل این جی کی کی قیمت زیادہ ہے۔ جب تک ہم گیس کی یکساں قیمت نہیں کریں گے تب تک اس کے خریدار نہیں ہوں گے،گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی یکساں قیمتوں پر منحصر ہے ۔ ۔یہ عوامی اور ملکی مقدمہ ہے۔اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہیں، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے دوروں نے برادرانہ تعلقات کو تقویت دی ہے، دوروں اور معاہدوں سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے،منصوبے سے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا،سی پیک سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، یہ منصوبہ پاکستان کے جغر افیائی محلِ وقوع کو اقتصادی فائدے میں بدل رہا ہے۔

    گوجرہ: چوری کی کوشش ناکام، چور روشن دان میں پھنس کر ہلاک

    ڈیرہ غازیخان:انسدادِ پولیو مہم,8 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

  • عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اے ویزا منظور نہ کروا سکی جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نےسیکرٹری وزارت خارجہ کو فوزیہ صدیقی کو بی ویزا فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عافیہ صدیقی کے امریکہ میں وکیل مسٹر سمتھ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق پاکستان سے امریکہ بھیجا گیا وفد 8 روز کے لیے تھا جو پانچ روز تاخیر سے پہنچا ، پاکستانی وفد کا وقت آج ختم ہوگیا وفد کی واپسی کا وقت آگیا ہے ،ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں امریکہ بھیجا گیا وفد ناکام ثابت ہوا حکومت کی جانب سے معاملے میں وقت ضائع کیا گیا وفد امریکہ میں اہم میٹنگز میں بھی دیر سے پہنچا ۔ فوزیہ صدیقی کا ویزا بھی امریکی ایمبیسی نے منظور نہ کیا ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں حکومت اور وزارت خارجہ کی سستی پر عدالت برہم ہو گئی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ یہاں ہیں،وفد نے کتنے دن وہاں رکنا،مسٹر سمتھ وہاں اکیلے ہیں، سفیر نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کی طرف سے سستی ہے اور وقت پر معاملات درست نہیں،وزارت خارجہ پیرا وائز کمنٹس جمع کرائے اور مکمل رپورٹ دے،کیوں ایسا ہوا اور سفارتخانے نے کیا کیا،

    دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے بعد سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا کہ میری تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے، ڈاکٹر عافیہ بچوں، والدہ، بہن کو یاد کر رہی تھیں ، انکا کہنا تھا کہ عافیہ نے کہا کہ مجھے رہا کروا جائے، سینیٹر طلحہ کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں، لوکل کمیونٹی کو بھی ساتھ ملایا ہےتا کہ کیس میں مدد کریں، ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جانے والا صدر بہت سے لوگوں کو رہا کر دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی درخواست بھی امریکی صدر کی ٹیبل پر آئے،

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    سندھ اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی

    حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی 66 فیصد آبادی غربت اور مالی مشکلات کے سبب وٹامنز، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ عالمی ادارہ برائے خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی اس رپورٹ میں ملک بھر کے مختلف صوبوں میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں غذائی تحفظ اور غذائیت کے مسائل کو اجاگر کیا جائے اور سماجی تحفظ کے پروگرامز جیسے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی میں درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جائے۔ اس رپورٹ نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ کیسے یہ پروگرام غذائیت کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی اوسطاً 66 فیصد آبادی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے والی خوراک کی خریداری کے لئے مالی طور پر مستحکم نہیں ہے۔ صوبہ بلوچستان میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں دیہی علاقوں میں 84 فیصد اور شہری علاقوں میں 78 فیصد افراد غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اسی طرح، سندھ کے دیہی علاقوں میں 76 فیصد، شہری علاقوں میں 60 فیصد، پنجاب کے دیہی علاقوں میں 68 فیصد، شہری علاقوں میں 63 فیصد، اور خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں 59 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 67 فیصد افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انسانی جسم کی بنیادی ضروریات پوری کرنے والی اور بھرپور غذائیت والی خوراک کے یومیہ اخراجات فی کس 18 سے 32 روپے ہیں۔ اگرچہ قومی سطح پر 5 فیصد افراد ہی اس سطح کے اخراجات کرنے سے قاصر ہیں، تاہم غذائیت سے بھرپور خوراک کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں، جو کہ 67 سے 78 روپے فی کس روزانہ تک پہنچ جاتی ہیں۔ایک خاندان جس میں 6 افراد شامل ہوں، کم از کم 14 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرنے کے قابل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اس کے علاوہ، اگر خاندان میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، یا بڑھتے ہوئے بچے شامل ہوں، تو ان کی غذائیت کی ضروریات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے اقدامات کو خواتین اور بچوں میں غذائیت کی کمی کو دور کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے انہیں خوراک کی بہتر خریداری کی سہولت مل سکتی ہے۔یہ رپورٹ پاکستان میں غذائیت کی کمی کے سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے پروگرامز کو مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ ملک کی بڑی تعداد کو ضروری غذائی اجزاء کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور عالمی ادارے مشترکہ طور پر اقدامات کریں تو غربت اور غذائیت کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور پاکستان میں صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر مقدمات کی سماعت موخر

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت ہوئی

    آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر تمام مقدمات کی سماعت موخر کر دی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آج صرف فوجی عدالتوں والا مقدمہ ہی سنا جائے گا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں،کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے ہر شخص کو اس کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلے بتائیں عدالتی فیصلے میں دفعات کالعدم کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کوبھی مدنظر رکھیں کہ آرمی ایکٹ 1973کے آئین سے پہلے بنا تھا، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خرابیاں ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں میرے الفاظ قانونی نوعیت کے نہیں تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں،فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کورکمانڈر ہائوس کا ہی ہے،اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں،تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائوں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کا کیا ہوگا؟نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا کہ عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی،

    سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کو فیصلے سنانے کی اجازت دے دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی، آئینی بینچ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے۔جن ملزمان کو سزائوں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے،

    فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی آئینی بنچ نے 26 ویں ترمیم کا کیس جنوری کے دوسرے ہفتے میں سننے کا عندیہ دے دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے فوجی عدالتوں کا کیس ختم ہوا تو 26 ویں ترمیم کا کیس دوسرے ہفتے سنیں گے،

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

  • شہداء  کے لواحقین کی  بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    پاکستانی فوج کے سربراہ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، کی خصوصی ہدایت پر شہداء اور ان کے لواحقین کی بہبود کے لیے "مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہداء کے ورثاء کے ساتھ فوری اور براہ راست رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ ان کی فلاح و بہبود کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔

    گریف کونسلنگ سیل میں خصوصی مددگار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو پاکستان فوج کے افسران اور ماہرین نفسیات پر مشتمل ہیں۔ یہ ٹیمیں شہادت کے بعد شہید کے خاندان کے افراد سے تعزیت کے لیے ان کے آبائی علاقے میں جاتی ہیں۔ اس دوران ماہر نفسیات شہید کے لواحقین سے تفصیلی ملاقات کرتے ہوئے ان کے ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کی تشخیص کرتے ہیں۔گریف کونسلنگ سیل کی ٹیم شہداء کے ورثاء کی معاشی، سماجی، رہائشی اور تعلیمی ضروریات کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتی ہے اور ان کے حل کے لیے اقدامات تجویز کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، شہداء کے ورثاء کو ان کی مراعات اور سہولیات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ ان کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہداء کے خاندان کو مراعات اور سہولیات کے حصول میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

    آرمی چیف کی جانب سے شہداء کی قبروں پر پھولوں کے گلدستے رکھے جاتے ہیں اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مددگار ٹیم میں شامل ماہر نفسیات، شہداء کے غمزدہ خاندانوں میں موجود ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے علاج میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طریقے سے نہ صرف شہداء کے ورثاء کی فلاح کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے نئی امید اور حوصلہ بھی دیا جاتا ہے۔

    اگرچہ شہید کی زندگی کا کوئی مداوا نہیں، تاہم گریف کونسلنگ سیل کی مددگار ٹیمیں شہداء کے لواحقین کے لیے زندگی گزارنے میں نئی امید پیدا کرتی ہیں۔ یہ اقدام ایک عملی مظاہرہ ہے کہ شہداء کے ورثاء کی فلاح و بہبود کے لیے فوج اپنے فرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر رہی ہے۔ شہداء نہ صرف قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں بلکہ ان کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام شہداء کے لواحقین کی مدد کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ پاکستانی فوج کی شہداء کے خاندانوں کے لیے ایک اور عظیم پیشکش ہے۔

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

  • پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی زرعی آلات کی تیاری اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ اس معاہدے پر پنجاب حکومت اور چین کی معروف کمپنی "اے آئی فورس ٹیک” کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے ہیں۔

    ایس آئی ایف سی کے تعاون سے اس معاہدے کا مقصد پاکستان کی زرعی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانا ہے۔ پاکستان چین کی زرعی مہارت سے فائدہ اٹھا کر اپنے زرعی شعبے میں پیداوار میں اضافہ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے چین کی "اے آئی فورس ٹیک” کمپنی کے ساتھ کئے جانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹک ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی زرعی ترقی کو ایک نیا رخ دینا ہے اور اقتصادی ترقی کے عمل میں انقلاب لانا ہے۔پنجاب حکومت کا یہ عزم ہے کہ زرعی ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں کو متعارف کرا کے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جائے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا، بلکہ کسانوں کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس معاہدے کے موقع پر زرعی شعبے میں جدید کاری کے لیے ایک اور اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا اور زرعی شعبے کے 1,000 ماہرین کو چین بھیجا جائے گا تاکہ وہ وہاں زرعی ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کی تعلیم حاصل کریں۔

    چین کے شہر ژیآن میں زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمی معیار کی سہولتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کو وہاں کی جدید زرعی ترقی سے استفادہ حاصل ہو سکے۔ یہ تعاون پاکستان کو عالمی سطح پر زرعی ٹیکنالوجی کے بہترین طریقوں سے آشنا کرے گا اور پاکستان کے کسانوں کو جدید آلات اور طریقوں کا استعمال سکھایا جائے گا۔

    اس معاہدے میں ایس آئی ایف سی کی اہمیت بھی نمایاں ہے کیونکہ اس کے تعاون سے پاکستان اور چین کی زرعی شراکت داری میں ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ ایس آئی ایف سی کی مدد سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن ہو گا، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب آ سکتا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان اس معاہدے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

  • شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان واپس پہنچے،چارٹرڈ طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، پاکستان پہنچنے پر وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستانی شہریوں کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو خیریت سے ملک واپس آنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،پاکستانیوں کی باحفاظت واپسی پر لبنان کے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کو باحفاظت وطن واپس لایا جائے.شام سے پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا.شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں. شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیرِاعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی.حکومت نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے میں معلوماتی ڈیسک اور رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کیا.وطن واپسی پر تمام شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے.امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے تک کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور پاکستانی سفارت خانے کا معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہے گا.اللہ کا شکر ہے کہ شام سے طیارہ باحفاظت پاکستان پہنچ چکا ہے.حکومت کا یہ انتظام اس جذبہ کی علامت ہے کہ پاکستانی جہاں بھی مشکل میں ہوں وہ تنہا نہیں.پاکستانی قوم کی خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں.این ڈی ایم اے اور پاکستان کے سفارتخانوں نے انتھک کام کیا،

    شام میں پھنسے تین سو اٹھارہ پاکستانیوں کو بیروت سے چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے لبنانی وزیراعظم سے رابطہ کرکے شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا میں مدد کی اپیل کی تھی جس پر لبنان نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کیے ،ذرائع کے مطابق ان شہریوں کو بذریعہ سڑک شام سے لبنان پہنچایا گیا، جہاں سے آج انہيں خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے پر متعلقہ حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور شام سے مزید پاکستانیوں کے انخلاء کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے پاکستانیوں کے باحفاظت انخلاء پر لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے پرعزم ہے۔

  • اسلام آباد، لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی، اجلاس طلب، نام تجویز

    اسلام آباد، لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی، اجلاس طلب، نام تجویز

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی : جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبر کو طلب کیا گیا ہے جس میں اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ناموں پر غور کیا جائے گا،اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ سیشن جج اعظم خان اور ڈسٹرکٹ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے نام کے تجویز کردیئے گئے ہیں۔
    judges
    جوڈیشل کمیشن کے رکن بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے ایڈووکیٹ کاشف علی ملک اور رکن جوڈیشل کمیشن اسلام آباد ذوالفقار علی عباسی کی جانب سے سید قمر حسین سبزواری کی تجویز دی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے سلطان مظہر شیر خان، ممبر جوڈیشل کمیشن روشن خورشید بھروچہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ہمایوں دلاور کے نام کی تجویز دی گئی ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے قمر حسین سبزواری، عمر اسلم خان، دانیال اعجاز، کاشف علی کے نام تجویز کردیئے گئے ہیں۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 21 نام تجویز کیے ہیں جن میں محمد صدیق اعوان،چوہدری اقبال احمد خان ،محمد آصف سعید رانا کے نام بطور جج تجویز کیے ہیں۔
    judges
    ان کے علاوہ محمد اجمل زاہد ،عبدالباسط خان بلوچ،حسن نواز مخدوم ،عامر عجم ملک اور شیریں عمران کے نام بھی بطور جج لاہور ہائیکورٹ تجویز کیے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ملک وقاص حیدر اعوان، ایڈووکیٹ اسد محمود عباسی، محمد امجد پرویز ، شہزاد محمود بٹ ،احسن رضا کاظمی ،خالد بن عزیز، محمد جواد ظفر اور خالداسحاق کے نام بھی بطور جج لاہور ہائیکورٹ تجویز کیے ہیں۔

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی کیلیے 11نام تجویز کیے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے تین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے نام لاہور ہائیکورٹ کیلیے بطور جج تجویز کیے ان میں ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن جج قیصر نذیر بٹ ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکمل خان اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جزیلہ اسلم شامل ہیں۔

    جزیلہ اسلم سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ کیلیے بطور جج ایڈووکیٹ حیدررسول مرزا ،منور السلام ،خالد اسحاق ،رافع ذیشان ، جاوید الطاف، ایڈووکیٹ قاسم علی چوہان ، سید شہاب قطب،عاصمہ حامد،ث مینہ خالد محمود کے نام بھی بطور لاہور ہائیکورٹ جج تجویز کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں ممبر جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر نے لاہور ہائیکورٹ کیلیے تین نام تجویز کیے، ان میں ایڈووکیٹ محمد ثاقب جیلانی ،بیرسٹر قادر بخش اور ایڈووکیٹ ہما اعجاز زمان کے نام شامل ہیں۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعیناتی کیلیے 8 وکلاء کے نام تجویز کیے ہیں جن میں ملک جاوید اقبال وائیں، حسیب شکور پراچہ، مجیب الرحمان کیانی، سہگل اعجاز، ثاقب جیلانی، آیان طارق بھٹہ، نوازش پیرزادہ اور صباحت رضوی شامل ہیں۔
    judges
    جبکہ لاہور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لئے اختر حسین نے 2 وکلا کے نام تجویز کئے ہیں جن میں ملک جاوید اقبال اور سید علی عمران شامل ہیں-

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبرکو شام 4 بجے ہوگا۔

  • عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف  بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف بیان دینے سے روکا تھا،جاوید بدر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ماضی کی کچھ انتہائی سنسنی خیز باتوں کو منظر عام پر لایا ہے

    جاوید بدر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی سرگرمیاں 2013 سے ہی ملک دشمن تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا فوری طور پر فوجی ٹرائل شروع ہونا چاہیے۔جاوید بدر نے انکشاف کیا کہ 2013 میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مدد حاصل کی تھی۔ عمران خان نے پارٹی کو ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بیان دینے سے روک دیا تھا، جبکہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور میٹنگز پر بم دھماکے اور فائرنگ ہو رہی تھی۔جاوید بدر نے مزید بتایا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ "ٹی ٹی پی کے ساتھ میری بات ہوگئی ہے، وہ ہمیں مکمل سپورٹ کریں گے اور صوبے میں کسی اور پارٹی کو کمپین نہیں کرنے دیں گے۔” ان کے مطابق، عمران خان نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان دینے سے روک دیا تھا۔

    جاوید بدر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کی خواہش میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اور انہوں نے اپنے مفادات کے لیے دہشت گرد تنظیموں سے ہاتھ ملایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹی ٹی پی اس وقت ہمارے شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر رہی تھی، اور عمران خان نے ان سے حمایت حاصل کی۔”عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے اور یہ تعلقات ابھی تک قائم ہیں۔ جاوید بدر کے مطابق، پی ٹی آئی کے ہر احتجاج میں دہشت گرد عناصر شامل ہوتے ہیں، اور عمران خان نے "تبدیلی” کے نام پر ملک کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ڈرون حملوں کو سیاسی بیانیہ بنا کر دہشت گردوں کی حمایت کی۔

    پنجاب کو معاشی طورپر مستحکم اور ایک عوامی فلاحی صوبہ بنانا چاہتی ہوں،مریم نواز

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ کر دیا گیا

    26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف 12 سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی ،بلوچستان بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے دائر درخواستوں کو بھی نمبر لگا دیا گیا ،بلوچستان بار کونسل کی طرف سے دائر درخواست کو 49/24 اور بلوچستان ہائی کورٹ بار کی درخواست کو 50/24 نمبر لگایا گیا،جماعت اسلامی کی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست کو بھی نمبر لگا دیا گیا،رجسٹرار آفس نے 12 درخواستوں کو نمبر الاٹ کردیا ہے

    چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف