Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلام آباد میں بہارہ کہو بائی پاس کا زیر تعمیر پل ایک بار پھر گرگیا

    اسلام آباد میں بہارہ کہو بائی پاس کا زیر تعمیر پل ایک بار پھر گرگیا

    اسلام آباد میں بہارہ کہو بائی پاس کا زیر تعمیر پل گرگیا

    پل گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،گارڈرز کو کرین کی مدد سے دوبارہ اٹھانے کاعمل جاری ہے بہارہ کہو میں گزشتہ ہفتے 25 فروری کو اسی زیر تعمیر پل کی شٹرنگ گری تھی بہارہ کہو میں شٹرنگ گرنے سے 2 مزدور جا ں بحق اور 3 زخمی ہوئے تھے

    چیئرمین سی ڈی اے نورالامین مینگل کا کہنا ہے کہ کرین سلپ کی وجہ سے پل کا ایک حصہ گرگیا،انکوائری کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں،کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جارہی سیفٹی اور ہیلتھ پر سمجھوتانہیں کیا جاسکتا،واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی

    23مارچ تک منصوبے کی تکمیل کا سی ڈی اے کو الٹی میٹم دیا گیا تھا، منصوبہ مکمل کرنے کے لئے اپریل تک کا وقت مانگا گیا تھا، منصوبے پر جلد بازی میں کام کی وجہ سے ایک بار پھر نقصان ہوا،

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ بھارہ کہو کے علاقہ میں زیر تعمیر پل کے گارڈرز گر گئے۔گارڈرز گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس اور دیگر ریسکیو ادارے موقع پر موجود ہیں۔ چھوٹی ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لئے ٹریفک اہلکار موجود ہیں۔

    قبل ازیں بہارہ کہو بائی پاس منصوبہ کے چند روز قبل ہونے والے حادثے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی حادثے کی وجہ ٹریفک پولیس کی غلطی اور نااہلی قرار دیا گیا بہارہ کہو منصوبہ کے باعث مری روڈ کوبڑی ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا ،اسلام آباد، کشمیراور مری جانے والوں کو متبادل روٹ دیا گیا تھا ٹریفک پولیس نے رات کے وقت بڑی گاڑیوں کو منصوبے کے راستے سے گزرنے کی اجازت دی حادثے کی رات 30 سے زائد ٹریلرزیر تعمیر پل کے نیچے سے گزرے اوورلوڈڈ ٹریلر کے گزرنے سے منصوبے کی شٹرنگ کو نقصان پہنچا ٹریلر نے دو پلوں کی شٹرنگ کو متاثر کیا تھا

    وزیراعظم شہباز شریف نے بہارہ کہو بائی پاس منصوبے کا سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس منصوبے سے وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کا رش ختم ہوگا 5 اعشایہ 4 کلومیٹر طویل منصوبے کو 4 ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کرنے کا ہدف ہے، بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کا ٹھیکہ شفاف بولی کے ذریعے دیا گیا اور کمپنی کو منصوبے کی کوالٹی انتہائی معیاری رکھنے کا کہا گیا ہے منصوبہ تیار کرنے والی کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس منصوبے کو 3 ماہ میں مکمل کرے ایسے منصوبے 3 ماہ کے بجائے ڈیڑھ ماہ میں بھی مکمل ہو جایا کرتے ہیں

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • عمران خان کی نااہلی کی درخواست،اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ پیش کرنیکا حکم

    عمران خان کی نااہلی کی درخواست،اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ پیش کرنیکا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر لارجر بینچ نے سماعت کی

    جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر لارجر بینچ میں شامل تھے،وکیل نے کہا کہ عمران خان نے متفرق درخواست دائر کی ہے جس پر اعتراض عائد کیا گیا، نادرا نے بائیومیٹرک تصدیق سے انکار کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی د کان پر چلے جائیں وہاں بائیومیٹرک ہو جائے گا،عمران خان کے وکیل نے گزشتہ سماعت پر اعتراض اٹھایا تھا،عمران خان کے وکیل کا موقف ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں، وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ عمران خان کے رکن قومی اسمبلی نہ ہونے پر درخواست قابل سماعت نہیں، وکیل حامد علی نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے عمران خان حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا حلف اٹھانے کیلئے کوئی مدت متعین ہے؟ وکیل حامد علی نے کہا کہ قانون حلف لینے کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں کرتا،چودھری نثار حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے آیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا،اور کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ عدالت کے سامنے پیش کریں،وکیل حامد علی شاہ نے کہا کہ چودھری نثار حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر صوبائی اسمبلی رہے،

    حامد علی شاہ نے دوران سماعت اپنے ہی لکھے پرانے فیصلے کا حوالہ دیا،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو آپ کا ہی فیصلہ ہے، چیف جسٹس کی نشاندہی پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں امیدوار کیلئے بیان حلفی جمع کرانے کی شرط رکھی تھی، وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کے پاس غلط معلومات ملنے پر الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں ایسا نہیں ہوا، اس الیکشن کو تو کسی نے چیلنج ہی نہیں کیا،فیصلے کیمطابق اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائیکورٹس اور عدالتوں کا ہے، اس فیصلے کو بھی دیکھ لیں گے، حبیب اکرم کیس میں سپریم کورٹ نے بیان حلفی کاغذات کا حصہ بنایا،فیصلے کے مطابق زیر کفالت بچوں کی تفصیلات بتانا لازم تھیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق یہ تفصیلات لازم نہیں ہیں،وکیل نے کہا کہ اثاثوں کی فہرست میں بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات بتانی ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر تفصیلات غلط جمع کرائی گئی ہوں تو الیکشن ایکٹ کیا کہتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر تفصیلات غلط ہوں تو یہ کرپٹ پریکٹس میں آئے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غلط تفصیلات پر الیکشن کمیشن نے 120 دن کے اندر ایکشن لینا ہوتا ہے، اگر الیکشن کمیشن نے ایکشن نہیں لیا تو پھر بس نہیں لیا،

    وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق پارٹی سربراہ کو پبلک آفس ہولڈر تصور کیا جائے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل سلمان اکرم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تحمل کریں، انکی بات بھی سن لیں کوئی جلدی نہیں ہے، کیا یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل میں تو نہیں گیا؟ وکیل نے کہا کہ معاملہ ٹربیونل میں گیا لیکن وہاں میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا، عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف 2 ریفرنسز مسترد کر چکا ہے؟ وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج کیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر بیان حلفی غلط ثابت ہوتا ہے تو اسکے کیا نتائج ہونگے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ غلط بیان حلفی پر 62 ون ایف لگتا ہے،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے فیصل واوڈا کیس موجود ہے، اسکو دیکھ لیجئے گا،

  • سپیکر قومی اسمبلی کی تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت

    سپیکر قومی اسمبلی کی تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں موجودہ حالات میں مایوس ہونے کی ضروت نہیں یقین دلاتا ہوں پاکستان کبھی ڈیفالٹ نہیں کرے گا

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے تحت بزنس رول ماڈل ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پیپلز پارٹی کے رہنما ، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد چیمبر ملک کے تمام چیمبرز میں سے خوبصورت ہے چیمبر کو یقین دلاتا ہوں کہ مل بیٹھ کر تاجر برادری کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کروں گا بزنس کمیونٹی کے بغیر کوئی معاشرہ مکمل نہیں ہو سکتا،معاشی نظام پر بزنس مینوں کی گہری نظر ہوتی ہے، اسمبلی جب تک تاجر برادری معاشی نظام کا حصہ نہیں بنتی مسائل حل نہیں ہو سکتے جب تک سیاسی استحکام نہیں آ تا،معاشی استحکام نہیں آ سکتا جن ملکوں نے ترقی کی وہاں پہلے سیاسی استحکام آیا گزشتہ روز اپوزیشن کے وفد کو بھی کہا کہ بات چیت کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بات چیت کی دعوت دیتا ہوں سیاستدان ایک دوسرے کی عزت کر کے رول ماڈل بنیں موجودہ حالات میں مایوس ہونے کی ضروت نہیں امید ہے چند دنوں میں معاشی استحکام کی طرف گامزن ہو جائیں گے

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر اسلام آباد چیمبر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ بزنس کے شعبے میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کو رول ماڈل بنایا جانا چاہیے، اسلام آباد چیمبر آف کامرس کو سی ڈی اے بورڈ میں نمائندگی دی جانی چاہیے، اسلام آباد کے مسائل کو مقامی بزنس میں بہتر انداز میں سمجھتے ہیں، سی ڈی بورڈ میں نمائندگی ملنے پر اسلام آباد کے مسائل بہتر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں، چیمبر کے نمائندوں کو پارلیمان کی بزنس سے متعلقہ کمیٹیوں میں مدعو کیا جانا چاہیے،

  • صوبائی الیکشن، سپریم کورٹ کے فیصلے پر وفاقی وزیر قانون کا ردعمل

    صوبائی الیکشن، سپریم کورٹ کے فیصلے پر وفاقی وزیر قانون کا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے حوالہ سے فیصلے پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا ردعمل سامنے آیا ہے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ بطور وکیل کہہ رہا ہوں کہ یہ پٹیشن چار، تین کے تناسب سے خارج ہوگئی ہےانتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول نہیں ہوا ٹی وی کے ذریعے مجھ تک پہنچا ہے تحریری فیصلہ پڑھنے تک اور کابینہ میں اس پر بحث کرنے تک میں بطور وزیر قانون اس پر بات نہیں کرسکتا ،اس سے قبل جسٹس یحییٰ اور جسٹس اطہر من اللہ نے بھی ازخود نوٹس پر اختلاف کیا تھا آج فیصلے میں 2 جج صاحبان نے مزید کہہ دیا ہے کہ یہ قابل سماعت نہیں میں وزیر کی حیثیت سے نہیں بطور وکیل کہہ رہا ہوں کہ یہ پٹیشن چار، تین کے تناسب سے خارج ہوگئی ہے اور اس پر فیصلہ لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ہونا چاہیے جہاں اس حوالے سے درخواستیں دائر ہیں

    دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخواسے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے ،اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا

  • توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےگئے۔

    باغی ٹی وی : توشہ خانہ مقدمہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی۔سیشن کورٹ اسلام آباد نے وشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ فیصلہ سنادیا،ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کارکن سیشن کورٹ کے باہر جمع ہونے لگے ہیں –

    قبل ازیں عمران خان کے وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔ سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل نے پیشی کے لیے پانچ دن کی مہلت دینے کی استدعا کی تھی۔

    دوران سماعت، وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وکیل علی بخاری نےکہا کہ آپ الیکشن کمیشن کے وکیل ہیں اور وکیل ہی رہیں، ترجمان نہ بنیں،عمران خان کچھ دیر پہلے لاہور سے نکل پڑے ہیں عمران خان نےجوڈیشل کمپلیکس کی دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے اس لیے عمران خان آج اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ عدالت کا مسئلہ نہیں عمران خان کہاں سے آرہے ہیں، یہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہونا چاہتے لیکن ہم اس کیس پر ہر دن سماعت کے لیے تیار ہیں، عمران خان دوسری عدالتوں میں پیش ہو رہے تو اس عدالت میں کیوں نہیں؟

    وکیل عمران خان نے کہا کہ میں آج عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کے قابل نہیں ہوں، اگر عمران خان عدالتی وقت میں جوڈیشل کمپلیکس سے نکل آئے تو ہم پیش ہو جائیں گے۔

    جج ظفر اقبال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسا طریقہ ہے کہ عمران خان ادھر پیش نہیں ہوسکتے اور جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوجائیں گے، ادھر کے لے وقت نہیں بچے گا یہ کونسا طریقہ ہے۔ یہاں فرد جرم عائد ہونا ہے اس لیے ادھر آجائیں اور جب فرد جرم عائد ہوجائے تو پھر چلے جائیں۔

    عدالت نے عمران خان کی حاضری ضروری قرار دی تھی۔

    واضح رہے کہ آج 4 مختلف کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیشی تھی جب کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی پیش ہونا ہے۔

    عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے جہاں ان کی ضمانتیں منظور کرلی گئیں۔

  • بینکنگ کورٹ نے عمران خان کی ضمانت منظورکرلی

    بینکنگ کورٹ نے عمران خان کی ضمانت منظورکرلی

    اسلام آبادکی انسداد دہشت گردی عدالت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کےکیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت منظورکرلی۔

    باغی ٹی وی : عمران خان بذریعہ موٹروے اسلام آباد پہنچے۔ کارکنان نے موٹرے وے انٹرچینج پر عمران خان کا استقبال کیا اور قافلے کی صورت میں جوڈیشل کمپلیکس جی الیون پہنچے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوگئے جس کے بعد انہیں دوسرے کیس میں بینکنگ کورٹ کی خاتون جج کمرہ عدالت میں طلب کرلیا۔

    جوڈیشل کمپلیکس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت گراونڈ فلور جبکہ بینکنگ کورٹ سیکنڈ فلور پر ہے۔ عمران خان بینکنگ کورٹ پہنچے جہاں ان کی بینکنگ کورٹ آمد سے قبل کمرہ عدالت میں شدید شور شرابا ہوا۔

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کےجج راجہ جواد نے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی عمران خان کے خلاف مقدمہ تھانہ سنگجانی میں درج کیا گیا تھا۔

    بینکنگ کورٹ کی خاتون جج نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور کرلی،بینکنگ کورٹ کی خاتون جج رخشندہ شاہین نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا اور ان کی ضمانت منظور کرلی۔

    عمران خان کی عدالتوں میں پیشی کے موقع پر ہزاروں کارکنان عدالت کے باہر جمع ہوگئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر سخت سیکیورٹی کے اقدامات کیے گئے۔ عدالتوں کے باہر اسلام آباد اور پنڈی سمیت خیبر پختون خوا سے بھی کارکنوں کی بڑی تعداد پہنچی۔

    اس موقع پر شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی، پی ٹی آئی کارکنان نے جوڈیشل کمپلیکس کا دروازہ توڑ دیا اور بڑی تعداد میں جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہوگئے, جی 11 جوڈیشل کمپلیکس پر سکیورٹی کے انتظامات درہم برہم ہوگئے، پی ٹی آئی کارکنوں نے تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا۔

    سکیورٹی اہلکار کارکنوں کو روکنے میں ناکام ہوگئے جس کے باعث عمران خان کو کمرہ عدالت کے اندر لے جانے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پہلے ہی دو ملزمان کی ضمانت ہوچکی ہے اس لیے قانونی طور پر عمران خان کی عبوری ضمانت بھی ہونی تھی ان کی اس کیس میں گرفتاری اس وقت نہیں بنتی۔

    ضمانتوں کی درخواستوں میں ججز کے ریمارکس نہیں آتے، عمران خان کے وکیل نے دلائل دیے جواب میں پراسیکیوٹر نے بھی دلائل دیے، عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    متعدد بار طلبی اور بار بار استثنیٰ مانگنے کے بعد عدالت کے حکم پر عمران خان نے آج پیش ہونےکا فیصلہ کیا اسلام آباد میں 4 مختلف کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیشی ہے۔

    جی11 کورٹس اور کچہری میں عمران خان کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ ایک روز قبل عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کو جواب داخل کیا ہے جس میں انہوں ںے کہا تھا کہ ایف آئی اے کو میرے خلاف اب تک کوئی ثبوت نہیں ملا، مجھ پر ایسا کیس چلایا جارہا ہے جو جرم ہوا ہی نہیں۔

    ان دونوں عدالتوں میں پیش کے بعد اب عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں آمد متوقع ہے جس کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواست پر اعتراض عائد کر رکھے ہیں اور عدالت نے عمران خان کی بائیو میٹرک کو لازمی قرار دے رکھا ہے

  • عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے اسلام آباد روانہ

    عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے اسلام آباد روانہ

    اسلام آباد: چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے عدالت روانہ ہوگئے-

    باغی ٹی وی: عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی عدالتوں میں آج 4 مختلف کیسز کی سماعت ہوگی۔

    عمران خان انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیش ہوں گے۔

    چیئرمین عمران خان آج بینکنگ کورٹ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں جج رخشندہ شاہین کے سامنے پیش ہوں گے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت اقدام قتل کیس جج راجہ جواد عباس کے سامنے پیش ہوں گے جبکہ توشہ خانہ کیس میں جج ظفر اقبال کے سامنے پیش ہوں گے​-

    دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد روانگی کا پروگرام تبدیل کردیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما میاں اسلم اقبال کے مطابق عمران خان کا آج اسلام آباد روانگی پروگرام تبدیل ہوگیا ہے،وہ طیارے کے بجائے موٹروے سے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ عمران خان لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے صبح ساڑھے 7 بجے روانہ ہوں گے،سابق وزیر اعظم کے ساتھ پی ٹی آئی کارکن بھی اسلام آباد جائیں گے۔

  • عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس میں سابق وزیر کے وکیل سلمان اکرم راجا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون اور ایس ایچ او آبپارہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی درخواست ضمانت پرسماعت کا آغاز ہوا تووکیل سلمان اکرم راجا روسٹرم پر آ گئےاس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون، ایس ایچ او آبپارہ بھی عدالت میں پیش ہوگئے۔

    شیخ رشید کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئےکہا کہ ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست ہے، ایڈیشنل سیشن جج نے ایک الزام کی بنا پرضمانت خارج کی، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ الزام کیا لگایا گیا ہے؟ سلمان اکرم نےکہا کہ نیوز چینل پر بیان دکھایاگیا جس کی بنا پر مقدمہ درج کیا گیا، شیخ رشید اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔

    عدالت نے پوچھا کہ شیخ رشیدنے الزام کیا لگایا ہے؟ کسی نیوز چینل پر بیان ہے؟ اس پر شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ جی انہوں نے ایک بیان دیا جو نیوز چینلز پر نشر ہوا لیکن شواہد میں ایسا کچھ نہیں کہ بیان سے پی ٹی آئی اورپیپلزپارٹی کے درمیان تصادم ہوا۔

    دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید سینئر سیاستدان ہیں، ان کی گفتگو پارلیمانی ہونی چاہیے اس پر عدالت نے کہا کہ سب ایک ہی قسم کی گفتگو کرتے ہیں، سب پارلیمانی ہے، جج کے ریمارکس پرعدالت میں قہقہے لگ گئے۔

    وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش آپ کو کیا معلومات ملی ہیں، جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ شیخ رشید اپنے بیان سے انکاری نہیں ہیں، اب بھی وہ بیان دہرا رہے ہیں۔ 8 مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنے لیکن ایسے بیانات کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ آپ ایسے بیانات دے دیتے ہیں تو اس کی کچھ حدود و قیود ہیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں میں سینئر ہُوں اور کہہ رہے ہیں آصف زرداری نے دہشت گردوں کی خدمات حاصل کر لیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سب لوگ پارلیمانی زبان ہی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔جو حکومت میں ہوتا ہے وہ اور زبان ہوتی ہے، اپوزیشن میں زبان بدل جاتی ہے۔

    جہانگیر جدون نے کہا کہ شیخ رشید نےوزیرداخلہ اور بلاول بھٹو کو گالیاں دیں،اس پرسلمان اکرم نےکہا کہ یہ کیس ہی نہیں ہےجو ایڈووکیٹ جنرل بیان کررہے ہیں۔

    اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بیان دیا کہ شیخ رشید کے بیان کی تفصیلات پیمرا سے حاصل کی گئیں، انہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے عمران خان سے یہ انفارمیشن لی، آصف زرداری کی عمران خان کے خلاف مبینہ سازش کے شواہد شیخ رشید سے نہیں ملے۔

    شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ اس میں کوئی ایسا امکان نہیں کہ یہ بیان دہرایا جائے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر تو یہ جرم نہیں دہراتے اور انڈرٹیکنگ دیتے ہیں تو عدالت دیکھ لے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پرائمری اسکول کے نصاب ہی سے تربیت شروع کرنی پڑے گی۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعد ازاں عدالت نے کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ضمانت منظور کرلی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شیخ رشید کی رہائی کا حکم جاری کیا۔

  • جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور جو رپورٹ ہوا وہ ناصرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانبدارانہ بھی تھا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی –

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں سے متعلق سوال کیا تھا، قومی اسمبلی کے ایک ممبر کی مجموعی تنخواہ ایک لاکھ 88 ہزار روپے ہے، پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی نے اپریل سے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی، پی ٹی آئی کے ممبران نے سفری اخراجات اور لاجز سمیت دیگر مراعات لیں، قومی اسمبلی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عدالتی ریمارکس کے متعلق ایک خط لکھا ہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی غلط رپورٹنگ پر بات کرنا چاہتا ہوں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے آپ کا خط پڑھا ہے اور آپ کی کاوش کو سراہتے ہیں۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے کہ تنقید کا اگلا ہدف بن سکتے ہیں جو مناسب لگا وہ کیا جب کہ مسئلہ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کا نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر کوئی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سمجھ داری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، عدالتی کارروائی سے کچھ غلط معلومات منسوب کی گئیں، جو رپورٹ ہوا وہ نہ صرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانب دارانہ بھی تھا، جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہا ہوں میڈیا کے دوستوں کو عدالتی ردعمل نہ آنے کو احترام سے دیکھنا چاہیے، سپریم کورٹ کا 2019ء کا فیصلہ میڈیا کنٹرول کی بات کرتا ہے، میں میڈیا کنٹرول پر نہیں، باہمی احترام پر یقین رکھتا ہوں۔

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    بعدازاں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گئےچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مخدوم صاحب یاددہانی کے لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ کے دلائل میں 11 سماعتیں گزر گئیں۔ اس پر مخدوم علی خان بولے کہ دوسرے جانب کے دلائل میں 6 ماہ لگے تھے اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسری طرف کا ریکارڈ مت توڑیے گا۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی معاملات میں برطانیہ سمیت ملکوں میں عدالتی کارروائی لائیو کیمروں میں ریکارڈ ہوتی ہے، لائیو اسٹریمنگ سے آفیشل ریکارڈ رہتا ہے اور ابہام کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات کا معاملہ ہمارے پاس زیر التوا ہے، جلد ہی فل کورٹ میں عدالتی کارروائی براہ راست دیکھانے کا معاملہ رکھیں گے۔

    وکیل وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر 51 فیصد لوگ ووٹ ہی نہ ڈالیں تو بھی اسمبلی میں عوامی نمائندگی ہوگی، جمہوریت ہے ہی نمبرز گیم۔

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے کب دیے تھے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز نے 11 اپریل کو استعفے دیے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کے استعفے قسطوں میں منظور کیے گئے، استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے عدالتی فیصلے موجود ہیں –

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ استعفے منظور ہوچکے تو منظوری کے خلاف پی ٹی آئی عدالت چلی گئی، لاہور ہائی کورٹ نے 44 استعفوں کی منظوری پر حکم امتناع دیا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے استعفوں کی منظوری کا اسپیکر کا حکم معطل نہیں کیا، ہائی کورٹ کے مطابق اسپیکر کا فیصلہ درخواست کے ساتھ لگایا ہی نہیں گیا تھا۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے 20 ارکان نے استعفے نہیں دیے تھے وہ اسمبلی کا حصہ ہیں، امریکی تاریخ دان نے کہا تھا کہ سیاسی سوال کبھی قانونی سوال نہیں بن سکتا، امریکا تاریخ دان کی بات پاکستان کے حوالے سے درست نہیں لگتی، امریکی سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ عدالت سیاسی سوالات میں نہیں پڑے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی حقوق اور آئینی سوالات پر فیصلے ہوتے رہے، سیاسی سوال قانونی تب بنتا ہے جب سیاسی ادارے کمزور ہوجائیں۔

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود ہی آرڈیننس لاکر نیب ترامیم ڈیزائن کی تھیں، اپنی ہی ڈیزائن کردہ ترامیم چیلنج کرنا بدنیتی ہے، سپریم کورٹ وطن پارٹی اور طاہرالقادری کیس نیت اچھی نہ ہونے پر خارج کر چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تفصیل دیں آئینی خلاف ورزیوں پر نیب قانون کی شقوں کو سپریم کورٹ نے کب کب کالعدم قرار دیا؟ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی۔

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

  • شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہبازگل نے اداروں کو بغاوت پر اکسانے کےکیس میں ٹرائل کورٹ سےدرخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی: شہباز گل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کے بریت مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کر دی شہباز گل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنےکی استدعا بھی کی،شہبازگل کی جانب سے درخواست میں وفاق کو فریق بنایا گیا-

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں شہبازگِل کی بریت کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ جاری

    درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہےکہ پراسیکیوشن کی جانب سے ایسا کوئی مواد نہیں دیا گیا جس پر فرد جرم لگ سکے، ٹرائل کورٹ کا آرڈر آئین کے آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔

    شہباز گل نے عدالت سے استدعا کی ہےکہ درخواست منظورکرتے ہوئےکوہسار تھانے میں درج بغاوت کے مقدمے سے بری کیا جائے سیشن کورٹ اسلا م آبا د کا 11 فروری کا فیصلہ کلعدم قرار دیا جائےاور درخواست بریت پر حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکی جائے۔

    آصف زرداری پر الزام تراشی:شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری

    واضح رہےکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی بریت کی درخواست مسترد کردی تھی اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے شہباز گل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا، عدالت نے کہا کہ شہباز گل پر فرد جرم 27 فروری کو عائد کی جائے گی۔