Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عدالت کو مجبور نہ کریں کہ ہم آپکے خلاف کارروائی کریں،اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالت کو مجبور نہ کریں کہ ہم آپکے خلاف کارروائی کریں،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری منیب اکرم کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو آج دو بجے طلب کرلیا ،درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت وکیل نے عدالت میں کہا کہ منیب اکرم کو 20 اگست 2022 کو گھر سے اٹھا لیا گیا تاحال بازیاب نہیں ہوا،29 سالہ منیب کو تھانہ نون کے علاقے سے اٹھایا گیا،عدالت نے فریقین کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں دو بجے تک کا وقفہ کردیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت میں پیش ہو گئے،مقدمہ اسی وقت درج کر لیا گیا تھا، آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کر دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات بہت زیادہ ہو رہے ہیں اور یہ ناقابل برداشت ہے، دوسرے علاقوں کی سی ٹی ڈی یہاں آ رہی ہیں، یہ عدالت نہیں جانتی کہ پولیس کیا کر رہی ہے اور دیگر ایجنسیز کیا کر رہی ہیں،اس شخص کو ہر حال میں بازیاب ہونا چاہیے، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، یہ شخص اس عدالت کی حدود سے اٹھایا گیا، اس شخص کو یونیفارم میں لوگوں نے اٹھایا ہے، جو پچھلا کیس تھا اس شخص کو کون اٹھا کر لے گیا تھا؟ اگر کوئی جھوٹی درخواست لے کر آتا ہے تو یہ عدالت اسکے خلاف کارروائی کریگی،اس شخص کو بازیاب کرانا آپکی اور چیف کمشنر کی ذمہ داری ہے، یہ سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع اور تمام سیکٹرز کمانڈرز کی ذمہ داری ہے، آپ سب کی ذمہ داری ہے کہ اس شخص کو پیر تک بازیاب کریں، اگر پیش نہیں کیا جاتا تو یہ تمام افسران پیر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، یہ تمام افسران تب تک روزانہ پیش ہوتے رہیں گے جب تک یہ شخص بازیاب نہیں ہو جاتا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب ایسا واقعہ اس کے بعد دوبارہ نہیں ہونا چاہیے،ایس ایچ او صاحب آپکی اجازت کے بغیر کسی شخص کو اٹھایا نہیں جا سکتا، آپکی اجازت لے کر ہی یہ سی ٹی ڈیز باہر سے یہاں آ رہی ہیں، یہ عدالت آئی جی اور آپ پر اعتماد کر رہی ہے کہ آپ اس شخص کو پیش کرینگے، اس عدالت کو مجبور نہ کریں کہ ہم آپکے خلاف کارروائی کریں،

    لاپتہ افراد کے وکیل کی گمشدگی، سپریم کورٹ نے حکومت کو بڑا حکم دے دیا

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • سارہ انعام قتل کیس،ملزم شاہنواز عدالت پیش،مزید جسمانی ریمانڈ منظور

    سارہ انعام قتل کیس،ملزم شاہنواز عدالت پیش،مزید جسمانی ریمانڈ منظور

    سارہ انعام قتل کیس،ملزم شاہنواز عدالت پیش،مزید جسمانی ریمانڈ منظور

    سارہ انعام قتل کیس ،مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    ملزم کو سینئر سول جج محمد عامر عزیر کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ،وکیل نے کہا کہ ایاز امیر کو موبائل فون کی سپرداری دی جائے،جج نے حکم دیا کہ اگر اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے تو موبائل فون واپس کریں،پولیس نے شاہنواز امیر کے مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی ، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ اکاونٹ کی تفصیل لینی ہے مختلف اوقات میں رقم منگواتا رہا ہے ،جج نے پولیس سے استفسار کیا کہ ابھی کتنے دن کا ریمانڈ ہو چکا ہے،تفتیشی افسر نے کہا کہ آج تک 5 روزہ جسمانی ریمانڈ ہو چکا ہے، عدالت نے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم گزشتہ روز عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے

    شاہنواز امیر کے گھر تحقیقات کے دوران کلاشنکوف برآمد 

     ملزم شاہنواز امیر کا تین روزہ جبکہ اسکے والد ایاز امیر کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ 

     ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز سے متعلق نئے انکشافات 

     ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    اسلام آباد پولیس نے بہو کے قتل کیس میں معروف صحافی ایاز امیر کو گرفتار کرلیا

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • بریکنگ،ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    بریکنگ،ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اورکیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چار سال کے بعد مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں منظور کر لیں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی سزائیں کالعدم قراردے دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پراسیکیوشن ٹیم کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی

    احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو مریم نواز کو 7 اورکیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی جج محمد بشیر نے نواز شریف پر ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا جج محمد بشیر نے مریم نواز پر 30 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا

    قبل ازیں ن لیگی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں ،کیپٹن (ر) صفدر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ،دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ نیب پراسیکیوٹر عثمان راشد طبیعت ناسازی کی وجہ سے آج پیش نہیں ہو ئے،ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ عثمان راشد کی طبیعت ناساز ہے عدالت اجازت دے تو دلائل کا آغاز کروں ، امجد پرویز نے ڈپٹی پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایون فیلڈ ریفرنس کا ٹرائل کیا آپ سے بہتر دلائل کون دے سکتا ہے،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف وہ حصہ پڑھیں جس میں مریم اور نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق واضح ہو،تفتیشی افسر نے جے آئی ٹی کی ساری رپورٹ لکھ دی، خود کیا تفتیش کی؟ یہ دستاویزات پراسیکیوشن کا کیس کیسے ثابت کرتے ہیں؟ ان دستاویزات سے الزام کیسے ثابت ہوتا ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ کیا تفتیشی افسر نے دستاویزات پر کوئی تفتیش بھی کی؟ کوئی ایسی چیز ابھی سامنے نہیں آئی جو نواز شریف یا مریم نواز کا پراپرٹیز سے تعلق جوڑے،کیا پراپرٹیز کی مالیت کا تعین کرنے والا کوئی دستاویز سامنے آیا؟ آپ نے دستاویزات پڑھے لیکن ان میں کہیں وہ مریم نواز اور نواز شریف کا لنک واضح نہیں ہو رہا ،کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جس سے پراپرٹیز کی مالیت یا ایک اپارٹمنٹ کی مالیت پتہ چلے

    سردار مظفر عباسی نے کہا کہ حسن اور حسین نواز نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دی، 26 جنوری 2017 کو یہ درخواست دی گئی تھی،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ طارق شفیع کا بیان حلفی ریکارڈ پر رکھا گیا تھا، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ بیان حلفی میں گلف اسٹیل ملز کی فروخت کا بتایا گیا،ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح سوال اٹھایا تھا گلف اسٹیل مل بنی کیسے؟ طارق شفیع یہ دکھانے میں ناکام رہے تھے کہ وہ بزنس پارٹنر تھے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی رائے کو شواہد کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، جے آئی ٹی نے کوئی حقائق بیان نہیں کیے، صرف اکٹھا کی گئی معلومات دیں، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ ڈاکومنٹس خود دیکھے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، میں ڈاکومنٹس سے دکھاؤں گا کہ یہ پراپرٹیز 1999 میں خریدی گئیں، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ان پراپرٹیز کی خریداری کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی؟ آپ اس متعلق ڈاکومنٹ دکھائیں، زبانی بات نہ کریں،کل کو یہ ساری چیزیں ججمنٹ میں آنی ہیں، آف شور کمپنیوں نے اپارٹمنٹ کتنی قیمت میں خریدا؟ اپیل میں کام آسان ہوتا ہے کہ جو چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں انہی کو دیکھنا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پراسیکیوشن زبانی بیانات کے علاوہ کیا دستاویزات سامنے لائی ہے؟ نواز شریف کا اس کیس کے حوالے سے موقف کیا ہے؟ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا موقف تھا کہ ان کا اس پراپرٹی سے تعلق نہیں،

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا 342 کے بیان میں مانا گیا کہ پراپرٹی کتنی میں خریدی گئی؟ وکیل مریم نواز نے کہا کہ 342 کے بیان میں کہیں پر کوئی ذکر نہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ واحد اور بہترین دستاویز ہے جو کیس پیش کی گئی؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر عثمانی چیمہ نے کہا کہ مریم نواز کا کردار 2006 سے شروع ہوتا ہے، ابھی آپ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز کا کردار 1993 سے شروع ہوتا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز پراپرٹیز کی مالک ہیں یہ دستاویزات سے عدالت کو بتا دیں ، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے خود کو تو واضح کر لیں پھر عدالت کو بتائیں، سردار مظفر نے کہا کہ میں تین جملوں میں نیب کا سارا کیس عدالت کو بتا دیتا ہوں،نواز شریف نے پبلک آفس ہولڈر ہوتے ہوئے مریم نواز کے نام پر لندن پراپرٹیز خریدیں،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو چار جملے آپ نے بتائے ہیں یہی شواہد سے ثابت کر دیں، بات ختم،جو متفرق درخواستیں دائر ہوئیں اس کے علاوہ نیب کے پاس کوئی کیس نہیں،واجد ضیاء کو پتہ چل گیا تھا کہ پراپرٹیز کی مالیت 5 ملین ڈالر تھی تو تفصیل لی جا سکتی تھی، پراپرٹیز کی تفصیلات لینا بالکل بھی مشکل نہیں تھا، پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ پراپرٹیز کی مالیت کا تعین متعلقہ نہیں تھا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ آپ بالکل غلط کہہ ریے ہیں کہ مالیت کا تعین غیرمتعلقہ تھا، آپ نے تحقیقات کے بعد شوائد سے کیس بنانا تھا ،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ شریف فیملی کا موقف ہے کہ دادا نے پوتے کو پراپرٹیز دیں، واجد ضیاء نے انہی کی متفرق درخواست کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنا دیا، تفتیشی نے انکے اس موقف کو غلط ثابت کرنا تھا، پراسیکیوشن نے یہ ثابت کرنا تھا کہ اصل ملکیت نواز شریف کی ہے یا نہیں تفتیشی ایجنسی نے تفتیش کر کے حقائق سامنے لانے تھے، وہ دستاویزات دکھا دیں کہ جن سے پراپرٹی ٹریل "یہ ہیں وہ ذرائع” غلط ثابت ہوں ،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نواز شریف نے اگر اپنی پوتے کیلئے پراپرٹیز بنائیں تو اس میں نواز شریف کا تعلق کہاں ہے؟ دادا نے سارا کچھ پوتا پوتی کیلئے بنائے تو پھر بھی نواز شریف کہیں موجود نہیں، یہ تو کہیں ثابت نہیں ہو رہا کہ باپ نے بیٹے نواز شریف کو پراپرٹیز دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے عدالت کو وہ ٹائٹل ڈاکیومنٹ دکھانا ہے، وہ دکھا دیں، کیس تقریباً مکمل ہو چکا ہے، نیب نے بس وہ چھپا ہوا دستاویز دکھانا ہے،

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    نیب پراسیکیوٹر نے پراپرٹیز کی رجسٹری کے دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کردیں ،نیب پراسیکیوٹر نے نیلسن اور نیسکول کمپنیز کی رجسٹریشن کی دستاویزات دکھا دیں، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ تصدیق شدہ دستاویزات ہیں؟ وکیل مریم نواز امجد پرویز نے کہا کہ یہ تصدیق شدہ سرٹیفکٹ کی کاپی ہے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پراپرٹیز کمپنیز کی ملکیت ہیں، پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویز میں care off لکھا ہو ا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملکیت کمپنی کی ہے اب اس کمپنی کو لنک کریں

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پر ملکیت نیلسن نیسکول کی ہے اور بینیفیشل اونر مریم نواز ہیں لافرم بھی بینیفیشل اونر شپ کی بات کررہی ہے کمپنی کی ملکیت ہونا الگ بات ہے اس میں ڈائریکٹر ہونا الگ بات ہے اور اس کے شئیر ہولڈر ہونا الگ ،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 2006 سے 2012 کے درمیان پراپرٹیز ان کمپنیز ملکیت تھیں یا نہیں، یہ کیسے پتہ چلے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا آج کی تاریخ میں اس خط کی بنیاد پر مریم نواز ان پراپرٹیز کی بینیفشل اونر ہیں؟ پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ جی، آج بھی ہیں، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیسے مالک ہیں کوئی دستاویز دکھا دیں ،یہ بھی بینفشل اونر کی بات ہو رہی ہے قانونی مالک کی نہیں ،سردار مظفر نے کہا کہ 2017 میں بی وی آئی ایف آئی اے کی دستاویز کے مطابق وہ اب بھی بینفشل اونر ہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیس ثابت کرنے میں فیل ہوئے ہیں، نیب کے سارے کیس میں نواز شریف کا کہیں نام نہیں آ رہابیٹی کے نام پر ہونے کا مطلب لازم نہیں کہ وہ باپ کی ہی ملکیت ہو، سردار مظفر نے کہا کہ شریف فیملی نے خود بھی اپنے دفاع میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ کیوں دستاویزات پیش کرتے، انکا تو کام ہی نہیں تھا، نیب نے ثابت کرنا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ انہیں تو خاموشی سے کھڑے رہنا چاہیے تھا بالکل کچھ بولنا ہی نہیں چاہیے تھا،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اگر روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہیں کہ پراپرٹیز ہماری ہیں پھر بھی پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر سزا دی گئی کیا اصل ٹرسٹ ڈیڈ موجود ہے؟ کیا نواز شریف، مریم نواز یا کیپٹن (ر) صفدر کبھی گرفتار ہوئے؟ نیب نے کہا کہ نہیں ،نواز شریف، مریم نواز یا کیپٹن (ر) صفدر میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوئے،

  • فنڈنگ کیس،اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    فنڈنگ کیس،اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    فنڈنگ کیس،اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں اکبر ایس بابر کی فنڈنگ کیس میں فریق بنانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اکبر ایس بابر کو کیس میں فریق بنانے کی درخواست پر دلائل سن لیتے ہیں،کیا اکبر ایس بابر تمام سماعت کا حصہ رہے؟ وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ جی، الیکشن کمیشن کی سماعت میں اکبر ایس بابر شامل رہے، اس عدالت کو تمام حقائق بتانا اکبر ایس بابر کی ذمہ داری ہے، ہماری استدعا ہے کہ ہمیں کیس میں فریق بنایا جائے،

    وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ اکبر ایس بابر اس عدالت کی محض معاونت کرنا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں، انور منصور نے کہا کہ اس سارے کیس میں اکبر ایس بابر کے خلاف کچھ نہیں ہے، وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ عمران خان اور اکبر ایس بابر کے درمیان ذاتی دشمنی ہے،انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے آرڈر میں سکروٹنی کمیٹی کی مکمل رپورٹ کو تسلیم کر لیا، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی سوموٹو تھی؟ انور منصور نے کہا کہ بالکل، کیوں کہ اکبر ایس بابر کی تو استدعا ہی کچھ اور تھی، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صبر کر جائیں ہمیں کوئی جلدی نہیں آپ ہی کو سن رہے ہیں،کیا درخواست گزار اس پراسیس میں شامل تھے یا نہیں؟ انور منصور نے کہا کہ درخواست گزار موجود تھے ہم اس بات کی نفی نہیں کر رہے، عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بہت سے صفحات اکبر ایس بابر کے دلائل پر مشتمل ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ اکبر ایس بابر کو یہاں فریق بنانے پر اعتراض کیوں ہے؟ کیا ایک پارٹی ممبر کو فریق نہیں بنایا جا سکتا؟ انور منصور نے کہا کہ پارٹی اکبر ایس بابر کو اپنا ممبر تسلیم نہیں کرتی، وہ اب پارٹی کا حصہ نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی اکبر ایس بابر کی ممبرشپ منسوخ کر چکی ہے؟ انور منصور نے کہا کہ اکبر ایس بابر نے خود اپنی ممبر شپ چھوڑی تھی، الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کو کیس میں فریق بنانے پر رضامندی ظاہر کر دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    تحریک انصاف کے بانی رکن اور ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فریق اکبر ایس بابر نے 17 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پی ٹی آئی کی اپیل میں فریق بننے کے لئے باضابطہ درخواست دائر کی تھی۔اکبر ایس بابر نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا ممبر اور کیس کا شکایت کنندہ ہوں، پی ٹی آئی کی پٹیشن میں میرا ذکر موجود ہے لیکن مجھے فریق نہیں بنایا۔اکبر ایس بابر نے درخواست میں استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی “کلین ہینڈز” کے ساتھ عدالت نہیں آئی، مجھے لارجر بنچ کے سامنے کیس میں فریق بنایا جائے۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • سارہ قتل کیس، عدالت کا ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم

    سارہ قتل کیس، عدالت کا ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم

    عدالت میں خود کیس لڑنے کا اعلان، اور آج تین وکلا نے ایاز امیر کیس میں وکالت نامے جمع کروا دیئے

    تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں ایاز امیر کے بیٹے کے ہاتھوں سفاکیت کے ساتھ بیوی کے قتل کیس میں ایاز امیر کو عدالت پیش کر دیا گیا

    ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت پیش کرد یا گیا ایاز امیر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کیا گیا ،ایاز امیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عامر عزیز خان کی عدالت میں پیش کیا گیا ،بشارت اللہ ایڈوکیٹ ، نثار اصغر ، ملک زعفران عدالت کے سامنے پیش ہوئے، پولیس کی جانب سے ایاز امیر کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی گئی

    ایاز امیر کی جانب سے ایڈووکیٹ بشارت اللہ، نثار اصغر اور ملک زعفران نے وکالت نامے جمع کرا دیے ،وکیل بشارت اللہ نے کہا کہ ایاز امیر کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، ایاز امیر کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں، انگلینڈ سے اگر بندہ آرہا ہے تو وہ اس کیس کا گواہ نہیں ہو سکتا، پولیس ایک بٹن دبائے تو سی ڈی آر نکل آتی ہے والد کا بیٹے سے رابطہ وقوعہ کے بعد ہوا ہے،باپ کا بیٹے سے رابطہ ہو جائے تو کیا دفعہ 109 لگتی ہے پھر تو پولیس جس جس سے رابطہ ہوا انکو ملزم بنا دینگے،پولیس خود کہہ رہی ہے بیگناہ ہوئے تو ڈسچارج کر دینگے تو اتنے دن گرفتار رکھا جگ ہنسائی ہوئی اسکا ذمہ دار کون ہے، ابھی پولیس ثبوت اکٹھی کر رہی ہے اور ایاز امیر کو گرفتار کر لیا ہے،مقتولہ کے والدین کا میرے خلاف کوئی بیان بھی نہیں ہے،

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ پولیس کے پاس ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ہم تفتیش سے نہیں بھاگ رہے، پولیس نے وارنٹ لیکر گرفتار کر لیا، کوئی قانون بتا دیں جس کے تحت ایاز امیر کو اس مقدمہ میں نامزد کیا جا سکتا ہو،سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ تفتیش کے دوران ایسا لگا کہ ایاز امیر بے گناہ ہیں تو خود ڈسچارج کر دینگے،
    ایاز امیر کو مقدمہ میں نامزد بھی مقتولہ کی فیملی نے کیا ہے، جج نے استفسار کیا کہ ایاز امیر کو کس نے مقدمہ میں نامزد کیا، وہ کدھر ہیں؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ وہ مقتولہ کے چچا ہیں اور پاکستان ہی میں ہیں، جج نے استفسار کیا کہ آپکے پاس بادی النظر میں ایاز امیر کے خلاف ثبوت کیا ہے؟ سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ مقتولہ کے قتل کے بعد مرکزی ملزم کا اپنے والد سے رابطہ ہوا تھا،

    ایاز امیر کے وکیل نے کہا کہ پولیس بندہ گرفتار کر کے ثبوت ڈھونڈ رہی ہے،ہماری استدعا ہے ایاز امیر کو مقدمہ سے ڈسچارج کرے،سرکاری وکیل نے کہا کہ واٹس ایپ کال کا سی ڈی آر نہیں آتا، موبائیل فون کو فرانزک کے لیے بھیج دیا ہے، ایاز امیر کے وکیل نے کہا کہ جب ثبوت آجائیں تو پھر وارنٹ لیکر آجاو اور گرفتار کر لیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ
    ہم نے ثبوت بنانے ہوتے تو بنا دیتے ایمانداری سے کام کر رہے ہیں، وکیل بشارت اللہ نے کہا کہ آپکی ایمانداری یہ ہے کہ میں چار دن سے ہتھکڑی میں کھڑا ہوں،

    عدالت کی جانب سے ایاز امیر کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا گیا، جج نے حکم دیا کہ پولیس ریکارڈ میں ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے،عدالت نے ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایاز امیر کا عدالت نے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا، ایاز امیر کو پولیس نے تین روز قبل گرفتار کیا ہے،

     سارہ انعام کے والدین پاکستان پہنچ گئ

    شاہنواز امیر کے گھر تحقیقات کے دوران کلاشنکوف برآمد 

     ملزم شاہنواز امیر کا تین روزہ جبکہ اسکے والد ایاز امیر کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ 

     ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز سے متعلق نئے انکشافات 

     ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    اسلام آباد پولیس نے بہو کے قتل کیس میں معروف صحافی ایاز امیر کو گرفتار کرلیا

    واضح رہے کہ تین روز قبل اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد کے فام ہاؤس میں ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کر دیا تھا

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو گزشتہ روز ہی دبئی سے واپس آئی، شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی ہ مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    سارہ قتل کیس،صحت کے مسائل سے دوچار ہوں، ایاز امیر کی اہلیہ عدالت پہنچ گئی

    سارہ قتل کیس، ملزم شاہنواز نے سارہ کا موبائل فون توڑ دیا

  • شہر یار آفریدی نے عدالت میں معافی مانگ لی

    شہر یار آفریدی نے عدالت میں معافی مانگ لی

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا معاملہ، کیس کی سماعت ہوئی

    شہریار آفریدی ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہریار آفریدی آپ بہت لیٹ آئے ہیں،شہر یار آفریدی نے کہا کہ میں کوہاٹ سے آرہا تھا اس لیے تاخیر ہو گئی معافی چاہتا ہو، وکیل انتظار پنجوتھا نے عدالت میں کہا کہ کیا اس کیس میں درخواست ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ ہوا ہے،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ملزمان کی حاضریاں پوری کر رہے ہیں،جج نے وکیل انتظار پنجوتھا سے استفسار کیا کہ اس کیس میں آپ کونسل ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ جی میں شیخ رشید احمد و دیگر کا وکیل ہوں،

    جج نے وکیل فیصر جدون سے استفسار کیا کہ کیا آپ مزید بحث کرینگے یا کچھ کہنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ صبح بابر اعوان صاحب بحث کر چکے ہیں ہم مزید نہیں کرینگے،وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان لاہور میں ہونیکی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے،مراد سعید اور ملک ظہیر کی حاضری تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا ہے

    فردوس عاشق اعوان کے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ کے ساتھ ہتک آمیز رویے کی وجہ سامنے آگئی ، حکومتی وزراء بھی حمایت میں بول اٹھے

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    @MumtaazAwan

     قادر مندوخیل نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف مقدمے کیلئے درخواست دے دی

    قادر مندوخیل نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف اہم قدم اٹھا لیا

    فردوس عاشق اعوان کا ایم این اے قادر مندوخیل کو تھپڑ مارنے کا معاملہ

    فردوس عاشق اعوان معافی مانگیں، 58 ارب ہرجانہ دیں، نوٹس

  • اسلام آباد سمیت شمالی علاقہ جات میں بارش متوقع

    اسلام آباد سمیت شمالی علاقہ جات میں بارش متوقع

    این ایف آر سی سی کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں بیشتر بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : این ایف آر سی سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہا۔ تاہم بالائی پنجاب اور کشمیر میں آندھی/گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ آج کا ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی میں 41، بھکر، سکھر اور رحیم یار خان 40 سینٹی گریڈ رہا –

    این ایف آر سی سی کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے جبکہ بالائی پنجاب، کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں آندھی/آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

    انفراسٹرکچر اور پرائیویٹ املاک کے نقصانات:

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کل 13074 کلومیٹر سڑکیں اور 392 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع:

    سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔
    بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلمگسی، بولان، صحبت پور اور لیسبیلہ شامل ہیں کے پی میں دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔

    فوج کی امدادی کوششیں

    ایوی ایشن کی کوششیں:

    اب تک 619 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1 اڑان بھری گئی اور 2 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔ مزید یہ کہ اب تک 4659 پھنسے ہوئے افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا جا چکا ہے۔

    ریلیف کیمپس/ امدادی اشیاء جمع کرنے کے پوائنٹس:

    اب تک ملک بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں 147 ریلیف کیمپ اور 237 ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

    عطیات:

    اب تک 10309.0 ٹن کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ 1746.9 ٹن غذائی اشیاء اور 10184230 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں۔ تاہم اب تک 10175.6 ٹن خوراک 1732.4 ٹن غذائی اشیاء اور 10118930 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    میڈیکل ریلیف:

    اب تک 300 سے زائد میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں ملک بھر میں 566,089 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا ہے اور 3-5 دن کی مفت ادویات فراہم کی گئی ہیں۔

  • پی ٹی آئی کے اجتماعات میں حاضرین کی تعداد وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے شیئر کردی

    پی ٹی آئی کے اجتماعات میں حاضرین کی تعداد وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے شیئر کردی

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے رحیم یار خان جلسے کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے پی ٹی آئی کے اجتماعات میں شریک کارکنوں کی تعداد ٹوئٹر پر پوسٹ کردی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھاکہ 24 ستمبر کو رحیم یار خان جلسے میں تحریک شروع کریں گے اور گھروں سے نکلنے کی کال دیں گے۔

     

     

    دوسری طرف وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کے رحیم یار خان جلسے کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے پی ٹی آئی کے اجتماعات میں کارکنوں کی تعداد ٹوئٹر پر پوسٹ کردی اور کہاکہ عمران خان کہتے تھے ہفتے کی تیاری اورتعداد دیکھ کر اسلام آباد کی کال دوں گا۔انہوں نے ملک بھر میں اجتماعات میں کارکنوں کی تعداد پر طنز کیا کہ ’اپنی تیاری کا حال آج کے اعداد شمار کی زبانی ملاحظہ فرمائیں‘۔

     

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ 25 مئی کے بعد اگر آپ کی ٹائیگر فورس کی یہی تیاری ہے تو مجھے افسوس ہماری تیاری تو بیکار چلی جائے گی، آپ کی مقبولیت بھی ایک ڈھکوسلا ہے۔وزیر داخلہ کی جاری فہرست کے مطابق اسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ 250 افراد نکلے جبکہ کراچی اور لاہور میں شرکا کی زیادہ سے زیادہ تعداد 300 تھی۔

    فیصل آباد میں 500، پشاور میں 150 کے قریب لوگ تھے، راولپنڈی میں شرکا کی زیادہ سے زیادہ تعداد 25 تھی، گوجرانوالا میں 300 اور جہلم میں 150 لوگ تھے۔

  • ابھی تک جو امداد ملی وہ متاثرہ آبادی کے لیے ناکافی ہے ،وزیراعظم

    ابھی تک جو امداد ملی وہ متاثرہ آبادی کے لیے ناکافی ہے ،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امیر ممالک سیلاب کی آفت سے بچنے میں پاکستان کی مدد کریں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوم برگ کو انٹرویومیں کہا کہ سیلاب سے خواتین اور بچوں سمیت کروڑوں لوگ متاثر ہوئے بارشوں اور سیلاب سے ایک ہزار 500سے زائد افراد جاں بحق ہوئے لاکھوں گھر تباہ ہوئے ،لوگ فصلوں اور چھت سے محروم ہوگئے پاکستان کو سیلابی صورتحال سے نکلنے میں بیرونی مدد کی ضرورت ہے پاکستان میں سیلابی پانی تہہ تک نہیں پہنچا جس کے باعث مختلف قسم کےامراض نے جنم لیا،سیلاب سے متاثرین جلد کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں سیلاب کے باعث تباہ کار یوں نے پاکستان کو پیچھے دھکیل دیا،ہمیں متاثرین کو واپس معمول کی زندگی میں لانے کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا لوگ بے روزگار ہوئے،مواصلاتی نظام تباہ ہوا،فصلیں ختم اور قصبے ،دیہات زیرآب ہیں،سیلاب متاثرینکی امداد کے لیے پاکستان کی نظر یں بیرونی امداد پر ہیں،سیلابی صورتحال میں صنعت کیسے بحال ہوگی ؟ جہاں پانی کھڑاہو وہاں فصل کیسے کاشت ہوگی ؟یورپ گیس فر اہم کریں ،سردیوں میں متاثرین کو مشکلات زیادہ ہوں گی گیس کی فراہمی پر روسی صدر ولادی میر پیوتن سے بات ہوئی موسمیاتی تبدیلی کے باعث غیر معمولی بارشیں ہوئیں ،سیلاب آیا اور ہم نے بہت کچھ کھویا

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر حل طلب معاملہ ہے ،پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے سیلاب کے باعث 30 لاکھ بچوں کے متاثرہونے کا خدشہ ہے یواین سیکریٹری جنرل نے پاکستان میں سیلاب سے تباہ کاری دیکھی اور اظہار افسوس کیا،سیلاب کے باعث 30ارب ڈالر کا ابتدائی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا امریکی صدر نے سیلاب متاثرین کے لیے اقوام عالم سے پاکستان کی مدد کی اپیل کی ہمیں ابھی تک جو امداد ملی وہ متاثرہ آبادی کے لیے ناکافی ہے

    علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے امیر ممالک سے قرضوں کی ادائیگی میں فوری ریلیف کی اپیل کی اور کہا کہ اگلے 2ماہ میں پاکستان پر قرضوں کی ذمہ داریاں ہیں سیلاب کی آفت سے بچنے میں ہماری مدد کریں، سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا ہے،ہم نے یورپی اور دیگر رہنماؤں سے بات کی ہے کہ وہ پیرس کلب میں ہماری مدد کریں،حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ’انتہائی سخت‘ معاہدے پر دستخط کیے سخت معاہدے میں پٹرولیم اور بجلی پر ٹیکس شامل ہیں ریلیف کے بغیر دنیا ہم سے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی توقع کیسے کر سکتی ہے؟یہ ناممکن ہے

    وزیر اعظم شہباز شریف کی امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ان کی طرف سے عالمی رہنماوں کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر مختصر ملاقات ہوئی، اس ملاقات کے بعد وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر بتایا کہ وزیراعظم اور امریکی صدر جو بائیڈ ن کے درمیان ہو نے والی مختصر بات چیت مثبت اور تعمیری تھی پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ٹھوس بنیادوں پر استوارہو رہے ہیں ۔وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بیلجئیم کے وزیرِ اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے ملاقات کی ہے وزیراعظم شہباز شریف اور جاپان کے وزیراعظم فومیو کشیدا کے درمیان بھی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی ہے ،وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جمہوریہ آسٹریا کے فیڈرل چانسلر کارل نہامر،آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹینا جارجیوا ،ڈ بل گیٹس فائونڈیشن کے شریک چیئرمین بل گیٹس، امریکا کے خصوصی نمائندہ برائے ماحولیاتی تبدیلی جان کیری، ترک صدر رجب طیب اردوان، فرانس کے صدر، ایرانی صدر و دیگر سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے سیلابی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں سیلابی صورتحال ،ادویات کی کمی،بچوں کی خوراک سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا ،پاکستان میں سیلاب کے باعث ادویات کی ضرورت ہے ،سردیوں کی آمد ہے ، متاثرین کو کمبل ،گرم کپڑوں اور چادروں کی ضرورت ہے،معلوم ہوا ہے کہ پیناڈول اور پیراسٹیامول کی کمی ہے ،سیلاب متاثرین کے بچوں کو دودھ، خوراک اور دیگر اشیا کی ضرورت ہے ،

    وزیرخارجہ بلاول  کی میٹا کے عالمی امور کے صدر نک کلیگ سے ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    حکومت پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کا سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    وزیراعظم شہبازشریف سے امریکی نمائندہ خصوصی جان کیری کی ملاقات ہوئی ہے

    پوری دنیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،وزیر اعظم

  • بانی متحدہ کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    بانی متحدہ کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی متحدہ کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی درخواست پر 12 اکتوبر کے لیے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے،

    پاکستانی ہائی کمشن نے بانی متحدہ کو وکیل کرنے کے لیے وکالت نامہ کی تصدیق سے انکار کر دیا، ایم کیو ایم کی درخواست پر وکالت نامہ کی تصدیق کے معاملے میں بھی فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے، عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور چیئرمین نادرا کو آئندہ سماعت کے لیے مجاز افسر مقرر کرنے کا حکم دے دیا، دوران سماعت وکیل نے عدالت میں کہا کہ کیس میں وکیل کرنے کے لیے پاور آف اٹارنی کی تصدیق پاکستانی ہائی کمشن نہیں کر رہا ، ایم کیو ایم کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی

    کرونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا،شہری عدالت پہنچ گیا

    کورونا ویکسین لگنے سے 500 کے قریب بھارتیوں کی حالت بگڑ گئی

    ایٹمی دھماکوں کا سہرا نواز شریف نہیں بلکہ کس کو جاتا ہے؟ شیخ رشید کے انکشاف سے سب حیران