Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی تنزلی اور ناکامی کی وجوہات پر طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، اور اس میں مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز کو الزام دیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ابتداء 1980 کی دہائی سے ہوئی تھی، جب پی آئی اے کی کارکردگی میں کمی آئی اور اس کی کامیابی کے دن ختم ہوئے۔ پی آئی اے کی ناکامی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر پیشہ ورانہ انتظامیہ شامل ہیں۔

    پی آئی اے کی بدحالی کا آغاز پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہوا، جب اس ادارے کو سیاسی طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ پی پی پی کے دور حکومت میں پی آئی اے کی انتظامیہ میں اقربا پروری اور بدعنوانی کے واقعات سامنے آئے، جس سے ادارہ مزید کمزور ہو گیا۔ سیاسی اثر و رسوخ نے ایئر لائن کی صلاحیتوں کو متاثر کیا، اور اس کے نتیجے میں ملازمین کی بھرتی اور دیگر اہم فیصلے ذاتی مفادات کے تحت ہونے لگے۔

    پی آئی اے کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز، جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہ ایئرلائنز اپنی خدمات، معیار اور جدید طیاروں کے ساتھ پی آئی اے سے کہیں آگے نکل گئیں۔ یہ ایئرلائنز نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کے لیے ترجیح بن گئیں بلکہ انہوں نے پاکستانی مسافروں کے لیے بھی بہترین خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ ان ایئرلائنز نے اپنے نیٹ ورک، پائیداری اور وقت کی پابندی کے ذریعے پی آئی اے کے مقابلے میں اپنی ساکھ بنائی۔

    پی آئی اے کی سروسز، نیٹ ورک اور وقت کی پابندی میں کمی کا شکار ہوئیں۔ صارفین کو ایسے ایئر لائن کے ساتھ سفر کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا تھا جو نہ صرف غیر مستحکم ہو بلکہ جس کے طیارے بھی پرانے اور غیر محفوظ ہوں؟ وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کے طیاروں کی حالت خراب ہوئی اور اس کی فضائی سروسز نے عالمی معیار کو برقرار رکھنے میں ناکامی کی۔ اس کے نتیجے میں مسافر دیگر ایئرلائنز کو ترجیح دینے لگے۔

    پی آئی اے کی زبوں حالی میں ایک اور سنگین موڑ اس وقت آیا جب پی ٹی آئی دور حکومت میں غلام سرور خان وفاقی وزیر ہوابازی تھے اور انہوں نے کراچی میں پی آئی اے جہاز کے حادثے کے بعد پارلیمنٹ میں پائلٹ کے جعلی لائسنس کے حوالے سے بیان دیا، اس کے بعد پی آئی اے کو شدید نقصان پہنچا۔پی ٹی آئی دور حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں نے نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو مزید بگاڑ دیا بلکہ ایئر لائن کے ادارتی ڈھانچے میں بھی بے ترتیبی پیدا کی۔ ان کے فیصلوں نے ایک طرف جہاں ادارے کی کارکردگی کو متاثر کیا، وہیں دوسری طرف پی آئی اے کی ساکھ اور شہرت بھی مزید خراب ہوئی۔

    اگر پی آئی اے کی موجودہ حالت میں کوئی بہتری لانا ہے تو حکومت کو اس کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ بدعنوانی اور اقربا پروری کی روک تھام اور پیشہ ورانہ معیار کو دوبارہ قائم کرنا ایک لازمی ضرورت ہے تاکہ پی آئی اے ایک مرتبہ پھر اپنی ساکھ بحال کر سکے۔

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم

  • پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے معاملے پر رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کی آڈیو لیک ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق علی محمد خان نے رابطہ کرنے پر آڈیو اپنی ہونے کی تصدیق کی ہے۔لیک آڈیو میں علی محمد خان کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی پارٹی ہے، احتجاج کا اعلان علیمہ خان کے بجائے بیرسٹر گوہر کو کرنا چاہیے تھا۔ عمران خان نے تو کہا کہ تھا ہماری پارٹی میں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں ہے، علیمہ خان نے خود کیوں احتجاج کی کال دی؟ واضح رہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں رہنماؤں نے عمران خان کے حکم پر سنگجانی جانے کے بجائے ڈی چوک جانے پر سوالات اٹھائے۔ علی محمد خان کے مطابق میں نے بانی چیئرمین سے بھی شکایت کی کہ اعلانات پارٹی کی طرف سے ہونے چاہئیں اور انہوں نے بھی کہا کہ آئندہ کال پارٹی لیڈر شپ دے گی۔بانی چیئرمین نے ڈی چوک آنے کا کہا ہی نہیں تھا، بانی چیئرمین نے صرف اسلام آباد آنےکا کہا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں کارکنان کی آمد کے بعد جگہ بتائی جائےگی، جب بانی چیئرمین نے سنگجانی کا کہا تھا تو پھر کس کے کہنے پر ڈی چوک گئے؟علی محمد خان کے مطابق بانی چیئرمین نے بیرسٹر گوہر، فیصل چوہدری اور دیگر کے سامنےکہا تھا۔ ہمارا مقصد احتجاج کے ذریعے مذاکرات کرنا تھا۔ سندھ اور پنجاب میں الگ الگ احتجاج کرنے کی بھی بانی چیئرمین نے مخالفت کی تھی۔ بانی چیئرمین نے سنگجانی میں بیٹھنےکا کہا تھا اور مذاکرات کرنےکا بھی حکم دیا تھا۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی احتجاج میں شمولیت کا بھی بانی چیئرمین کو نہیں پتا تھا۔ بیرسٹر گوہر نے بانی چیئرمین کو بتایا کہ بشریٰ بی بی احتجاج میں آئی ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل کو سنگجانی میں بیٹھنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی سنگجانی پر متفق ہوگئے تھے۔ جب بانی چیئرمین نے سنگجانی بیٹھنےکا کہا تو پھر آگے سب کیوں گئے؟علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے لیڈر کے حکم پر عمل کرنا چاہیے تھا، ہمیں سنگجانی میں رکنا چاہیے تھا۔ بشریٰ بی بی سمیت کسی کے پاس حق نہیں ہے کہ بانی چیئرمین کےفیصلے کے اوپر فیصلہ دے۔ بیرسٹر سیف نے جب بانی چیئرمین کا پیغام پہنچایا تو اس پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

    شہید کیپٹن ذوہیب ،شہید سپاہی افتخار کی نماز جنازہ ادا، وزیر اعظم، اعلی عسکری قیادت شریک

    صرف200 کے عوض پاکستانی جاسوس بننے والا گرفتار ،بھارتی مضحکہ خیز دعویٰ

    بچی سے زیادتی کی کوشش، مجرم کو 12 سال قید

  • شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ مسلح افغان شہریوں اور شرپسند عناصر کی قیادت کرنے والا مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عطاتارڑ نے بتایا کہ مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، وہ نہ صرف اس احتجاج میں شریک تھے بلکہ انہوں نے تربیت یافتہ جھتے بھیجے تھے جن کو مظاہرے کے دوران لاشیں گرانے کی احکامات دیئے گئے تھے۔یہ کس طرح کی سیاست ہے، مراد سعید یہ کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں، انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، ریڈ زون میں جانے کا مقصد ریاستی رٹ کو ختم کرنا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلحہ انتشاریوں کے پاس تھا، بین الاقوامی میڈیا پر بھی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فائرنگ کی ایک ویڈیو نہیں آئی، لاشوں کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، پمز اور پولی کلینک ہسپتال نے اپنی پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے ہلاکت نہیں ہوئی۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ اگر فائرنگ کی گئی تو وہ احتجاجی مظاہرین میں سے کی گئی، کرم میں کہرام مچا ہوا ہے مگر تمام تر توجہ سیاست کے اوپر ہے، اگر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا تو پھر موقعے سے بھاگے کیوں؟ مظاہروں کی وجہ سے ملکی معیشت کو یومیہ 192 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے یہ کال مسترد کی اور ان کے پاس آخر میں تقریباً 2 ہزار لوگ رہ گئے، خیبرپختونخوا کی عوام تعلیم اور صحت مانگتے ہیں، وہاں کی عوام انتشار کی سیاست نہیں چاہتے۔ ان کو اصل مایوسی سیاسی طور پر لاشیں گرانے میں ناکامی پر ہورہی ہے، ان کے پاس براہ راست فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔عطاتارڑ نے کہا کہ مراد سعید اس سازش میں شامل تھے، جتنے لوگ فرنٹ لائن سے پکڑے گئے ایک سازش کے تحت لائے گئے تھے، سیاسی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ چلے گا نہیں، یہ ایک غیر قانونی پرتشدد احتجاج تھا، اس میں غیر قانونی طور پر اسلحہ لایا گیا تھا اور بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا چینلز پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ بنایا جارہا ہے ،پاکستانی عوام کے سامنے تمام تر حقائق رکھنا ضروری ہیں۔کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مظاہروں میں تربیت یافتہ جرائم پیشہ اور افغانی موجود تھے، تمام لوگ اسلحہ بخوبی چلانا جانتے تھے لیکن اس دفعہ کے احتجاج میں آخری کال کے نام سے سنسنی پھیلائی گئی۔ یہ سارے احتجاج غیر ملکی مہمان کی آمد کے موقع پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں، ریاست گھٹنے نہیں ٹیکتی، ریاست کا کام رٹ کو بحال کرنا اور امن و امان، شہریوں کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔عطا تارڑ نے کہا ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس دی تھی کہ فائنل کال میں کوشش کی جائے گی کہ خون بہایا جائے اور لاشیں گرائی جائیں، ٹیکس پیئر کے پیسوں سے اگر کسی بھی صوبائی حکومت کو وسائل دیئے جاتے ہیں تو اس کامقصد غیر قانونی احتجاج پر کڑوڑوں روپے خرچ کرنا نہیں ہوتا۔اس موقع پر سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کا کہنا تھا کہ ان سے کہا درخواست دیں کہ کہاں جلسہ کرنا ہے لیکن نہیں دی، غیرملکی وفد کی آمد پر ہمیں سیکیورٹی پلان تشکیل دینا پڑا، سیکیورٹی اداروں نے بہت ہمت دکھائی اور صابر رہے، انہوں نے کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا، پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے کارکنان نے ہر قسم کا ہتھیار استعمال کیا اور تشدد کیا، املاک کو نقصان پہنچایا،فوج کو صرف ریڈ زون میں تعینات کیا گیا تھا۔پریس کانفرنس کے دوران احتجاج سے حراست میں لیے گئے ملزمان کی ویڈیو اور ان کے اعترافی بیان بھی دکھائے گئے۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران بلا اشتعال فائرنگ کے ثبوت دکھائیں گئے ہیں، کسی ایک اہلکار کی جانب سے فائرنگ کا ثبوت نہیں، اموات کا جھوٹا پراپیگنڈا اپنی موت مرے گا، اب خیبرپختونخوا کی عوام کی خدمت کرنے کا موقع ہے، احتجاج سے گرفتار ملزمان نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی رہنما ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیاست دان یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا ایکشن ہو جس سے لوگوں کے مینڈیٹ کی توہین ہو، ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے فیک خبروں کو اچھی طرح بے نقاب کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب جھوٹ ہر طرف سے آئے گا تو ہمارے پاس ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ایک ٹاس فورس بنائی جاتے اور اس کے تحت جو جھوٹا الزام لگائے اس کو اسے ثابت کرنے کے لیے بلایا جائے، ریاست کمزور نہیں ہوتی، وہ صرف اپنے شہریوں کا خیال کرتی ہیں۔

    سابق ایم این اے علی حسن گیلانی حادثے میں جاں بحق

    گنڈا پور کا امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا دعوی

    مریم نواز نےسندھی ثقافت کی تعریف کر دی

  • فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    وزارتِ داخلہ کی جناب سے بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا، پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اورغیرملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پرآئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی۔ منتشرکرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔پولیس اور رینجرزنے اس پرتشدد ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا۔ مظاہرین کےعلاقے سے فرارکے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے۔ پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی۔ من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے غیرملکی میڈیا کے بعض عناصربھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں .اعلامیے کے مطابق پولیس آفیشلز اورکمشنر اسلام آباد نے باربار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے۔وزارتِ داخلہ نے اعلامیے میں کہا کہ اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا۔ پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں۔جیل وینزکو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سیکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔ ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے۔پاکستان بشمول خیبر پختونخوا کے قابل فخرعوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں، پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے ساتھ یکجا کھڑی ہے۔

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

  • پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی پروازوں سے پابندی اٹھائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزارت ہوا بازی، سی اے اے حکام اور پی آئی اے انتظامیہ کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی اور اسے مالی طور پر بھی فائدہ ہوگا، یہ پاکستان کی کامیاب پالیسیوں کا مظہر ہے،یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کیلئے ہوائی سفر میں آسانی پیدا ہوگی۔

    دوسری جانب پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندی ختم ہونے کے بعد پی آئی اے سب سے پہلے پیرس کیلئے پروازیں چلائے گی،پیرس کیلئے فلائٹ آپریشن چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا،برطانیہ کیلئے پروازوں پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ برطانوی حکام کریں گے، اب برطانوی پابندی کے بھی جلد خاتمہ کی امید ہے

    واضح رہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی اٹھا لی ہے،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم کر دی، ایئر بلیو لمیٹڈ، کو بھی تھرڈ کنٹری آپریٹر کی اجازت مل گئی،یہ کامیابی وزارتِ ہوا بازی کی مکمل توجہ کے باعث ممکن ہوئی،آج ایک تاریخی دن ہے،وزارت ہوابازی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا،بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے معیار کے مطابق حفاظتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا،

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

  • پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں سے زبردستی نعرے لگوانے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہیں، جس پر سیاسی اور عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد میں اپنے احتجاج کے دوران پولیس کے جوانوں سے "عمران خان زندہ باد” جیسے نعرے لگوائے۔ پی ٹی آئی شرپسندوں نے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا اور ان سے نعرے بھئ لگوائے یہ نعرے پولیس کے اہلکاروں سے نہ صرف زبردستی بلکہ توہین آمیز انداز میں لگوائے گئے تھے۔سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ بعض افراد نے پی ٹی آئی شرپسندوں کے اس اقدام کو بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے لوگوں کی حرکتوں سے مشابہ قرار دیا، جہاں مسلم مخالف نعرے لگانے کے لیے مسلمانوں کو زبردستی دباؤ میں لایا جاتا ہے۔ ایک طبقے نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے اس حرکت کے ذریعے پولیس کو نہ صرف بدنام کیا بلکہ ان کے جذبات کو بھی مجروح کیا۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی رسمی وضاحت سامنے نہیں آئی، لیکن سوشل میڈیا پر شہریوں نے پی ٹی آئی کے اس عمل کو غیر مناسب اور بدتمیزی قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی متشدد جماعت بن چکی ہے اور اسکے کارکن شرپسندوں کے بھیس میں مسلح ہو کر اسلام آباد آئے تھے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسندوں کو گرفتار بھی کیا ہے جنہوں نے دوران تحقیقات انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے پیسے دے کر انہیں بھیجا تھا.ضرورت اس امر کی یے کہ پولیس اہلکاروں سے زبردستی نعرے لگوانے والے شرپسندوں کے خلاف کڑی کاروائی کی جائے ۔ ایسے افراد کے لئے کسی قسم کی کوئی معافی نہیں ہونی چاہئے.

  • سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 اکتوبر سے 29 نومبر تک نمٹائے گئے مقدمات کی رپورٹ جاری کر دی۔

    اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک ماہ میں چار ہزار 372 مقدمات نمٹا دیئے، ایک ماہ کے دوران 1853 نئے مقدمات دائر ہوئے۔سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس اور ساتھی ججز نے انتھک کوشش کی جس سے زیر التوا مقدمات نمٹانے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل ریفارمز چیف جسٹس کے ایجنڈے میں ترجیح پر ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد کیس پینڈنگ پر ہیں جن کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے.

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

  • عمر ایوب کی فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے،عرفان صدیقی

    عمر ایوب کی فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے،عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کی جانب سے افواج پاکستان پر الزام تراشی کی شدید مذمت کی ہے۔

    عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ "فائنل کال کی شرمناک پسپائی کے بعد، عمر ایوب نے اپنے فسطائی حربوں پر غور کرنے کے بجائے افواج پاکستان میں تفرقہ ڈالنے اور بغاوت پر اُکسانے کی نہایت مذموم کوشش کی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاست کے لبادے میں ریاست پر حملہ کرنے والے لشکروں کی مزاحمت کے لئے آئین اور قانون فوج سمیت تمام سیکورٹی ایجنسیز کو واضح کردار دیتے ہیں۔ہ پی ٹی آئی کی حالیہ یلغار کے دوران نہ صرف فوج بلکہ کسی بھی سیکورٹی ایجنسی نے گولی نہیں چلائی اور نہ ہی گولی چلانے کا کوئی حکم دیا گیا۔ عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ "کھلے جھوٹ اور فرضی لاشوں کی خیالی کہانیاں گھڑنے کے بعد فوج پر الزام تراشی کی کوشش قابل مذمت ہے۔”

    عرفان صدیقی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ "کیا پی ٹی آئی واقعی ایک سیاسی جماعت ہے؟” ان کے مطابق، اگر پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، تو اس کے رہنماؤں کو ریاستی اداروں پر اس طرح کی بے بنیاد اور من گھڑت الزامات سے گریز کرنا چاہئے۔عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیز ریاست کے اندرونی مسائل میں مداخلت کے بجائے اپنے آئینی کردار کی بجا آوری کر رہی ہیں، اور ان پر بے بنیاد الزامات لگانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ریاستی استحکام کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • غیر ملکی شہریوں کی احتجاجوں میں شرکت غیر قانونی ہے،ترجمان دفترخارجہ

    غیر ملکی شہریوں کی احتجاجوں میں شرکت غیر قانونی ہے،ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی پاکستانی سیاسی احتجاجوں میں شرکت مکمل غیر قانونی ہے، تمام غیر ملکیوں سے کہیں گے کہ پاکستان کے سیاسی معاملات سے دور رہیں، گرفتار افغان شہریوں کی تفصیلات وزارت داخلہ جاری کرے گی

    اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ بیلاروس کے صدر کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی یادداشتوں اور معاہدوں پردستخط ہوئے،عالمی برادری اسرائیل کو جارحیت اور نسل کشی پر جواب دہ ٹھہرائے۔ پاکستان لبنان میں حال میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ پاکستان فلسطین میں غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار 2 سے 3 دسمبر کو ایران کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اپنے خطاب میں ای سی او چارٹر کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ روڈ اور ریل راہداریوں کی ترقی کے ذریعے ای سی او خطے میں زیادہ سے زیادہ رابطے کے امکانات کو بھی اجاگر کریں گے۔ پاکستان ای سی او کے چارٹر پر مضبوطی سے پر عزم ہے جس کا مقصد مواصلات، تجارت، ثقافت اور رابطوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے موثر علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیر اعظم ای سی او کلین انرجی سنٹر کے چارٹر پر دستخط کریں گے اور مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ماسکو کے دورے پر ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارے سفارتکاروں کا کام افغان حکومت سے رابطے میں رہنا ہے، افغانستان میں پاکستانی ناظم الامورکی افغان وزیر دفاع سے ملاقات کے امور میڈیا سے شیئر نہیں کریں گے، حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، پاکستان اور چین کا ٹی ٹی پی سے انگیجمنٹ سے متعلق کوئی ایجنڈا نہیں ہے،یو اے ای کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد کی فی الحال تصدیق نہیں کی جاسکتی، پاکستانی شہریوں پر یو اے ای نے ویزے کی پابندی عائد نہیں کی،پاکستان یقین رکھتا ہے کہ کھیلوں کو سیاست زدہ نہ کیا جائے، پاکستان آئندہ سال چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کر رہا ہے، امید ہے چیمپئنز ٹرافی کے لیے تمام ممالک شریک ہوں گے

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • اسمبلی میں آج خطاب میں سب بتاؤں گا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    اسمبلی میں آج خطاب میں سب بتاؤں گا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ آج وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب کریں گے اور اس دوران وہ گزشتہ دنوں کی سیاسی صورتحال پر تفصیل سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطاب میں وہ بتائیں گے کہ جو کچھ ہوا، اس کا کیا مقصد تھا اور مستقبل میں ہمیں کس سمت میں آگے بڑھنا ہے۔

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے تعلقات میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں اور جو خبریں ان کے اور بشریٰ بی بی کے درمیان اختلافات کی گردش کر رہی ہیں، وہ محض پروپیگنڈا ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی عمران خان کی رہائی اور سیاسی میدان میں ان کے حق میں جدوجہد کرنا۔ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور وہ ان کا دفاع کرنے کے لیے سیاسی طور پر سرگرم ہیں۔

    قبل ازیں، بشریٰ بی بی کی ترجمان مشال یوسفزئی نے بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے بشریٰ بی بی کے موقف کو واضح کیا۔ مشال یوسفزئی نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے خود کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کے حکم پر انہیں ڈی چوک پہنچنا تھا، تاہم وہاں پارٹی قیادت موجود نہیں تھی، جو کچھ بھی ڈی چوک میں ہوا، اس کا احتساب اور جواب طلبی بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان خود کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ بشریٰ بی بی نہ تو پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کر رہی تھیں اور نہ ہی اس میں شرکت کی تھی۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف