Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع دینے والے 2 مسافروں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بم کی اطلاع پر نجی ائیرلائن کی اسلام آباد سے کراچی آنے والی پرواز روک لی گئی۔ذرائع کے مطابق مسافروں کو طیارے سے آف لوڈ کرکے مکمل سرچنگ کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ 2 مسافروں نےفلائٹ اٹینڈنٹ کو بتایا کہ وہ مذاق کر رہے تھے۔ائیر پورٹ سکیورٹی فورس نے دونوں مسافروں کو آف لوڈ کرکے گرفتار کر لیا۔ذرائع کے مطابق نجی ائیر لائن کی اسلام آباد سے کراچی کی پرواز سوا 3 گھنٹے تاخیر روانہ ہوئی۔گرفتار کیے جانے والے دونوں ملزمان کو بھی اسی جہاز سے سفر کرنا تھا، زیر حراست دونوں افراد کو ان کے تیسرے دوست نے کال کرکے بم کی اطلاع دی تھی،کال کرنے والے ملزم کی تلاش جاری ہے۔پرواز سے ڈپٹی اسپیکر سمیت 8 ارکان پارلیمنٹ اور 150 مسافروں کو کراچی روانہ ہوئے۔

    پاکستان کو 20 سال بعد ورلڈ اسکواش ایونٹ کی میزبانی مل گئی

    کراچی کے صارفین کیلئے بجلی سستی ہو گئی

    مسائل پر خاموش نہیں رہ سکتےحکومت کو معاملات ٹھیک کرنے پڑیں گے،علی خورشیدی

    منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

    ن لیگی امیدواروں کی درخواستیں منظور، اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹریبونلز کو منتقل

  • پاکستان پوسٹ میں وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتے رہے، انکوائری میں انکشاف

    پاکستان پوسٹ میں وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتے رہے، انکوائری میں انکشاف

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری مواصلات گل اصغر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پوسٹ میں 5 ہزار اسامیاں خالی تھیں، جو بھی وزیر آتا تھا، ان خالی اسامیوں پر اپنوں کو نوازتا تھا.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام سے پاکستان پوسٹ پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔چیئرمین اعجاز جاکھرانی کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان پوسٹ کا ڈیجیٹائزیشن اور بزنس پلان اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھجوا دیا ہے۔ منظوری کے بعد پوسٹ آفس میں جدت لانے پر کام شروع ہو جائے گا، پوسٹ آفس کی کمرشل پراپرٹیز کو لیز پر دیا جائے گا، اس سال وفاقی حکومت کو پانچ ارب کما کر دینے کی یقین دہانی کروائی ہے، اس وقت پاکستان پوسٹ کا سالانہ خرچہ 28 ارب روپے ہے، خرچہ پورا کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو 5 ارب روپے کا منافع دیں گے، پوسٹ آفس کی تمام تر ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل کرنے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ وفاقی وزارت کے مواصلات کے ذیلی ادارے پاکستان پوسٹ کو بھی خسارے میں چلنے والے قومی اداروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے، گزشتہ سال وفاقی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان پوسٹ سمیت 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کی منظوری بھی دی تھی، اس سلسلے میں خصوصی ٹربیونل بھی بنایا گیا تھا۔سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خراب معاشی حالات میں پاکستان پوسٹ سفید ہاتھی بن چکا ہے، ترقی پذیر ممالک میں پوسٹ آفس کی کیا صورتحال ہے؟ کمیٹی ممبر حمید حسین نے استفسار کیا کہ ڈاک وقت پر نہیں پہنچ رہی، اس حوالے سے کوئی چیکنگ کا میکانزم ہے؟ جمال شاہ کاکڑ نے تجویز دی کہ ڈیجیٹل دور میں پوسٹ آفس جیسے ادارے کی ضرورت ہی نہیں اسے ختم کردینا چاہیے۔چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ پاکستان پوسٹ کو حکومتی ملکیت میں چلانا ہے یا اسے پرائیویٹ کرنا ہے؟، چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام سے پاکستان پوسٹ پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔کمیٹی میں انسپکٹر جنرل موٹروے پولیس نے قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایکسل لوڈ پر گزشتہ ایک سال میں 4 ارب روپے سے زائد کے جرمانے کیے گئے، شاہراہوں کی مرمت کے لیے ہر سال ایک ارب ڈالرز کی ضرورت ہے، موٹر وے پولیس ٹریفک لائسنس جاری کرتی ہے، ہائی ویز پر جرمانوں کا نظام ڈیجٹلائز کر رہے ہیں۔اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ باہر کے ملکوں میں گاڑیوں کا ہر سال اسموگ ٹیسٹ کیا جاتا ہے، کیا موٹر وے پولیس بھی اسموگ ٹیسٹ کرتی ہے؟ آئی جی موٹر وے نے جواب دیا کہ یہ صوبائی نوعیت کا معاملہ ہے، شاہراؤں پر سیکورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے افراد قوت بڑھانی چاہیے۔

    مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے پر غور

    کراچی:چینی شہریوں پر خودکش حملے کا ایک اور مقدمہ درج

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج ایران جائیں گے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج ایران جائیں گے

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار اقتصادی تعاون تنظیم کے وزراء کی کونسل کے 28ویں اجلاس میں شرکت کے لیے آج ایران روانہ ہوں گے۔ اس اجلاس میں اسحاق ڈار اپنے خطاب کے دوران پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں گے کہ وہ ای سی او کے منشور کے مطابق علاقائی اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

    اجلاس کے دوران، اسحاق ڈار خطے میں اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف اہم موضوعات پر بات کریں گے، جن میں ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی ترقی، ویزا کے نظام میں آسانی اور سرحدی طریقہ کار کو سادہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے ای سی او ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط اور بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں اور معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔

    نائب وزیراعظم اپنے خطاب میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور ان کے خطے کی امن و سلامتی پر اثرات کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کا بھی اعادہ کریں گے۔ نائب وزیراعظم اجلاس کے دوران دیگر وزراء اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے، تاکہ مختلف مسائل پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں اور خطے کے ساتھ معاشی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی اقتصادی ٹیم ایران روانگی کے لیے تیار ہے اور اس اجلاس کے دوران اس کی موجودگی خطے میں اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

  • عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    امریکا میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحتیابی اور رہائی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق اور عدالتی معاون زینب جنجوعہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کیس میں امریکا جانے والے وفد کی مالی معاونت کی سمری پر دستخط کر دیئے ہیں،نمائندہ وزارت خارجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وفد کے ویزوں کی درخواست وزارت خارجہ نے بھیج دی، امید ہے ایک ہفتے تک منظوری ہو جائے گی،ہم ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں، ذاتی وجوہات پر سینیٹر عرفان صدیقی وفد کے ساتھ نہیں جا سکتے، حکومت کی جانب سے سینیٹر بشریٰ وفد کے ساتھ امریکا جائیں گی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق کیس کی سماعت 13 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکا کون کون جائے گا؟رپورٹ عدالت پیش

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

  • سپریم کورٹ، آڈیو لیکس کمیشن،وفاقی وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، آڈیو لیکس کمیشن،وفاقی وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،آڈیوز لیکس کمیشن کیس: وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کردی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت میں کہا کہ عدالت مختصر تاریخ دے دے،سوال یہ ہے حکومت آڈیوز کی انکوائری چاہتی ہے یا نہیں، یہ معاملہ کابینہ میں پیش کیا جانا تھا،اسلام آباد میں امن و عامہ کی صورتحال کی وجہ سے کابینہ میں پیش نہ ہوسکا، وقت دے دیں آڈیو لیکس کا معاملہ آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائیگا، کابینہ کی آڈیوز لیکس پر فیصلہ سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا،وکیل پی ٹی آئی بابر اعوان نے کہا کہ آڈیوز کی قانونی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کو حکومت سے ہدایات لینے دیں، حکومتی ہدایات آنے پر معاملہ کو دیکھیں گے،جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی

    دوسری جانب سُپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے قیدیوں کو یکساں سہولیات دینے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کردی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اس طرح کی درخواستیں سُپریم کورٹ نہ لائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قیدیوں کی سہولیات کا جائزہ لینا سُپریم کورٹ کا کام ہے؟جیل قوانین پر اعتراض ہے تو متعلقہ صوبے یا ہائیکورٹ سے رجوع کریں

    سپریم کورٹ آئینی بینچ ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال مندوخیل نے کیس کی سماعت سےمعذرت کر لی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم دونوں جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہیں، جسٹس امین الدین نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کے ممبر تھے،آئینی بینچ نے کیس دوسرے آئینی بینچ میں لگانے کی ہدایت کردی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سنیارٹی سے ہٹ کر چیف جسٹس کی تعیناتی کی مثالیں موجود ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کمیشن کے دو رکن یہ کیس نہیں سن سکتے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف جوڈیشل کمیشن کو فریق بنایا گیا،

    خیبرپختونخواہ حکومت نے سٹون کرشنگ پر تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی
    علاوہ ازیں سپریم کورٹ: آئینی بنچ میں خیبرپختونخواہ میں سٹون کرشنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، خیبرپختونخواہ حکومت نے سٹون کرشنگ پر تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی،وکیل خیبر پختونخوا کوثر علی شاہ نے کہا کہ ہر ایک سٹون کرشر کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کی گئی ہے، شرائط پر پورا نہ اترنے والے دو سو سے زائد کرشنگ پلانٹس کو بند کیا گیا ہے ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس مقدمہ میں اعتزاز احسن مرکزی وکیل ہیں، اعتزاز احسن خرابی صحت کے باعث آج نہیں آسکے،خیبرپختونخواہ حکومت کی رپورٹ کا جائزہ نہیں لیا، آئینی عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

  • بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی تنزلی اور ناکامی کی وجوہات پر طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، اور اس میں مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز کو الزام دیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ابتداء 1980 کی دہائی سے ہوئی تھی، جب پی آئی اے کی کارکردگی میں کمی آئی اور اس کی کامیابی کے دن ختم ہوئے۔ پی آئی اے کی ناکامی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر پیشہ ورانہ انتظامیہ شامل ہیں۔

    پی آئی اے کی بدحالی کا آغاز پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہوا، جب اس ادارے کو سیاسی طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ پی پی پی کے دور حکومت میں پی آئی اے کی انتظامیہ میں اقربا پروری اور بدعنوانی کے واقعات سامنے آئے، جس سے ادارہ مزید کمزور ہو گیا۔ سیاسی اثر و رسوخ نے ایئر لائن کی صلاحیتوں کو متاثر کیا، اور اس کے نتیجے میں ملازمین کی بھرتی اور دیگر اہم فیصلے ذاتی مفادات کے تحت ہونے لگے۔

    پی آئی اے کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز، جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہ ایئرلائنز اپنی خدمات، معیار اور جدید طیاروں کے ساتھ پی آئی اے سے کہیں آگے نکل گئیں۔ یہ ایئرلائنز نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کے لیے ترجیح بن گئیں بلکہ انہوں نے پاکستانی مسافروں کے لیے بھی بہترین خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ ان ایئرلائنز نے اپنے نیٹ ورک، پائیداری اور وقت کی پابندی کے ذریعے پی آئی اے کے مقابلے میں اپنی ساکھ بنائی۔

    پی آئی اے کی سروسز، نیٹ ورک اور وقت کی پابندی میں کمی کا شکار ہوئیں۔ صارفین کو ایسے ایئر لائن کے ساتھ سفر کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا تھا جو نہ صرف غیر مستحکم ہو بلکہ جس کے طیارے بھی پرانے اور غیر محفوظ ہوں؟ وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کے طیاروں کی حالت خراب ہوئی اور اس کی فضائی سروسز نے عالمی معیار کو برقرار رکھنے میں ناکامی کی۔ اس کے نتیجے میں مسافر دیگر ایئرلائنز کو ترجیح دینے لگے۔

    پی آئی اے کی زبوں حالی میں ایک اور سنگین موڑ اس وقت آیا جب پی ٹی آئی دور حکومت میں غلام سرور خان وفاقی وزیر ہوابازی تھے اور انہوں نے کراچی میں پی آئی اے جہاز کے حادثے کے بعد پارلیمنٹ میں پائلٹ کے جعلی لائسنس کے حوالے سے بیان دیا، اس کے بعد پی آئی اے کو شدید نقصان پہنچا۔پی ٹی آئی دور حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں نے نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو مزید بگاڑ دیا بلکہ ایئر لائن کے ادارتی ڈھانچے میں بھی بے ترتیبی پیدا کی۔ ان کے فیصلوں نے ایک طرف جہاں ادارے کی کارکردگی کو متاثر کیا، وہیں دوسری طرف پی آئی اے کی ساکھ اور شہرت بھی مزید خراب ہوئی۔

    اگر پی آئی اے کی موجودہ حالت میں کوئی بہتری لانا ہے تو حکومت کو اس کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ بدعنوانی اور اقربا پروری کی روک تھام اور پیشہ ورانہ معیار کو دوبارہ قائم کرنا ایک لازمی ضرورت ہے تاکہ پی آئی اے ایک مرتبہ پھر اپنی ساکھ بحال کر سکے۔

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم

  • پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    پی ٹی آئی اسلام آباد احتجاج ، علی محمد خان کی آڈیو لیک

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے معاملے پر رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کی آڈیو لیک ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق علی محمد خان نے رابطہ کرنے پر آڈیو اپنی ہونے کی تصدیق کی ہے۔لیک آڈیو میں علی محمد خان کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی پارٹی ہے، احتجاج کا اعلان علیمہ خان کے بجائے بیرسٹر گوہر کو کرنا چاہیے تھا۔ عمران خان نے تو کہا کہ تھا ہماری پارٹی میں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں ہے، علیمہ خان نے خود کیوں احتجاج کی کال دی؟ واضح رہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں رہنماؤں نے عمران خان کے حکم پر سنگجانی جانے کے بجائے ڈی چوک جانے پر سوالات اٹھائے۔ علی محمد خان کے مطابق میں نے بانی چیئرمین سے بھی شکایت کی کہ اعلانات پارٹی کی طرف سے ہونے چاہئیں اور انہوں نے بھی کہا کہ آئندہ کال پارٹی لیڈر شپ دے گی۔بانی چیئرمین نے ڈی چوک آنے کا کہا ہی نہیں تھا، بانی چیئرمین نے صرف اسلام آباد آنےکا کہا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں کارکنان کی آمد کے بعد جگہ بتائی جائےگی، جب بانی چیئرمین نے سنگجانی کا کہا تھا تو پھر کس کے کہنے پر ڈی چوک گئے؟علی محمد خان کے مطابق بانی چیئرمین نے بیرسٹر گوہر، فیصل چوہدری اور دیگر کے سامنےکہا تھا۔ ہمارا مقصد احتجاج کے ذریعے مذاکرات کرنا تھا۔ سندھ اور پنجاب میں الگ الگ احتجاج کرنے کی بھی بانی چیئرمین نے مخالفت کی تھی۔ بانی چیئرمین نے سنگجانی میں بیٹھنےکا کہا تھا اور مذاکرات کرنےکا بھی حکم دیا تھا۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی احتجاج میں شمولیت کا بھی بانی چیئرمین کو نہیں پتا تھا۔ بیرسٹر گوہر نے بانی چیئرمین کو بتایا کہ بشریٰ بی بی احتجاج میں آئی ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل کو سنگجانی میں بیٹھنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی سنگجانی پر متفق ہوگئے تھے۔ جب بانی چیئرمین نے سنگجانی بیٹھنےکا کہا تو پھر آگے سب کیوں گئے؟علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے لیڈر کے حکم پر عمل کرنا چاہیے تھا، ہمیں سنگجانی میں رکنا چاہیے تھا۔ بشریٰ بی بی سمیت کسی کے پاس حق نہیں ہے کہ بانی چیئرمین کےفیصلے کے اوپر فیصلہ دے۔ بیرسٹر سیف نے جب بانی چیئرمین کا پیغام پہنچایا تو اس پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

    شہید کیپٹن ذوہیب ،شہید سپاہی افتخار کی نماز جنازہ ادا، وزیر اعظم، اعلی عسکری قیادت شریک

    صرف200 کے عوض پاکستانی جاسوس بننے والا گرفتار ،بھارتی مضحکہ خیز دعویٰ

    بچی سے زیادتی کی کوشش، مجرم کو 12 سال قید

  • شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    شرپسند عناصر کا قائد مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ مسلح افغان شہریوں اور شرپسند عناصر کی قیادت کرنے والا مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عطاتارڑ نے بتایا کہ مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہے، وہ نہ صرف اس احتجاج میں شریک تھے بلکہ انہوں نے تربیت یافتہ جھتے بھیجے تھے جن کو مظاہرے کے دوران لاشیں گرانے کی احکامات دیئے گئے تھے۔یہ کس طرح کی سیاست ہے، مراد سعید یہ کام پہلے بھی کرتے رہے ہیں، انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، ریڈ زون میں جانے کا مقصد ریاستی رٹ کو ختم کرنا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلحہ انتشاریوں کے پاس تھا، بین الاقوامی میڈیا پر بھی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فائرنگ کی ایک ویڈیو نہیں آئی، لاشوں کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، پمز اور پولی کلینک ہسپتال نے اپنی پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے ہلاکت نہیں ہوئی۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ اگر فائرنگ کی گئی تو وہ احتجاجی مظاہرین میں سے کی گئی، کرم میں کہرام مچا ہوا ہے مگر تمام تر توجہ سیاست کے اوپر ہے، اگر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا تو پھر موقعے سے بھاگے کیوں؟ مظاہروں کی وجہ سے ملکی معیشت کو یومیہ 192 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے یہ کال مسترد کی اور ان کے پاس آخر میں تقریباً 2 ہزار لوگ رہ گئے، خیبرپختونخوا کی عوام تعلیم اور صحت مانگتے ہیں، وہاں کی عوام انتشار کی سیاست نہیں چاہتے۔ ان کو اصل مایوسی سیاسی طور پر لاشیں گرانے میں ناکامی پر ہورہی ہے، ان کے پاس براہ راست فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔عطاتارڑ نے کہا کہ مراد سعید اس سازش میں شامل تھے، جتنے لوگ فرنٹ لائن سے پکڑے گئے ایک سازش کے تحت لائے گئے تھے، سیاسی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ چلے گا نہیں، یہ ایک غیر قانونی پرتشدد احتجاج تھا، اس میں غیر قانونی طور پر اسلحہ لایا گیا تھا اور بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا چینلز پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹا بیانیہ بنایا جارہا ہے ،پاکستانی عوام کے سامنے تمام تر حقائق رکھنا ضروری ہیں۔کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مظاہروں میں تربیت یافتہ جرائم پیشہ اور افغانی موجود تھے، تمام لوگ اسلحہ بخوبی چلانا جانتے تھے لیکن اس دفعہ کے احتجاج میں آخری کال کے نام سے سنسنی پھیلائی گئی۔ یہ سارے احتجاج غیر ملکی مہمان کی آمد کے موقع پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں، ریاست گھٹنے نہیں ٹیکتی، ریاست کا کام رٹ کو بحال کرنا اور امن و امان، شہریوں کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔عطا تارڑ نے کہا ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس دی تھی کہ فائنل کال میں کوشش کی جائے گی کہ خون بہایا جائے اور لاشیں گرائی جائیں، ٹیکس پیئر کے پیسوں سے اگر کسی بھی صوبائی حکومت کو وسائل دیئے جاتے ہیں تو اس کامقصد غیر قانونی احتجاج پر کڑوڑوں روپے خرچ کرنا نہیں ہوتا۔اس موقع پر سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کا کہنا تھا کہ ان سے کہا درخواست دیں کہ کہاں جلسہ کرنا ہے لیکن نہیں دی، غیرملکی وفد کی آمد پر ہمیں سیکیورٹی پلان تشکیل دینا پڑا، سیکیورٹی اداروں نے بہت ہمت دکھائی اور صابر رہے، انہوں نے کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا، پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے کارکنان نے ہر قسم کا ہتھیار استعمال کیا اور تشدد کیا، املاک کو نقصان پہنچایا،فوج کو صرف ریڈ زون میں تعینات کیا گیا تھا۔پریس کانفرنس کے دوران احتجاج سے حراست میں لیے گئے ملزمان کی ویڈیو اور ان کے اعترافی بیان بھی دکھائے گئے۔عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران بلا اشتعال فائرنگ کے ثبوت دکھائیں گئے ہیں، کسی ایک اہلکار کی جانب سے فائرنگ کا ثبوت نہیں، اموات کا جھوٹا پراپیگنڈا اپنی موت مرے گا، اب خیبرپختونخوا کی عوام کی خدمت کرنے کا موقع ہے، احتجاج سے گرفتار ملزمان نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی رہنما ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیاست دان یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا ایکشن ہو جس سے لوگوں کے مینڈیٹ کی توہین ہو، ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے فیک خبروں کو اچھی طرح بے نقاب کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب جھوٹ ہر طرف سے آئے گا تو ہمارے پاس ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ایک ٹاس فورس بنائی جاتے اور اس کے تحت جو جھوٹا الزام لگائے اس کو اسے ثابت کرنے کے لیے بلایا جائے، ریاست کمزور نہیں ہوتی، وہ صرف اپنے شہریوں کا خیال کرتی ہیں۔

    سابق ایم این اے علی حسن گیلانی حادثے میں جاں بحق

    گنڈا پور کا امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا دعوی

    مریم نواز نےسندھی ثقافت کی تعریف کر دی

  • فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    وزارتِ داخلہ کی جناب سے بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا، پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اورغیرملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پرآئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی۔ منتشرکرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔پولیس اور رینجرزنے اس پرتشدد ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا۔ مظاہرین کےعلاقے سے فرارکے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے۔ پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی۔ من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے غیرملکی میڈیا کے بعض عناصربھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں .اعلامیے کے مطابق پولیس آفیشلز اورکمشنر اسلام آباد نے باربار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے۔وزارتِ داخلہ نے اعلامیے میں کہا کہ اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا۔ پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں۔جیل وینزکو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سیکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔ ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے۔پاکستان بشمول خیبر پختونخوا کے قابل فخرعوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں، پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے ساتھ یکجا کھڑی ہے۔

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

  • پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی پروازوں سے پابندی اٹھائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزارت ہوا بازی، سی اے اے حکام اور پی آئی اے انتظامیہ کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی اور اسے مالی طور پر بھی فائدہ ہوگا، یہ پاکستان کی کامیاب پالیسیوں کا مظہر ہے،یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کیلئے ہوائی سفر میں آسانی پیدا ہوگی۔

    دوسری جانب پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندی ختم ہونے کے بعد پی آئی اے سب سے پہلے پیرس کیلئے پروازیں چلائے گی،پیرس کیلئے فلائٹ آپریشن چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا،برطانیہ کیلئے پروازوں پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ برطانوی حکام کریں گے، اب برطانوی پابندی کے بھی جلد خاتمہ کی امید ہے

    واضح رہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی اٹھا لی ہے،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم کر دی، ایئر بلیو لمیٹڈ، کو بھی تھرڈ کنٹری آپریٹر کی اجازت مل گئی،یہ کامیابی وزارتِ ہوا بازی کی مکمل توجہ کے باعث ممکن ہوئی،آج ایک تاریخی دن ہے،وزارت ہوابازی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا،بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے معیار کے مطابق حفاظتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا،

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب