Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت کردی۔

    لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں پر تشدد واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ کسی پارٹی کے اندرونی معاملات کو زیر بحث نہیں لانا چاہتا، آج کے حالات 8 فروری کے الیکشن کی وجہ سے ہیں، حالات میں شدت پیدا ہوئی، ہم نے ہمیشہ اعتدال پر مبنی سیاست متعارف کروائی ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو انتخابی عمل سے لاتعلق ہونا ہوگا، تب ہی ملک میں امن ہوگا، اگر کوئی شخص گھر سے باہر نہیں نکلا تب بھی وہ گھر میں اضطراب کا شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ہونی چاہیے، پاکستان میں خون ریزی کی سیاست نہیں چل سکتی، حقائق پر مبنی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، طاقتور حلقوں نے اگر سنجیدگی کا مظاہرہ نا کیا تو ملکی حالات کنٹرول سے باہر ہوں گے۔ 26 ویں ترمیم جس پر حکمران خوش تھے کہ 9 گھنٹوں میں معاملہ ٹھیک ہوگیا، اس معاملے کو ایک ماہ تک لے گئے تب اتنا بڑا معرکہ سر ہوا جب کہ اس میں پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔سربراہ جے یو آئی نے بتایا کہ اگر 26 ویں ترمیم ہوسکتی ہے تو پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیاں مذاکرات میں کردار ادا کرسکتے ہیں، بلوچستان کے حالات یہ ہیں کہ وہاں کوئی حکومت ہے ہی نہیں۔ اپنے کارکنان کو تشدد سے پاک صحیح راستہ دکھانا سیاسی جماعتوں کا فرض ہے، مدارس بل پر اگر صدر مملکت نے دستخط نہیں کیے تو پھر کانفرنس بلائیں گے۔

    ایف آئی اے چھاپہ، مینیجر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    جلا ہوا پی ٹی آئی کا کنٹینر لوگ دیکھنے پہنچ گئے

    3 دن میں اسلام آباد آنے والے 3 منٹ میں بھاگ گئے، ناصر حسین شاہ

  • 3 دن میں اسلام آباد آنے والے 3 منٹ میں بھاگ گئے، ناصر حسین شاہ

    3 دن میں اسلام آباد آنے والے 3 منٹ میں بھاگ گئے، ناصر حسین شاہ

    سندھ کے سینئر وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ مظاہرین 3 دن میں اسلام آباد پہنچے اور 3 منٹ میں بھاگ گئے۔

    سکھر پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ3 سے 10 منٹ میں ریڈ زون کو خالی کرا لیا گیا، جو رہنما اپنے لیڈر کو چھڑانے آئے تھے، کارکنان کو گرفتار کرا کے بھاگ گئے، انہیں صرف عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے، کسی دوسری صورت میں نہیں۔ جو این آر او مانگ رہے تھے ایسا کچھ نہیں ہو گا، اگر یہ پی ٹی آئی پُرامن بنے گی تب ان کے مسائل حل ہو سکیں گے، حکومت نے انہیں احتجاج کے لیے جگہیں بھی دینے کو کہا مگر میں نہ مانوں والی بات ہے۔تاثر دے رہے تھے کہ بانی جیل سے وزیرِ اعظم ہاؤس جا کر حلف لیں گے، ایسا کچھ نہیں ہوا، بیرونِ ملک کے صدر ہمارے ملک میں موجود ہیں جو انویسٹمنٹ لا رہے ہیں۔ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ملکی حالات سب کے سامنے ہیں، انتشاری ٹولے کا کام صرف انتشار پھیلانا ہے، محسن نقوی کو خراجِ تحسین پیش کروں گا کہ تحمل سے اہم مسئلے کو حل کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گمراہ نہ کریں پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے، ذاتی طور پر گورنر راج کے حق میں نہیں، کے پی میں امن و امان کی صورتِ حال بن رہی ہے، کچھ تو فیصلے کرنے پڑیں گے، کے پی میں بہتری لانے کے بجائے ان کا کام انتشار پھیلانا ہے۔ پورے سندھ، بلوچستان اور پنجاب سے کتنے لوگ گئے ہیں، انتشاری جتھے میں بیرونِ ممالک کے لوگ بھی تھے، کے پی حکومت احتجاج میں تمام تر وسائل استعمال کر رہی تھی۔ پی ٹی آئی سے کہوں گا کہ انتشار کی سیاست نہ کریں، ملک کو سکون سے رہنے دیں۔دریائے سندھ کے پانی پر کبھی سودے بازی نہیں ہو سکتی، یہ پی پی کا اصولی مؤقف ہے۔

    کراچی کی تاجر برادری نے نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کردیا

  • پی ٹی آئی احتجاج:اسلام آباد میں گرینڈ آپریشن مکمل ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگی

    پی ٹی آئی احتجاج:اسلام آباد میں گرینڈ آپریشن مکمل ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کے اعلان کے بعد موٹر وے کھول دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق موٹروے ایم 2 کو لاہور اسلام آباد ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا،موٹروے ایم 11 کو لاہور سیالکوٹ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، موٹروے ایم 4 کو پنڈی بھٹیاں تا عبدالحکیم، موٹروے ایم 14 ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان، موٹروے ایم3 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد اور لاہور کے روڈ بھی ٹریفک کے لئے بحال کر دیئے گئے ہیں، اسلام آباد میں گرینڈ آپریشن مکمل ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگی جہاں کنٹینرز موجود ہیں انہیں ہٹانے کا عمل جاری ہے، اسلام آباد میں جہاں جہاں کنٹینرز لگا کر راستے بند کئے گئے تھے، ان رکاوٹوں کو ہٹا کر تمام سڑکیں ٹریفک کے لئے بحال کی جا رہی ہیں،جبکہ ڈی سی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں شاہر ا ہوں کی صفائی کا کام بھی جاری ہے، احتجاج کے باعث گزشتہ 3 روز سے معطل ہونے والی انٹر نیٹ سروس بھی بحال ہوگئی۔

    ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو علاقے میں موجود کنٹینرز ہٹانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے راستے فی الفورکھولے جا رہے ہیں، کوشش ہے کہ صبح ہونے سے قبل شہریوں کے لیے راستے کھول دیے جائیں گے-

    ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن نے تمام اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ شہر کی تمام شاہراہوں پر صفائی ستھرائی کے انتظامات بھی صبح تک مکمل ہونے کو یقینی بنائے جائیں۔

    ادھر پی ٹی آئی احتجاج کے باعث 3 دن سے بند مری روڈ سے کینٹینرز ہٹائے جارہے ہیں، پی ٹی آئی کے احتجاج پر 23 نومبر کی شب مری روڈ کو مکمل سیل کر دیا گیا تھا مری روڈ فیض آباد، شمس آباد اور اسٹیڈیم روڈ کے کاروبار 3 دن سے بند ہیں، مری روڈ سے کینٹینرز ہٹانے کا عمل جاری ہے، گزشتہ 3 روز سے معطل ہونے والی انٹر نیٹ سروس بھی بحال کردی-

    دوسری جانب ترجمان لاہور ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستے کھلے ہیں، لاہور اسلام آباد، لاہور سیالکوٹ موٹروے، ایسٹرن بائی پاس بھی کھول دیا گیا ہے لاہور رنگ روڈ ٹریفک کیلئے کھلی ہے اور شہرکے اندر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے، دوسری جانب اسلام آباد میں ٹریفک بحال ہو گئی ہے۔

  • پی ٹی آئی احتجاج: شر پسندوں کی آنسو گیس کے شیل فائر کرنےکی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی

    پی ٹی آئی احتجاج: شر پسندوں کی آنسو گیس کے شیل فائر کرنےکی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج میں شر پسندوں کی ایکسپریس وے اسلام آباد پر آنسو گیس کے شیل فائر کرنےکی سی سی ٹی وی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔

    باغی ٹی وی : سکیورٹی ذرائع کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے افراد تربیت یافتہ ہیں جو مہارت سے جدید اسلحہ اور آنسو گیس کے شیل فائر کر رہے ہیں، ان کو پرتشدد حملوں کے لیے لایا گیا ہے، عام آدمی اتنی مہارت سے یہ جدید اسلحہ اور شیل فائر نہیں کر سکتا پی ٹی آئی شر پسندوں کے پاس سرکاری اور جدید اسلحہ کی فراہمی پریشان کن ہے، یہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت لائےگئے ہیں، جن کا مقصد سکیور ٹی اداروں پر حملہ آور ہو کر صورت حال میں بگاڑ پیدا کرنا ہے۔
    https://x.com/AsimNaseer81/status/1861477818712105469
    یہ اسلحہ سرکاری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے، ایک عام آدمی کے ہاتھ میں اس اسلحہ کی فراہمی کس نےکی،یہ سرکاری اسلحہ کس کی ایما پر لایا گیا، کس نے سہولت کاری کی،ریاست کے خلاف شر انگیزی کس کے کہنے پر کی جا رہی ہے؟-
    https://x.com/ahmad__bobak/status/1861423341967679620
    قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کل سےکئی بار پرتشدد حملےکیے جا چکے ہیں، جن میں رینجرز کے جوانوں کی شہادتیں ہوئیں، پولیس کے جوان شہید ہوئے اور زخمی ہوئے، سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا، ریاست ان عناصر کی نشاندہی کر رہی ہے اور شر پسند عناصر کو قانون کے تحت قرار واقعی سزا دی جائےگی۔

    دوسری جانب عطاء تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں اسلام آباد میں موجود مظاہرین کے پاس موجود جدید اسلحے کی فوٹیج چلائی اور کہا کہ مظاہرین میں ایسے لوگ ہیں جو جدید اسلحہ سے لیس ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان مظاہرین کے پاس یہ جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟ کیا پرامن مظاہرے میں ایسی چیزیں لائی جاتی ہیں؟ مظاہرے میں شامل نقاب پوش آنسوگیس کے شیل چلارہے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج سے شرپسندوں کی تفصیلات حاصل کرلی ہے پوچھتا ہوں کیا یہ اسلحہ خیبر پختونخوا حکومت نے ان مظاہرین کو نہیں دیا؟ یہ دہشت گرد ہیں، ان سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔
    https://x.com/realrazidada/status/1861470820687557077
    عطاء تارڑ نے کہا کہ اب مظاہرین ڈی چوک کے کہیں آس پاس نظر نہیں آرہے، انہیں پسپا کردیا گیا ہے، کسی کو ریڈ زون نہیں آنے دیا جائے گا ان کومزید پیچھے دھکیل دیں گے۔ مذاکرات زیرو پر آگئے ہیں، پی ٹی آئی کے کسی رہنما یا ترجمان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، نہ یہ پرامن ہیں نہ ان کا مقصد ملک کی خاطر ہے، ان کا مقصد ان کا جیل میں لیڈر ہے۔

  • اسلام آباد ،گرفتاریاں شروع،بشریٰ ،گنڈا پورایک ہی گاڑی میں فرار

    اسلام آباد ،گرفتاریاں شروع،بشریٰ ،گنڈا پورایک ہی گاڑی میں فرار

    اسلام آباد، پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا
    رینجرز و پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے،اس موقع پر علاقے کی لائٹس بند کی گئی ہیں، مظاہرین نے پی ٹی آئی کے کینٹینر کو آگ لگا دی ہے، اسلام آباد میں مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں ، پی ٹی آئی کی قیادت کارکنان کو اسلام آباد لا کر بے یارومدد گار چھوڑ کر غائب ہو چکی ہے، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی کو کارکنان نے حصار میں لے رکھا ہے،پی ٹی آئی کارکنان قیادت سے نالاں ہیں، کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم نے کفن سر پر باندھا ہوا ہے، ڈرنا نہیں ہے باہر نکلو،لیڈر بلٹ پروف گاڑی میں کیوں ہیں، عوام کی قربانی کو ضائع نہ کریں آگے چلیں ،

    پی ٹی آئی کی قیادت کے فون بند، چار سو سے زائد مظاہرین گرفتار،بلیو ایریار وڈ خالی
    رات ہوتے ہی تحریک انصاف کی تمام مرکزی قیادت غائب ہو گئی ہے، سب کے فون نمبر بند ہو گئے، کارکنان سڑکوں پر موجود ہیں اور گرفتاریاں دے رہے ہیں، کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بلیو ایریا میں خیبرچوک اورکلثوم پلازہ کےدرمیان گرفتاریوں کا عمل ہوا، ساڑھے چار سو مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا، بلیو ایریا شر اور انتشار پسندوں سے خالی کروا لیا گیا، بلیو ایریا اس وقت مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا ہے،بلیو ایریا روڈ مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا،مظاہرین اپنی گاڑیاں تک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں،

    بشریٰ،گنڈا پور کی گرفتاری نہیں ہوئی، زلفی بخاری کی تردید
    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی کو بھی گھیرے میں لے لیا گیا ہے، تاہم کارکنان کی جانب سے گرفتاری کےلئے مزاحمت کی گئی،علیمہ خان ،عظمی خان ،بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور شاندانہ گلزار تاحال ورکرز کے درمیان ڈی چوک کے قریب جناح ایونیو پر موجود ہیں، پولیس کی بھاری نفری گاڑی کے قریب پہنچ چکی تھی تا ہم کارکنان کی مزاحمت کے بعد بشری فرار ہو گئی

    پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور محفوظ ہیں گرفتاری نہیں ہوئی،

    بشریٰ بی بی اور گنڈا پور کارکنان کو بے یارو مددگار چھوڑ کر ایک ہی گاڑی میں فرار،نجی ٹی وی کا دعوی
    دوسری جانب نجی ٹی وی جیو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں پولیس آپریشن کے دوران خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ایک ہی گاڑی میں فرار ہو گئے ہیں۔ دونوں رہنما اس وقت بلیو ایریا میں موجود تھے اور وہاں چند پی ٹی آئی کے کارکن بھی گاڑیوں کے قریب تھے۔ تاہم، جیسے ہی پولیس کا آپریشن شدت اختیار کرتا گیا، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نے ڈی چوک سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنما ایک ہی گاڑی میں جناح ایونیو سے فرار ہوئے، اور بشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کی جانب موڑا گیا۔ اسلام آباد پولیس کی ایک اسکواڈ ان کی گاڑی کا تعاقب کر رہی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کے بجائے خیبر پختونخوا کی طرف موڑ دیا گیا،اب اطلاعات کے مطابق بشری بی بی کی گاڑی ہری پور کے راستے خیبر پختونخوا حدود میں داخل ہوگئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق بشریٰ بی بی کی گاڑی پیر سوہاوہ کی جانب مڑ ی، امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ بشریٰ بی بی پیر سوہاوہ سے ہری پور میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی۔

    جو عمران خان حکم کریں گے ہم ویسا ہی کریں گے،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پشتو میں ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا ہےکہ ریاست ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے مگر یہاں ریاست نے ہمارے ساتھ ظلم شروع کیا ہے اور یہ ظلم آخری حد تک پہنچ گیا ہے، ہمارے لوگوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا ہے زخمی کیا گیا ہے ہم کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے یہی لڑیں گے یہی مریں گے،عمران خان کے لیے ہمارا تن من دھن سب قربان اور ہم قربان کرتے بھی آئے ہے عمران خان کو یہ پیغام دیں گے کہ اب تو انہوں نے سیدھی گولیاں چلانی شروع کردی ہے اسکا کیا جواب دیں انہیں؟ جو عمران خان حکم کریں گے ہم ویسا ہی کریں گے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے یہی رہیں گے

    بشری بی بی کا ڈرائیور پولیس نے گرفتار کرلیا، اعلی افسران اور پولیس کی بھاری نفری بشری بی بی کی تلاش میں ہے،پولیس کی جانب سے مونال کے قریب سخت ناکہ بندی کر دی گئی ہے، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کسی صورت اسلام آباد کی حدود سے باہر نہ جانے پائیں،ہر صورت بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا جائے.

    حکومت کا پلان بی، مظاہرین کی واپسی پر بھی گرفتاریاں ہونگی،راستے پھر بند
    علاوہ ازیں واپس جاتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار کرنے کا پلان سامنے آ گیا،پولیس نےدوبارہ روڈ بلاک کرناشروع کردیے۔کے پی کے سے پنجاب آنےوالے مقامات بلاک کر دیئے گئے، اٹک خورد پل سےپشاور روڈکو کنٹینرز لگاکربلاک کردیا ،ایبٹ آباد روڈ کوجھاری کس کےمقام سےبلاک کردیاہے۔

    دوسری جانب پولیس اور رینجرز کی جانب سے جناح ایونیو کو پی ٹی آئی مظاہرین سے خالی کروالیا گیا ہے جس کے بعد مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع ہوگئے ہیں، پولیس اور رینجرز نے شدید شیلنگ کی اور پی ٹی آئی مظاہرین سےجناح ایونیو خالی کراتے ہوئے مظاہرین کو خیبر پلازہ سے آگے تک دھکیل دیا

    ایکس پر صحافی غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اطلاعات کے مطابق بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور اب احتجاج میں موجود نہیں۔ غالبا چلے گئے۔ آپریشن گرفتاریاں پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو دونوں لیڈران موجود نہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان البتہ مار بھی کھا رہے ہیں، شیلنگ بھی کھا رہے ہیں گرفتار بھی ہو رہے ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے سے لے کر اب تک بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی گرفتاری بھلا کیوں نہیں ہو سکی

    دوسری جانب سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ اطلاعات آرہی ہیں کہ بشریٰ پیرنی اور علی امین گنڈا پور دونوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دھرنا سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی، لیکن وہاں موجود بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے نظر نہیں آئے، اور مشتعل ہجوم نے ان کے کنٹینر کو آگ لگا دی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کہتے ہیں کہ ایکسپریس ہائی وے پر نقاب پوش افراد جدید اسلحہ اور آنسو گیس کے شیلز کے ساتھ دیکھے گئے، جو خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل سے لیے گئے ہیں۔ اِن کی تمام تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں اب نتائج کاعمل شروع ہو چُکا ہے ۔ یہ عناصر نہ صرف ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں بلکہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ رینجرز اور پولیس پر حملے ناقابل برداشت ہیں، ریڈ زون میں پیش قدمی کو ناکام بنایا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد ہیں، ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی، اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • مبشر لقمان کی  وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان واضح فرق کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں کے طریقہ کار میں بنیادی فرق نظر آتا ہے۔وہی پولیس، وہی فورس، لیکن تدبر سے کام کرنے کا نتیجہ مختلف نکلا،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کی قیادت میں وزارت داخلہ نے جن طریقوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چلایا، وہ زیادہ مؤثر اور منظم تھے۔ جب کہ محسن نقوی کے حوالے سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا وہ وزارت داخلہ کے امور کو اتنی مہارت کے ساتھ چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جیسا کہ رانا ثنا اللہ نے کیاتھا ۔

    مبشر لقمان نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں محسن نقوی کی تقرری پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا کہ محسن نقوی کی تقرری کے بارے میں سنجیدہ تحفظات ہیں اور ان کی قابلیت پر انگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں، محسن نقوی کو وزارت داخلہ اور پی سی بی دونوں ہی جگہوں پر کافی سنجیدہ سوالات کا سامنا ہے، اور ان کی تقرریوں پر عوامی سطح پر تنقید ہو رہی ہے

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لئے بشریٰ بی بی ،علی امین گنڈا پور اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،
    خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل سے ہزاروں افراد کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے والی پی ٹی آئی قیادت نے اس بار پھر سانحہ نومئی کو دوہرا دیا،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے تو وہیں پی ٹی آئی شرپسند نے تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے ذریعے کچل کر شہید کر دیا،اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، پنجاب میں داخل ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا اور پھر اپنے کارکنان کو چھڑوانے کے بعد انکو چھوڑا گیا، پی ٹی آئی مظاہرین نے اسلام آباد میں درختوں کو آگ لگائی، تو وہیں میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے کئے، صحافیوں پر بھی تشدد کیا،22 پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ، ، پنجاب پولیس کے 2اہلکار شہید،119 کےقریب زخمی ہوئے،اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے،

    پاکستان تحریک انصاف نے24 دسمبر کو عمران خان کی رہائی کے نام پر احتجاج شروع کیا لیکن عمران خان کے کہنے پر سنگجانی میں جلسہ کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے لوگ بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈی چوک پہنچ گئے جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ سارا احتجاج نما فساد کس کے لیے اور کس کے کہنے پر کیا جا رہا ہے، احتجاج تو پر امن ہوتا ہے لیکن یہ قافلہ پشاور سے نکلنے کے بعد رستے میں آنے والی ہر جگہ سے لوٹ مار اور چوری کرتا رہا کہیں سیب کے باغات اجاڑ دیے تو کہیں پولیس کی وین ہی چوری کر لی گئی، دوسری جانب مارچ کے شرکاء کے پاس مبینہ طورپر امریکن اسلحہ اور ہتھیار موجود ہیں، یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ سارا مارچ اور احتجاج جس شخص کے نام پر شروع کیا گیا اب اسی شخص کی بات کیوں نہیں مانی گئی اور بشری بی بی جو خود کو گھریلو خاتون اور سیاست سے دور بتاتی تھیں وہ شروع سے ہی اس سارے احتجاج اور مارچ کی قیادت کر رہیں ہیں آخر کیوں وہ خون خرابے اور عمران کی بات نہ مان کر اپنی بات پر ڈٹی ہوئیں ہیں

    پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت بشریٰ بی بی کر رہی ہیں، بشریٰ بی بی نے ہی اعلان کیا کہ ڈی چوک جائیں گے، بشریٰ بی بی کے کہنے پر علی امین گنڈا پور چل رہے ہیں اور بشریٰ ہی پارٹی رہنماؤں کو ہدایات دے رہی ہیں،عمران خان اسلام آباد کے کسی مضافاتی علاقے میں احتجاج کے لئے مان گئے تھے تا ہم بشریٰ نہ مانی، بشریٰ کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کی جانیں گئیں بلکہ اسلام آباد شہر میں کاروبار زندگی بند ہونے کی وجہ سے معیشت کو بھی کڑا نقصان پہنچا،پی ٹی آئی احتجاج کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد حالیہ سیاسی حالات میں عمران خان کی قیادت کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت کے بارے میں آواز اٹھانا تھا۔ لیکن اس احتجاج کے دوران جو واقعات رونما ہوئے، انہوں نے اس سوال کو جنم دیا کہ آیا یہ احتجاج کسی جواز پر مبنی تھا یا محض سیاسی مقاصد کے لیے تھا۔پی ٹی آئی اس شخص کے لئے احتجاج کر رہی جس کو عدالتوں نے سزا سنائی، گھڑی چوری کا مقدمہ ہوا، توشہ خانہ ٹو کا مقدمہ چل رہا ،بشریٰ بی بی پر بھی مقدمہ زیر سماعت ہے،190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آنا باقی ہے، نو مئی کے مقدمے چل رہے ہیں،بشریٰ و عمران نے اپنے دو ر اقتدار میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور اب قانون کا سامنا کرنے کی بجائے خود قانون ہاتھ میں لے رہے ہیں، بشریٰ بی بی کی خواہش ہے کہ عمران خان کو جیل سے عدالتی فیصلوں کی بجائے دھرنا دے کر رہا کروایا جائے تا ہم ایسا ہو نہیں سکتا، کیونکہ حکومت عمران خان کو این آر او دینے سے انکار کر چکی ہے.

    اس تمام صورتحال کے بعد، حکومت اور ریاستی اداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہ دینے کا اصول اپنایا جائے گا ، پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کےعوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، پی ٹی آئی والے احتجاج میں مبینہ طور پر ماضی کی طرح افغان شرپسندوں کو بھی ساتھ لائے ہیں،احتجاج کے دوران ہونے والی اموات اور مالی نقصان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ احتجاج کا مقصد کچھ بھی ہو، لیکن اس کی نوعیت اور طریقہ کار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پرامن احتجاج کی ضرورت ہے، نہ کہ ریاستی اداروں اور عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش، ریاستی ادارے اب اس احتجاج کے بعد کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں اور یہ وقت آ گیا ہے کہ قیادت اپنے اقدامات کا حساب دے۔

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • اسلام آباد، درخت بھی پی ٹی آئی مظاہرین سے محفوظ نہ رہے

    اسلام آباد، درخت بھی پی ٹی آئی مظاہرین سے محفوظ نہ رہے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی مظاہرین پہنچ چکے ہیں، پی ٹی آئی شرپسندوں سے اسلام آباد میں کوئی بھی محفوظ نہیں، پولیس پر پتھراؤ، میڈیا دفاتر کا گھیراؤ، صحافیوں پر حملے، یہاں تک کہ درخت بھی محفوظ نہ رہے، درختوں کو بھی آگ لگا دی گئی

    عمران خان کی رہائی کی امید لے کر خیبر پختونخوا سے بشریٰ بی بی کی قیادت میں آنے والے مظاہرین نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں احتجاج کے دوران درختوں کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے ڈی چوک جا رہے تھے، مظاہرین نے اسلام آباد کے مختلف مقامات پر آگ لگائی،پی ٹی آئی درختوں کو آگ لگا کر اسلام آباد شہر کے اہم علاقے میں شہر کی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کو نقصان پہنچا رہی ہے، ایک طرف عمران خان درخت لگانے کے دعویدار تھے تو ہیں اب انکی پارٹی کے کارکنان درختوں کو آگ لگا رہے ہیں

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کی لہر نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں میں جلاؤ گھیراؤ، پولیس پر پتھراؤ، اور تشدد کے واقعات نے اسلام آباد کے امن و امان کو متاثر کیا ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں شریک افراد کی جانب سے صحافیوں‌پر تشدد، میڈیا دفاتر کے گھیراؤ، پولیس پر پتھراؤ ، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج نے پورے شہر کے سماجی اور اقتصادی ماحول کو متاثر کیا ہے۔ کاروباری مراکز بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں رک چکی ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ، شہر بھر میں احتجاج کی وجہ سے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • گنڈا پور کو نہیں جانے دیں گے، مظاہرین برہم،بوتل دے ماری

    گنڈا پور کو نہیں جانے دیں گے، مظاہرین برہم،بوتل دے ماری

    تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین نے آج اسلام آباد میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو شدید مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے انہیں کسی بھی جگہ جانے سے روک دیا۔

    مظاہرین نے 7ویں ایوینیو پر کلثوم انٹرنیشنل اسپتال کے سامنے جمع ہو کر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو لینے آنے والی گاڑی کو روک دیا۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو کسی ضروری کام کے لیے روانہ ہونا تھا، تاہم مظاہرین نے انہیں جانے کی اجازت نہیں دی اور ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ "اس بار علی امین گنڈاپور کو نہیں بھاگنے دیں گے”۔ احتجاجی کارکنان نے ڈی چوک کے نعرے بھی لگائے اور گنڈاپور کے خلاف تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ عوام گولیاں کھا رہی ہیں، اور وزیراعلیٰ خود گاڑیوں میں آرام سے بیٹھے ہیں۔

    اسی دوران، ایک کارکن نے غصے میں آ کر علی امین گنڈاپور کی گاڑی کی طرف بوتل پھینک دی، جس کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور کو اس بار کہیں نہیں جانے دیں گے،یہ واقعہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے،پی ٹی آئی کارکنان بھی علی امین گنڈا پور کی کارکردگی سے مطمئن نہین ہیں، کارکنان نے علی امین گنڈا پور کی گاڑی کا گھیراؤ کیا ہوا ہے اور انہیں کہیں بھی نہیں جانے دیا جا رہا،کارکنان کا کہنا تھا کہ اگر قیادت آگے نہ گئی تو ہم دکھاتے ہیں پرامن کیسے ہوتا ہے، یہ ڈرامے بازیاں کر رہے ہیں عوام کے ساتھ،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنماؤں پر مشتمل قافلہ ڈی چوک کی جانب رواں دواں ہے جب کہ پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان بھی ڈی چوک پہنچ چکے ہیں،ڈی چوک اور اطراف میں سکیورٹی سخت ہے اور ڈی چوک کی طرف بڑھنے والوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا جبکہ ریلی کی قیادت کرنے والوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا،ڈی چوک میں پی ٹی آئی کارکنان کینٹینر پر چڑھ گئے اور عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی،

    پی ٹی آئی مظاہرین کا ڈی چوک پر خاتون صحافی قراۃ العین شیرازی پر تشدد

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • کارکن پرامن رہیں،عمران  کی جلد رہائی کے لیے بہت پر امیدہیں،بیرسٹر گوہر

    کارکن پرامن رہیں،عمران کی جلد رہائی کے لیے بہت پر امیدہیں،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین، بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی حالیہ ٹویٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بے گناہ افراد پر مقدمات درج کرنے سے باز رہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے پیغام میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سپورٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں پرامن رہیں اور قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ موجودہ حالات میں ہمیں اپنی تحریک کو امن و آشتی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا، تاکہ کسی بھی قسم کی مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ خان صاحب (عمران خان) کی جلد رہائی کے حوالے سے پر امید ہیں اور پارٹی کی تمام قیادت اور کارکنان اس معاملے پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے قائد کی رہائی کے لیے تمام قانونی اور جمہوری ذرائع استعمال کرے گی اور اس مقصد کے حصول میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔

    گوہر علی خان نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی اپنے حامیوں اور کارکنوں کی آزادی اور حقوق کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ حکومت کو عوامی رائے کا احترام کرنا چاہیے اور ایسی سرگرمیاں جن سے سیاسی کشیدگی بڑھے، ان سے گریز کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا ہے، بشری بی بی نے ڈی چوک پر دھرنے کا اعلا ن کیا اور کہا کہ ہم عمران خان کی رہائی تک ڈی چوک پر ہی رہیں گے، بشریٰ بی بی نے کارکنان سے حلف لیا کہ وہ خان کی رہائی تک واپس نہیں جائیں گے،

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا