Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وفاقی حکومت کا اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لئے بڑا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لئے بڑا فیصلہ

    اسلام آباد: ‏وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے شہر اقتدار کو بلوائیوں سے بچانے کے لئے خصوصی سیکیورٹی اقدامات کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں امن یقینی بنانے کے لیے خصوصی سیکیورٹی فورس کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے،اسپیشل سیکیورٹی فورس وفاقی دارالحکومت کو پروٹیکشن دے گی، وزیراعظم نے لاء اینڈ آرڈر ڈویژن کی تشکیل کا عمل جلد مکمل کرنے کے احکامات دیئے-

    حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے ماتحت فورس سیکیورٹی امور پر کام کرے گی،اسلام آباد پولیس میں اسپیشل پروٹیکشن یونٹ الگ سے کام کرے گا ،پروٹیکشن یونٹ چینی باشندوں کو سیکیورٹی فراہم کرے گا، ایس پی یو میں اسلام آباد پولیس کے افسران اور اہلکاروں کی خدمات لی جائیں گی،وفاقی حکومت کا محکمہ پولیس میں سینکڑوں نئی بھرتیوں کے پلان پر کام جاری ہے-

  • پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پی ٹی آئی احتجاج کی اپنی ناکامی چھپانے کے لیے طرح طرح کے پروپیگنڈے کر رہی ہے

    مذموم سیاسی مقاصد کا حصول ، پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا،پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لئے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلانے لگی ،سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر ، ویڈیوز اور غلط اعداد و شمار کا سہارا لیا جا رہا ہے ،پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے فلسطین کے شہداء کی لاشوں کو بھی نہ بخشا،پی ٹی آئی کافلسطین کے شہداء کی لاشوں کی تصاویر کے ذریعے مذموم پروپیگنڈا جاری ہے

    بیرون ملک فرار سلمان احمد نے فلسطین کے شہداء کی تصاویر کو احتجاج میں من گھڑت ہلاکتوں سے جوڑ دیا ،ہلاکتوں کا پروپیگنڈا ریاست دشمن ایجنڈے کے تحت سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے،ہلاکتوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما ؤں کا پروپیگنڈا بھی جاری ہے جس میں واضح تضا د پایا جاتا ہے ،سلمان اکرم راجا 20، شیر افضل مروت 12، علی امین گنڈا پور سینکڑوں اور لطیف کھوسہ نے تو 278 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دیا ہے،سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی سے منسلک نام نہاد یو ٹیوبر ز کا بھی منفی پروپیگنڈا جاری ہے ،ہلاکتوں کے منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے دو بڑے ہسپتالوں پمز اور پولی کلینک کے وضاحتی بیان سامنے آچکے ہیں،پمز انتظامیہ کے مطابق 36 عام شہری اور 66 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے ،پولی کلینک ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بھی ہسپتال میں کوئی لاش نہیں لائی گئی،، پولی کلینک ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کچھ معمولی زخمی افراد آئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ہلاکتوں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کرنا ہے ،پی ٹی آئی کی جانب سے ہلاکتوں کا پروپیگنڈا صرف کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کیلئے ہے

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • گرفتاری کا خوف،کوئی پی ٹی آئی رہنما ملاقات کے دن بھی عمران کو ملنے نہ آیا

    گرفتاری کا خوف،کوئی پی ٹی آئی رہنما ملاقات کے دن بھی عمران کو ملنے نہ آیا

    گرفتاری کا خوف،عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے کوئی پارٹی رہنما نہ آیا، آج جمعرات کو عمران خان سے ملاقات کا دن تھا لیکن کوئی بھی ملاقات کے لیے نہ پہنچا، جیل ذرائع کے مطابق، جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے جیل حکام سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، لیکن انہیں عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے ابھی تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

    عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے جیل انتظامیہ سے ملاقات کے لیے درخواست کی ہے۔ فیصل چوہدری نے اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کی خیریت سے متعلق شدید تشویش کا شکار ہیں اور ان سے فوری طور پر ملاقات کروانے کی درخواست کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ درخواست کو واٹس ایپ کے ذریعے بھی جیل حکام تک پہنچایا گیا ہے تاکہ ملاقات کی اجازت حاصل کی جا سکے۔

    جیل ذرائع کے مطابق، عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل کی تحویل میں نہیں ہیں، بلکہ وہ راولپنڈی پولیس کی حراست میں ہیں۔ عمران خان جسمانی ریمانڈ پر راولپنڈی پولیس کے پاس ہیں، اس صورت حال کے پیش نظر جیل انتظامیہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ عمران خان سے ملاقات کرائیں۔اگر کوئی شخص عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتا ہے، تو انہیں راولپنڈی پولیس سے رابطہ کرنا ہو گا کیونکہ اس وقت ان کی حراست راولپنڈی پولیس کے پاس ہے، نہ کہ اڈیالہ جیل کے انتظامیہ کے پاس۔

    ڈی چوک کے بھگوڑوں نے عمران خان کو بھی اڈیالہ جیل میں تنہا چھوڑ دیا ،جیل میں ملاقات کا دن عمران خان بشریٰ ،علیمہ اورپارٹی رہنماؤں کی راہ تکتے رہے،مگر کوئی بھی ملنے نہ آیا، پی ٹی آئی رہنماؤں نے گرفتاری کے ڈر کے پیش نظر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی زحمت نہ کی، بانی پی ٹی آئی سے پارٹی رہنماؤں کے علاوہ اہل خانہ میں سے کوئی بھی نہیں آیا ، سیاسی جانشینی کی دوڑ میں شامل بشریٰ بی بی اور علیمہ خان بھی ملنے نہ آئیں ،کچھ عرصے سے ملاقات کے لئے آنے والے موقع پر ہی درخواست دے کر بانی پی ٹی آئی سے مل رہے تھے،تاہم آج کوئی بھی ملاقات کے لئے نہ آیا.

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • اسلام آباد احتجاج،پی ٹی  آئی کو توہین عدالت درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد احتجاج،پی ٹی آئی کو توہین عدالت درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف توہینِ عدالت کے کیس کی سماعت کی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود مظاہرین اسلام آباد میں کیوں آئے اور ان کے احتجاج کے دوران امن و امان کی صورت حال کیوں خراب ہوئی۔

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 7 کی تاجر تنظیم نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ احتجاج نہ کیا جائے، مگر اس کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شہر میں مظاہرے کیے، جس سے شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتجاج کی وجہ سے شہر میں نظام زندگی کا پہیہ رک گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاجر تنظیم نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا امکان ہے، جس پر آئندہ سماعت میں مزید تفصیل سامنے آئے گی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے، جس دوران پی ٹی آئی، حکومت اور انتظامیہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع ملے گا۔

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • مطیع اللہ جان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    مطیع اللہ جان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    اسلام آباد سے گرفتار مطیع اللہ جان کو انسدادِدہشتگردی عدالت پیش کردیاگیا

    پراسیکیوٹرراجانوید، وکلاء صفائی فیصل چودھری، ایمان مزاری، ہادی علی انسداددِہشتگردی عدالت پیش ہوئے، پراسیکیوٹرراجانوید نے مطیع اللہ جان کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی،صحافی ثاقب بشیر کا بیان حلفی انسداددِہشتگردی عدالت پیش کردیاگیا،وکیل صفائی کی جانب سے مطیع اللہ جان کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی گئی ، وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ احتجاج میں کارکنان پر ڈائریکٹ فائر کیاگیا، اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ گولیاں، فائرنگ وغیرہ مسئلہ نہیں ہے، سیاسی تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں، جج طاہرعباس سِپرا نےپراسیکیوٹرراجانوید سے استفسار کیا کہ مطیع اللہ جان سے کیا برآمد کرنا ہے؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ ملزم سے مزید منشیات برآمد کرنی ہیں

    کیا کوئی صحافی نڈر ہو، حکومت پر تنقید کرے تو کیا کبھی کوئی جرم نہیں کرسکتا؟عدالت
    جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ الزامات میں دو چیزوں کو سامنے رکھا جائے، بتایا جارہا کہ مطیع اللہ جان صحافی ہیں جن سے ایسے واقعے کی توقع نہیں، کیا اس بنیاد پر ڈسچارج کیاجائے؟میں بھی مطیع اللہ جان کو جانتاہوں، مشہور صحافی ہیں، کیا کوئی صحافی نڈر ہو، حکومت پر تنقید کرے تو کیا کبھی کوئی جرم نہیں کرسکتا؟ کیا میں نے اپنی زاتی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا؟

    صحافی ثاقب بشیر روسٹرم پر آگئے اور کیا کہ حیرت کی بات ہے مطیع اللہ جان آئیس لیتےہیں اور چرسی بھی ہیں، جج طاہرعباس سِپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا "مطیع اللہ جان کو چرسی تو نہیں کہا” جج کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ قلم کے ساتھ اسکرین آگئی ہیں تو معاملہ خراب ہوگیاہے، صحافی ثاقب بشیر نے کہا کہ رات گئے پوچھا گیا سگریٹ کون پیتاہے، میں اور مطیع اللہ جان نے کہا سگریٹ نہیں پیتے اور کیس آئیس کا بنا دیا،انسداددِہشتگردی عدالت دہشتگردوں کے لیے ہے، صحافیوں کے لیے نہیں،

    وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ آپ نے ریمارکس دیے تھےمقدمہ میں نیلا شاپر تو تبدیل کرلو، مطیع اللہ جان کے خلاف مقدمہ میں شاپر کا رنگ سفید کردیاگیاہے، کس جواز پر مطیع اللہ جان کا تیس روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا؟ تین روز کا بھی نہیں بنتا،مطیع اللہ جان ایک سینئر صحافی ہیں اور پمز ہسپتال میں رپورٹنگ کیلئے موجود تھے ،مطیع اللہ جان کو پمز ہسپتال سے گرفتار کر رہے تھے ،صحافی مطیع اللہ جان پمز ہسپتال سے زخمیوں اور ڈیڈ باڈیز سے متلعق رپورٹ کر رہے تھے،عدالت سے استدعا ہے مطیع اللہ جان کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے،مطیع اللہ جان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیاگیا،عدالت نے مطیع اللہ جان کو فیملی سے ملاقات کی اجازت دےدی

    صحافی مطیع اللہ جان کا مبینہ منشیات برآمدگی کے مقدمے میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا،عدالت نے مطیع اللہ جان کو پولیس کے حوالے کر دیا،

    واضح رہے کہ اسلام پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کو گرفتار کر لیا ہے،مطیع اللہ جان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،مقدمہ تھانہ مارگلہ اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے،مقدمہ سب انسپکٹر آصف علی کی مدعیت میں درج کیا گیا،درج مقدمہ میں کہا گیا کہ بسلسلہ چیک و پڑتال نا کہ 9 مارگلہ روڈ پر موجود تھا چیکنگ و پڑتال جاری تھی کہ بوقت قریب 02:15 بجے رات ایک گاڑی نمبری 190-AHXٹویوٹا پارس بر تنگ سفید 10-F کی جانب سے انتہائی تیزرفتاری سے آئی جس کو روکنے کا اشارہ کیا تو گاڑی کے ڈرائیور نے گاڑی ملازمین کو مارنے کی غرض سے چڑھادی جس سے کانسٹیبل مدثر زخمی ہو گیا،پولیس کی جانب سے بیریئر آگے کر کے روکا گیا، تاہم گاڑی کے رکنے پر ایک شخص ڈرائیونگ سیٹ سے اترا اور ناکہ پر موجودمسلح جو ان مدثر 4297 سے سرکاری رائفل ایس ایم جی بمعہ میگزین زبردستی چھینی اور ملا زمین کی طرف سیدھی کر لی اور جان سےمارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں،جس کو حکمت عملی سے قابو کر کے سرکاری رائفل برآمد کی، مذکورہ شخص کی شناخت مطیع اللہ جان،ولد عبدالرزاق خان عباسی کے طور پر ہوئی.سرسری ملاحظہ کرنے پر مذکورہ نشے میں پایا گیا،گاڑی کی تلاشی لینے پر سیٹ کے نیچے سے سفید شاپر برآمد ہوا جس سے تلاشی لینے پر 256 گرام آئس برآمد ہوئی،

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • خیبر پختونخوا میں گورنر راج،حکومت کا اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج،حکومت کا اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں مختلف سیاسی اتحادیوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کی اکثریت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ نے اس مسئلے پر گہری بحث کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور انتظامی بحران کے پیش نظر گورنر راج کی ضرورت ہے۔

    حکومت نے گورنر راج کے نفاذ سے پہلے خیبر پختونخوا میں سرگرم سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی، قومی وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران وزارت قانون اور اٹارنی جنرل نے بھی وفاقی کابینہ کو گورنر راج کے نفاذ کے قانونی پہلوؤں پر اپنی رائے دی۔ دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے تاکہ یہ عمل قانونی طور پر درست اور شفاف ہو۔

    ذرائع کے مطابق، کابینہ نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سرکاری ملازمین اور مشینری کے استعمال کا نوٹس لیا ہے۔ کابینہ نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں گی کہ احتجاج کے دوران ریاستی وسائل کا غلط استعمال تو نہیں ہوا۔وفاقی کابینہ کا اجلاس صرف اس ایک نکاتی ایجنڈے پر مرکوز تھا۔ اجلاس میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا، تاہم حتمی فیصلہ سیاسی مشاورت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا جائے گا۔ کابینہ ذرائع کے مطابق، حکومت سیاسی اتحادیوں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں موجود دیگر جماعتوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گی تاکہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ اس حوالے سے جلد حتمی فیصلے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت گورنر راج کو ایک عارضی انتظامی حل کے طور پر دیکھ رہی ہے تاکہ صوبے میں پیدا ہونے والی سیاسی اور انتظامی کشمکش کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • سیاسی جماعت کے احتجاج میں افغانی کیا کررہے تھے، عطا تارڑ

    سیاسی جماعت کے احتجاج میں افغانی کیا کررہے تھے، عطا تارڑ

    وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ اور احسن اقبال نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ ایسے موقع پر پرتشدد احتجاج کیا گیا جب بیلاروس کا وفد پاکستان کے دورے پرتھا،ہم نے سنگ جانی میں پرامن احتجاج کی پیشکش کی تھی،پی ٹی آئی کے عزائم پرامن احتجاج کے نہیں تھے،پی ٹی آئی کے شرپسند اپنے ساتھ آنسوگیس اور ہتھیار لائے ہوئے تھے ،گرفتار کئے جانے والے شرپسندوں میں افغان باشندے بھی شامل ہیں،سوال یہ ہے کہ افغان باشند وں کو احتجاج میں کیوں شامل کیا گیا؟خیبرپختونخوا حکومت کا صوبے کے امن وامان پر کوئی توجہ نہیں، دہشتگردی پھیلانے کے پیچھے ایک شرپسند جماعت کے لیڈر کا ہاتھ ہے،پی ٹی آئی کی طرف سے ہلاکتوں کا بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،پمز اور پولی کلینک انتظامیہ نے بھی ہلاکتوں کی تردیدکی ہے، اسلام آباد سے 37 افغان شہری پکڑے گئے ہیں، سوال یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے احتجاج میں افغانی کیا کررہے تھے، یہ عمران خان ہی تھے جو طالبان کو پاکستان میں واپس لائے کیونکہ وہ طالبان کے ہمدرد ہیں۔

    شرپسندوں کے حملوں سے رینجرز اور پولیس کے اہلکار شہید ہوئے، ان شہداءکا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں؟عطا تارڑ
    عطاتارڑ کا مزید کہنا تھا کہ شرپسندوں کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے، آنسو گیس کے شیلز، پتھر اور غلیلیں ان کے پاس موجود تھیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم تھا کہ کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں ہوگا، شرپسندوں نے ریڈ زون کی خلاف ورزی کی اور تباہی مچانے کی کوشش کی،ہم نے انہیں سنگ جانی میں احتجاج کرنے کی پیشکش کی جہاں پرامن طریقے سے احتجاج ہو سکتا تھا،پرامن احتجاج ان کا ارادہ نہیں تھا،دو روز پہلے ایک فوٹیج جاری کی گئی جس میں پیشہ ور افراد کو فائرنگ، ہتھیار، آنسو گیس کے شیل، پیلٹ گنز کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،شرپسندوں کے حملوں سے رینجرز اور پولیس کے اہلکار شہید ہوئے، ان شہداءکا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں؟ سیکورٹی فورسز نے وفاقی دارالحکومت میں امن قائم کیا،سوشل میڈیا پر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ رینجرز کے جوانوں کو ان کے اپنے لوگوں نے شہید کیا،مجرم کی شناخت کرلی گئی ہے، اس کا تعلق ایبٹ آباد خیبر پختونخوا سے ہے، یہ اسلام آباد کا امن خراب کرنا چاہتے تھے،ان کا کوئی عوامی مطالبہ نہیں تھا، یہ اپنے لیڈر کو رہا کرنا چاہتے تھے، ہم نے 37 افغان شرپسندوں کو گرفتار کیا، افغانستان ہمارا دوست ملک ہے،افغانستان کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں،سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغان شہری اسلام آباد میں سیاسی جماعت کے احتجاج میں کیا کر رہے تھے؟ کیا اس کی بھی اجازت ہے؟ 2013ءسے 2017ءتک بڑے پیمانے پر آپریشن کئے تھے، خیبر پختونخوا میں امن واپس لایا، کراچی میں امن واپس لایا، دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی، بانی چیئرمین پی ٹی آئی اپنے دور میں طالبان کو واپس لائے، خیبر پختونخوا میں اس وقت دہشت گردی کی لہر جاری ہے اور وزیراعلیٰ کو وہاں امن و امان سے کوئی دلچسپی نہیں،کرم ایجنسی میں 50 لاشیں گریں اور یہ اسلام آباد کا محاصرہ کر رہے تھے، ملک میں دہشت گردی کا ذمہ دار صرف ایک شخص ہے جو تشدد کو فروغ دے رہا ہے،یہ وہی جماعت ہے جس نے مذہب کو آلہ کے طور پر استعمال کیا،سعودی عرب کے خلاف بیان دینے کا ان کا کیا مقصد تھا؟ یہ ملک کے عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنا چاہتے ہیں، یہ مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں،شرپسندوں نے میڈیا ہاﺅسز میں توڑ پھوڑ کی جس کی مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی اندرونی خلفشار کا شکار ہے، ان کے احتجاج میں ان کی قیادت موجود نہیں تھی، عاطف خان، شہرام ترکئی، اسد قیصر، حماد اظہر، شیخ وقاص موجود نہیں تھے، علیمہ خان، بشریٰ بی بی کے درمیان پہلے ہی جھگڑا ہے،سوشل میڈیا پر مظاہرین کے حوالے سے ایک جعلی فہرست گردش کر ر ہی ہے،اگر کوئی ہلاکت ہوئی ہے تو ثبوت پیش کریں، پولی کلینک اور پمز ہسپتال سے بیانات جاری ہوئے ہیں کہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،

    یہ لوگ 2014ءکی طرح پارلیمنٹ ہا ؤس پر قبضہ کرنے کے ارادے سے آئے،احسن اقبال
    وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے وفاقی دارالحکومت میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی، جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کیلئے لایا گیا، یہ لوگ 2014ءکی طرح پارلیمنٹ ہا ؤس پر قبضہ کرنے کے ارادے سے آئے،پی ٹی آئی نے2014میں بھی پارلیمنٹ،سرکاری ٹی وی پرحملہ کیاتھا،پرتشدد سیاست پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے، پی ٹی آئی کارکنوں نے رینجرزاور پولیس کوتشددکرکے شہیدکیا،نومئی کو پی ٹی آئی سلامتی کے ادارے کی تنصیبات پرحملہ آورہوئی،پی ٹی آئی نے ایس سی اوکانفرنس کو سبوتاژکرنے کی کوشش بھی کی،یہ لوگ اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے، کسی بھی جمہوری ملک میں ایسے پرتشدداحتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی،پرتشدداحتجاج کیلئے خیبرپختونخواکے سرکاری وسائل کااستعمال کیاگیا،اس شخص کی رہائی کیلئے احتجاج کیاگیاجس پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں،بانی پی ٹی آئی سیاسی قیدی نہیں، ان کیخلاف کرپشن کے سنگین الزامات ہیں،پرتشدداحتجاج بانی پی ٹی آئی کی مقدمات کے ٹرائل سے فرارکی کوشش ہے،بانی پی ٹی آئی کے وکلاءان کے خلاف سماعت میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی انہوں نے تاخیری حربے استعمال کئے تھے، بانی پی ٹی آئی نے لندن میں ضبط شدہ رقم کو اپنے فنانسر کیلئے وائٹ منی میں تبدیل کیا،

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہا ہے کہ بشری بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،

    نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے سحر کامران کا کہنا تھا کہ پارلیمانی مشاورتی عمل چل رہا تھا اور پھر ایسا فیصلہ لینا جس کی تیاری نہیں تھی، بشریٰ کو سیاست میں لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کیا جاتا، ہم اپنے گھروں سے رابطے نہیں کر پا رہے تھے، سب کچھ بند تھا، بیرون ملک سے مہمان آئے ہوئے تھے، عدالت کا فیصلہ تھا کہ اسلام آباد میں دھرنا نہیں دینا، کہاں گیا قانون، آپ احتجاج کرتے، درخواست دیتے، ایک طرف بیرسٹر سیف کہہ رہے ہیں حکومتی جگہ پر بانی پی ٹی آئی نے اتفاق کر لیا لیکن اس کی نفی کر دی گئی، یہ ثابت ہو گیا کہ بشریٰ کے آگے کسی کی کوئی حیثیت نہیں، پارٹی میں اب کوئی لیڈر نہیں ہے، احتجاج میں کتنے چہرے نظر آئے، سب لوگوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے،18 اکتوبر 2007 کو جب پیپلز پارٹی کے 150 کارکن شہید ہوئے تو جیالے ٹرک کے ساتھ لپٹ گئے، بینظیر بھٹو ایک ایک کارکن کے گھر گئیں ، اپنے زخموں کو بھول کر دوسروں کو دلاسا کر رہےتھے، آپ گولی چلنے کا پروپیگنڈہ کریں، بیرون ملک سے مہم چلائیں اور لوگوں کو تنہا چھوڑ دیں یہ کیا ہے، انکے کارکنان قائدین کو روکتے رہے، آپ کی تاریخ ہے کہ آپ ورکر کو چھوڑ کر بھاگتے ہیں،

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ ابھی واحد حل یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں اور بات چیت کے زریعے اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔پارلیمنٹ میں تمام جماعتیں ہیں، تلخیاں کم ہونی چاہیئے، بلاول زرداری بھی سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، تمام فریقین پارلیمنٹ میں بیٹھیں، یا باہر بیٹھیں ورنہ سب کے لئے مشکلات ہوں‌گی، خصوصا پاکستان کے لئے

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • احتجاج سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسند کھل کر بول پڑے،سب بتا دیا

    احتجاج سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسند کھل کر بول پڑے،سب بتا دیا

    گرفتار پی ٹی آئی کے شرپسندوں کے ہوش ربا انکشافات سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاج میں شریک شرپسند سجاد کا کہنا تھا کہ؛پی ٹی آئی قیادت نے ہم سے رابطہ کیا کہ آپ نے احتجاج میں آنا ہے،ہمیں 50 ہزار روپے دئیے گئے اور لڑائی میں پھنسا کر پی ٹی آئی قیادت فرار ہو گئی،پی ٹی آئی قیادت کے بھاگنے کے بعد ہم بھی بھاگنے لگے تو پولیس نے ہمیں گرفتار کر لیا،

    خورشید‌محمد اعوان کا کہنا تھا کہ میں اپنے کاروبار کے سلسلے میں اسلام آباد آ رہا تھا اور ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہونے کی وجہ سے ان شرپسندوں کی گاڑی میں بیٹھ گیا، میں گاڑی میں بیٹھ کر پریشان ہو گیا کیونکہ ان کے حلیے عجیب و غریب تھے، ان کے پاس ڈنڈے، پتھر اور اسلحہ تھا،پولیس نے جب ان کی گاڑی کو روکا تو انہوں نے رکنے کے بجائے پولیس پر حملہ کیا اور گاڑی بھگا کر لے گئے،ٹول پلازہ پہنچنے پر شرپسندوں نے جلاؤ گھیراؤ شروع کر دیا، میں نے بہت مشکل سے جان بچائی،

    رئیس محمد کا کہنا تھا کہ میں تھر کا رہنے والا ہوں اور ہوٹل کا کام کرتا ہوں، پی ٹی آئی والے آئے اور کہا کہ ہمارے بندوں کو کھانا دو،میں نے شرپسندوں کو کھانا دیا تو انہون نے وہاں توڑ پھوڑ کی اور بھاگ گئے اور پولیس مجھے پکڑ کر لے گئی،

    پی ٹی آئی شرپسند ایاز کا کہنا تھا کہ میں ایبٹ آباد کا رہنے والا ہوں، مجھے پی ٹی آئی والے احتجاج میں لے کر آئے،مجھے کہا گیا کہ آپ کو اسلام آباد میں سب کچھ ملے گا، ہمیں یہاں لا کر وہ بھاگ گئے اور پولیس نے ہمیں گرفتار کر لیا،

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    تحریک انصاف کے حالیہ اسلام آباد احتجاج کی ناکامی کے بعد پارٹی میں شدید اختلافات نے جنم لیا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق سینئر رہنماؤں کے درمیان ناقص منصوبہ بندی اور مظاہرے کی غیر مؤثر حکمت عملی پر الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

    پارٹی کے کچھ رہنما بشریٰ بی بی کو احتجاج کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جنہوں نے ڈی چوک جانے پر اصرار کیا تھا۔پارٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والا یہ احتجاج عمران خان کی رہائی اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا، تاہم پارٹی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اس ناکامی کے نتیجے میں مختلف دھڑوں میں اختلافات بڑھ گئے ہیں۔کچھ سینئر رہنماؤں نے مرکزی قیادت پر حکمت عملی کی کمی کا الزام عائد کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارٹی میں اختلافات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کامیاب رہا، اور انھوں نے اسے پاکستان کا سب سے بڑا مارچ قرار دیا، حالانکہ اس دوران کئی مشکلات اور طاقت کے استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن حکومت کی جانب سے براہ راست فائرنگ کی گئی،پی ٹی آئی خونریزی کی حمایت نہیں کرتی، اور وفاقی و پنجاب حکومت کے غیر قانونی اور جابرانہ رویے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان اور مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا کہ عمران خان سنگجانی میں جلسے پر راضی تھے، مگر بشریٰ بی بی نے اختلاف کیا جس کے باعث پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔

    پارٹی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی بھی اس صورتحال پر ناراض نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ عمران خان نے سنگجانی میں جلسے پر رضامندی ظاہر کی تھی، مگر بشریٰ بی بی نے ڈی چوک جانے کی ضد کی، جس سے پارٹی کو بھاری نقصان ہوا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی بشریٰ بی بی چلائیں گی یا قیادت چلائے گی؟ اگر قیادت کے پاس اتنا اختیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ڈی چوک واقعے پر بہت افسوس ہوا، اور پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت کہاں غائب تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ڈی چوک میں بیٹھ بھی جاتے تو ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ پشاور سے روانہ ہونے سے پہلے مشاورتی کمیٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟ بدقسمتی سے جو لوگ پارٹی کی قیادت کر رہے تھے، وہ جلوس کی قیادت کے لیے نہیں آئے۔ علی امین گنڈاپور نے پارٹی اور کارکنوں کے دباؤ کو برداشت کیا، اور اب پارٹی کو سوچنا چاہیے کہ جو اصل چہرے ہیں، وہ کیوں پیچھے دھکیل دیے گئے؟شوکت یوسفزئی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کیے گئے؟ حکومت کو اتنا ظلم اور بربریت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    پارٹی کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ اختلافات کا ایک بڑا سبب احتجاج کی منصوبہ بندی تھی۔ بعض رہنماؤں نے زیادہ جارحانہ موقف اختیار کرنے پر زور دیا، جبکہ دیگر نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے کسی ایک مقام پر جلسے کی حمایت کی۔ اسلام آباد میں مظاہرے میں شریک افراد کی کم تعداد اور ناکافی انتظامات نے بھی احتجاج کی کامیابی پر منفی اثر ڈالا۔ دور دراز سے آنے والے کارکنوں نے انتظامات کی کمی اور ناقص سہولتوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔

    علاوہ ازیں علی محمد خان احتجاج میں کیوں نہیں آئے؟ سینئر لیڈر شپ کہاں تھی؟ سیاسی کمیٹی نے احتجاج کیلئے کونسی جگہ منتخب کی؟؟ علی محمد خان کی آڈیو سامنے آئی ہیں جس میں علی محمد خان کہتے ہیں کہ شروع میں آڈیالہ جاتا رہا ہوں، مسائل میں مصروف تھا،ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات کیساتھ بانی چیئرمین کی رہائی کا مسئلہ حل کرے، سیاسی کمیٹی نے عارضی طور پر احتجاج موخر کرنے کا کہا تھا،سیاسی کمیٹی نے اسلام آباد کے باہر احتجاج کرنے کا کہا تھامیری رائی تھی اسلام آباد میں داخل ہوکر احتجاج نہ کیا جائے، مجھے بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد رکنے کا کہا تھا،بانی چیئرمین سے ملاقاتوں اور مذاکرات کیلئے مجھے اسلام آباد میں رکوایا گیا تھا، اسلام آباد سے باہر احتجاج کرتے تو ہائیکورٹ کا آرڈر ہم پر لاگو نہ ہوتا،

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان