Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
    اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔

  • کورونا اپ ڈیٹ: اسلام آباد

    کورونا اپ ڈیٹ: اسلام آباد

    ﻭﻓﺎﻗﯽ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﯾﺪ
    50 ﮐﯿﺴﺰ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﭨﻞ ﭘﺮ ﺭﭘﻮﺭﭦ
    ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﭨﻞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﺌﮯ ﮐﯿﺴﺰ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺍﺳﻼﻡ ﺍٓﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﺰ ﮐﯽ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 997 ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
    ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﺟﺎﮞ ﺑﺤﻖﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 7 ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﺍٓﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ 113 ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺻﺤﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

  • کیا جڑواں شہروں میں موجود مشہور ریستوران باؤجی مرغ پلاؤ میں مردہ مرغیوں کو استعمال کیا جارہا ہے.. ؟

    اسلام آباد :باؤجی مرغ پلاو میں مردہ ہوئی مرغیوں کا گوشت استعمال ہونے کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر ضلعی انتظامیہ کا باؤجی مرغ پلاو کے خلاف فوری ایکشن ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر کورال اسد اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ موقع پر پہنچ گے اسسٹنٹ کمشنر کورال نے باؤ جی مرغ پلاو کھنہ برانچ سے گوشت کے نمونے اکھٹے کرتے ہوئے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجوا دئیے گئے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اسد اللہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باؤ جی مرغ پلاوکے خلاف سوشل میڈیا پر مردہ مرغیوں کا گوشت استعمال کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جسکے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی خصوصی ہدایت پر کاروائی کی گئی مرغی کے گوشت کے نمونے لیبارٹری بھیج دئیے گئے ہیں جنکی حتمی رپورٹ آنے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا جبکہ باؤ جی مرغ پلاو کے سٹاف اور مالکان سے تفتیش کی جارہی ہے اورانکا تمام تر ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے جسکی مدد سے سپلائر تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں بہت جلد حقائق منظر عام پر آ جائیں گے دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر کورال کی طرف سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ابتدائی پیش کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے اسسٹنٹ کمشنر کورال نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ دوران انسپکشن باؤجی مرغ پلاوکے سلاٹر ہاؤس کو چیک کیا گیا جو ویڈیو میں دکھائے جانے والے سلاٹر ہاؤس سے مختلف تھا اسسٹنٹ کمشنر کورال نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بتایا کہ یہ کچیٹ ایریا میں کچھ فیڈ فیکٹری ہے ہم ان سے بھی جانچ پڑتال کررہے ہیں جو اطلاع کے مطابق پنڈی سے ہے جسکے لیے ہم نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ بھی رابطہ کرلیا ہے شبہ ظاہر ہو رہا ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر باؤ جی مرغ پلاو کا نام استعمال کرتے ہوئے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے.باؤجی مرغ پلاؤ کے ایم ڈی فہیم رضا بٹ نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ یہ ہمارے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے ہمارے اپنے سلاٹر ہاؤس ہیں جہاں ہم خود صاف ستھرا گوشت بنا کر تیار کرتے ہیں. ہم نے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائر ل کرنے والے ذمہ دار کیخلاف سائبر کرائم میں بھی جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور بہت جلد سب ذمہ داران قانون کے کٹہرے میں ہونگے.

  • آزادی صحافت پر حملہ, دارالحکومت میں صحافی سے پریس کارڈ چھین لیا گیا

    اسلام آباد :پارلیمنٹری رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر بہزاد سلیمی بدمعاشی پر اترآئے پی آئی ڈی کے ملازم سے زبردستی سینٹ کے رپورٹرز کےپریس گیلری کارڈ چھین لئے اور کہا کہ آپ ان لوگوں کے کارڈ کیوں جاری کرتے ہو جب متعلقہ رپورٹر پی آئی ڈی ملازمین کے پاس پہنچے تو ان نے کہا کہ آپ کےکارڈ مجھ سے بہزاد سلیمی نےزبردستی چھین لئے ہیں جس پر نمائندگان بہزاد سلیمی جو کہ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے صدر ہیں کے پاس گئے اور کہا کہ سر آپ کے پاس ہمارے کارڈ ہیں اور آپ نے کیوں ایک سرکاری ملازم سے ہمارے کارڈ چھینے جس پر وہ غصے سے لال پیلے ہو گئے اور کہا کہ آپ متعلقہ فورم پہ جاکر بات کریں مجھ سے بحث نہ کریں جو کرنا ہےکر لیں آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہو جبکہ تک آپ پارلیمنٹری رپورٹر ایسویسی ایشن کے ممبر نہیں بنتے آپ سینٹ اور پارلیمان میں رپورٹنگ نہیں کر سکتے اور نہ میں نے آپ کو کارڈ دینے ہیں نمائندگان کے اسرار کے باوجود بہزاد سلیمی اپنی ضد پر قائم رہے متاثرہ نمائندگان نے بہزاد سلیمی کی سرکارکے کام میں مداخلت اور کارڈ زبردستی چھیننے کے واقعے پر اسپیکر نیشنل اسمبلی اور چئرمین سینٹ کو درخواست جمع کروا دی جس میں کہا گیا ہے کہ مزکورہ شخص نے سرکار کے کام میں بے جا مداخلت کرتے ہوئے آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے کی مزموم حرکت کی ہےجس پر بہزاد سلیمی کے خلاف کاروائی عمل میں لا کر متعلقہ رپورٹر کے کارڈ واپس کروائے جائیں اور انہیں آزاد رپورٹنگ کا جو آئین نے حق دیا ہے اسکے کے مطابق وہ اپنا فریضہ سرانجام دے سکیں
    ادھر میڈیا ڈائریکٹر پارلیمنٹ نے مزکورہ واقعہ کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرا سر غلط اقدام ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے پارلیمنٹ اور سینٹ میں رپورٹنگ ہر صحافی کا بنیادی حق ہےجسے کوئی سلب نہیں کر سکتا کارڈ پی آئی ڈی جاری کرتا ہے اس میں مزکورہ شخص کی بے جا مداخلت غلط عمل ہے اس واقعہ کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاھم بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا

  • اسلام آباد ملین مارچ کی تیاریاں مکمل, ڈی سی اسلام آباد نے اہل اسلام آباد کے نام پیغام جاری کردیا

    اسلام آباد ملین مارچ کی تیاریاں مکمل, ڈی سی اسلام آباد نے اہل اسلام آباد کے نام پیغام جاری کردیا

    اسلام آباد :تاریخی ملین مارچ کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں .دنیا کا طویل ترین پانچ کلومیٹر لمبا پرچم لہرایا جائے گا، جس کا وزن 80 من، چوڑائی 12 میٹر ہوگی،ملین مارچ کو پانچ حصوں میں تقسیم کررہے ہیں، جناح ایوینیو پر ڈی چوک سے ایف 8 کے اشارے تک مارچ پھیلے گا۔ جموں کشمیر سالیڈیرٹی موومنٹ کے بینر تلے پہلا سٹیج خواتین کا ہوگا، دوسرا سٹیج چیمبر آف کامرس، بلیو ایریا، مزدور یونینز کا ہوگا، تیسرا سٹیج اساتذہ، طلبہ کا ہوگا، چوتھاا سٹیج کشمیری لیڈر شپ کا ہوگا، پانچواں اور آخری سٹیج کشمیر یوتھ الائنس،سول سوسائٹی،اقلیتی برادری کا ہوگا،اس کے علاوہ پورے جلسہ گاہ کو پاکستان اور کشمیری پرچموں سے مزین کردیا گیا ہے. باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر محمد علی خان, چئیرمین کشمیر کمیٹی فخر امام سٹیج نمبر 5 اور معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان خطاب کریں گی. دوسری طرف ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اہل اسلام آباد سے طویل ترین پرچم لہرانے کے پروگرام میں شریک ہونے کی درخواست کی ہے.

  • پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    اب تک تقریبا ہر شخص یہ تسلیم کرچکا ہے کہ کھپت پر مبنی ترقی کا ماڈل جس پر پاکستان بہتر شرح نمو کو حاصل کرنے کے لئے بھروسہ کرتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ زیادہ تر مبصرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ پاکستان کو ترقی کے کلیدی محرک کی حیثیت سے برآمدات کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ اس بیانیہ نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو استحکام کے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اہم گنجائش فراہم کی ہے جس کا مقصد کھپت پر قابو پانا ہے جبکہ بیک وقت ، صنعتوں کو برآمد کرنے کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔

    تاہم ، بیشتر مبصرین کی یہ اور اس جیسی پالیسی تجاویز نے اس غلط فہمی کو جنم دیا ہے کہ معاشی عدم توازن کا ازالہ کرنے کے لئے صرف استحکام کی پالیسیاں ہی کسی نہ کسی طرح اعلی نمو کے راستے کو جنم دیتی ہیں جو کہ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچا لیتی ہیں یہ غلط ہے۔

    استحکام کی پالیسیاں جس میں مالی اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں معیشت کو اس کی بنیادی پیداواری شرح نمو کے گرد مستحکم کرتی ہیں۔ اس کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ، جب بھی جی ڈی پی بنیادی پیداواری شرح نمو سے زیادہ بڑھتی ہے ، معاشی عدم توازن سامنے آنا شروع ہوتا ہے ، جس سے پالیسی سازوں کو استحکام کی پالیسیوں کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر 2013 سے 2018 تک کے مالی سال اور ان کی جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جائے تو ان سالوں میں شرخ نمو 4 فیصد سے زائد رہی لیکن کرنٹ اکاونٹ خسارہ کل جی ڈی پی کا 1.54- سے 6.14- تک جا پہنچا ، جس کے نتائج ابھی تک موجودہ حکومت بھگت رہی ہے،

    اسی طرح کی صورتحال مالی سال 2004 سے 2008 کے درمیان پیدا ہوئی جب جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد سے زائد تھی لیکن پانچ سال بعد کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا وہ 9.2 فیصد تک جا پہنچا، ان دونوں ادوار میں خسارے کی بنیادی وجہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کا دیر بعد ہونا ثابت ہوئی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ترقی کی شرخ 5 فیصد سے اوپر لیکر جانا چاہتے ہیں تو اس کی بنایدی وجہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ مانیٹری یا مالیاتی پالیسی کی توسیع ہونی چاہیے،

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

    ہماری توجہ کو پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی طرف موڑنے کی اہمیت کو اس اہم کردار کو تسلیم کرکے مزید سراہا جاسکتا ہے جو اس نے ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں ادا کیا ہے۔ جرنل آف انٹرنیشنل اکنامکس میں شائع ہونے والے 2002 کے ایک مقالے میں ، محققین ہسپانوی مینوفیکچرنگ فرموں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ برآمدی منڈی میں داخل ہونے کا امکان زیادہ تر پیداواری فرموں کے پاس ہے۔جائزہ برائے عالمی اقتصادیات میں شائع ہونے والے 2005 کے ایک مقالے میں ، بوکونی یونیورسٹی اور سنٹر فار یورپی اقتصادی تحقیق کے محققین نے جرمن مینوفیکچرنگ فرموں کے لئے اسی طرح کے نتائج برآمد کیے۔ امریکن اکنامک ریویو میں شائع ہونے والا 2008 کا ایک مقالہ تائیوان کے الیکٹرانکس پروڈیوسروں کے لئے بھی یہی دکھایا گیا ہے۔

    معیشت کی پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے والے عین عوامل بہت زیادہ چرچ کا موضوع بنے ہوئے ہیں جو ابھی تک حل طلب نہیں ہیں۔ لیکن نسبتا یقین کے ساتھ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیداواری شرح نمو اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ملک کے معاشی وسائل پیداواری مقاصد کے لئے کس طرح موثر انداز میں اکٹھے ہوسکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی خاطر، پالیسی سازوں کو اپنی توجہ صرف وسائل کے معیار پر ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے بجائے ، اور جیسا کہ رابرٹ سولو (ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات) کہتا ہے کہ ، معاشرتی اصول اور ادارے بھی کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی جستجو میں عوامل کو محدود کرنے یا ان کو بہتر کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گوادر پورٹ پوری طرح فعال ہے، برآمدات میں کتنا ہوا اضافہ؟ مشیر تجارت نے بتائی اہم باتیں

    اس پر غور کرتے ہوئے ، ایسی کوئی بھی پالیسی جو کسی ملک کے وسائل یعنی زمین ، مزدوری اور سرمایے کے مابین تعامل کو سہولت فراہم کرتی ہے یا اس طرح کے وسائل کے معیار کو بہتر بناتی ہے وہ معیشت کی پیداوری کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
    بہت سے معاملات میں ، قدیم اور ناقص تحقیق شدہ قواعد و ضوابط کی بہتات معاشی وسائل کو اکٹھا کرنے میں کلیدی رکاوٹ پیش کرتی ہے۔ دوسرے معاملات میں ، مناسب قوانین کا فقدان وہ ہے جو مارکیٹوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    اسی طرح علاقائی وسطی اور جنوبی ایشین معیشتوں کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر اور سفارتی راہداری میں رکاوٹوں کا ازالہ کرنا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کی اصلاح ایک اور شعبہ ہے جس پر ضروری توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے استحکام کے بیشتر اقدامات پہلے ہی کر رکھے ہیں ، لہذا توجہ مرکوز کو پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کی طرف ہونا چاہئے۔ توقع ہے کہ ایک سال کے عرصے میں معیشت مستحکم ہونے لگے گی۔ تاہم ، یہ سارے اسباب کم و بیش چار فیصد کی معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔

    اور اب اگر حکومت ان اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی تو الیکشن کے قریب حکومت کو ایک بار پھر پرانے گھسے پٹے نعروں اور ترقی کے اشاروں کا سہارا لینا ہوگا جو کہ عین ممکن ہے کہ ایلکشن میں کامیاب نہ کرو سکیں،

  • وزیر اعظم کی واپسی ,استقبال کے لیے معاون خصوصی علی نواز کی قیادت میں قافلہ ائیرپورٹ روانہ

    وزیر اعظم کی واپسی ,استقبال کے لیے معاون خصوصی علی نواز کی قیادت میں قافلہ ائیرپورٹ روانہ

    اسلام آباد :وزیر اعظم پاکستان عمران خان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد وطن واپس آج 5 بجے پہنچ رہے ہیں. کارکنان تحریک انصاف وزیر اعظم کے استقبال کے لیے آبپارہ پہنچ گئے ہیں جہاں سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی علی اعوان کی قیادت میں قافلہ نیو ائیر پورٹ اسلام آباد کے لئے روانہ ہوچکا ہے جہاں وزیر اعظم عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا. یاد رہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کل وطن واپس پہنچنا تھا طیارے میں فنی خرابی کے باعث وہ آج پاکستان پہنچیں گے

  • بھارتی میڈیا کا مقبوضہ کشمیر کے 22 اضلاع میں کرفیو کی نرمی یا خاتمے کا دعوی جھوٹ پر مبنی ہے,کشمیر یوتھ الائنس

    بھارتی میڈیا کا مقبوضہ کشمیر کے 22 اضلاع میں کرفیو کی نرمی یا خاتمے کا دعوی جھوٹ پر مبنی ہے,کشمیر یوتھ الائنس

    اسلام آباد : بھارتی میڈیا کا مقبوضہ کشمیر کے 22 اضلاع میں کرفیو کی نرمی یا خاتمے کا دعوی جھوٹ پر مبنی ہے، ایسا دعوی کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران کے اقوام متحدہ میں خطاب کے بعد وادی میں مزید سختی کردی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار کشمیر یوتھ الائنس کے رہنماؤں سعد ارسلان صادق، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی، کاشف ظہیر کمبوہ، طہ منیب آصف خورشید رانا، نوید احمد ودیگر نے کیا، انہوں نے کہا کہ 55 دن سے مقبوضہ وادی میں زندگی مفلوج کردی گئی ہے، وادی میں دورہ کرنیوالی بھارتی خواتین سماجی کارکنان کے مطابق 13000 نوجوانوں کو زیرحراست رکھا گیا ہے، جن کے بارے میں ان کے والدین بے خبر ہیں۔ فون، انٹرنیٹ سروس، ٹیلیویژن نشریات مکمل بند ہے جبکہ سڑکیں ویراں، ٹریفک بھی مکمل طور معطل ہے۔ قائدین نے تشویش کا اظہار کیا کہ آئندہ آنے والے دن مقبوضہ وادی کیلئے مزید خوفناک ہوسکتے ہیں، بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری اور معصوم عوام پر جبر پر اندیشہ ہے۔ کشمیر یوتھ الائنس کے رہنماؤں نے بتایا کہ حریت رہنماوں کو عالمی برادری کو خط تک لکھنے کی اجازت نہیں۔ یوتھ الائنس نے کشمیر کا مقدمہ احسن انداز میں لڑنے پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔

  • نظریہ پاکستان کونسل کے زیراہتمام "جنگِ ستمبر کا ادبی محاذ: جذبہ سفر میں ہے”تقریب کل ہوگی

    نظریہ پاکستان کونسل کے زیراہتمام "جنگِ ستمبر کا ادبی محاذ: جذبہ سفر میں ہے”تقریب کل ہوگی

    اسلام آباد: نظریہ پاکستان کونسل کے معروف ادبی و فکری ماہانہ سلسلے نقطہئ نظر کے تحت کل 17ستمبر 2019ء سہ پہر 3:30 بجے ایوانِ قائد فاطمہ جناح پارک میں ایک خصوصی تقریب "جنگِ ستمبر کا ادبی محاذ: جذبہ سفر میں ہے”کے عنوان سے ترتیب دی گئی ہے جس میں جڑواں شہروں کے دانشور، جنگِ ستمبر 1965ء کے دوران تحریر کئے گئے یادگار ولولہ انگیز قومی نغموں اور ترانوں، جرات آفرین مضامین، ڈراموں اور افسانوں کے حوالے سے اِن تخلیقات کے لکھاریوں اور پیش کرنے والے فن کاروں کو خراجِ تحسین پیش کریں گے۔ تقریب میں معروف دانشور خاور اعجاز، یوسف عالمگیرین، ڈاکٹر ارشد ناشاد،نعیم فاطمہ علوی، ڈاکٹر حمیرا اشفاق اور طاہر یاسین طاہر اپنے مقالے پیش کریں گے۔