Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • گداگرمافیا کا اسلامآباد میں راج، پولیس موثر کاروائی میں ناکام!

    گداگرمافیا کا اسلامآباد میں راج، پولیس موثر کاروائی میں ناکام!

    اسلام آباد میں بھکاریوں کی پکڑ دھکڑ کا معامسلسلہ شروع ہو چکا ہے- بھکاریوں کی طرف سے کھیپ کا راولپنڈی سے سپلائی کا انکاشاف کیا گیا ہے- بھکاریوں نے اپنے ڈیرے روات، اڈیالہ، چکری روڈ کے قرب و جوار میں ڈال رکھے ہیں- راولپنڈی پولیس جڑواں شہروں میں سپلائی ہونے والے گداگروں کے خلاف کاروائی میں ناکام رہی ہے-

    جڑواں شہروں کے ٹریفک سگنلز پر نظر آنے والے پیشہ ور گداگرراولپنڈی سے ٹھیکیداروں کی مدد سے اسلام آباد داخل ہوتے ہیں- وفاقی پولیس نے متعدد بار گداگروں کے خلاف کاروائیاں کی اور مقدمات کابھی اندراج کیا – راولپنڈی پولیس کے صدر زون کے نااہل افسران کی بدولت جڑواں شہروں میں گداگروں کی تعداد میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے- گداگروں کے ٹھیکداروں کی جانب سے پولیس کے کرپٹ افسران کو منتھلی بھی دی جاتی ہے، زرائع

    کچھ سال ستمبر میں قبل وفاقی پولیس کے اہلکار گداگروں کی پشت پناہی کرتے پائے گئے تھے- پولیس کے ایک اے ایس آئی، 2 ہیڈ کانسٹیبل اور 5 کانسٹیبلز کو گرفتار کیاگیاتھا- راولپنڈی پولیس کی جانب سے پیشہ ور گداگروں کی پشت پناہی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف تاحال ایسی کوئی کاروائی عمل میں نہی لائی گئی- راولپنڈی میں قائم گداگروں کی پناہ گاہوں کے خلاف ایکشن لے کرمعاشرے کے ناسور پر قابو پایا جاسکتاہے – آر پی او، سی پی او اور ایس پی صدر کی جانب سے تاحال گداگروں کے خلاف کوئی حکمت عملی نہی اپنائی گئی-

    زرائع کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں سے گداگروں کی کھیپ راولپنڈی خصوصی طور پر منگوائی جاتی ہے- گداگروں کی کھیپ میں معزور افراد، عورتیں اور بچے شامل ہوتے جو معائدے کے تحت لائے جاتے ہیں- معزور بچوں کے والدین اپنے بچوں کومعائدے کے تحت ٹھیکے پر دیتے ہیں- مافیا صبح کے وقت گاڑیوں میں پیشہ ور گداگروں کو مختلف شاہراہوں کے سگنلز، شاپنگ مالز پر چھوڑتے ہیں- عورت اور بڑے بچوں کے ساتھ ایک ایک معصوم اورکمسن بچہ ، معذورشخص حوالے کرتے ہیں- معصوم اور کمسن بچوں کو بے ہوشی کی ادویات دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ سارا دن سوتے ہیں- گداگروں سے زیادہ ترمعائدے 5 سے 6 ماہ کا کیا جاتا ہے- معائدے کے اختمام پر گداگروں کو گاڑیوں پر واپس پنجاب کے علاقوں میں واپس چھوڑ دیا جاتا ہے-

  • ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس کلیکشن کا دعوہ کردیا۔

    ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس کلیکشن کا دعوہ کردیا۔

    اسلام آباد(حمزہ رحمن)
    اسلام آباد ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس کلیکشن کا دعوہ کردیا۔
    حکام کے مطابق جولائی سے دسمبر 2020 تک محکمے نے ریکارڈ ٹیکس اکھٹا کیا، باغی ٹی وی کی تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز کی جانب سے اس دورانیہ میں 6 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔
    بلال اعظم ڈائیریکٹر ایکسائز اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کرونا کے حالات کے باوجود ٹیکس اکھٹا کرنے کی ریکارڈ وصولی آن لائن سسٹم کی وجہ سے ممکن ہوئی، صارفین کو یہ آسانی جدید سہولیات کی وجہ کے سبب ممکنہ بنائی گئی_
    بلال اعظم کا کہنا ہے کہ چیف کمشنر عامر علی احمد کے ویژن کے مطابق ٹیکس وصولی کو آسان بنایا گیا_
    اس مد مین گھر بیٹھے ٹیکسوں کی آن لائن ادائیگی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کا انقلابی اقدام ہے_
    دوسری طرف عام شہریوں کا کہنا ہے کہ قومی خزانہ میں رقوم کا اکھٹا ہونا خوش آئندہ بات ہے مگر آخر یہ اکھٹی ہونے والی رقم جاتی کہاں ہے؟ شہری قومی خزانے میں ٹیکس وصولی پر عوامی سطح پر ریلیف کی راہ تک رہے ہیں۔

    Three Years Jail Time on Sales Tax Registration Failure

    یاد رہے کہ ایف بی آر نے سالانہ ٹیکس دہندگان سے اپیل کی تھی کہ وہ آن لائن سہولت بخش اقدامات سے فائدہ اٹھائیں اور آخری تاریخ یعنی 8 دسمبر 2020 تک سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کو یقینی بنائیں جبکہ کمپنیز کو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں دسمبر کے آخر تک کی مہلت دے دی گئی تھی۔ جس کے بعد بھاری جرمانوں کے نوٹسس جاری کرنے کا عمل جاری ہے۔

  • وزیراعظم کی رہاشی علاقہ کی پولیس قبضہ مافیا بن گئی؟

    وزیراعظم کی رہاشی علاقہ کی پولیس قبضہ مافیا بن گئی؟

    موضع ملوٹ کی اراضی پر قبضے کا معاملہ شدد اختیار کر گیا. تھانہ بنی گالہ کی حدود میں واقع موضع ملوٹ کی ارضی کا قبضے سلسلہ راتوں رات بھی جاری، تھانہ بنی گالہ کے ایس ایچ او عاصم کو مقامی مالکان کی اطلاع کے باوجود سلسلہ نا رک سکا، تھانہ بنی گالہ کا عملے کی موجودگی میں ہیوی مشینری سے رات گئے قبضے کا سلسلہ جاری ہے، سول عدالتوں اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ایس ایچ او بنی گالہ کاروائی سے گریزاں
    اس حوالے سے (ًمظاہرین) تصدق شاہ کا کہنا ہے کہ بارہاایس ایچ او عاصم کو قبضے کی اطلاع دی گئی مگر پولیس کی موجودگی میں اراضی پر ڈویلپمنٹ کا کام جاری ہے. پولیس کی موجودگی میں موقع پر مسلح افراد موجود ہیں
    تصدق شاہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے ہی قبضے کے سلسلے میں اطلاع دینے پر ہم پر ہی جھوٹی ایف آر دی گئی تھی.
    پولیس کی موجودگی میں ہیوی مشینری کا کام کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس اس سارے کام میں ملوث ہے. ہماری درجنوں درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا.
    عدالت کے کلئیر احکامات کے باوجود ہماری درخواست پر آیف آئی آر نہی دی جارہی، تصدق شاہ کی دہائی
    سابقہ ایف آئی آر جھوٹی ثابت کرنے کے لیئے کل بنی گالہ کے احتجاج اور پریس کانفرنس میں ثبوتوں سے پردہ اٹھائیں گئے، اس کے ساتھ ساتھ انکا کہنا تھا کہ کل تھانہ بنی گالہ کے باہر احتجاج پر مجبور ہیں.

  • ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت

    ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت

    اسلامآباد (حمزہ رحمن) ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت، ایسا اس موقع پر ہوا جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آزربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف کی ملاقات ہوئی.اس موقع پر صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان آزربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ پاکستان آزربائیجان تعلقات مشترکہ عقیدے ، تاریخی اور ثقافتی روابط پر مبنی ہی.
    صدر مملکت نے ناگورنو کاراباخ کی آزادی پر حکومت اور آزربائیجان کے عوام کو مبارکباد پیش کی، جبکہ پاکستان آزربائیجان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا کا اعلان بھی کیا، انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم بڑھانے اور ثقافتی وتجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے.
    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اسلام آباد میں پاک – آذربائیجان -ترکی سہ فریقی مذاکرات سے سہ رخی تعلقات اور برادر ممالک کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہو گا، صدر عارف علوی صدر مملکت نے کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے ممبر کی حیثیت سے آزربائیجان کے کردار کو سراہا.اس موقع پر آزربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارتی اور ثقافتی تعاون میں اضافے کی صلاحیت موجود کا اعتراف کیا.
    جیہون بیراموف آزری وزیرِ خارجہ نے نگورنو کاراباخ پر آزربائیجان کے موقف کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ اداکیا، ان کا اعلامیہ تھا کہ آزربائیجان مسئلہ کشمیر پر تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا.

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قلت،  ذخیرہ اندوزی  اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام  ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیمانڈ میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔
    اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ہر دور میں کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ جہاں پیٹرول کی کمی ہو وہاں اسے نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ جو عناصر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
    جبکہ ٹاپ کی 12کمپنیز جو اس میگا کرپشن میں شامل تھیں ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور جن لوگوں نے باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پیسہ لگاہا اور مصنوعی قلت پیدا کی تا کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔

  • سینیٹر رحمان ملک نے  بھارت  داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    سینیٹر رحمان ملک نے بھارت داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت خود داعش کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں داعش کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش ایک عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
    کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ای اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہے گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی۔
    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔

  • ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوری کے خلاف ایکشن، دو بڑی فلور ملز سیل

    ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوری کے خلاف ایکشن، دو بڑی فلور ملز سیل

    ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوری کے خلاف ایکشن، دو بڑی فلور ملز سیل

    ضلعی انتظامیہ کا ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوری کے خلاف سخت ایکشن

    ڈی سی اسلام آباد محمد حمزہ شفقات کے ہمراہ ٹائیگر فورس بھی متحرک

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی بڑی کاروائی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کرنے کرنے والی دو بڑی فلور ملز سیل

    ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات خود انڈسٹریل ایریا کے دورے پر موجود اور کاروائی کر رہے ہيں

    ڈی سی اسلام آباد نے آٹے کی بوريوں کا وزن بھی چيک کيا اور مختلف ملز سے آٹے کے سيمپلز بھی لیے گئے

    ذرائع کے مطابق اب تک دو بڑی فلور ملیں سیل کرنے کے علاوہ ملاوٹ کرنے والی ملوں کے خلاف کاروائی اور جرمانے

    ملوں میں کام کرنے والے ورکرز سے ڈی سی اسلام آباد کی بات چیت

    کورونا ایس او پیز کا جائزہ، ایس او پیز کے مطابق کام نہ کرنے والی ملز کو نوٹسز

    ڈی سی اسلام آباد میں ایس او پیز کے مطابق کام کرنے والی ملز کو سراہا

  • پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
    اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔

  • کورونا اپ ڈیٹ: اسلام آباد

    کورونا اپ ڈیٹ: اسلام آباد

    ﻭﻓﺎﻗﯽ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﯾﺪ
    50 ﮐﯿﺴﺰ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﭨﻞ ﭘﺮ ﺭﭘﻮﺭﭦ
    ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﭨﻞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﺌﮯ ﮐﯿﺴﺰ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺍﺳﻼﻡ ﺍٓﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﺰ ﮐﯽ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 997 ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
    ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺩﺍﺭﺍﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﺟﺎﮞ ﺑﺤﻖﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 7 ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﺍٓﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ 113 ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺻﺤﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….