Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کیسز کی سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ نے کورٹ روم نمبر 3 میں کیسز کی سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی کنونشن سنٹر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کرلیا.عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس معاملہ پر شائد واجبات بعد میں ادا کر دیئے گئے تھے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سوموٹو کیس میں سابق وزیر اعظم کو بھی نوٹس کیا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کنونشن سنٹر کو ادارہ کی پالیسی کے مطابق چلائیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے واجبات ادائیگی کی معلومات لے لینے دیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ معلومات لیں ہمیں کچھ دیر میں بتادیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا.

    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس،رپورٹ طلب
    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس کی سماعت ہوئی،آئینی بینچ نے التواء درخواست پر کاروائی دو ہفتوں کےلئے ملتوی کردی،عدالت نے ایف آئی اے اور ایف بی آر کو غیر ملکی خفیہ بنک اکاؤنٹس پر رپورٹ طلب کرلی،دوران سماعت وکیل حافظ احسان نے دلائل پیش کیے کہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم ہوچکی ہے، قانونی پراسس کے تحت خفیہ اکاؤنٹس اور ریکوری پر کارروائی چل رہی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیس میں ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تمام ایجنسیوں کو رپورٹ کے احکامات جاری ہوئے،ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ ایف بی آر اور ایف آئی اے کا ہے، ایجنسیوں کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیس کو ختم کرنا ہے تو رپورٹ دے دیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ایف آئی اے اور ایف بی آر سے غیرملکی خفیہ بینک اکاؤنٹس اور لوٹی گئی رقم کی واپسی پر متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی اور التوا کی درخواست پر 2 ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کردی۔

    سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بینچ میں چلے گا،جسٹس امین الدین
    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے انسداد دہشت گردی کیس پر ازخود نوٹس کیس درخواست گزار کی استدعا پر نمٹا دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ہے، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بنچ میں چلے گا، سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بینکنگ آرڈیننس کے تحت اپیل کے معاملے پر کیس نمٹا دیا،آئینی بینچ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سروس اسٹرکچر سے متعلق کیس کی سماعت بھی ملتوی کردی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے متعلق تمام مقدمات یکجا کر کے فریقین کو نوٹس جاری کردیے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ نے الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق کیس کو غیر مؤثر ہونے کے سبب نمٹا دیا۔

    سپریم کورٹ میں سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی توہین عدالت کیس میں وکیل کو جواب کے لیے مہلت دے دی گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی پیش نہیں ہوئیں، اگر کوئی فورم اختیار کیے بغیر کارروائی کرے تو ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں پر یاسمین عباسی ذاتی حیثیت میں پیش ہوتی رہیں، معاملہ ابھی تو غیر مؤثر نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، ہم کیوں سابق وفاقی محتسب کی طرف جا رہے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا وفاقی محتسب کی کارروائی ہائیکورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے، یاسمین عباسی کو نوٹس کر کے کارروائی سے آگاہ کیا جائے، حکمِ امتناع کے بعد محتسب کی کارروائی توہینِ عدالت تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ توہینِ عدالت کا نوٹس چیئرمین پرسن وفاقی محتسب کو جاری کیا گیا، یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، موجودہ وفاقی محتسب کو نوٹس کردیں، وہ آکر بتا دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے اس کا کیا ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کے جج اور وفاقی محتسب دونوں نے ایک دوسرے کو توہینِ عدالت نوٹسز جاری کیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیئرمین محتسب آ کر بتادیں گے وہ معاملہ چلانا چاہتے یا واپس لینا چاہتے ہیں،عدالت نے وکیل وفاقی محتسب کو معاملے پر ہدایات لےکر جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

  • بیرون ملک کسی پاکستانی سے بدتہذیبی قابل قبول نہیں، ترجمان دفترخارجہ

    بیرون ملک کسی پاکستانی سے بدتہذیبی قابل قبول نہیں، ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ بیرون ملک کسی پاکستانی سے بدتہذیبی قابل قبول نہیں،

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسی کے معاملے پر بھی برطانوی حکام سے رابطے میں ہے، اور خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے،پاکستانی شہری دنیا میں کہیں بھی ہوں باعثِ احترام ہیں،وزیراعظم محمدشہبازشریف نے باکو میں کاپ29 سربراہ اجلاس میں شرکت کی،ریاض میں عرب اسلامی سربراہ کانفرنس میں فلسطین پرپاکستان کے موقف سے دنیا کوآگاہ کیا۔ نائب وزیراعظم کل سے متحدہ عرب امارات کا دور ہ کررہے ہیں۔ افغانستان سے متعلق روسی صدرکے نمائندہ خصوصی آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    پاکستان آنےوالی امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے۔ترجمان دفترخارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ برس ہونے والی چیمپئنز ٹرافی پر آئی سی سی سے رابطے میں ہے،پاکستان دیگر ممالک میں ان کی انتظامیہ میں تقرریوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرتا، پاکستان آنےوالی امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے۔کشمیر میں سیاسی قیدیوں پر سنجیدہ تحفظات ہیں، اُن میں سے بہت سے سیاسی قیدیوں کو گنجائش سے زیادہ بھری جیلوں میں رکھا گیا ہے، بلوچستان میں بھارتی سرگرمیوں پر تحفظات ہیں، محمد ولی کے متلعق ہمارے پاس کوئی تفصیلات نہیں ماسوائے جو پولیس حکام نے شئیر کی۔ افغان حکام پاکستان کے صبر کا امتحان نہ لیں،

    چینی شہریوں اور اداروں کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے چین کی جانب سے اپنی سیکیورٹی ٹیمز پاکستان بھیجنے کے معاملے پر کہا کہ میڈیا پر چلنے والی خبریں جھوٹی خبریں ہیں، پاک چین دوستی کو ان پروپیگنڈہ سے خراب نہیں کیا جاسکتا ہے،چینی شہریوں اور اداروں کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، پاک چین دوستی اس طرح کی قیاس آرائیوں سے خراب نہیں ہو سکتی.

  • ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ذیابیطس اور اس کی روک تھام بارے میں آگاہی کو اجاگر کرنا ہے۔ آج، پاکستان انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر ذیابیطس کے شکار لاکھوں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ 2024 سے لے کر 2026 تک کے دورانیے میں ذیابیطس کے عالمی دن کا موضوع "ذیابیطس اور فلاح و بہبود” ہے جس میں ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور ان کی مدد تک رسائی پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دنیا میں سائنسی میدان میں بے شمار ترقی کے باوجود ہر دسواں شخص ذیابیطس کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ذیابیطس کے 50 فیصد مریض اب بھی غیر تشخیص شدہ ہیں۔ اس سے ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی بیماری، گردے کی خرابی، اعصابی عوارض، فالج اور اندھے پن جیسی پیچیدگیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی ذیابیطس کے چیلنج کا سامنا ہے اور ہمارے تقریباً 33 ملین شہری ذیابیطس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ اس خطرناک شرح کی وجہ سے پاکستان سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریضوں کی آبادی رکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان میں مزید 11 ملین بالغ افراد میں اس مرض کی ابتدائی علامات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ سے بروقت علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے خطرے کے بڑے عوامل میں جینیاتی تغیرات، خوراک اور غیر فعال طرز زندگی کے علاوہ ماحولیاتی اور جغرافیائی وجوہات شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان ذیابیطس کے مریضوں میں اس بڑھتے ہوئے اضافے پر قابو پانے اور ذیابیطس کے مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ حکومت نے غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اہم اصلاحات شروع کی ہیں، جن میں ذیابیطس کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔ حکومتی سطح پر ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے مختلف پروگرام تیار کیے جا رہے ہیں۔ وفاق میں ہم وزارت صحت کے تعاون سے ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے وزیر اعظم کا پروگرام (Prime Minister’s Program for Prevention and Control of Diabetes Mellitus) شروع کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد وفاقی علاقوں میں اس بیماری پر قابو پانا اور تمام صوبوں میں ذیابطیس کے مریضوں کے لیے یونیورسل ہیلتھ کوریج، تشخیص اور علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آگاہی اور طرز زندگی بہتر بنانا ہے۔ حکومت پاکستان سب کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ ایک خوشحال مستقبل کے لیے، معیشت کا انحصار شہریوں سے بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے پر ہے۔صحت مند پاکستان ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

  • عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    اسلام آباد (محمد اویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز میں انکشاف ہوا ہے کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور عراق میں پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزہ پابندیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اراکین کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا میں متحدہ عرب امارات کے مسئلے پر غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی گئی ہے۔ غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور متعلقہ اداروں کو کام میں مشکلات پیش آئی ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خان زادہ نے کہا کہ وزارت امور خارجہ اور وزارت اوورسیز پاکستانی کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے کہ یو اے ای والا معاملہ ان کیمرہ کیا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کرنے کے لیے اراکین کی مشاورت سےکمیٹی فیصلہ کرے گی۔اراکین کمیٹی نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی نوعیت کا معاملہ ہے۔ اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کر دیا جائے۔رکن کمیٹی سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ آئین کے تحت کوئی بھی شہری پبلک پٹیشن کمیٹی کو ارسال کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک عوامی فورم ہے اور یہ فورم عوامی مسائل کو سن سکتا ہے ۔عراق میں اورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں کو تین سے چار سو ڈالر میں نوکریوں پر رکھا جاتا ہے۔

    سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔پاکستانی شہریوں سے عراق پہنچنے پر پاسپورٹ ضبط کیا جاتا ہے۔سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ زائرین واپس پاسپورٹ لینے کے لیے بھی نہیں آتے۔جس پر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ پاکستانی پاسپورٹ کی بےعزتی ہو رہی ہے۔اس حوالے سے متعلقہ وزارتوں کو اقدامات اٹھانے چاہیے۔قائمہ کمیٹی نے اس معاملہ پرتفصیلی بحث کی۔سیکرٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام وزارت اوورسیز میں آجائیں تاکہ ایک مشترکہ گائیڈ لائن بنائی جا سکے اور درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔وزارت خارجہ امور کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔بیورو آف امیگریشن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے وزارت اوورسیز کو ہدایت کی کہ وہ وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو حل کریں۔

    او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی ایسوسی ایشن کے صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ 10 سال پہلے 543 ملین آئسکو کو ادا کیے گئے تھے مگر سوسائٹی کے لیے علیحدہ سے گرڈاسٹیشن ابھی تک نہیں لگایا گیا۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سکول پارک اور بجلی دستیاب نہیں ہیں اور ابھی تک اس معاملہ کو ترجیح بنیادوں پر حل نہیں کیا جا سکا۔جس پر ایم ڈی او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی کی ٹوٹل زمین میں سے450 کنال اراضی 1992 سے تنازعات کا شکار ہے جو کہ ابھی تک سوسائٹی میں شامل نہیں ہو سکی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر زیشان خانزادہ نے کہا کہ سوسائٹی کی تنازعات والی اراضی کے معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ سوسائٹی میں ڈویلپمنٹ اور دوسرے تعمیراتی کام جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچ سکیں۔

    ایم ڈی اے او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ابھی تک وہاں پر آبادی نہیں ہے۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے جو کہ پاکستان کو سالانہ 32 ارب ڈالر بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے سوسائٹی میں آبادی نہیں ہو رہی لہذا سہولیات میں بہتری لائی جائے۔اراکین کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی سرکاری طور پر کام کر رہی ہے اور اوورسیز پاکستانیز کا اس پر اعتماد ہے کہ انہیں بہترین سہولیات ملیں گی لیکن یہ سوسائٹی مسائل سے دو چار ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی وارا کین کمیٹی نے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں آئیسکو، ایس این جی پی ایل کے حکام کو طلب کر لیا تاکہ وہ اس معاملہ پر کمیٹی کو مفصل بریفنگ دیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ اوورسیز ہاؤسنگ سوسائٹی میں کتنے پلاٹ اہل لوگوں کو الاٹ کیے گئے اور کتنے پلاٹ قواعدو ضوابط سے ہٹ کر الاٹ کیے گئے کی تفصیل کمیٹی کے اگلے اجلاس میں دی جائے ۔

    کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز ضمیر حسین گھمرو، راجہ ناصر عباس،گردیپ سنگھ اور شہادت اعوان کے علاؤہ متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی ۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • علیم خان کی بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت

    علیم خان کی بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیرصدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلی سطح اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں زیرو ٹالرنس اپناتے ہوئے کرپٹ افسران و اہلکاران کے خلاف بلا امتیاز سخت ایکشن کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے چیئرمین این ایچ اے کو کاروائی کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی سفارش نہ مانی جائے، تمام سیٹوں پر اہل اور قابل افسران تعینات ہونے چاہئیں۔ اجلاس میں چاروں صوبوں میں این ایچ اے کے زیر تکمیل منصوبوں پر غور کر تے ہوئے کام کی رفتار بڑھانے سمیت اہم فیصلے بھی کئے گئے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہاکہ لاہور، سیالکوٹ اور کھاریاں سے اسلام آباد موٹروے کو 4کی بجائے 6 ” لین "کا ہونا چاہیے۔ این ایچ اے موٹرویز پر بیرئیرز ختم کرنے اورالیکٹرانک ٹول پلازوں کی تجویز کے منصوبے پر کام کرے۔ اجلاس میں بیلا سے آواران اور ژوب سے لورالائی کی شاہراہوں سمیت کالاشاکاکو سے ملتان روڈ نئے بائی پا س اور سگیاں سے راوی پل تک سڑکوں کی تعمیر پر غور کیا گیا ۔ این ایچ اے کے مارگلہ ہائی وے کی توسیع اور اُسے ایم ون سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی اجلاس میں شامل کیا گیا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ صوبے بھی این ایچ اے کے ساتھ نئی سڑکوں اور ہائی ویز کی تعمیر میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تمام شاہراہوں اور موٹرویز کو کیمروں اور سی سی ٹی وی سے منسلک کیا جائے۔

    پاکستان میں سرمایہ کاری،معیشت کی بحالی میں عبدالعلیم خان کا کردار اہم

  • دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    وی پی اینز کی بندش یا بلاکنگ کا معاملہ ہوشر با انکشافات سامنے آ گئے

    غیر رجسٹرڈ وی پی اینکی بندش ملکی سالمیت کے لئے وقت کی اہم ضرورت ہے,پی ٹی اے کی جانب سے بے تحاشا غیر قانونی یو آر ایلز اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے والی ویب سائٹس کو تصدیق کے بعد بلاک کیا جا رہا ہے، ان یو آر ایلز اور ویب سائٹس کی فرانزک چھان بین کے بعد ہو شربا انکشافات سامنے آئے ہیں،دہشتگرد وی پی اینز کا استعمال کر کے یہ عناصر اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں ، دہشتگرد ان غیر قانونی وی پین اینز کے ذریعے پروپیگنڈہ اور جعلی معلومات کی تشہیر کر ر ہے ہیں ،اس سلسلے میں متعدد اکاؤنٹس کی شناخت کر لی گئی ہے جن کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے ،گمراہ کن مواد کا پھیلاؤ ان غیر رجسٹرڈ وی پی این کے ذریعے آسانی سے ممکن ہے ،دہشت گرد اپنی شناخت چھپا کر دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں، غیر مصدقہ وی پی این کے استعمال سے دہشت گرد بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں جسکا فوری تدارک ضروری ہے،

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • وفاقی وزیر داخلہ کی ہنگری کے ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ کی ہنگری کے ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے ہنگری کے وزیر داخلہ سنیڈور پنٹیرکی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے دوران اتفاق ہوا کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کیلئے ہنگری کا وفد پاکستان آئے گا، اعلی سطح وفد کو جلد پاکستان بھجوانے کی یقین دہانی کروا دی،ہنگری غیر قانونی امیگریشن،انسانی سمگلنگ اور نادرا سی آر ایم ایس سے متعلق معاونت فراہم کریگا،وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہنگری کے وزیر داخلہ کو بھی دورہ پاکستان کی دعوت دی.ہنگری کے وزیر خارجہ بھی رواں برس دسمبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے.پاکستان اور ہنگری میں سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگِرہ بھرپور طریقے سے منانے پر اتفاق .

    محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ہنگری کے وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت دی .وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہنگری کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا. وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہنگری کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے.دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے وفود کے تبادلے ضروری ہیں،

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں 62 مقدمے

    عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں 62 مقدمے

    عمران خان کے خلاف اسلام آباد پولیس میں 62 مقدمات درج ہیں، اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ لیگل ساجد چیمہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا

    اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ نے عدالت میں عمران خان کے خلاف 62 مقدمات کی عبوری رپورٹ جمع کرانے کی استدعا کی لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے عبوری رپورٹ کی بجائے حتمی تفصیلی رپورٹ 18 نومبر کو جمع کرانے کا حکم دیدیا،عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے کیس میں عدالت اور پولیس کا مکالمہ ہوا، پولیس کے ڈی ایس لیگل نے استدعا کی کہ ہمیں کل شام کو ہی نوٹس ملا ہے اس لیے کچھ وقت دیدیا جائے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ یہ پھر آپکے آفس کی غلطی تھی ہم نے تو پرسوں نوٹس کر دیا تھا، ڈی ایس پی ساجد چیمہ نے کہا کہ عدالت کہے تو میں عبوری رپورٹ پیش کر دیتا ہوں، حتمی بعد میں دے دوں گا، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ عبوری والی طرف نہ جائیں، کل حتمی اور تفصیلی رپورٹ پیش کریں،ڈی ایس پی ساجد چیمہ نے استدعا کی کہ ہمیں رپورٹ پیش کرنے کیلئے پیر تک کا وقت دیدیا جائے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ اتنا وقت کیوں چاہیے، کیا زیادہ ایف آئی آرز ہیں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ نے مقدمات کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ کیسز نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی آئینی بینچ میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر بھی 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں۔

    آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف دے دیا، قاضی فائز عیسی کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی، وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ کوئی بھی شخص براہ راست چیف جسٹس تعینات نہیں ہوسکتا، پہلے بطور جج تعیناتی ہوتی ہے پھر چیف جسٹس بنایا جاتا ہے، وزیراعلی بلوچستان نے قاضی فائز عیسی کی تعیناتی کی سمری بھی نہیں بھیجی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظرثانی میں دوبارہ اصل کیس نہیں کھول سکتے،عدالتی فیصلوں کیخلاف یہ کوئی اپیلیٹ بنچ نہیں ہے،

    آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی
    علاوہ ازیں ایک دوسرے کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ماحولیات سے متعلق تمام معاملات کو دیکھیں گے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملک میں ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں،جسٹس نسیم حسن شاہ کو خط آیا تھا کہ اسلام آباد کو صنعتی زون بنایا جا رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، گاڑیوں کا دھواں ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہے، کیا دھویں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی۔

    مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم، ماربل فیکٹری کام کر رہی ، سوات کےخوبصورت مقامات آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ لاہور شہر ایک سائڈ سے واہگہ بارڈر دوسری جانب سے شیخوپورہ تک پھیل گیا ہے،زرعی زمینوں پر ڈی ایچ اے اور دیگر سوسائیٹیز بنائی جا رہی ہیں،جو علاقہ زلزلے کی زد میں نہیں آتے وہاں ہائی رائز عمارتیں بنائی جائیں، آنے والی نسلوں کےساتھ ہم کیا سلوک کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باعث کھیت کھلیان ختم ہو رہے، کاشت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، قدرت نے زرخیز زمین دی ہے لیکن سب اسے ختم کرنے پر تلے ہوئے، آپ اپنی نسلوں کے لیے کیا کر کے جا رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پنجاب کی حالت دیکھیں سب کے سامنے ہے، اسلام آباد میں بھی چند روز قبل ایسے ہی حالات تھے،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ انوائرمنٹ پروٹیکشن اٹھارٹی اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی؟ 1993ء سے معاملہ چل رہا ہے، اب ختم کرنا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پورے ملک کو ماحولیات کے سنجیدہ مسئلے کا سامنا ہے، پیٹرول میں کچھ ایسا ملایا جاتا ہے جو آلودگی کا سبب بناتا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم اور ماربل فیکٹری کام کر رہی ہیں، سوات میں چند ایسے خوبصورت مقامات ہیں جو آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،آئینی بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    بے بنیاد مقدمہ بازی،آئینی بینچ نے درخواست گزاروں کو کیا جرمانہ
    آئینی بینچ نے بےبنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزاروں کو آج مجموعی طور پر 60 ہزار روپے کے جرمانے عائد کردیے،غیر ملکی خواتین ، مردوں سے پاکستانیوں کی شادیوں پر پابندی کی درخواست خارج کرتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا،درخواست گزار محمود اختر نقوی ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدالت کیسے کسی کو منع کرے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جو درخواست گزار کی استدعا ہے کیا ایسا ممکن ہے ؟کیا کسی سرکاری ملازم کو غیر ملکی سے شادی سے روکا جاسکتا ہے؟ اگر روکنے کا قانون موجود ہے تو وہ بتادیں ؟ عدالت نے درخواست 20 ہزارروپے جرمانے کے ساتھ خارج کردی،
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ایسی درخواستوں کو اجازت دی تو یہ درخواست بھی آجائے گی شادیوں سے روکا جائے،

    پی ڈی ایم دور حکومت میں قانون سازی کیخلاف درخواست بھی 20 ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج ہوئی،آئینی بنچ نے غیر ملکی جائیدادوں کیخلاف کیس میں درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 60 ہزار مقدمات ایسے ہی مقدمات کے سبب زیر التوا ہیں،

    سپریم کورٹ نے غیر ملکی اثاثوں ،بینک اکاؤنٹس کیخلاف درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کردی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ معاملہ پر قانون سازی کیلئے درخواست گزار اپنے حلقہ کے منتخب نمائندہ سے رجوع کرے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،الیکشن کمیشن غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں پر قانون سازی کیسے کر سکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست میں کوئی قانونی بات نہیں کی گئی،درخواست گزار نے کہا کہ غیرملکی اثاثوں بینک اکاؤنٹس پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ معاملے پر قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،کن لوگوں کے غیر ملکی اثاثے یا بینک اکاؤنٹس ہیں کسی کا نام نہیں لکھا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کا نہیں کہہ سکتے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ قانون سازی کیلئے درخواست گزار حلقہ کے نمائندےسے رجوع کریں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ سے غیرموثر درخواستیں خارج کرنے کا سلسلہ جاری ہے،آئینی بینچ نے 2024 کے عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی، درخواست گزار وسیم سجاد نے موسم کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی،عدالت نے الیکشن شیڈول کیخلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے.جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ درخواست گزار وسیم سجاد سپریم کورٹ وکیل نہیں ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس درخواست پر ڈبل جرمانہ ہونا چاہیے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف تھا کہ الیکشن فروری کی بجائے مئی میں کروائے جائیں،

  • پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

    قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ ہی نہیں ہوا،کمیٹی نے دس سال آڈٹ نہ کرانے کا تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ رمیش لال نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں کہا کہ سابق وفاقی وزیرسرورخان نے ادارے کا بیڑہ غرق کیا، دنیا میں بدنام کیا

    نوابزادہ افتخاراحمد بابرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس ہوا۔ منزہ حسن نے پی آئی اے کے بحرین اوربرمنگھم میں دوافسران پر الزامات کا معاملہ اٹھایا،سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ کہ اویس کنٹری مینیجر کوواپس بلا لیا ہے، رکن کمیٹی ڈاکٹردرشن نے پی آئی اے کے بندروٹس کھولنے سے متعلق سوال کیا تو سیکرٹری ایوی ایشن نےکہاکہ ایاسا ریگولیٹری رجیم سے مطمئن ہیں پابندی اگلے چند مہینوں میں اٹھ جائے گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں پی آئی اے کا دس سال آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف ہوا، تو مہرین رزاق بھٹونےکہا کہ دس سال آڈٹ نہیں ہوا، کون ذمہ دارہے؟ رمیش لال نےکہا کہ دس سال آڈٹ کیوں نہیں ہوا وجہ کیا تھی؟ سیکرٹری ایوی ایشن نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں دس سال آڈٹ نہ ہونے کی تصدیق کی اور کہاکہ پی ٹی آئی کا گزشتہ چارسال میں دو بار آڈٹ کرایا ہے، رکن کمیٹی منزہ حسن نےپوچھاکہ ان دس سالوں میں پی آئی اے کا کوئی جہاز کریش نہیں ہوا؟ سیکرٹری ایوی ایشن نے کہا کہ چارحادثات ہوئے کمیٹی نے دس سال آڈٹ نہ کرانے کے معاملے کا تفصیلی جواب طلب کرلیا

    سی ای اونے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس 10جہاز320 اوردو اے ٹی آرز ہیں، کورونا کے وقت بارہ 777 جہازتھے، اب پانچ جہازفعال ہیں حج سے پہلے سات 777 جہاز فعال ہو جائیں گے ،رکن کمیٹی رمیش لال نے کہاکہ سابق وزیر سرور خان نے پی آئی اے کا بیڑہ غرق کیا، دنیا میں بدنام کیاجب تک ادارے میں کالی بھیڑیں بیٹھی ہیں، پی آئی اے ترقی نہیں کرسکتا،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ 2022 میں قومی اسمبلی نے اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام شہید بے نظیربھٹوکے نام پررکھنے کی قرارداد مںظور کی تھی سیکرٹری ایوی ایشن نے کہاکہ نام کابینہ ڈویژن کے ذریعے تبدیل ہوتا ہے، مہرین رزاق بھٹو نے وزیراعظم کو خط لکھنا کی تجویز دی۔

    پی آئی اے کی نجکاری،سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش آ گئی

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا آڈٹ نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے جو ادارے کی مالی شفافیت اور کارکردگی کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ 2010 سے 2020 تک کے عرصے میں پی آئی اے کو کافی مشکلات کا سامنا رہا، اور اس دوران قومی ایئرلائن کے حکام نے متعدد مالیاتی بحرانوں، بدانتظامیوں اور بے ضابطگیوں کا سامنا کیا۔ اگرچہ پی آئی اے کا آڈٹ نہ ہونے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ادارے کی مالی صحت اور اخراجات کی نگرانی نہیں کی گئی، لیکن اس کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے ادارے کی مالی بدعنوانیوں کا پردہ بھی اٹھا سکتا ہے جو عوام سے چھپی رہی ہیں۔آڈٹ نہ ہونے کی صورت میں یہ ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے پی آئی اے کی مالی صورتحال کا جائزہ لیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کتنی رقم غیر ضروری طور پر ضائع ہوئی اور کہاں کہاں بدعنوانی یا غفلت ہوئی۔ آڈٹ ایک اہم عمل ہے جس کے ذریعے نہ صرف مالی بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں بلکہ اس سے ادارے کی مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    پی آئی اے کی بہتر کارکردگی اور مالی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ اس کے آڈٹس کو وقت پر مکمل کیا جائے، تاکہ عوامی پیسہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور اس ادارے کی غیر معمولی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے معاملات کو بہتر بنایا جا سکے۔یہ واقعہ حکومت اور متعلقہ حکام کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ وہ پی آئی اے جیسے اہم قومی ادارے کی مالی نگرانی کو مضبوط کریں، تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے اور اس ادارے کی بحالی کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔