Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    ایک حالیہ فتویٰ میں اسلامی نظریاتی کونسل نے وی پی این (ویچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے استعمال کو غیر شرعی قرار دیا ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے فتویٰ کے بعد مذہبی رہنماؤں کا ردعمل جاری ہے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر ،پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وی پی کا ہی استعمال کر کے وی پی این کو غیر شرعی قرار دینے کے اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوٰی پر ردعمل دیا ہے.علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ وی پی این کا استعمال اس وقت ناجائز ہوگا جب اسے غیر شرعی اور غیر قانونی مواد دیکھنے یا پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر وی پی این کا استعمال شریعت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے تو یہ جائز ہے۔ مولانا طاہر اشرفی نے مزید وضاحت کی کہ شریعت کا یہ اصول تمام معاملات پر لاگو ہوتا ہے، اور ہر فرد کو اپنی سرگرمیوں میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ شریعت اور قانون کے مطابق ہوں۔انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھیں اور کسی بھی قسم کے غیر قانونی یا غیر اخلاقی عمل سے گریز کریں۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کا وی پی این کو غیر شرعی قرار دینے کا فتویٰ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بحث کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ تاہم اکثریت اس فتویٰ کی مخالفت کر رہی ہے،علامہ طاہر اشرفی اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ہیں، صدر مملکت نے گزشتہ ماہ کے آخر میں طاہر اشرفی کی اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن ہونے کی منظوری دی تھی

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    واضح رہے کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا۔ حکومت و ریاست کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے،لہذا غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے اقدامات کرنا،جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے،شریعت سے ہم آہنگ ہے اور کونسل کی پیش کردہ سفارشات و تجاویز پر عمل در آمد ہے،لہٰذا ان اقدامات کی ہم تائید و تحسین کرتے ہیں۔انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ) کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے۔ریاست کی طرف سے وی پی این بند کرنے کا اقدام قابلِ تحسین ہے۔ وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے، شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے ذرائع اور ٹیکنالوجیز کے استعمال پر موثر پابندی عائد کی جائے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں ۔

  • اسلامی نظریاتی کونسل نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا

    اسلامی نظریاتی کونسل نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا

    اسلام آباد(محمداویس) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا۔ حکومت و ریاست کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے،لہذا غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے اقدامات کرنا،جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے،شریعت سے ہم آہنگ ہے اور کونسل کی پیش کردہ سفارشات و تجاویز پر عمل در آمد ہے،لہٰذا ان اقدامات کی ہم تائید و تحسین کرتے ہیں۔انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ) کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے۔ریاست کی طرف سے وی پی این بند کرنے کا اقدام قابلِ تحسین ہے۔ وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے، شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے ذرائع اور ٹیکنالوجیز کے استعمال پر موثر پابندی عائد کی جائے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں ۔

    ان خیالات کا اظہار چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ایک سوال ” وی پی این کا استعمال شرعی اعتبار سے جائز ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب اسے بلاک شدہ یا غیر قانونی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟“ کے جواب شرعی کی رہنمائی کرتے ہوئے مزید کہاکہ وی پی این ایک تکنیکی ذریعہ ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی اصل شناخت اور مقام کو مخفی رکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی عام طور پر سیکورٹی اور پرائیویسی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ وی پی این کا استعمال ایسی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے جن کو شرعاً یا قانوناً ممنوع ویب سائیٹس کہا جا سکتا ہے یا جو حکومت کی طرف سے بلاک ہوں۔ان میں اخلاق باختہ یا پرون ویب سایئٹس اور معاشرے میں جھوٹ یا ڈس انفارمیشن پھیلا کر انارکی پیدا کرنے والی ویب سائیٹس شامل ہیں۔ وی پی این کے ذریعے آن لائن چوری بھی کی جاتی ہے اور چور کا سراغ نہیں ملتا۔ شریعت کے اصولوں کے مطابق کسی بھی عمل کی جواز یا عدم جواز کا دارومدار اس کے مقصد اور طریقہ استعمال پر ہے۔ چونکہ وی پی این کو بلاک شدہ یا غیر قانونی مواد تک رسائی کے لیے استعمال کیا جانا اسلامی اور معاشرتی قانون کی خلاف ورزی ہے، اس لیے اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوگا۔ یہ ‘اعانت علی المعصیہ’ (گناہ پر معاونت) کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شریعت میں ممنوع ہے۔مزید برآں، اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملک کے قوانین کی پاسداری کرے، بشرطیکہ وہ قوانین اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہوں۔ پاکستان میں ایسی کوئی ویب سائیٹ بلاک نہیں جن سے پر جائز طریقے سے تفریح، معلومات حاصل کر سکیں یا پیسہ کما سکیں یا رابطے کر سکیں۔۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے شرعی بیان میں مزید کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ۳۰ /مئی ۲۰۲۳ کو ایک مشاورتی اجلاس منعقد کرکے سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور اس پر موجود توہین آمیز اور غیر اخلاقی مواد کے انسداد کے لئے اقدامات کرنے کی سفارشات پیش کی تھیں،یہ سفارش بھی کی گئی تھی کہ اس حوالے سے پی ٹی اے /سائبر کرائم ونگ ،سوشل میڈیا ویب سائٹس کی رجسٹریشن کا عمل جلد از جلد شروع کریں اورتمام وی پی این کو بند کرنے کے لئے بلا تاخیر اقدامات کریں۔مزید یہ کہ اس حوالے سے آگاہی کے لئے مختصر اور موثر ویڈیوز اور آڈیو پیغامات تیار کئے جائیں جن کو وقتا فوقتا میڈیا پر چلایا جائے۔ اگر حکومتِ وقت نے کسی ویب سائٹ یا مواد کو معاشرتی فائدے کے پیش نظر بلاک کیا ہے، تو اس بلاک کو توڑنا نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ اسلامی اخلاقیات کی بھی خلاف ورزی ہے

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    پاکستان میں غیرقانونی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے استعمال کرنے والوں کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ایک اہم خط لکھا ہے، جس میں غیر قانونی وی پی این کی خدمات بند کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    وزارتِ داخلہ نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ وی پی این کے ذریعے اپنی شناخت اور بات چیت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، وی پی این کا استعمال دہشت گردوں کو بینک ٹرانزیکشنز اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی وی پی این کو فحاشی اور توہین آمیز مواد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ معاشرتی اور اخلاقی مسائل کو بڑھا رہا ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے گزشتہ روز ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں وزارتِ آئی ٹی، پاکستان سیکیورٹی ایکسچینج بورڈ (پی ایس ای بی) اور پاکستان آئی ٹی ایسوسی ایشن کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ پی ٹی اے نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے وی پی اینز کو ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے رجسٹرڈ کروا سکیں گے۔

    یہ اقدام پاکستان میں انٹرنیٹ سیکیورٹی اور ڈیجیٹل قانون سازی کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف وی پی این کا استعمال انٹرنیٹ پر گمنامی فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف اس کا غلط استعمال سیکیورٹی خدشات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی جانب سے وی پی این کا استعمال ایک سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ یہ ان کے لئے اپنے غیر قانونی اقدامات کو چھپانے کا ذریعہ بنتا ہے۔تاہم، اس اقدام کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وی پی این کو فحاشی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کے لیے استعمال کیا جانا ایک اور سنگین مسئلہ ہے، جو کہ معاشرتی اخلاقیات اور سوشل میڈیا کے غیر مناسب استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پی ٹی اے کے نئے رجسٹریشن طریقہ کار سے امید کی جا سکتی ہے کہ وی پی این کے استعمال پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملے گی، تاہم اس کا اطلاق کس حد تک مؤثر ہوگا، یہ وقت ہی بتائے گا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صارفین کی ذاتی معلومات اور آزادیِ اظہار پر غیر ضروری قدغنیں نہ لگائی جائیں۔ ایک توازن کی ضرورت ہے، جہاں حکومت کی سیکیورٹی کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی آزادی کو بھی محفوظ رکھا جائے۔

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    نائب وزیراعظم محمداسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا

    نجکاری کمیشن نے بلیو ورلڈ کی جانب 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور کر لی،روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کےلیے وزیر مملکت خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی،کمیٹی روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری اور قانونی طریقوں کا جائزہ لے گی ،کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اجلاس میں وزرا و سیکرٹریز شریک ہوئے،

    قبل ازیں وفاقی وزیرِ نج کاری عبدالعلیم خان کی زیرِ صدارت نج کاری کمیشن بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں پی آئی اے کی نجکاری سمیت مختلف امور پر غور اور سفارشات کی منظوری دی گئی،اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے کو کابینہ کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا،وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے معاملات قوانین و ضوابط کے مطابق اور ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہونگے۔ پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی نج کاری کے امور کا حتمی فیصلہ کابینہ کمیٹی نے کرنا ہے،پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی نج کاری کے لیے آئندہ پیشکش کا عمل بہتر سے بہتر بنایا جائے، پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی بلا تاخیر نج کاری کو آگے بڑھایا جائے۔ اپنے حلف کے پابند ہیں، ملک و قوم کی بہتری کے لئے جو کچھ ہوا ضرور کریں گے،

    واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر التوا کا شکار ہو گیا ہے، جو کہ شہباز حکومت اور اس کے پالیسی سازوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ واحد بولی لگانے والی کمپنی بلیو ورلڈ نے پی آئی اے کی قیمت صرف 10 ارب روپے لگائی، جو نجکاری کمیشن کی جانب سے کم سے کم قابل قبول 85 ارب روپوں کی مالیت سے 75 ارب روپے کم ہے۔پانچ دیگر منظور شدہ سرمایہ کاروں نے بولی میں حصہ ہی نہیں لیا۔ پی آئی اے کی تقسیم کے بعد، اس کے اثاثوں کی کل مالیت 165 ارب روپے ہے، جبکہ نجکاری کے لیے پیش کیے گئے 60 فیصد حصص کی مالیت 99 ارب روپے ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے کے نجکاری کے عمل کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا، جس نے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی مایوس کیا، جو کہ غلط اعداد و شمار اور غلط بیانی کی وجہ سے نالاں رہے۔ایک سرمایہ کار کے مطابق، پی آئی اے کے بین الاقوامی روٹس کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور قرضوں کے حجم کے بارے میں ابہام کی وجہ سے وہ بولی لگانے سے دور رہے۔ انہوں نے بتایا کہ "یہاں تک کہ واحد بولی بھی غیر سنجیدہ تھی، جو پی آئی اے کے ایک جہاز کی قیمت کے لیے بھی ناکافی تھی۔امید کی جا رہی ہے کہ اس ناکام بولی کے بعد حکومت پاکستان کو پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا، کیونکہ اس ناکامی سے نہ صرف قومی ایئر لائن کی مالی حیثیت متاثر ہوئی ہے بلکہ یہ شہباز حکومت کی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

    پی آئی اے کی نجکاری،سوا کھرب روپے سے زائد کی پیشکش آ گئی

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنائے جانے کا انکشاف

    ایس سی او اجلاس کے موقع پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنائے جانے کا انکشاف

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران دہشت گردوں کے ایک بڑے حملے کو ناکام بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق، ایس سی او اجلاس کے دوران اسلام آباد کے سرینہ چوک پر ایف سی وردیوں میں ملبوس دہشت گردوں نے خودکش حملے کرنے کی کوشش کی تھی۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی میں ایک خودکش حملہ آور ہلاک ہوگیا، جبکہ چھ دیگر دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، نجی ٹی وی کے مطابق انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی بی اور سی ٹی ڈی نے راولپنڈی کے ایک گنجان آباد علاقے میں مشترکہ آپریشن کر کے چھ افراد کو حراست میں لیا، جن میں سے اکثریت کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔ آئی بی کو 14 اکتوبر کو دہشت گردوں کی جانب سے ایس سی او اجلاس کے دوران اسلام آباد میں متعدد خودکش حملوں کی اطلاع ملی تھی۔ ملزمان نے جنوبی پنجاب کا روٹ استعمال کیا تھا اور ان کے ساتھی نے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹول پلازہ کے قریب گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو اڑا لیا۔ ہلاک ہونے والے خودکش حملہ آور کی شناخت جہانزیب عرف حسین کے طور پر کی گئی ہے۔

    ایس سی او اجلاس میں چین، روس اور بھارت سمیت کئی ممالک کے سربراہان اور نمائندے موجود تھے۔ حملے کو ناکام بنانے پر وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے آئی بی اور سی ٹی ڈی کو مبارکباد دی۔ تاہم، آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل طارق محمود نے اس خبر کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایس سی او کانفرنس پر حراست میں لیے گئے ایف سی جوان کا سیکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا، حراست میں لیا گیا ایف سی جوان ایس سی او کانفرنس کی سیکیورٹی پر تعینات نہیں تھا،ایف سی کے ایک جوان سے ابتدائی تفتیش کی گئی تھی جو اس کے بھائی سے متعلق تھی، ابتدائی تفتیش کے بعد ایف سی کے جوان کو ریلیز کر دیا گیا تھا۔

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کیسز کی سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ نے کورٹ روم نمبر 3 میں کیسز کی سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی کنونشن سنٹر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کرلیا.عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس معاملہ پر شائد واجبات بعد میں ادا کر دیئے گئے تھے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سوموٹو کیس میں سابق وزیر اعظم کو بھی نوٹس کیا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کنونشن سنٹر کو ادارہ کی پالیسی کے مطابق چلائیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے واجبات ادائیگی کی معلومات لے لینے دیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ معلومات لیں ہمیں کچھ دیر میں بتادیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا.

    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس،رپورٹ طلب
    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس کی سماعت ہوئی،آئینی بینچ نے التواء درخواست پر کاروائی دو ہفتوں کےلئے ملتوی کردی،عدالت نے ایف آئی اے اور ایف بی آر کو غیر ملکی خفیہ بنک اکاؤنٹس پر رپورٹ طلب کرلی،دوران سماعت وکیل حافظ احسان نے دلائل پیش کیے کہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم ہوچکی ہے، قانونی پراسس کے تحت خفیہ اکاؤنٹس اور ریکوری پر کارروائی چل رہی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیس میں ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تمام ایجنسیوں کو رپورٹ کے احکامات جاری ہوئے،ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ ایف بی آر اور ایف آئی اے کا ہے، ایجنسیوں کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیس کو ختم کرنا ہے تو رپورٹ دے دیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ایف آئی اے اور ایف بی آر سے غیرملکی خفیہ بینک اکاؤنٹس اور لوٹی گئی رقم کی واپسی پر متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی اور التوا کی درخواست پر 2 ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کردی۔

    سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بینچ میں چلے گا،جسٹس امین الدین
    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے انسداد دہشت گردی کیس پر ازخود نوٹس کیس درخواست گزار کی استدعا پر نمٹا دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ہے، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بنچ میں چلے گا، سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بینکنگ آرڈیننس کے تحت اپیل کے معاملے پر کیس نمٹا دیا،آئینی بینچ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سروس اسٹرکچر سے متعلق کیس کی سماعت بھی ملتوی کردی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے متعلق تمام مقدمات یکجا کر کے فریقین کو نوٹس جاری کردیے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ نے الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق کیس کو غیر مؤثر ہونے کے سبب نمٹا دیا۔

    سپریم کورٹ میں سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی توہین عدالت کیس میں وکیل کو جواب کے لیے مہلت دے دی گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی پیش نہیں ہوئیں، اگر کوئی فورم اختیار کیے بغیر کارروائی کرے تو ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں پر یاسمین عباسی ذاتی حیثیت میں پیش ہوتی رہیں، معاملہ ابھی تو غیر مؤثر نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، ہم کیوں سابق وفاقی محتسب کی طرف جا رہے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا وفاقی محتسب کی کارروائی ہائیکورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے، یاسمین عباسی کو نوٹس کر کے کارروائی سے آگاہ کیا جائے، حکمِ امتناع کے بعد محتسب کی کارروائی توہینِ عدالت تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ توہینِ عدالت کا نوٹس چیئرمین پرسن وفاقی محتسب کو جاری کیا گیا، یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، موجودہ وفاقی محتسب کو نوٹس کردیں، وہ آکر بتا دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے اس کا کیا ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کے جج اور وفاقی محتسب دونوں نے ایک دوسرے کو توہینِ عدالت نوٹسز جاری کیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیئرمین محتسب آ کر بتادیں گے وہ معاملہ چلانا چاہتے یا واپس لینا چاہتے ہیں،عدالت نے وکیل وفاقی محتسب کو معاملے پر ہدایات لےکر جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

  • بیرون ملک کسی پاکستانی سے بدتہذیبی قابل قبول نہیں، ترجمان دفترخارجہ

    بیرون ملک کسی پاکستانی سے بدتہذیبی قابل قبول نہیں، ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ بیرون ملک کسی پاکستانی سے بدتہذیبی قابل قبول نہیں،

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسی کے معاملے پر بھی برطانوی حکام سے رابطے میں ہے، اور خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے،پاکستانی شہری دنیا میں کہیں بھی ہوں باعثِ احترام ہیں،وزیراعظم محمدشہبازشریف نے باکو میں کاپ29 سربراہ اجلاس میں شرکت کی،ریاض میں عرب اسلامی سربراہ کانفرنس میں فلسطین پرپاکستان کے موقف سے دنیا کوآگاہ کیا۔ نائب وزیراعظم کل سے متحدہ عرب امارات کا دور ہ کررہے ہیں۔ افغانستان سے متعلق روسی صدرکے نمائندہ خصوصی آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    پاکستان آنےوالی امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے۔ترجمان دفترخارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ برس ہونے والی چیمپئنز ٹرافی پر آئی سی سی سے رابطے میں ہے،پاکستان دیگر ممالک میں ان کی انتظامیہ میں تقرریوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرتا، پاکستان آنےوالی امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے۔کشمیر میں سیاسی قیدیوں پر سنجیدہ تحفظات ہیں، اُن میں سے بہت سے سیاسی قیدیوں کو گنجائش سے زیادہ بھری جیلوں میں رکھا گیا ہے، بلوچستان میں بھارتی سرگرمیوں پر تحفظات ہیں، محمد ولی کے متلعق ہمارے پاس کوئی تفصیلات نہیں ماسوائے جو پولیس حکام نے شئیر کی۔ افغان حکام پاکستان کے صبر کا امتحان نہ لیں،

    چینی شہریوں اور اداروں کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے چین کی جانب سے اپنی سیکیورٹی ٹیمز پاکستان بھیجنے کے معاملے پر کہا کہ میڈیا پر چلنے والی خبریں جھوٹی خبریں ہیں، پاک چین دوستی کو ان پروپیگنڈہ سے خراب نہیں کیا جاسکتا ہے،چینی شہریوں اور اداروں کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، پاک چین دوستی اس طرح کی قیاس آرائیوں سے خراب نہیں ہو سکتی.

  • ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ذیابیطس اور اس کی روک تھام بارے میں آگاہی کو اجاگر کرنا ہے۔ آج، پاکستان انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر ذیابیطس کے شکار لاکھوں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ 2024 سے لے کر 2026 تک کے دورانیے میں ذیابیطس کے عالمی دن کا موضوع "ذیابیطس اور فلاح و بہبود” ہے جس میں ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور ان کی مدد تک رسائی پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دنیا میں سائنسی میدان میں بے شمار ترقی کے باوجود ہر دسواں شخص ذیابیطس کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ذیابیطس کے 50 فیصد مریض اب بھی غیر تشخیص شدہ ہیں۔ اس سے ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی بیماری، گردے کی خرابی، اعصابی عوارض، فالج اور اندھے پن جیسی پیچیدگیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی ذیابیطس کے چیلنج کا سامنا ہے اور ہمارے تقریباً 33 ملین شہری ذیابیطس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ اس خطرناک شرح کی وجہ سے پاکستان سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریضوں کی آبادی رکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان میں مزید 11 ملین بالغ افراد میں اس مرض کی ابتدائی علامات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ سے بروقت علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے خطرے کے بڑے عوامل میں جینیاتی تغیرات، خوراک اور غیر فعال طرز زندگی کے علاوہ ماحولیاتی اور جغرافیائی وجوہات شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان ذیابیطس کے مریضوں میں اس بڑھتے ہوئے اضافے پر قابو پانے اور ذیابیطس کے مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ حکومت نے غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اہم اصلاحات شروع کی ہیں، جن میں ذیابیطس کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔ حکومتی سطح پر ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے مختلف پروگرام تیار کیے جا رہے ہیں۔ وفاق میں ہم وزارت صحت کے تعاون سے ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے وزیر اعظم کا پروگرام (Prime Minister’s Program for Prevention and Control of Diabetes Mellitus) شروع کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد وفاقی علاقوں میں اس بیماری پر قابو پانا اور تمام صوبوں میں ذیابطیس کے مریضوں کے لیے یونیورسل ہیلتھ کوریج، تشخیص اور علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آگاہی اور طرز زندگی بہتر بنانا ہے۔ حکومت پاکستان سب کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ ایک خوشحال مستقبل کے لیے، معیشت کا انحصار شہریوں سے بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے پر ہے۔صحت مند پاکستان ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

  • عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    اسلام آباد (محمد اویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز میں انکشاف ہوا ہے کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور عراق میں پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزہ پابندیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اراکین کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا میں متحدہ عرب امارات کے مسئلے پر غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی گئی ہے۔ غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور متعلقہ اداروں کو کام میں مشکلات پیش آئی ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خان زادہ نے کہا کہ وزارت امور خارجہ اور وزارت اوورسیز پاکستانی کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے کہ یو اے ای والا معاملہ ان کیمرہ کیا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کرنے کے لیے اراکین کی مشاورت سےکمیٹی فیصلہ کرے گی۔اراکین کمیٹی نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی نوعیت کا معاملہ ہے۔ اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کر دیا جائے۔رکن کمیٹی سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ آئین کے تحت کوئی بھی شہری پبلک پٹیشن کمیٹی کو ارسال کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک عوامی فورم ہے اور یہ فورم عوامی مسائل کو سن سکتا ہے ۔عراق میں اورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں کو تین سے چار سو ڈالر میں نوکریوں پر رکھا جاتا ہے۔

    سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔پاکستانی شہریوں سے عراق پہنچنے پر پاسپورٹ ضبط کیا جاتا ہے۔سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ زائرین واپس پاسپورٹ لینے کے لیے بھی نہیں آتے۔جس پر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ پاکستانی پاسپورٹ کی بےعزتی ہو رہی ہے۔اس حوالے سے متعلقہ وزارتوں کو اقدامات اٹھانے چاہیے۔قائمہ کمیٹی نے اس معاملہ پرتفصیلی بحث کی۔سیکرٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام وزارت اوورسیز میں آجائیں تاکہ ایک مشترکہ گائیڈ لائن بنائی جا سکے اور درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔وزارت خارجہ امور کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔بیورو آف امیگریشن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے وزارت اوورسیز کو ہدایت کی کہ وہ وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو حل کریں۔

    او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی ایسوسی ایشن کے صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ 10 سال پہلے 543 ملین آئسکو کو ادا کیے گئے تھے مگر سوسائٹی کے لیے علیحدہ سے گرڈاسٹیشن ابھی تک نہیں لگایا گیا۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سکول پارک اور بجلی دستیاب نہیں ہیں اور ابھی تک اس معاملہ کو ترجیح بنیادوں پر حل نہیں کیا جا سکا۔جس پر ایم ڈی او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی کی ٹوٹل زمین میں سے450 کنال اراضی 1992 سے تنازعات کا شکار ہے جو کہ ابھی تک سوسائٹی میں شامل نہیں ہو سکی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر زیشان خانزادہ نے کہا کہ سوسائٹی کی تنازعات والی اراضی کے معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ سوسائٹی میں ڈویلپمنٹ اور دوسرے تعمیراتی کام جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچ سکیں۔

    ایم ڈی اے او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ابھی تک وہاں پر آبادی نہیں ہے۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے جو کہ پاکستان کو سالانہ 32 ارب ڈالر بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے سوسائٹی میں آبادی نہیں ہو رہی لہذا سہولیات میں بہتری لائی جائے۔اراکین کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی سرکاری طور پر کام کر رہی ہے اور اوورسیز پاکستانیز کا اس پر اعتماد ہے کہ انہیں بہترین سہولیات ملیں گی لیکن یہ سوسائٹی مسائل سے دو چار ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی وارا کین کمیٹی نے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں آئیسکو، ایس این جی پی ایل کے حکام کو طلب کر لیا تاکہ وہ اس معاملہ پر کمیٹی کو مفصل بریفنگ دیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ اوورسیز ہاؤسنگ سوسائٹی میں کتنے پلاٹ اہل لوگوں کو الاٹ کیے گئے اور کتنے پلاٹ قواعدو ضوابط سے ہٹ کر الاٹ کیے گئے کی تفصیل کمیٹی کے اگلے اجلاس میں دی جائے ۔

    کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز ضمیر حسین گھمرو، راجہ ناصر عباس،گردیپ سنگھ اور شہادت اعوان کے علاؤہ متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی ۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • علیم خان کی بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت

    علیم خان کی بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیرصدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلی سطح اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں زیرو ٹالرنس اپناتے ہوئے کرپٹ افسران و اہلکاران کے خلاف بلا امتیاز سخت ایکشن کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے چیئرمین این ایچ اے کو کاروائی کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے بدعنوانی میں ملوث افسران کو فارغ کر نے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی سفارش نہ مانی جائے، تمام سیٹوں پر اہل اور قابل افسران تعینات ہونے چاہئیں۔ اجلاس میں چاروں صوبوں میں این ایچ اے کے زیر تکمیل منصوبوں پر غور کر تے ہوئے کام کی رفتار بڑھانے سمیت اہم فیصلے بھی کئے گئے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہاکہ لاہور، سیالکوٹ اور کھاریاں سے اسلام آباد موٹروے کو 4کی بجائے 6 ” لین "کا ہونا چاہیے۔ این ایچ اے موٹرویز پر بیرئیرز ختم کرنے اورالیکٹرانک ٹول پلازوں کی تجویز کے منصوبے پر کام کرے۔ اجلاس میں بیلا سے آواران اور ژوب سے لورالائی کی شاہراہوں سمیت کالاشاکاکو سے ملتان روڈ نئے بائی پا س اور سگیاں سے راوی پل تک سڑکوں کی تعمیر پر غور کیا گیا ۔ این ایچ اے کے مارگلہ ہائی وے کی توسیع اور اُسے ایم ون سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی اجلاس میں شامل کیا گیا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ صوبے بھی این ایچ اے کے ساتھ نئی سڑکوں اور ہائی ویز کی تعمیر میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تمام شاہراہوں اور موٹرویز کو کیمروں اور سی سی ٹی وی سے منسلک کیا جائے۔

    پاکستان میں سرمایہ کاری،معیشت کی بحالی میں عبدالعلیم خان کا کردار اہم