Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی دی منظوری

    وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی دی منظوری

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،
    وفاقی کابینہ نے پہلے مرحلے میں 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی منظوری دے دی ،معاہدہ ختم ہونے سے بجلی صارفین کو سالانہ 60 ارب اور ملکی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی،کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کی بحالی کےلئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ذاتی طور پر بے پناہ کوششیں کیں، اُن کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ میرے لئے تازہ اور نیا تجربہ ہے، میں بہت حوصلہ محسوس کر رہا ہوں، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستانی معیشت استحکام کی جانب سے گامزن ہوگئی ہے۔ بیرونی ممالک سے آنیوالی سہ ماہی ترسیلات 8.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جس کیلئے بیرون ممالک پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں۔ سعودی عرب پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کر رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے ذریعہ ایسی رفارمز کررہے ہیں جس سے پاکستان سرمایہ کاری کیلئے محفوظ اور سب سے زیادہ منافع بخش سرمایہ کاری کی منزل بنے گا۔

    دیگر آئی پی پیز سے معاہدوں پر بتدریج نظرثانی کر کے بجلی ٹیرف کم کریں گے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 5 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریدنے کے معاہدے ختم کر رہے ہیں، بجلی صارفین کو سالانہ 60 ارب اور ملکی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی،5 آئی پی پیز مالکان نے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی، 5 آئی پی پیز نے رضاکارانہ طور پر ان معاہدوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا، ان 5 آئی پی پیز نے عوامی ریلیف کے شروعات میں کلیدی کردار ادا کیا، مجھ سمیت پوری کابینہ ان آئی پی پیز مالکان کے شکر گزار ہیں، دیگر آئی پی پیز سے معاہدوں پر بتدریج نظرثانی کر کے بجلی ٹیرف کم کریں گے، سہ ماہی ترسیلات ریکارڈ رہی ہیں، سہ ماہی ترسیلات میں اضافہ سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے،عام آدمی نے مہنگائی سمیت بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا، صبر و تحمل سے مشکلات جھیلنے پر عوام کے شکر گزار ہیں، مشکلات ختم نہیں ہوئیں، نہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، ماضی میں سنگدل حکمران نے کہا مہنگائی سے میرا سروکار نہیں،پاکستان آگے بڑھ رہا ہے اور ہمیں یہ سفر تیزی کے ساتھ طے کرنا ہے، 7 ماہ میں جو مسائل اور چیلنجز درپیش تھے بطور ٹیم ان کا سامنا کیا، بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ تک کے گھریلوں صارفین کو ریلیف دیا گیا،ہ پنجاب میں حکومت نے 500 یونٹ تک کے بجلی صارفین کو 2 ماہ تک ریلیف فراہم کیا، حکومت عوام کی مشکلات سے باخبر ہے، نواز شریف نے بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے کوشش کی اور بار بار تلقین کی،اللہ تعالی کے فضل ہے کہ جو مہنگائی 32 فیصد پر تھی وہ آج 6.7 فیصد پر آچکی ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے منشور میں 2025-26 تک مہنگائی کم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسکو ہم نے 2024 میں ہی پورا کردیا ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • چین سے 12ہزار میگاواٹ کے سولر پینل کی درآمد متوقع

    چین سے 12ہزار میگاواٹ کے سولر پینل کی درآمد متوقع

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی میں انکشاف ہوا ہے کہ اس مالی سال چین سے 12ہزار میگاواٹ کے سولر پینل کی درآمد متوقع ہے جبکہ گذشتہ مالی سال 5ہزار میگاواٹ کے سولر پینل درآمد ہوئے ہیں۔پاکستان میں درآمدی کوئلے کی کھپت کم جبکہ مقامی کوئلے کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے ۔ کمیٹی نے سینیٹر شہادت اعوان کے بل پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام کو سینیٹر کے ساتھ مشاورت کرنے کی ہدایت کردی،راول ڈیم میں پانی کی آلودگی کے معاملے پر سیکرٹری ایریگیشن پنجاب،اور وزارت منصوبہ بندی کے حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا گیا ۔وزیراعظم کی کواڈینیٹر رومینہ خورشید عالم نے بتایا کہ کوپ 29کے لیے حکومت نے فنڈز کی منظوری دے دی ہے ۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔اجلاس میں بشرہ انجم بٹ،شاہ زیب درانی اور شہادت اعوان،جبکہ ان لائن قرۃ العین مری اور تاج حیدر نے شرکت کی ۔اجلاس میں بل کے محرک شہادت اعوان نے پاکستان ٹریڈ کنٹرول آف وائلڈ فونا اینڈ فلورہ ترمیمی بل 2024 پیش کرتے ہوئے کہاکہ جو پودےلگائے جائیں وہ انسانوں کے لیے خطرناک نہ ہو۔اسلام آباد میں جنگلی شہتوت انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے اس لیےیہ بل لے کرآیا ہوں۔حکام نے بتایا کہ یہ قانون عالمی معائدوں کے بعد بنایا گیا ہے ۔ یہ چیزیں ڈالیں گے تو کنونشن میں یہ چیزیں نہیں ہیں ۔ جو سپیزیز پاکستان درآمد کرنے سے پہلے دیکھتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں مقامی سپیزیز کو نقصان تو نہیں ہوگا ۔ درآمد ہونے والے پودے کو تو ہمیں تحقیق کرتے ہیں مگر برآمد ہونے والے پودوں کے بارے میں درآمدمی ملک کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ملک میں نقصان تو نہیں ہوگا۔شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں بازاروں میں جائیں وہ جانور لائے جارہے ہیں جو پاکستان کے قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔چیئرپرسن نے سیکرٹری اور کوارڈینیٹر دونوں کے کمیٹی میں عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اہم قانون سازی ہورہی ہے اور دونوں کمیٹی میں موجود نہیں ہیں ۔آج وفاقی سیکرٹری کو کمیٹی میں ہونا چاہیے تھا مجھے جانور درآمد کے حوالے سے تحفظات ہیں

    کچھ دیر بعد وزیراعظم کی کوارڈینیٹر رومینہ خورشید عالم کمیٹی میں پہنچ گئیں۔حکام نے بتایا کہ ہم جانوروں کی درآمد کو نہیں روک رہے ہیں تو پیتوجن (حشرات )کو کس طرح روک سکتے ہیں ۔شاہ زیب درانی نے کہاکہ صرف انسان کے لیے خطرناک جانوروں یا پودوں کی درآمد پر پابندی کے بجائے ماحول کے لیے خطرناک جانوروں اور پودوں کی درآمد پر پابندی ہونی چاہیے ۔حکام نے کہاکہ قانون میں کوئی سقم نہیں ہے قانون کے عمل درامد کروانے میں مسائل ہیں راولپنڈی میں جو جانور ہیں وہ سمگل ہوکر پاکستان آئے ہیں ۔ کمیٹی نے وزارت کو شہادت اعون کے ساتھ مل کر بل پر مشاورت کرنے کی ہدایت کردی ۔

    چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے ہم نے ٹینڈر دے دیا ہے فنڈنگ وزارت منصوبہ بندی نے کرنی ہے اس لیے اگلے اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کو بلایا جائے راول ڈیم پنجاب حکومت کی ملکیت ہے ۔کمیٹی نے راول ڈیم ایجنڈے پر پنجاب ایریگیشن سیکرٹری اور وزارت منصوبہ بندی کے حکام کو اگلے اجلاس میں بلانے کی ہدایت کردی

    کمیٹی میں نیشنل ڈیٹرمنٹ کنٹریبوشن پر بحث کی گئی ۔چیئرپرسن نے کہا کہ این ڈی سی کا مطلب ہے کہ ہر ملک نے اپنی آلودگی(زہریلی گیسوں کا اخراج)کم کرنی ہے ۔ آلودگی کم ہونے کے بجائے بڑ رہی ہے پیسے ابھی بھی فاصل فیول کے منصوبوں کو دیا جارہاہے،چئیر پرسن کمیٹی نے کہاکہ بین الاقوامی دنیا نے جو ہم سے وعدے کیے وہ کہاں ہیں، پاکستان کو ری نیو ایبل انرجی کی طرف جانا ہوگا، حکام وزارت موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ 2030 تک 60٪ انرجی ری نیو ایبل ہوگی، ملک میں 2030 تک 30٪ ای وہیکلز ہونگے،لوکل سطح کے کوئلہ کو فروغ دیں گے، 2018 سے 2023 تک 4652 میگا واٹ ایڈ کیے، 68 فیصد اس میں ری نیو ایبل انرجی ہے،چین سے 12 ہزار میگاواٹ کے سولر پینل پاکستان آنے کی امید ہے ۔گذشتہ سال 5ہزار میگاواٹ کے سولر پینل درآمد ہوئے تھے ۔چیئرپرسن کمیٹی نے کہاکہ بھارت نے 19 سولر پارک بنا لیے ہیں، مارے پاس ایک قائد اعظم سولر پارک ہے

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • پنجاب کی طرف سے برآمدات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ ٹھیک نہیں،چیئرمین ایف بی آر

    پنجاب کی طرف سے برآمدات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ ٹھیک نہیں،چیئرمین ایف بی آر

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانے نے بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2024 پاس کرلیا ۔ ایف بی آر نے پوائنٹ آف سیل کی رسید پر ایک روپے فیس رکھی ہے جس سے اب تک 647ملین روپے جمع ہوئے ہیں ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبہ پنجاب کی طرف سے برآمدات پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ ٹھیک نہیں ہے صوبے صوبے سے باہر برآمدات پر ٹیکس نہیں لگاسکتے ہیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں شاہ زہب درانی،شیری رحمان اور انوشہ رحمان نے شرکت کی ایف بی آر حکام نے بتایا کہ پی او ایس سروس کی ایک روپ فیس لی جاتی ہے اب تک اس مد میں 647ملین جمع ہوئے ہیں ۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ صوبے برآمد پر ٹیکس لگارہے ہیں صوبہ پنجاب میں یہ ٹیکس لگادیا ہے وہ کس قانون کے تحت یہ کام کررہاہے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ صوبے یہ ٹیکس نہیں لگاسکتے ہیں وزارت قانون سے اس پر رائے لی جائے ۔ وزیز خزانہ نے کہاکہ اس پر وزارت قانون سے رائے لینی ہوگی ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ای وی ڈالوں(گاڑیوں) پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے ۔ پیک آپ اگر لوڈر ہوتو ان گاڑیوں پر ای وی گاڑیوں کو جو مراعات حاصل ہیں وہ ان پر نہیں لگے گا. یہ ذیادتی ہے ۔حکام نے بتایا کہ ای وی میں مسافر گاڑیوں کےلیے مرعات ہیں مگر لوڈر گاڑیوں کے لیے یہ مراعات نہیں ہیں جس پر کمیٹی نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کردی۔کمیٹی میں بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2024 پر بحث کی گئی ۔کمیٹی نے بل پاس کردیا ۔

    ایشیائی ترقیاتی بنک کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نئی کنٹری آپریشنل سٹریٹجی 2024-27تیار کی جا رہی ہے، نئی سٹریٹجی کے تحت آٹھ ارب اکتالیس کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کرنے کا ارادہ ہے ، نئے کنٹریکٹ آپریشن کے تحت پاکستان کو سات منصوبوں کیلیے رواں سال دو ارب ڈالر فراہم کریں گے ، دو ہزار پچیس میں پندرہ منصوبوں کیلیے ایک ارب پچاسی کروڑ ڈالر دینے کا ارادہ ہے ،دو ہزار چھبیس میں دو ارب تیس کروڑ ڈالر دیں گے،دو ہزار ستائیس میں بارہ منصوبوں کیلیے دو ارب پچیس کروڑ ڈالر دیں گے، نئی سٹریٹجی حکومت اور نجی شعبے کی مشاورت سے بنائیں گے ، اے ڈی بی قرض پر کمٹمنٹ چارجز کی مد میں معمولی رقم کاٹتے ہیں، بی آر ٹی پشاور کے بارے میں کچھ شکایات آئیں تھیں،بی آر ٹی پشاور پروجیکٹ میں نیب بھی تحقیقات کر رہا ہے

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • شادی کب کر رہے؟ بلاول نے دیا صحافی کے سوال کا جواب

    شادی کب کر رہے؟ بلاول نے دیا صحافی کے سوال کا جواب

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات کی، اس دوران صحافیوں نے بلاول سے شادی بارے پوچھ لیا

    زرداری ہاؤس اسلام آباد میں بلاول زرداری نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کی، ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ پر سوالات کے جوابات دیئے اسی دوران ایک صحافی نے بلاول زرداری سے شادی بارے سوال پوچھ لیا،صحافی نے سوال کیا کہ آپ شادی کب کر رہے ہیں؟ جس کا جواب دیتے بلاول بھٹو نے قہقہہ لگایا اور کہا ،میری شادی میری مرضی،جس پر وہاں موجود تمام صحافیوں کے بھی قہقہے بلند ہو گئے ،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ مجھے متعدد بار وزیراعظم بننے کی آفر ہوئی لیکن میں نے انکار کردیا، ہمارے پاس بہت سے آپشنز موجود تھے لیکن ہم نے نہیں مانے.

    صحافی وقار ستی نے ایکس پر ملاقات کا احوال پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ۔بلاول بھٹو نے تمام ایشوز پر مکمل عبور کا مظاہرہ کیا اور پاکستان میں پائیدار جمہوریت اور مضبوط پارلیمان کے قیام کے عزم کو دہرایا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    قبل ازیں ماہ فروری میں نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بلاول نے اپنی شادی بارے سوالات کے جوابات دیئے،بلاول زرداری سے جب انکی شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ "اس وقت شادی کا امکان نہیں، کم از کم الیکشن تک تو میری شادی نہیں دیکھ سکتے” بلاول سے جب محبت بارے سوال کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا آپکو کبھی محبت ہوئی، بلاول نے جواب دیا ” یہ چیز تو ابھی آگے جا کر ہونی ہے”۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر 2023 میں یہ خبر آئی تھی کی بلاول کے لئے دلہن تلاش کر لی گئی ہے ، انکی منگنی کراچی یا یو اے ای میں ہو گی،تاہم حتمی امکان سامنے نہیں آ سکا، یہ کہا گیا تھا کہ بلاول کے لئے دلہن انکی بہنوں آصفہ اور بختاور نے پسند کی ہے،بختاور کے سسر محمود نے بھی اس ضمن میں مدد کی ،یہ بھی کہا گیا تھا کہ بلاول کی ہونیوالی بیوی کا تعلق سندھ سے ہے اور لڑکی کا خاندان متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے،تاہم ا ب دیکھتے ہیں بلاول وزیراعظم کے خواہشمند ہیں وہ پہلے وزیراعظم کی شیروانی پہنتے ہیں یا دلہا کی؟

    واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے 2019 میں پیشگوئی کی تھی کہ بلاول وزیر اعظم بننے کے بعد شادی کر لیں گے۔

    اس سے قبل 2016 میں بلاول بھٹو نے اپنی ہونے والی دلہن کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ  میری شادی اس لڑکی سے ہوگی جو سب سے پہلے میری بہنوں کا دل جیتے، مجھے اس حوالے سے بہنوں کو اعتماد میں لینا ہوگا‘جبکہ میری بہنوں کا دل جیتنا کسی بھی لڑکی کے لیے کافی مشکل کام ہوگا۔

    جبکہ جے یو آئی ف کے رہنما اور سینیٹر حافظ حمداللہ نے 2016 میں بلاول بھٹو کو شادی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بھٹو جتنی جلدی شادی کر سکتے ہیں کرلیں، نکاح مولانا فضل الرحمان سے پڑھوائیں انہوں نےکہا تھا کہ بلاول بھٹوسوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کیونکہ شادی عمرانی معاہدہ ہے، وہ 4 چیزوں نسب، مال، خوبصورتی اور دین داری کو سامنے رکھ کر شادی کریں۔

    ریئل اسٹیٹ کا سب سے بڑا فراڈ،سیاستدان ،پولیس شامل،ملزمان دبئی فرار

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

  • ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    اسلام آباد۔ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے اسلام آباد شہر کا دورہ کیا،وزیرداخلہ محسن نقوی نےڈی چوک، شاہراہِ دستور، مری روڈ اور اسلام آباد ایکسپریس وے کا تفصیلی معائنہ کیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایس سی او سربراہی کانفرنس کے لئے تزئین و آرائش اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایس سی او سربراہی کانفرنس کے لئے بہترین انتظامات کی ہدایت کی اور کہا کہ تزئین و آرائش اور تعمیراتی کاموں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔پورے اسلام آباد خصوصا وی وی آئی پی روٹس اور ریڈ زون کی مکمل صفائی کو یقینی بنایا جائے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےروٹس پر تجاوزات کو ہٹانے کاحکم دیا اور کہا کہ ایس سی او سربراہی کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد کی قدرتی خوبصورتی کو اجاگر کیا جائے گا۔ایس سی او سربراہی کانفرنس کے شایان شان انتظامات کئے جائیں گے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے متعلقہ حکام کو تزئین و آرائش اور صفائی انتظامات کے حوالے سے ہدایات دیں،کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے وفاقی وزیر داخلہ کو تعمیراتی کاموں کے متعلق آگاہ کیا،وفاقی سیکرٹری داخلہ، اسلام اباد کے چیف کمشنر و چیئرمین سی ڈی اے ۔ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

    دوسری جانب ایس سی او اجلاس کے دوران غیرملکی سفارتکاروں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایت کردی گئی ہے،شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے متعلق دفترِ خارجہ نے غیرملکی سفارتکاروں کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اسلام آباد میں 15 اور 16 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہو رہا ہے، حکومت نے اجلاس کے معززین اور مندوبین کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں، ایس سی او اجلاس کے دوران تمام سفارت کار اپنی نقل و حرکت محدود رکھنے پر غور کریں، غیرملکی سفارت کار اپنی سرگرمیوں کو ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو تک محدود رکھیں، غیرملکی سفارتی مشنز ٹریفک پولیس کے جاری ٹریفک پلان کو فالو کریں، وزارت خارجہ ایس سی او اجلاس کامیاب بنانے میں سفارتی مشنز کے تعاون کا خواہاں ہے۔

    ایس سی او کانفرس کی تیاری کے سلسلے میں جڑواں شہروں میں سیکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس ضمن میں 12 سے 16 اکتوبر تک شادی ہالز، کیفے، ریسٹورنٹ اور اسنوکر کلب بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے،جڑواں شہروں میں پولیس نے تاجروں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان کو نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں،پولیس کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی،پولیس نے تاجروں اور ہوٹل مالکان سے شیورٹی بانڈز بھی طلب کر لیے ہیں،جڑواں شہروں میں 14 سے 16 اکتوبر تک عام تعطیل کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سربراہی اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی اور فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کریں گے۔ سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم یا ان کے نمائندے کی شرکت کی تصدیق کی جا چکی ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

  • پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کےلیے پرعزم ہیں،سعودی وزیر سرمایہ کاری

    پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کےلیے پرعزم ہیں،سعودی وزیر سرمایہ کاری

    سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے اسلام آباد میں‌تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب سٹرٹیجک شراکت دارہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ تجارت کو بڑھانے کے لیے ہمیں جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا وہاں کی ترقی میں اہم کردارہے۔پاکستان دورے کے دوران دو ارب ڈالر کے 27 معاہدے ہونگے، پاک سعودی بزنس فورم دونوں ملکوں کی تاجر برادری کے درمیان رابطے کے حوالے سے اہم ہے،معاشی طور پر پاکستان نے جو گذشتہ دو سال کے قلیل عرصے میں جو کامیابی حاصل کی وہ انتہائی متاثر کن ہے، سعودی عرب پاکستان کا شراکت دار رہے گا تاکہ معاشی طور پر مستحکم ہو،پاکستان ہمارے لیے دوسرا گھر ہے، میرے خیال میں پاکستان اور سعودی عرب مل کر لامحدود کام کر سکتے ہیں، اسی طرح سے جیسے ہمارے معاشی اور تاریخی تعلق کی کوئی حد نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے قیام سے ہی ہمارے سیاسی تعلقات انتہائی اعلٰی درجے کے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو 2019 میں 3 ارب سے بڑھ کر 5.4 ارب ڈالر ہو گئی ہے،سعودی عرب میں پاکستانی سرمایہ کاری کو جاری لائسنس میں بھی دگنا اضافہ ہوا ہے، اب ہم اگلے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں کہ مستقبل کا سوچیں، اور سعودی عرب کا مستقبل کامیابی، معاشی خوشحالی اور نجی شعبے کو مضبوط کرنا ہے جن میں سے پچاس سے زائد کمپنیاں ہمارے ساتھ یہاں وفد میں بھی موجود ہیں،وژن 2030 کا ایک اہم ہدف یہ بھی ہے کہ معاشی خوشحالی کو اپنے شراکت داروں تک بڑھایا جائے تعمیراتی منصوبوں کے لیے سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا مقام ہے اور آئندہ سال اس حوالے سے ایوارڈ دینا شروع کریں گے جس میں ہم چاہیں گے کہ پاکستان بھی شامل ہو.

    میرایقین ہے جو ایک بار پاکستان آئے وہ باربار آنے کی تمنا کرےگا،اسحاق ڈار
    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میرایقین ہے جو ایک بار پاکستان آئے وہ باربار آنے کی تمنا کرےگا،پاکستان سعودی عرب بزنس فورم کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی وفد کا پرتپاک خیرمقدم کرتا ہے.پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے.پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے.پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کی حمایت کی بدولت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے.فنڈ سہولت کا انتظام پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کو فروغ دیتا ہے.اقتصادی بحالی کے ایجنڈے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے.ہماراسرمایہ کاری کا ماحول غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہے.پاکستان بہت جلد دنیا کی 24ویں مضبوط معیشت بن کر ابھرے گا.پاکستان سعودی عرب کو کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے.پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے.پاک سعودی بزنس فارم میں پاکستان اور سعودی عرب نے تعاون بڑھانے کا عزم کیا ہے.پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کے لیے پرعزم ہے.پاکستان کی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے.پاکستان کی افراط زر کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے.قدرتی وسائل کی تلاش معیشت کو فروغ دیتی ہے.پاکستان اور سعودی عرب کان کنی کے شعبے میں تعاون بڑھا رہے ہیں. معاشی اشاریے مثبت ہیں.بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی معیشت کی تعریف کر رہے ہیں.پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے.زراعت، لائیو سٹاک کے شعبے سعودی سرمایہ کاری کے لیے کھلے ہیں.قابل تجدید توانائی کے منصوبے سعودی سرمایہ کاروں کے لئے کھلے ہیں

    سعودی عرب پاکستان میں سیاحت کے مواقعوں سے استفادہ کرسکتا ہے.مصدق ملک
    وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان سعودی عرب بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں. پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے متعدد مواقع موجود ہیں.سعودی عرب میں پٹرولیم کے خام مال کے بے شمار وسائل موجود ہیں.پاکستان پٹرولیم مصنوعات کو استعمال کر نے کی بڑی مارکیٹ موجود ہے.سعودی عرب پاکستان میں سیاحت کے مواقعوں سے استفادہ کرسکتا ہے. ایس آئی ایف سی سعودی سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون فراہم کرے گا

    پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری میں اضافہ ہماری ترجیح ہے.عبدالعلیم خان
    وفاقی وزیرعبدالعلیم خان نےپاک سعودی بزنس فورم سےخطاب میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں.پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری میں اضافہ ہماری ترجیح ہے.پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے وسیع ترمواقع موجود ہیں.پاکستان اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات دوستی، محبت اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہے.سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے.پاکستان سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری بڑھانے پر سعودی قیادت کا مشکور ہے.پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے وسیع ترمواقع موجود ہیں،

    کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی آر ہی ہے.وزیر خزانہ
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاک سعودی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی آر ہی ہے.معاشی اصلاحات کی بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں.پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے.نجی شعبے کی شراکت داری سے ملکی معیشت کو مستحکم کر سکتے ہیں.زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے.وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی معیشت میں مسلسل استحکام آرہا ہے. پائیدار معاشی استحکام کیلئے بنیادی اصلاحات لانا ہوں گی.آئی ایم ایف کے پروگرام سے ملک میں معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی،

    آرمی چیف سے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی ملاقات

    سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان پہنچ گیا: 2 ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقعات

    سعودی عرب کا قومی دن،پاکستانی قیادت کی مبارکباد،پیغامات

  • پی ٹی آئی کی  انٹرا پارٹی کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر

    پی ٹی آئی کی انٹرا پارٹی کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر

    پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں انٹرا پارٹی کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کردی

    پی ٹی آئی نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے کل جمعہ کو سماعت کرنی ہے، جمعہ کے روز ایڈووکیٹ حامد خان کی لاہور میں فیملی مصروفیت ہے، ایڈووکیٹ حامد خان پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں پیش نہیں ہوسکتے، مخالف وکلاء کو بذریعہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایڈووکیٹ حامد خان کی عدم دستیابی بارے آگاہ کردیا گیا ہے، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن نظرثانی کیس کی سماعت ملتوی کی جائے،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی نے کل جمعہ کو کیس کی سماعت کرنی ہے

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • خیبرپختونخوا  ہاؤس ڈی سیل کرنے کا حکم

    خیبرپختونخوا ہاؤس ڈی سیل کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا ہاؤس ڈی سیل کرنے کا حکم دیدیا

    وکیل سی ڈی سے نے کہا کہ خیبرپختونخوا ہاؤس کی لیز 2014 میں ختم ہو چکی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سی ڈی اے نے نوٹسز کب جاری کیے تھے؟ ایک نوٹس ہاؤس سیل کرنے سے پہلے بھی جاری کر دینا تھا ناں، ایک صوبے کا ہاؤس ہے، یہ شرمندگی والا کام ہے، خیبرپختونخوا ہاؤس ڈی سیل کرنے کا آرڈر کر رہا ہوں،

    خیبرپختونخوا حکومت نے کے پی ہاؤس کو سیل کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی،خیبر پختونخواہ حکومت نے سیکرٹری ایڈمن کے ذریعے درخواست جمع کرائی جس میں سیکرٹری قانون، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، ڈی جی ایف آئی اے، سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد اور ڈائریکٹر بلڈنگ اینڈ کنٹرول سی ڈی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔کے پی حکومت نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی پراپرٹی کے پی ہاؤس کو غیر قانونی طور پر سیل کیا گیا، جس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ گئے تو کہا گیا کہ متعلقہ فورم اسلام آباد ہائیکورٹ بنتا ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ کے پی ہاؤس کو سیل کر کے سرکاری گاڑیاں تحویل میں لینے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے، خیبرپختونخواہ ہاؤس کو فوری ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے کے پی ہاؤس اسلام آباد سیل کرنے کے خلاف کے پی حکومت کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کی ہدایت کی تھی چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ فیڈریشن حکام نے اگر یہ کیا ہوتا تو ہم کیس سنتے، لیکن یہ تو لوکل اتھارٹی ہے، اس کے ساتھ ہم کیا کریں، آپ اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں، اگر یہاں پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کچھ کرے تو کیا آسلام آباد کورٹ اس پر کچھ کرے گی؟ایک صوبے کا ہاؤس سیل کرنا بالکل غلط ہے لیکن آپ غلط جگہ کیس لائے ہو، یہ کیس واپس لیں اور کل اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں۔

  • حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی روزنامہ 92 کے دفاتر بند کرنے کی مذمت

    حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی روزنامہ 92 کے دفاتر بند کرنے کی مذمت

    حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) نے روزنامہ 92 اسلام آباد اور کراچی کے دفاتر بند کرنے کی مذمت کی ہے.

    حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے سینئر نائب صدر آفتاب رند، جنرل سیکریٹری امجد اسلام، خازن راناحمبل، جوائنٹ سیکریٹری ندیم اختر ایف ایس سی ممبران عبداللہ سروہی، عمران پاٹولی، اراکین گورننگ باڈی جاوید چنہ، غلام قادر توصیفی، عاشق ساند،آصف شیخ و دیگر ممبران نے روزنامہ 92 اسلام آباد اور کراچی کے دفاتر بند کرکے ان میں کام کرنے والے عامل صحافیوں کو بیروزگار کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ، صوبائی وزیر اطلاعات او ردیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیں ، صحافیوں کو اور صحافتی اداروں کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو پھر پی ایف یو جے (ورکرز) ملک گیر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پرنٹ میڈیا سے جس طرح عامل صحافیوں کی چھانٹی کی جارہی ہے اس کے بعد صحافیوں کا مستقبل ہر آنے والے دن کے ساتھ غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے۔زندگی کا بیشتر حصہ اخبارات میں گزارنے والے صحافی ، فوٹو گرافر اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ اطلاعات صحافتی اداروں کو دیئے جانے والے اشتہارات ان اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کی ملازمتوں کو مستقل رکھے جانے سے مشروط کریں کیونکہ جس طرح اداروں میں ڈان سائزنگ کی جارہی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک طرف تو حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ صحافتی اداروں کو اشتہارات کی صورت میں مالی وسائل فراہم کررہی ہے تو دوسری جانب اداروں سے صحافیوں اور دیگر عملے کو فارغ کئے جانے کا نوٹس بھی نہیں لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے اور اس کو نقصان پہنچا کر ملک اور جمہوریت کو مضبوط ومستحکم نہیں بنایاجاسکتا۔ محکمہ اطلاعات ان ڈمی اخبارات کو کمیشن کے عیوض دیئے جانے والے اشتہارات کا بھی نوٹس لے جو اپنے کوٹہ سے زیادہ اشتہارات لیتے ہیں لیکن کسی صحافی کو ملازمت فراہم نہیں کررہے ہیں۔

    پاکستان سے لبنان کے لیے پہلی امدادی کھیپ روانہ

    کراچی کے گیسٹ ہائوسز اور ہوٹلوں میں تابڑ توڑ چھاپے، درجنوں گرفتار

    متحدہ عرب امارات کی دہشت گرد حملے کی مذمت، پاکستان سے اظہار یکجہتی، چین سے تعزیت کا اظہار

    کراچی ائیرپورٹ کے نزدیک دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں، امریکا

  • سپریم کورٹ،ڈیم فنڈ کی رقم 11 ارب سے 23 ارب ہو گئی

    سپریم کورٹ،ڈیم فنڈ کی رقم 11 ارب سے 23 ارب ہو گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈیمز فنڈ کیس کی سمماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں۔

    ڈیمز فنڈز کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت ایڈیشل اٹارنی آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ کے حکم نامے کے تحت وزیراعظم چیف جسٹس ڈیمز فنڈز اکاؤنٹ کھولا گیا، رجسٹرار سپریم کورٹ اکاؤنٹ کی دیکھ بھال کرتا تھا، تحقیقات سے علم ہوا کہ ڈیمز فنڈز اور مارک اپ میں بے قاعدگی نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اکاؤنٹ کا عنوان نامناسب ہے، ہمیشہ پریکٹس رہی آئین و قانون کے بجائے عدالتی فیصلوں کو فوقیت نہیں دینی چاہیے .

    وکیل واپڈا نے عدالت میں کہا کہ ہم نے 2018 سے لیکر اب تک 19 عمل درآمد رپورٹس جمع کرائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہم نظرثانی نہیں سن رہے، دیکھ رہے ہیں سپریم کورٹ فنڈز رکھ سکتی ہے یا نہیں،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں کہا کہ فنڈز کے اکاؤنٹ کا نام تبدیل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، اخبارات میں آجکل بہت کچھ چھپ رہا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا نہ آپ کو عدالت میں اخبار پڑھنے دیں گے نہ ہی یہاں اخبار پڑھیں گے، سیاسی باتوں کے بجائے آئین کے تحت معاونت کریں،خالد جاوید خان نے کہا کہ ڈیمز فنڈز کو حکومت کے استعمال کے بجائے ڈیمز کیلئے ہی استعمال ہونا چاہیے، جب ڈیمز فنڈز کیس چل رہا تھا اس وقت آرٹیکل 184کی شق 3 کے اختیار کا پھیلاؤ پورے ملک تک تھا، جبکہ ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا ڈیمز فنڈز پبلک اکاؤنٹ میں گئے تو مارک اپ نہیں لیا جاسکتا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فنڈز پبلک اکاؤنٹ سے مارک اپ کیلئے پرائیویٹ بینکوں میں رکھے جاسکتے ہیں، جس پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا 37 سالہ ملازمت میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا ہم ڈیمز بنانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم نامے کی طرف نہیں جائیں گے۔

    وکیل متاثرین کا کہنا تھا تھرڈ پارٹی تنازعات بھی اس کیس سے جڑے ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اس وقت نظرثانی دائر نہیں کی، جب سپریم کورٹ میں عجیب و غریب چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں اس وقت کوئی اعتراض نہیں کرتا،لیگل ایڈوائزر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز فنڈ میں اس وقت 23 ارب روپے سے زائد رقم موجود ہے، فنڈ میں آنے والی رقم 11 ارب اس پر مارک اپ 12 ارب روپے سے زائد ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسٹیٹ بینک کے حکام سے استفسار کیا مارک اپ کون ادا کرتا ہے؟ جس پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل غفران میمن کا کہنا تھا مارک اپ ٹی بلز کےذریعے حکومت ادا کرتی ہے، ڈیمز فنڈ کی مکمل تحقیقات کی ہیں، کوئی خردبرد نہیں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت اپنے آپ کو کیسے اور کیوں مارک اپ دے رہی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ مارک اپ اس پیسے پر دیا جاتا ہے جو حکومت استعمال کرتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پر مارک اپ کا بوجھ ڈال کر خوش ہو رہے کہ 11 ارب روپے سے بڑھ کر 23 ارب ہو گئے، یہ تو آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات ہے، کیا سپریم کورٹ ڈیمز فنڈ میں موجود رقم رکھ سکتی ہے؟ایڈیشنل آڈیٹر جنرل نے جواب میں کہا کہ ڈیمز فنڈ کی رقم حکومت کے پبلک اکاؤنٹ کے ذریعے واپڈا کو جانی چاہیے۔

    جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ حکومت کی مالی حالت ٹھیک نہیں، اگر رقم واپڈا کو دی ہی نہیں تو کیا ہو گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کس دائرہ اختیار میں ڈیمز تعمیر کی پیشرفت رپورٹ مانگتی رہی؟وکیل واپڈا سعد رسول کا کہنا تھا عدالت کا مقصد صرف ڈیمز کی تعمیر کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا عمل درآمد بینچ کی تشکیل کا آئین میں کوئی ذکر ہے؟ واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ آئین میں عمل درآمد بینچ کا ذکر نہیں لیکن کوئی پابندی بھی نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا عمل درآمد بینچ کا تصور کراچی بدامنی کیس سے شروع ہوا تھا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا میں نے حلف آئین کی بالادستی اور عمل درآمد کا اٹھایا تھا عدالتی فیصلوں کا نہیں،سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈز کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھرسے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی