Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سری لنکا میں کئی سال سے قید 56 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

    سری لنکا میں کئی سال سے قید 56 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

    سری لنکا میں کئی سال سے قید 56 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

    برسوں بعدوطن واپس آنے پر قیدیوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ محسن نقوی اور عبدالعلیم خان کو دعائیں دیں.وطن واپس آنے والی بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ بیٹا آپکا شکریہ کہ ہم پاکستان واپس آ گئے ہیں۔آپ کی بہت مہربانی۔ یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ وطن واپس آنے والے شخص نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی اور عبدالعلیم خان کی بدولت آج وطن واپس آئے ہیں۔جن حالات میں قید تھے ۔ شکر ہے ہم واپس وطن آئے۔محسن نقوی اور عبدالعلیم کے شکرگزار ہیں کہ وہ ہمیں اپنے گھر واپس لائے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کی کاوشیں بار آور ،5 خواتین اور51 مرد قیدیوں کو سری لنکا سے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے وطن واپس لایا گیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی یقینی بنانے کیلئے ذاتی دلچسپی لی اور سری لنکن ہائی کمشنر کے ساتھ اس ایشو کو اٹھایا،وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سری لنکا سے پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کے تمام اخراجات برداشت کئے،وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے تعاون پر سری لنکن حکومت اور ہائی کمشنر کے کردار کو سراہتے ہیں۔ قیدیوں کی واپسی کے اخراجات برداشت کرنے پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

  • ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

    وفاقی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ ،پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے بعد فتنہ الخورج نے پی ٹی ایم کی حمایت کا اعلان کردیا

    وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پی ٹی ایم پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،وزارت داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ” پی ٹی ایم ملک میں امن و سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے، 1997 کے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 بی کے تحت پی ٹی ایم پر پابندی عائد کی جاتی ہے“۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان میں شرانگیزی اور تقسیم پھیلانے کی غرض سے2014میں قائم ہونے والی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں کا محور ریاست مخالف ایجنڈہ ہے، پشتون تحفظ موومنٹ نے 11 اکتوبر2024 کوشرانگیزی کی غرض سے ضلع خیبرمیں نام نہاد”پشتون قومی عدالت“ کے انعقاد کا اعلان کر رکھاتھا،تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے غیور پشتون قبائل میں ریاست مخالف نظریات اور نفرت کا بیج بونے والی کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ فتنتہ الخوارج کا سیاسی روپ دھار چکی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام سے لیکر اب تک اس کی سرگرمیاں بظاہر پشتون عوام کے حقوق کی جنگ ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے،اس کا واضح ثبوت حال ہی میں فتنتہ الخوارج کی جانب سے پشتون قومی عدالت کی حمایت کا اعلان ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پشتون تحفظ موومنٹ آغاز ہی سے پشتونوں کی مظلومیت کو اپنے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پشتون قومی عدالت کا انعقاد پاکستان کے حالات کو مزید کشیدگی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے جس کا واضح ثبوت فتنتہ الخوارج کی حمایت کی صورت میں سامنے ہے۔ فتنتہ الخوارج کو اس کی دہشتگرد سرگرمیوں کی بدولت 2011 میں بین الاقوامی سطح پر کالعدم اور فارن دہشتگرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ فتنتہ الخوراج کے دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں جہاں سے افغان طالبان کی سہولت کاری کے ذریعے پاکستان میں حملے کئے جاتے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ فتنتہ الخوراج ان پشتونوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے جو سب سے زیادہ اس کی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ فتنتہ الخوراج کی جانب سے پشتون قومی عدالت کی حمایت پی ٹی ایم کے ساتھ گٹھ جوڑ کو ثابت کرتی ہے۔

    فتنتہ الخوراج کے بیان کے مطابق ”ہم مظلوم پشتون اقوام بالخصوص آفریدی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں“۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنتہ الخوراج کی جانب سے اس قسم کے بیانات پشتون قوم کو تقسیم کر کے اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ پی ٹی ایم کے سرغنہ منظور پشتین کی جانب سے بھی اکثر ایسے بیانات دیئے گئے ہیں جن سے ان کی ملک دشمنی واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی ایم کی جانب سے پاک فوج اور عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب فتنتہ الخوراج اور پشتون تحفظ موومنٹ مل کر پاکستان کی سا لمیت کے درپے ہیں،ریاست اور ریاستی اداروں کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ٹھوس پالیسی مرتب کرکے ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ خیبرپختونخوا کے غیور اور باشعور عوام کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ صرف ریاست ہی کرسکتی ہے۔ فتنتہ الخوراج جیسی دہشتگرد تنظیم کے حمایتی اعلان سے پشتون تحفظ موومنٹ کی سیاسی جدوجہد کو شدت پسندی کی جانب موڑا جا رہا ہے۔ مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں فتنتہ الخوراج کمزورہو چکے ہیں جنہیں اب کسی نئے سہارے کی تلاش ہے۔

    چند روز قبل پی ٹی ایم کے منظور پشتین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے بھی ملاقات کی اور پشتون قومی عدالت میں شرکت کی دعوت دی تھی،ایسے شرپسند عناصر کی سرپرستی صرف اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے سوا اور کچھ نہیں

  • افغان وزارت خارجہ کا بیان قابل مذمت،ناقابل قبول ہے،پاکستان

    افغان وزارت خارجہ کا بیان قابل مذمت،ناقابل قبول ہے،پاکستان

    افغانستان کی وزارت خارجہ کے بیان پر پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ کا درعمل سامنے آیا ہے
    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان مسترد کرتے ہیں، افغان وزارت خارجہ کا بیان غیر سنجیدہ تھا،یہ بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول اور قابل مذمت مداخلت ہے،جمہوری ملک کو لیکچر دینے کے بجائے اپنے مقامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے،افغانستان کو دہشت گرد گروپوں کو جگہ دینے سے انکار کرکے بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کو بھی پورا کرنا چاہیے،افغانستان میں دہشت گرد گروپس پڑوسی ممالک کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، افغانستان کو ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنا چاہیے،پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور تعاون کے لیے پر عزم ہے،

    واضح رہے کہ پاکستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پڑوسی ملک پاکستان میں حکومت اور سیاسی مخالفین کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے جس کے منفی اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کا بہترین طریقہ گفت و شنید اور افہام و تفہیم سے ہے۔ حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ مذاکرات سے انکار مسئلے کو مزید پیچیدہ کررہا ہے۔ہم پاکستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ حکومت پاکستان اور بااثر ادارے بڑھتی ہوئی ناراضگیوں کے ساتھ معقول اور حقیقت پسندانہ سلوک کرے۔

    افغان وزارت خارجہ کا گمراہ کن بیان یہ گماں ظاہر کرتا ہے کہ کیا افغان بلوائی جنہوں نے کل توڑ پھوڑ میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا، وہ ہمسایہ ملک نے سرکاری طور پر تو فراہم نہیں کیے تھے؟ کیا اس بیان کے بعد کیا تحریک انتشار اور سرحد پار سہولت کاروں کے درمیان گٹھ جوڑ میں کوئی شک رہ گیا ہے ؟کیا اس بیان سے یہ تاثُر بھی نہیں ملتا کہ پاکستان کے قومی ترانے کے دوران بیٹھے رہنے کی اجازت بھی گنڈا پور نے خود ہی دی تھی ؟بہت حیرت انگیز بات ہے کہ افغانستان جہاں جمہوریت بالکل مفقود ہے، انسانی حقوق نام چیز ناپید ہے اور عورتوں کو بھر بکریوں سے ابتر سمجھا جاتا ہے وہ ملک آج ہمیں سمجھا جا رہا ہے – دیکھو تو سہی کون بول رہا ہے بجائے اپنا گھر سیدھا کرنے کے افغان حکومت اپنے بڑے ابو کو مشورے دے رہی ہے،شدید اچنبھے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی صورت حال نہیں بلکہ پاکستان خطے کیلئے خطرہ ہے ،واہ جی واہ،دوسروں کو نصیحت۔ خود میاں فضیحت

  • اڈیالہ جیل میں 18 اکتوبر تک ملاقاتوں پر پابندی عائد

    اڈیالہ جیل میں 18 اکتوبر تک ملاقاتوں پر پابندی عائد

    راولپنڈی،اڈیالہ جیل میں 18 اکتوبر تک ہر قسم کی ملاقات پر پابندی عائد کردی گئی،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پارٹی رہنما، وکلاء اور فیملی کی ملاقات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ،ملاقاتوں پر پابندی سیکورٹی وجوہات کے باعث لگائی گئی ہے،جیل ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سلسلے میں جڑواں شہروں میں سیکورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ملاقاتوں پر پابندی کا فیصلہ پنجاب حکومت نے کیا ہے،اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق عام قیدیوں پر بھی ہوگا،

    واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان سے وکیل اور پارٹی رہنما ہر ہفتے ملاقاتیں کرتے ہیں،عمران خان کے خلا ف مقدمات کی سماعت عدالت میں ہوتی ہے تو عمران خان میڈیا سے بھی بات چیت کرتے ہیں اور صحافیوں کے سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں، عمران خان کے بیانات کو میڈیا پر بھی نشر کیاجاتا ہے تا ہم آج سیکورٹی سخت کی گئی ہے اور اس ضمن میں اڈیالہ جیل میں تمام قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے.

    عمران خان کا ممکنہ ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹا دی گئی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر احتجاج میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر احتجاج میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج

    پی ٹی آئی احتجاج میں ترنول جی ٹی روڈ بلاک کرنے توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کر لیا گیا،

    درج مقدمہ میں وزیراعلی کے پی علی امین گنڈا پورسمیت اعظم سواتی عامر مغل عمر ایوب بیرسٹر سیف بھی ملزم نامزد کئے گئے ہیں،مقدمہ دہشتگردی اقدام قتل سمیت 14 سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا.مقدمے میں ساڑھے تین سو کے قریب نامعلوم کارکنان بھی ملزمان نامزد کئے گئے ہیں،مقدمے میں اعظم سواتی پر مالی معاونت، علی امین پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے، مقدمہ میں کہا گیا کہ پولیس ملازمین پر فائرنگ کرکے یرغمال بنا کر حبس بیجا میں رکھا گیاگرفتار ملزمان نے بتایا بانی پی ٹی آئی کا حکم ہے ہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے ،

    قبل ازیں عمران خان کے خلاف تھانہ نصیر آباد میں ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات سمیت 13 دفعات شامل ہیں،مقدمے میں پی ٹی آئی راولپنڈی کے 13 مقامی رہنما بھی نامزد کیےگئے ہیں۔ مقدمے میں 200 سے 300 نامعلوم ملزمان کو بھی نامزد کیا گیا ہے،ایف آئی آر کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل مینوئل سے ہٹ کر ملاقاتوں کی اجازت دی گئی، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں میں ساری منصوبہ بندی کی گئی تھی،ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے ایم ون موٹر وے پر سڑک بلاک کرکے فائرنگ کی جس سے خوف و ہراس پھیلا، ملزمان اسلحہ، ڈنڈے، پیٹرول بم لے کر اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور توڑ پھوڑ کی،ملزمان روکنےکی کوشش پرپولیس پر حملہ آور ہوئے، ملزمان بانی پی ٹی آئی کی ایما پر ریاست مخالف نعرے لگاتے رہے، ملزمان نے سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے لگائے اور اشتعال پھیلایا۔ملزمان نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کار سرکار میں مداخلت کی۔

    علاوہ ازیں عمران خان سمیت پارٹی کی مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف تھانہ ٹیکسلامیں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمےمیں دہشتگردی، اقدام قتل،اغوا، ڈکیتی،کارسرکارمیں مداخلت،پولیس اہلکاروں پرحملے کی دفعات شامل ہیں،مقدمے میں بانی پی ٹی آئی سمیت 14 رہنما اور 105 کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے، پی ٹی آئی رہنما جاویدکوثر، راجہ بشارت،شہریار ریاض،راشدحفیظ، ناصر محفوظ، چوہدری امیر افضل و دیگر بھی مقدمے میں نامزد ہیں۔

    عمران خان کا ممکنہ ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹا دی گئی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • چار لاپتہ بھائیوں کی عدم بازیابی پر عدالت برہم

    چار لاپتہ بھائیوں کی عدم بازیابی پر عدالت برہم

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،اسلام آباد کے تھانہ کھنہ کی حدود سے لاپتہ چار بھائیوں کی بازیابی کا کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جنوری سے لاپتہ بھائیوں کی عدم بازیابی پر برہم ہو گئے، دائر درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ چاروں بھائیوں کو راولپنڈی پولیس نے جنوری میں اٹھایا ، عدالت نے ایس ایس پی راولپنڈی اور ایس ایس ایس پی اسلام آباد کوجمعرات کو ذاتی حیثیت میں ہائیکورٹ طلب کر لیا، عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے بھی مغویوں سے متعلق رپورٹ جمعرات کو طلب کر لی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایس ایس پیز پیش رفت رپورٹ کے ساتھ پیش ہوں ورنہ وارنٹ گرفتاری جاری ہونگے ،اب تک مغوی کیوں بازیاب نہیں ہوئے ، دونوں ایس ایس پیز جمعرات کو آگاہ کریں ،

    ڈیڑھ لاکھ ایس ایچ او کی تنخواہ،ایف سکس،سیون میں گھر کیسے بن سکتے؟ عدالت
    اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے حکام عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک ایس ایچ او کی کتنی تنخواہ ہوتی ہے ،پولیس افسر نے جواب دیا کہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ روپے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا ڈیڑھ لاکھ روپے میں ایف سکس اور ایف سیون میں گھر بن سکتا ہے،پولیس افسر نے جواب دیا کہ نہیں مائی لارڈ ناممکن ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پھر وہاں گھر کیسے بن رہے ہیں کیا فرشتے دے رہے ہیں پیسے، ایس پی راولپنڈی کیوں نہیں آئے کہاں ہیں ،پولیس افسر نے کہا کہ وہ راستے میں ہیں آرہے ہیں رستے بند ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا وہ راستے میں ہی ہمیشہ رہیں گے ،ایسا تاثر جارہا ہے کہ جیسے پولیس ملی ہوئی ہے ، مغوی کہاں ہیں ،روسٹرم پر کھڑے ہوں تو سوچ سوچ کر جواب دیا جاتا ہے،وارنٹ گرفتاری جاری کردوں ایس پی کے ، اسے کہو آئیندہ عدالت میں پیش ہو ،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ چاروں بھائیوں کو راولپنڈی پولیس نے اسلام آباد کی حدود کھنہ سے اٹھایا ،اب دونوں پولیس حکام کہتے ہیں ہم نے نہیں اٹھایا ، عدالت نے ایس ایس پی راولپنڈی اور اسلام آباد کو طلب کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی،

    زلفی بخاری کی شیخ رشید پر تنقید ،کہا کئی کشتیوں کے سواروں کے ساتھ یہی ہوتا

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    عمران خان، فرح گوگی،زلفی بخاری،ملک ریاض کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

    بشریٰ ،زلفی بخاری آڈیو لیک،بشریٰ بی بی نے درخواست دائر کر دی

  • پی ٹی آئی احتجاج کاتیسرا روز،اسلام آباد میں  موبائل سروس بحال  ،جڑواں شہروں کے درمیان ٹریفک بحال

    پی ٹی آئی احتجاج کاتیسرا روز،اسلام آباد میں موبائل سروس بحال ،جڑواں شہروں کے درمیان ٹریفک بحال

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا آج تیسرا روز ہے، ڈی چوک میں پاک فوج، رینجرز اور پولیس کے تازہ دم دستے موجود ہیں،جڑواں شہروں کے درمیان ٹریفک بحال ہوگیا جبکہ اسلام آباد میں موبائل فون سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے معاملے پر راولپنڈی کے مختلف پوائنٹس سے کینٹینرز ہٹا دیے گئے،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ اندرون شہر تمام رکاوٹیں اور کنٹینرز ہٹا دیے گئے، اس کے علاوہ مریڑ چوک، کمیٹی چوک، وارث خان اور راولپنڈی ڈبل روڈ سے بھی کینٹینرز ہٹا دیے گئے جبکہ مری روڈ اور اطراف کے راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے،راولپنڈی میں مجموعی طور پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، کچھ دیر تک تمام رکاوٹیں ہٹا کر راستے بھی کھول دیے جائیں گے، راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے راستے کھولنا اسلام آباد انتظامیہ کا اختیار ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں موبائل فون سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوگئی، موبائل فون سروس گزشتہ 3 روز سے بند تھی۔

    پی ٹی آئی کارکنوں کے تشدد سے زخمی پولیس اہلکار جاں بحق

    راولپنڈی اسلام آباد کے بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں، مری روڈ تین دن سے ہر طرح کی ٹریفک کیلئے بند ہے، راولپنڈی: مری روڈ کی طرف آنی والی گلیوں اورراستوں پر کنٹینرز موجود ہیں،لیاقت باغ راولپنڈی سے فیض آباد تک جگہ جگہ رکاوٹیں موجود ہیں، پنجاب پولیس کی نفری جگہ جگہ تعینات اور سیکورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ موبائل انٹرنیٹ بند ہے اور میٹرو بس سروس بھی تیسرے روز معطل ہےموبائل فون سروس کے حوالے سے حکام کا بتانا ہے کہ کچھ دیر میں موبائل فون سروس باضابطہ طور پر بحال کر دی جائے گی۔

    وزارت داخلہ نے علی گنڈاپور کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار دے دیں

    اسلام آباد کی حدود میں ایکسپریس وے،کشمیر ہائی وے ٹریفک کیلئےکھلی ہے، مری روڈ اور ائیرپورٹ روڈ ٹریفک کیلئےکھلے ہیں تاہم ریڈ زون جانے اور آنے والے تمام راستے بند ہیں اسلام آباد سے لاہور جانے کے لیے موٹروے ایم ون ٹریفک کے لیے کھلی ہے، ایم ون پر کھودی گئی خندقوں کو بھر دیا گیا ہے، اسلام آباد سے پشاور جانے کیلئے موٹر وے ایم ٹو بھی کھول دی گئی ہے۔

    دوسری جانب چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور عمارہ اطہر نے کہا ہے کہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستے ٹریفک کے لیے کھلے ہیں، تمام صوبائی دارالحکومت کے تمام باسی باآسانی شہر میں اور شہر کے باہر جاسکتے ہیں، ایسٹرن بائی پاس بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہےبابو صابو، ٹھوکر نیاز بیگ، شاہدرہ، سگیاں سمیت تمام داخلی و خارجی راستوں پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔

    امارات ائیرلائنز کی پروازوں میں پیجر‘ واکی ٹاکی پر پابندی عائد

    لاہور میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے رینجرز کو طلب کیا گیا، طلبی کا مقصد صوبائی دارالحکومت میں امن و امان قائم رکھنا ہےذرائع کے مطابق جی پی او چوک کے باہر اور کئی دیگر پوائنٹس پر رینجرز موجود ہے۔

  • وزارت داخلہ نے علی گنڈاپور کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار دے دیں

    وزارت داخلہ نے علی گنڈاپور کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار دے دیں

    وزارت داخلہ کے ذرائع نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے متعلق گرفتاری اور حراست میں لیے جانے کی خبروں کو بے بنیاد افواہیں قرار دیا ہے۔

    ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق علی امین گنڈاپور کو نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی حراست میں لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی اسلام آباد میں گرفتاری سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی طرف سے گولی چلانےکی خبریں بالکل بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، پشاور سے لے کر اسلام آباد تک کہیں بھی کسی قسم کی کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ رینجرز کی طرف سے کے پی کے ہاؤس کو حصار میں لینے کی خبریں بے بنیاد ہیں، آرٹیکل 245 کے تحت کل رات سے سیکیورٹی فورسز اسلام آباد اور گرد و نواح میں تعینات ہیں۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل مستعدی سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، چند عناصر مذموم سیاسی مقاصد کیلئے سیکیورٹی فورسز سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو حراست میں لیے جانے کی متضاد اطلاعات سامنے آئیں تھیں، سرکاری ذرائع گرفتاری کی خبر کو غلط قرار دیتے رہے ہیں۔دوسری طرف پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے خیبر پختونخوا اسلام آباد پہنچی تو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔

    علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی

    پی ٹی آئی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے، منتشر کرنے کیلئے پولیس کی شیلنگ

  • پی ٹی آئی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے، منتشر کرنے کیلئے پولیس کی شیلنگ

    پی ٹی آئی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے، منتشر کرنے کیلئے پولیس کی شیلنگ

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن ڈی چوک پہنچ گئے، جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی۔

    بارش کی وجہ سے پولیس کی جانب سے کی گئی شیلنگ کا اثر کم ہوگیا۔اس سے پہلے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہم یہاں پر پہنچ گئے ہیں، اپنا احتجاج ریکارڈ کر لیا ہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں پر شدید فائرنگ شروع کر دی گئی تھی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی پر الزام لگاتے ہیں مگر ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم پرامن جماعت ہیں، اب بانی پی ٹی آئی سے بات کریں گے کہ ہمارا اگلا لائحہ عمل کیا ہو۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی آج مینار پاکستان گراؤنڈ میں احتجاج کی کال پر لاہور کے مختلف مقامات پر بھی کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔لاہور کے داخلی راستے اور مینار پاکستان کی طرف جانے والی سڑکیں کنٹینرز کھڑے کرکے بند کر دی گئیں، پولیس نے 9 مئی کے واقعات میں مطلوب شر پسند عناصر کی گرفتاری کیلئے حکمت عملی بھی ترتیب دے دی۔پولیس ذرائع کے مطابق شرپسند عناصر مینار پاکستان احتجاج میں بھی انتشار پھیلا سکتے ہیں، شہر میں قیام امن کیلئے 12ہزار سے زائد افسران اور جوان احتجاج اور توڑ پھوڑ روکنے کیلئے تعینات کیے گئے ہیں۔

    علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی

  • ہنگامی صورتحال، وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ

    ہنگامی صورتحال، وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ

    پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج کے معاملے پر ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وفاق نے صوبوں سے مدد مانگ لی جب کہ اس سلسلے میں سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی درخواست پر سندھ پولیس کے ایک ہزار اہلکار گزشتہ رات اسلام آباد روانہ کیے گئے تاہم ان میں کراچی پولیس کے اہلکار شامل نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی نفری کے ہمراہ 5 ہزار شیل بھی اسلام آباد بھیجے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھیجی گئی ہر پلاٹون میں سینیئر رینک کا افسر بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور فوج کے دستوں کے علاوہ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی تعینات ہیں، دارالحکومت میں پاک فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے فوج نے ذمہ داریاں سنبھال لیں، فوجی جوان ڈی چوک پرپہنچ گئے ہیں، فوج 17 اکتوبر تک وفاقی دارالحکومت میں ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی۔فوج کو صورتحال کے مطابق آتشیں اسلحے کے استعمال سمیت انتہائی اقدامات کی اجازت دی گئی ہے اور قانون شکن عناصر کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔

    سندھ پولیس کے باکسر شہیر آفریدی نے عالمی چیمپیئن کو شکست دیدی

    وزیراعلی پنجاب نے پی ٹی آئی کو دہشت گرد جماعت قرار دے دیا

    لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب