Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • آصف زرداری کیخلاف پارک لین اور ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس،فیصلہ محفوظ

    آصف زرداری کیخلاف پارک لین اور ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس،فیصلہ محفوظ

    احتساب عدالت اسلام آباد: آصف علی زرداری اور دیگر کے پارک لین اور ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی سماعت ہوئی

    نیب کی جانب سے دونوں ریفرنسز کو مناسب فورم پر بھیجنے کی استدعا کردی گئی ،ریفرنسز پر احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد علی وڑائچ نے سماعت کی ،آصف علی زرداری و دیگر کی جانب سے فاروق ایچ نائیک اور ارشد تبریز عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل آصف زرداری نے کہا کہ یہ کیس اس عدالت کا دائرہ اختیار ہی نہیں بنتا، آصف علی زرداری کو صدارتی استثنیٰ پہلے سے ہی حاصل ہے، عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا،دونوں ریفرنسز پر فیصلہ 3 اکتوبر کو سنایا جائے گا

    دوسری جانب احتساب عدالت اسلام آباد نے صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنس نیب کو واپس بھیجنے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،آصف علی زرداری، نواز شریف اور دیگر کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس بھیجنے سے متعلق درخواست پر سماعت احتساب عدالت کی جج عابدہ سجاد نے کی،صدر آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک اور نواز شریف کے وکیل قاضی مصباح اور پلیڈر رانا عرفان احتساب عدالت میں پیش ہوئے،وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا ریفرنس میں مجموعی طور پر 5 ملزمان ہیں، نیب ترامیم کے بعد یہ کیس اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں، اس کیس کو واپس چیئرمین نیب کو بھیج دیا جائے،جج احتساب عدالت کا کہنا تھا فریقین اس نکتے پر متفق ہیں کہ ریفرنس اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں، جب یہ کیس آیا تھا اس وقت آصف زرداری کو صدارتی استثنیٰ نہیں ملا تھا، جس پر وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا آصف علی زرداری پہلے بھی صدر بنے تو استثنیٰ لیا تھا لیکن جب صدارت سے اترے تو دوبارہ نیب میں پیش ہوئے تھے، احتساب عدالت ریفرنس واپس بھیج دے، آگے نیب کا اختیار کیس کس کو بھیجتی ہے، اب کیس جس کے پاس جائے گا وہاں سوال ہوگا کہ کیا آصف زرداری پر کیس بنتا ہے یا نہیں، نوازشریف کے وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ اس سے قبل جب عدالت نے فیصلہ کیا تو کیس واپس نیب کو بھیجا گیا، سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلے کی روشنی میں کیس واپس احتساب عدالت آیا۔

    نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے وکلا نے توشہ خانہ ریفرنس نیب کو بھیجنے کی استدعا کی جبکہ نیب پراسیکیوٹرکا کہنا تھا الزام ہے آصف علی زرداری نے چیک دیا جو باؤنس ہو گیا،وکیل صفائی فاروق ایچ نائیک نے کہا اس سے قبل ایسا ہی ایک کیس واپس نیب کو بھیجا گیا تھا، جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا جب ایک کیس احتساب عدالت کادائرہ اختیار ہی نہیں تومیرٹ ڈسکس نہیں ہوں گے، فیصلہ احتساب عدالت نے کرنا ہے کہ ریفرنس واپس نیب کو بھیجا جائے گا یا نہیں، صدر آصف زرداری کو صدارتی استثنیٰ حاصل ہے، ان کے خلاف کیس چل ہی نہیں سکتا، آصف علی زرداری کا کیس ایف آئی اے کو بھیج دیا جائے گا،نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا نواز شریف کا کیس الگ ہو گا اور آصف علی زرداری کا کیس الگ چلے گا،نیب پراسیکیوٹر کا کا کہنا تھا اس سے قبل جب کیس واپس بھیجا گیا تھا تو آصف زرداری صدر نہیں تھے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس واپس کرنےکی بجائےکسی اورعدالت بھیجنامیرٹ ڈسکس کرنے کے مترادف ہے، اس عدالت کے پاس کیس چلانے کا، اسٹے آرڈر دینے کا بھی اختیار نہیں ہے، بطور آصف زرداری کے وکیل کہہ رہا ہوں میرے خلاف آرڈر کرنےکا کوئی حق نہیں ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت صدر زرداری کو پہلے ہی استثنیٰ دے چکی ہے، یہ کیس یہیں رکا رہے گا جب تک آصف زرداری صدر ہیں، جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ اگر عدالت یہ ریفرنس پاس رکھتی ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، یہ عدالت نیب کے کالے کرتوت ان ہی کے سپرد کرے، پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا عدالت نواز شریف کی حد تک ریفرنس واپس بھیج دے، آصف زرداری کی حد تک اسٹے رکھے،احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری، نواز شریف اور دیگر کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس نیب کو واپس بھیجنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا، محفوظ شدہ فیصلہ 14 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

    اب بکرا منڈی میں جلسہ نہیں ہوگا،علیمہ خان کا5 اکتوبر کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    لاہور میں عوام اپنی کشتیاں جلا کر نظام بچانے کےلئے نکلیں،علیمہ خان

    رؤف حسن کے جبران الیاس کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات،ریاست مخالف بیانیہ بے نقاب

    رؤف حسن کا ایک اور پاکستان مخالف بھارتی تجزیہ کار کے ساتھ رابطوں کا انکشاف

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

  • توشہ خانہ ریفرنس،یوسف رضا گیلانی نے نیب اور عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا

    توشہ خانہ ریفرنس،یوسف رضا گیلانی نے نیب اور عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا

    احتساب عدالت اسلام آباد، توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس پر سماعت ہوئی
    یوسف رضا گیلانی نے نیب اور عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا ،وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم بحال ہونے کے بعد احتساب عدالت اور نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوچکا ہے، احتساب عدالت نے یوسف رضا گیلانی کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے کہاکہ نیب آگاہ کرے کہ توشہ خانہ کیس ان کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں، عدالت نے کیس کی سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہےکہ احتساب عدالت میں نیب کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے, نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے  آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

    مفتی عبدالقوی کی خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف مذہبی سکالرمفتی عبدالقوی کو حریم شاہ نے تھپڑرسید کردیا :آوازدورتک سنائی دی

    کراچی:ہوٹل کےکمرے میں حریم شاہ کےساتھ کچھ وقت گزارا:پھر کیا ہوا:مفتی عبدالقوی نےسچ سچ بتادیا

  • اسلام آباد انتخابی ٹریبونل کی تبدیلی،پی ٹی آئی نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد انتخابی ٹریبونل کی تبدیلی،پی ٹی آئی نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد انتخابی ٹریبونل کے تبدیلی سے متعلق کیس کی الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نےسماعت کی،درخواست گزاروں کے وکلا الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،پی ٹی آئی کے وکلا نے جواب جمع کرانے کے لئے وقت مانگ لیا،ممبر کے پی نے کہا کہ وکیل تبدیل کر رہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے،وکیل انجم عقیل نے کہا کہ ہمیں درخواست جمع کرانے کے لئے وقت چاہئے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئندہ تاریخ سے قبل جواب جمع کرائیں،وکلا درخواست گزار نے کہا کہ دو ہفتے کا وقت دے دے دیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دو ہفتے نہیں دے سکتے،سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد سے مسلم لیگ نون کے تینوں ایم این ایز نے درخواستیں دائر کیں تھیں،شعیب شاہین ، عامر مغل اور علی بخاری نے ٹریبونل تبدیلی کے خلاف درخواستیں دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے فریقین کو نوٹس جاری کئے تھے،الیکشن کمیشن نے ریٹائر جج کو الیکشن ٹریبونل تعینات کردیا تھا،اسلام آبادہائیکورٹ نےجسٹس طارق محمود جہانگیری کو تبدیل کرنے کا الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار دیاتھا،عدالت نےالیکشن کمیشن کو معاملہ واپس بھیجتے ہوئے دوبارہ سماعت کی ہدایت کی

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • پاکستان بھکاریوں کو آنے سے روکے،سعودی حکومت کا انتباہ

    پاکستان بھکاریوں کو آنے سے روکے،سعودی حکومت کا انتباہ

    سعودی عرب کی وزارت حج نے پاکستان کے وزارت مذہبی امور کو پاکستانی بھکاریوں کو روکنے کے لیے خط لکھ دیا

    سعودی وزارت حج نے پاکستان کی وزارت مذہبی امور کو انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستانی بھکاریوں کو نہ روکا گیا تو عمرہ زائرین اور حجاج کرام پر اثر پڑ سکتا ہے، پاکستانی بھکاری سعودی عرب میں عمرے کے ویزے پر آتے ہیں ،انکو روکا جائے اور کسی صورت سعودی عرب نہ آنے دیا جائے،سعودی عرب کی جانب سے انتباہ کے بعد وزارت مذہبی امور نے عمرہ ایکٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں عمرہ کروانے والے ٹریولز کو قانونی دائرے میں لایا جائے گا،وزارت مذہبی امور نے پاکستانی بھکاریوں کو سعودی عرب جانے سے روکنے کے لیے حکومت سے بھی رابطہ کر لیا ہے

    قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی سے ملاقات کی ہے,ڈپلومیٹک انکلیو میں سعودی عرب کے سفارت خانے آمد پر سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاک سعودیہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودیہ جانے والے پیشہ وارانہ بھکاریوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی یقین دہانی کی اور بتایا کہ ایف آئی اے کو بھکاریوں کو سعودیہ بھجوانے میں ملوث مافیا کے خلاف بھی ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مافیا پاکستان کے امیج کو خراب کر رہا ہے۔

    یہ معاملہ سینیٹ تک بھی جا پہنچا، جہاں اوورسیز پاکستانیوں کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں گرفتار پیشہ ور بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ پاکستانی شہری بھی غیر متناسب طور پر چھوٹے جرائم میں ملوث ہیں، جیسے کہ جیب کتری، سامان چوری کرنے میں ملوث ہوتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں، غیرقانونی کام کرتے ہیں، سعودی حکومت نے کئی بار یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا ہے.

    گزشتہ سال پیش آنے والے اسی طرح کے ایک واقعے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملتان ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والی پرواز سے عمرہ زائرین کے بھیس میں 24 مبینہ بھکاریوں کو اتار لیا تھا، رواں برس ماہ اگست میں ایف آئی اے نے کراچی ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والی پرواز سے عمرہ زائرین کے بھیس میں 11 مبینہ بھکاریوں کو اتار لیا تھا،ایف آئی اے حکام کے مطابق 8 خواتین سمیت 11 افراد پر مشتمل گروہ ابتدائی طور پر جعلی ریٹرن ٹکٹ اور ہوٹل بکنگ پر عمرہ ویزوں پر سفر کر رہا تھا،ایف آئی اے حکام نے امیگریشن کے عمل کے دوران مسافروں سے پوچھ گچھ کی جنہوں نے اعتراف کیا کہ وہ بھیک مانگنے کے لئے سعودی عرب جا رہے تھے،ایف آئی اے کراچی سرکل نے مسافروں کو مزید پوچھ گچھ اور قانونی کارروائی کے لیے گرفتار کر لیا۔

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مساج سنٹر پر جعلی صحافیوں کے چھاپے اور بلیک میلنگ کے حوالہ سے درخواست پر سماعت

    حیدرآباد پولیس نے بھتہ خوری میں ملوث جعلی صحافی کو بے نقاب کردیا

     شہر قائد کراچی میں جعلی صحافیوں کا ٹولہ جرائم اور چوری میں ملوث نکلا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس،چیف جسٹس کی بینچ سے الگ ہونے کی استدعا مسترد

    پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس،چیف جسٹس کی بینچ سے الگ ہونے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ، پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل بنچ میں شامل ہیں،جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی پانچ رکنی لارجر بینچ کا حصہ ہیں، عدالت نے گزشتہ سماعت پر ٹربیونلز کو کام کرنے سے روک دیا تھا ،عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ سے مشاورت کی بھی ہدایت کی تھی

    وکیل حامد خان نے کہا کہ مائی لارڈ ہم نے ایک درخواست دینی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ہمارے لیے آپ قابل احترام ہیں،پہلے آرڈر پڑھنے دیں،آپ براہ مہربانی اپنی نشت پر براجمان رہیئے، ہم آپ کو بعد میں سنیں گے،وکیل درخواست گزار حامد خان نے کہا کہ ہم آپ کے کیس سننے پر اعتراض ہے،میں آپ کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھانا چاہتا ہوں، سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض کر دیا،چیف جسٹس فائز عیسٰی نے الیکشن ٹریبیونل کے کیس میں بنچ سے الگ ہونے کی سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اگر کیس سے الگ ہونا ہے تو ہو جائیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجہ کے وکیل حامد خان کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کا مشورہ دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان کو روسٹرم سے ہٹنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ کیس سے الگ ہونا ہے تو ہو جائیں ہمیں کیس چلانے دیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریڈر کو اعتراض کی درخواست لینے سے ہی روک دیا، حامد خان کمرہِ عدالت سے ہی چلے گئے

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن ٹریبونلز کا مسئلہ حل ہو گیا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چار ٹربیونل ججز برقرار رکھے باقی چار الیکشن کمیشن مقرر کرے گا، پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز میں سے 4 موجودہ ججز قائم رہیں گے، 4 الیکشن کمیشن مقرر کرے گا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں بتا دیا۔

    ایک درخواست کر کر کے تھک گیا ہوں لیکن کسی نے زحمت نہیں کی، آئین کو دیکھیں آئین کیا کہتاہے،چیف جسٹس
    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تحریری جواب کے مطابق ہائیکورٹ کی مشاورت سے مسئلہ حل ہو گیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 4 ٹربیونلز قائم رکھے باقی چار الیکشن کمیشن مقرر کرے گا،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اس کا مطلب کہ الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں معاملات طے پا گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی بالکل چونکہ قانون بدل گیا تھا اس لیے اب نئے چار ٹربیونلز الیکشن کمیشن مقرر کرے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی مدت 5 سال ہے جو بڑھ نہیں سکتی،اسٹے آرڈر والے کیسز بھی سپریم کورٹ میں آتے ہیں، جو معاملات عدالت کے نہیں انہیں آپس میں حل کریں، ایک درخواست کر کر کے تھک گیا ہوں لیکن کسی نے زحمت نہیں کی، آئین کو دیکھیں آئین کیا کہتاہے،آئین کی کتاب ہے لیکن آئین کو کوئی پڑھنا گوارا نہیں کرتا،

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اختلاف اس بات پر آیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ کے بھیجے گئے ناموں پر انکار کیا،الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے لیکن ٹریبونل کے لیے ججز کی تعیناتی ہائیکورٹس کی مشاورت سے ہوتی ہے، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کوئی معمولی انسان تو نہیں،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹس دونوں اداروں کے لیے عزت ہے،ٹریبونل میں ججز کی تعیناتی پر پسند نا پسند کی بات اب ختم ہونی چاہیے،

    اگر ججز کی تعداد کیسز کو دیکھتے ہوئے کم ہوئی تو غیر منصفانہ ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل کی تعداد کا انحصار کیسز پر ہے، کیسز کو دیکھتے ہوئے ججز کی تعداد پر فیصلہ کریں، اگر ججز کی تعداد کیسز کو دیکھتے ہوئے کم ہوئی تو غیر منصفانہ ہوگا،مجھے نہیں معلوم بلوچستان یا پنجاب میں کتنے کیسز زیر التوا ہیں،آج کل ڈالر کمانے کیلئے جھوٹ بولا جاتا ہے،ڈالرز کی وجہ سے اب میڈیا رپورٹنگ درست نہیں ہوتی، آج کل غلط رپورٹنگ ہو رہی ہے لیکن سپریم کورٹ کا میڈیا سیل نہیں کہ ہم وضاحت جاری کرتے رہیں،سلمان اکرم راجہ اپنے وکیل حامدخان کے ساتھ دوبارہ کمرہ عدالت میں واپس آگئے

    کیا آپ الیکشن ٹربیونلز کیلئے اپنی مرضی کے جج چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو ایک ہفتے میں پنجاب ٹربیونلز کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون کے مطابق نوٹیفکیشن 45دن میں جاری ہونا لازمی ہے، الیکشن کمیشن کے پاس تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے،سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو خط چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو لکھ وہ ہمیں دکھا دیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو بتایا، ایسا ہی میکنزم ہوتاہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے بتایا چیف جسٹس ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو خط لکھا؟ آپ کو بتا دوں سپریم کورٹ کے جج کا آرڈر رجسٹرار نے نہیں مانا، آپ کو معلوم ہوگا کدھر ریفر کر رہا ہوں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بات آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں، دونوں کی ملاقات ہوگئی، دونوں مان گئے، ہائیکورٹ نے کس قانون کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا، کیا ہائیکورٹ نوٹیفیکیشن جاری کرسکتاہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وقت کم تھا، انتخابات سر پر تھے، ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی میں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کی ہوئی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ میں ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی چیلنج کی ہوئی تو یہاں بات نہ کریں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ ججز کے نام دے تو الیکشن کمیشن کو انکار کرنے پر ٹھوس وجوہات بتانی چاہیے،

    سلمان اکرم راجہ کے بار بار بیچ جملے میں بولنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برہم ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار میرے بات کرنے کے بیچ نہ بولیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن کو عملدرآمد کرنا چاہیے تھا،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر کوئی فیصلہ دیئے بغیر معاملہ ختم نہیں کر سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ اپنی مرضی کے ججز ٹربیونلز کیلئے چاہتے ہیں،جب لاہور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں مشاورت ہو چکی تو مزید کیا کرنا چاہیے،آپ چاہتے ہیں ٹربیونلز کا معاملہ ختم ہی نہ ہو،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم یا برقرار رکھے بغیر یہ کیس ختم نہیں ہو گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم عدالتی فیصلوں پر انحصار کریں یا آئین پر؟ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ہم پابند نہیں،پارلیمنٹ کی مدت مکمل ہونے تک اسٹے آرڈر کی اجازت نہیں دیں گے، عدالت آئین کی پابند ہے، مجھے سروکار نہیں کسی جج نے کیا فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کو آئین پر پابند کروائیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر سپریم کورٹ پابند نہیں لیکن ہائیکورٹس پابند ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین بہت پیچیدہ کتاب ہے جو صرف ایک دانا شخص ہی سمجھ سکتا ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • اسلام آباد پولیس پر شہریوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کا الزام ثابت

    اسلام آباد پولیس پر شہریوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کا الزام ثابت

    اسلام آباد کے تھانہ سنگجانی میں تین شہریوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کا الزام ثابت ہو گیا

    آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے تحقیقات کر کے رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دی، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ ہم نے اپنی آنکوائری مکمل کر کے رپورٹ جمع کروا دی ہے،شہریوں کو حبسِ بےجا میں رکھنے کا الزام ثابت ہو گیا ہے، 30 اگست کے واقعہ کا مقدمہ 19 ستمبر کو درج کیا گیا،ایس ایچ او پر مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کیا گیا،ایس ایچ او کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہےتفتیشی افسر کو بھی معطل کر دیا، اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم بنا دی ہے،ڈی ایس پی ترنول کو بھی معطل کر دیا، اسکی چارج شیٹ ہو چکی ہے،ایس پی سے وضاحت طلب کی ہے، دو ڈی آئی جیز کی کمیٹی بنائی گئی ہے،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے بہت تفصیلی اور ایماندارانہ رپورٹ دی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہمیں اچھے کام کو سراہنا چاہیے، آئی جی صاحب نے اچھا کام کیا،یہ کام ہونا ہی نہیں چاہیے، آپ کو چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہے،اس واقعہ میں پولیس کا کوئی اعلیٰ افسر ملوث ہے، یہ اے ایس آئی یا ایس ایچ او کا کام نہیں ہے،کوئی ایس پی یا کوئی اور، میں کسی کا نام نہیں لیتا لیکن آپ یہ معاملات دیکھیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے درخواست نمٹا دی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    چوہدری احتشام الحق ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ ترمیمی آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے، آرڈیننس کے تحت ہونے والے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے، درخواست پر فیصلے تک پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کو معطل کیا جائے، آرڈیننس کا اجراء پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے،سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی کہ آرڈیننس صرف ہنگامی حالات میں ہی جاری ہوسکتا،

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • اگلا جلسہ میانوالی نہیں، آئندہ ہفتے راولپنڈی میں کریں،عمران خان

    اگلا جلسہ میانوالی نہیں، آئندہ ہفتے راولپنڈی میں کریں،عمران خان

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    وکیل صفائی سلمان صفدر اگلی سماعت پر دلائل مکمل کریں گے، ایف آئی اے نے نیا چالان عدالت میں داخل کروا دیا، آئندہ سماعت پر ملزمان پر نئے چالان کے تحت فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشر ی بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت بھی گئی،وکیل سلمان صفدر نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر دلائل دیے،ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر دلائل مکمل نہ ہو سکے،ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    اسرائیل پہلے سیز فائر کرے، پہلے دو ریاستی حل کی جانب جائیں پھر آپ سے بات چیت ہوگی،عمران خان
    دوسری جانب عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کی ہے،اس دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ اگلا جلسہ میانوالی نہیں، آئندہ ہفتے راولپنڈی میں کریں، انتظامیہ کیطرف سے این او سی نہ ملنے کی صورت میں راولپنڈی میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔ 28 ستمبر کو راولپنڈی میں جلسہ ہو گا،لیاقت باغ میں جلسے میں قوم شرکت کرے،گرمیوں کا جلسہ شام میں ہوتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ چھ بجے جلسہ ختم کر دو ،لاہور میں جلسے سے ایک دن قبل اجازت دی گئی اور پھر کنٹینرز لگا دیے گئے ،ہمارے جلسوں میں لوگ پیدل چل کر اتے ہیں ہم قیمے والے نان نہیں کھلاتے ،تھرڈ ایمپائر کا کردار یہ ہے کہ پی ٹی ائی کو میچ ہی نہ کھیلنے دیا جائے ،ایمپائر تو انصاف کرتے ہیں،یہ وہ ترامیم کرنے لگے ہیں جو کسی آمر نے بھی نہیں کی ،ہم ان ترامیم کے خلاف سٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے،پارٹی کو کہہ دیا ہے اگلے ہفتے کو ہم راولپنڈی میں جلسہ کریں گے ،پارٹی کو کہتا ہوں جلسے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کریں ،عدلیہ کو ختم کر کے یہ غیر اعلانیہ مارشل لاء لگانا چاہتے ہیں ،جلسے کی اجازت نہ ملی تو احتجاج کریں گے ، جب تک انصاف نہیں ہوگا ملک میں امن نہیں ہوگا،اپ جو ترامیم کرنے جا رہے ہیں ان سے کیا امن ائے گا ،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کل سے پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے میں اسرائیلی تعلقات کا خواہاں اور بڑا حامی ہوں،اسرائیلی اخبار میں چھپنے والے آرٹیکل میں میری تعریف اور میری کریڈیبلٹی کی بات کی گئی،لگتا ہے ان کو انگریزی سمجھ نہیں آتی، اسرائیل کے حوالے سے میرا موقف آج بھی وہی ہے،اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کُشی کر رہا ہے، پہلے سیز فائر کرے، آپ پہلے دو ریاستی حل کی جانب جائیں پھر آپ سے بات چیت ہوگی،اسرائیلی اخبار میں لکھا گیا کہ میری مغربی ممالک اور مُسلم امہ میں credibility ہے،

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • سعودی عرب کا قومی دن،پاکستانی قیادت کی مبارکباد،پیغامات

    سعودی عرب کا قومی دن،پاکستانی قیادت کی مبارکباد،پیغامات

    سعودی عرب میں آج 94واں قومی دن یعنی ’یوم الوطنی‘ منایا جا رہا ہے،سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے مبارکباد دی ہے اور پیغام جاری کئے ہیں

    پاکستان کے صدرمملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہباز شریف،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگرسیاسی شخصیات نے سعودی عرب کے قومی دن پر مبارکباد دی اور کہا کہ کہ شاہ سلمان بن عبد العزیز اور شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب اکیسویں صدی کے عظیم ملک کی حیثیت سے اُبھرا ہے۔
    وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ سعودی عرب کا وژن 2030 دنیا بھر کے لیے مثالی نمونہ ہے۔آج کے دور میں سعودی عرب کاروبار، ٹیکنالوجی، معیشت اور دیگر شعبوں میں ترقی پزیر ممالک کی مثالی قیادت کر رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے حالیہ استحکام میں سعودی عرب کے تعاون کے لیے پوری قوم مشکور ہے۔

    پاک سعودی باہمی تعلقات کی مضبوط بنیاد حرمین شریفین کا احترام اور عقیدت ہے،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سعودی عرب کے 94ویں قومی دن پر خصوصی پیغام دیتے ہوئے سعودی عرب کے عوام کو خصوصی مبارکباد دی ہے اور وزیراعلی مر یم نواز نے خادم حرمین شریفین،شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیزکو قومی دن پر مبارکباد دی اور کہا کہ سعودی عرب ہر پاکستانی کے دل میں بستا ہے، پاکستان او ر سعودی عرب عقائد، ثقافت او روایات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جڑے ہیں،پاک سعودی باہمی تعلقات کی مضبوط بنیاد حرمین شریفین کا احترام اور عقیدت ہے،سعودی عرب پاکستان کے لئے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے سعودی عرب کے 94ویں قومی دن پر ”ہم خواب دیکھتے ہیں او رہم حاصل کرتے ہیں“ ویژن کو بھی سراہا۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے عوام مذہبی اور برادرانہ رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں،وزیر داخلہ
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی سعودی عرب کے قومی دن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات، دوستی، محبت اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان، شاہی خاندان اور سعودی عرب کے عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام دیا ہے،حجاز مقدس مسلمانوں کی عقیدت کا محور اور روحانیت کا بنیادی مرکز ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے عوام مذہبی اور برادرانہ رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں،سعودی عرب نے پاکستان کا ہمیشہ مشکل وقت میں ساتھ دیا،انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ قیادت کی سربراہی میں سعودی عرب نے ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں۔اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے سعودی عرب کے شاہی خاندان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ڈپلومیٹک انکلیو میں سعودی عرب کے سفارت خانے آمد ہوئی،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سعودی عرب کے قومی دن پر سعودی عرب کے سفیر کو مبارکباد دی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے مشکل کی ہر گھڑی میں بھرپور تعاون پر سعودی عرب کی حکومت اور سفیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سیلاب ہو یا زلزلہ، معاشی مشکلات یا کوئی اور ایشو، سعودی عرب کے بے پایاں تعاون کی نظیر نہیں ملتی۔

    پاکستان کی عوام سعودی عرب کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ایاز صادق
    قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے سعودی عرب کے قومی دن پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو مبارکباد پیش کی ہےاور کہا کہ آج کا دن سعودی عرب کی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے۔سعودی عرب نے قلیل عرصے میں ترقی اور استحکام کے سفر میں نمایاں منازل طے کی ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی برادرانہ تعلقات باہمی اعتماد اور اسلامی بھائی چارے پر مبنی ہیں، پاکستان کی عوام سعودی عرب کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کی خوشیوں میں برابر کا شریک ہے، دونوں برادر ممالک کی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔

    سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر ہم سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام سعودی بھائیوں کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں۔

    سعودی عرب کے قومی دن پر کراچی کی اہم شاہراہ پر فوارہ چوک کو سعودی عرب اور پاکستان کے پرچموں سے سجایا گیا ہے۔

    سعودی عرب سے امت مسلمہ کا مذہبی، روحانی تعلق ہے.گورنر سندھ
    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سعودی عرب کے 94 ویں قومی دن پر سعودی عوام کو مبارکباد دی،گورنر ہاؤس کے متصل پریس کلب چوک کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا،سعودی عرب کے 94 ویں قومی دن کی خوشی میں پاک سعودی عرب پرچم بھی لہرا دیے گئے،گورنر سندھ نے سعودی شاہی خاندان اور عوام کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودی عرب سے امت مسلمہ کا مذہبی، روحانی تعلق ہے. پاک سعودی عرب دو طرفہ تعلقات احترام کی بنیاد پر انتہائی مستحکم ہیں. سعودی عرب نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا،

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا.

    70 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا.مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا گیا، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اردو ترجمہ کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہیں تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دی جائیں.جو ارکان جس جماعت سے وابستگی کا حلف نامہ دیتے ہیں انہیں اس جماعت کا تصور کیا جائے گا،یہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کی ہی بنتی ہیں – الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے،بطور ایک آئینی ادارہ الیکشن کمیشن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو صاف شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔ آئین صرف ایک حکومتی بلیوپرنٹ نہیں بلکہ عوام کی حاکمیت یقینی بنانے پر مبنی دستاویز ہے،آئین سیاسی جماعت بنانے اور عوام کی اس میں شمولیت کا حق دیتا ہے،عوام کی نمائندگی ہی دراصل جمہوریت ہے،انتخابی نشان نہ دینا سیاسی جماعت کے انتخاب لڑنے کے قانونی و آئینی حق کو متاثر نہیں کرتا، آئین یا قانون سیاسی جماعت کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے نہیں روکتا، پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے، ،الیکشن میں بڑا اسٹیک عوام کا ہوتا ہے،انتخابی تنازعہ بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے،یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،پی ٹی آئی کیمطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ دیا،

    ستر صفحات کے تفصیلی فیصلے میں 8 ججز کا سپریم کورٹ کے 2 ججز کی اپنے بارہ جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے ریمارکس پر سخت تنقید
    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ افسوس ہے کہ دو ججز (جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان) نے 3 اگست 2024 کے اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نامناسب تنقید کی ،جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کاُعمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے عین منافی تھا،اس طرح ساتھی ججز کے بارے میں رائے دینا سپریم کورٹ کی ساکھ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، قانونی معاملات پر ہر جج اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے، جس انداز میں 2 ججز نے اکثریتی فیصلے کو غلط کہا، یہ نظام انصاف میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے،

    الیکشن کمیشن 2024 کے انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں سب سے زیادہ زیرِبحث سوال کہ جو درخواست میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی وہ ریلیف دیدیا گیا کا جواب دیا ہے،تفیصلی فیصلے میں کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے پاس آرٹیکل 199 میں وہ اختیار موجود نہیں جو سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کرنے کیلئے آرٹیکل 187 میں ہے. الیکشن کمیشن کے پاس آرٹیکل 218(3) میں اختیار تھا کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، پشاور ہائیکورٹ اختیار نہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی کی درخواست نہ ہوتے ہوئے صاف شفاف انتخابات پر مکمل انصاف کا وہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی جو سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کر سکتے تھے، پشاور ہائیکورٹ جو کر سکتی تھی اور اس میں ناکام ہوئی وہ یہ ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو معاملہ دوبارہ فیصلہ کرنے کیلئے ریمانڈ بیک کر سکتی تھی،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی، جسے اس کیس میں ریلیف دیا گیا ہے، ہمارے سامنے ایک درخواست کے ساتھ آئی ہے،اسے اس کیس میں فریق کے طور پر شامل کیا جا سکے۔عام سول مقدمات کے طریقہ کار کے مطابق، پہلے شامل کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور درخواست گزار کو باقاعدہ طور پر کیس میں فریق بنایا جاتا ہے،اس سے پہلے کہ اسے کسی قسم کا ریلیف دیا جائے۔ جیسا کہ اس فیصلے کے آغاز میں وضاحت کی گئی ہے، یہ ایک عام سول کیس نہیں ہے بلکہ اعلیٰ ترین نوعیت کا مقدمہ ہے، جہاں جمہوریت آئین کی ایک اہم خصوصیت اور عوام (ووٹرز) کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بنیادی حق کو محفوظ، دفاع کرنا ہے،تاکہ ریاست کے قانون ساز اور انتظامی اداروں کے نمائندوں کا انتخاب ہو سکے۔ پہلے پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کرنے اور پھر اسے ریلیف دینے کی رسمی کارروائی کی زیادہ اہمیت نہیں ہے، جب عدالت کی توجہ عوام (ووٹرز) کے حقِ رائے دہی کے تحفظ پر ہو، جو آئین کے آرٹیکل 17(2) اور 19 کے تحت ضمانت شدہ ہے، اس سے زیادہ کسی بھی سیاسی جماعت کا حق چاہے وہ سنی اتحاد کونسل ہو یا پی ٹی آئی یا کوئی اور جماعت۔درحقیقت، خاص طور پر اس قسم کے مقدمات کے لیے، جہاں عوام کے حقوق شامل ہوں، نہ کہ صرف ان فریقوں کے جو عدالت کے سامنے ہیں، کسی بھی نظامِ انصاف میں طریقہ کار کا مناسب مقام لوگوں کو ان کے حقوق دینے میں مدد فراہم کرنا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالنا،88 جب عدالت اپنے عمومی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرتی ہے، تو یہ عدالت کسی بھی تکنیکی یا عملی قاعدے سے معذور نہیں ہوتی.

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 80میں سے 39ایم این ایز کو تحریک انصاف کا رکن ظاہر کیا، الیکشن کمیشن کو کہا وہ باقی 41ایم این ایز کے 15روز کے اندر دستخط شدہ بیان حلفی لیں، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے، تمام آزاد ارکان پی ٹی آئی کے ممبر ہیں اگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو یہ آئین شکنی ہوگی. جو سیاسی جماعت ایک مرتبہ رجسٹر ہوجائے اسے ڈی لسٹ کرنے کا الیکشن کمشین کو اختیار نہیں،سپریم کورٹ کا انتخابی شفافیت کی نگرانی میں کردار جمہوری عمل میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے،عدالت کا "مکمل انصاف” کرنے کا اختیار اس کے آئینی اختیارات میں ایک اہم ہتھیار ہے۔اس اختیار کے ذریعے عدالت جمہوریت کو زوال پذیر ہونے سے روکنے اور مؤثر طریقے سے عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے۔انتخابی انصاف سے انکار کرنا اور انتخابی شفافیت کو متاثر کرنا جمہوریت کی قانونی حیثیت کو کمزور کر دے گا۔

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر کنول شوذب کی درخواست کو غیر ضروری قرار دے دیا،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کونسی سیاسی جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،ان نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ افراد کا انفرادی حق نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن 8 فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔الیکشن کمیشن بنیادی فریق مخالف کے طور پر کیس لڑتا رہا، الیکشن کمیشن کا بنیادی کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے،الیکشن کمیشن کیجانب سے انتخابی عمل میں نمایاں غلطیوں کے باعث عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نےبلے کے انتخابی نشان چھیننے کی کارروائی پر تحفظات کا اظہارکیا،عدالت نے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کیلئے بنائی گئی انتخابی رولز کی شق 94 بھی کالعدم قرار دے دی،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ بلے کے نشان والے کیس میں پارٹی کے آئینی حقوق واضح کر دیئے جاتے تو ابہام پیدا ہی نہ ہوتا،الیکشن کمیشن نے بھی اپنے حکمنامہ میں پی ٹی آئی کے آئینی حقوق واضح نہیں کیے،عدالت اور الیکشن کمیشن کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ انتخابی شیڈیول جاری ہو چکا ہے،پارٹی کے اندرونی معاملے پر شہریوں کے ووٹ کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کیا جا سکتا،بلے کے نشان کا فیصلہ نظرثانی میں زیرالتوا ہے اس لئے اس پر رائے نہیں دے سکتے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن رولز کی شق 94 کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا کہا رول 94 آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہے، رول 94 مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہے، انتخابی رولز الیکشن ایکٹ کے مطابق ہی بنائے جا سکتے ہیں، انتخابی رولز میں ایسی چیز شامل نہیں کی جا سکتی جو الیکشن ایکٹ میں موجود ہی نہ ہو، رول 94 کی وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت اسے تصور کیا جائے گا جس کے پاس انتخابی نشان ہو، رول 94 کی وضاحت آئین کے آرٹیکل 51(6) اور الیکشن ایکٹ کی شق 106 سے متصادم ہے، انتخابی نشان نہ ہونے پر مخصوص نشستیں نہ دینا الیکشن کمیشن کی جانب سے اضافی سزا ہے، واضح قانون کے بغیر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی،آئین میں دیے گئے حقوق کو کم کرنے یا قدغن لگانے والے قوانین کا جائزہ تنگ نظری سے ہی لیا جا سکتا ہے،جمہوریت میں انفرادی یا اجتماعی حقوق میں کم سے کم مداخلت یقینی بنانی چاہیے، انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کی سزا انتخابی نشان واپس لینے سے زیادہ کچھ نہیں،انتخابی نشان واپس لئے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعت کے آئینی حقوق ختم ہوگئے،

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان