Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • قومی املاک کو نقصان  اور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟عرفان صدیقی

    قومی املاک کو نقصان اور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟عرفان صدیقی

    اسلام آباد،ایس سی او تجارت ، سرمایہ کاری کانفرنس سے وفاقی وزیر تجارت جام کمال نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے اقدامات کو سراہتے ہیں،بیلاروس ایس سی او ممالک میں ایک خوش آئند اضافہ ہے،ایس سی او ممالک کے درمیان تعلقات تاریخی اور ثقافتی اقدار پر مبنی ہیں،ایس سی او ممالک کے درمیان روابط کے مزید فروغ کے خواہاں ہیں،

    دوسری جانب سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،75سال کی عمر میں مجھے ہتھکڑیاں لگائی گئیں،کاش اس وقت بھی اپوزیشن والے میری گرفتاری کی مذمت کرتے،ہم نے وہ قرض بھی ادا کئے جو واجب نہ تھے،پی ٹی آئی دور میں مسلم لیگ ن نے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیاہیروئن ڈالی گئی،دہشتگردی کی دفعات لگائی گئیں، احتجاج ،دھر نے اور لاک ڈاؤن کے نام پر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کیا گیا،پاکستان کو ترقی اور استحکام چاہیے، پٹرول بم پھینکنا ،قومی املاک کو نقصان پہنچانااور انتشار کی سیاست کون سا انقلاب ہے؟پاکستان اور اس کے ادارے انشاءاللہ قائم رہیں گے،دوسروں پر الزام لگانے والوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے،

  • گوادر پورٹ سے برآمدات کی شرح بڑھائی جائے،وفاقی کابینہ میں فیصلہ

    گوادر پورٹ سے برآمدات کی شرح بڑھائی جائے،وفاقی کابینہ میں فیصلہ

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیرِاعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    وفاقی کابینہ نے وزارتِ مواصلات کی سفارش پر پاکستان اور سری لنکا کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر یادگاری پوسٹل سٹیمپ کے اجراء کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ کو وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے چینی کی برآمد کے حوالے سے قائم کی گئی کابینہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ وفاقی کابینہ نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ چینی کی برآمد کے حوالے سے کابینہ کے ایک بہتر فیصلے کی وجہ سے نا صرف ملک قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہوا بلکہ چینی کی قیمتیں بھی کنٹرول میں رہیں اور گنے کے کاشتکاروں کو بھی کو ان کی محنت کا صلہ ملا۔

    وفاقی کابینہ نے وزارتِ بحری امور کی سفارش پر تمام سرکاری اداروں کو اپنی متعلقہ درآمدات جیسا کہ گندم، چینی، کھاد کے 50 فیصد حصے کو گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے اندرونِ ملک رسائی دینے کی ہدایات جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ اس سے پہلے وزیرِاعظم نے صوبہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور گوادر کی بندرگاہ کے آپریشنز کو بڑھانے کے حوالے سے یہ ہدایات جاری کی تھیں کہ پبلک سیکٹر درآمدات کا 50 فیصد حصہ گوادر پورٹ کے ذریعے اندرون ملک لایا جائے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ مستقبل میں گوادر پورٹ سے برآمدات کی شرح بھی بڑھائی جائے۔ اس حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو گوادر پورٹ سے درآمدات و برآمدات کی سہ ماہی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے گی۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ بحری امور کی سفارش پر کورنگی فش ہاربر اتھارٹی، کراچی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ اس طرح کے حکومتی بورڈز میں تمام صوبوں کو نمائیندگی دی جائے، جن سرکاری ملکیتی کارپوریشنز کے بورڈز مکمل نہیں ہیں اُنہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

    وفاقی کابینہ نے وزارتِ قومی صحت کی سفارش پر محمد یعقوب، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی بطور فیڈرل انسپیکٹر ڈرگ بلوچستان تعیناتی کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ منصوبہ بندی کی سفارش پر پلاننگ کمیشن ممبران کی اوپن مارکیٹ سے تعیناتی کے حوالے سے 30 اکتوبر 2013 کی کابینہ قراداد میں ترمیم کی منظوری دے دی۔ اس ترمیم کے تحت پلاننگ کمیشن کے ممبران کی تنخواہ مینجمنٹ پے اسکیل کی بجائے اسپیشل پروفیشنل پے اسکیل -II(ایس پی پی ایس -II) میں مقرر کی جائے گی۔مزید برآں پلاننگ کمیشن کے چیف اکونامسٹ جس کی تعیناتی اوپن مارکیٹ سے کہ جائے گی، کی تنخواہ اسپیشل پروفیشنل پے اسکیل- I (ایس پی پی ایس- I) میں مقرر کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی۔وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں ریونیو ڈویژن کی سفارش پر انسپیکٹر اِن لینڈ ریونیو (بی- ایس 16) کی آسامیوں کیلئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو ڈیپارٹمینٹل پروموشن امتحانات منعقد کرانے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 29 اگست 2024 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی ادراہ جات کے 2 ستمبر 2024 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

  • بھنگ کنڑول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل منظور

    بھنگ کنڑول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل منظور

    اسلام آباد(محمداویس) سینیٹ نے بھنگ کنڑول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 اور نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2024کثرت رائے سے منظور کرلیا،بھنگ کنڑول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل میں اپوزیشن کی اتھارٹی کی پیسے اسلامک بینک میں رکھنے کے حوالے سے ترمیم مسترد کردی گئی ۔وفقہ سوالات میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے 18 ہوائی جہاز گراؤنڈ ہیں گذشتہ مالی سال 5294سمز بلاک کئے کچے کے ڈاکوؤں کے بھی 465سمیں بلاک کی گئیں ۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضاگیلانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔وزارت ہوابازی نے تحریری جواب میں بتایا کہ جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے 18جہاز کھڑے ہیں جن میں سے 9جہازوں کو مستقل طور پر گراؤنڈ کیا گیاہے اور ان کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے 5جہاز کسٹمزسے این او سی نہ ملنے کی وجہ سے مستقل گراونڈ کئے گئے ہیں 2جہاز ضروری مرمت کے بعد اور لیز کے تحت قابل واپسی طیارے ہیں جبکہ 2 بی 777طیارے مرمت نہ ہونے پر پارک کئے گئے ہیں ۔

    وزارت آئی ٹی نے تحریری جواب میں بتایا کہ مالی سال 2023-24میں کل 5294سمز بلاک کی گئی ہیں آئی ایم ای آئی 4509بلاک کئے گئے 113بلاکڈ / بلیک لمیٹڈ شناختی کارڈز اور 19730موبائل نمبرز کو وارننگ دی گئی ہے قومی سلامتی کے معاملے پر سمیں وزارت داخلہ،ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آئی ایس آئی اور سیگنلز ڈائریکٹوریٹ جی ایچ کیو کی ہدایت پر ہوتی ہیں وزارت داخلہ کی ہدایت پر شکار پور اور گھوٹکی کے کچے کے ڈاکوؤں کے 465سمیں بلاک کی گئی ہیں ،وزیر مملکت آئی ٹی شیزہ فاطمہ نے کہا کہ ویب منیجمنٹ سسٹم کے تحت ایکس کو بلاک کیاگیا ہے ملک کو نیشنل سیکیورٹی کے چیلجز ہیں ٹیکنالوجی کی مس یوز ہورہاہے پی ٹی اے وی پی این رجسٹرڈ کررہاہے تاکہ کاروبار متاثر نہ ہو۔سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں ۔ نیشل سائبر سکیورٹی کو دنیاکے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ۔

    وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2024ایوان میں پیش کیا۔بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کے بجائے براہ راست منظور کرلیا گیا ۔

    چرس غریبوں کا نشہ ہے ہمارے بلوچستان میں چرس کے بغیر ٹرک نہیں چلاتے،دنیش کمار
    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بھنگ کنڑول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 ایوان میں پیش کیا ۔ اپوزیشن سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہاکہ یہ فیڈرل لسٹ میں نہیں ہے ہم اس پر قانون سازی نہیں کرسکتے ۔صوبے اس معاملے کو دیکھیں ۔پییلزپارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین نے کہاکہ یہ صوبائی معاملہ ہے یہاں پر صرف وفاق کی حد تک قانون سازی ہوسکتی ہےدنیش کمار نے کہاکہ یہ صوبائی معاملہ ہے ۔چرس غریبوں کا نشہ ہے ہمارے بلوچستان میں چرس کے بغیر ٹرک نہیں چلاتے ہیں ،بل میں اپوزیشن کی ترمیم مسترد کردی گئی جو کہ اتھارٹی کی تمام پیسے اسلامک بینک میں ڈالنا لازمی کرنے کے حوالے سے تھی ۔ایوان نے کثرت رائے سے بھنگ کنڑول ایند ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا

    10 کلو بھنگ،9 کلو گانجہ چوہے کھا گئے

    وفاقی کابینہ کااجلاس ،کابینہ نےقومی بھنگ پالیسی کی منظوری مؤخر کردی

    بھنگ پالیسی وزیراعظم ہاؤس میں زیرالتوا کیوں؟ قائمہ کمیٹی کا اظہار ناراضگی

    بھنگ اورافیوم سے ادویات بنانےاورکاشت سےمتعلق کام شروع 

    بھنگ برائے علاج : بھنگ برائے فروخت:حکومت نے استعمال کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی

    لاہور کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کیا صورتحال؟ تشویشناک خبر آ گئی

    پاکستان اسٹیل کا پلانٹ شاید ایمرجنسی میں نہ چلایا جا سکے،وفاقی وزیر سائنس

    بھنگ سے ادویات بنائیں گے،اطلاعات سے ہٹنے پر اللہ کا شکر ادا کیا، وزیر سائنس شبلی فراز

    سپریم کورٹ میں ججز بھی "بھنگ” کے فائدے بتانے لگے

    قبل ازیں ایک اجلاس میں بھنگ کی پالیسی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ قومی بھنگ پالیسی منظور کر لی گئی ہے۔ بھنگ کے دواؤں میں استعمال کے لئے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہے۔ اس وقت یہ چالیس بلین ڈالر کی مارکیٹ ہے جو اگلے چار سالوں میں سو بلین ڈالر تک پہنچ جائیگی۔ حکام نے بتایا کہ وزارت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع پالیسی بنائی ہے اور جلد از جلد اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

  • جلسے کی ناکامی،پارٹی میں انتشار،عمران خان مزید بدحواس

    جلسے کی ناکامی،پارٹی میں انتشار،عمران خان مزید بدحواس

    پی ٹی آئی جلسے کی ناکامی نے بانی پی ٹی آئی کو مزید بدحواس کردیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان جب سے اقتدار سے قانونی اور آئینی طریقے سے بے دخل ہوا ہے اور پھر 8 فروری کے ہونے والے شفاف اور پرامن انتخابات میں اس کی جماعت کے شرپسندی کے بیانیے کو ووٹرز نے مسترد کیا ہے اس کے بعد سے بانی پی ٹی آئی نے تقریباً ہر وہ حربہ آزما لیا ہے جس سے وہ اقتدار میں واپس آسکتا ہے مگر اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، سائفر ڈرامے سے لیکر ریاستی اداروں پر ہرزہ سرائی، دھمکیاں، دھونس، مذاکرات کی کوشش مگر ہر حربہ ناکام ہو چکا ہے۔ آج بھی بانی پی ٹی آئی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کی جس میں سوائے تضادات کے اور کچھ نہیں تھا۔ موصوف کہتے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا تھا اور ساتھ موصوف کہتے ہیں کہ ان کی تو اسٹیبلشمنٹ سے کسی طرح کی کوئی گفتگو ہی نہیں ہو رہی۔دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس شخص کو کسی طرح کی گھاس نہیں ڈالی جا رہی یہی وجہ ہے کہ بداحواسی یہ شخص اپنی باتوں سے حسب روایت مکرتا اور بیانیے بدل رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک دلچسپ امر یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ مذاکرات صرف فوج سے کئے جائیں مگر ساتھ یہ بھی کہتا میرا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہئے، یعنی مذاکرات کیلئے فوج قبول ہے مگر جرائم کے ٹرائل کیلئے ملٹری کی عدالت قبول نہیں۔

    میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں بانی پی ٹی آئی نے دل کھول کر قومی احتساب آرڈیننس پر تنقید کی حالانکہ اسی ترمیم شدہ قانون کے تحت نئے توشہ خانہ ریفرنس میں موصوف کی جانب سے بریریت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، اگر یہ قانونی ترمیم اس کے نزدیک قابل قبول نہیں تھی تو مثال قائم کرتے ہوئے کہہ دیتا میں اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا مگر جو شخص سر تا پیر تضادات کا شکار ہو اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی۔

    اسلام آباد کے جلسے میں علی امین گنڈاپور نے جس طرح کی گھٹیا زبان استعمال کی اس حوالے سے تمام مکتبہ فکر کی جانب سے شدید تنقید کی اور مذمت کی جارہی ہے۔ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو کیا زیب دیتا ہے کہ وہ سٹیج پر کھڑا ہو کر خواتین کی بے حرمتی کرے اور ریاستی اداروں کو دھمکیاں دے۔۔؟ آج بانی پی ٹی آئی کی طرف سے علی امین گنڈا پور کی تقریر کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ تقریر کا سارا سکرپٹ ذہنی انتشار سے بھرپور شخص کی ذہن کی عکاس تھی۔ اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ بانی پی ٹی آئی ذہنی انتشار سے بھرپور، حدود و قیود سے آزاد، منتشر خیالات کا مالک انسان ہے جس کے نزدیک قانون یا آئین یا معاشرتی حدود کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

    میڈیا نمائندوں کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ علی امین گنڈاپور کی تقریر پر تو پی ٹی آئی کے رہنما معافی مانگ رہے ہیں جس کے جواب میں بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جو معافی مانگ رہے ہیں وہ ڈرپوک اور بزدل ہیں اس کے اس جواب میں ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کے بیانیے اور ان کی پارٹی رہنماؤں کے بیانیے میں اب فرق آچکا ہے اور دونوں کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے رہنماؤں اور کارکن سے اظہار لاتعلقی پرانی روش ہے جس طرح 9 مئی کے بعد بھی اس نے اپنے کارکنوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا۔

    بانی پی ٹی آئی نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے حوالے سے ہرزہ سرائی کہ بلوچستان آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے کا یہ بیان بانی پی ٹی آئی کا کم اور گولڈ سمتھ بیانیے کی تقلید زیادہ لگ رہا ہے۔ اس طرح کا بیان دے کر وہ بھارتی لابی کے ساتھ ساتھ صہیونی سہولت کاروں کو بھی خوش کرنا چاہتا ہے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق تمام حربوں کی ناکامی کے بعد اب بانی پی ٹی آئی ذہنی بدحواسی کا شکار ہو چکا ہے۔ پارٹی میں جاری انتشار، علیمہ خان اور بشریٰ کی چپقلش نے موصوف مزید ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اس کے ذہنی مریض ہونے کا اس سے بڑاکیا ثبوت ہوگا کہ آئے روز میڈیا نمائندوں سے ہونے والی گفتگو میں اس کی ذہنی پریشانی اور بیانات میں تضاد واضح نظر آتاہے

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • ارشد شریف قتل کیس،سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر

    ارشد شریف قتل کیس،سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر

    ارشد شریف کیس، سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو ارشد شریف کیس کا فیصلہ دینے سے روکا جائے،ن لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے،مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں،سپریم کورٹ میں شہری شاکر علی نے درخواست دائر کی ،درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے واقعاتی شواہد کے تناظر میں پولیس کو ن لیگی رہنماؤں نواز شریف، حسین نواز، مریم نواز، شہباز شریف، مریم اورنگزیب، سلمان شہباز، اسحاق ڈار، حمزہ شہباز، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، ناصر بٹ، وقار احمد، خرم احمد، تسنیم حیدر شاہ اور حسن نواز کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی جائے، ملزمان کے نام ای سی ایل اور بیرون ملک ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ انکوائری میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ملزمان کو عہدوں سے ہٹایا جائے، ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کینیا سے منگوائی جائے اور کنٹریکٹر وقار احمد کا ریکارڈ کنیا میں امریکی سفارتخانے اور آئی ایس آئی حکام سے طلب کیا جائے، ارشد شریف کا قتل ایک قومی سانحہ ہے اور ہر شہری اس میں درخواست گزار بن سکتا ہے، درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ اسے سپریم کورٹ ازخود نوٹس کیس میں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔

    سپریم کورٹ میں شہری شاکر علی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، اعانت جرم کی دفعات نہیں لگائی گئیں، سابق اور موجودہ چیف جسٹس کو اس معاملے سے آگاہ کیا لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی، سپریم کورٹ ازخود نوٹس کے بعد رمنا پولیس اسٹیشن میں قتل کی ایف آئی آر خرم احمد اور وقار احمد کے خلاف درج کی گئی جس میں اعانت جرم کی دفعات شامل نہیں کی گئیں،ارشد شریف،، شریف خاندان کی کرپشن اور جرائم کے بارے میں کام کر رہے تھے اور ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں 16 ایف آئی آرز درج کروائی گئیں،جے آئی ٹی رپورٹس کی روشنی میں شریف خاندان کی کینیا میں 2 شوگر ملیں ہیں جہاں ارشد شریف کو جانے پر مجبور کیا گیا اور پھر وہاں بہیمانہ طریقے سے اس کا قتل کیا گیا،پمز اسپتال کی رپورٹس کے مطابق ارشد شریف کو قتل سے پہلے شدید ٹارچر کیا گیا، تسنیم حیدر شاہ کے مطابق عمران خان پر وزیر آباد میں حملہ اور ارشد شریف کے قتل کی منصوبہ بندی حسن نواز نے کی، درخواست گزار نے استدعا کی ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس مقدمے کا فیصلہ دینے سے روکا جائے۔

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • شیر افضل مروت ، زین قریشی ، و دیگر کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    شیر افضل مروت ، زین قریشی ، و دیگر کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم این ایز کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا

    ملزمان کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا،شیر افضل مروت ، زین قریشی ، و دیگر کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد،شعیب شاہین اور دیگر کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ ،اسلام آباد پولیس نے شیر افضل مروت کو عدالت پیش کر دیا،شیخ وقاص اکرم، زین قریشی کو بھی جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیا،عامر ڈوگر کو بھی جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیا گیا، عامر,نسیم علی شاہ,احمد چھٹہ, سید احد شاہ کو پولیس نے انسداد دہشتگری کی عدالت میں پیش کردیا گیا

    عدالت پیشی کے موقع پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ریاست ہوش کے ناخن لے ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ لے جائے ایک کال کی دیر ہے پھر نا کہنا، آئی جی اسلام آباد اور مجسٹریٹ کو شرم آنی چاہیے، پولیس کا غیر قانونی استعمال کرکے انکا امیج خراب کررہے ہیں،سنگجانی کا مقدمہ جو بنایا گیا اس پر آئی جی کو شرم آنی چاہیے، اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے بڑی شرم کی بات ہے کہ ایوان پر اور اس کے تقدس پر اداروں نے حملہ کیا، جلسے کی تقاریر سے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کو تکلیف ہوئی جسکے بعد آئی جی اسلام آباد متحرک ہوئے اور گرفتاریاں کی گئی

    کمرہ عدالت میں کارکنوں کے شور پر جج اور شیر افضل مروت نےوکلاء کو خاموش کرنے کی ہدایت کی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ کوئی شور یا بات نہیں کرے گا وکلا دلائل دیں گے، عدالت نے پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ ان پر کیا الزام ہے؟ پراسکیوشن نے شیر افضل مروت اور شیخ وقاص پر درج ایف آئی آر پڑھ کر سنائی،پولیس نے 5 ایم این ایز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی

    16 سال جج رہا ، 32 سال وکیل رہا ،یہ قرآن اٹھا دیں کہ یہ وقوعہ ہوا ،شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت نے عدالت میں کہا کہ مقدمے کا پولیس کے پاس کوئی ایک گواہ ہے ؟ پولیس اتنی گر سکتی ہے یہ آج صبح کی ایف آئی آر ہے ، یہ قرآن اٹھا دیں کہ یہ وقوعہ ہوا ہے ،اگر ایک گواہ آکر کہہ دے تو اللہ کی قسم میرا ریمانڈ دے دیں پورے اسلام آباد کو انہوں نے بلاک کیا ہوا تھا ، سڑکیں بند کرنے کی وجہ سے اس جلسہ میں دیر ہوئی ، 16 سال میں جج رہا ہوں اور 32 سال وکیل رہا ہوں ، میں پولیس پر پستول رکھونگا، پی ٹی آئی کے کارکنوں کے گھر میں اسلام آباد پولیس نے چوری تک کی،ان کا پورا کیس زبانی الزامات پر مبنی ہے، جو الزامات مجھ سمیت دیگر پارٹی قائدین پر لگائے گئے ہے قرآن لا کر رکھ دیں کہ یہ سچ بولتے ہے تو اللہ کی قسم ہم ہر سزا قبول کریں اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں جج صاحب تو آئی اجی اسلام آباد کو طلب کر کے کڑی سزا دی جائے اگر آپ کی کرسی اور عہدے میں کچھ باقی ہے،

    شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم 75ایم این ایز تھے آگے پولیس تھی میں نے کہا آؤ پھر ایک ایک ہاتھ کر لیتے ہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ تو آپکا پروگرام تھا؟شیر افضل مروت نے کہا کہ جی بالکل پورا پلان تھا میرا میرے ساتھیوں نے میری بات نہیں مانی،اس بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،شیر افضل مروت نے کہا کہ جلسے کی کارروائی پوری دنیا کے سامنے ہے،اگر سچے ہیں تو قرآن اٹھا لیں،مدعی یا مقدمات کا کوئی گواہ عدالت میں موجود ہے تو میں اپنا جرم قبول کر لوں گا،پولیس عدالت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلاتی ہے،میں اسمبلی سے نکل رہا تھا اور وہاں سے گرفتار کیا گیا،جلسے والے دن انھوں نے پورا اسلام آباد بند کر دیا،جسکی وجہ سے 3 گھنٹے کارکُنان دیر سے آئےاگر یہ رکاوٹیں نہ لگاتے تو ہم ٹائم پر جلسہ ختم کر کہ چلے جاتے

    شیر افضل مروت نے کہا کہ یہاں آنے سے پہلے ہمیں بتایا گیا کہ بیرسٹر گوہر کو ڈسچارج کیا ، بیرسٹر گوہر ان شواہد پر ڈسچارج ہوئے جس پر ہمیں یہاں آپ کے سامنے پیش کیا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ کے پاس کلاشنکوف تھی، ان کے پاس نہیں، شیر افضل مروت نے کہا کہ کلاشنکوف آپ بنارہے، میرے پاس پستول ہے، شعیب شاہین تو بٹیر نہیں رکھتا پستول کہاں سے رکھے گا، وہ شریف آدمی ہے، میں پستول رکھتا ہوں کیوں کہ میں دشمن دار آدمی ہو، مگر جلسہ گاہ میں میرے پاس پستول نہیں تھا۔ شیر افضل مروت کے دلائل مکمل ہو گئے،وکیل صفائی عادل عزیز قاضی نے اپنے دلائل شروع کردئیے،وکیل صفائی نے کہا کہ جن شواہد پر بیرسٹر گوہر کو ڈسچارج کیا اسی پر باقی ملزمان کو ڈسچارج کریں،جلسے والے دن ایک واقع ہوا اور وہ پورے میڈیا پر چلا، وکیل صفائی نےشیر افضل مروت، شیخ وقاص، زین قریشی، عامر ڈوگر، نسیم شاہ و دیگر کو ڈسچارج کرنے کی استدعا کی،

    پولیس نے بتایا کہ ہم نے شیر افضل مروت اور بیرسٹر گوہر کو مقدمہ میں ڈسچارج کر دیا ہے جبکہ بیرسٹر گوہر کو رہا بھی کر دیا ہے۔بیرسٹر گوہر کو تھانہ سنگجانی کے مقدمے سے ڈسچارج کردیا گیا ۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ 10 ستمبر کو پارلیمنٹ سے نکل گئے تو گرفتار ہوگئے، اسی کیس میں ہم پولیس کے خلاف 193 کا استغاثہ کرتے ہیں، پراسیکوشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر کی گرفتاری سے انکار کیا گیا، پراسیکیوٹر نے کہا کہ بیرسٹر گوہر گرفتار ہی نہیں،شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمارے ابھی تک 6 ارکانِ قومی اسمبلی لاپتہ ہیں،عامر ڈوگر نے کہا کہ میں پارٹی کا چیف وہیپ ہو، مجھے گرفتار کرلیا گیا مگر میرا نام ایف آئی آر میں نہیں،شیر افضل مروت نے کہا کہ 9 ستمبر کو ہم قومی اسمبلی گئے تب کوئی گرفتاری نہیں تھی کیونکہ مقدمہ نہیں تھا، بیرسٹر گوہر کی گرفتاری کو پورے پاکستان نے دیکھا، یہاں ایسے لوگ گرفتار ہیں جو ایف آئی آر میں موجود ہی نہیں،

    شعیب شاہین کی تھانہ نون کے کیس میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی گئی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ باقیوں کی حد تک میں آرڈر کرونگا، شعیب شاہین کو تھانہ نون کی حد تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا،شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، زین قریشی، نسیم شاہ، احمد چٹھہ و دیگر کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا.

    دوران سماعت ایم این اے احد چٹھہ اور اویس جکھڑ کی طبیعت خراب ہوگئی،کمرہ عدالت میں شدید رش اور حبس کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ،عدالت نے دونوں ایم این ایز کو باہر بٹھانے کی ہدایت کردی

    ملیالم فلم انڈسٹری مالی ووڈ میں "می ٹو” کے چرچے،جنسی استحصال کے 17 واقعات رپورٹ

    رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

  • اسپیکر قومی اسمبلی کا  تمام گرفتار اراکین  کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم

    اسپیکر قومی اسمبلی کا تمام گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا

    اسپیکر سردار ایاز صادق سے قومی اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں، اراکین کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں اراکین قومی اسمبلی کی پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،تمام رہنماؤں نے کل رات کے واقع کی مذمت اور اسپیکر سردار ایاز صادق سے سخت سے سخت ایکشن لینے کی استدعا کی،اسپیکر سردار ایاز صادق نےمعاملے کو تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر حل کرنے کا عزم کیا،تمام جماعتوں کا ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے مکمل ضابطہ کار بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کل رات کے واقع پر دل انتہائی رنجیدہ ہے،پارلیمنٹ کے تمام ممبران میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں ،پارلیمنٹ کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کے حوالے سے فوری اور مکمل تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے،

    اسپیکر نے آئی جی اسلام آباد کو اپنے دفتر میں طلب کر کے واقعہ سے متعلّق معلوم کیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے آئی جی اسلام آباد کو قانونی طریقہ کار کے مطابق گرفتار اراکین کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا،اسپیکر ایاز صادق نے آئی جی اسلام آباد کو تمام گرفتار اراکین سے مہذب برتاؤ اور بہترین سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی اور کہا کہ کل رات کے واقع کی مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائیں گی، کل رات کے واقع کی مکمل فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے، آئی جی اسلام آباد سے واقع کی فوری اور مکمل رپوٹ بھی طلب کر لی ہے، پارلیمنٹ کا تقدس اور احترام سب پر لازم ہے ،

    ملاقات میں وفاقی وزرا اور اراکین اسمبلی رانا ثناءاللہ ، اعظم نذیر تارڑ ، عبد العلیم خان، سید خورشید شاہ ، سید نوید قمر، طارق فضل چوہدری ، نور عالم خان ، شندانہ گلزار، خالد حسین مگسی چوہدری سالک حسین، سید امین الحق، امجد علی خان، شاہدہ اختر علی، علی محمد خان، صاحبزادہ حامد رضا اور دیگر نے شرکت کی،

    قبل ازیں علی محمد خان ،اعظم نذیر تارڑ ،نوید قمر اورمحمود خان اچکزئی اسپیکر چیمبر پہنچ گئے،گزشتہ را ت کے واقعے سے متعلق پارلیمانی رہنماؤں کی اسپیکر آفس میں مشاورت ہوئی،اسپیکر ایازصادق نے پارلیمنٹ کی داخلی و خارجی راستوں کی فوٹیج منگوا لیں،علی محمد خان نے بھی واقعے سے متعلق تمام فوٹیجز ا سپیکر کو فراہم کر دیں،

    گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے پارلیمنٹیرین کی گرفتاری کا معاملہ،آئی جی اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے آئی جی اسلام آباد کی سرزنش کی،اور کہا کہ گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو فوری رہا کیا جائے، پارلیمنٹ کی بے توقیری قبول نہیں،معاملے کی انکوائری ہوگی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی نہیں، پروڈکشن آرڈر کی بات ہوئی،آئی جی اسلام آباد
    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی سے متعلق تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نےہمیں گرفتار لوگوں کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا کہا ہے ،شعیب شاہین بازیابی کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی سے سوال کیا کہ آپ پارلیمنٹ سے ہو کر آئے ہیں؟ جس پر آئی جی پولیس نے چیف جسٹس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی سر میں وہاں سے ہوکر آرہا ہوں،عدالت نے سوال کیا کہ وہاں کیا ہوا؟ کس سے مل کر آئے ہیں؟جس پر آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات ہوئی ہے،اراکین کو باہر سے گرفتار کیا گیا تھا ہمیں کہا گیا کہ گرفتار لوگوں کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے ہیں،اس سے متعلق بات ہوئی ہے

    پارلیمنٹ میں‌جو ہوا،تحقیقات کروا کر مقدمہ درج کروائیں گے،سپیکر ایاز صادق
    قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے چیمبر میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو پارلیمنٹ میں ہوا اس پر ایکشن لینا ہوگا،تمام ویڈیوز منگا لی ہیں اور اس پر ذمہ دار کا تعین کرنا ہے،میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کہ 2014 میں ایک شخص اور اس کے کزن نے حملہ کیا،میں نے ان کے خلاف ایف آئی آر کروائی ،آج بھی جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر دیں گے ،اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شریک ہوں،

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • شعیب شاہین کو عدالت پیش کر دیا گیا

    شعیب شاہین کو عدالت پیش کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کی بازیابی درخواست پر آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو آج دن اڑھائی بجے طلب کر لیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شعیب شاہین کے بھائی کی درخواست پر احکامات جاری کیے ،شعیب شاہین کو کل پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو بھی طلب کر لیا ،عدالت نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بھی اڑھائی بجے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ چونکہ یہ درخواست صرف شعیب شاہین کی بازیابی کی ہے، مگر آئی جی صاحب پھر بھی پوچھ رہا ہوں کہ نیشنل لیول کے لوگ ہیں سب،کیا کسی کو غیر قانونی طور پر گرفتار رکھا گیا ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ نہیں سب کی باقاعدہ گرفتاری ڈالی گئی ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شعیب شاہین نے کسی بھی کارکن کو کسی قسم کی کوئی ہدایت نہیں دی،آپ نے سارا اسلام آباد بند کر دیا تھا این او سی دے کر لوگوں پر شیلنگ کی گئی ،لا انفورسمنٹ نے لوگوں کی حفاظت کرنا تھی ،لیکن انھوں نے شیلنگ کی،یہ وزیر داخلہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کی حفاظت کرے،وزیر داخلہ کا کام کیا رہ جاتا ہے اسے کس لیے رکھا گیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن نون نے گرفتار کیا تو کیا کسی اور تھانے کا ایس ایچ او بھی گرفتاری کے لیے گیا؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے شعیب شاہین کی گرفتاری کے ڈاکومنٹس مانگ لیے اور کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ گرفتاری کے بعد بند حوالات سی آئی اے کیا گیا،یہ بھی لکھا ہے کہ گرفتار ملزم کو پیش مجاز عدالت کیا جائے گا،کیا گرفتاری کے بعد شعیب شاہین کی تحویل سی آئی اے کو دی گئی تھی؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شعیب شاہین کو پیش کر کے جسمانی ریمانڈ مانگا گیا ہے اور سماعت اے ٹی سی میں چل رہی ہے،ووکیل شہباز کھوسہ نے کہا کہ دوران گرفتاری پولیس اہلکاروں نے بدتمیزی کی۔جس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شعیب شاہین مختلف دفعات کے تحت گرفتار ہیں۔میں اس سارے معاملے کو دیکھ لیتا ہوں۔تمام افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے۔

    شعیب شاہین عدالت پیش، پولیس کو کہا میں ڈیجیٹل نہیں کلاشنکوف والا دہشتگرد ہوں،شعیب شاہین
    دوسری جانب شعیب شاہین کو انسداد دہشت گردی عدالت پیش کر دیا گیا،شعیب شاہین نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں وکٹری کا نشان بنا دیا وکلاء کو نعرے بازی نہ کرنے اور استقامت کی ہدایت کی،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے تھانہ رمنا میں رکھا گیا پھر سی آئی اے لے گئے،رات کو گرفتار ہونے والے تمام ارکان اسمبلی بھی سی آئی اے میں ہیں، ارکان اسمبلی کو علی الصبح سی آئی اے میں لایا گیا،میں زیادہ بڑا دہشتگرد ہوں اس لئے مجھے کل ہی سی آئی اے لے گئے تھے، تفتیش میں مجھ سے موبائل کا پاسورڈ مانگا گیا،پولیس کو جواب دیا کہ مقدمہ دہشتگردی کا درج کیا ہے وہ سوال کرو، پولیس کو کہا میں ڈیجیٹل نہیں کلاشنکوف والا دہشتگرد ہوں، مجھ پر مقدمہ تو کلاشنکوف اور بم والا ہے تو سوال بھی وہی پوچھیں،

    شعیب شاہین کا 15 روزہ ریمانڈ مانگ لیا گیا
    بعد ازاں سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی.پراسیکیوٹر کی جانب سے مقدمے کا متن پڑھنا شروع کر دیا گیا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ بقیہ ملزمان کے آنے کا بھی انتظار چاہ رہاتھا، کیس شروع کرتے ہیں،شعیب شاہین سے کیا چاہیے ؟ پراسکیوٹر نے مقدمے کا متن پڑھا اور کہا کہ شعیب شاہین نے کارکنان کو اکسایا ، ہمیں ریمانڈ دیا جائے ہم نے شعیب شاہین سے ڈنڈے ، راڈ پولیس کی کٹ برآمد کرنی ہے، 15 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج ہے، اس میں ہم 90 دن کی ریمانڈ لے سکتے ہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جلسہ کب سے کب تک تھا؟ جلسے کا بتائیں،پراسکیوٹر نے کہاکہ جلسے کا وقت 4 سے 7 بجے تک تھا، امن و امان کا ایکٹ نیا آیا ہے، تحریک انصاف کا جلسہ چلتا رہا، انتظامیہ نے بہت کوشش کی امن و امان قائم رہے، جلسہ کی جگہ سے بارود بھی برآمد آیا، تحریک انصاف کی قیادت نے اشتعال پیداکیا،پراسیکیوٹر راجہ نوید کے دلائل مکمل ہوئے،شعیب شاہین کے وکیل نے دلائل شروع کر دئیے

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جلسے کا این او سی 7 بجے تک کا تھا اور مقدمہ 6:30 بجے درج کیا گیا ،اس مقدمے میں شعیب شاہین کا زکر کیا گیا شعیب شاہین اس جگہ پر موجود بھی نہیں تھے ، شعیب شاہین شئیر وکیل ہیں ، یہاں بندہ سانس لیتا ہے تو مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے ،مقدمے میں لکھا ہے شعیب شاہین ڈکیت ہے ، میرے بھائی کو کمانڈنگ للکار کا پتہ ہی نہیں،شعیب شاہین اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر رہے، سپریم کورٹ کا وکیل ہے، اور ایک بڑی سیاسی جماعت کا اہم ممبر ہے،کہا جارہا ہے کہ شعیب شاہین اور عامر مغل نے کارکنوں کو اکسایا جو کہ شعیب شاہین وہاں موجود ہی نہیں،شعیب شاہین کا ریمانڈ نہیں بلکہ ڈسچارج کا کیس ہے،وکیل صفائی ریاست علی نے کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی،کہا کہ شعیب شاہین کو تو پولیس کو ہی ڈسچارج کردینا چاہیے تھا،شعیب شاہین کے ریکارڈ پر کوئی ماضی میں مقدمات نہیں،اتنی شاپر میں جگہ نہیں جتنی تحریک انصاف والوں کے خلاف مقدمات درج ہورہےہیں، ایسے تو جناب کا یا میرا نام لیں گے تو کیا ہم ملزم ہونگے؟ ،یہ کس چیز کی تفتیش کررہے ہیں کیا شعیب شاہین سے ایٹم بم برآمد کررہے، اس کیس میں ریمانڈ کی مخالفت نہیں کرو ں گا بلکہ شعیب شاہین کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے ،شکر ہے انتظامیہ نے تحریک انصاف کو یونیفارم میں جلسہ کرنے کی ہدایت نہیں کی،مقدمہ میں پورے کا پورا پاکستان پینل کوڈ درج کردیاہے،مجھے شرم آرہی ہے کہ سینئیر اور پروفیشنل وکیل شعیب شاہین کو ملزم کہوں ،معاشرے میں ایک عزت دار شخص کی آپ توہین کررہے ہیں آپ اسے دہشت گرد پیش کررہے ہیں،یہ صرف اور صرف اختیارات کے ناجائز اور غیر قانونی استمعال کیا جارہا ہے،ہم عدالت کو سی سی ٹی وی فوٹیجز دکھایں گے کہ لاء چیمبر سے اٹھایا گیا،

    جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ شعیب شاہین کا کیا کردار ہے وہ بتا دیں ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے ہدایت دی تھی ، وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ یہ ہدایت ہدایت کہ رہے اللہ انکو ہدایت دے،وکیل کے چیمبر کو تحفظ فراہم ہوتاہے،شعیب شاہین اپنی پیشہ ورانہ زمہ داری نبھا رہے تھے شعیب شاہین کو ایک اور مقدمہ میں بھی نامزد کررکھاہے، پراسکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ تحریک انصاف کا پورا گینگ ہے، وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ جی بہت بڑا ڈکیت گینگ ہے ، جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جلسہ کب سے کب تک تھا؟ کیا خلاف ورزی کی ہے ؟ پراسیکیوٹرراجانوید نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایگریمنٹ کیاتھاکہ این او سی کی مکمل پابندی کریں گے، عدالت نے استفسار کیا کہ سنگجانی جلسہ گاہ اور 26 نمبر چونگی میں کتنا فاصلہ ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ دونوں مقامات میں 7 سے 8 کلومیٹر کا فاصلہ ہے ، عدالت نے کہا کہ تو پھر یہ ہجوم وہاں پہنچ کیسے گیا ؟،

    صدر اسلا م آباد بار نے کہا کہ شعیب شاہین کے کلائنٹس ان کے آفس بیٹھے ہوئے تھے کیا میسج دیا گیا،ہم سب کے لیے کلائنٹس بہت عزیز ہیں،مگر کیا ہوا سب نے دیکھ لیا،چیف جسٹس آف پاکستان کہتے ہیں پارلیمان مقتدر ہے،مقدمے میں جو کہا گیا وہ مفروضے ہیں، کیونکہ شعیب شاہین نے کب کس جگہ کارکنوں کو ہدایت دی، جو شخص ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے آفس جاکر این او سی لیتے ہیں وہ کسی کو یہی کہے گا،کہاں پر شعیب شاہین نے کہا کس کو کہا؟،جلسے کی این او سی جب دی تو راستے کیوں بند کردئیے گئے؟،کارکنوں نے اپنے جلسے میں جانا تھا انہوں نے راستے بند کردیے تھے،

  • وزارت داخلہ میں ڈپٹی سیکرٹری ویزہ کی تقرری کر دی گئی

    وزارت داخلہ میں ڈپٹی سیکرٹری ویزہ کی تقرری کر دی گئی

    وزارت داخلہ کے اندر ایک حالیہ پیشرفت میں محکمانہ ڈھانچے اور اہم تقرریوں میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سطح پر جاری چیلنجوں کی روشنی میں ویزا سے متعلق امور کے انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔

    وزارت داخلہ نے مجاز اتھارٹی کی منظوری سے شیریں حنا اصغر کو کرنٹ چارج کی بنیاد پر ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) کے طور پر باضابطہ طور پر تعینات کر دیا ہے۔ یہ تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہے اور تین ماہ کی مدت کے لیے یا اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ کسی باقاعدہ عہدے دار کی تقرری نہ ہو، وزارت کے سیکشن آفیسر (ایڈ ایم این-1) عمران اصغر کی طرف سے جاری کردہ آفس آرڈر نمبر F.4/3/2024-Admn-l کے ذریعے تقرری کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ یہ فیصلہ ویزا پروسیسنگ اور انتظام کو موثر اور محفوظ رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے،

    ایک متعلقہ اقدام میں، وزارت نے بارڈر مینجمنٹ ونگ کے تحت ڈپٹی سیکرٹری (پی ای) کا عہدہ بھی ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) کو دوبارہ نامزد کیا ہے۔ یہ تبدیلی وزارت کی ابھرتی ہوئی ضروریات اور ویزا سے متعلق معاملات پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔ دوبارہ عہدہ آفس آرڈر نمبر 1/4/2017-Admn-l، عمران اصغر، سیکشن آفیسر (Admn-1) کے دستخط کے ذریعے باضابطہ کیا گیا۔ اس دوبارہ عہدہ کو بارڈر مینجمنٹ ونگ کے اندر کارروائیوں کو ہموار کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ویزا کے مسائل کو انتہائی ترجیح کے ساتھ حل کیا جائے۔ ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) اب ویزا پالیسیوں کی نگرانی، غیر ملکی مشنوں کے ساتھ ہم آہنگی اور ویزا کے اجراء کے عمل کی دیانتداری کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    یہ تبدیلیاں وزارت داخلہ کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے داخلے اور اخراج کو منظم کرنے میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ وزارت نے ہموار منتقلی کی اہمیت اور قومی سلامتی اور انتظامی کارکردگی پر مسلسل توجہ مرکوز کرتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں اور حکام کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا کی متحرک قیادت میں، ان پیش رفتوں سے ویزا مینجمنٹ کے عمل میں مثبت تبدیلیاں آنے کی توقع ہے، ویزا سیکشن کی کارکردگی کو بہتر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا گیا ہے

    رپورٹ، زبیر قصوری، اسلام آباد

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات جنہوں نے پارلیمنٹ پردھاوا بولا ان پرآرٹیکل 6 لگناچاہیے،وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے، یہ جمہوریت پر حملہ ہے،پاکستان کے آئین پر حملہ ہے، افسوس ہے ہندوستان، اسرائیل،امریکہ سے نہیں میرے اپنے وطن کے نقاب پوش ایوان میں گھسے،یہ حملہ سپیکر صاحب آپ پر ہے، یہ حملہ شہباز شریف پر ہے یہ حملہ بلاول پر ہے،آپ اس معاملے پر کھڑے ہو جائیں ،اگر آپ کھڑے نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا کے چلے جاتے ہیں ،جس طرح نو اپریل کو کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہوں ،مریم نواز شریف میرے لیے بہن کی جگہ ہے ،ضرورت ہے قوم اور فوج یکجان ہوکر کھڑے ہوں ،درخواست ہے آپ اپنا کردار ادا کریں ،کل آپ کے بھائیوں کو یہاں سے اٹھایا گیا ،اراکین کو پارلیمنٹ کے سامنے اٹھایا گیا،اگر جناح ہاؤس پہ حملہ پاکستان پہ تھا تو پارلیمنٹ پہ حملہ پاکستان پہ حملہ نہیں ہے ؟

    صاحبزادہ حامد رضا نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل رات میں اپنے ساتھیوں کیلئے یہاں پر آیا تھا ،آج ہم یہاں پر اپنا آئینی کردار ادا کرنے آئے ہیں ،رات کو تین بجکر سولہ منٹ پر قومی اسمبلی میں نقاب پوش داخل ہوئے،ہم مختلف کمروں میں بیٹھے ہوئے تھے ،جب نقاب پوش داخل ہوئے تو کمروں کی لائٹیں بند کردی گئیں ،عامر ڈوگرزین قریشی، شیخ وقاص اکرم اور نسیم شاہ کو گرفتار کیا جاتا ہے ،احمد چھٹہ اور اویس جھکڑ کا پتہ نہیں کہاں پر ہیں ،میں بانی پی ٹی آئی کا اتحادی ہوں اور رہوں گا ،اس ایوان کی کازروائی کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز کو کہیں کہ مجھے گرفتار کریں ،اگر کہیں پر بھی میرے خلاف ایف آئی آر ہے تو مجھے وہاں پیش کریں،ایف آئی آر میں صرف چار لوگ نامزد تھے ،لوگوں کو گردن سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،بیرسٹر گوہر کو کالر سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،میں کوئی مجرم نہیں ہوں میرے والد نے طالبان کے خلاف تقریر کی ،ہمیشہ دہشت گردی کی خلاف بات کا اگر ریاست یہ صلہ دیتی ہے تو ٹھیک ہے

    پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،نوید قمر
    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر گھس کر گرفتاریاں،یہ کیا ہے جو الزامات سامنے آرہے ہیں میرے پاس یقین کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ،یہ پارلیمنٹ اور آئین پر سراسر حملہ ہے ،پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،آپ کو سنجیدہ انکوائری کرکے کارروائی کرنا پڑے گی ،اگر کارروائی نہیں ہوگی تو سلسلہ نہیں رکے گا،تحقیقات کر کے سنجیدہ ایکشن لینا پڑے گا، ایک ہی راستہ ہے، پارلیمنٹ پر حملہ ادھر سے ہو یا کہیں اور سے ہمیں ایک ہونا ہو گا،

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں، محمود اچکزئی
    محمود اچکزئی نے کہا کہ بینظیر اور میاں نواز شریف نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے معاہدہ کیا ، کل جس انداز سے پارلیمنٹ اور آئین کی بے عزتی کی گئی ، آپ سمیت سب نے بار بار آئین کا حلف لیا، یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا غیر جمہوری قوتوں کے دم چلے بننے کو ترجیح دیتے ہیں ، سپیکر نے محمود خان اچکزئی کے نامناسب الفاظ حذف کردیئے

    آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،رانا تنویر
    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے اسلام آباد جلسے کے معاہدے کی پاسداری کی،کیا سٹیج پر ماوں بہنوں کو گالیاں دیا جانا انہوں نے کلچر نہیں بنادیا ،آپ رجوع کریں ،کیا نومئی کرکے انہوں نے خود یہ سب کچھ نہیں کیا ،کبھی بنگلہ دیش کا حوالہ دیا جاتا ہے ،یہی جو کررہے ہیں پھر وہی ہوگا،آج پارلیمان کی باتیں سب کو یاد آرہی ہیں ،بلاول نے ان کی حکومت کو قدم بڑھانے کا کہا تھا دیکھ لیا ان کا قدم ،قرآن اٹھاکر کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ نے منشیات سمگل کی،ان کے لیڈر کو تو ایکسر سائز مشین ملی ہوئی ہے ،رانا ثنا اللہ کو کہاں رکھا گیا تھا ،آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،جب ان کا لیڈر سٹیج سے گرا تو نوازشریف نے اپنی الیکشن مہم دوروز کے لئے روک دی تھی

    جو ہوا قانون کے مطابق ہوا،اٹک پل پر انتظار کریں گے، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ریاست نے احتجاج کیا ،صحافیوں نے احتجاج کیا اِس پر کسی کو کیا اعتراض ہے،گزشتہ روز جوہوا وہ قانون کےمطابق ہوا،صوبہ وفاق پرحملے کی بات کرے گاتوردعمل توآئےگا،کیاپاکستان کا وجو د ایک شخص کےوجود سے نتھی کیاجاسکتاہے ؟ یہ الفاظ، اس قسم کا ری ایکشن جو کل آئے اسکو جسٹی فائی کرتے ہیں، یا یہ کہا جائے کہ پشتونوں کا حملہ لے کرپنجاب پرحملہ آور ہوں گے،پنجاب پرحملے کی بات ہوگی تو کیانتیجہ نکلے گا؟پاکستا ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیاگیا ، جب آپ کہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں تو اس کا کیا ری ایکشن آئے گا؟جس قسم کی زبان استعمال کی گئی، اوپر والے بیٹھے ہوئے،ہمارے دوست،کولیگ، انہوں نے بھی احتجاج کیا،آپ بتائیں کہ کبھی بھی اس ایوان کی تاریخ مین اس ہاؤس کی،اور پریس گیلری والے ہرٹ ہوئے ہوں،پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کی سالمیت، اتحاد کے خلاف بات کی گئی، فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد کیا توقع کرتے ہیں، اس قسم کی باتیں کل کے ری ایکشن کو جواز فراہم کرتی ہیں،کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کے فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ہم آپ کا اٹک پُل پر انتظار کرینگے،انکا لیڈر(عمران خان) گاڑی کی ڈگی میں بیٹھ کر باجوہ سے ملاقات کرنے گیا،میں نے علی محمد خان کی دم پر پیر رکھ دیا اب اس چیخیں نکل رہی ہیں ،رویئے درست نہیں ہوں گے یہ کہیں گے کہ ہم نے بات کرنی تو فوج سے، یہ کہاں لکھا ہے کہ فوج سے بات کرے،15 دن کا کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کروانے کا آج دوسرا دن ہے ہم انتظار کررہے کہ وہ آئے لشکر لیکر ،13 دن باقی ہیں،اس نے جو ہمارے بارے کہا ہے ہم اٹک کے پل پر انتظار کریں،انکا تو صرف چیئرمین گرفتار ہے جبکہ میرا لیڈر تو پورے خاندان سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے ضمیر بیچے ہوئے ہیں یہ ڈارمے بند کریں

    خواجہ آصف کی تقریر کے دوران علی محمد خان نے احتجاج کیا تو خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اس کابینہ میں شامل تھا جس نے مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا،یہ رنگ بازی کر رہا ہے یہ درود شریف پڑھ کر جھوٹ بولتا ہے پھر درود شریف پڑتا ہے،میں نے ان کی دم پر پیر رکھا ہے اس لیے یہ چیخ رہے ہیں

    پارلیمنٹ میں‌جو ہوا،تحقیقات کروا کر مقدمہ درج کروائیں گے،سپیکر ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے چیمبر میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو پارلیمنٹ میں ہوا اس پر ایکشن لینا ہوگا،تمام ویڈیوز منگا لی ہیں اور اس پر ذمہ دار کا تعین کرنا ہے،میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کہ 2014 میں ایک شخص اور اس کے کزن نے حملہ کیا،میں نے ان کے خلاف ایف آئی آر کروائی ،آج بھی جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر دیں گے ،اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شریک ہوں،

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں