Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • شیر افضل مروت ، زین قریشی ، و دیگر کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    شیر افضل مروت ، زین قریشی ، و دیگر کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم این ایز کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا

    ملزمان کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا،شیر افضل مروت ، زین قریشی ، و دیگر کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد،شعیب شاہین اور دیگر کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ ،اسلام آباد پولیس نے شیر افضل مروت کو عدالت پیش کر دیا،شیخ وقاص اکرم، زین قریشی کو بھی جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیا،عامر ڈوگر کو بھی جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیا گیا، عامر,نسیم علی شاہ,احمد چھٹہ, سید احد شاہ کو پولیس نے انسداد دہشتگری کی عدالت میں پیش کردیا گیا

    عدالت پیشی کے موقع پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ریاست ہوش کے ناخن لے ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ لے جائے ایک کال کی دیر ہے پھر نا کہنا، آئی جی اسلام آباد اور مجسٹریٹ کو شرم آنی چاہیے، پولیس کا غیر قانونی استعمال کرکے انکا امیج خراب کررہے ہیں،سنگجانی کا مقدمہ جو بنایا گیا اس پر آئی جی کو شرم آنی چاہیے، اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے بڑی شرم کی بات ہے کہ ایوان پر اور اس کے تقدس پر اداروں نے حملہ کیا، جلسے کی تقاریر سے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کو تکلیف ہوئی جسکے بعد آئی جی اسلام آباد متحرک ہوئے اور گرفتاریاں کی گئی

    کمرہ عدالت میں کارکنوں کے شور پر جج اور شیر افضل مروت نےوکلاء کو خاموش کرنے کی ہدایت کی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ کوئی شور یا بات نہیں کرے گا وکلا دلائل دیں گے، عدالت نے پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ ان پر کیا الزام ہے؟ پراسکیوشن نے شیر افضل مروت اور شیخ وقاص پر درج ایف آئی آر پڑھ کر سنائی،پولیس نے 5 ایم این ایز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی

    16 سال جج رہا ، 32 سال وکیل رہا ،یہ قرآن اٹھا دیں کہ یہ وقوعہ ہوا ،شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت نے عدالت میں کہا کہ مقدمے کا پولیس کے پاس کوئی ایک گواہ ہے ؟ پولیس اتنی گر سکتی ہے یہ آج صبح کی ایف آئی آر ہے ، یہ قرآن اٹھا دیں کہ یہ وقوعہ ہوا ہے ،اگر ایک گواہ آکر کہہ دے تو اللہ کی قسم میرا ریمانڈ دے دیں پورے اسلام آباد کو انہوں نے بلاک کیا ہوا تھا ، سڑکیں بند کرنے کی وجہ سے اس جلسہ میں دیر ہوئی ، 16 سال میں جج رہا ہوں اور 32 سال وکیل رہا ہوں ، میں پولیس پر پستول رکھونگا، پی ٹی آئی کے کارکنوں کے گھر میں اسلام آباد پولیس نے چوری تک کی،ان کا پورا کیس زبانی الزامات پر مبنی ہے، جو الزامات مجھ سمیت دیگر پارٹی قائدین پر لگائے گئے ہے قرآن لا کر رکھ دیں کہ یہ سچ بولتے ہے تو اللہ کی قسم ہم ہر سزا قبول کریں اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں جج صاحب تو آئی اجی اسلام آباد کو طلب کر کے کڑی سزا دی جائے اگر آپ کی کرسی اور عہدے میں کچھ باقی ہے،

    شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم 75ایم این ایز تھے آگے پولیس تھی میں نے کہا آؤ پھر ایک ایک ہاتھ کر لیتے ہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ تو آپکا پروگرام تھا؟شیر افضل مروت نے کہا کہ جی بالکل پورا پلان تھا میرا میرے ساتھیوں نے میری بات نہیں مانی،اس بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،شیر افضل مروت نے کہا کہ جلسے کی کارروائی پوری دنیا کے سامنے ہے،اگر سچے ہیں تو قرآن اٹھا لیں،مدعی یا مقدمات کا کوئی گواہ عدالت میں موجود ہے تو میں اپنا جرم قبول کر لوں گا،پولیس عدالت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلاتی ہے،میں اسمبلی سے نکل رہا تھا اور وہاں سے گرفتار کیا گیا،جلسے والے دن انھوں نے پورا اسلام آباد بند کر دیا،جسکی وجہ سے 3 گھنٹے کارکُنان دیر سے آئےاگر یہ رکاوٹیں نہ لگاتے تو ہم ٹائم پر جلسہ ختم کر کہ چلے جاتے

    شیر افضل مروت نے کہا کہ یہاں آنے سے پہلے ہمیں بتایا گیا کہ بیرسٹر گوہر کو ڈسچارج کیا ، بیرسٹر گوہر ان شواہد پر ڈسچارج ہوئے جس پر ہمیں یہاں آپ کے سامنے پیش کیا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ کے پاس کلاشنکوف تھی، ان کے پاس نہیں، شیر افضل مروت نے کہا کہ کلاشنکوف آپ بنارہے، میرے پاس پستول ہے، شعیب شاہین تو بٹیر نہیں رکھتا پستول کہاں سے رکھے گا، وہ شریف آدمی ہے، میں پستول رکھتا ہوں کیوں کہ میں دشمن دار آدمی ہو، مگر جلسہ گاہ میں میرے پاس پستول نہیں تھا۔ شیر افضل مروت کے دلائل مکمل ہو گئے،وکیل صفائی عادل عزیز قاضی نے اپنے دلائل شروع کردئیے،وکیل صفائی نے کہا کہ جن شواہد پر بیرسٹر گوہر کو ڈسچارج کیا اسی پر باقی ملزمان کو ڈسچارج کریں،جلسے والے دن ایک واقع ہوا اور وہ پورے میڈیا پر چلا، وکیل صفائی نےشیر افضل مروت، شیخ وقاص، زین قریشی، عامر ڈوگر، نسیم شاہ و دیگر کو ڈسچارج کرنے کی استدعا کی،

    پولیس نے بتایا کہ ہم نے شیر افضل مروت اور بیرسٹر گوہر کو مقدمہ میں ڈسچارج کر دیا ہے جبکہ بیرسٹر گوہر کو رہا بھی کر دیا ہے۔بیرسٹر گوہر کو تھانہ سنگجانی کے مقدمے سے ڈسچارج کردیا گیا ۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ 10 ستمبر کو پارلیمنٹ سے نکل گئے تو گرفتار ہوگئے، اسی کیس میں ہم پولیس کے خلاف 193 کا استغاثہ کرتے ہیں، پراسیکوشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر کی گرفتاری سے انکار کیا گیا، پراسیکیوٹر نے کہا کہ بیرسٹر گوہر گرفتار ہی نہیں،شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمارے ابھی تک 6 ارکانِ قومی اسمبلی لاپتہ ہیں،عامر ڈوگر نے کہا کہ میں پارٹی کا چیف وہیپ ہو، مجھے گرفتار کرلیا گیا مگر میرا نام ایف آئی آر میں نہیں،شیر افضل مروت نے کہا کہ 9 ستمبر کو ہم قومی اسمبلی گئے تب کوئی گرفتاری نہیں تھی کیونکہ مقدمہ نہیں تھا، بیرسٹر گوہر کی گرفتاری کو پورے پاکستان نے دیکھا، یہاں ایسے لوگ گرفتار ہیں جو ایف آئی آر میں موجود ہی نہیں،

    شعیب شاہین کی تھانہ نون کے کیس میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی گئی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ باقیوں کی حد تک میں آرڈر کرونگا، شعیب شاہین کو تھانہ نون کی حد تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا،شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، زین قریشی، نسیم شاہ، احمد چٹھہ و دیگر کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا.

    دوران سماعت ایم این اے احد چٹھہ اور اویس جکھڑ کی طبیعت خراب ہوگئی،کمرہ عدالت میں شدید رش اور حبس کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ،عدالت نے دونوں ایم این ایز کو باہر بٹھانے کی ہدایت کردی

    ملیالم فلم انڈسٹری مالی ووڈ میں "می ٹو” کے چرچے،جنسی استحصال کے 17 واقعات رپورٹ

    رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

  • اسپیکر قومی اسمبلی کا  تمام گرفتار اراکین  کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم

    اسپیکر قومی اسمبلی کا تمام گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا

    اسپیکر سردار ایاز صادق سے قومی اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں، اراکین کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں اراکین قومی اسمبلی کی پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،تمام رہنماؤں نے کل رات کے واقع کی مذمت اور اسپیکر سردار ایاز صادق سے سخت سے سخت ایکشن لینے کی استدعا کی،اسپیکر سردار ایاز صادق نےمعاملے کو تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر حل کرنے کا عزم کیا،تمام جماعتوں کا ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے مکمل ضابطہ کار بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کل رات کے واقع پر دل انتہائی رنجیدہ ہے،پارلیمنٹ کے تمام ممبران میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں ،پارلیمنٹ کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، پارلیمنٹ سے گرفتاریوں کے حوالے سے فوری اور مکمل تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے،

    اسپیکر نے آئی جی اسلام آباد کو اپنے دفتر میں طلب کر کے واقعہ سے متعلّق معلوم کیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے آئی جی اسلام آباد کو قانونی طریقہ کار کے مطابق گرفتار اراکین کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا،اسپیکر ایاز صادق نے آئی جی اسلام آباد کو تمام گرفتار اراکین سے مہذب برتاؤ اور بہترین سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی اور کہا کہ کل رات کے واقع کی مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائیں گی، کل رات کے واقع کی مکمل فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے، آئی جی اسلام آباد سے واقع کی فوری اور مکمل رپوٹ بھی طلب کر لی ہے، پارلیمنٹ کا تقدس اور احترام سب پر لازم ہے ،

    ملاقات میں وفاقی وزرا اور اراکین اسمبلی رانا ثناءاللہ ، اعظم نذیر تارڑ ، عبد العلیم خان، سید خورشید شاہ ، سید نوید قمر، طارق فضل چوہدری ، نور عالم خان ، شندانہ گلزار، خالد حسین مگسی چوہدری سالک حسین، سید امین الحق، امجد علی خان، شاہدہ اختر علی، علی محمد خان، صاحبزادہ حامد رضا اور دیگر نے شرکت کی،

    قبل ازیں علی محمد خان ،اعظم نذیر تارڑ ،نوید قمر اورمحمود خان اچکزئی اسپیکر چیمبر پہنچ گئے،گزشتہ را ت کے واقعے سے متعلق پارلیمانی رہنماؤں کی اسپیکر آفس میں مشاورت ہوئی،اسپیکر ایازصادق نے پارلیمنٹ کی داخلی و خارجی راستوں کی فوٹیج منگوا لیں،علی محمد خان نے بھی واقعے سے متعلق تمام فوٹیجز ا سپیکر کو فراہم کر دیں،

    گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے پارلیمنٹیرین کی گرفتاری کا معاملہ،آئی جی اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے آئی جی اسلام آباد کی سرزنش کی،اور کہا کہ گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو فوری رہا کیا جائے، پارلیمنٹ کی بے توقیری قبول نہیں،معاملے کی انکوائری ہوگی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی نہیں، پروڈکشن آرڈر کی بات ہوئی،آئی جی اسلام آباد
    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی سے متعلق تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نےہمیں گرفتار لوگوں کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا کہا ہے ،شعیب شاہین بازیابی کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی سے سوال کیا کہ آپ پارلیمنٹ سے ہو کر آئے ہیں؟ جس پر آئی جی پولیس نے چیف جسٹس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی سر میں وہاں سے ہوکر آرہا ہوں،عدالت نے سوال کیا کہ وہاں کیا ہوا؟ کس سے مل کر آئے ہیں؟جس پر آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات ہوئی ہے،اراکین کو باہر سے گرفتار کیا گیا تھا ہمیں کہا گیا کہ گرفتار لوگوں کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے ہیں،اس سے متعلق بات ہوئی ہے

    پارلیمنٹ میں‌جو ہوا،تحقیقات کروا کر مقدمہ درج کروائیں گے،سپیکر ایاز صادق
    قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے چیمبر میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو پارلیمنٹ میں ہوا اس پر ایکشن لینا ہوگا،تمام ویڈیوز منگا لی ہیں اور اس پر ذمہ دار کا تعین کرنا ہے،میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کہ 2014 میں ایک شخص اور اس کے کزن نے حملہ کیا،میں نے ان کے خلاف ایف آئی آر کروائی ،آج بھی جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر دیں گے ،اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شریک ہوں،

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • شعیب شاہین کو عدالت پیش کر دیا گیا

    شعیب شاہین کو عدالت پیش کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کی بازیابی درخواست پر آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو آج دن اڑھائی بجے طلب کر لیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شعیب شاہین کے بھائی کی درخواست پر احکامات جاری کیے ،شعیب شاہین کو کل پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو بھی طلب کر لیا ،عدالت نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بھی اڑھائی بجے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ چونکہ یہ درخواست صرف شعیب شاہین کی بازیابی کی ہے، مگر آئی جی صاحب پھر بھی پوچھ رہا ہوں کہ نیشنل لیول کے لوگ ہیں سب،کیا کسی کو غیر قانونی طور پر گرفتار رکھا گیا ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ نہیں سب کی باقاعدہ گرفتاری ڈالی گئی ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شعیب شاہین نے کسی بھی کارکن کو کسی قسم کی کوئی ہدایت نہیں دی،آپ نے سارا اسلام آباد بند کر دیا تھا این او سی دے کر لوگوں پر شیلنگ کی گئی ،لا انفورسمنٹ نے لوگوں کی حفاظت کرنا تھی ،لیکن انھوں نے شیلنگ کی،یہ وزیر داخلہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کی حفاظت کرے،وزیر داخلہ کا کام کیا رہ جاتا ہے اسے کس لیے رکھا گیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن نون نے گرفتار کیا تو کیا کسی اور تھانے کا ایس ایچ او بھی گرفتاری کے لیے گیا؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے شعیب شاہین کی گرفتاری کے ڈاکومنٹس مانگ لیے اور کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ گرفتاری کے بعد بند حوالات سی آئی اے کیا گیا،یہ بھی لکھا ہے کہ گرفتار ملزم کو پیش مجاز عدالت کیا جائے گا،کیا گرفتاری کے بعد شعیب شاہین کی تحویل سی آئی اے کو دی گئی تھی؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شعیب شاہین کو پیش کر کے جسمانی ریمانڈ مانگا گیا ہے اور سماعت اے ٹی سی میں چل رہی ہے،ووکیل شہباز کھوسہ نے کہا کہ دوران گرفتاری پولیس اہلکاروں نے بدتمیزی کی۔جس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شعیب شاہین مختلف دفعات کے تحت گرفتار ہیں۔میں اس سارے معاملے کو دیکھ لیتا ہوں۔تمام افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے۔

    شعیب شاہین عدالت پیش، پولیس کو کہا میں ڈیجیٹل نہیں کلاشنکوف والا دہشتگرد ہوں،شعیب شاہین
    دوسری جانب شعیب شاہین کو انسداد دہشت گردی عدالت پیش کر دیا گیا،شعیب شاہین نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں وکٹری کا نشان بنا دیا وکلاء کو نعرے بازی نہ کرنے اور استقامت کی ہدایت کی،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے تھانہ رمنا میں رکھا گیا پھر سی آئی اے لے گئے،رات کو گرفتار ہونے والے تمام ارکان اسمبلی بھی سی آئی اے میں ہیں، ارکان اسمبلی کو علی الصبح سی آئی اے میں لایا گیا،میں زیادہ بڑا دہشتگرد ہوں اس لئے مجھے کل ہی سی آئی اے لے گئے تھے، تفتیش میں مجھ سے موبائل کا پاسورڈ مانگا گیا،پولیس کو جواب دیا کہ مقدمہ دہشتگردی کا درج کیا ہے وہ سوال کرو، پولیس کو کہا میں ڈیجیٹل نہیں کلاشنکوف والا دہشتگرد ہوں، مجھ پر مقدمہ تو کلاشنکوف اور بم والا ہے تو سوال بھی وہی پوچھیں،

    شعیب شاہین کا 15 روزہ ریمانڈ مانگ لیا گیا
    بعد ازاں سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی.پراسیکیوٹر کی جانب سے مقدمے کا متن پڑھنا شروع کر دیا گیا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ بقیہ ملزمان کے آنے کا بھی انتظار چاہ رہاتھا، کیس شروع کرتے ہیں،شعیب شاہین سے کیا چاہیے ؟ پراسکیوٹر نے مقدمے کا متن پڑھا اور کہا کہ شعیب شاہین نے کارکنان کو اکسایا ، ہمیں ریمانڈ دیا جائے ہم نے شعیب شاہین سے ڈنڈے ، راڈ پولیس کی کٹ برآمد کرنی ہے، 15 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج ہے، اس میں ہم 90 دن کی ریمانڈ لے سکتے ہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جلسہ کب سے کب تک تھا؟ جلسے کا بتائیں،پراسکیوٹر نے کہاکہ جلسے کا وقت 4 سے 7 بجے تک تھا، امن و امان کا ایکٹ نیا آیا ہے، تحریک انصاف کا جلسہ چلتا رہا، انتظامیہ نے بہت کوشش کی امن و امان قائم رہے، جلسہ کی جگہ سے بارود بھی برآمد آیا، تحریک انصاف کی قیادت نے اشتعال پیداکیا،پراسیکیوٹر راجہ نوید کے دلائل مکمل ہوئے،شعیب شاہین کے وکیل نے دلائل شروع کر دئیے

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جلسے کا این او سی 7 بجے تک کا تھا اور مقدمہ 6:30 بجے درج کیا گیا ،اس مقدمے میں شعیب شاہین کا زکر کیا گیا شعیب شاہین اس جگہ پر موجود بھی نہیں تھے ، شعیب شاہین شئیر وکیل ہیں ، یہاں بندہ سانس لیتا ہے تو مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے ،مقدمے میں لکھا ہے شعیب شاہین ڈکیت ہے ، میرے بھائی کو کمانڈنگ للکار کا پتہ ہی نہیں،شعیب شاہین اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر رہے، سپریم کورٹ کا وکیل ہے، اور ایک بڑی سیاسی جماعت کا اہم ممبر ہے،کہا جارہا ہے کہ شعیب شاہین اور عامر مغل نے کارکنوں کو اکسایا جو کہ شعیب شاہین وہاں موجود ہی نہیں،شعیب شاہین کا ریمانڈ نہیں بلکہ ڈسچارج کا کیس ہے،وکیل صفائی ریاست علی نے کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی،کہا کہ شعیب شاہین کو تو پولیس کو ہی ڈسچارج کردینا چاہیے تھا،شعیب شاہین کے ریکارڈ پر کوئی ماضی میں مقدمات نہیں،اتنی شاپر میں جگہ نہیں جتنی تحریک انصاف والوں کے خلاف مقدمات درج ہورہےہیں، ایسے تو جناب کا یا میرا نام لیں گے تو کیا ہم ملزم ہونگے؟ ،یہ کس چیز کی تفتیش کررہے ہیں کیا شعیب شاہین سے ایٹم بم برآمد کررہے، اس کیس میں ریمانڈ کی مخالفت نہیں کرو ں گا بلکہ شعیب شاہین کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے ،شکر ہے انتظامیہ نے تحریک انصاف کو یونیفارم میں جلسہ کرنے کی ہدایت نہیں کی،مقدمہ میں پورے کا پورا پاکستان پینل کوڈ درج کردیاہے،مجھے شرم آرہی ہے کہ سینئیر اور پروفیشنل وکیل شعیب شاہین کو ملزم کہوں ،معاشرے میں ایک عزت دار شخص کی آپ توہین کررہے ہیں آپ اسے دہشت گرد پیش کررہے ہیں،یہ صرف اور صرف اختیارات کے ناجائز اور غیر قانونی استمعال کیا جارہا ہے،ہم عدالت کو سی سی ٹی وی فوٹیجز دکھایں گے کہ لاء چیمبر سے اٹھایا گیا،

    جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ شعیب شاہین کا کیا کردار ہے وہ بتا دیں ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے ہدایت دی تھی ، وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ یہ ہدایت ہدایت کہ رہے اللہ انکو ہدایت دے،وکیل کے چیمبر کو تحفظ فراہم ہوتاہے،شعیب شاہین اپنی پیشہ ورانہ زمہ داری نبھا رہے تھے شعیب شاہین کو ایک اور مقدمہ میں بھی نامزد کررکھاہے، پراسکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ تحریک انصاف کا پورا گینگ ہے، وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ جی بہت بڑا ڈکیت گینگ ہے ، جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جلسہ کب سے کب تک تھا؟ کیا خلاف ورزی کی ہے ؟ پراسیکیوٹرراجانوید نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایگریمنٹ کیاتھاکہ این او سی کی مکمل پابندی کریں گے، عدالت نے استفسار کیا کہ سنگجانی جلسہ گاہ اور 26 نمبر چونگی میں کتنا فاصلہ ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ دونوں مقامات میں 7 سے 8 کلومیٹر کا فاصلہ ہے ، عدالت نے کہا کہ تو پھر یہ ہجوم وہاں پہنچ کیسے گیا ؟،

    صدر اسلا م آباد بار نے کہا کہ شعیب شاہین کے کلائنٹس ان کے آفس بیٹھے ہوئے تھے کیا میسج دیا گیا،ہم سب کے لیے کلائنٹس بہت عزیز ہیں،مگر کیا ہوا سب نے دیکھ لیا،چیف جسٹس آف پاکستان کہتے ہیں پارلیمان مقتدر ہے،مقدمے میں جو کہا گیا وہ مفروضے ہیں، کیونکہ شعیب شاہین نے کب کس جگہ کارکنوں کو ہدایت دی، جو شخص ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے آفس جاکر این او سی لیتے ہیں وہ کسی کو یہی کہے گا،کہاں پر شعیب شاہین نے کہا کس کو کہا؟،جلسے کی این او سی جب دی تو راستے کیوں بند کردئیے گئے؟،کارکنوں نے اپنے جلسے میں جانا تھا انہوں نے راستے بند کردیے تھے،

  • وزارت داخلہ میں ڈپٹی سیکرٹری ویزہ کی تقرری کر دی گئی

    وزارت داخلہ میں ڈپٹی سیکرٹری ویزہ کی تقرری کر دی گئی

    وزارت داخلہ کے اندر ایک حالیہ پیشرفت میں محکمانہ ڈھانچے اور اہم تقرریوں میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سطح پر جاری چیلنجوں کی روشنی میں ویزا سے متعلق امور کے انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔

    وزارت داخلہ نے مجاز اتھارٹی کی منظوری سے شیریں حنا اصغر کو کرنٹ چارج کی بنیاد پر ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) کے طور پر باضابطہ طور پر تعینات کر دیا ہے۔ یہ تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہے اور تین ماہ کی مدت کے لیے یا اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ کسی باقاعدہ عہدے دار کی تقرری نہ ہو، وزارت کے سیکشن آفیسر (ایڈ ایم این-1) عمران اصغر کی طرف سے جاری کردہ آفس آرڈر نمبر F.4/3/2024-Admn-l کے ذریعے تقرری کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ یہ فیصلہ ویزا پروسیسنگ اور انتظام کو موثر اور محفوظ رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے،

    ایک متعلقہ اقدام میں، وزارت نے بارڈر مینجمنٹ ونگ کے تحت ڈپٹی سیکرٹری (پی ای) کا عہدہ بھی ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) کو دوبارہ نامزد کیا ہے۔ یہ تبدیلی وزارت کی ابھرتی ہوئی ضروریات اور ویزا سے متعلق معاملات پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔ دوبارہ عہدہ آفس آرڈر نمبر 1/4/2017-Admn-l، عمران اصغر، سیکشن آفیسر (Admn-1) کے دستخط کے ذریعے باضابطہ کیا گیا۔ اس دوبارہ عہدہ کو بارڈر مینجمنٹ ونگ کے اندر کارروائیوں کو ہموار کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ویزا کے مسائل کو انتہائی ترجیح کے ساتھ حل کیا جائے۔ ڈپٹی سیکرٹری (ویزا) اب ویزا پالیسیوں کی نگرانی، غیر ملکی مشنوں کے ساتھ ہم آہنگی اور ویزا کے اجراء کے عمل کی دیانتداری کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    یہ تبدیلیاں وزارت داخلہ کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے داخلے اور اخراج کو منظم کرنے میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ وزارت نے ہموار منتقلی کی اہمیت اور قومی سلامتی اور انتظامی کارکردگی پر مسلسل توجہ مرکوز کرتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں اور حکام کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا کی متحرک قیادت میں، ان پیش رفتوں سے ویزا مینجمنٹ کے عمل میں مثبت تبدیلیاں آنے کی توقع ہے، ویزا سیکشن کی کارکردگی کو بہتر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا گیا ہے

    رپورٹ، زبیر قصوری، اسلام آباد

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات جنہوں نے پارلیمنٹ پردھاوا بولا ان پرآرٹیکل 6 لگناچاہیے،وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے، یہ جمہوریت پر حملہ ہے،پاکستان کے آئین پر حملہ ہے، افسوس ہے ہندوستان، اسرائیل،امریکہ سے نہیں میرے اپنے وطن کے نقاب پوش ایوان میں گھسے،یہ حملہ سپیکر صاحب آپ پر ہے، یہ حملہ شہباز شریف پر ہے یہ حملہ بلاول پر ہے،آپ اس معاملے پر کھڑے ہو جائیں ،اگر آپ کھڑے نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا کے چلے جاتے ہیں ،جس طرح نو اپریل کو کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہوں ،مریم نواز شریف میرے لیے بہن کی جگہ ہے ،ضرورت ہے قوم اور فوج یکجان ہوکر کھڑے ہوں ،درخواست ہے آپ اپنا کردار ادا کریں ،کل آپ کے بھائیوں کو یہاں سے اٹھایا گیا ،اراکین کو پارلیمنٹ کے سامنے اٹھایا گیا،اگر جناح ہاؤس پہ حملہ پاکستان پہ تھا تو پارلیمنٹ پہ حملہ پاکستان پہ حملہ نہیں ہے ؟

    صاحبزادہ حامد رضا نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل رات میں اپنے ساتھیوں کیلئے یہاں پر آیا تھا ،آج ہم یہاں پر اپنا آئینی کردار ادا کرنے آئے ہیں ،رات کو تین بجکر سولہ منٹ پر قومی اسمبلی میں نقاب پوش داخل ہوئے،ہم مختلف کمروں میں بیٹھے ہوئے تھے ،جب نقاب پوش داخل ہوئے تو کمروں کی لائٹیں بند کردی گئیں ،عامر ڈوگرزین قریشی، شیخ وقاص اکرم اور نسیم شاہ کو گرفتار کیا جاتا ہے ،احمد چھٹہ اور اویس جھکڑ کا پتہ نہیں کہاں پر ہیں ،میں بانی پی ٹی آئی کا اتحادی ہوں اور رہوں گا ،اس ایوان کی کازروائی کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز کو کہیں کہ مجھے گرفتار کریں ،اگر کہیں پر بھی میرے خلاف ایف آئی آر ہے تو مجھے وہاں پیش کریں،ایف آئی آر میں صرف چار لوگ نامزد تھے ،لوگوں کو گردن سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،بیرسٹر گوہر کو کالر سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،میں کوئی مجرم نہیں ہوں میرے والد نے طالبان کے خلاف تقریر کی ،ہمیشہ دہشت گردی کی خلاف بات کا اگر ریاست یہ صلہ دیتی ہے تو ٹھیک ہے

    پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،نوید قمر
    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر گھس کر گرفتاریاں،یہ کیا ہے جو الزامات سامنے آرہے ہیں میرے پاس یقین کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ،یہ پارلیمنٹ اور آئین پر سراسر حملہ ہے ،پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،آپ کو سنجیدہ انکوائری کرکے کارروائی کرنا پڑے گی ،اگر کارروائی نہیں ہوگی تو سلسلہ نہیں رکے گا،تحقیقات کر کے سنجیدہ ایکشن لینا پڑے گا، ایک ہی راستہ ہے، پارلیمنٹ پر حملہ ادھر سے ہو یا کہیں اور سے ہمیں ایک ہونا ہو گا،

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں، محمود اچکزئی
    محمود اچکزئی نے کہا کہ بینظیر اور میاں نواز شریف نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے معاہدہ کیا ، کل جس انداز سے پارلیمنٹ اور آئین کی بے عزتی کی گئی ، آپ سمیت سب نے بار بار آئین کا حلف لیا، یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا غیر جمہوری قوتوں کے دم چلے بننے کو ترجیح دیتے ہیں ، سپیکر نے محمود خان اچکزئی کے نامناسب الفاظ حذف کردیئے

    آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،رانا تنویر
    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے اسلام آباد جلسے کے معاہدے کی پاسداری کی،کیا سٹیج پر ماوں بہنوں کو گالیاں دیا جانا انہوں نے کلچر نہیں بنادیا ،آپ رجوع کریں ،کیا نومئی کرکے انہوں نے خود یہ سب کچھ نہیں کیا ،کبھی بنگلہ دیش کا حوالہ دیا جاتا ہے ،یہی جو کررہے ہیں پھر وہی ہوگا،آج پارلیمان کی باتیں سب کو یاد آرہی ہیں ،بلاول نے ان کی حکومت کو قدم بڑھانے کا کہا تھا دیکھ لیا ان کا قدم ،قرآن اٹھاکر کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ نے منشیات سمگل کی،ان کے لیڈر کو تو ایکسر سائز مشین ملی ہوئی ہے ،رانا ثنا اللہ کو کہاں رکھا گیا تھا ،آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،جب ان کا لیڈر سٹیج سے گرا تو نوازشریف نے اپنی الیکشن مہم دوروز کے لئے روک دی تھی

    جو ہوا قانون کے مطابق ہوا،اٹک پل پر انتظار کریں گے، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ریاست نے احتجاج کیا ،صحافیوں نے احتجاج کیا اِس پر کسی کو کیا اعتراض ہے،گزشتہ روز جوہوا وہ قانون کےمطابق ہوا،صوبہ وفاق پرحملے کی بات کرے گاتوردعمل توآئےگا،کیاپاکستان کا وجو د ایک شخص کےوجود سے نتھی کیاجاسکتاہے ؟ یہ الفاظ، اس قسم کا ری ایکشن جو کل آئے اسکو جسٹی فائی کرتے ہیں، یا یہ کہا جائے کہ پشتونوں کا حملہ لے کرپنجاب پرحملہ آور ہوں گے،پنجاب پرحملے کی بات ہوگی تو کیانتیجہ نکلے گا؟پاکستا ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیاگیا ، جب آپ کہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں تو اس کا کیا ری ایکشن آئے گا؟جس قسم کی زبان استعمال کی گئی، اوپر والے بیٹھے ہوئے،ہمارے دوست،کولیگ، انہوں نے بھی احتجاج کیا،آپ بتائیں کہ کبھی بھی اس ایوان کی تاریخ مین اس ہاؤس کی،اور پریس گیلری والے ہرٹ ہوئے ہوں،پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کی سالمیت، اتحاد کے خلاف بات کی گئی، فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد کیا توقع کرتے ہیں، اس قسم کی باتیں کل کے ری ایکشن کو جواز فراہم کرتی ہیں،کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کے فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ہم آپ کا اٹک پُل پر انتظار کرینگے،انکا لیڈر(عمران خان) گاڑی کی ڈگی میں بیٹھ کر باجوہ سے ملاقات کرنے گیا،میں نے علی محمد خان کی دم پر پیر رکھ دیا اب اس چیخیں نکل رہی ہیں ،رویئے درست نہیں ہوں گے یہ کہیں گے کہ ہم نے بات کرنی تو فوج سے، یہ کہاں لکھا ہے کہ فوج سے بات کرے،15 دن کا کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کروانے کا آج دوسرا دن ہے ہم انتظار کررہے کہ وہ آئے لشکر لیکر ،13 دن باقی ہیں،اس نے جو ہمارے بارے کہا ہے ہم اٹک کے پل پر انتظار کریں،انکا تو صرف چیئرمین گرفتار ہے جبکہ میرا لیڈر تو پورے خاندان سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے ضمیر بیچے ہوئے ہیں یہ ڈارمے بند کریں

    خواجہ آصف کی تقریر کے دوران علی محمد خان نے احتجاج کیا تو خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اس کابینہ میں شامل تھا جس نے مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا،یہ رنگ بازی کر رہا ہے یہ درود شریف پڑھ کر جھوٹ بولتا ہے پھر درود شریف پڑتا ہے،میں نے ان کی دم پر پیر رکھا ہے اس لیے یہ چیخ رہے ہیں

    پارلیمنٹ میں‌جو ہوا،تحقیقات کروا کر مقدمہ درج کروائیں گے،سپیکر ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے چیمبر میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو پارلیمنٹ میں ہوا اس پر ایکشن لینا ہوگا،تمام ویڈیوز منگا لی ہیں اور اس پر ذمہ دار کا تعین کرنا ہے،میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کہ 2014 میں ایک شخص اور اس کے کزن نے حملہ کیا،میں نے ان کے خلاف ایف آئی آر کروائی ،آج بھی جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر دیں گے ،اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شریک ہوں،

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • حوالہ ہنڈی میں ملوث عمرہ اور ٹریول کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

    حوالہ ہنڈی میں ملوث عمرہ اور ٹریول کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

    پاکستانی حکومت نے غیر قانونی حوالہ ہنڈی میں ملوث عمرہ اور ٹریول کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا

    پاکستانی وزارت داخلہ نے متعدد عمرہ اور ٹریول کمپنیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہے جو مبینہ طور پر غیر قانونی ہوالہ،ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ یکم دسمبر 2023 کو ایک سرکاری میمورنڈم میں، وزارت نے متعلقہ حکام کو ان کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے، جس سے ممکنہ طور پر ان کے مستقبل کے کاموں پر پابندی لگ سکتی ہے۔ میمورنڈم صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے،اور اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ یہ غیر قانونی مالیاتی سرگرمیاں کس طرح ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کی فہرست بھی سامنے آئی ہے جن کے حوالہ ہنڈی کے لین دین میں ملوث ہونے کا شبہ ہے، حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسی کمپنیوں کی رجسٹریشن منسوخ کریں اور سخت جرمانے عائد کریں۔

    حکومت کا کریک ڈاؤن متعدد صوبوں اور علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ میمورنڈم کی کاپیاں پنجاب، سندھ اور کے پی کے کے چیف سیکریٹریز، آئی سی ٹی کے چیف کمشنر اور ایس ای سی پی کے چیئرمین کو بھیجی گئی ہیں، جس میں لسٹڈ کمپنیوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

    حوالا/ہنڈی نظام رقم کی منتقلی کا ایک غیر رسمی طریقہ ہے، جو اکثر روایتی بینکنگ چینلز کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، پاکستانی حکومت کا یہ اقدام مالی جرائم سے نمٹنے اور عمرہ اور سفری شعبے کی سالمیت کو یقینی بنانے کے بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واضح پیغام بھی ہے کہ جو بھی کمپنی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میمورنڈم میں نامزد کمپنیوں کی فہرست میں ملک بھر سے نمایاں نام شامل ہیں، جو اس مسئلے کی وسیع نوعیت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ حکومت کے اس اقدام سے عمرہ اور ٹریول انڈسٹری پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جس سے ممکنہ طور پر جانچ پڑتال اور ضابطے میں اضافہ ہوگا۔ غیر قانونی ہوالہ/ہنڈی کے کاروبار میں ملوث عمرہ اور ٹریول کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پاکستان کی مالی جرائم کے خلاف جاری لڑائی میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ اقدامات ایسی سرگرمیوں کو روکنے میں کتنے کارآمد ثابت ہوں گے، لیکن حکومت کا فیصلہ کن اقدام ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور ملک کے مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے

    رپورٹ: زبیر قصوری،اسلام آباد

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں روپوش پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    پارلیمنٹ ہاؤس میں روپوش پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    اسلام آباد جلسے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے

    اراکین پارلیمنٹ نے رات پارلیمنٹ میں‌گزارنے کی کوشش کی، سپیکر سے مدد مانگی تاہم پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس سے بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا،اسلام آباد پولیس نے ایم این اے زین قریشی اور شیخ وقاص اکرم کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے گرفتار کیا،رکن قومی اسمبلی نسیم الرحمان، شاہ احد خٹک اور ‏سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا کو بھی گرفتار کرلیا گیا،جنوبی وزیر ستان سے ایم این اے محمد زبیر کو بھی گرفتار کیا گیا، بیرسٹر گوہر، شیر افضل مروت، شعیب شاہین کو بھی گرفتار کیا گیا، زرتاج گل پارلیمنٹ سےفرار ہو گئی تھیں، جمشید دستی بھی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے،اسلام آباد پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمر ایوب اور زرتاج گل کو بھی گرفتار کیا جائے گا،پولیس نے ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے ہیں۔ ڈی چوک، نادرا چوک، سرینا اور میریٹ کے مقام سے ریڈ زون مکمل سیل کردیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے علی محمد خان کو گرفتار نہیں کیا، علی محمد خان کا کہنا ہے کہ کل پاکستان میں جمہوریت کی بدترین رات تھی،آمریت میں بھی کبھی اس طرح پارلیمنٹ کا تقدس پامال نہیں کیا گیا ،کل رات جمہوریت پر حملہ کیا گیا ،

    دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر سے گرفتاریاں نامناسب ہیں، 20 ستمبر تک انتظار کریں، 20 ستمبر تک دیکھیں بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے،

    علاوہ ازیں راولپنڈی میں پولیس کی جانب سے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت اور پی ٹی آئی کے رہنما شہریار ریاض کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، پولیس نے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت کی رہائش گاہ دھمیال ہاؤس میں چھاپہ مار کر گھر کی تلاشی لی،اس موقع پر راجہ بشارت گھر پر موجود نہیں تھے،شہریار ریاض کی گرفتاری کے لیے پولیس نے رات گئے پشاور روڈ پر واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے چھاپے کے دوران پی ٹی آئی رہنما شہریار ریاض بھی اپنے گھر پر موجود نہیں تھے، شہریار ریاض اور راجہ بشارت کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے،دونوں پر این او سی کی خلاف ورزی اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام ہے

    اسلام آباد پولیس نے جلسے کے موقع پر پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کے واقعے پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف تھانہ نون میں مقدمہ درج کیا ہے،درج مقدمے میں انسداد دہشتگردی اور اقدام قتل سمیت 11 دفعات شامل کی گئی ہیں ،مقدمے میں شعیب شاہین اور عامر مغل سمیت 70 سے زائد رہنماؤں اورکارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے مرکزی قیادت کی ایما پر 26 نمبر چونگی کے قریب پولیس پر حملہ کیا، ڈنڈوں اور پتھروں سمیت راڈ سے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے زخمی کیا گیا، سرکاری گاڑی کے شیشے توڑے گئے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور پولیس اہلکاروں سے سرکاری سامان چھینا گیا۔

    نعیم حیدر پنجوتھا پستول اٹھا کر پولیس پارٹی کے پاس آئے اور کہا 9 مئی کیا بھول گئے ہو؟مقدمہ درج
    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف سنگجانی میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ میں انسداد دہشتگردی اور اقدام قتل سمیت 9 دفعات لگائی گئی ہیں،تھانہ سنگجانی کے مقدمے میں نعیم حیدر پنجوتھا سمیت 60 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے،درج مقدمے کے مطابق نعیم حیدر پنجوتھا پستول اٹھا کر پولیس پارٹی کے پاس آئے اور کہا 9 مئی کیا بھول گئے ہو؟ 9 مئی کو بھول جاؤ گے،نعیم حیدر پنجوتھا نے پولیس پر فائرنگ کی، اہلکاروں نے چھپ کر جان بچائی۔

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    دوسری جانب اسلام آباد جلسہ میں علی امین گنڈا پور کے خطاب اور بیانات پرپی ٹی آئی قیادت بھی ناراض اور تقسیم ہو چکی ہے، آج اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنما معافیاں مانگتے رہے اور صحافیوں کو مناتے رہے، بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، شبلی فراز نے بار بار معافیاں مانگیں،پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ جلسے میں علی امین گنڈاپو رنے غیر ضروری گفتگو کی،پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہ لینے پر ارکان نے علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے،علی امین گنڈا پور نے اپنے خطاب بارے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا تھا، علی امین گنڈا پور کے خطاب کی وجہ سےپی ٹی آئی کے لئے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے رہنما پریشان ہیں.

    علاوہ ازیں عورت فاؤنڈیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا مطالبہ کیا ہے،عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہےکہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعلیٰ کے پی کی زبان دھمکی آمیز تھی، انہوں نے اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیا،علی امین گنڈاپور نے سائبرکرائمز ایکٹ کی خلاف ورزی کی، وزیراعلیٰ کے پی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

  • سپریم کورٹ،مونال ریسٹورنٹ، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،مونال ریسٹورنٹ، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواستوں کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا گیا

    نیشنل پارک ایریا میں قائم مونال ریسٹورنٹ، لاء مونٹانا، گلوریہ جیز سمیت دیگر ریسٹورنٹس کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے،عدالت نے نظرثانی درخواستیں خارج کردیں،سپریم کورٹ نے نیشنل پارک ایریا میں قائم ریسٹورنٹس کے حق میں دی گئی آبرزویشنز واپس لے لیں ،سپریم کورٹ نے مونال اور دیگر ریسٹورنٹس کو کسی اور مقام پر لیز کے وقت ترجیح دینے کی آبرزیشن واپس لے لی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ مونال ریسٹورنٹ ،لا مونتانہ اور دیگر ریسٹورنٹس نے رضاکارانہ طور پر تین ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی،عدالت میں یقین دہانی کے باوجود نظرثانی دائر کرنا عدالت کیساتھ مذاق ہے،رضاکارانہ تین ماہ میں ریسٹورنٹس ختم کرنے کی یقین دہانی کے بعد نظرثانی دائر کرنا توہین آمیز ہے،سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو کہا ان ریسٹورنٹس کو دیگر علاقوں میں ترجیح بنیادوں لیز دی جائے،عدالت نے قرار دیا کسی اور مقام پر ریسٹورنٹس کی لیز میں نیشنل پارک ایریا کے ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے، سپریم کورٹ لیز کے عمل میں ترجیح دینے کے اپنے فیصلے کو حذف کرتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • اسٹیبلشمنٹ نے جلسے کی سہولت کاری کی ضمانت دی تھی،عمران خان کا انکشاف

    اسٹیبلشمنٹ نے جلسے کی سہولت کاری کی ضمانت دی تھی،عمران خان کا انکشاف

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 22اگست کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر ملتوی کیا،اعظم سواتی صبح 7 بجے میرے پاس آئے اور کہا اسٹیبلشمنٹ نے بھیجا ہے،اسٹیبلشمنٹ نے درخواست کی کہ ملک کی خاطر جلسہ ملتوی کریں،اعظم سواتی نے پیغام دیا تھا،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ضمانت دی تھی کہ 8ستمبر جلسہ میں مکمل سہولت فراہم کریں گے ،اسی پیغام پر پاکستان کی خاطر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا، پیغام دیا گیا تھا ایک جانب کرکٹ میچ دوسری جانب مذہبی جماعتوں کا اسلام آباد میں احتجاج ہے ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے،گارنٹی دی گئی تھی کہ جلسے کے لیے این او سی دیا جائے گا اور سہولیات فراہم کی جائیں گی،جلسے کو روکنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور پھر کہا گیا کہ سات بجے جلسہ ختم کریں،قاضی فائز عیسیٰ کو دوبارہ مسلط کیا گیا تو ملکی تاریخ کی بھرپور سٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے،قاضی فائز عیسیٰ ملکی تاریخ کا ایک جانبدار ترین جج ہے، سپریم کورٹ ایک ہی ادارہ بچا ہے جس کی تباہی کی کوشش ہو رہی ہے،فراڈ الیکشن کو بچانا چاہتے ہیں انتخابی دھاندلیوں کے کھلنے سے ڈرے ہوئے ہیں، راولپنڈی کے کمشنر نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ملے ہوئے تھے، 9 مئی کی جوڈیشل انکوائری بھی اسی لیے نہیں ہو رہی کیونکہ قاضی ان کے ساتھ ملا ہوا ہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہقانون پاس کر کے خود کو این آر او دیا گیا جمہوریت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا،قانون پاس کر کے اربوں روپے کے کیسز معاف کروائے گئے ہیں،پاکستان قرضے لے کر نہیں بچے گا، نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دے کر منی لانڈرنگ جائز قرار دے دی گئی ہے اب ان کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا،آمدنی سرمایہ کاری سے بڑھتی ہے اور تاریخ کی سب سے کم سرمایہ کاری پاکستان میں ہوئی ہے، پاکستان میں قانون کی بالادستی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آسکتی، وہ تمام ممالک خوشحال ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہے،سنگاپور لاہور سے آدھا ہے اور وہاں 140 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، پاکستان میں قانون کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں تمام اداروں کو ایک جماعت ختم کرنے پر لگا دیا گیا ہے، ملک بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے بچے گا،بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کریں تو قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی، بیرون ملک مقیم پاکستانی اس وقت سرمایہ کاری کریں گے جب ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی،پاکستان وہ ملک ہے جہاں ہر چیز میں سرمایہ کاری ہو سکتی ہے،بیرون ملک مقیم 17 ہزار پاکستانی فزیشنز کی اثاثوں کی مالیت 200 ارب ڈالر ہے، اگر میں نے مقدمات سے ریلیف لینا ہوتا تو ملک سے بھاگ جاتا،مجھے یہی کہا گیا تھا کہ3 سال خاموش رہو مقدمات ختم ہو جائیں گے،نیب ترامیم بحالی اب قانون بن چکا ہے یہ قانونی معاملہ ہے،

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • رؤف حسن کا ایک اور پاکستان مخالف بھارتی تجزیہ کار  کے ساتھ رابطوں کا انکشاف

    رؤف حسن کا ایک اور پاکستان مخالف بھارتی تجزیہ کار کے ساتھ رابطوں کا انکشاف

    تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کی بھارتی راہول رائے چودھری کیساتھ پاکستان مخالف گفتگو منظر عام پرآگئی جبکہ بانی پی ٹی آئی کے ریاست مخالف بیانیے کو پھیلانے میں ایک اور بھارتی سہولت کاری بے نقاب ہو گئی۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کا امریکی صحافی رائن گرِم، بھارتی صحافی کرن تھاپر، مائیکل کوگل مین کے بعد اب پاکستان مخالف اور را سپانسرڈ بھارتی تجزیہ نگار راہول رائے چودھری کے ساتھ بھی واٹس ایپ کے ذریعے رابطوں کے ہوش ربا انکشافات منظرِ عام پر آگئے۔واٹس ایپ پیغامات سے واضح دکھائی دیتا ہے کہ روف حسن، غیر ملکی اور بھارتی لابی بانی پی ٹی آئی کے ریاست مخالف ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پوری طرح متحرک ہیں،بھارتی را اسپانسرڈ تجزیہ نگار راہول رائے چودھری نے روف حسن سے کشمیر کے حوالے سے ایک مضمون کی تصدیق کے لیے رابطہ قائم کیا۔جواب میں رؤف حسن نے فوج کی اعلیٰ قیادت پر الزام دھرتے ہوئے بھارتی تجزیہ نگار سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جزوی طور پر درست ہے، باجوہ مفاہمت کی خواہش مند تھے ہم کل اس پر تفصیل سے بات کر سکتے ہیں اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہوگا” ۔راہول رائے چودھری نے جواب دیا کہ ”منگل کو پھر 3.30 تک ملتے ہیں کل میری ایک اور میٹنگ ہے جو 11.30 بجے شروع ہوگی” ۔

    بھارتی راہول رائے چودھری کے ایک اور پیغام سے واضح نظر آرہا ہے کہ وہ رؤف حسن سے پاک فوج مخالف معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔راہول رائے چودھری رؤف حسن سے کہتا ہے کہ ”ہیلو رؤف مجھے آپ کے بارے میں فکر ہورہی ہے، براہ کرم اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور امید ہے کہ آپ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا“،”ایسا لگتا ہے کہ فوج ممکنہ طور پراس موقع کو زیادہ موثر کنٹرول حاصل کرنے کے طور پر استعمال کر رہی ہے“۔راہول رائے چودھری اپنی چال میں کامیاب رہا اور جواب میں رؤف حسن نے کھل کر پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ”شکریہ راہول میں کم از کم اس وقت ٹھیک ہوں لیکن ملک تیزی سے افراتفری اور تباہی کی طرف جا رہا ہے““لوگ پولیس کے بجائے اب فوج کے سامنا کھڑے ہیں کیونکہ احتجاج بلاروک ٹوک جاری ہے“۔

    پیغام میں روف حسن نے اپنے اگلے لائحہ عمل کا واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ”میں لندن کے دورے کا منصوبہ بنا رہا ہوں، اگر ایئرپورٹ پر نہ روکا گیا۔ میں آپ کو اپ ڈیٹ کرتا رہوں گا“۔رؤف حسن ایک اور طویل پیغام میں راہول رائے چودھری کو پاکستان کی منفی منظر کشی کرتے ہوئے جبر اور ظلم سے چلائے جانے والا ملک قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ”ہیلو راہول مجھے امید ہے کہ آپ اور فیملی سب خیریت سے ہوں گے۔ میں بھی حالات میں بہت کم بہتری کے ساتھ ان پریشان کن ہفتوں اور مہینوں میں زندہ رہنے میں کامیاب ہو گیا ہوں ”۔رؤف حسن نے کہا کہ ”جبر اور فسطائیت کی قوتیں عروج پر ہیں۔ میرا سفر کا منصوبہ ابھی بھی ہے لیکن میں صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا انتظار کر رہا ہوں جس کی 10 الگ الگ مواقع پر مجھے عدالتی اجازت ناموں کے باوجود ابھی تک اجازت نہیں دی گئی”۔

    ان واٹس ایپ پیغامات سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ رؤف حسن نے حیران کن طور پر راہول رائے چودھری کے کہنے پر اپنا پاسپورٹ بھی اس کے ساتھ شیئر کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رؤف حسن کا بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعلق ہے جو اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کیلئے سپانسرکرتی ہیں۔رؤف حسن کی جانب سے پاسپورٹ شیئر کئے جانے کے بعد راہول رائے چودھری کہتا ہے کہ ”بہت خوب، شکریہ، ہم آپ کے ویزے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، راہول رائے چودھری نے رؤف حسن کو فضائی ٹکٹوں کی بھی تفصیلات شیئر کیں“۔جس کے جواب میں رؤف حسن اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”بہت مہربانی، آپ کی دعوت کا مشکور ہوں“۔

    یہاں یہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ کیسے بھارتی خفیہ ادارے اور ہندوستانی میڈیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سہولت کاری فراہم کررہے ہیں۔

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عمران خان کے ریاست مخالف بیانیے کو پھیلانے میں بھارتی سہولت کاری بے نقاب

    پی ٹی آئی سنٹرل میڈیا سے پروپیگنڈے کے ناقابلِ تردید شواہد منظر عام پر

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    دفاعی تجزیہ نگار رؤف حسن کے راہول چودھری کے ساتھ پیغامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پیغام رسانی دراصل راہول رائے چودھری سمیت دیگر بھارتی صحافیوں کی پشت پر بیٹھے ”را“کے اہلکاروں کے لیے معلومات کا خزانہ ہے.دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ترجمان نے ان پیغامات کے ذریعے ملکی حساس معلومات ایک بھارتی تجزیہ نگار کو پہنچائیں جس کے شواہد ان واٹس ایپ پیغامات سے ظاہر ہیں۔یہ واٹس ایپ پیغامات اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے رؤف حسن نے بھارتی تجزیہ نگار راہول رائے چودھری کو آمادہ کیا کہ وہ پاک افواج کے خلاف منفی تاثرات پر مبنی بیانیے کی تشہیر کرے۔دفاعی ماہرین کے مطابق حساس معلومات کو پہنچانے کا مقصد ریاست مخالف بیانیے کو بھارتی میڈیا میں پروپگینڈے کے طور پر استعمال کرنا تھا،راہول رائے پاکستان مخالف جانا پہچانا نام ہے جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پے رول پر ہے اور کور کے طور پر ایک تھنک ٹینک آئی آئی ایس ایس سے منسلک ہے،یہ پیغامات نہ صرف ریاست کو بدنام کرنے کی سازش تھی بلکہ انقلاب کے نام پر بھارتی میڈیا میں پروپگینڈا کرنا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہناہے کہ ان ثبوتوں کے پیش نظر رؤف حسن اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف مکمل اور کڑی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ رؤف حسن کی جانب سے راہول رائے چودھری کے ساتھ اس ڈیجیٹل گفتگو کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ باتیں واضح طور پر غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کے معاملات میں اکسانے کے شواہد ہیں۔