Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    نیب ترامیم،سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لیں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ثابت نہیں کر سکے کہ نیب ترامیم غیر آئینی ہیں، سپریم کورٹ نے نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 3 ماہ بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم بحال کر دیں، فیصلے میں کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ثابت نہیں کر سکا کہ نیب ترامیم آئین سے متصادم تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی،جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا،جسٹس حسن اظہر رضوی نے بھی اضافی نوٹ تحریر کیا ،زوہیر احمد اور زاہد عمران نے متاثرہ فریق کے طور پر انٹراکورٹ اپیلیں دائر کی تھیں

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف فیصلہ متفقہ ہے،سپریم کورٹ پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپرکا کردارادا نہیں کرسکتی،چیف جسٹس اورججز پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپر نہیں ہوسکتے،تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا،

    پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں نیب ترامیم منظور کی گئی تھیں، نیب قوانین کے سیکشن 2، 4، 5، 6، 14، 15، 21، 23، 25 اور 26 میں ترامیم کی گئی تھیں،نیب ترامیم کے خلاف عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 5 ستمبر 2023ء کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ نے 15ستمبر 2023ء کو عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کالعدم قرار دیں،سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کی 10 میں سے 9 ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کیس میں دائر اپیلوں پر ذاتی حیثیت میں دلائل دینے کی درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ نے 10 مئی 2024ء کو انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا،لارجر بینچ نے بانیٔ پی ٹی آئی کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کی اجازت دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 6 جون 2024ء کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    نیب ترامیم کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا، نیب ترامیم کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ قرار دیا گیا تھا، نیب ترامیم کے تحت نیب 50 کروڑ سے کم مالیت کے معاملات کی تحقیقات نہیں کر سکتا، ترمیم کے تحت نیب دھوکا دہی کے مقدمے کی تحقیقات تب ہی کر سکتا ہے جب متاثرین 100 سے زیادہ ہوں،نیب ترامیم کے تحت ملزم کا زیادہ سے زیادہ 14 دن کا ریمانڈ لے سکتا ہے جسے بعد میں 30 دن تک بڑھا گیا، ترامیم کے تحت نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکتا تھا،ترامیم کے تحت ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو نیب کے دائرہ کار سے نکال دیا گیا تھا، افراد یا لین دین سے متعلق زیرِ التواء تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز متعلقہ اداروں اور عدالتوں کو منتقل ہوئیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،سپریم کورٹ
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا،تحریری فیصلہ 16 صفحات پر جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی تحریری فیصلہ میں شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے فیصلہ سے اتفاق کرتا ہوں،حکومتی اپیلیں پریکٹس پروسیجر قانون کےتحت قابل سماعت نہیں،حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں،متاثرہ فریقین کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی جاتیں ہیں،نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قراردیا جاتاہے،ججز اور آرمی فورسز کے ارکان کو نیب قانون سے استثنی حاصل نہیں،اضافی نوٹ کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،جسٹس اطہر من اللہ

    فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے تحریری کیا ہے،فیصلہ میں کہا گیا کہ نیب قانون سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے زبردستی اقتدار میں آنے کے 34 دن بعد بنایا،پرویز مشرف نے آئینی جمہوری آرڈر کو باہر پھینکا اور اپنے لئے قانون سازی کی،پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز کو ہٹایا جنہوں نے غیر آئینی اقدام کی توسیع نہیں کی، آئین میں عدلیہ اور مقننہ کا کردار واضح ہے، عدلیہ اور مقننہ کو ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت پر نہایت احتیاط کرنی چاہیے،آئین میں دئیے گئے فرائض کی انجام دہی کے دوران بہتر ہے کہ ادارے عوام کی خدمت کریں، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ ججز پارلیمنٹ کے گیٹ کیپرز نہیں،مشرف دور میں بنائے گئے قانون کے دیباچہ میں لکھا گیا کہ نیب قانون کا مقصد کرپشن کا سدباب ہے جن سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں نے پرویز مشرف کو جوائن کیا انہیں بری کردیا گیا،نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،

  • جلسہ کریں،دھرنا نہیں، پی ٹی آئی کو ملی اجازت

    جلسہ کریں،دھرنا نہیں، پی ٹی آئی کو ملی اجازت

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی جانب سے پی ٹی آئی کو 8 ستمبر جلسے کے لیے این او سی جاری کر دیا گیا

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن میں 41 مختلف شرائط بھی عائد کی گئی،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ روٹ پلان بھی جاری کر دیا گیا،خیبرپختونخواہ، پنجاب سے بذریعہ موٹر وے آنے والوں کے الگ نقشہ جاری کیا گیا ہے،پنجاب سے بذریعہ جی ٹی روڑ آنے والے کارکنان کے لیے الگ روٹ جاری کیا گیا ہے،اسلام آباد، راولپنڈی، مری کے لیے بھی الگ الگ روٹ پلان جاری کیا گیا ہے، اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ دوران جلسہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا،جلسے کا آغاز 4 بجے جبکہ اختتام شام 7 بجے تک ہوگا، جلسے کی اجازت ہوگی تاکہ کسی قسم کے دھرنے کی اجازت نہ ہوگی،اجازت صرف 8 ستمبر کے لیے ہے منتظمین اسی رات کارکنان کی واپسی یقینی بنائیں گےآرگنائزر جلسے کی انٹرنل سیکورٹی کے ذمہ دار ہونگے،ریاست مخالف یا مذہبی منافرت پر مبنی تقاریر یا نعروں کی اجازت نہ ہوگی،

    کارساز حادثہ،ملزمہ نتاشا نشے میں تھی، میڈیکل رپورٹ میں تصدیق

    نتاشا کے شوہر دانش اقبال نے گرفتاری کے ڈر سے حفاظتی ضمانت کروا لی

    کارساز حادثہ،ملزمہ "پاگل” نہیں بالکل تندرست ہے، ڈاکٹرکی تصدیق

    کارساز حادثہ،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،جیل بھجوا دیا گیا

    کارساز حادثہ،پولیس کی سنگین غفلت، ملزمہ کو بچانے کی کوشش

    کارساز حادثہ،ملزمہ کی ضمانت مسترد،جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں ،بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے تھے،وفاقی حکومت نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے،رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • جیل کی چکی میں مر جاؤںگا مگر وقت کے یزید کی غلامی قبول نہیں کروں گا، عمران خان

    جیل کی چکی میں مر جاؤںگا مگر وقت کے یزید کی غلامی قبول نہیں کروں گا، عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نےا ڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہا ہے کہ فیصلہ سازوں کے پاس کوئی عقل نہیں، اس سے احمقانہ فیصلے نہیں دیکھے، فیصلہ کرنے والوں کے پاس نہ عقل ہے، اور نہ ان کے پاس اخلاقیات ہیں ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے ساتھ ڈیزاسٹر ہوا، محسن نقوی کا نام اخبارات میں نہیں چھپا، دنیا میں ہمارا مذاق ہو رہا ہے،بنگلہ دیش نے ہمیں پھینٹا لگا دیا ہے،اس سے نیچے ہماری کرکٹ نہیں گرسکتی،اکتوبر 21 میں ہم نے بھارت کو 10 وکٹوں سے ہرایا، محسن نقوی کے پاس کوئی تجربہ نہیں، اس کے پاس کوئی قابلیت نہیں ہے،اس مرتبہ بھی ملک میں تاریخ کی سب سے کم سرمایہ کاری آئی،حکمران قرض پر قرض لیے جا رہے ہیں۔جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے والا ہے، آج بتا رہا ہوں مُلک انقلاب کی جانب جا رہا ہے، انہیں 8 فروری کے خاموش انقلاب سے جاگ جانا چاہیے تھا، اُوپر بیٹھ کر فیصلہ کرنے والوں کے اربوں ڈالر بیرون ممالک میں ہیں، اب یہ سپریم کورٹ کا بیڑہ غرق کرنے لگے ہیں،تاکہ الیکشن فراڈ سامنے نہ آجائے، دبئی میں تاریخی سرمایہ کاری پاکستانیوں نے گزشتہ اڑھائی سال کے دوران کی ہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یاسمین راشد 75 سال کی عورت اور کینسر سروائیور ہے اسے جیل میں رکھا ہوا ہے، مجھے سبق سکھانے کیلئے 7 ماہ سے بشریٰ بی بی کو جیل میں رکھا ہوا ہے، مجھے بتایا جا رہا ہے کہ طاقتور کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات کیسے کی ؟ یہ مجھے بتا رہے ہیں کہ سائفر کے سامنے کیوں کھڑے ہوئے؟8ستمبر کو قوم اپنی آزادی کیلئے باہر نکلے، یہ آپ کو غلام بنا رہے ہیں، اب ججز کو دھمکیاں دے رہے ہیں سرگودھا کے جج کو اُٹھا کر لے گئے، کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا جو آج کیا جا رہا ہے، بلوچستان میں کرائسز بڑھتا جا رہا ہے، اگر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی نہ ہوتی تو وہاں بھی اتنا ہی کرائسز ہوتا، اس کا حل ڈنڈے اور بندوقوں میں نہیں ہے، حل یہ ہے کہ ان کے منتخب لوگوں کو آگے آنے دیں،بلوچستان میں پُتلے بٹھانے سے مسائل بڑھ گئے ہیں، حالات ہاتھ سے نکل رہے ہیں، اختر مینگل بالکل درست کہہ رہا ہے یہ بہت خطرناک ہو رہا ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے ایسٹ پاکستان بنا میں اُس وقت ڈھاکہ میں انڈر 19 کرکٹ کھیل رہا تھا، بلوچستان کا حل یہ ہے کہ وہاں پر لوکل باڈی الیکشن کرائیں، اُوپر والوں کا پیسہ نیچے ہی نہیں جاتا وہاں غربت ہے، ملک بھر میں جینون لوکل باڈی الیکشن کی ضرورت ہے، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو جو رقم ملتی ہےوہ نیچے پہنچتی ہی نہیں،انشاءاللہ جب بھی ہماری حکومت آئے گی سب سے پہلے لوکل باڈیز الیکشن کرائیں گے جس کا پلان بنا رکھا ہے ،اس وقت ملک میں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کہتے تھے کہ ٹی ٹی پی ہماری وجہ سے ہے، تو پھر بی ایل اے بلوچستان میں کس کی وجہ سے ہے؟ دہشتگردی پر اب یہ کراس بارڈر ٹیررزم کا کہہ رہے ہیں، آپ نے وہاں جا کر دہشتگردوں،ٹی ٹی پی پر حملے بھی کیے ہیں، یہ سارے بہانے ہیں، دہشت گردی ختم کرنے کے لیے 3 ڈائیمنشنز ہوتی ہیں انٹیلیجنس، ڈائیلاگ اور پھر آپریشن، آپ 2004 سے دہشتگردی ختم کرنے کیلئے آپریشن کر رہے ہیں، اب تک کتنا فرق پڑا ہے ؟خفیہ اداروں کو ملک کی بڑی جماعت پی ٹی آئی ختم کرنے پر لگا دیا گیا، خفیہ اداروں کا کام دہشتگردی ختم کرنا ہے، جیل کی چکی میں مر جاؤں گا مگر وقت کے یزید کی غلامی قبول نہیں کروں گا،

    بشریٰ بی بی کی بریت کا فیصلہ ریفرنس کے حتمی فیصلے تک محفوظ
    دوسری جانب عدالت نے بشریٰ بی بی کی بریت کا فیصلہ ریفرنس کے حتمی فیصلے تک محفوظ کرلیا، ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور امجد پرویز ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی بریت کا فیصلہ ریفرنس کے حتمی فیصلے تک محفوظ کرلیا، عدالت نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بشریٰ بی بی کی بریت کا فیصلہ ریفرنس کے حتمی فیصلے کے دن سنایا جائے گا، 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے آخری گواہ تفتیشی افسر میاں عمر ندیم پر وکلاء صفائی کی جرح جاری ہے،7ستمبر کو وکلاء صفائی میاں عمر ندیم پر مزید جرح کرینگے۔

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

  • ایوان میں وزرا  کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، پیپلز پارٹی کی رکن سحرکامران نے ایوان میں وزرا کی غیر حاضری کا معاملہ اٹھا دیا

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ہاؤس کی طرف کروانا چاہتی ہیں،جس کی وجہ سے یہاں وزرا موجود نہیں ہوتے، سوالوں کے جواب نہیں ملتے یا غلط ملتے ہیں، ایوان میں وزراء کی مسلسل غیر حاضری اور ممبران کے اُٹھائے گئے سوالات پر وقت پر جواب نہ ملنے سے یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت قومی اسمبلی کی کاروائی میں دلچسپی نہیں رکھتی، وزرا جواب نہیں پڑھتے یا ان کی توجہ نہیں ہوتی،میں دو تین اس طرح کے سوال رکھتی ہوں اس طرح کے، میں نے سوال کیا تھا کہ سعودی عرب سے سو نرسیں جعلسازی کی وجہ سے واپس آئیں ،چھ مئی کو وزیراعظم کے پاس رپورٹ دی گئی،اس پر کیا ایکشن ہوا، اسکا جواب مجھے دیا گیا کہ ہم ٹریننگ کو بہتر کر رہے ہیں لوگوں کی، پھر سوال کیا کہ پاسپورٹ امیگریشن کے متعلق،کہ بیرون ملک میں ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملی،جس کا جواب دیا گیا کہ فنڈز کی کمی ہے 117 نئی آسامیاں بنائی گئی ہیں، اس میں پورا تضا د نظر آتا ہے، ،وزارتوں کی جانب سے صحیح جواب نہیں دیئے جا رہے،اسی طرح سوئی سدرن کے حوالہ سے بھی جواب صحیح نہیں دیا گیا ایک ادارہ تباہی کے دہانے پر ہے لیکن ادھر ایکسٹیشن دی جا رہی ہے، آج میرا سوال تھا جس افسر نے جواب دیا اسکے خلاف ایکشن لینا چاہئے،منسٹری آف کامرس ٹیکسٹائل کا جواب میں لکھا گیا حالانکہ ایسی کوئی منسٹری ہی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ انٹرسٹ ریٹ کم کرنے کی حکومت کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ حکومت نہیں سٹیٹ بینک کی ایک کمیٹی کرتی ہے، اس طرح کے غیر سنجیدہ جواب دینا ہاؤس کی توہین ہے، یہ بہت اہم معاملہ ہے

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

     

  • ریپ مقدمات میں کتنے درندوں کو سزا ملی؟ ایمل ولی

    ریپ مقدمات میں کتنے درندوں کو سزا ملی؟ ایمل ولی

    سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر ایمل ولی نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کیسز میں پیسے کا استعمال ہوتا ہے اور کیس رفع دفع ہو جاتا ہے۔

    ایمل ولی خان نے گوجرانوالہ میں سکول میں طالبات کے ساتھ ہونے والے زیادتی کےو اقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اسکول میں جنسی زیادتی کا کیس سامنے آیا، ٹیچر کا شوہر اسکول کی کنٹین چلا رہا ہے، چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے، جو ایسا کرتے ہیں وہ درندے ہیں ریپ کیسز میں کتنی سزا ملی، ریپ کیسز میں فریق ریاست بنے، ان درندوں کو ایسی سزا دیں کہ باقی وحشیوں کو خوف آئے۔

    واضح رہے کہ گوجرانوالہ کے سرکاری سکول میں طالبات کے ساتھ جنسی سیکنڈل سامنے آیا ہے، طالبات کے ساتھ زیادتی کی گئی، ویڈیوز بنائی گئیں بلیک میل کیا گیا پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے خاتون سکول ٹیچر کے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے،پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے طالبات کے ساتھ زیادتی کی ویڈیو بھی بنا رکھی تھیں ، ویڈیوز کی وجہ سے طالبات ڈر کے مارے خاموش رہیں، ملزم کئی برسوں سے سکول میں طالبات کی عزتوں کے ساتھ کھیل رہا تھا،

    بھارت کا سب سے بڑا سیکس سیکنڈل،مودی کے اتحادی نے کی 400 خواتین سے زیادتی

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کوئٹہ نازیبا ویڈیو سیکنڈل،عدالت نے دو ملزمان کو بری کر دیا

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • ،فیض حمید کا اوپن کورٹ ٹرائل کریں،علیمہ خان کا مطالبہ

    ،فیض حمید کا اوپن کورٹ ٹرائل کریں،علیمہ خان کا مطالبہ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    القاد رکیس میں جج صاحب بھاگ رہے ہیں ضمانت کو سن نہیں رہے ہیں،

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سنگجانی میں جلسہ ہو گا، عمران خان نے کہا ہے کہ 8 فروری کو خواتین کا اہم کردار تھا، چونکہ خواتین کو اپنے بچوں کا مستقبل نظر آرہا ہوتا ہے، نومئی کو خواتین کے ساتھ ظلم ہوا ، عالیہ حمزہ پر بہت ظلم ہوا ان کو متعدد جیلوں میں گھمایا گیا، اب بھی عالیہ حمزہ کو دھمکیاں مل رہی ہیں،8 فروری کی سونامی 8 ستمبر تک پہنچ گئی ہے ، 8 فروری مائیں نکلی تھیں 8 ستمبر کو بھی نکلیں گی،حکمرانوں کے لائف اسٹائل کی قیمت ہم سب کو بھگتنا ہو گی، ملک کے حالات مزیدخراب ہونے جارہے ہیں،فیض حمید کا اوپن کورٹ ٹرائل کریں تاکہ ہم بھی دیکھیں ہمارے بھائی پر اور کون سا مقدمہ بنانا ہے،8 ستمبر کو کوئی بہانہ نہیں چلے گا بس سب نے ہر حال میں جلسہ گاہ پہنچنا ہے.

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

  • سینیٹ اجلاس،چیئرمین پی سی بی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    سینیٹ اجلاس،چیئرمین پی سی بی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ اجلاس کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا

    سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی آج ہی استعفیٰ دیں، ہمارے ملک میں صرف کرکٹ ایک کھیل رہ گیا تھا، بنگلا دیش سے کرکٹ میں شکست نہیں تباہی ہوئی ہے، کرکٹ تباہ ہو رہی ہے،کرکٹ تباہی کی کیا وجہ ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ میں محسن نقوی اس کے چیئرمین ہیں، مصطفیٰ رمدے او دیگر افراد ممبران ہیں،ممبران پی سی بی اور چیئرمین پی سی بی میں کرکٹ کا کس کو پتہ ہے، پی ٹی آئی اور قوم کی آواز ہے، حکومت بھی چاہتی ہے کہ محسن نقوی جائے،کیوں کہ یہ حکومت کا بندہ نہیں ہےمحسن نقوی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ استعفی دے کر گھر چلے جائیں،

    علی ظفر کے اظہار خیال کے بعد مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کرکٹ تنزلی کے مسئلے پر سیر حاصل گفتگو کی ضرورت ہے، کرکٹ کے معاملے پر کوئی تحریک لائیں اور اس پر بات کریں۔

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

  • سینیٹ اجلاس،4بل منظور ،اپوزیشن کا احتجاج

    سینیٹ اجلاس،4بل منظور ،اپوزیشن کا احتجاج

    اسلام آباد (محمداویس)سینیٹ نے 4بل منظور کرلیے جبکہ ایک بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا،ایوان میں 5 بلز پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئیں،جبکہ 14 بل اور تحریک پر کمیٹیوں کی رپورٹ میں 60دن کی توسیع کردی گئی، پاس ہونے والے بلوں میں اپاسٹل بل 2024،نجکاری کمشین ترمیمی بل قیام ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل بل اورپرامن اجتماع وامن عامہ بل 2024 ہوئے ہیں جبکہ ایک بل بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 کو قائمہ کمیٹی خزانہ کو بھیج دیا گیا ۔

    ایوان میں سینیٹر شہادت اعوان اور سیف اللہ ابڑو کی کمیٹی میں ہونے والے معاملے پر ایوان میں شدید بحث ہوئی ایوان کی کاروائی ملتوی کرنی پڑی اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو دونوں سینیٹر کی ایوان میں صلح کرائی گئی اور دونوں سینیٹرز گلے ملے ۔ایوان میں تین بلوں کی منظوری کے لیے زیرقاعدہ 263تحریک کے مزکورہ قواعد ہ120کے نوٹس کی مدت سے متعلق مقتضیات کو صرف نظر کیا جائے کی تحریک نہ ایوان میں پیش کی گئی اور نہ ہی منظور کی گئی اور تین بل ممظور کرلیئے گئے ۔ سینیٹ کا اجلاس پرائزائڈنگ آفسر سینیٹر عرفان صدیقی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس مقررہ وقت سے 8منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔سینیٹر مسرور نے کہاکہ ایوان کے ایک سینیٹر کی دوسرے سینیٹر نے توہین کی ہے اخبار میں خبریں بھی لگی ہیں اس کی میں مذمت کرتا ہوں۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ ہم یہاں کسی ممبر کی مذمت نہیں کرتے ایسا ہوگا تو یہ سلسلہ یہاں نہیں رکے گا میں نے آپ کا نکتہ نوٹ کیا ہے پراپر فورم پر اس معاملہ کو دیکھیں گے۔کمیٹی میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور شہادت اعوان کے درمیان واقع افسوس ناک ہے سخت الفاظ بھی نرم الفاظ کے ساتھ بیان کئے جاسکتے ہیں۔ کمیٹی کے واقع کی بات یہاں کریں گے تو معاملہ دوبارہ تازہ ہوجائے گا ۔وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں اس طرح کے لفظ استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہیں ان معاملات پر مٹی نہیں ڈالنی چاہیے اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں کسی شخص کو یہ یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کی دل آزاری کرے اس سلسلہ کو روکنا ہوگا،ثمینہ ممتاز نے کہاکہ شہادت اعوان کی بے عزتی ہوئی ہے ،قائدحزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اس بحث کو ختم ہونا چاہیے کمیٹی بننی چاہیے مگر اس کے ارکان کون ہوں گے اس کو بھی طے کرنا ہوگا ۔ وزیرقانون اعظم نزیر تارڑ نے کہاکہ ہمیں رولز کے مطابق چلنا چاہیے ۔ قومی اسمبلی میں ایسا معاملہ ہوا تو سپیکر نے سخت ایکشن لیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ وزیرقانون کی خواہش ہے کہ مجھے ایوان سے نکالا جائے میں ویسے ہی چلا جاتا ہوں،سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ میرے خلاف بکوس کی گئی،سیف اللہ ابڑو نے مجھے کرسی مارنے کی دھمکی دی گئی اس شخص نے مجھے ٹائوٹ کہا گیا پوری دنیا اسے جانتی ہے یہ ٹاؤٹ ہے مجھے کرسی مارنے کی دھمکی دی ایک شخص جسے اپنے کردار کا پتہ ہے، یہ بدبودار شخص ہے یہ بدتمیز انسان ہے یہ جیک آباد لاڑکانہ میں بچے ڈھونڈتا ہے ۔میں اس کو بھائی بھائی کرتا تھا، یہ مجھے دھمکیاں دیتا ہے، آپ نے ہی مجھے کہا تھا کہ کھڑے ہو کر چپ کرواؤ،یہ میرے ساتھ ہوا ہے اس لیے کمیٹی بنائی جارہی ہے ۔میرے ساتھ ذیادتی کی گئی ہے ۔

    شہادت اعوان کی تقریر کے دوران غیر مہذب الفاظ کے استعمال کے بعد ایوان کا ماحول خراب ہوگیا اور تمام ارکان شہادت اعوان اور سیف اللہ ابڑو کے پاس چلے گئے اور ان کو روکتے رہے اس بدمزگی کے درمیان پرائزائڈنگ افسر نے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ،پرائزائڈنگ آفسر نے ایوان 15 منٹ کے لیے موخر کردیا گیا ۔اجلاس ملتوی ہونے ہے بعد تمام ارکان ایوان سے چلے گئے ۔

    سینیٹر شہادت اعوان اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو میں صلح کرا دی گئی
    وقفہ کے بعد چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کی زیرصدارت دوبارہ اجلاس 11بج کر 40 منٹ پر شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ کی مصالحت پر ایوان کے اندر شہادت اعوان اور سیف اللہ ابڑو کو گلے ملوادیا گیا،ایوان میں ڈیسک بجائے گئے

    حکومت کو چیلنج ہے اسلام آباد لاہور میں جلسہ کرکے دکھائے ان کے جلسے میں لوگ آئیں گے تو ان کو ٹماٹر ماریںگے ۔شبلی فراز
    سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بل کے حوالے سےبار بار توسیع ہو رہی ہے اس کو روکنا چاہیے ، چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ ایکسٹنشن لینا اچھی یریکٹس نہیں ہے ،وزیرقانون نے کہا کہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے توسیع ہوتی ہے ۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پرامن اجتماع وامن عامہ بل 2024ایوان میں پیش کیا .سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ پی ٹی آئی کا جلسہ ہونے والا ہے اسلیے یہ بل لایاگیاہے تاکہ اس کو روکا جائے. ان کو کیوں جلدی ہے ۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ اس بل کا جلسہ سے کوئی تعلق نہیں ہے پورا شہر پنجرہ بن گیا ہے ۔ ہم جلسوں کو ریگولیٹ کررہے ہیں ۔ ہم عوام کو سہولت دینا چاہتے ہیں ۔ وزیرقانون نے کہاکہ یہ ایوان سپریم ہے رولز ایوان نے بنائے ہیں علی ظفر کی بات ٹھیک ہے ، پورے شہر کو بند کیا گیا ہے جلسے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ برقرار ہے .سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ یہ قانون نہیں بدنیتی ہے اکثریت کو مس یوز کیا جا رہا ہے ہے ۔ تحریک انصاف نے پر امن جلسے کئے ہیں ہم نے شہر کومحصور نہیں کیا ۔ تحریک انصاف کا جلسہ نہیں ہے تو شہر کو کیوں بند کیا گیا ہے ۔ وزیر قانون کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے. جب ہم جیسے کی تیاری مکمل کرلیتے ہیں تو جلسہ کی اجازت منسوخ کردی جاتی ہے ۔حکومت کو چیلنج ہے اسلام آباد لاہور میں جلسہ کرکے دکھائے ان کے جلسے میں لوگ آئیں گے تو ان کو ٹماٹر ماریںگے ۔ وزیر قانون کی قابلیت یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے بل پرائیویٹ ممبر سے ایوان میں پیش کیا جو کہ ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔یہ بل صرف حکومت لاسکتی ہے پرائیویٹ ممبر یہ بل ایوان میں نہیں لاسکتا ہے ۔قومی اسمبلی میں اس وجہ سے بل پیش نہیں ہوسکا اس پر ایوان سے معافی مانگی جائے ۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ 2008میں منی بل کے ذریعے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جس کو سپریم کورٹ نے ختم کردیا ۔ وہ بل جس سے حکومتی اخراجات آئیں گے وہ تو پھر اپوزیشن بل پیش ہی نہیں کرسکے گی۔سینیٹ نے پرامن اجتماع وامن عامہ بل 2024 کثرت رائے سے منظور کرلیا ۔تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام نے بل کی مخالفت کی جبکہ حکومت اے این پی اورباپ پارٹی نے بل کی حمایت کی ۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپاسٹل بل 2024ایوان میں پیش کیا ۔ اپاسٹل بل 2024 سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 ایوان میں پیش کیا۔پیپلزپارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین نے بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا کہ زراعت صوبائی معاملہ ہے ۔وزیر قانون نے کہا کہ بل پاس نہ کیا گیا تو لیپس ہوجائے گا ۔وزیر قانون ایوان میں بیٹھ کر فون سنتے رہے ۔چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا ۔وزیر نجکاری کمیشن عبدالعلیم خان نے نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا ۔ایوان نے نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2024 متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر آئی ٹی شیزہ فاطمہ کی طرف سے قیام ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل بل 2024 ایوان میں پیش کیا ،سینیٹ نے قیام ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل بل 2024 منظور کرلیا ۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آڈٹ مالی سال 2022-23 کی رپورٹ ایوان میں پیش کردیں۔

    قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالاء سے بھی نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2024 منظور
    بل کے متن کے مطابق نجکاری کمیشن بل 2024 کے تحت ایکٹ نجکاری کمیشن 2024 کے نام سے موسوم ہوگابل کے تحت نجکاری اپیلٹ ٹریبونل قائم کیا جائے گا،اپیلٹ ٹریبونل کو عدالتی اختیارات حاصل ہوں گے،ٹریبونل کے چیئرمین اور اراکین کی مدت ملازمت تین سال ہوگی، ٹربیونل کے ارکان کی عمر 65 سال سے زائد نہیں ہوگی،عدالت عظمیٰ کا ریٹائرڈ جج ٹریبونل کا چیئرمین ہوگا،ایک چیئرمین، ایک تکنیکی رکن اور ایک عدالتی رکن پر مشتمل ٹریبونل ہوگا،وفاقی حکومت ٹریبونل کے چیئرمین یا رکن کو نوٹس پر برطرف کرسکے گی،ٹریبونل کے قیام کا مقصد منصفانہ اور شفاف طریقے سے نجکاری کا عمل مکمل کرنا ہے،ٹریبونل کو تمام معاملات پر فیصلے دینے کا خصوصی اختیار حاصل ہوگا،ٹریبونل کو دیوانی عدالت کا اختیار بھی حاصل ہوگا،ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف 60 دن کے اندر صرف سپریم کورٹ میں اپیل ہوسکے گی،ایکٹ میں ترمیم سے نجکاری کے بروقت حل کو یقینی بنایا جاسکے گا.

    برما میں 3 پاکستانیوں کے غیر قانونی محصور ہونے پر توجہ دلاؤ نوٹس
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے برما میں 3 پاکستانیوں کے کمپنی کی جانب سے غیر قانونی محصور کرنے پر توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کیا گیا،سینیٹر اشرف علی جتوئی نے سینیٹ میں ایوان سے خطاب کے دوران کہا کہ یہ افراد 8 ماہ سے تعمیراتی کمپنی کی غیر قانونی حراست میں ہیں،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ 3 نوجوان تھائی لینڈ ویزے پر گئے تھے، وہاں سے بچے ایک کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ کر کے برما گئے، ان بچوں کی رہائی کے لیے برما حکومت سے رابطہ ہے، 3 پاکستانیوں کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، ہارڈ علاقہ ہے جہاں یہ بچے ہیں، پہلے بھی کچھ بچے ٹریپ ہوئے تھے، انہیں واپس لے آئے

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

    ارشد ندیم کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں تقریب

  • پشاورہائیکورٹ،وزیراعلیٰ  خیبرپختونخوا کی راہداری ضمانت کی  درخواست  منظور

    پشاورہائیکورٹ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی راہداری ضمانت کی درخواست منظور

    ‏سیشن عدالت ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج قدرت اللہ نے کی، علی امین گنڈاپور کے وکیل ظہور الحسن ایڈوکیٹ عدالت پیش شریک ہوئے، وکیل نے کہا کہ ملزمان مقدمے سے بری ہو چکے ہیں الزام ہے کہ گاڑی سے اتر کر بھاگ گیا۔وارنٹ گرفتاری جاری کئے گے کہا گیا کیس 2016 کا ہے۔ جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ ‏کیا آپ نے مکمل آرڈر شیٹ ریکارڈ کے ساتھ لگائی ہے ؟ وکیل نے کہا کہ سرکاری ہسپتال کا میڈیکل لگایا ہے ڈاکٹر نے ریسٹ کا کہا۔اگر ملزم پیش نہیں ہوا تو قابل ضمانت وارنٹ ہوتے، عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دئیے ، کل وارنٹ جاری ہوئے اور آج ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا کہا،لگائے گئے تمام الزامات قابل ضمانت ہیں اگر گرفتار ہو بھی جائیں تو ضمانت ہو گی،‏پہلے سمن ہوتا پھر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوتا،7 سال سے نہ پراسکیوشن آئی نہ کیس لگا،جج قدرت اللہ نے کہا کہ کیسےکہیں گےکہ آرڈر غیرقانونی ہے اس پرمطمئن کریں،ڈیڑھ گھنٹے کا وقت ہے مکمل آرڈر شیٹ لے آئیں،آپ کوشش کر لیں اگر عدالت ریکارڈ نہیں دیتی تو میں ریکارڈ طلب کر لوں گا،

    پشاورہائیکورٹ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی راہداری ضمانت کی درخواست منظور کرلی گئی،پشاورہائیکورٹ نے درخواست گزار کو متعلقہ عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا

    جلسہ ہونا ہے، رکاوٹ بنیں گے تو تماشا دیکھ لیں گے ہم کرتے کیا ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
    عدالت پیشی کے موقع پر علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں عظیم الشان جلسہ ہوگا کسی نے منع کیا تو سب لوگ دیکھ لینگے ،عدالتوں کا احترام کرتے ہیں جھوٹے کیس بنائے گئے ہیں، گورنر کا نام نہیں لینا چاہتا، پرچی پر بیٹھے شخص کے بارے میں کیا کہوں، گورنر کو شائد گورنر ہاؤس میں رات گزارنا راس نہیں آرہا،قانون کو بار بار توڑا جا رہا ہے، غیر قانونی مقدمے ہمارا راستہ نہیں روک سکتے، جلسہ ہونا ہی ہونا ہے، رکاوٹ بنیں گے تو تماشا دیکھ لیں گے ہم کرتے کیا ہیں،

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اسلحہ و شراب برآمدگی کیس میں عدالتی احکامات پر گرفتاری سے بچنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،علی امین گنڈاپور نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلحہ و شراب برآمدگی کے مقدمے میں بریت کی درخواست زیر التوا ہے، گزشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ نے خلاف قانون وارنٹ گرفتاری جاری کیے، وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حکم نامے کے خلاف نظرثانی اپیل منظور کی جائے،وزیر اعلیٰ کے پی کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    جلسہ ملتوی ہونے پر علیمہ خان اعظم سواتی پر برس پڑیں

    لگ رہا عمران خان کو اگلے ہفتے سزا سنا دی جائے گی،علیمہ خان

    عمران خان کا برطانوی دوست علیمہ خان کے ہمراہ اڈیالہ پہنچ گیا

    تفتیشی افسر نے علیمہ خان سے فون نمبر مانگ لیا

    ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ