Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • ٹویٹر کے خلاف کم شکایات  پھر بھی بند،حکومت کہے گی تو کھولیں گے،پی ٹی اے

    ٹویٹر کے خلاف کم شکایات پھر بھی بند،حکومت کہے گی تو کھولیں گے،پی ٹی اے

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سب سے زیادہ شکایات ٹاک ٹاک کے خلاف اور سب سے کم ٹویٹر کے حوالے سے آتی ہیں۔ وی پی این کی وائٹ لسٹنگ کر رہے ہیں کہ یہ وی پی این پاکستان میں چلیں گے۔ ٹیلی کام کمپنی پاکستان سے اس لیے جارہی ہے کہ وہ کہتے ہیں یہاں انڈسٹری کے لیے ماحول ٹھیک نہیں ہے ۔حکام نے بتایاکہ اسلام آباد کلب میں ممبر کی دوسری بیوی ممبر شپ فیس ادا کرنے کے بعد ممبر بن سکتی ہے ۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا چیئرمین رانا محمود الحسن کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر)حفیظ الرحمن نے کمیٹی کوبتایا کہ ہم نے تین سالوں میں 602 لائسنس جاری کئے ہیں،56.5 فیصد آبادی کے پاس موبائل انٹرنیٹ ہے،ہم نے محرم، 9 مئی اور الیکشن سمیت گزشتہ سال 4 مرتبہ موبائل سروس بند کی،چیئرمین کمیٹی نے استفسارکیا کہ ٹیلی نار ہم سے جارہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اس کا یوفون کے ساتھ انضمام کا عمل چل رہا ہے،ٹیلی نار پورے ایشیاء سے جارہا ہے، وہ کہہ رہے ہیں یہاں انڈسٹری کے لئے ماحول ٹھیک نہیں ہے چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو اشتہار آجاتے ہیں؟ اس حوالے سے کوئی پالیسی ہے؟ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ اس وقت کوئی ریگولیشن اور قانون سازی نہیں،

    ٹیلی کام سیکٹر کے ذریعے 850 ارب سالانہ ٹیکس جمع ہوتا ہے، چیئرمین پی ٹی اے
    وزیر پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ خطے میں سب سے سستا انٹرنیٹ ہمارے پاس ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ موبائل مہنگے سے سے مہنگے ہورہے ہیں، سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہاکہ سوشل میڈیا کے اشتہارات کا معاملہ ایف بی آر کی ڈومین ہے ان کے ساتھ اٹھائیں گے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایاکہ دو کروڑ موبائل سالانہ یہاں مینوفیکچر ہو رہے ہیں،پاکستان میں 37 لوکل کمپنیاں موبائل بنا رہی ہیں ‏اس وقت پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کے ذریعے 850 ارب سالانہ ٹیکس لوگوں سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس شکایت آتی ہے تو سوشل میڈیاپلیٹ فارم سے رابطہ کرتے ہیں کہ یہ پاکستان کے قوانین کے خلاف ہے۔ سب سے زیادہ کمپلائنس ٹک ٹاک کی ہےاور سب سے کم کمپلائنس ٹویٹر کی ہے ہم کسی ایک پوسٹ کے بجائے سارا فیس بک اور ٹوئٹر بلاک کرسکتے ہیں، سینیٹر عبدالقادر نے استفسار کیاکہ ایکس کھولنے کا کوئی ارادہ ہے؟ چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ حکومت ہمیں جس دن کہیں گے کھولیں ہم کھول دیں گے، یہ تو حکومت کا فیصلہ ہے، پی ٹی اے خود اس طرح کا کام نہیں کرسکتی،

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ٹویٹر پر کافی زیادہ سنجیدہ ایشوز ہیں، سینیٹر عبدالقادر نے سوال کیا کہ کیا وی پی این کنٹرول نہیں ہوتا؟ وی پی این بلاک کی جاسکتی ہے لیکن وی پی این پر سارا بزنس چلتا ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے کہاکہ وی پی این کی وائٹ لسٹنگ کر رہے ہیں کہ یہ وی پی این پاکستان میں چلیں گے باقی پاکستان میں نہیں چلیں گے ۔وی پی این کے باوجود ایکس صارفین ستر فیصد کم ہوئے ہیں

    سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ہمیں ڈی جی سول ایوی ایشن کے خلاف تحریک استحقاق لانی چاہئے، پانچ سال سے زیادہ ہوگئے، ہمارے اوپر یورپ میں پابندی ہے،3جی سے فور جی پر گئے تو سروس بہتر ہونی چاہئے، سروس میں تو کوئی بہتری نہیں آئی۔ ای ڈی فریکونسی ایلوکیشن بورڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم۔صرف فریکوئنسی دیتے ہیں یہ ریگولیٹر کا کام ہے کہ کوالٹی کنٹرول کرئے ۔ پی ٹی اے اس حوالے سے جرمانے بھی کرتی ہے ۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں اسلام آباد کلب میں دوسری بیوی کی ممبرشپ پر پابندی کا معاملہ زیر بحث
    کمیٹی کو سیکرٹری اسلام آباد کلب کی طرف سے اسلام آباد کلب کی کارکردگی سے متعلق حکام کی بریفنگ دی۔ سیکرٹری نے بتایاکہ ہمارے پاس سپورٹس کی 18 سہولیات ہیں،مولانا عطاء الرحمان نے استفسار کیا کہ اسلام آباد کلب کتنے ایکڑ پر ہے؟ سیکرٹری اسلام آباد کلب نے بتایاکہ اسلام آباد کلب 352 ایکٹر پر ہے۔ کمیٹی میں اسلام آباد کلب میں دوسری بیوی کی ممبرشپ پر پابندی کا معاملہ زیر بحث آیا سیکرٹری اسلام آباد کلب نے بتایاکہ ممبر کی پوری فیملی ہی ممبر بن جاتی ہے، دوسری بیوی کو ممبر شپ فیس ادا کرنی ہوگی ۔مولانا عطاء الرحمان نے کہاکہ بھارت میں ایک بیوی کی اجازت ہے، یہاں تو چار بیویوں کی اجازت ہے، سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہاکہ خواتین ممبرز سے بھی مشاورت کرلیں کہ دوسری بیوی کے حوالے سے رولز بدلنے چاہئیں کہ نہیں، سیکرٹری اسلام آباد کلب نے بتایا کہ ہمارے پاس 1 ہزار 15 لوگوں کی ممبرشپ پینڈنگ ہے،ہمارے ممبرز کی تعداد 9853 ہے، ممبر کو ہر ماہ 3 ہزار 900فیس لازمی ادا کرنی ہوتی ہے ۔ نئے ممبر کے لیے کلب کی ممبر شپ فیس 35لاکھ ہے پہلے سے موجود ممبر کے رشتہ داروں کے لیے 10لاکھ ممبر شپ فیس ہے ۔ کمیٹی نے اسلام آباد کلب کے کھانے کے معیار پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کھانے کے معیار کو بہتر بنانے کی ہدایت کردی ۔

    ٹی ٹی پی نے بارودی مواد احمد جنجوعہ تک پہنچایا ،پولیس کا عدالت میں انکشاف

    احمد جنجوعہ کے ریمانڈ‌کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    جسٹس طارق جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم ، غریدہ فاروقی،حسن ایوب،عمارسولنگی کو نوٹس

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • احمد وقاص جنجوعہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا

    احمد وقاص جنجوعہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پیکا ایکٹ کے تحت کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے انٹرنیشنل میڈیا کو آرڈینیٹر احمد وقاص جنجوعہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام میں پیکا ایکٹ کے تحت احمد وقاص جنجوعہ کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت ہوئی۔درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت ڈیوٹی مجسٹریٹ عباس شاہ نے کی، احمد وقاص جنجوعہ کو 2 دن کے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ڈیوٹی مجسٹریٹ عباس شاہ کے روبرو پیش کردیا گیاتھا۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی تک پیشرفت نہیں ہوسکی، ملزم نے تعاون نہیں کیا، مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔وکیل ہادی علی چٹھہ نے احمد وقاص جنجوعہ کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک دونوں کیسز میں احمد وقاص کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے۔ہادی علی چٹھہ نے عدالت کو بتایا کہ سی ٹی ڈی کے کیس میں جوڈیشل ہونے کے بعد ایف آئی اے کے کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی، اس کیس میں مرکزی ملزم جوڈیشل ہوچکا ہے، احمد وقاص کا کسی سے رابطہ ثابت نہیں ہوا، ایف آئی آر میں سیکشن 9، 10 اور 11 لگائی گئی مگر وہ احمد وقاص پر لاگو ہوتے ہی نہیں۔عدالت نے احمد وقاص جنجوعہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    ٹی ٹی پی نے بارودی مواد احمد جنجوعہ تک پہنچایا ،پولیس کا عدالت میں انکشاف

    احمد جنجوعہ کے ریمانڈ‌کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    جسٹس طارق جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم ، غریدہ فاروقی،حسن ایوب،عمارسولنگی کو نوٹس

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • عمران خان پر 200 مقدمے،میرےمؤکل پر14،پھرضمانت کیوں نہیں،وکیل کے دلائل

    عمران خان پر 200 مقدمے،میرےمؤکل پر14،پھرضمانت کیوں نہیں،وکیل کے دلائل

    سپریم کورٹ میں اپنی نوعیت کا منفرد مقدمہ ،دوران سماعت ایک منشیات فروش ملزم کے وکیل نے ملزم کا عمران خان سے قانونی موازنہ بھی کیا

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی فیصلہ کے حوالہ پر منشیات کے ملزم عبید اللہ کی رہائی کا حکم دے دیا،عدالت نے آئس منشیات کاروبار میں ملوث عبیداللہ کی درخواست ضمانت منظور کرلیں،جسٹس منصور علی شاہ کی صدارت میں تین رکنی بینچ نے ضمانت درخواست پر سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملزم پر رپورٹ کے مطابق 14 مقدمات میں ضمانت کیسے دیدیں۔منشیات کاروبار کو ملزم کو ضمانت نہیں سزا کا حقدار ہے۔منشیات معاشرے کیلئے ناسور ہے۔تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کا ناسور پھیل رہا ہے۔

    سائفر کی سزا موت ،عمران خان کو 2سو مقدموں میں ضمانت میرے مؤکل کو کیوں نہیں،وکیل
    وکیل غلام سجاد گوپانگ نے کہا کہ آرٹیکل 25 کے تحت میرا موکل عبیدہ اللہ اور بانی تحریک انصاف برابر کے شہری ہے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور میرے موکل کو آرٹیکل 25 کے تحت ایک نگاہ سے دیکھنا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ بانی تحریک انصاف کا اس ضمانت کیس سے کیا تعلق ہے۔وکیل نے کہ کہ بانی پی ٹی آئی کو دو سو سے زاہد مقدمات کے باوجود سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں ضمانت دی۔بانی تحریک انصاف سائیفر کیس میں ضمانت کے وقت چار مقدمات میں سزا یافتہ تھے۔ایک ملزم کو باوجود دوسو مقدمات کے ضمانت مل سکتی ہے تو میرے موکل کیخلاف 14 مقدمات ہیں۔میرا موکل بھی 14 مقدمات کے باوجود ضمانت کا حقدار ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بانی تحریک انصاف اور آپ کے موکل کے مقدمات کی نوعیت مختلف ہے ،بانی پی ٹی آئی کیس کا ان مقدمات سے کیا موازنہ ہے؟

    عمران خان کو جیل میں مٹن،دیسی مرغ،میرے مؤکل کو ایسی سہولت نہیں ،وکیل
    وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف پر دہشت گردی کے مقدمات ہیں،بانی پی ٹی آئی پر سائیفر کا کیس جس میں سزائے موت ہے۔تحریک انصاف بانی کو جیل میں دیسی مٹن و مرغا کھانے کو ملتا ہے۔میرے موکل کو ایسی کوئی سہولت جیل میں دستیاب نہیں۔میرا موکل تو ضمانت کا زیادہ حقدار ہے۔وکیل غلام سجاد گوپانگ کے دلائل پر جسٹس منصور علی شاہ زیر لب مسکرا دیئے. جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چلیں دیکھ لیتے ہیں آپ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیدیں۔وکیل کے عدالتی نظائر کے حوالہ پر ملزم عبیداللہ کی ضمانت درخواست منظور کرلی گئی

    کے پی حکومت سوئی ہوئی ہے، ایسے تو مکمل جنگل کاٹ کر لے جائیں گے،جسٹس سردار طارق مسعود
    قبل ازیں سپریم کورٹ میں ٹمبر ایکسپورٹ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اہم کیس 2013 سے زیر التواء ہے، خیبرپختونخوا حکومت نے جلد سماعت کی درخواست کیوں دائر نہیں کی؟جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت سوئی ہوئی ہے، ایسے تو مکمل جنگل کاٹ کر لے جائیں گے،جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ حکومت اور محکمہ جنگلات دونوں ہی سوئے ہوئے ہیں، صوبائی حکومت پالیسی پر عملدرآمد کر سکتی تھی مگر کچھ نہیں کیا، کیا آپ کے پاس رولز بنانے کے لیے اتھارٹی کا اختیار موجود ہے۔

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جنگلات کا موضوع صوبائی حکومت کا اختیار ہے، صوبائی حکومت جنگلات کی ایکسپورٹ پرپابندی لگا سکتی ہے، صوبائی حکومت ٹیکس بھی وصول کرسکتی ہے، کے پی حکومت پابندی لگا رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت اجازت دے رہی ہے۔

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے جنگلات پالیسی 2002 سپریم کورٹ میں جمع کروا دی،سپریم کورٹ نے اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • ڈی چوک اور ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی لگانے کی درخواست،سماعت ملتوی

    ڈی چوک اور ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی لگانے کی درخواست،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،ڈی چوک اور ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی لگانے کی فیڈرل ویلفیئر ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جامع پلان طلب کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزرات داخلہ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی،وکیل نے کہا کہ جب بھی ڈی چوک میں کوئی دھرنا یا احتجاج ہوتا ہے تو کاروبار بند کر دیے جاتے ہیں، استدعا ہے کہ ڈی چوک میں احتجاج پر پابندی عائد کی جائے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ سارے کاروبار بند نہیں ہوتے، کچھ مقامات کو بند کیا جاتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا حل ہے اس کا؟ کیا ڈی چوک ریڈ زون ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، ڈی چوک سے ریڈ زون شروع ہوتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ جب کوئی دھرنا ہوتا ہے تو آپ کیا کرتے ہیں ، ڈی سی اسلام آباد نے کہا کہ اگر پریس کلب میں کوئی احتجاج ہوتا ہے ہم اطراف کی سڑکیں بند کر دیتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے بتانا ہے کہ کس جگہ احتجاج کی اجازت ہے اور کس جگہ نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • گلگت بلتستان میں ٹیکسز   نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو  ہے، وفاقی سیکرٹری

    گلگت بلتستان میں ٹیکسز نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو ہے، وفاقی سیکرٹری

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین کمیٹی پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی اجلاس میں وزات امور کشمیر وگلگت بلتستان کے کام کے طریقہ کار کارکردگی کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے امور و کشمیر کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سا بقہ قائمہ کمیٹی برائے امور و کشمیر نے اپنے 28فروری کو منعقدہ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزیر کی عدم شرکت اور وزارت کے اعلیٰ حکام کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا تھا قومی فنکشن کا بہانا بنا کر کمیٹی اجلاس کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی تھی اور قائمہ کمیٹی کے آزاد جموں کشمیر کے دورے کے حوالے سے بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا ۔جس پر سیکرٹری امور کشمیر نے کہا کہ میں نے چند دن پہلے ہی چارج لیا ہے اور پہلے کے رویے کی معذرت چاہتا ہوں آئندہ ان امور کا خیال رکھا جائے گا آج بھی چار میٹنگز تھی لیکن پھر بھی ہم حاضر ہوئے ہیں ۔

    سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ وزارت چھوٹی سی ہے اور اس کے نیچے پانچ ادارے کام کررہے ہیں وزارت امور کشمیر کا بجٹ 1388.77ملین روپے ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال وزارت امور کشمیر کا پی ایس ڈی پی میں کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں ہے ۔وزارت امور کشمیر کا بنیادی کام گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کےلئے پالیسی اور پلاننگ کی تشکیل ہے گلگت بلتستان کےلئے فنڈز وفاق سے گرانٹ کی صورت میں ملتے ہیں ۔ پی ایس ڈی پی کےلئے سو فیصد پیسہ وفاق دیتا ہے اے ڈی پی کا بڑا حصہ بھی وفاقی حکومت کا ہے ۔ اس لئے وزارت کمیٹی کی رہنمائی بھی درکار ہے کہ مانیٹرنگ کا اختیار وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کے پاس ہونا چاہیے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کا اپنا کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے گلگت بلتستان میں ٹیکسز بھی نہیں ہیں آج کل بھی گندم 20روپے کلو ملتی ہے۔ گلگت بلتستان کونسل اور آزاد کشمیر کونسل کا مقصد وفاق اور دونوں علاقوں میں روابط بڑھانا ہے گلگت بلتستان کے لوگوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے این ایف سی کے تحت 240ارب کا حصہ مانگتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو آزاد کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان کے فنکشنز بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ سینیٹر ندیم بھٹونے کہا کہ دنیا میں سیاحت کے شعبے سے بہت سی آمدن ہوتی ہے پاکستان کو قدرتی مناظر کی دولت سے مالا مال ہے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔سیاحت سے متعلق ایک الگ اجلاس ہونا چاہیے۔

    چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی تسلط اور ظلم جاری رکھنے کےلئے بہت زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اس کو گلگت بلتستان کے لوگ دیکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کی دلجوئی کےلئے بجٹ میں زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے اگر ایسا نہ کیا تو وہ بھارتی زیر قبضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہیں، سیکرٹر ی وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کونسلز لیجسلیٹو ادارے ہیں وزیراعظم دونوں کونسلز کے سربراہ ہیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قوانین کے نفاذ,فورسز کی تعیناتی اور ہنگامی صورتحال کے اعلان کیلئے وزارت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ کشمیر ایشو کو کمیٹی اپنے اختیار سے باہر نہیں سمجھتی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتوں کا وجود ضروری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں منصوبوں کو فائنل کرتی ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاحت سمیت معدنیات میں بھی وسیع مواقع ہیں۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں وزارت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے صرف تعاون کرتے ہیں قائمہ کمیٹی نے گلگت بلتستان کے ڈویلپمنٹ کے صوبوں کا علیحدہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اراکین کمیٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان کےلئے کتنا بجیٹ طلب کیا تھا اور کتنا فراہم کیا گیا ہے ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آزاد جمعوں کشمیر کونسل کے تمام ممبران منتخب ہو چکے ہیں اگر ان ممبران میں سے بھی کچھ ممبران کو کمیٹی اجلاس میں دعوت دی جائے تو ان کے علاقوں کے مسائل موثر طور پر اجاگر ہونگے کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی کل آبادی 17لاکھ کے قریب ہے جن کےلئے حکومت ان کو 140ارب روپے کا فنڈ دیتی ہے جب کہ آزاد جموں کشمیر کی کل آبادی 42لاکھ ہے ۔سینیٹر حامد خان نے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ نہیں ہے اس کو آزاد کشمیر سے الگ کرنے کی ضرورت ہے تاریخی طور پر اس علاقے کو برطانوی حکومت نے 1935میں لیز پر 50سال کےلئے دیا تھا مہاتماگاندھی نے مہاراجہ کو 1947میں لیز کینسل کرنے پر قائل کیا ۔ہمارے بہترین مفاد میں ہے کہ اس کو پانچویں صوبے کا درجہ دیا جائے پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کیلئے بھی یہ بہتر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ قومی ایشو ہے اس کو توجہ کی ضرورت ہے ۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز ندیم احمد بھٹو ،دوست محمد خان ، فلک نازاور حامد خان کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان سیکرٹری امور کشمیر و دگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • حکومتی پارٹی جلسے کی اجازت مانگے گی آپ پلیٹ میں رکھ کر دیں گے،عدالت

    حکومتی پارٹی جلسے کی اجازت مانگے گی آپ پلیٹ میں رکھ کر دیں گے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پی ٹی آئی کو احتجاج کی اجازت کی درخواست پر فیصلہ نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ 22 جولائی کو درخواست دی کہ 26 جولائی کو احتجاج کرنا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کس فیصلے پر توہین عدالت ہے؟ اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ دو آرڈرز ہم نے پاس کیے تھے،عدالت نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے 20 اگست کے بعد کسی جگہ جلسہ احتجاج کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی کو احتجاج کیوں اجازت نہیں دی جا رہی؟اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے 20 اگست کے بعد جلسے کی اجازت دی ہے،ضلعی انتظامیہ نے 22 اگست کو جلسے کی اجازت دیدی ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں توہینِ عدالت تو بنتی ہی نہیں ہے،سیکیورٹی معاملے پر انتظامیہ کے کام میں مداخلت کرنا عدالتوں کا کام نہیں،سیاسی جماعت اگر اجتماع کرنا چاہ رہی ہے تو کیا حرج ہے؟ فیض آباد پر احتجاج ہوا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا؟ اسلام آباد کیلئے کوئی ایس او پی ، قانون یا رولز بنا لیں، حکومتی پارٹی اجازت مانگے گی آپ پلیٹ میں رکھ کر دیں گے،آپ نے ایف نائن پارک میں احتجاج کی اجازت نہیں دی؟پارک پارک ہے اسے پارک رکھیں،رولز بنائیں جگہوں کو مختص کریں، آپ کوئی کسر ہی نہیں چھوڑتے بنانا ری پبلک نہ بنائیں، دیکھتے ہیں توہین عدالت بنتی ہے یا نہیں، اس متعلق آرڈر پاس کروں گا،

    توہین عدالت کی درخواست ہے یا میں انہیں جیل میں ڈال دوں گا یا چھوڑ دوں گا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
    پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہماری یہ درخواست پریس کلب کے باہر اجتجاج کی ہے جلسے کی نہیں، جلسے کی اجازت کا کیس چیف جسٹس کی عدالت میں ہے، ہماری احتجاج کی درخواست الگ ہے جلسے کی الگ ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس صورتِ حال کی وجہ سے لوگ آپ کے ملک میں نہیں آرہے، الیکشن کمیشن کے پاس سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات ہوتی ہیں، ان تفصیلات کے تحت احتجاج میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی جماعتوں کے اکاؤنٹس اٹیچ کر سکتے ہیں، توہینِ عدالت کیس میں عدالت نے جلسے کی اجازت نہیں دینی، یہ توہین عدالت کی درخواست ہے یا میں انہیں جیل میں ڈال دوں گا یا چھوڑ دوں گا۔

    29 جولائی کو پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے اور احتجاج کی اجازت نہ دینے پر توہینِ عدالت کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھیں،تحریک انصاف اسلام آباد میں جلسہ کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت اجازت نہیں دے رہی، تحریک انصاف نے عدالت سے رجوع کیا، عدالت نے اجازت دی لیکن حکومت نے اجازت دے کر پھر منسوخ کر دی، حکومت کا مؤقف ہے کہ جلسہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے بعد کیا جائے،

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • ایف بی آر نے  مالی سال کے پہلے ماہ محصولات کا ہدف کامیابی سے حاصل کرلیا

    ایف بی آر نے مالی سال کے پہلے ماہ محصولات کا ہدف کامیابی سے حاصل کرلیا

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی 2024 کے لئے مقرر کردہ محصولات کا ہدف کامیابی سے حاصل کرلیا ہے۔ جولائی کے مہینے میں 656 ارب روپے کے ہدف کے مقابلہ میں 659.2 ارب روپے کے خالص محصولات جمع کئے گئے ہیں۔جبکہ اس عرصہ کے دوران 77.9 ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کئے گئے ہیں۔

    اس مدت کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 300.2 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں 307.9 ارب روپے،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 37.4 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 91.7 ارب روپے جمع کئے گئے ہیں۔ایف بی آر نے ملک کو درپیش تما م تر معاشی مشکلات کے باوجود مالی سال 2024-25 کے لئے کامیاب آغاز کرتے ہوئے ماہانہ ہدف حاصل کرکے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایف بی آر کی کارکردگی رواں مالی سال کے لئے محصولات کے تفویض کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لئے ریونیو ڈویژن کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

  • گل بہادر گروپ اور مجید بریگیڈ  کالعدم قرار

    گل بہادر گروپ اور مجید بریگیڈ کالعدم قرار

    وفاقی وزارت داخلہ کا بڑا فیصلہ، دہشت گردی میں ملوث دو تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا

    وزارت داخلہ نے دہشت گردی کرنے والی دو تنظیموں کے خلاف فیصلہ کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دے دیا ہے، وزارت داخلہ نے اس ضمن میں‌نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے گل بہادر گروپ اور مجید بریگیڈ کو کالعدم قرار دیا گیا ہے،وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دونوں تنظیموں‌پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،دونوں جماعتوں کو دو سال تک نگرانی کے بعد کالعدم قرار دیا گیا ہے

    دونوں تنظیموں‌پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1999 کے تحت ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائدکی گئی ہے،حکام کا دعویٰ ہے کہ گل بہادر گروپ افغانستان سے کام کر رہا ہے اور اس کا ٹی ٹی پی سے قریبی رابطہ ہے۔ گل بہادر گروپ کے پی کے میں سرگرم ہے جبکہ مجید بریگیڈ بلوچستان میں سرگرم ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی اپنی فہرست بھی اپ ڈیٹ کر دی ہے –

  • قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے الیکشن ترمیمی بل  کی  منظوری دیدی

    قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے الیکشن ترمیمی بل کی منظوری دیدی

    اسلام آباد(محمداویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے الیکشن ترمیمی بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا بل کے حق میں 8 مخالفت میں 4 اور جے یو آئی کے رکن نے نہ بل کے حق میں نہ مخالفت میں حصہ لیا،کمیٹی میں ممبر علی محمد خان نے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کا جھاڑ پلادی اور کہا کہ اگر آپ اتنے نازک ہیں کہ بل کے حوالے سے رائے نہیں دے سکتے تو آپ کو کمیٹی میں نہیں آنا چاہیے تھا علی محمد خان کا وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت ہوا۔وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔وفاقی سیکرٹری پارلیمانی امور نے کہاکہ یہ بل کا ایوان میں پیش ہوا ہے اس میں مزید ترمیم مانگی ہیں ۔بل کے محرک بلال کیلانی نے بل کمیٹی میں پیش کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن ایکٹ میں دو ترمیم مانگی ہیں ۔سیکشن 66میں ترمیم لائی ہیں جس میں ہے کہ ریٹرننگ آفسر کے پاس اس کو انتخابی نشان الاٹ ہونے سے پہلے ہارٹی کی وابستگی کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا ورنہ وہ آذاد تصور ہوگا ۔سیکشن 104میں دوسری ترمیم لائے ہیں جو تیسری ترمیم ہے ۔اگر کوئی سیاسی جماعت مقررہ وقت میں مخصوص نشستوں کی لسٹ نہ دے سکے تو محصوص نشستوں کی اہل نہیں ہوگی ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جب آزاد امیدوار قومی اسمبلی میں آئیں گے تو وہ تین دن میں سرٹیفکیٹ جمع کرائیں گے وہ کس جماعت میں شامل ہوئے ہیں ۔

    علی محمد خان مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے ہیں مجھے اپنا کام کرنا آتا ہے،وزیر قانون اور علی محمد خان میں تلخ کلامی
    علی محمد خان کہاکہ یہ پرائیویٹ ممبر بل ہے تو حکومت کیوں بل کے حوالے سے دلائل دے رہی ہے اس سے تولگ رہاہے کہ یہ حکومتی بل ہے پرائیویٹ ممبر تو خود بل کے حوالے سے دلائل دینا چاہیے ۔ وزیر کو ان کی وکالت نہیں کرنی چاہیے میں ان کی وکالت کروں گا ۔ اگر اتنا اچھا بل ہے تو بل حکومت خود لے کر آئے ۔
    چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ وزیر بل پر رائے دے رہے ہیں اس کے بعد ممبران اس پر موقف دیں گے ۔
    اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ علی محمد خان مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے ہیں مجھے اپنا کام کرنا آتا ہے ہم حکومت کی رائے دے رہے ہیں یہ پرائیویٹ ممبر بل ہے ،اس دوران علی محمد خان اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی آپس میں تلخ کلامی ہوئی،محمد بشیر ورک نے کہاکہ بل کمیٹی میں پہلے ممبر نے پیش کیا ہے علی محمد خان دیر سے آئے ہیں ان کو وقت پر آنا چاہیے ۔علی محمد خان نے کہاکہ میں تلاوت کے وقت کمیٹی میں تھا ۔چیئرمین کمیٹی ہمارے بھی چیئرمین ہیں آپ نیوٹرل رہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ ترمیم بل قانون کو ٹھیک کررہی ہیں۔ یہ بل عدالتی فیصلے کے حوالے سے ہے یہ پارلیمان کا فرض ہے کہ اس کے اختیارات میں مداخلت و تجاوزات ہے تو اس پر پارلیمان نے چیک رکھنا ہے ۔قانون میں کمی اضافی پارلیمان کا حق ہے ۔عدالت کا یہ کام نہیں ہے ۔ قانون سازی عدالت کا نہیں پارلیمان کا ڈومین ہے آئین میں تین دن میں آزاد امیدوار نے سیاسی جماعت جوائن کرنی ہے ،اگر اب وہ کسی دوسرے جماعت میں جائے گا تو نااہل ہوجائے گا اب سیاسی جماعت تبدیل نہیں ہوسکتی ہے ۔میں نے سینیٹ کا حلف لیا ہے کہ میں آئین پاکستان کے حلف کی حفاظت کرنی ہے ۔یہ ترمیم آئین کے مطابق ہے ۔ میں اس بل کی حمایت کرتا ہوں۔اپوزیشن بھی اچھی چیزیں لے کرآئے ہم حمایت کریں گے ۔

    بل کے محرک بلال کیانی نے کہاکہ آذاد امید وار کسی جماعت کا مقرہ وقت میں سرٹیفکیٹ نہیں دے گا تو وہ آذاد ہی رہے گا ۔محصوص نشستوں کی لسٹیں مقررہ وقت میں جمع نہ کرائی جائیں تو کوٹے کے مستحق نہیں ہوں گے اگر ایک مرتبہ بعد آب آذاد امیدوار بن گئے اور جیتنے کے بعد ایک جماعت جوائن کرلی تو آپ دوبارہ دوسری جماعت جوائن نہیں کرسکتے ہیں ۔

    علی محمد خان نے کہاکہ قانون سازی کرتے ہوئے ہماری خوش فہمی ہے کہ وزیر قانون نے سیاسی جماعت کے وزیر قانون کے تحت یہ بل نہیں لائے اس بل پر کیا ماضی میں جرم پر لگانا چاہتے ہیں یا مستقبل کے حوالے سے یہ بل ہے، ماضی کے جرم کی سزا ہوگی یا آے کو جرم ہوگا اس مستقبل کے لیے یہ بل لایا گیا ہے ۔

    کل ہماری حکومت ہوتو ہم بھی پارلیمنٹ کے فورم کو ان فیصلوں کے خلاف استعمال کریں گے ؟علی محمد خان
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس بل کا اطلاق ماضی سے ہوگا یہ پارلیمان کا اختیار ہے کہ اس کو ماضی سے اطلاق کیا جائے ۔ صرف کریمنل کیس کے حوالے سے نئے قانون کا ماضی سے نہیں ہوتا ہے ،علی محمد خان نے کہاکہ ماضی کے قانون سے مجھے فائدہ ہورہاہے تو نئے قانون بنا کر کیا مجھ اس سے محرومکیا جاسکتا ہے؟آرٹیکل 10 کے خلاف یہ قانون ہے ۔ جب اعلیٰ عدالت میں آپ کے خلاف فیصلہ آجائے تو اس کے خلاف اس فورم کو استعمال کیا جارہاہے کیا اس سے پاکستان کے آئین کو اچھا رنگ دے رہے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وقعت کیارہ جائے گی ۔ کل ہماری حکومت ہوتو ہم بھی پارلیمنٹ کے فورم کو ان فیصلوں کے خلاف استعمال کریں گے ؟کیا تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلٹ پیپر پر تھا؟ تین دن کے اندر وہ آذاد امید وار شامل ہوسکتا تھا مگر الیکشن کمشن نے کہاکہ وہ آپشن موجود نہیں ہے جبکہ اصل میں موجود نہیں تھا ۔ اس معاملے میں یہ تین دن کا وقت اس وقت شروع ہوا ہے جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے ۔ جس دن الیکشن ہو رہا تھا سپریم کورٹ کہتی ہے کہ تحریک انصاف تھی تو کس قانون کے تحت تحریک انصاف کا نشان چھپا اور نہ ہی امیدوار سے سرٹیفکیٹ لیئے ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس مقدمہ میں وفاقی حکومت فریق نہیں تھی سپریم کورٹ میں درخواست سنی اتحاد کونسل نے دی تھی ۔پاکستان تحریک انصاف کی خواتین ونگ نے بھی اس میں درخواست دی تھی ۔کنول شوزب نے کہ کہا سنی اتحاد کونسل کو تحریک انصاف کو ووٹ ملے ہیں جس کو میں قانون مفروضہ سمجھتا ہوں جبکہ حقیقت میں ایسا ہی ہوگا۔ سنی اتحاد کونسل اراکین کو تحریک انصاف کا ووٹ بھی پڑا ہوا ہے، بغیر کسی جبر کے ممبران نے سنی اتحاد کونسل سے رابطہ کیا، فیصلہ موجود ہے کہ اراکین نے کہا کہ ممبران نے کہا سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں، پشاور ہائی کورٹ میں بھی تحریک انصاف نہیں گئی سنی اتحاد کونسل اراکین گئے، آپ کا سوال کہ الیکشن کمیشن نے الاٹ کیوں نہیں کیا نشان؟ایک امیدوار نے چار حلقوں سے انتخاب لڑا اور چاروں جیت گیا، مگر وہ ایک حلقے کی ایک ہی سیٹ رکھے گا آپ نے تو رضاکارانہ طور پر اپنا نکاح سنی اتحاد کونسل سے کر لیا،علی محمد خان نے کہاکہ یہ تو دوسرا ہے اسلام میں چار کی اجازت ہے،الیکشن کمیشن نے کیوں تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہیں دیا کیا آج ان کو کوئی شرمندگی ہے؟اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر سیاسی جماعتیں نظر ثانی میں گئی ہوئی ہیں کہ یہ سیٹیں ہماری بنتی ہیں،

    علی محمد خان کہاکہ الیکشن کمیشن کو کوئی شرمندگی ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ قانون میں یہ بھی ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو ،علی محمد خان نے کہاکہ کیا آپ کا اشاہ اس طرف تو نہیں ہے کہ ایک مرتبہ کہیں کہ آرٹیکل 6 لگائیں گے اگلے دن کہیے گے کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کرو ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ بل آئین کے سپرٹ کے مطابق ہے اس لیے اس بل کو منظور کیا جائے ۔ممبر راجہ قمر السلام نے کہاکہ ہم نے کمیٹی کو پریس کانفرنس بنا لیا ہے میڈیا کو مخاطب کیا جارہاہے ۔بشیر ورک نے کہاکہ یہ ترمیم آئین کے دائرہ کے اندر ہے یہ ترمیم اس آئین کے خلاف نہیں ہے ممبر کو بلیک میل کرنے سے بچانے کے لیے ہے ۔مخصوص نشستوں کی لسٹ کو بھی تبدیل نہیں کیا جاسکے گا ۔بل کے محرک نے اچھا اقدام کیا ہے ،شیخ آفتاب نے کہاکہ وزیر قانون نے اس بل کی وضاحت کرلی ہے یہ ترمیم سپریم کورٹ کے خلاف نہیں ہے عدالتوں کے فیصلوں پر اعتراض کرسکتے ہیں ۔اس بل کو منظور کرلینا چاہیے ،

    تحریک انصاف کے ممبر صاحبزادہ صبغت اللہ نے کہاکہ پارلیمنٹرین بلیک میل کرتے ہیں اس کی میں مذمت کرتا ہوں یہ صورت حال الیکشن کمیشن نے پیچیدہ بنایا ہے تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھننا کس کا تھا میں جیل میں تھا ہمیں بتایا گیا تحریک انصاف چھوڑ دو کہ بیلٹ پیپرز پر تحریک انصاف کا نشان نہیں ہوگا۔تحریک انصاف کے ممبر خرم شہزاد ورک نے کہاکہ 39ممبران تحریک انصاف کے تھے باقی 41قومی اسمبلی کو کہاگیا کہ اپنے سرٹیفکیٹ جمع کیا جائے یہ ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف لائی گئی ہے یہ ترمیم ایوان میں نہیں آنی چاہیے تھی اس سے اداوں میں تکڑاؤ ہوگا ۔

    کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ کہ یہ آئی پی پی پیز کے حوالے سے ترمیم لاتے،شاہدہ اختر علی
    جے یوآئی کی ممبر شاہدہ اختر علی نے کہاکہ پارلیمان کی سپرمیسی پر آنچ آنے نہیں دیں گے ترمیم ہوتی رہتی ہیں ۔ سیاست عوام کی بھلائی کے لیے ہونی چاہیے کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ کہ یہ محرک آئی پی پی پیز کے حوالے سے ترمیم لاتے اور ایک دن میں وہ کمیٹی میں آتا اور یہاں سے پاس ہوتا اور عوام کو ریلیف مل جاتا ۔ الیکشن کمیشن ہمیشہ سینڈوچ ہوتا ہے ۔ ہمیں نظر آرہاہے کہ یہ ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیا جارہاہے راتوں رات فیصلے کرنے سے پارلیمان کمزور ہوگا ۔اس طرح کی ترمیم کو تفصیل سے بحث ہونی چاہیے ۔ یہ ترمیم لیٹیگیشن میں جائے گی حکومت سامنے آئے اور ترمیم لے کر آئے کسی ایک پارٹی کا نقصان نہ دیکھیں ۔

    علی محمد خان نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو جھاڑ پلادی،بولے، سیکرٹری نازک مزاج ہیں توکمیٹی میں نہ بلائیں
    بلال کیانی نے کہاکہ ارکان ہماری نیت پر شک کررہے ہیں اس پر افسوس ہے، سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہاکہ ماضی سے بل کے اطلاق کے حوالے سے وزارتِ قانون سے بات کی جائے ۔ ہم اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بل کا ماضی سے اطلاق ہونے پر رائے دینے سے انکارکر دیا،رائے نہ دینے پر علی محمد خان الیکشن کمیشن پر برس پڑے اور کہا کہ ان کو سوالات کا جواب دینا چاہئے، علی محمد خان نے کہاکہ آپ اس کے ماضی سے اطلاق پر حق میں ہیں یا نہیں،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہاکہ ہمارا یہ ڈومین نہیں ہے،علی محمد خان نے کہا الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے، یہاں جوابات کے ساتھ آئیں، آپ کو یہاں جواب دینا ہوگا،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ علی محمد خان صاحب آپ کمیٹی کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے،علی محمد خان نے کہاکہ ماضی سے اس بل کے اطلاق اگر سیکرٹری نازک مزاج ہیں توکمیٹی میں نہ بلائیں الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس پر جواب دینا ہوگا ۔ جس کو سوال و جواب سے تکلیف ہے وہ کمیٹی میں نہ آئے ۔ 41ممبرقومی اسمبلی نے سرٹیفکیٹ جمع کردیئے ہیں تو ان کو کیوں تحریک انصاف مان نہیں رہے ہیں باقی 39 اکان کا سرٹیفکیٹ بھی تحریک انصاف کے انہی عہدیدار وں نے سرٹیفکیٹ دیئے ہیں۔ایم این اے فیاض صاحب کے بیٹے کو اغواء کیا گیا ہے کہ سرٹیفکیٹ جمع نہ کریں ان کے بیٹے پر تشدد کرکے کال سنائی گئی کہ آپ تحریک انصاف کا سرٹیفکیٹ جمع نہ کریں ،اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ سیاسی باتیں ہیں ۔علی محمد خان نے کہاکہ فیئر الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی ہے تو یہ اپنا کام کیون نہیں کررہے ہیں ۔ کس قانون کے تحت انہوں کے تحریک انصاف کو الیکشن کے وقت بیلٹ پیپر سے ہٹایاہے ۔

    ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور ہوگیا تحریک انصاف نے مخالفت کی، جے یو آئی کے ممبر نے رائے نہیں دی ،بل کے حق میں 8 مخالفت میں 4 اراکین نے ووٹ دیئے.

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں گزشتہ روز بلال اظہر کیانی نے انتخابات ایکٹ میں ترمیم کرنے کا بل پیش کردیا تھا،اسپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیاتھا،انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بل” انتخابات دوسری ترمیم بل”کے نکات سامنے آ گئے ہیں، بل کے مطابق کامیاب آزاد امیدوار کی جانب سے سیاسی جماعت میں شمولیت کی رضامندی ناقابل تنسیخ ہوگی،اگر کوئی جماعت مجوزہ مدت کے اندر مخصوص نشستوں کے لئے فہرست جمع کرانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ نشستوں کی کوٹے کے لئے اہل نہیں ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 میں 2 ترامیم متعارف کرائی جارہی ہیں، پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 اور دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے، پہلی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اپنی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اقرار نامہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا،دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہ دی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں،ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق یہ دونوں ترامیم منظوری کے بعد فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

  • آپ کی کارکردگی کسی اخبار میں نظر تک نہیں آئی،شیری رحمان وزارت موسمیاتی تبدیلی پر برہم

    آپ کی کارکردگی کسی اخبار میں نظر تک نہیں آئی،شیری رحمان وزارت موسمیاتی تبدیلی پر برہم

    چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے ماحولیاتی تبدیلی رومینہ خورشید، سیکٹری وزارت ماحولیاتی تبدیلی، اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نےشرکت کی،کمیٹی ارکان سینیٹر نسیمہ احسان، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور شریک ہوئے،سیکٹری وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی.

    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وزارت نے جو پریزینٹیشن تیار کی ہے وہ بیسویں صدی کی لگتی ہے، پریزینٹیشن میں معلوم نہیں ہو رہا کہ وزارت کی ترجیحات کیا ہیں،وزارت کے حالیہ اقدمات کیا ہیں، موسمیاتی تبدیلی پر کیا پبلک میسجز ہیں، ہم نے بطور وزیر وزارت سے جاتے ہوئے بہت تجاویز چھوڑی تھیں، آپ کے سال میں بہت بیرون ملک دورے ہوتے ہیں، وہاں کانفرنس میں کیا کر کے آتے ہیں، آپ لوگ برلن میں کانفرنس میں گئے ہی نہیں، سارے سال کی بین الاقوامی مصروفیات کی تفصیلات دی جائیں ،بیرون ملک کے 60 فیصد دورے ضائع ہوتے ہیں، اتنی کانفرنسز ہوتی ہیں لیکن آپ کی کارکردگی کسی اخبار میں نظر تک نہیں آئی، آپ کی بین الاقوامی کانفرنس میں کارکردگی کیا ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ وزارت اور وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے ماحولیتی تبدیلی کے بیچ میں کوئی تعاون اور رابطہ نظر نہیں آ رہا، وزارت کے پاس کوئی سالانہ منصوبہ بندی نہیں نظر آ رہی، اس طرح وزارت نہیں چلتی، وزارت اپنے اسٹری ٹیجک فیصلے اور منصوبے پیش کرے،اگلی بار کمیٹی کو تفصیلی اور بہتر پرزنٹیشن دی جائے،وزارت نے انرجی ٹرانزیشن کا ذکر تک نہیں کیا، آپ کلائمیٹ اتھارٹی بنانے جا رہے ہیں،کیا وزارت کو معلوم ہے اتھارٹی نے کیا کرنا ہے یا اتھارٹی کو معلوم ہے اس نے کیا کرنا ہے؟ہم نے وفاقی دارالحکومت میں سنگل یوز پلاسٹک اشیاء کے استعمال پر پابندی لگائی تھی،وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے دیگر وزارتوں اور صنعتوں کے ساتھ مل کر سنگل یوز پلاسٹک کا متبادل فراہم کرنا تھا، این ڈی سیز، انرجی ٹرانزیشن، ایڈاپٹیشن، مٹیگیشن، پلاسٹک ریگولیشن اور دیگر معاملات کے بارے وزارت کی عدم آگاہی پر کمیٹی حیران ہے، وزارت کا کام دیگر وزارتوں کے ساتھ روابط قائم رکھنا ہے لیکن وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے اداروں کا آپس میں ہی رابطہ نہیں ہے،

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی