جون 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب امریکی ڈالرز پاکستان آئے،ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ، جبکہ ماہانہ بنیاد پر 18.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26-2025کےدوران 41.6 ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں،ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا،جون 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو مئی کے مقابلے میں 18 فیصد کم تاہم جون 2025 کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہیں ترسیلاتِ زر کا بیشتر حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے موصول ہوا،برطانیہ اور امریکا بھی پاکستان کو زیادہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والے ممالک میں شامل ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باوجود جاری کھاتے کو سرپلس رکھنے میں مدد دی اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جون 2026 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جہاں سے 83 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 79 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 51 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جبکہ امریکا سے 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
اسٹیٹ بینک نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم ماہرین نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ترسیلاتِ زر سے متعلق بعض مراعاتی اسکیموں کے خاتمے کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے ترسیلات زر میں اضافےپر سمندرپارمقیم پاکستانیوں سےاظہارتشکرکیا، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ترسیلا ت زر میں 8.6 فیصد اضافہ حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے،سمندرپارمقیم پاکستانی ہماراقیمتی سرمایہ ہیں، پوری قوم کوان پرفخرہے،سمندرپارمقیم پاکستانیو ں کی بہبود کیلئے اقدامات اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
