اسٹیٹ بینک نے وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کردیں-
اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت نے اسکیم کے لیے رواں بجٹ میں 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ جون 2027 تک ڈیڑھ لاکھ گھروں کی فائنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس اسکیم سے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ، نائیکوپ اور پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والے افراد مستفید ہو سکیں گے،اس کے تحت تیار شدہ گھر، فلیٹ، پلاٹ کی خریداری یا پلاٹ پر گھر کی تعمیر کے لیے قرض حاصل کیا جا سکے گا۔
اعلامیے کے مطابق اسکیم کے تحت 250 گز تک کا گھر اور 1,500 مربع فٹ تک کا فلیٹ خریدا جا سکے گا، جبکہ گھر، فلیٹ، پلاٹ یا تعمیراتی مقاصد کے لیے بینک ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کریں گے قرض کی مدت 20 سال ہوگی اور ابتدائی 10 سال کے لیے 5 فیصد کا فکسڈ مارک اپ لاگو ہوگا، قر ض کےحصول کے لیے آن لائن پورٹل بھی قائم کر دیا گیا ہےجبکہ بینک درخواست گزاروں سے کسی قسم کے پروسیسنگ چارجز وصول نہیں کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق تنخواہ دار افراد صرف سیلری سلپ کی بنیاد پر قرض کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ دکانوں یا غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد بجلی کے بل یا موبائل ٹاپ اپ کے ریکارڈ کی بنیاد پر اپنی درخواست جمع کرا سکیں گے بینک درخواست موصول ہونے کے بعد 15 روز کے اندر درخواست گزار کو فیصلہ دینے کے پابند ہوں گے اسکیم کے تحت قرض لینے والوں کو بغیر کسی جرمانے کے قرض کی قبل از وقت یکمشت ادائیگی کی سہو لت بھی حاصل ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے، جو ہر سال تقریباً ساڑھے 3 لاکھ گھروں کے اضافے سے بڑھ رہی ہے جون 2026 تک بینکوں نے مجموعی طور پر 293 ارب روپے کے ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے ہیں، جبکہ ہاؤسنگ فائنانس سے مستفید صارفین کی تعداد 65 ہزار 414 ہے۔
