افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے نوجوانوں نے مشترکہ طور پر نیشنل موبلائزیشن فرنٹ(این ایم ایف) کے قیام کا اعلان کیا ہے، تاکہ افغان طالبان کے قبضے اور دہشت گردی کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔
افغان ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو مقامی افغان ذرائع کے ذریعے بتایا جا رہا ہے جس میں ایک نئے گروپ کے ابھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کی شناخت نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (NMF) کے نام سے کی گئی ہے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس نئے اعلان کردہ محاذ کی حمایت اور شرکت کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (این ایم ایف) نے کہا ہے کہ طالبان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں اور افغانستان پر جبراً قبضہ کر چکے ہیں، نیا محاذ قائم کرنے کا مقصد ملک کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔
شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک
این ایم ایف کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ سابقہ سوویت یونین کے خلاف جہاد ایک فرض تھا، اسی طرح آج طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت اور جہاد بھی ایک فرض بن چکا ہے،افغانستان کی بڑی آبادی پریشان اور مظلوم ہے اور اب عوام کے نمائندے خود اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،یہ اقدام طالبان کی دہشت گردی کی سرپرستی کی پالیسیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے اور وہ افغانستان میں امن، استحکام اور عوامی حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔
ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی
واضح رہے کہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ ایک افغان مزاحمتی تنظیم ہے جو بھرپور انداز میں طالبان کے خلاف سرگرم ہے اس کا قیام شمالی اور مشرقی افغانستان کے نوجوانوں نے کیا، جو ظلم و جبر اور دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے این ایم ایف خود کو افغان عوام کا حقیقی نمائندہ اور طالبان کے خلاف مزا حمتی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، تنظیم کے مطابق اس کا مقصد ملک میں امن، استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہے، یہ تنظیم عوامی جذ با ت اور قومی وقار کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط محاذ کے طور پر سامنے آئی ہے۔








