Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغان طالبان  کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغان طالبان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے نوجوانوں نے مشترکہ طور پر نیشنل موبلائزیشن فرنٹ(این ایم ایف) کے قیام کا اعلان کیا ہے، تاکہ افغان طالبان کے قبضے اور دہشت گردی کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔

    افغان ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو مقامی افغان ذرائع کے ذریعے بتایا جا رہا ہے جس میں ایک نئے گروپ کے ابھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کی شناخت نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (NMF) کے نام سے کی گئی ہے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس نئے اعلان کردہ محاذ کی حمایت اور شرکت کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (این ایم ایف) نے کہا ہے کہ طالبان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں اور افغانستان پر جبراً قبضہ کر چکے ہیں، نیا محاذ قائم کرنے کا مقصد ملک کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔

    شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    این ایم ایف کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ سابقہ سوویت یونین کے خلاف جہاد ایک فرض تھا، اسی طرح آج طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت اور جہاد بھی ایک فرض بن چکا ہے،افغانستان کی بڑی آبادی پریشان اور مظلوم ہے اور اب عوام کے نمائندے خود اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،یہ اقدام طالبان کی دہشت گردی کی سرپرستی کی پالیسیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے اور وہ افغانستان میں امن، استحکام اور عوامی حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    واضح رہے کہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ ایک افغان مزاحمتی تنظیم ہے جو بھرپور انداز میں طالبان کے خلاف سرگرم ہے اس کا قیام شمالی اور مشرقی افغانستان کے نوجوانوں نے کیا، جو ظلم و جبر اور دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے این ایم ایف خود کو افغان عوام کا حقیقی نمائندہ اور طالبان کے خلاف مزا حمتی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، تنظیم کے مطابق اس کا مقصد ملک میں امن، استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہے، یہ تنظیم عوامی جذ با ت اور قومی وقار کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط محاذ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

  • پاکستان اور افغانستان کشیدگی: چین کی ثالثی کی پیشکش

    پاکستان اور افغانستان کشیدگی: چین کی ثالثی کی پیشکش

    چین نے پیر کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی پیشکش کا اعادہ کیا ہے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ اس وقت سب سے فوری ضرورت یہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور دونوں ممالک کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائےچین افغانستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت اور تعلقات میں بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے،بیجنگ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی بھی کر رہا ہے۔

    چند روز قبل چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان تنازعات کو طا قت کے بجائے مکالمے اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا،افغان طالبان کے 2021 میں کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان میں دہشتگردی میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی مہرآباد ایئرپورٹ پر کارروائی، آیت اللہ علی خامنہ ای کا طیارہ تباہ

    اسلام آباد بارہا طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے،خصوصاً کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کرے، تاہم حکام کے مطابق ان مطالبات پر خاطر خواہ عمل نہیں ہوا۔

    ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، برطانوی وزیراعظم

  • ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    افغانستان کے شہر قندھار کے فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے قندھار کے اوپر نچلی پروازیں کیں، جس کے دوران علاقے میں فائرنگ کی تیز آوازیں بھی سنی گئیں عینی شاہدین کے مطابق گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھی جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی پاک فضائیہ کی جانب سے قندھار میں مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی کے علاقائی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے،علاوہ ازیں قندھار میں افواج پاکستان نے کل ہونے والے ڈرون حملوں کا بدلہ لے لیا، افغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    دوسری جانب افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا-

  • آپریشن غضب للحق : 461 دہشتگرد ہلاک اور 855 زخمی،243 چیک پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق : 461 دہشتگرد ہلاک اور 855 زخمی،243 چیک پوسٹیں تباہ

    پاک فوج کا افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کردیں۔

    عطااللہ تارڑ کے مطابق پاک فوج کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں اب تک 461 دہشتگرد ہلاک اور 855 زخمی ہوگئے،پاک فوج نے افغانستان کی 243 چیک پوسٹیں تباہ کی ہیں، جبکہ 42 پر قبضہ کیا گیا ہے،آپریشن میں 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئی ہیں، افغانستان میں 65 دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معاون مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے افغان طالبان رجیم پر واضح کیا ہے کہ اسے دہشتگردوں یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

  • ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان

    ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان

    خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں دہشتگردی کا کھیل ، اب اور نہیں، ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے

    خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، شفیع اللہ جان نے 8 مارچ کو اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بہترین حل بات چیت کرنا اور قبائلی جرگے ہیں اگرچہ ماضی میں استنبول اور اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں، لیکن جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

    لیکن اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھے تو 2021 سے پاکستان نے افغانستان سے بار بار بات چیت کر کے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن ہر بار افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی رہی مذاکرات کی یہ ناکام تاریخ گواہ ہے کہ 6 جنوری 2021 کو دوحہ میں انٹرا افغان مذاکرات کے دوسرے دور سے لے کر 8 نومبر 2021 میں "گڈ ول جیسچر” کے نام پر صوبائی جیلوں سے 100 سے زائد خطرناک دہشت گردوں کی رہائی تک، ریاست کی رٹ پر سمجھوتہ کیا گیا۔

    ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، چینی نوسترادامس کی پیشگوئی

    انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ 2022 میں مزید وسعت اختیار کر گیا جب اپریل 2022 میں عید کے موقع پر 11 دن کی جنگ بندی ہوئی اور مئی 2022 میں اس وقت کے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی قیادت میں وفد نے کابل کے سرینا ہوٹل میں ٹی ٹی پی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

    اسی دوران محسود قبائل کے 32 رکنی اور ملاکنڈ ڈویژن کے 19 رکنی جرگوں نے مئی 2022 میں کابل میں مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا جون 2022 میں مریم اورنگزیب نے ان مذاکرات کی حکومتی سطح پر تصدیق بھی کی، لیکن ٹی ٹی پی نے فاٹا انضمام کے خاتمے جیسے غیر آئینی مطالبات رکھ کر ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

    واٹر سپلائی کے پانی سے سانپ کے بچے نکلنے پر تشویش

    حالیہ برسوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، جنوری 2024 میں مولانا فضل الرحمٰن کا دورہ کابل اور جولائی 2024 میں مفتی تقی عثمانی صاحب کی قیادت میں جید علماء کے وفود کابل گئے تاکہ مذہبی اور قبائلی بنیادوں پر حل نکالا جا سکے فروری 2025 میں خوست میں عارضی سیز فائر اور 18 اکتوبر 2025 کو دوحہ و استنبو ل کے مذاکراتی راؤنڈز نے بھی یہی ثابت کیا کہ یہ گروہ مذاکرات کو صرف اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    پاکستان کا مطالبہ اب دوٹوک ہے کہ افغان سرزمین پر فتنہ الخوارج کی پناہ گاہیں اور ان کو ملنے والی سہولت کاری کا مکمل خاتمہ کیا جائے کیونکہ مذاکرات کی آڑ میں معصوم شہریوں کا مزید قتل عام برداشت نہیں کیا جائے گا پاکستان نے تمام سیاسی و سفارتی کوششیں اور آبادکاری کی پالیسیاں ناکام ہونے کے بعد ہی بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور سرحد پار ان ٹھکانوں پر کاری ضرب لگائی جہاں سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی اب ریاست پاکستان سیاست دانوں کی نااہلی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، اور ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے-

    
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

  • آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ

    آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ

    افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن ’غضب للحق‘ سے متعلق تازہ صورتحال جاری کی ہے-

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عطا تارڑ نے بتایا کہ اب تک 583 افغان طالبان ہلاک جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ کرکے انہیں بھی تباہ کیا گیا،اب تک افغان طالبان رجیم کے 213 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز (توپیں) تباہ کی جاچکی ہیں، افغانستان بھر میں 64 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

    افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    خیال رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے،پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اور کابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقاما ت پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 13 خوارج ہلاک

  • پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیاہے-

    پاکستان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں زیادہ تر معلومات افغان طالبان حکام کے فراہم کردہ مؤقف پر مبنی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث بعض نتائج کی درستگی اور توازن پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں، رپورٹ میں آزاد اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کو خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دیا جا رہا ہے ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں بے شمار معصوم شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک کی ثالثی کے ذریعے بھی متعدد سفارتی کوششیں کیں، تاہم اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی افغان طالبان حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتی ہے یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے،پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے تمام انسدادِ دہشت گردی آپریشنز انتہائی درستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں اور ان کی بنیاد مستند اور قابلِ تصدیق انٹیلی جنس معلومات ہوتی ہے-

    حکام نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنے آپریشنز کے دوران شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور ممکنہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیاں ایسے دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کی جاتی ہیں جو آبادی سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ حساس علاقوں جیسے کابل کے گرین زون سے بھی دور۔

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    پاکستان نے تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کو پناہ اور تحفظ فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث یہ گروہ نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ وہ سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی امن اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہی ہیں۔

    آج میرانشاہ میں ہونے والے ایک ہولناک دہشت گرد حملے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی، جس میں معصوم شہریوں اور بچوں کو شدید نقصان پہنچا پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن ایسے واقعات کو بھی اسی سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ رپورٹ کرے گا تاکہ زمینی حقائق کی متوازن اور درست عکاسی ممکن ہو سکے۔

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

    پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور ذمہ دارانہ اقدامات کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے،  این آر ایف

    افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، این آر ایف

    طالبان حکومت مؤثر انداز میں انتظام چلانے میں ناکام ،افغانستان میں سیاسی، انسانی اور سیکیورٹی بحران بدستور سنگین ہوتا جا رہا ہے-

    افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے لیے خارجہ تعلقات کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے علی میثم نظری نے بی بی سی ورلڈ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان اگست 2021 سے ایک دہشتگرد تنظیم کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران بدتر ہوتا جا رہا ہے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں قریباً 21 گروپ سرگرم ہیں جو خطے اور عالمی سطح پر براہِ راست خطرہ ہیں،نظری نے طالبان کی حکومتی صلاحیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر نااہل ہیں اور ملک میں قانون و انتظام کا فقدان ہے، فی الوقت بنیادی طور پر ملک میں انارکی کی صورتحال ہے۔

    ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    جب ایران میں حالیہ عوامی احتجاجات کے مقابلے میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر بغاوت نہ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو نظری نے کہا کہ افغا نستا ن کی تاریخی اور سماجی صورتحال مختلف ہے اور عوام روایتی طور پر قلیل وقت میں حکمرانوں کے خلاف نہیں اٹھتے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف)، جو بنیادی طور پر پنج شیر و دیگر شمالی علاقوں میں فعال ہے، گزشتہ سال کے دوران اپنی وسعت بڑھانے میں کامیاب رہی، جو ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو یقین ہے کہ دہشتگرد گروپ کے خلاف مزاحمت ہی ملک کے لیے حل ہے۔

    کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    واضح رہے کہ این آر ایف کی بنیاد سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں نے رکھی، جو طالبان کے اقتدار کے مخالف ہیں اور یہ ملک میں فعال مزاحمت کرنے والی چند منظم قوتوں میں سے ایک ہے، نظری نے کہا کہ این آر ایف اہم فوجی اور لاجسٹک مشکلات کے باوجود سرگرم ہے، جس سے افغا نستان میں جاری بے چینی اور حکومت کی نازک صورتحال کا پتا چلتا ہے۔

    دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

  • بی ایل اے کا اہم کمانڈرافغانستان میں ہلاک

    بی ایل اے کا اہم کمانڈرافغانستان میں ہلاک

    کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) سے وابستہ ایک اہم کمانڈر افغانستان کے صوبہ قندھار میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے کالعدم بی ایل اے کمانڈر کی شناخت نعیم کے نام سے ہوئی ہے جو ’ڈاکٹر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور اسے تنظیم کے اہم ترین کمانڈروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن ماہ رنگ بلوچ کا قریبی رشتہ بھی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مذکورہ کارکن یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    نعیم عرف ڈاکٹر طویل عرصے سے دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور تنظیم کے عسکری نیٹ ورک میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھاوہ تنظیم کے ایک فعال دھڑے کالعدم ’مجید بریگیڈ‘ سے بھی وابستہ رہا ہے جو حالیہ برسوں میں کئی دہشتگردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔

    ہواوے مصنوعات استعمال کرنے والوں کے لیےسیکیورٹی الرٹ جاری

    حکام کے مطابق یہ بریگیڈ تنظیم کے سب سے زیادہ فعال اور خطرناک آپریشنل ونگز میں شمار کی جاتی ہے اس یونٹ کو اکثر خودکش حملوں، دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز سمیت اہم سرکاری اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نعیم عرف ڈاکٹر کو تنظیم کے اندر ایک اہم کمانڈر کی حیثیت حاصل تھی اور وہ مختلف حملوں کی منصوبہ بندی اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے وہ اس وقت ہلاک ہوا جب افغانستان کے صوبہ قندھار میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک کارروائی کی گئی، تاہم حکام کی جانب سے اس آپریشن کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں-

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ نیٹ ورکس کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی ادارے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔

  • ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے-

    سینیٹ اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان سے متعلق تحریری جواب جمع کروایا گیا وزارت خارجہ کے مطابق بطور پڑوسی پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان نے افغان طالبان رجیم کے ساتھ مستحکم مصروفیت کی پالیسی اپنائی، افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے، افسوسناک ہےکہ افغان رجیم کی جانب سے ہماری کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

    جواب میں لکھا گیا کہ افغان رجیم کے اگست2021میں برسراقتدار آنے کے بعدافغان سرزمین سے کارروائیاں بڑھیں، گزشتہ برس افغانستان سے 5300 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 جانیں ضائع ہوئیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں علاقائی اورعالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں-

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

    وزارت خارجہ کے تحریری جواب کے مطابق اکتوبر2025میں افغان رجیم نے ٹی ٹی پی ٹھکانوں سےپاکستان کے خلاف جارحیت کی، ہم اپنی کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں امن اور سفارتکاری کا حامی ہونے کی وجہ سےپاکستان مزیدکشیدگی نہیں چاہتا، ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں، مذاکرات درست راستہ ہے،تنہائی نہیں، پاکستان کی سلامتی اور مختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں، سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس