Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • آپریشن غضب للحق:پاک فوج کی کارروائی میں ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    آپریشن غضب للحق:پاک فوج کی کارروائی میں ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری/ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں جاری ہیں،پاک افواج نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے خوگانی بیس تباہ کردی ،فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے،آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا-

    خیبر پختونخوا حکومت کا کریک ڈاؤن:1000سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندے گرفتار

    خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت

  • آئندہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی،ذبیح اللہ مجاہدکی پاکستان سے سیز فائر کی اپیل

    آئندہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی،ذبیح اللہ مجاہدکی پاکستان سے سیز فائر کی اپیل

    افغانستان کی طالبان حکومت کے سرکاری ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان جاری کیا جس میں پاکستان پر ننگرہار (بشمول جلال آباد) اور قندھار صوبوں پر راتوں رات فضائی حملوں میں ہتھیاروں کے بڑے ڈپو کو تباہ کرنے کا الزام لگایا گیا، جبکہ یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کا اعادہ کیا۔

    افغا ن طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاید کا کہنا ہے کہ امریکہ اور نیٹو جو اسلحہ چھوڑ کر گیا تھا وہ اسلحہ ہمارے دفاع کے لئے تھا ہم نے اسے پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنا تھا لیکن پاکستان وہ تمام اسلحہ تباہ کر رہا ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ آج صبح ننگر ہار، جلال آباد اور قندھار پر بمباری کے دوران ہمارے مذید اسلحے کے بڑے ڈپو تباہ کر دئے گے ہیں عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے ہم پچھلے 24 گھنٹے سے سیز فائر کا باقاعدہ اعلان کر چکے ہیں اور تمام دوست ممالک کو یہ پیغام پہنچا چکے ہیں کہ آئندہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، دو اسلامی ممالک کا آپس میں لڑنا درست عمل نہیں ہے۔

    خامنہ ای کی شہادت:دنیابھر میں احتجاجی مظاہرے،عراق میں امریکی سفارتخانے پر ہجوم کا حملہ

    خامنہ ای کی شہادت کی اطلاع دیتے ہوئے ٹی وی اینکر رو پڑے

    وزیراعظم شہباز شریف کا 2 روزہ دورہ روس ملتوی

  • پاک فوج کے ساتھ ملکر افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے،عوام خیبر پختونخوا

    پاک فوج کے ساتھ ملکر افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے،عوام خیبر پختونخوا

    خیبر پختونخوا کے عوام پاک فوج کے ساتھ – افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے-

    خیبر پختونخوا کی عوام کا کہنا ہے کہ روس کے افغانستان پر حملے کے وقت پاکستان نے افغان عوام کا ساتھ دیا اور ان کا خیال رکھا، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی قبائلی علاقوں خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں افغانوں کو جگہ دی گئی، پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا، اسے شکست دینا ناممکن ہے، پاک فوج ہر بیرونی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، افغان ہمارے پشتون بھائی ہیں انہیں چاہیے پشتونوں کی روایات کا خیال رکھیں، پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا-

    ’آپریشن غضب اللحق‘: افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،عطا اللہ تارڑ

    دوسری جانب میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن غضب للحق کی حمایت میں عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا، افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف اورکزئی کے عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ریلی میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، شرکاء نے قومی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے،ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ، متعدد ملازمین زخمی

    شرکاء نے پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاک فوج کےشانہ بشانہ کھڑے رہنے کےعزم کا اظہار کیا، اس اجتماع کے ذریعے دشمن کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور عزم کا واضح پیغام دیا گیا۔

  • افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

    افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

    روسی وزارت خارجہ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے مشترکہ طور پر طالبان حکومت پر کڑی تنقید کی ہے ان کے مطابق طالبان کے زیرِ حکومت افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو روکا یا تحلیل نہیں کیا گیا، اور بار بار کیے گئے دعووں کے باوجود عملی اقدامات ناکافی ہیں۔

    روس کے مطابق بین الاقوامی نگرانی رپورٹس بشمول اقوام متحدہ، افغانستان میں القاعدہ اور متعلقہ دہشتگرد گروپس مختلف صوبوں بشمول غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور اورزگا ن میں تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورک چلا رہے ہیں، افغانستان نے خطے میں القاعدہ کے لیے تربیتی اور ہم آہنگی کا مرکز بن کر ترقی کی ہے، جبکہ داعش نے مشرقی اور شمالی علاقوں میں اپنی پائیدار موجودگی قائم کی ہے اور وسطی ایشیا میں توسیع کے طویل المدتی ارادے رکھتا ہے۔

    ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

    یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان خطے میں مسلسل غیر یقینی صورتحال اور دہشتگردی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، اور طالبان کے دعوے کہ ملک میں استحکام ہے، بین الاقوامی تشخیص کے مطابق درست نہیں ہیں۔

    رحیم یار خان:ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے کچے کے خطرناک ڈاکو نے سرنڈر کر دیا

  • افغان طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب

    افغان طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب

    پاکستان نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دہشتگردوں کے مرکزی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم فضائی کارروائی کے فوری بعد طالبان رجیم نے متا ثر ہ علاقوں تک افغان میڈیا اور شہریوں کی رسائی روک دی-

    دی ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق، افغان ریاستی زیر انتظام میڈیا نے صرف ضلع بہسود کے ایک ملبے کی فوٹیج دکھائی، جبکہ دیگر تباہ شدہ ٹھکانوں کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، پکتیکا، خوست، اور ننگرہار کے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ طالبان فورسز نے فضائی حملوں کے فوری بعد کئی علاقوں کو گھیر لیا۔

    مقامی شہریوں کے مطابق دہشتگرد کئی برس سے یہاں اپنے خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں خوگانی، ننگرہار، خوست اور دیگر متاثرہ مقامات پر صحافیوں کی جانے کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کارروائیوں میں ہلاکتوں کی اصل تعداد اور مکمل اثرات کیا ہیں۔

    پی ٹی آئی احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    ماہرین کے مطابق آزاد میڈیا کو رسائی نہ دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طالبان رجیم زمینی حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے مستند شواہد سے واضح ہے کہ افغانستان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان سمیت عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے میڈیا پر پابندی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے افغانستان میں قائم ہیں۔

    غیر فعال بینک اکاؤنٹس کی رقم کیسے حاصل کریں؟

  • کوئٹہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث  سب ایجنٹ افغان شہریوں سمیت گرفتار

    کوئٹہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث سب ایجنٹ افغان شہریوں سمیت گرفتار

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کوئٹہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک سب ایجنٹ کے ہمراہ افغان شہری بھی گرفتار کرلیے ہیں۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق سب ایجنٹ ڈرائیور عرفان کو گرفتار کیا، جس کے ساتھ 8 افغان باشندے بھی پکڑے گئے ہیں، اس ضمن میں مرکزی ملزمان گل بدین اور غمائی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے،دونوں مرکزی ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد ہوا، جس سے واٹس ایپ چیٹس، تصاویر اور دیگر ریکارڈ حاصل کیے گئے ہیں، جو انسانی اسمگلنگ میں اس کے ملوث ہونے کے واضح شواہد فراہم کرتے ہیں،اس کارروائی میں استعمال ہونے والی گاڑی اور رکشہ کو بھی ایف آئی اے نے تحویل میں لے لیا ہے گرفتار سب ایجنٹ کے براہِ راست افغانستان میں موجود ایجنٹ تاج محمد اور کامل کے ساتھ رابطے ہیں،ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں-

    پاکستان نے افغانستان میں جو بڑی سرجیکل سٹرائیکس کی ہے ان میں ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈڑوں کی نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں افغان طالبان اگرچہ جواب میں وہی روایتی جذباتی حربے استعمال کر رہے ہیں کہ گھروں ، عورتوں بچوں کو نشانہ بنایا، مسجد کو نشانہ بنایا وغیرہ فیک تصاویر بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ گھسے پٹے حربے ہیں افغان طالبان کے پالے ہوئے ٹی ٹی پی دہشت گرد پاکستان میں مساجد پر حملے کریں، عام آدمیوں کو نشانہ بنائیں، خواتین، بچے شہید ہوں، جوان نشانہ بنیں مگر ان دین کے نام نہاد ٹھیکے داروں طالبان کو کوئی پروا نہیں۔ پاکستان نے سٹرائیک کی تو اب واویلا شروع کر دیا۔

    ترجمان طالبان حکومت کی جانب سے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب افغانستان کے مشرقی علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور کارروائیوں کے بارے میں متعدد مرتبہ دستاویزی شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تشویش ظاہر کی جا چکی ہے پاکستان نے بار بار افغان علاقے سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کیا اور طالبان حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور نیٹ ورکس کو ختم کرے، جیسا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا۔ متعدد سرکاری و رسمی انتباہات جاری کیے گئے اور سیکیورٹی تعاون کے مکینزم کی تجاویز دی گئیں اس سے قبل کہ کوئی کارروائی کی جا ئے، سفارتی چینلز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ثالثی کے تمام امکانات استعمال کیے گئے۔

    پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ کارروائیاں کیں اور اپنی دفاعی حق کو جواز بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا۔ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے اصولوں کے مطابق، جب غیر ریاستی عناصر غیر ملکی علاقے سے حملے کرتے ہیں اور میزبان حکومت کارروائی میں ناکام رہتی ہے تو خود دفاع کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے حکمرانی میں ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی اور کارروائی کا موقع ملا ہے، جو ان کی موجودگی کے عوامی انکار کے برعکس ہے دہشت گرد نیٹ ورکس کی مسلسل سرپرستی یا برداشت نے ان کے دوبارہ گروہ بندی اور بیرونی حملوں کو ممکن بنایا ہے۔

    طالبان حکومت نے جان بوجھ کر ٹی ٹی پی کو مقامی آبادی میں آباد کیا جب بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ نشانہ بنایا جاتا ہے، طالبان حکومت فوری شہری نقصا نا ت کے دعوے کرتی ہے، بغیر کسی شفاف اور آزاد تصدیق کے اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار طالبان حکومت ہے، جس نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو شہری آبادی میں قائم رہنے دیا،پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی محض بیانیہ یا بیانات سے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کی شفاف طور پر تحلیل اور سرحد پار سیکیورٹی تعاون کے منظم اقدامات پر منحصر ہے۔

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 17.4 ملین افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی اور انتظامی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے باعث عوامی محرومی کی نشاندہی کر چکے ہیں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

  • افغانستان میں کارروائی صرف  آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    افغانستان میں کارروائی صرف آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے کہ یہ سرزمین کمزور نہیں بلکہ شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کاررو ا ئی اُن معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں، یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اُس ماں کے آنسوؤں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا اور ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے۔

    طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے انہوں نے خبردار کیا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا یہ وطن ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارا ایمان ہے انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔

    واضح رہے کہ آج شب پاکستان نے رات گئے افغانستان کے اندر قریباً 7 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں پاکستان کے خلاف برسرپیکار فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں۔