Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد کا وزارت ریلوے کا دورہ

    افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد کا وزارت ریلوے کا دورہ

    افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد کا وزارت ریلوے کا دورہ

    افغان ریلوے اتھارٹی کے وفد نے ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ پر آٹھویں سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے وزارت ریلوے کا دورہ کیا۔

    ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ پر سہ فریقی ورکنگ گروپ کا آٹھواں اجلاس وزارت ریلوے، اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان کی طر ف ایڈیشنل سیکرٹری ریلویز سید مظہر علی شاہ نے کی ، افغانستان سے ڈائریکٹر جنرل الحاج ملا بخت الرحمن شرافت اور ازبکستان کی طر ف سے قائم مقام ڈپٹی چیئرمین جناب کمالوف اکمل سیداکابارووچ نے کی ۔انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں منصوبے کی اہمیت، ابتدائی تکنیکی جائزوں پر ہونے والی پیش رفت اور فزیبلٹی اسٹڈی کے جلد آغاز کے لیے اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان میں دوران سفر جنسی سہولیات حاصل کریں،ٹکٹ پر لکھا دیکھ کر مسافرپھٹ پڑے

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    منصوبہ مزار شریف سے موجودہ ریلوے لنک کو پاکستان ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ کر پاکستان کو وسطی ایشیائی جمہوریہ سے کنیکٹ کرے گا۔ اس سے نہ صرف حصہ لینے والے ممالک کے درمیان علاقائی اور دوطرفہ تجارت کو آسان بنایا جا سکے گا بلکہ اس سے پورے خطے کے لوگوں کو بہتر روابط بھی فراہم ہوں گے۔ اجلاس شریک چیئرمینوں کے شکریہ پر اختتام پذیر ہوا۔

  • کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ، متعدد افراد جاں بحق

    کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ، متعدد افراد جاں بحق

    کابل: اتوارکو افغان دارالحکومت میں ایک فوجی ہوائی اڈے کے دروازے پر ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے دھماکے کی تصدیق کردی تاہم اس کی نوعیت نہیں بتائی۔

    عبدالنافی تکور نے بتایا کہ کابل ملٹری ایئرپورٹ کے باہر دھماکے میں ہمارے متعدد بے گناہ عام شہری شہید اور زخمی ہوئے واقعے کی اطلاع ملتے ہیں ریسیکیو ادارے اور سیکیورٹی فورسز پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر علاقے کو سیل کردیا، جبکہ تمام سڑکیں بند کردی گئیں۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا علی الصبح 8 بجے سخت حفاظتی انتظامات والے ہوائی اڈے کے احاطے میں فوجی ایریا میں ہوا۔

    امدادی کارکنوں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا ہے، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مشتبہ افراد کی گرفتاری کےلیے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں حال ہی میں داعش نے متعدد حملے کیے ہیں جن میں پاکستانی و روسی سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ سابق افغان وزیراعظم کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا۔

    طالبان حکام اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے سیکیورٹی میں بہتری لانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن متعدد بم دھماکے اور حملے ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی کا دعویٰ داعش گروپ کے مقامی باب نے کیا ہے۔

    گزشتہ ماہ کابل میں چینی کاروباری افراد کے لیے مشہور ہوٹل پر بندوق برداروں کے حملے میں کم از کم پانچ چینی شہری زخمی ہو گئے تھے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

    طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان کی اقلیتی برادریوں کے افراد سمیت سیکڑوں افراد حملوں میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

  • افغانستان کوامریکا، روس اورچین کےدرمیان اختلافات کا مرکز دیکھنا نہیں چاہتے،حامد کرزئی

    افغانستان کوامریکا، روس اورچین کےدرمیان اختلافات کا مرکز دیکھنا نہیں چاہتے،حامد کرزئی

    افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہےکہ وہ افغانستان کو امریکا، روس اور چین کے درمیان اختلافات کا مرکز دیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ جو انیسویں اوربیسویں صدی میں ہوا وہی اب ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی اخبار کو انٹرویو میں حامد کرزئی نے کہا ہے کہ طالبان اور ملک کیلئے یہی بہتر ہے کہ وسیع تر ڈائیلاگ کے ذریعے تمام طبقات پرمشتمل حکومت قائم کی جائے اور آئین بنایا جائے۔

    خواتین کی تعلیم پر پابندی:افغان پروفیسرنے لائیو ٹی وی شو میں اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹس…

    انہوں نے کہا کہ طالبان کے سینیئر لیڈرز سے بات ہوتی رہتی ہے، اصولی طورپر طالبان بھی وسیع تر ڈائیلاگ پر متفق ہیں اس لیے وہ پر امید ہیں کہ ایسا ہوگا وہ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں حکومت ٹوٹ جائے تاہم نمائندہ حکومت قائم ہونی چاہیے-

    سابق افغان صدر نے کہا کہ ہم ابھی تک نہیں پہنچے ہیں کہ ہمیں کہاں ہونا چاہئے۔ اس معاملے پر میری آخری بات چیت پچھلے ہفتے طالبان کے ایک بہت ہی سینئر رہنما سے ہوئی تھی میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم جلد ہی وہاں پہنچ جائیں گے میرے لیے یہ کہنا بہت قبل از وقت ہوگا۔ لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں پچھلے دو ہفتوں میں اس سے پہلے کے مقابلے میں بہتر وائبس کر رہا ہوں موجودہ صورتحال کی ذمہ داری امریکا اور افغانستان دونوں ہی پرعائد ہوتی ہے۔

    کرزئی نے کہا کہ ہم افغانستان میں حکومتوں کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ ہم افغانستان میں نمائندہ حکومتیں چاہتے ہیں،امریکہ اور افغانستان دونوں۔ ہم دونوں ذمہ دار ہیں۔ امریکہ کے ساتھ معاملات پر میرے بہت سے اختلافات اور جھگڑے ہوئے ہیں لیکن میں سارا الزام امریکہ کے پر نہیں ڈالوں گا۔ ہم افغان بھی بہت سے طریقوں سے ذمہ دار ہیں۔

    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا…

    کرزئی نے زور دیا کہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان کے منجمد فنڈز بحال کرے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دہشتگردی سے بدترین متاثرغریب ترین افراد کی رقم امریکا میں نائن الیون کے متاثرین کو دے دی جائے،جن کے ساتھ افغان عوام مکمل طور پر ہمدردی رکھتے ہیں ہم دہشتگردی کے سب سے بڑے متاثرین کے طور پر امریکی خاندانوں کے ساتھ مکمل طور پر ہمدردی کرتے ہیں جنہوں نے 11 ستمبر کے اس عظیم سانحہ میں جانیں گنوائیں –

    انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں استحکام لائے، دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے نام پر لڑی گئی جنگ حقیقت میں افغان عوام کے خلاف تھی اوراسی لیے انہوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔

    سابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی ذمہ داری امریکا پرعائد کی اس موقع پر پاکستان کے خلاف زہرافشانی بھی کی افغان عوام ملکی صورتحال اور سمت پرتشویش کاشکار ہیں، مگر جلد صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

    ایران اپنے ملک میں احتجاج کرنیوالی خواتین کو قائل کرے،طالبان کا خواتین معاملہ پر…

  • ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،افغان وزیر تعلیم

    کابل: طالبان کا کہنا ہے کہ ایٹم بم بھی گرا دیا جائے، خواتین سے متعلق فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے-

    باغی ٹی وی : طالبان کے ہائرایجوکیشن اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے کہا ہےاگر وہ ہم پر ایٹم بم گراتے ہیں تو ہم خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گےعالمی برادری کی جانب سے پابندیوں کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب خواتین کے کام کرنے پر عارضی پابندی پر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حکام کی تنقید کی مذمت کردی اور اسے افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امریکی حکام کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اتوار کو افغانستان میں خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے سے روکنے کے طالبان کے فیصلے کی مذمت کی۔

    بوریل نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین، انسانی امداد اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات کے سب سے بڑے فراہم کنندگان میں سے ایک کے طور پر، بین الاقوامی انسانی قوانین اور اصولوں کا احترام کرنے کے اپنے عزم کے تحت طالبان سے فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے یورپی یونین اس فیصلے کے افغان عوام کو امداد جاری رکھنے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گی۔

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا…

    ہفتے کے روز طالبان نے افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ خواتین کو ملازمت دینے سے روک دیں، تاہم طالبان نے غیر ملکی خواتین کارکن کے حوالے سے اپنے ہدایت کی وضاحت نہیں کی تھی۔

    افغان طالبان نے حجاب سمیت خواتین ملازمین کے لیے مناسب ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے کے فیصلے کو جواز بنایا اور فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والی تنظیموں کے لائسنس معطل کرنے کی دھمکی دی۔

    طالبان کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی اور اس فیصلے سے امداد کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ عالمی برادری نے کہا کہ طالبان کا یہ فیصلہ ملک میں خواتین کی آزادی اور حقوق کو محدود کے ضمن میں آتا ہے۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

  • خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

    کابل:افغانستان کی حکومت کی جانب سے خواتین کو کام نہ کرنے کا حکم دینے کے بعد تین غیر ملکی فلاحی تنظیموں (این جی اوز) نے اپنے آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق غیر سرکاری تنظیموں کے اعلان کے فوری بعد اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور این جی اوز نے خبردار کیا کہ افغانستان میں انسانی امداد کو سخت نقصان پہنچے گا۔

    سیو دی چلڈرن، ناورے کی ریفیوجی کونسل اور کیئر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم خواتین عملے کے بغیر افغانستان میں ضرورت مند بچوں، خواتین اور مردوں تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمیں اس اعلان کے حوالے سے وضاحت نہیں ملتی، ہم اپنے پروگراموں کو معطل کر رہے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں مرد اور خواتین یکساں طور پر جان بچانے والی امداد جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ 24 دسمبر کو افغان طالبان نےتمام مقامی اور غیر ملکی فلاحی تنظیموں کو خواتین ملازمین کو کام پر نہ بلانے کی ہدایت جاری کی تھی۔ترجمان وزارت اقتصادیات عبدالرحمٰن حبیب نے بتایا تھا کہ خواتین کے لباس سے متعلق ’اسلامی قوانین‘ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تمام افغان خواتین اگلے نوٹس تک کام نہیں کرسکتیں۔

    یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ افغان طالبان کے حکم کا اطلاق اقوام متحدہ کے زیر انتظام کام کرنے والی این جی اوز پر بھی ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے بڑی تعداد میں کام کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ کے نائب خصوصی نمائندے برائے افغانستان رمیز الکباروف نے اے ایف پی کو بتایاتھا کہ اس پابندی سے لاکھوں افراد تک امداد کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی، اور ملک کی خستہ حال معیشت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انسانی امداد کو آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے جاری رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا، اس کے لیے خواتین کی شرکت بہت اہم ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ ہم اس حوالے سے حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے اور پابندی واپس لینے کا مطالبہ کریں گے۔رمیز الکباروف نے اتوار کو بتایا کہ آج فلاحی تنظیموں کے حکام کا اجلاس ہوا، جس میں یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ آیا تمام این جی اوز اپنے آپریشنز معطل کریں گی یا نہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ پابندی سے اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں پر اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی فراہمی کی ہماری صلاحیت اور خوراک اور غیر غذائی اشیا جیسی امداد فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت پر براہ راست اثر پڑے گا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر بھی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور افغانستان میں بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔23 دسمبر کو جامعہ الازہرکے امام نے طالبان کے خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسلامی شریعت سے خلاف قرار دیا تھا۔اسلامی تعلیم کی مشہور جامعہ کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔شیخ احمد الطیب نے افغان حکام سے خواتین پر تعلیم کی پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی، انہوں نے کہا کہ افغان خواتین کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی پابندی پر جامعہ الازہر کو شدید افسوس ہے۔

  • خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا ہے،امریکا

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا ہے،امریکا

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے افغانستان میں خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ طالبان کی پابندی سے لاکھوں افراد کو اہم اور جان بچانے والی امداد میں خلل پڑے گا، یہ فیصلہ افغان عوام کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب یورپی یونین نے بھی این جی اوز میں خواتین کےکام کرنے پر پابندی کےفیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، اس کا اثر ہماری امداد پر پڑے گا۔

    یاد رہے کہ افغانستان میں وزارت اقتصادی امور کی جانب سے خواتین پر این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے-

    افغان میڈیا کے مطابق افغان وزارت معاشی امور کی جانب سے تمام مقامی اور غیر ملکی تنظیموں کو خواتین ملازمین کو کام پرنہ بلانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی پر این جی اوز کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔
    https://twitter.com/PublicAfghan/status/1606655169210421248?s=20&t=JxuEm1zG-5sGcm8EMlGYbA
    پابندی کا اطلاق افغانستان میں کام کرنے کرنےو الی 180 بین الاقوامی تنظیموں پر ہو گا تاہم اقوام متحدہ کے زیر نگانی کام کرنے والی این جی اوز کو استثنیٰ حاصل ہے۔

    وزارت اقتصادی امور کے ترجمان عبدالرحمان حبیب نے بیان میں کہا ہے کہ خواتین کے لباس سے متعلق اسلامی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی ہے،پابندی پر عمل نہ کرنے والی تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جس کے باعث انہیں عالمی برادری کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

  • افغانستان میں خواتین کی اعلی تعلیم پر پابندی، سعودی عرب اور یورپی یونین کی بھر پور مذمت

    افغانستان میں خواتین کی اعلی تعلیم پر پابندی، سعودی عرب اور یورپی یونین کی بھر پور مذمت

    جدہ: : سعودی عرب نے طالبان سے کابل میں خواتین کی اعلی تعلیم پرعائد پابندی کا فیصلہ واپس لینے پر زور دیا ہے۔

    باگی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس فیصلے پر حیرت اورافسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ’ تمام مسلم ممالک کو بھی اس پرحیرت ہے،یہ فیصلہ افغان خواتین کے جائز شرعی حقوق کے بھی منافی ہے-

    افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت 2 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا

    وزارت نے کہا کہ ان حقوق میں تعلیم کاحق سرفہرست ہے جس کی بدولت خواتین اپنے ملک اورعوام کی خوشحالی، ترقی اور امن و استحکام میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں ا-

    سلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی افغان خواتین پر یونیورسٹیوں کے دروازے بند کرنے پرافغان حکومت کی مذمت کی ہے۔

    او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے ایک بیان میں افغان خواتین پر یونیورسٹیوں کے دروازے غیر معینہ مدت تک بند کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    بیان میں کہا گیا کہافغان حکومت کے فیصلے پراسلامی تعاون تنظیم کو تشویش ہے۔ سیکریٹری جنرل اوران کے ایلچی برائے افغانستان کئی بارافغان حکام کو اس جیسے فیصلوں کے نتائج سے خبردار کرچکے ہیں سیکریٹری جنرل کے ایلچی برائے افغانستان نے رواں برس نومبر میں دورہ کابل کے موقع پربھی یہ انتباہی پیغام پہنچایا تھا-

    اسی طرح یورپی یونین نے افغانستان میں خواتین کو تعلیم سے روکنے کے فیصلے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دے دیا۔

    ’’ جی 7 ‘‘ اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دیگر ممالک نے بھی طالبان کی جانب سے یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کے داخلہ پر پابندی لگانے اور افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی جانب سے اپنے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو استعمال کرنے کے امور پر دیگر سخت پابندیاں لگانے کے حالیہ فیصلوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    زندہ جلانے کی دھمکی،شاہ رخ خان کے مداحوں نے ہندو پنڈت کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا

    یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان ایسے اقدامات سے خود کو افغان آبادی اور عالمی برادری سے مزید الگ تھلگ کر رہے ہیں۔ ای یو نے طالبان سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھی کردیا۔

  • بارڈرپرکشیدگی کم کرنےکیلئےعلما، عمائدین اور تاجروں پر مشتمل 16 رکنی جرگہ افغانستان روانہ

    بارڈرپرکشیدگی کم کرنےکیلئےعلما، عمائدین اور تاجروں پر مشتمل 16 رکنی جرگہ افغانستان روانہ

    چمن بارڈر پر پاک افغان صورتحال میں بہتری کیلئے مقامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

    باغی ٹی وی : مقامی انتظامیہ کے مطابق ممتاز علما، عمائدین اور تاجروں پر مشتمل 16 رکنی جرگہ افغانستان روانہ ہوگیا جہاں افغان حکام سے بات کی جائے گی علماء کرام اور قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگہ پاک افغان سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے سلسلے میں افغان حکام سے مذاکرات اور بات چیت کریں گے۔

    افغانستان جانے سے قبل نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے جرگہ رکن مفتی قاسم کا کہنا تھاکہ صلح، امن اور دوستی کا پیغام لے کر افغانستان جارہے ہیں، افغان حکام سے رابطوں میں مثبت ردعمل ملا ہے عام شہریوں کا مالی وجانی نقصان کسی کے مفاد میں نہیں۔

    ملک عبدالخالق اچکزئی کا کہنا تھا کہ امید ہے مذاکرات اور رابطوں کے نتیجے میں سرحدی تناؤ ختم ہوجائے گا۔

    خیال رہے کہ 15 دسمبر کو افغان فورسز کی گولہ باری سے چمن میں ایک شہری شہید اور 15 زخمی ہوگئےتھےجبکہ پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 افغان سرحدی پوسٹیں تباہ ہو گئی تھیں اس سے قبل 11 دسمبر کو بھی افغان فورسز کی پاکستان کے شہری علاقوں پر گولہ باری سے 7 افراد شہید اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔

  • افغانستان:طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی

    افغانستان:طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی

    افغانستان میں طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنےکے بعد پہلی بار ایک قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دے دی۔

    باغی ٹی و ی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ مغربی صوبے فراہ میں ایک شخص کو موت کی سزا دی گئی جس پر الزام تھا کہ اس نے 2017 میں ایک شخص کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔

    جرمن سکیورٹی فورسز نے بغاوت اورریاستی اداروں پر حملے کرنےکا منصوبہ ناکام بنادیا

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق مقتول کے والد نے اسٹیڈیم میں بھرے مجمع کے سامنے مجرم کو 3 گولیاں مار کر اپنے بیٹےکا قصاص لیا، مجرم کو طالبان کی 3 عدالتوں نے قصور وار قرار دیا تھا، مجرم کو قتل کے جرم کے اعتراف کے بعد سزا دی گئی۔
    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600484237102153737?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا اور میڈیا پر اس حوالے سے خبروں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ بدلے میں قاتل نے مقتول کے والد کو تین گولیاں ماریں یہ سچ نہیں ہےجوسوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں بدلہ لینے کےلیےآج قاتل نےمقتول کےوالد کو کلاشنکوف کے وار کر کے قتل کر دیا لنک پر جو ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں وہ حقیقی نہیں ہیں۔

    آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی، بابر اعظم ایک درجہ ترقی کے بعد تیسرے نمبر…

    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600438257640087552?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    سزائے موت کے وقت سپریم کورٹ کے ججز، قائم مقام وزیرداخلہ سراج الدین حقانی، نائب وزیراعظم ملاعبدالغنی برادر، دیگر وزرا سمیت فوجی عہدیدار اور متعدد طالبان رہنما بھی موجود تھے۔
    https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600412615787675648?s=20&t=5kePZezATlavsx7CRO_jUQ
    رپورٹ کے مطابق سزا سے قبل طالبان کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں عوام سے مقررہ وقت پر اسٹیڈیم میں جمع ہونے کو کہا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے گزشتہ ماہ شرعی قوانین مکمل طور پر نافذ کرنےکی ہدایت کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ کے ججز نے بھی شرعی قوانین کے نفاذ کی ہدایت کی تھی تاہم طالبان کی جانب سے سرکاری طور پر جرائم اور ان سے متعلقہ سزاؤں کی باقاعدہ وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

    فیفا ورلڈکپ میں مراکشی کھلاڑیوں نے فتح کے بعد فلسطین کا جھنڈا لہرا دیا

  • بین الاقوامی دہشتگرد افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے،امریکا

    بین الاقوامی دہشتگرد افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی دہشتگرد افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے-

    باغی ٹی وی : واشنگٹن میں اپنی پریس بریفنگ کے دوران نیڈ پرائس نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ طالبان وعدوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں، افغانستان ایک بار پھر کہیں بین الاقوامی دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بن جائےخطے میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے پاس صلاحیتیں موجود ہیں، ہم نے القاعدہ کے امیر ایمن الظواہری کی ہلاکت کے ساتھ ان صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

    پاکستان 2075 تک دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن جائے گا،امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈ مین ساکس کی پیشگوئی

    ترجمان امریکی وزارت خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گرد افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے، خطے میں دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنےکیلئےجو ہوا کریں گے، ایسے تمام اقدامات کیے جائیں گے جس سے ہمارے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔

    انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو متحرک ہوتے دیکھا ہے، دیکھنا ہے کہ دہشتگرد افغانستان کو پاکستان پر حملوں کیلئے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کریں۔

    نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خطے میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    امریکا نے شیریں ابو عاقلہ قتل کیس بین الاقوامی جرائم کی عدالت لے جانے کی مخالفت کر دی

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام سے امدادی گرانٹ ملتی ہے، یہ پروگرام پیشہ ورانہ فوجی تعلیم،آپریشنل اورتکنیکی کورسزفراہم کرتا ہےیہ پروگرام ہمارے دونوں ممالک کےدرمیان فوجی تعاون کو مستحکم کرتاہےیہ پروگرام دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے کیلئے جاری ہے اور یہ تعاون خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔

    ڈاکٹر اسد مجید کے خارجہ سیکرٹری بننے پر امریکی رد عمل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نےمسلسل ان جھوٹی اور بزدلانہ افواہوں کی تردید کی ہے، ہم صرف پاکستانی عوام اور پاکستان کے آئینی نظام کے مفاد میں ہیں ہم پاکستان میں کسی ایک امیدوار یا کسی ایک شخصیت کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے، ہم جس چیز کے حق میں ہیں وہ پاکستان کا آئینی نظام ہے۔

    چینی صدرتین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے