Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • ورام اپ میچ: افغانستان کا پاکستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا

    ورام اپ میچ: افغانستان کا پاکستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے وارم اپ میچ میں پاکستان اور افغانستان کا میچ بارش کے باعث ختم کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : 155 رنز کے تعاقب میں پاکستان نے اپنی اننگز میں 2.2 اوورز میں 19 رنز بنائےتھے جس کے بعد بارش کے باعث میچ روک دیا گیا جو دوبارہ شروع نہ ہوسکا جس کے باعث امپائر کو میچ ختم کرنا پڑا۔

    برسبین میں کھیلے جارہے وارم اپ میچ میں فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے افغانستان کے خلاف شاندار بولنگ کا آغاز کیا اور افغانستان کی دو وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ٹی20 ورلڈکپ کے وارم اَپ میچ میں افغانستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 155 رنز کا ہدف دیدیا۔


    ps://twitter.com/TheRealPCB/status/1582561683922628608?s=20&t=kwB7Zc1Wqtk0Aw8NOTh0Mw
    برسبین میں کھیلے جارہے میچ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ٹاس جیت کر افغانستان کو بیٹنگ کی دعوت دی، افغان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 154 رنز بنائے۔

    اوپنر حضرت اللہ ززئی 9، رحمان اللہ گرباز 0 پر آؤٹ ہوئے، مڈل آرڈر میں ابراہیم زادران 35 رنز بناکر نمایاں رہے۔ کپتان محمد نبی نے میچ کےاختتامی لمحات میں جاحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا انہوں نے 17 گیندوں پر51 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ عثمان غنی نے انکا ساتھ دیتے ہوئے 32 رنز بنائے۔

    فاسٹ بولر شاہین نے افغان کرکٹر رحمان اللہ گربز کو پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کیا ، جس کے بعد شاہین حضرت اللہ زازئی کو صرف 9 ہی رنز پر پویلین بھیجنےمیں کامیاب ہوگئےافغانستان کی تیسری وکٹ فاسٹ بولرحارث رؤف نے لی حارث نے دروش رسولی کو 7 گیندوں پر 3 رنز پر آؤٹ کیا-


    قومی ٹیم کی قیادت بابر اعظم کررہے ہیں جبکہ افغانستان ٹیم کی قیادت محمد نبی کررہے ہیں پاکستانی اسکواڈ میں محمد رضوان، شان مسعود، حیدر علی، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد نواز، شاداب خان، آصف علی، محمد وسیم، حارث رؤف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور محمد حسنین شامل ہیں۔


    وارم اپ میچ میں فخر زمان کے علاوہ تمام کھلاڑی حصہ لیں گے، فخر زمان ری ہیب میں شامل اپنی ٹریننگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان بھی وارم اپ میچ میں بیٹنگ کریں گے۔

    قبل ازیں پاکستان کو اپنے پہلے وارم اَپ میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    کابل: افغانستان کے صوبہ غور میں لڑکی نے سنگنسار ہونے کی سزا سے بچنے کیلئے خود کشی کر لی-

    باغی ٹی وی: خبر ایجنسی کے مطابق افعانستان کے صوبہ غور میں پسند کی شادی کے لیے گھر سے فرار ہونے والے جوڑے کو طالبان اہلکاروں نے پکڑ کر زنا کے الزام میں سنگسار کی سزا سنادی۔

    مقامی طالبان حکام کے مطابق خاتون جس شخص کے ساتھ گھر سے بھاگی تھی وہ شادی شدہ مرد تھا لڑکے کی سزا پر عمل درآمد 13 اکتوبر کو پھانسی دے کر کردیا گیا تھا اور آج لڑکی کو سرعام سنگسار کی سزا دی جا رہی تھی تاہم لڑکی نے عین موقع پر اسکارف سے اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرلی۔

    غور کے لیے طالبان کے صوبائی پولیس چیف کے ترجمان عبدالرحمٰن نے کہا کہ یہ واقعہ، جس میں سرعام سنگساری کی سزا پانے والی ایک خاتون نے سزا ملنے سے پہلے خودکشی کر لی، صوبے کے ڈولائنہ ضلع میں خواتین کی جیل نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔

    طالبان سیکیورٹی اہلکار کے مطابق، خاتون نے اسکارف سے خود کو گلا گھونٹ لیا، سزا ملنے سے پہلے ہی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    طالبان حکومت کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ غور کے ڈولائنہ ضلع میں مرد اور عورت کی شادی ہوئی تھی لیکن ایک دوسرے سے نہیں اور وہ گھر سے بھاگ گئے تھے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے مرکزی بینک سمیت تمام عالمی فنڈز منجمد کردیئے گئے تھے جس کے باعث ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور ملک میں غربت کے ڈیرے ہیں لوگ اپنی بیٹیاں فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس تمام صورت حال کے باعث افغان لڑکیوں میں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کےرجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ طالبان حکومت نے انہیں سنگسار کرنے یا سرعام کوڑے مارنے کا فیصلہ کیا ہے خواتین اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔

    خیال رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان میں حکومت قائم کی تھی اور تب سے لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم، خواتین کی ملازمتوں اور نامحرم کے بغیر سفر کرنے پر پابندی ہے یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیوروں اور دیگر شہری نقل و حمل کی خدمات کو طالبان نے محرم کے بغیر خواتین کو سروس فراہم کرنے سے منع کیا تھا۔

  • اقوام متحدہ کا افغان معیشت کی ڈرامائی گراوٹ پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کا افغان معیشت کی ڈرامائی گراوٹ پر تشویش کا اظہار

    افغان معیشت کی تیزی سے گرتی صورتحال پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یواین ڈی پی) نے اپنی رپورٹ میں افغان معیشت کی ڈرامائی گراوٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یواین ڈی پی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغان معیشت تباہی کا شکار ہے، افغان معیشت کے استحکام میں دس سال لگے تباہ ہونے میں ایک سال سے بھی کم عرصہ لگا۔

    امریکا اورطالبان کے درمیان دوحا معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے وقت افغان معیشت کا حجم 20 ارب ڈالر تھا، ایک سال میں افغان معیشت کا حجم 5 ارب ڈالر سکڑا ہے۔

    ڈائریکٹریواین ڈی پی کا کہنا ہے کہ 10 سالوں میں بنائے گئے اثاثے اوردولت کو 10 ماہ میں ضائع کیا گیا، معیشت کی اس قسم کی ڈرامائی تباہی دنیا میں نہیں دیکھی۔

    انہوں نے کہا کہ اگست 2021 کے بعد سے کھانے پینے کی چیزوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا، افغانی شہری اپنی آمدن کا 60 سے 80 فیصد حصہ خوراک اورایندھن پرخرچ کرتے ہیں، 95 سے 97 فیصد افغانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکر رہے ہیں۔

    افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کیلئے چین نے پھرمطالبہ کردیا

    ڈائریکٹر یو این ڈی پی نے مزید کہا کہ 2022 کے وسط تک افغانستان میں7 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے جن میں اکثریت خواتین کی تھی، جنوبی افغانستان میں ہرپانچ میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ افغانستان میں اگلے تین سالوں میں نجی شعبے کی بحالی کے ذریعے 20 لاکھ ملازمین پیدا کرنا چاہتی ہے۔

    امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل…

  • افغانستان کی سرزمین کوپاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان کی سرزمین کوپاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کوپاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گےہماری سرزمین کسی بھی ملک کےخلاف استعمال ہوئی تو ذمہ دار کوگرفتارکرکےغداری کا مقدمہ چلائیں گے کیونکہ کالعدم ٹی ٹی پی گروپ کی جانب سے پوری دنیا کو انسداد دہشت گردی کی یقین دہانیوں پر شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے کابل کے دفتر میں وائس آف امریکا کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ انتباہ جاری کیا، سرحد پار دہشت گردانہ حملوں میں حالیہ اضافے میں درجنوں پاکستانی سکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں تازہ ترین حملہ جمعہ کو اس وقت ہوا جب “افغانستان کےاندر سے دہشت گردوں” نے پاکستانی فوجیوں پر فائرنگ کی، جس میں ایک فوجی شھید ہوا۔

    کابل، سکول میں دھماکہ،19 افراد کی موت،27 زخمی

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو ایسی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ٹی ٹی پی نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کو دھمکی نہیں دیں گے، افغانستان اور پاکستان سرحد پہاڑوں اور مُشکل علاقوں سے گزرتی ہے۔

    ذبیح اللہ ،جاہد نےکہا کہ امریکہ اور اتحادی افواج کےانخلاء کے بعد طالبان کی واپسی نے دو دہائیوں سےجاری جنگ کا خاتمہ اور افغانستان کے بیشتر حصے میں امن قائم کر دیا ہے۔تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ سرحدی حفاظت طالبان فورسز کے لیےبدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔

    ایران کا عراقی کردستان پرڈرون حملہ، 13افراد ہلاک متعدد زخمی

    انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں سے گزرنے والی ایک طویل (باؤنڈری) لائن ہے ۔ یہاں تک کہ ایسےحصے بھی ہیں جہاں ہماری افواج نےابھی تک قدم نہیں جمائے ہیں اورنہ ہی انہیں محفوظ بنانےکےلیےفضائی مدد کی ضرورت پڑی ہے۔

    طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہوں، اور اگر ایسا ہے تو، یہ لوگ سب سےپہلے افغانستان کے خلاف بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں کسی ملک کے خلاف افغانستا ن کی سرزمین استعمال کرنے پرایسے عناصر کو گرفتار کر کے سزا ملنی چاہیے-

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے معاملہ سنجیدگی سے زیرغور ہے، پاکستان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، پاکستان کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔

  • افغانستان سے دہشت گردوں کا پاک فوج پر حملہ:پاک فوج کا جوان شہید

    افغانستان سے دہشت گردوں کا پاک فوج پر حملہ:پاک فوج کا جوان شہید

    افغانستان سے دہشت گردوں نے پاکستانی فوج پر حملہ کردیا، واقعے میں ایک جوان شہید ہوگیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغانستان سے دہشت گردوں نے ضلع کرم کے علاقے خرلاچی میں پاکستانی فوج پر فائرنگ کی پاک فوج کے جوانوں نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔

    ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے ميں پاک فوج کا سپاہی جمشید اقبال شہيد ہوگیا، 27 سالہ سپاہی کا تعلق چنیوٹ سے ہے۔

    آئی ایس پی آر نے پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ عبوری افغان حکومت مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سرحدوں کے دفاع کيلئے پرعزم ہے،بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • صدیوں پرانا روٹ بحال، چین نے انقلاب برپا کردیا:چین کی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی

    صدیوں پرانا روٹ بحال، چین نے انقلاب برپا کردیا:چین کی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی

    افغانستان اور چین کے مابین تجارت کا اہم سنگ میل اور افغان معیشت کیلئے بڑی خبر ہے کہ چین سے تجارتی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی۔

    چین سے روانہ ہونے والی تجارتی کارگو ٹرین کرغیزستان اور ترکمانستان سے ہوتے ہوئے صدیوں پرانے سلک روٹ استعمال کرتے ہوئے جمعرات کو تجارتی سامان لے کر چین سے افغان دارالحکومت کابل پہنچی۔

    یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔افغانستان میں چین کے سفیر، امارات اسلامیہ کے اعلیٰ حکام اور وزراء نے چین سے آنے والی تجارتی ٹرین کا استقبال کیا۔

    کرغیزستان اور ازبکستان سے سلک روٹ کو استعمال کرتی ہوئی یہ ٹرین 10 روز میں افغانستان پہنچی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے اس صدیوں پرانے روٹ کی بحالی سے معیشت میں بہتری کی قومی امید ہے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کیلئے چین نے پھرمطالبہ کردیا

    افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کیلئے چین نے پھرمطالبہ کردیا

    بیجنگ :چین نے کہا ہے کہ امریکا فوری طور پر افغان منجمد اثاثوں کو بحال کرے اور افغان اثاثوں کی افغانستان کو مکمل اور آزادانہ ادائیگی کرے۔

    ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤننگ کا کہنا ہے کہ افغان مرکزی بینک کے امریکا میں منجمد اثاثے افغان قومی ملکیت ہیں جو افغانوں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں، افغان منجمد اثاثوں کی فوری، مکمل اور آزادانہ ادائیگی ہونی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ افغان اثاثے افغان عوام کی فلاح کے لیے کسی مداخلت کے بغیر استعمال ہونے چاہئیں، امریکہ افغان اثاثوں کو فوری غیر منجمد کرے اور یکطرفہ پابندیاں ہٹائے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا افغانستان میں امن و استحکام کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس اگست میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد امریکی حکام نےامریکہ میں موجود افغان مرکزی بینک کے 7 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دئیے تھے، گزشتہ روز امریکہ نے افغانستان کے 3.5 بلین ڈالر کے اثاثے سوئٹزرلینڈ کے افغان فنڈ میں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    آج سے 21 برس قبل 11 ستمبر 2001 بروز منگل خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کئے ان میں سے دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت تیسرے طیارے کا ہدف پینٹاگون اور چوتھے طیارے کا ہدف ممکنہ طور پر واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل تھی ۔

    چار طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ تھے اور انہوں نے جہاز اڑانے کی تربیت بھی امریکہ میں ہی حاصل کی تھی ان لوگوں کا مقصد ایک ہی دن امریکہ کے اہم اور حساس مقامات پر حملہ کر کے دنیا کی توجہ امریکہ کے مظالم کی طرف مبذول کروانی تھی ۔

    امریکی وقت کے مطابق صبح 08.46 منٹ پر پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ٹاور کی 93 نمبر سے 99 نمبر تک منزلوں کو شدید نقصان پہنچا، میڈیا کے لئے یہ انتہائی اہم خبر تھی موقع پر فوراً میڈیا کوریج شروع ہو گئی اور لائیو کوریج کے دوران ہی پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کے تقریباً 18 منٹ بعد 09.03 منٹ پر دوسرا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا جسے کروڑوں لوگوں نے لائیو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

    طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اور تقریباً 2606 افراد کی ہلاکت ہوئی ان ہلاک شدگان میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو حادثے کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ حادثے میں زخمی ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک ہوئے ۔

    تیسرے اغوا شدہ طیارے نے امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09.37 پر نشانہ بنایا اس حملے میں عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے، چوتھا طیارہ اپنی ممکنہ منزل پر طیارے میں موجود مسافروں یا عملے کی مزاحمت کی وجہ سے نہ پہنچ سکا اور مقامی وقت کے مطابق 10.03 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا ۔

    ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں، تمام طیاروں کے مسافروں عملے اور ہدف عمارتوں میں موجود لوگوں سمیت مجموعی طور پر 2977 افراد مارے گئے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا، حملہ کرنے والے ہائی جیکروں نے اپنے تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ وہ اپنے ایک ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔

    امریکہ نے تحقیقات کے نتیجے میں ان حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا اور القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن پر خالد شیخ محمد کے ذریعے دہشت گرد حملے کی پلاننگ کرنے اور حملے کے لئے دہشت گردوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اسامہ بن لادن کا اس وقت قیام افغانستان میں تھا چنانچہ امریکی حکومت نے اس وقت کی افغانستان کی حکومت کے سربراہ ملا عمر سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    افغانستان کی حکومت نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے حوالے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اسامہ افغانستان میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر انہوں نے بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال کیا ہے تو ہم ان کے اس طرزِ عمل کی بالکل حمایت نہیں کرتے آپ ہمیں اسامہ کے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کریں ہم ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں گے ۔

    طاقت کے نشے میں چور جارج ڈبلیو بش نے ملا عمر کی اس آفر کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن ملا عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ جارج بش نے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا اس حملے کے نتیجے میں افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا لیکن امریکہ اسامہ بن لادن کو ختم نہ کر سکا۔

    امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور انکار پر پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔

    پاکستان کی افغانستان میں جنگ کے دوران مبہم پالیسیوں کی وجہ سے طالبان اور القاعدہ دونوں پاکستان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مختلف گروپوں نے ردعمل کے طور پر پاکستان میں خودکش دھماکے شروع کر دیئے ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر شدید بوجھ پڑا جبکہ ان مہاجرین میں موجود جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور سیاحت تقریباً ختم ہو گئی ۔

    ملاعمر بعد میں بیمار ہو کر فوت ہوئے،نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانا موبے رکھا گیا جہاں سے ان کے بارے میں مزید خبر نہیں ہے جبکہ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارے گئے ابھی حال ہی میں اسامہ کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی بھی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں ہیں ۔

    امریکہ 20 سال افغانستان میں اپنا گولہ بارود ضائع کر کے اور معیشت کی تباہی کر کے واپس جا چکا ہے افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت آ گئی ہے القاعدہ بھی اپنے نئے سربراہ کے ساتھ پرانے نظریات پر کام کر رہی ہے، القاعدہ سے بڑی شدت پسند تنظیم داعش کا بھی ظہور اور قلع قمع ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے اس گناہ بے لذت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے اور اس وقت پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا کہ اب اس کے اتحادی اور مخالف دونوں اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔

  • کوہ نور :  تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت —  ارشد خان صافی

    کوہ نور : تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت — ارشد خان صافی

    ملکہ برطانیہ کے وفات کے تناظر میں کئی تاریخی واقعات و نوادرات کے علاوہ کوہ نور ہیرے کا تذکرہ بھی پھر سے ہونے لگا جو کہ اب شاہی قانون کے تحت بادشاہ بننے والے شہزادہ چارلس کی بیگم کامیلا پارکر کو منتقل ہوجائیگا! کچھ دوستوں کی گزارش پر اس تاریخی نادر پتھر اور شاہی زیور پر مختلف ممالک کی دعویداری کے قانونی پس منظر پرکچھ گزارشات حسب ذیل ہیں:

    مرغی کے چھوٹے انڈے کے سائز کا ہیرا کوہ نور عام تاثر کے برعکس نا تو دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اور نا ہی یہ مغلوں کے جواہرات کے خزانے کا سب سے شاندار ہیرا تھا لیکن قرون وسطیٰ سے لیکر آج تک کئی عظیم شاہی خاندانوں کے تاج و تخت کی زینت بننے اور عالمی محلاتی سیاست میں اسکے کردار کی وجہ سے یہ آج دنیا کے بیش قیمت بلکہ انمول نوادرات میں سرفہرست ہے-

    تخت برطانیہ کے تصرف میں یہ ہیرا 1849 میں دوسرے اینگلو-سکھ جنگ کے برطانوی فتح کیساتھ اختتام پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی اور رنجیت سنگھ کے 11 سالہ پوتے اور جانشین دلیپ سنگھ کے درمیان معاہدہ لاہور کے تحت آیا جس کےساتھ تخت لاہور پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ اقتدار کے دوران 39 سالہ سکھ راج کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا-

    لارڈ ڈلہوزی نے پنجاب کو برٹش انڈیا میں شامل کرکے کوہ نور ہیرے کے ساتھ دلیپ سنگھ کو بھی ملکہ وکٹوریہ کے پاس برطانیہ بھیج دیا تھا جہاں پر بعد میں وہ عیسائی مذہب اختیار کرکے برطانوی اشرافیہ کا حصہ بن گیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس "معاہدے” کو میری ناقص معلومات میں کبھی برطانوی حکومت نے کوہ نور پر تاج برطانیہ کی ملکیت کے واحد قانونی جواز کے طور پر پیش نہیں کیا- اسکی وجہ ظاہر ہے یہی ہےکہ برطانیہ کے اپنے کامن لاء کیمطابق بھی ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ جبر کی حالت میں کے گئے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے-

    اسکے برعکس ہیرے پر ہر دعوے کے جواب میں برطانیہ کے سرکار کا عمومی سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہیرے کے تاریخی طور پر کئی دعویداروں کی موجودگی میں اسکی ملکیت کے معاملے کو حل کرنا ممکن نہیں جن میں کئی افراد کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کی ریاستیں بھی شامل ہیں لہٰذا یہ تاج برطانیہ کے پاس ہی بہتر ہے-

    کوہاٹ (خیبر پختونخوا) میں شاہی پسمنظر کی بدولت انگریز دور میں جاگیر رکھنے والے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے پرنس سلطان سدوزئی کے خاندان کے ایک فرد نے درانی سلطنت کے ایک جانشین کی حیثیت سے 1993 میں آنجہانی ملکہ الزبتھ کو ایک خط لکھ کر کوہ نور کو انکے خاندانی وراثت کے طور پر پاکستان واپس کرنے کی درخواست کی تھی-

    جواب میں 18 اکتوبر 1993 کو لکھے گیے ایک خط میں بکنگھم پلس کے رائل کولکشنز کے ایدمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے ملکہ کی توسط سے خط کیلئے شکریہ اور ابدالی کے خاندان کیلئے احترام کے جذبات کے ساتھ انتہائی مہذب انداز میں اسی بنیاد پر ان کی درخواست رد کردی تھی کہ بوجوہ اس ہیرے کے بیشمار دعویدار ہیں-

    کوہ نور پر متعدد قانونی دعویداروں کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ ہیرا کچھ روایات اور مستند تاریخ کیمطابق قرون وسطیٰ (چودھویں صدی عیسوی سے پہلے) میں جنوب مشرقی بھارت کے ساحلی ریاست اندرا پردیش میں کرشنا دریا کے کنارے کلور کے کانوں میں نکالا گیا تھا- مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدّین بابر کی سولہویں صدی میں لکھی سوانح حیات تزک بابری کے مطابق مغلوں سے پہلے دہلی کے سب سے طاقتور مسلمان حکمران علاالدّین خلجی نے چودھوی صدی کےاوائل میں جنوبی ہند میں اپنے فتوحات کے دوران اس ہیرے کو دکن کی مقامی کاکٹیا حکمرانوں سے چھینا تھا-

    سلطان علاالدّین خلجی اصلی نام علی گرشاسپ تھا اور وہ موجودہ افغانستان کے زابل صوبے میں قلات خلجی کے ترکمن سردار شمس الدین مسعود کا بیٹا تھا- خلجی سلطنت کے بعد کوہ نور تغلق، سیدوں اور لودھی پٹھانوں سے ہوتے ہوۓ مغل شہشاہوں کے ہاتھ آیا اور مغلوں کے عروج کے دور میں تاج محل کے معمار شاہجہان نے اسے کئی دوسرے جواہرات کے ساتھ اپنے مشہور تخت طاؤس کا حصہ بنایا! سو سال بعد مغلوں کے زوال کے دورکے نااہل ترین عیاش حکمران محمد شاہ رنگیلاکے رہے سہے سلطنت پر 1739 میں جب ایران کے آتش مزاج پادشاہ نادر شاہ افشار نے حملہ کیا تو دہلی کے لوٹ مار کے ساتھ تخت طاؤس اور کوہ نور بھی ایران لے گیا- ملتان میں پیدا ہونے والے جوان سال پشتون احمد شاہ ابدالی جنہوں نے بعد میں کندھار اور لاہور کو اپنے مراکز بنا کرموجودہ افغانستان اور پاکستان پر مشتمل درانی سلطنت بنائی اس وقت نادر شاہ کے پسندیدہ کمانڈر کے طور پر ایرانی فوج کے افسر تھے-

    نادر شاہ کے اچانک قتل کے بعد دشمنوں سے خوفزدہ انکے نواسے نے اپنی حمایت کے عوض کوہ نور احمد شاہ ابدالی کو دے دیا اور اس طرح بعد میں یہ دبنگ احمد شاہ بابا کے عیاش کابلی نواسے اور درانی سلطنت کے سب سے نااہل کابلی حکمران شاہ شجاع کو وراثت میں مل گیا-

    1813 میں شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ اور خطے میں قدم جماتے انگریزوں کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت کابل اور کندھار کی حکمرانی کو انکے حریف برکزئی امیروں کے قبضے سے واپس چھڑانے میں مدد اور پنجاب میں پناہ کے بدلے نا صرف کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کیا بلکہ رنجیت سنگھ کو پشاور پر قبضہ کرنے میں سہولتکاری کا وعدہ بھی کیا- آخر کار کوہ نور انگریزوں کے ہاتھوں رنجیت سنگھ کے سلطنت کے خاتمے کے ساتھ اپنے موجودہ مقام پر پہنچا جسکا خلاصہ میں شروع میں کر چکا ہوں!

    مندرہ بالا تاریخ کے تناظر میں بھارت کی حکومت نے پہلی دفعہ 1976 میں باضابطہ طور پر برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اسی سال پاکستان کے وزیراعظم زوالفقارعلی بھٹو نے بھی "تاریخی بنیاد” پر یہ مطالبہ پاکستان کیلئے کیا- اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جم کلنگھن نے دونوں ملکوں کا مطالبہ "قانونی وجوہات” کا جواز بنا کر مسترد کردیا! اس کے بھارت میں طویل عرصے تک اس معاملے پربھارتی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن پر شنوائی ہوتی رہی اور پارلیمنٹ میں اس پرقراردادیں منظور ہوتی رہیں جبکہ پاکستان میں اس سلسلے میں قابل ذکر کیس بیرسٹر جاوید جعفری کا لاہور ہائی کورٹ میں داخل 2016 کا پٹیشن تھا جو انکے مطابق انکی طرف سے برطانوی حکومت کو 700 سے زیادہ خطوط کا کوئی مثبت جواب نا ملنے پر کورٹ نے قابل سماعت قرار دیا تھا-

    انہی دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا کیس اختتامی مراحل میں تھا- پاکستان کیلئے کوہ نور کے دعویداروں کا موقف یہ تھا کہ ہیرے کے آخری قانونی دعویدار احمد شاہی خاندان ہو یا رنجیت سنگھ، چونکہ شاہ شجاع بھی تخت لاہور کا اپنی مرضی سے اتحادی بن گیا تھا اسلئے دونوں صورتوں میں یہ "تخت لاہور” سے معاہدہ لاہور کے جبری سمجھوتے کے تحت ایک غیر ملکی غاصب کمپنی نے زبردستی بٹورا ہے اسلئے اسے واپس لاہور بھیج دیا جاۓ- برطانوی حکومت کا نیا موقف بھی قانونی جواز سے زیادہ متضاد دعووں کی وجہ سےعملی پیچیدگیوں کی بنیاد پر تھا جسکا اظہار برٹش رائل کولکشنز کے ایڈمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے خیبرپختونخوا پاکستان کے پرنس طیفور جان کو ان کے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے ایک مستند وارث کی حیثیت سے کوہ نور پر اسکے دعوی کے سرکاری جواب میں 1993 میں کیا تھا-

    پاک و ہند کے روایتی متضاد دعووں کے درمیان سب سے دلچسپ اور سیدھا سادہ دعوا افغانستان پر 11/9 سے پہلے حکمران ملا عمر کے طالبان امارت سے آیا! اکتوبر 2000 میں طالبان کے امارت اسلامی کے خارجہ امور کے ترجمان فیض احمد فیض نے کسی قانونی اور تاریخی باریکیوں میں پڑے بغیر براہراست ملکہ الزبتھ سے مطالبہ کیا کہ "کوہ نور افغانستان کا قانونی اثاثہ” ہے جسکو "اور کئی قیمتی چیزوں کی طرح انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں چوری کیا ہے” جو کہ طالبان اب واپس لاکر اپنے ملک کی تعمیر نو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں اسلئے کوہ نور کو جلد از جلد واپس کیا جاۓ تاکہ اسکو کابل میوزم میں رکھا جاسکے”- اسکیلئے علاوہ طالبان نے رنجیت سنگھ کو "ایک بڑا غدار” قرار دیا جس نے کوہ نور چوری کیا تھا اسے کسی نے دیا نہیں تھا-

    حکومت برطانیہ نے ظاہر ہے طالبان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوۓ اس مطالبے پر غور کرنے سے انکار کردیا لیکن ساتھ میں ریاست افغانستان کے دعوے کو مکمل مسترد نا کرکے ایک اور ممکنہ دعویدار کے ہونے کی بحث کھول دی- برطانیہ کا ان متضاد اور متعدد دعووں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی اور ہیرے کی واپسی کے معدوم امکانات کے پیش نظر بھارت میں نریندرا مودی جیسے قوم پرست حکومت نے بھی 2016 میں سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں کوہ نور پر برطانوی ملکیت کو اس تاریخی طور پرغلط جواز کے تحت تسلیم کردیا کہ کوہ نور کو رنجیت سنگھ نے خود برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا گو کہ اسکا "عوامی” سطح پر بھارت کا موقف اب بھی اسکے برعکس ہے اور تقریبا اسی سے ملتا جلتا مبہم سا موقف پاکستانی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں اختیار کیا- اس طرح جائز یا ناجائز کوہ نور اتنے دعویداروں کی موجودگی میں تاج برطانیہ کے پاس رہا اور شائد ہمیشہ رہیگا!

  • پاکستان اور افغانستان کے میچ میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے تماشائیوں پر بھاری جرمانہ عائد

    پاکستان اور افغانستان کے میچ میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے تماشائیوں پر بھاری جرمانہ عائد

    ایشیا کپ 2022 میں پاکستان اور افغانستان کے میچ میں ہنگامہ آرائی کرنے والے تماشائیوں پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے شارجہ میں ہونے والے میچ کے بعد اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کرنے والے ہر تماشائی کو 3، 3 ہزار درہم یعنی تقریباً پاکستانی 2 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔


    دبئی پولیس کی جانب سےتوڑ پھوڑ کرنے والوں کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئندہ ایسا کیا تو جیل اور ڈی پورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔


    یاد رہے کہ دبئی کے پولیس حکام نے شارجہ اسٹیڈیم میں ہنگامہ آرائی کرنے والے 97 افغانیوں کو گرفتار کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں سے بھی پاکستانی شائقین سے ہاتھا پائی کرنے پر 117 افغانیوں اور مجموعی طور پر 391 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    دبئی میں ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کےبعد افغانستان کو شکست دی تھی جس پر پہلے افغان کھلاڑی نے پاکستانی کرکٹرآصف سےبدتمیزی کی اور بُرے القاب کے ساتھ پکارا-

    اس کے بعد نسیم شاہ نے آخری اوور میں لگاتار دوچھکے مار کر میچ پاکستان کے نام کر دیا تو پھر اسٹیڈیم میں موجود افغان تماشائیوں نے پاکستانیوں پر تشدد کیا اوراسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی جس پر عرب امارات کی حکومت نے سخت فیصلہ کیا ہے-

    دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے بھی ایشیاء کپ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کا نوٹس لیتے ہوئے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    آئی سی سی نے پاکستانی کھلاڑی آصف علی اور افغانستان کے فرید احمد کے درمیان ہونےوالے سخت جملوں کے تبادلے اور نوک جھونک کا نوٹس لیتے ہوئے میچ فیس کا 25فیصد بطور جرمانہ عائد کیا ہے-