Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • ڈرون حملہ،کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ،امریکا

    ڈرون حملہ،کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ،امریکا

    29 اگست کو افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں 7 بچوں سمیت 10 معصوم شہری مارے گئے تھے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ کابل میں امریکی ڈرون حملے پر کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    ترجمان پینٹاگون جان کربی نے کہا ہے کہ وزیر دفاع کو کابل ڈرون حملے سے متعلق رپورٹ ملی جس میں احتساب کی تجویز نہیں تھی۔

    انگلینڈ :آسمان پر قدرت کے عجیب و غریب مظاہر،تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں امریکا نے اعتراف کر لیا تھا کہ 29 اگست کو کابل میں امریکی ڈرون حملے میں 10 معصوم شہری مارے گئے تھےامریکی سینٹرل کمانڈ کمانڈر جنرل کینتھ مکینزی نے کہا تھا کہ ڈرون حملے میں امدادی کارکن اور اسکے خاندان کے 9 افراد مارے گئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تفتیش کے بعد صحافیوں کو بریفنگ میں جنرل کینتھ مکینزی نے کہا تھا کہ امریکی ڈرون حملہ ایک غلطی تھی، جس پر معذرت خواہ ہوں۔

    امریکی وزیر دفاع Lloyd Austin نے بھی معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ مارے جانے والے 10 افراد کا داعش خراسان سے تعلق نہیں تھا اس سنگین غلطی سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں گے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی یواے ای کے ولی عہد سے ملاقات

  • افغانستان میں خطرناک انسانی بحران :عالمی ڈونرز کا افغانستان کے منجمد 28 کروڑ ڈالر جاری کرنے کافیصلہ

    افغانستان میں خطرناک انسانی بحران :عالمی ڈونرز کا افغانستان کے منجمد 28 کروڑ ڈالر جاری کرنے کافیصلہ

    کابل:عالمی ڈورنرز نے افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے منجمد فنڈز سے اٹھائیس کروڑ ڈالر جاری کرنے کافیصلہ کرلیا۔

    عالمی بینک کے مطابق یہ رقم صحت اور خوراک کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسف کو منتقل کی جائے گی۔ دونوں اداروں کے پاس افغانستان میں عام شہریوں تک براہ راست امداد پہنچانے کی سہولت موجود ہے۔

    فنڈز میں سے یونیسیف کو 100 ملین ڈالر اور ورلڈ فوڈ پروگرام کو 180 ملین ڈالر دیے جائیں گے۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کو بدترین بحران قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تقریبا دو کروڑ 30 لاکھ افراد کو شدید سردی میں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

     

    یاد رہےکہ انہیں حالات کے پیش نظر ہندوستان نے افغانستان میں   انسانی صورتحال کے پیش نظرطبی سامان کی ایک کھیپ ہفتے کو کابل کام ایئر طیارے سے بھیجی ہے۔

    طبی سامان کی کھیپ کام ایئر کے خصوصی طیارے کے ذریعے بھیجی گئی ہے، جس سے جمعہ کو 10 ہندوستان اور 94 افغان نئی دہلی آئے تھی ۔

    ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادویات کابل میں عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیوایچ او) کے نمائندوں کو سونپی جائے گی اور اس شہر کے اندرا گاندھی چلڈرن اسپتال میں تقسیم کی جائیں گی۔

     

     

     

     

     

    دوسری جانب دہلی میں افغانستان کے نمائندے فریدماموندزئی نے ایک ٹویٹ کرکے جانکاری دی کہ ہندوستان سے طبی امداد کی پہلی کھیپ آج صبح کابل پہنچی۔ 1.6 میٹرک ٹن جان بچانے والی دوائیں اس مشکل وقت میں بہت سے خاندانوں کی مدد کریں گی۔ "انھوں نے اس کے لئے ہندوستان کے لوگوں کا شکریہ اداکیا۔

     

     

    ادھر افغآنستان اور ہندوستان کے درمیان باہمی تجارت اور انسانی بنیادوں پر خوراک کی فراہمی بھی پاکستان کے راستے جلد شروع ہونے کا امکان ہے ، جس کے حوالے سے پاکستان نے افغان حکومت کواپنے تعاون کی بھرپور یقین دہانی کروائی ہے

  • نئی افغان حکومت سے ہندوستان کے تعلقات بہتر ہونے لگے:ہندوستان نے بھی تحفہ بھیج دیا

    نئی افغان حکومت سے ہندوستان کے تعلقات بہتر ہونے لگے:ہندوستان نے بھی تحفہ بھیج دیا

    نئی دہلی:نئی افغان حکومت سے ہندوستان کے تعلقات بہتر ہونے لگے:ہندوستان نے بھی تحفہ بھیج دیا ا،طلاعات کے مطابق ہندوستان نے افغانستان میں چیلنجنگ انسانی صورتحال کے پیش نظرطبی سامان کی ایک کھیپ ہفتے کو کابل کام ایئر طیارے سے بھیجی ہے۔

    طبی سامان کی کھیپ کام ایئر کے خصوصی طیارے کے ذریعے بھیجی گئی ہے، جس سے جمعہ کو 10 ہندوستان اور 94 افغان نئی دہلی آئے تھی ۔

    ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادویات کابل میں عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیوایچ او) کے نمائندوں کو سونپی جائے گی اور اس شہر کے اندرا گاندھی چلڈرن اسپتال میں تقسیم کی جائیں گی۔

     

    ہندوستانی حکومت کی مدد سے جمعہ کو 10 ہندوستانیوں اور افغان اقلیتی برادری کے اراکین سمیت 94 افغان باشندوں کو کام ایئر کے خصوصی طیارے کے ذریعے نئی دہلی لایا گیا ۔

    اقلیتی برادری کے ارکان اپنے ساتھ گورو گرنتھ صاحب کے دو نسخے اور کچھ قدیم ہندو نسخے لے کر آئے تھے۔

    ’آپریشن دیوی شکتی‘ کے تحت اب تک کل 669 افراد کو افغانستان سے نکالا گیا ہے۔ ان میں 448 ہندوستانیوں اور افغان ہندو/سکھ اقلیتی برادی کے اراکین سمیت 206 افغانسانی شامل ہیں.

    دوسری جانب دہلی میں افغانستان کے نمائندے فریدماموندزئی نے ایک ٹویٹ کرکے جانکاری دی کہ ہندوستان سے طبی امداد کی پہلی کھیپ آج صبح کابل پہنچی۔ 1.6 میٹرک ٹن جان بچانے والی دوائیں اس مشکل وقت میں بہت سے خاندانوں کی مدد کریں گی۔ "انھوں نے اس کے لئے ہندوستان کے لوگوں کا شکریہ اداکیا۔

    ادھر افغآنستان اور ہندوستان کے درمیان باہمی تجارت اور انسانی بنیادوں پر خوراک کی فراہمی بھی پاکستان کے راستے جلد شروع ہونے کا امکان ہے ، جس کے حوالے سے پاکستان نے افغان حکومت کواپنے تعاون کی بھرپور یقین دہانی کروائی ہے

  • یورپی یونین کے 15 ممالک کا 40 ہزار افغان طالبان مخالف افغانوں کو پناہ دینے کا اعلان

    یورپی یونین کے 15 ممالک کا 40 ہزار افغان طالبان مخالف افغانوں کو پناہ دینے کا اعلان

    برسلز:یورپی یونین کے 15 ممالک کا 40 ہزار افغان طالبان مخالف افغانوں کو پناہ دینے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے 15 رکن ممالک کے گروپ نے 40 ہزار افغانوں کی دوبارہ آبادکاری پر اتفاق رائے کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کی کمشنر یلوا جانسن نے جمعرات کو یہ اعلان وزرائے داخلہ کے اجلاس کے بعد کیا۔

    اے ایف پی نے ایک دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمنی سب سے زیادہ افغان شہریوں کو پناہ دے گا جن کی تعداد 25 ہزار ہے۔

    ’نیدرلینڈز نے 3 ہزار 159 جبکہ سپین اور فرانس نے پچیس پچیس سو افغانوں کی دوبارہ آبادکاری پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘
    یلوا جانسن کا کہنا ہے کہ ‘میرا خیال ہے کہ یہ اظہار یکجہتی کا ایک متاثرکن اظہار ہے۔

    جوہانسن نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ افغانوں کو کنٹرول شدہ طریقے سے ہجرت کرنے کی اجازت دینے سے ’غیر قانونی آمد‘ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے یورپی یونین پر زور دیا تھا کہ وہ پانچ برسوں میں 42 ہزار 500 افغان باشندوں کو آباد کرے تاہم 27 رکن ممالک میں سے کچھ کی جانب سے اس کی مزاحمت کی گئی تھی۔

    ادھر یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ اس حوالے سے چند عرب ملکوں کو بھی مجبور کررہا ہے کہ وہ ان افغان شہریوں کو پناہ دے کرشہریت دیں جن کو افغان طالبان سے خطرہ ہے ،اس سلسلے میں معلوم ہوا ہےکہ عرب امارات ، قطر اور بحرین سمیت دیگرکئی ملک امریکی مشورے پرعمل کرنے کے حوالے سے مثبت کردار ادا کریں‌گے

  • تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’پرامن اور خوش حال جنوبی ایشیا کے عنوان سے ’اسلام آباد کا نکلیو۔2021‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ’انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز‘ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آج اس مجلس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ لائق تحسین اقدام ہے۔ ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے ’وژن 2023‘ پر عمل درآمد کے ضمن میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ’اسلام آباد کانکلیو‘ ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے تحقیق اور مکالمے کے ذریعے پاکستان کے نکتہ نظر کے فروغ دینے کے لئے اٹھائے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’اسلام آباد کانکلیو‘ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے پانچ مراکز_ فضیلت (Centers of Excellence) کی پانچ سالہ کاوشوں کا نکتہ عروج ہے۔ اس کے ذریعے ممتاز پاکستانی و بین الاقوامی ماہرین کو دو روزہ مکالمے کے لئے جمع کیاگیا ہے جو مختلف نشستوں میں شرکت اور اظہار خیال فرمائیں گے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوگی کہ عالمی اور علاقائی منظر نامے کے وسیع بیانیہ کو آپ کی خدمت میں عرض کروں اور پھر امن وترقی کے لئے پاکستان کی سوچ اور بصیرت کا خاکہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ ہماری دنیا تبدیل ہورہی ہے۔ کثیرالقومیت کے نظریہ کو تنہائی پسندی یا یک طرفہ سوچ کی قوتیں توڑ رہی ہیں۔ ممالک قوم پرستانہ ایجنڈوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ طاقت کا اظہار ایک نیا معمول بنتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور کشمکش بڑھتی جارہی ہے جو تصادم کی طرف کھنچ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی مخالفتیں اور رقابتیں جنم لے سکتی ہیں اور دنیا کو پھر سے ’دھڑوں‘ کی سیاست کی نذر کررہی ہیں۔ ایک نئی سردجنگ کا ظہور ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کے انباروں میں اضافہ اور نئی ابھرتی ہوئی جنگی ٹیکنالوجی سے حربی امور کے بنیادی تقاضے ہی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ جارحانہ جنگی نظاموں کے منظر عام پر آنے، اشتعال انگیز نظریات کی رونمائی اور جارحانہ جنگی قوت کا اظہار، کشدگیوں کو بڑھانے اور فوجی مہم جوئی جیسے عوامل، پہلے سے سٹرٹیجک عدم استحکام کے شکار ہمارے خطے کے لئے مزید خطرات کا موجب بن رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں سٹرٹیجک استحکام کے لئے جوہری صلاحیتوں سے متعلق متفقہ طور پر طے شدہ پابندیاں اور روایتی افواج ناگزیر ہیں۔ جنوبی ایشیاءدنیا کی تقریباً ایک چوتھائ آبادی کا مسکن ہے جہاں ’نیٹ سکیورٹی پروائیڈر‘ جیسے نظریات کا فروغ پانا، خطے کے دیگر ممالک کے جائز سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مفادات سے کلیتاً صرف نظر کرنا ہے۔یہاں کے عوام کے درمیان استوار تاریخی، ثقافتی، لسانی، نسلی اور جغرافیائی رابطوں سے قطع نظر، جنوبی ایشیاءتنازعات، جنگی جنون اور عدم اعتماد میں پھنسا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تنازعہ جموں وکشمیر ایک دیرینہ اور قدیم ترین مسئلے کے طورپر موجود ہے جو تا حال کشمیر کے بہادر عوام کی امنگوں کے مطابق حل کا منتظر ہے۔ اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لئے تباہ کن ہوگا۔یہ خطہ چین اور بھارت کے درمیان جنگی محاذ آرائی، نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ کا مشاہدہ بھی کرچکا ہے۔ سری لنکا نے اپنی تاریخ کے 25 سال میں خونریز بغاوت کا سامنا کیا ہے۔ افغانستان چار دہائیوں سے تنازعے سے گزرتا آرہا ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں قومی سلامتی حکمت عملی میں انسانی سلامتی کو مرکزیت دینے کی ضرورت ہے۔ یعنی سلامتی پر مبنی پالیسیز سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کی طرف جانا ہوگا۔ یہ ہے وہ حقیقی چیلنج جس کا آج جنوبی ایشیاء سامنا کررہا ہے۔ پاکستان نے اپنی توجہ تبدیل کرکے جیواکنامکس کی طرف مبذول کی ہے۔ خطے کو جوڑنا آج کا وہ لفظ ہے جسے مرکزیت و مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ہمیں قومی اور علاقائی ترقی کے لئے بے پناہ مواقع فراہم کرسکتا ہے۔پاکستان کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے چین کے مغربی حصوں اور وسط ایشیائی جمہوریتوں کی عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کی سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری کا طرہ امتیاز ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ (سی پیک) رابطوں کی استواری کا ایک بہترین اور مثالی منصوبہ ہے۔ پاکستان کی معاشی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ’سی پیک‘ خطے کو جوڑنے کیلئے بھی ایک اہم راستہ ہے۔جنوبی ایشیاء کی خوش حالی کے لئے خطے میں علاقائی تعاون لازم ہے۔ سارک کو تنگ نظر سیاسی ایجنڈوں سے آزاد کرکے زندہ وفعال کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے خطے کے اندر تجارت انتہائی کم ہے، تجارت، شاہراتی نظام اور رابطوں میں حائل رکاوٹیں اور پابندیاں دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کسی عالمی یا علاقائی تنازعے کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور صرف امن وترقی میں شریک کار رہنے کی راہ منتخب کی ہے۔ پاکستان اجتماعیت اور تعاون کی حامل سوچ وفکر پر مبنی وسیع تر معاشی واقتصادی شراکت داری پر زور دے رہا ہے۔

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت سارے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو معاشی سٹرکچرل وجوہات سے پیدا ہونے والے بہت سارے غیرروایتی سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے جن میں ماحولیاتی تغیر، غذا، توانائی اور آبی بحران، آبادی میں اضافے، بے محابہ شہروں کے بڑھنے اور غربت جیسے مسئلے شامل ہیں۔ نہایت فوری نوعیت کی تشویش کا باعث بننے والا مسئلہ، ماحولیاتی تغیر کا ہے جس کے براہ راست اثرات غذا اور آبی سلامتی پر ہوتے ہیں۔ عمران خان حکومت قومی سلامتی کے لیے، لاحق اس سنگین خطرے کا اداراک کرتے ہوئے ان اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ تجارت وسرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، انرجی سکیورٹی، زراعت، سیاحت میں تعاون اور عوامی رابطوں میں اضافہ ہماری ترجیحات ہیں۔ ہماری بنیادی دلچسپی پرامن اور مستحکم ’عالمی نظم‘ (انٹرنیشنل آرڈر) ہے جو سب کو اعتماد میں لے کر چلے۔پاکستان پرامن بقائے باہمی، تعاون پر مبنی کثیرالقومیت اور اتفاق رائے کی حامل فیصلہ سازی کے اصولوں کے عزم پر کاربند ہے۔ خطے اور دنیا میں امن، ترقی اور خوش حالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے ہم اجتماعیت کے حامل عالمی نظام (گلوبل آرڈر) کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم بیانیوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ پاکستان کے بیانیوں کی تشکیل اور ان کا فروغ ہم سب کے لئے ایک قومی ذمہ داری ہے۔ فیصلہ سازوں اور محقیقین کے درمیان خلیج کو پاٹنا ہوگا اور اتفاق رائے کے حامل بیانیوں کو پیش کرنا ہوگا، ’اسلام آباد کانکلیو‘ جیسے فورمز اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میں اس مجلس سے سامنے آنے والی سفارشات سے استفادہ کے لئے منتظر ہوں۔

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

  • ملالہ دنیا بھر کی خواتین اور بچیوں کے لئے مشعل راہ ہیں، امریکی وزیر خارجہ

    ملالہ دنیا بھر کی خواتین اور بچیوں کے لئے مشعل راہ ہیں، امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی دنیا بھر کی خواتین اور بچیوں کے لئے مشعل راہ ہیں، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ملالہ کے خیالات سے متاثر ہوں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد افغان خواتین کے حقوق کے لیے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن سے خصوصی ملاقات کی جس میں ملالہ نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے حق کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا ہے۔

    ترک صدر طیب اردگان پر قاتلانہ حملہ ناکام بنادیا گیا

    ملالہ یوسف زئی نے بتایا کہ افغان لڑکیاں اس وقت کالج یونیورسٹی سطح کی تعلیم سے محروم ہیں وہ تعلیم کے لیے افغان لڑکیوں اور سماجی کارکنان کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ان سب کا یہی کہنا ہے کہ ملازمت اور تعلیم ان کا بنیادی حق ہے۔


    امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں ملالہ نے 15 سالہ افغان لڑکی کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا گیا تھا کہ جتنا لمبے عرصے تک تعلیمی اداروں کے دروازے خواتین پر بند رہیں گے، ایک بہتر مستقبل کی ہماری امیدیں اتنی ہی دم توڑتی جائیں گی امن اور استحکام کے لئے بچیوں کی تعلیم لازم و ملزوم ہے خواتین کے تعلیم جاری نہ رکھنے کا اثر افغانستان پر بھی پڑے گا۔ بطور ایک انسان میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے انسان کی طرح میرے بھی حقوق ہیں۔

    عالمی بینک نے افغانستان کو بڑی خوشخبری سُنا دی

    ملالہ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ افغان بچیوں کو تعلیم کے حق سے محروم نہیں ہونے دیں گے، ملالہ نے افغان اساتذہ کی تنخواہوں کا فوراً بندوبست کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے صحافیوں کے سامنے ملالہ یوسفزئی کو خوش آمدید کہتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ان کے کام کو قابل تقلید قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور صدر بائیڈن کے لئے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اہم معاملہ ہے اور ملالہ جس طرح اپنے کام سے تبدیلی لا رہی ہیں اور نوجوان لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لئے راہ ہموار کر رہی ہیں وہ مشعلِ راہ ہے۔

    یو این جنرل اسمبلی میں افغان نشست نہ ملنے پر طالبان کا ردعمل

  • بھارت سے گندم کی اجازت:افغان حکومت کا پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم

    بھارت سے گندم کی اجازت:افغان حکومت کا پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم

    کابل: بھارت سے گندم کی اجازت:افغان حکومت کا پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم،اطلاعات کے مطابق افغانستان نے بھارت سے گندم لے کر آنے والے ٹرکوں کو براستہ واہگہ اور طورخم افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    دفترخارجہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ پاکسان نے فیصلہ کیا ہے کہ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم اور جان بچانے والی ادویات کی بھارت سے افغانستان منتقلی کے لیے سہولت دی جائے گی۔

     

     

    افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے افغانستان کی وزیر خارجہ امیر خان متقی کو ہفتے کو ملاقات کے دوران فیصلے سے آگاہ کیا۔

    بعد ازاں افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقاہر بلخی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ملاقات میں تجارت اور بھارت سے گندم کی منتقلی کے حوالے سے سہولت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ امیر خان متقی نے افغانستان کے ٹرکوں میں گندم کی منتقلی کی اجازت دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    اس سے قبل اکتوبر کے اوائل میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں مذاکرات کے دوران بھارتی وفد نے طالبان حکومت کے رہنماؤں سے غیررسمی ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اسلام آباد سے درخواست کریں کہ وہ پاکستان کے راستے بھارت سے افغانستان گندم لے جانے کی اجازت دیں۔

    جس کے بعد امیر خان متقی نے معاملے کو نومبر میں دورہ اسلام آباد کے دوران اٹھایا تھا اور وزیراعظم عمران خان نے انہیں یقین دلایا تھا کہ پاکستان اس درخواست کا جائزہ لے گا۔

  • یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ

    یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ

    قطر:یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق یورپین ممالک نے افغانستان میں اپنا مشترکہ سفارتی مشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تائید فرانس کے اس بیان کے بعد ہوئی ہےجس میں کہا گیا ہےکہ فرانس کئی یورپی ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے کاخواہشمند ہے

    طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد دارالحکومت کابل میں امریکا اور یورپ سمیت کئی ممالک نے اپنے سفارتخانے بند کردیے ہیں تاہم پاکستان، چین اور روس سمیت چند ممالک کے سفارتخانے کام کررہے ہیں۔

    تاہم اب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس سمیت کئی یورپی ممالک کے افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے کا اشارہ دیا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سےگفتگو میں کہا کہ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے پر کام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں سکیورٹی مسائل کو حل کرنےکی ابھی بھی ضرورت ہے۔

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھاکہ افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔

  • پاکستان نے انسانی ہمدردی  پر گندم سمیت بھارتی سامان افغانستان بھجوانے کی اجازت دیدی

    پاکستان نے انسانی ہمدردی پر گندم سمیت بھارتی سامان افغانستان بھجوانے کی اجازت دیدی

    اسلام آباد:پاکستان نے افغان حکومت کی درخواست پر گندم سمیت بھارتی سامان افغانستان بھجوانے کی اجازت دیدی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے انسانی ہمدردی کے طور پر گندم کی فراہمی سمیت بھارتی سامان افغانستان بھجوانے کی اجازت دیدی۔

    تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے افغانستان کو ادویات اور گندم کی فراہمی کے معاملے پر پاکستان نے بھارتی سامان افغانستان بھجوانے کی اجازت دیدی ہے، بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے فیصلہ سے آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ بھارت کی طرف سے گندم بذریعہ واہگہ طورخم بارڈر افغانستان جائے گی۔

    یاد رہے کہ افغانستان میں انسانی بحران کے بعد طالبان حکومت نے عالمی اداروں سے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کی درخواست کی تھی، اسی دوران اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر بروقت افغانستان کی مدد نہ کی گئی تو وہاں پر حالات خراب ہوسکتے ہیں،لہٰذا تمام ممالک افغانستان کی مدد کریں۔

    اقوام متحدہ کی طرف سے اپیل کے بعد پاکستان سمیت تمام ممالک نے امداد فوری طور پر افغانستان بھیجی جبکہ بھارت نے 50ہزار میٹرک ٹن گندم سمیت دیگر اشیاء دینے کی پیشکش کی تھی اور یہ اشیاء پاکستان کے راستے افغانستان جانا تھی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس کے دوران اس پیشکش کو منظور کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے تحت یہ گندم پاکستان کے راستے افغانستان تک پہنچانے کا عزم کیا تھا۔

    دوسری طرف کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے پرپاکستان اور کپتان دونوں کا شکریہ ادا کیا ہے ، یہ بھی کہا گیا ہےکہ افغان حکومت پاکستان کی افغان قوم کےلیے قربانیوں اورخدمات کی تہہ دل سے معترف اور مشکور ہے