Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا  اہم اور خطرناک سبب

    افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا اہم اور خطرناک سبب

    بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا بھاری مقدار میں فوجی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا ایک اہم اور خطرناک سبب بن چکا ہے۔

    بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں رہ گیا تھا، جس میں 4 لاکھ 27 ہزار سے زائد ہلکے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز، تھرمل آلات اور دیگر جدید جنگی سامان شامل تھا۔

    دی ڈپلومیٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ جدید آلات طالبان کے قبضے میں آ گئے، جو اب ان کی بنیادی عسکری طاقت بن چکے ہیں، 2021 میں طالبان نے تقریباً 10 لاکھ کے قریب فوجی سازوسامان پر قبضہ کیا تھا، تاہم طالبان نمائندوں کے مطابق اس ذخیرے کا کم از کم نصف حصہ اب لاپتا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ فروخت، اسمگل یا ضائع ہو چکا ہے، جس نے خطے میں سلامتی کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کابل اور قندھار میں اسلحہ کی غیرقانونی منڈیاں اس غیرقانونی پھیلاؤ کی واضح علامت بن رہی ہیں، جبکہ یہ ہتھیار سرحد پار شدت پسند گروہوں تک بھی پہنچ رہے ہیں، پاکستان اس صورتحال کے سب سے زیادہ فوری اور مہلک اثرات کا سامنا کر رہا ہے،جدید ہتھیاروں تک رسائی کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کی شدت اور مہارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، پاکستان میں ضبط ہونے والے متعدد ہتھیاروں کے سیریل نمبر افغان فورسز کو دیے گئے امریکی ہتھیاروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز اورمسلح کواڈ کاپٹرزکے استعمال کے خطرات بھی بڑھ چکے ہیں جبکہ نائٹ ویژن اور تھرمل صلاحیتوں نے دہشتگردوں کی کارروائیوں کو مزید مہلک بنا دیا ہےپاک فوج دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بھرپور مزاحمت کر رہی ہے، تاہم رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو کابل کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز سے لاجسٹک اور ٹھوس معاونت ملتی رہی ہے،افغانستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے اوراسلحہ کی کھلی دستیابی پاکستان کے لئے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں اسلحہ کے پھیلاؤ اور دہشتگردی کے خطرات پر مؤثر توجہ دی جائے، ہتھیاروں کی ٹریکنگ، غیر قانونی اسلحہ منڈیوں کے خلاف کارروائی اور طالبان پر دباؤ خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

  • پاک  افغان کشیدگی:چین کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

    پاک افغان کشیدگی:چین کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور باہمی تنازعات پر چین کابھی ردعمل سامنے آ گیا-

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائیں، باہمی اختلافات اور تنازعات کو سفارتی سطح پر بات چیت سے فوری طور پر حل کریں،پاکستان اور افغانستان دونوں ہی چین کے روایتی اور دوستانہ پڑوسی ممالک ہیں اور یہ دونوں بھی ہمیشہ ایک دوسرے کے پڑوسی رہیں گے۔

    اُن کے بقول چین کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک اختلافات اور تنازعات کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کریں، کشیدگی کو کم کریں اور مل کر خطے کو پُرامن اور مستحکم رکھیں،اس موقع پر چینی ترجمان نے یہ پیشکش بھی کی کہ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے اور پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں،یہ مؤقف خطے میں امن کے لیے چین کی روایتی سفارتی پالیسی کے مطابق ہے جو کہ دوستی، تعاون اور مشترکہ مفاد پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں،دونوں ممالک کے درمیان دوحہ، استنبول اور ریاض میں مذاکرات بھی ہوئے ہیں تاہم یہ مذاکرات تاحال بے نتیجہ ہی ثابت ہوئے ہیں البتہ دونوں ممالک جنگ بندی پر قائم ہیں۔

  • افغانستان: طالبان نے موسیقی کے درجنوں آلات   نذر آتش کردیئے

    افغانستان: طالبان نے موسیقی کے درجنوں آلات نذر آتش کردیئے

    افغانستان میں طالبان نے موسیقی کے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کردیئے-

    طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مطابق افغان صوبے میدان وردک میں حالیہ ہفتوں کے دوران مقامی بازاروں سے ضبط کیے گئے درجنوں موسیقی کے آلات اور حقوں کو جلا دیا گیامجموعی طور پر 160 اشیا جن میں ڈھولک، طبلے، رُباب، ایک پیانو، ایم پی تھری پلیئرز، ٹیپ ریکارڈرز اور 15 حقوں کو شرعی احکامات کے مطابق نذر آتش کردیا گیا، یہ اشیا موسیقی اور غیراسلامی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال ہو رہی تھیں اور ان کی ضبطی اور ان کو نذرِ آتش کرنا ہماری پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت شہریوں کی ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد موسیقی کو عوامی مقامات سے تقریباً ختم کر دیا گیا ہے اور تقریبات یہاں تک کہ شادی میں بھی موسیقی پر سخت پابندی ہے،کلاسیکی موسیقی اور پاپ میوزک دونوں ہی طرح کی موسیقی نے سن 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے کے 20 سالوں میں کافی ترقی کی ہے۔

    لیکن اگست 2021 ء میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے طالبان مختلف شعبہ ہائے زندگی میں سخت قوانین نافذ کر رہے ہیں،افغانستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میوزک جو ایک وقت اپنی ہمہ جہت ثقافتی اور موسیقی کی سرگرمیوں کے لیے کا فی مشہور تھا، کے طلبا اور اساتذہ، طالبان کے کنٹرول کے بعد سے، کلاسوں میں واپس نہیں آئے ہیں۔ بہت سے موسیقار ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

  • پاک افغان سرحد پر فائرنگ: 10 سے زائد افغان عسکریت پسندہلاک

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ: 10 سے زائد افغان عسکریت پسندہلاک

    5 دسمبر کو پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے دوران 10 سے زائدافغان عسکریت پسندہلاک جبکہ تقریباً 25 زخمی ہوئے۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے دوران10 سے زائدافغان عسکریت پسندہلاک جبکہ تقریباً 25 سے زائد زخمی ہوئے،پاکستانی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے،

    واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر طالبان فورسز اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے درمیان چمن اور اسپین بولدک سرحد پر ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ،پاکستان کے مطابق طالبان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کی،وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے ’چمن سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے، جس پر ہماری مسلح افواج نے فوری اور شدید ردِ عمل دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یہ تازہ جھڑپ چند روز قبل سعودی عرب میں پاکستان اور طالبان حکومت کے نمائندوں کے درمیان اہم اور خفیہ ملاقات کے بعد ہوئی ہے مذکورہ ملاقات میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اس ملاقات میں کسی بڑی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی تھی۔اس سے قبل استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دو دور بھی بے نتیجہ ختم ہوئے تھے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی جھڑپوں میں بھی کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  • پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک نافذ کر دیا، جس کے تحت تجارت کے لیے شرائط کو مزید آسان اور کاروبار دوست بنا دیا گیا ہے۔

    وزارتِ تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکنزم میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نئی ترامیم کے مطابق برآمد سے قبل لازمی درآمد کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جبکہ بیک وقت درآمد و برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق نجی اداروں کو کنسورشیم بنانے کی اجازت مل گئی ہے، بارٹر ٹریڈ کے لین دین کا دورانیہ 90 سے بڑھا کر 120 روز کر دیا گیا ہے، اور مخصوص اشیاء کی فہرست بھی ختم کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیا فریم ورک ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے، تاکہ بارٹر ٹریڈ کو مزید عملی اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے جون 2023ء میں ان ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ میکنزم نافذ کیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد میں کئی انتظامی و پالیسی مسائل سامنے آئے تھے۔بزنس گروپس اور اسٹیک ہولڈرز نے محدود اشیاء کی فہرست، تصدیقی شرائط اور 90 روزہ تصفیہ پابندیوں جیسے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔

    ان مسائل کے حل کے لیے وزارتِ تجارت نے اسٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ، ایف بی آر اور پاکستان سنگل ونڈو سمیت سرکاری و نجی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نیا فریم ورک تیارکیا.

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

    سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کے انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

  • سرحد کو خودمختار ریاست کی طرح ٹریٹ، امیگریشن لازمی ہونی چاہیے،خواجہ آصف

    سرحد کو خودمختار ریاست کی طرح ٹریٹ، امیگریشن لازمی ہونی چاہیے،خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرحد کو اس انداز میں انتظام کرے گا جیسے دنیا کے خودمختار ممالک کرتے ہیں اور سرحد پر باقاعدہ امیگریشن کا نظام ہونا چاہیے۔ اُن کے بقول یہ درست نہیں کہ کوئی صبح اٹھ کر سرحد پار کر کے پشاور آ جائے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ دو تین روز کے واقعات اس طرح کے اقدامات کا فطری ردِ عمل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنی سرحد کا احترام کریں گے اور چاہتے ہیں کہ دوسرے فریق بھی ہماری سرحد کا احترام کریں۔ وزیرِ دفاع نے بھارت کے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ریاستیں جیسے coexist کرتی ہیں ہمیں بھی ویسا ہی طرزِ عمل اپنانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ملک کا ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ جو پناہ گزین یہاں آ چکے تھے انہیں واپس جانا چاہیے — جنگ گزر چکی، لوگ واپس جا چکے تھے مگر کچھ ابھی بھی یہاں موجود ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ جن افراد کو واپس لایا گیا تھا اُن کے حوالے سے اسمبلی میں بھی بریفنگ دی گئی تھی، انھوں نے علاقے کی میپنگ اور ریکنگ کی اور سینٹرز قائم کیے گئے۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ ان امور کو پہلے فارملائز کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے چین کے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی پالیسیوں کو قومی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا اور ریاست کو صوبوں کو واضح ہدایات دینی ہوں گی — یہ ملک اسی طرح چلے گا؛ یہ ممکن نہیں کہ کسی صوبے میں سرحد کی کوئی قدر و قیمت نہ سمجھی جائے۔

    ارشد ندیم کے کوچ سلمان بٹ پر تاحیات پابندی لگ گئی

    یحییٰ سنوار کی تحریر شدہ حملے کی منصوبہ بندی کی دستاویز برآمد،اسرائیل کا نیا دعویٰ

    وزیرِ اعظم کل امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مصر روانہ ہوں گے

    افغان اپنی سرزمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، بلاول بھٹو زرداری

  • افغانستان میں 48 گھنٹے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال، شہریوں کا جشن

    افغانستان میں 48 گھنٹے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال، شہریوں کا جشن

    افغانستان میں دو دن کی بندش کے بعد موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی، جس پر شہری خوشی سے سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔

    پیر کی شب اچانک موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے ملک بھر میں افراتفری پھیل گئی تھی، کاروباری سرگرمیاں رُک گئی تھیں اور عوام دنیا سے کٹ کر رہ گئے تھے۔ یہ بلیک آؤٹ طالبان حکومت کی جانب سے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بعض صوبوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکشن بند کرنے کے بعد آیا تھا، جسے ’بے راہ روی‘ روکنے کا اقدام قرار دیا گیا۔

    اے ایف پی کے مطابق بدھ کی رات سروس کی بحالی کے بعد کابل میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکلے۔ 26 سالہ ڈلیوری ڈرائیور سہراب احمدی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ عیدالاضحی جیسا ہے، جیسے نماز کے لیے تیاری کرنا۔ ہم دل سے خوش ہیں۔” شہریوں نے مٹھائیاں اور غبارے خریدے، ڈرائیور ہارن بجاتے رہے جبکہ لوگ فون پر عزیزوں سے رابطہ کرتے دکھائی دیے۔

    ریسٹورنٹ مینیجر محمد تواب فاروقی نے کہا کہ "شہر دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔نیٹ بلاکس، جو انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر نظر رکھتی ہے، نے تصدیق کی کہ بلیک آؤٹ کے دوران ملک میں انٹرنیٹ صرف ایک فیصد تک رہ گیا تھا اور یہ اقدام جان بوجھ کر سروس بند کرنے کے مترادف ہے۔یہ طالبان حکومت کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار مواصلاتی سہولیات کی ملک گیر بندش تھی۔ اس دوران کاروبار، بینک، ایئرپورٹ اور ڈاک خانے بند ہوگئے، جبکہ عوام ایک دوسرے سے رابطہ نہ کر پائے اور کئی والدین نے بچوں کو اسکول بھیجنا بھی روک دیا۔

    پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کی منظوری

    خیبرپختونخوا کابینہ میں ردوبدل، وزرا و معاونین کے محکمے تبدیل

    عدالتی امور ڈیجیٹلائز،سپریم کورٹ میں ای آفس سسٹم کا آغاز

    اسرائیلی فوج کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، امدادی جہاز گھیرے میں لے لیے

  • ٹرمپ کی بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے پر افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی

    ٹرمپ کی بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے پر افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بگرام ایئر بیس کا کنٹرول امریکہ کو واپس نہ کرنے پر افغانستان کے ساتھ ‘بہت برا ہوگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس اس کے معماروں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے حوالے نہیں کیا تو برے نتائج سامنے آئیں گے-

    جبکہ صحافیوں کیساتھ بات چیت کے دوران بگرام بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے امکانات سے انکار بھی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے رواں ہفتے 18 ستمبر کو دورہ برطانیہ کے دوران برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ طالبان سے بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اب تک ان خفیہ مذاکرات کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا تھا کہ اس اقدام کی ایک وجہ یہ ہےکہ بگرام بیس کے قریب ہی ایک مقام پر چین جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکی انخلا کے دوران امریکا نے بگرام پر اپنا کنٹرول برقرار نہیں رکھا۔

    یہ بیس نائن الیوں حملوں کے بعد دہشتگردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے دوران امریکی فوج کے لیے دو دہائیوں تک مرکزی بیس رہا ہےبگرام سمیت دیگر بیسز پر افغان طالبان نے اس وقت قبضہ کیا تھا جب 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد کابل میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا،دوسری جانب افغان حکام اپنے ملک میں امریکی تسلط کی بحالی کے خلاف سخت بیانات جاری کر چکے ہیں۔

    ادھرموجودہ اور سابق امریکی عہدیدار خبردار کرتے ہیں کہ اگر بگرام ایئر بیس کو دوبارہ کنٹرول میں لیا گیا تو اسے افغانستان پر دوبارہ حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے لیے 10 ہزار سے زائد فوجیوں کے ساتھ ساتھ جدید فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی ضروری ہوگی۔

    ٹرمپ، جنہوں نے پہلے بھی کہا ہے کہ امریکہ کو مختلف علاقوں جیسے پاناما کینال سے لے کر گرین لینڈ تک کے علاقوں پر قبضہ کرنا چاہیے، سالوں سے بگرام پر توجہ دے رہے ہیںجب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بیس واپس لینے کے لیے امریکی فوج افغانستان بھیجیں گے تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے،تاہم انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم افغانستان سے بات چیت کر رہے ہیں، ہم اسے جلد سے جلد واپس لینا چاہتے ہیں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آپ جان جائیں گے کہ میں کیا کرنے والا ہوں۔’

    طالبان کے عہدیدار نے بگرام ایئربیس امریکا کو دینے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بگرام ایئربیس کے معاملے پر بات کی ہے، وہ سیاست سے ہٹ کر ایک کامیاب تاجر اور سوداگر ہیں اور بگرام کو دوبارہ حاصل کرنے کا ذکر بھی ’ڈیل‘ کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار ذاکر جلالی نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ افغانستان اور امریکا کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کےلیے افغانستان کے کسی حصے میں امریکی فوج کی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اقتصادی اور سیاسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں، فوجی موجودگی کو افغانوں نے تاریخ میں کبھی قبول نہیں کیا اور یہ امکان دوحہ مذاکرات اور معاہدے کے دوران بھی مکمل طور پر رد کیا گیا تھا، مگر دیگر تعلقات کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

  • ٹی20 ایشیاء کپ: سری لنکا سے شکست کے بعد افغانستان ٹورنامنٹ سے باہر

    ٹی20 ایشیاء کپ: سری لنکا سے شکست کے بعد افغانستان ٹورنامنٹ سے باہر

    ٹی20 ایشیاء کپ میں سری لنکا نے افغانستان کو 6 وکٹوں سے ہرا دیا، شکست کے بعد افغانستان کی ٹیم سُپر فور مرحلے سے باہر ہوگئی۔

    ابوظبی میں کھیلے گئے گروپ بی کے اہم میچ میں افغان ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹ پر 169 رنز اسکور کیے، یوں سری لنکا نے 170 رنز کا ہدف 19 ویں اوور کی چوتھی گیند پر حاصل کرلیا۔گروپ بی سے سری لنکا اور بنگلادیش نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا، سری لنکا نے 170رنز کا ہدف 19ویں اوور میں حاصل کر لیا، کوشال مینڈس نے 74رنز بنائے، کمیندو مینڈس نے26 رنز اسکور کیے،

    پہلے بیٹنگ میں افغانستان نے 8 وکٹ پر 169رنز اسکور کیے، افغانستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد نبی نے دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے 6 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 60 رنز بنائے۔19ویں اوور کے اختتام پر افغانستان کا اسکور 137 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ تھا، لیکن آخری اوور میں نبی نے دُنتھ ویلا لاگے کو نشانہ بناتے ہوئے پانچ 5 چھکے لگائے، یوں ٹیم کا اسکور 169 تک پہنچا دیا، افغانستان کی اننگز کےآخری اوور میں 32 رنز بنے۔

    غزہ میں اسرائیلی حملے، مزید 48 فلسطینی شہید

    برطانوی سیکرٹری داخلہ کی غیر قانونی مہاجرین پر کڑی تنقید

    برطانوی سیکرٹری داخلہ کی غیر قانونی مہاجرین پر کڑی تنقید

    امریکا نے فینٹانل اجزا اسمگلنگ پر بھارتی بزنس ویزے منسوخ کر دیے

  • ایشیا کپ 2025: بنگلہ دیش نے  افغانستان کو 8 رنز سے شکست دی

    ایشیا کپ 2025: بنگلہ دیش نے افغانستان کو 8 رنز سے شکست دی

    ایشیا کپ 2025 کے 9ویں میچ میں بنگلہ دیش نے افغانستان کو دلچسپ مقابلے کے بعد 8 رنز سے شکست دے دی۔

    دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں کے نقصان پر 154 رنز بنائے۔ تنزید حسین نے 31 گیندوں پر شاندار 52 رنز اسکور کیے، سیف حسن نے 30 اور توحید ہردوئے نے 26 رنز کی اننگز کھیلی۔ افغانستان کی جانب سے کپتان راشد خان اور نور احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ہدف کے تعاقب میں افغانستان کی ٹیم 146 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔ رحمٰن اللہ گرباز 35 اور عظمت اللہ عمرزئی 30 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ بنگلہ دیش کے مستفیظ الرحمٰن نے 3 جبکہ نسیم احمد، تسکین احمد اور راشاد حسین نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

    اس کامیابی کے بعد گروپ بی کی صورتحال دلچسپ ہو گئی ہے۔ سری لنکا 2 میچز میں 4 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، بنگلہ دیش 3 میچز کھیل کر 4 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے، جبکہ افغانستان کے 2 پوائنٹس ہیں۔اب 18 ستمبر کو افغانستان اور سری لنکا کے درمیان میچ گروپ بی سے سپر فور میں پہنچنے والی ٹیموں کا فیصلہ کرے گا۔

    لکسمبرگ کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

    ایشیا کپ: پاکستان اور یو اے ای میچ کا تنازع حل، نئے ریفری مقرر

    آزاد کشمیرکے حالات خراب کرنے کی کسی بھی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، آل پارٹیز کانفرنس

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کا اجلاس، قطر پر حملے پر اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کا اجلاس، قطر پر حملے پر اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ