Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • آپریشن غضب للحق: پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں  کو تباہ کردیا

    آپریشن غضب للحق: پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں کو تباہ کردیا

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلااشتعال جارحیت پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا پاک فوج کی کارروائیوں نے افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کو پسپائی پر مجبور کردیا سکیورٹی فورسز کا دفاع وطن کے لیےغیرمتزلزل عزم ملک کی سالمیت یقینی بنارہا ہے، پاک فوج کا آپریشن غضب للحق تمام مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

  • رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم  کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرز کبھی کسی نہ کسی طرح معتبر جریدہ تھا لیکن اب یہ انتشار اور غلط معلومات کا آلہ بن چکا ہے پچھلے کچھ دنوں میں اس نے بغیر کسی ثبوت کے جعلی خبروں کی تعداد پوسٹ کی ہے۔

    یہ ایک معمول بن گیا ہے کہ RAW اور افغان طالبان کے میڈیا سیل کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کو رائٹرز حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ چند مثالیں ہیں پاکستانی سی او اے ایس کے بارے میں جعلی خبریں جس میں صدر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا پاکستان سوڈان کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر رہا ہے کابل پر فضائی حملوں میں 400 شہریوں کی ہلاکت پر افغان طالبان کا جھوٹا دعویٰ،وغیرہ-

    تازہ مثال کنڑ پر ایک خیالی فضائی حملہ ہے را اور افغان بیسڈ اکاؤنٹس نے مل کر فضائی حملوں کی مہم شروع کی جو پھر ڈرون حملے کی شکل اختیار کر گئی جس کے بعد توپ خانے سے گولہ باری کی گئی پاکستان کی وزارت اطلاعات کے بیانیہ اور وضاحت میں ابہام کے باوجود، رائٹرز نے ایک غیر نمائندہ افغان حکومت کے بیانیے کو وسعت دینے کا انتخاب کیا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گردوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    رائٹرز کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان نے جب بھی فضائی حملے کیے یا کوئی فوجی کارروائی کی، اس نے ہمیشہ کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے حق سے دریغ کرنے کی ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔

  • پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔

    واضح رہے کہ یہ سرحدی کشیدگی فروری 2026ء سے جاری تناؤ اور حالیہ سیز فائر کی کوششوں کے بعد ہوئی ہے۔

  • افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور غفلت :افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا

    افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور غفلت :افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا

    طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی اور نااہلی کے باعث افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا-

    افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور غفلت کے باعث افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا۔ طالبان رجیم کی لاپروائی سے خطے میں موذی وبا کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جس پر عالمی ادارے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

    افغان میڈیا خامہ پریس کے مطابق یونیسف نے افغانستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسداد پولیو مہم تیز کرنے پر زور دیا،یونیسف کے مطابق افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے ہر بچے کے لیے پولیو ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے،افغانستان میں صحت کے اداروں کو بدامنی، سیکیورٹی مسا ئل اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ماہرین کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے انسداد پولیو مہم ناکام اور صحت عامہ کے مسائل دن بہ دن سنگین ہوتے جا رہے ہیں، پولیو مہم جیسے حساس انسانی مسئلے کو بھی طالبان رجیم نے اپنی سیاسی انا اور شدت پسندانہ نظریات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔

    ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کےساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد افغان طالبان صوبے نورستان اورکنڑ میں سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوئے، افغان طالبان سرحدی چوکیوں سے پسپائی کے بعد مساجد میں نا صرف چھپ گئے بلکہ عام شہریوں کے روپ میں علاقوں سے فرار بھی ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سیکیورٹی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام اور اپنی عبرتناک شکست چھپانے کیلئے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، افغان طالبان رجیم کی غفلت نےعوام کو فاقہ کشی پر مجبور کیا، مقامی آبادی نے مدد کیلئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز سے رجوع کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف حالیہ کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسزکسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر یہ واضح پیغام دے دیا کہ اب دہشتگردوں کی سرپرستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی : افغان طالبان  رجیم کا سفاک چہرہ  بے نقاب

    دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی : افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ بے نقاب

    بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی نے افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔

    افغان طالبان رجیم دہشت گردی کی حمایت اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے سبب دنیا بھر کے لیے ناقابل قبول ہو چکی ہے طالبان رجیم کے جابرانہ قوانین افغان شہریوں کے بنیادی حقوق اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔

    امریکی تھنک ٹینک فارن پالیسی ان فوکس کے مطابق طالبان رجیم کے سخت گیر نظام اور عالمی سطح پر تنہائی نے افغان ریاست کی قانونی حیثیت اور شہر ی حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، افغان طالبان کے القاعدہ اور فتنۃ الخوارج جیسے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ تعلقات برقرار ہیں اور یہ ان کے خلاف کارروائی سے بھی گریزاں ہیں، افغان طالبان رجیم کا خودمختاری کا دعویٰ محض ایک ڈھونگ ہے اور عالمی سطح پر ایک ملک کے سوا کسی نے اسے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ، بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور پہچان نہ ہونے کی وجہ سے طالبان رجیم افغانستان کی نمائندگی کے لیے مکمل قانونی درجہ نہیں رکھتی ۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہا اور اقتصادی و انسانی بحران کا شکار ہےافغان طالبان کی القاعدہ اور فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی)جیسے گروہوں کی پشت پناہی محض ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سیکیورٹی رسک ہے۔

  • افغان طالبان  کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغان طالبان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے نوجوانوں نے مشترکہ طور پر نیشنل موبلائزیشن فرنٹ(این ایم ایف) کے قیام کا اعلان کیا ہے، تاکہ افغان طالبان کے قبضے اور دہشت گردی کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔

    افغان ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو مقامی افغان ذرائع کے ذریعے بتایا جا رہا ہے جس میں ایک نئے گروپ کے ابھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کی شناخت نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (NMF) کے نام سے کی گئی ہے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس نئے اعلان کردہ محاذ کی حمایت اور شرکت کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (این ایم ایف) نے کہا ہے کہ طالبان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں اور افغانستان پر جبراً قبضہ کر چکے ہیں، نیا محاذ قائم کرنے کا مقصد ملک کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔

    شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    این ایم ایف کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ سابقہ سوویت یونین کے خلاف جہاد ایک فرض تھا، اسی طرح آج طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت اور جہاد بھی ایک فرض بن چکا ہے،افغانستان کی بڑی آبادی پریشان اور مظلوم ہے اور اب عوام کے نمائندے خود اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،یہ اقدام طالبان کی دہشت گردی کی سرپرستی کی پالیسیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے اور وہ افغانستان میں امن، استحکام اور عوامی حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    واضح رہے کہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ ایک افغان مزاحمتی تنظیم ہے جو بھرپور انداز میں طالبان کے خلاف سرگرم ہے اس کا قیام شمالی اور مشرقی افغانستان کے نوجوانوں نے کیا، جو ظلم و جبر اور دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے این ایم ایف خود کو افغان عوام کا حقیقی نمائندہ اور طالبان کے خلاف مزا حمتی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، تنظیم کے مطابق اس کا مقصد ملک میں امن، استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہے، یہ تنظیم عوامی جذ با ت اور قومی وقار کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط محاذ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

  • شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    شمالی وزیرستان کے مواز کلے سرحدی علاقے میں پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بڑی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد علاقے میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، لیکن پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں کئی طالبان ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر فرار ہونے پر مجبور ہوئے پاک فوج نے دشمن کے کمپاؤنڈز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر مکمل تباہ کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی اس دوران پاک فوج علاقے میں سیکیورٹی مضبوط رکھنے اور ممکنہ دراندازی کی روک تھام کے لیے چوکس ہے آپریشن کا مقصد نہ صرف دہشت گردوں کو ختم کرنا بلکہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

  • افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے، اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔

    تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔

    پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے،مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جو متعدد بار کیے جانے والے فیکٹ چیکس کے سخت دباؤ اور جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکی، اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیرا پھیری والی ویڈیو کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے کابل میں امید ایڈکشن اسپتال پر فضائی کارروائی کے الزامات حقیقت سے بعید ہیں طالبان کے دعوے 400 ہلاک اور 250 زخمی ہونے کے ہیں، تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مکمل طور پر انٹیلی جنس پر مبنی، درست اور محدود تھیں، جو دہشت گردوں کے ٹھکانے، لاجسٹک نیٹ ورک اور سرحدی حملوں میں ملوث بنیادی ڈھانچے تک محدود تھیں۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی پروپیگنڈا واضح نمونہ اختیار کر چکی ہے: دہشت گرد موجودگی سے انکار، ہدف کو اسپتال یا پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنا، ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا،امید ایڈکشن اسپتال جیسی کہانیاں اب معمول بن چکی ہیں، ہر دہشت گرد سے منسلک مقام کو انسانی سہولت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    یہ دعوے صرف ان مقامات پر حملوں کے بعد سامنے آتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے جڑے ہوتے ہیں طالبان نے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کو چھپنے کی اجازت دے رکھی ہے اور بعد میں اس کا فائدہ پروپیگنڈا اور مظلومیت کے بیانیے کے لیے اٹھا تے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت دہشت گرد گروپس، بشمول ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر علاقائی تنظیمیں آزادانہ ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے افغان علاقے سے انجام دیے گئے، جس سے پاکستان کو براہ راست نقصان پہنچا جن میں 1957 ہلاکتیں اور 3603 زخمی شامل ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور سفارتی راستے استعمال کیے، تاہم دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی قانونی اور ضروری دفاع کے طور پر کی گئی۔ طالبان کی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہلاکتوں کی رپورٹیں حقیقت میں انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو بچانے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی اسپتال یا شہریوں کے بارے میں نہیں، بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائی میں طالبان کی عدم تعاون اور ان کے پروپیگنڈا بیانیے پر مرکوز ہے۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

  • افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کے عسکری ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ فضائی کارروائیاں کیں۔

    وزیر اطلاعات نے منگل کو ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ یہ کارروائیاں ان ہی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں جو افغان طالبان کے ذریعے دہشت گرد گروپوں فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کی مدد کے لیے استعمال ہو رہے تھےکابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت اور گولہ بارود کی ذخیرہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جن کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکوں سے بڑے گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی ظاہر ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ ننگرہار میں چار عسکری ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں لاجسٹک، گولہ بارود اور تکنیکی ڈھانچے تباہ کر دیے گئے طالبان کی طرف سے کیے جانے والے جھوٹے دعوے افغان اور عالمی سطح پر ان کے دہشت گردانہ اقدامات کو چھپا نہیں سکتے۔

    فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

    عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ تمام ٹارگٹ صرف ان انفراسٹرکچر کو درستگی کے ساتھ کیا گیا ہے جنہیں افغان طالبان حکومت اپنے متعدد دہشت گرد پراکسیوں بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی حمایت کے لیے استعمال کر رہی ہے، جیسا کہ ساتھ والی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے پروپیگنڈا کرنے والے طالبا ن حکومت کے جھوٹے دعوے خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی کرنے والے اپنے گھناؤنے اقدامات سے افغانوں اور دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ غضب للحق کے تحت پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی کے خلاف ماسٹر ٹیرر پراکسی کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کے لیے آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق