Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرست اعلیٰ، عالمی سطح پرپھرتصدیق

    افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرست اعلیٰ، عالمی سطح پرپھرتصدیق

    افغان میں موجود دہشتگرد نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کیلئےبڑا خطرہ ہے۔

    عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشتگردی نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کیلئےبڑا خطرہ ہے،عالمی برادری کو خطرے کی شدت تسلیم کرنے کیلئے مزید کتنی دہشت گردی اور درکار ہے؟ دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کے واضح ثبوتوں کے باوجود دنیا کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے،افغان طالبا ن سےعبوری تعلقات کےباوجود بعض ممالک کے سیکیورٹی ادارے تشویش کا شکار ہیں،افغانستان میں خواتین کو جانو روں سے بھی کم بنیادی حقوق دیئے جاتے ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں عالمی برادری کوافغان طالبان کی دہشتگردانہ پالیسیوں کیخلاف زبانی جمع خرچ کے بجائے سخت ترین رویہ اپنانا ہوگا۔

  • افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے،عاصم افتخار

    افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے،عاصم افتخار

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان نے دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ عالمی امن کیلئے خطرہ ہے، افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور دیگر دہشتگرد گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں، جبکہ افغانستان پاکستان اور دیگر ممالک کے سیکیورٹی خدشات کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے گزشتہ سال 5 ہزار 300 سے زائد دہشتگرد حملوں میں 1 ہزار 200 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار گئے، عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ صورتحال کو درست کرنے کا موقع اب بھی موجود ہے، تاہم یہ وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

  • افغان طالبان کا  مولانا فضل الرحمان سے  شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    افغان طالبان کا مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    امارت اسلامی افغانستان کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، اور شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا،ان رہنماؤں میں وزیر دفاع ملا یعقوب، وزیر داخلہ مولانا سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد شامل تھے۔

    جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے میڈیا سیل سے جاری بیان کے مطابق امارت اسلامی کی قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شیخ ادریس شہید کی بلندی درجات کے لیے دعاگو ہیں اور ان کی شہادت کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہیں، امارت اسلامی افغانستان شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کی شریک ہے اور پاکستانی عوام کی طرح افغانستان کے عوام بھی شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کے شریک ہیں،جمعیت علما اسلام اور علما اور طلبا کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چارسدہ کے معروف عالم دین اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کو 5 مئی کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا اور تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور ایک حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے۔

  • آپریشن غضب للحق: پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں  کو تباہ کردیا

    آپریشن غضب للحق: پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں کو تباہ کردیا

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلااشتعال جارحیت پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا پاک فوج کی کارروائیوں نے افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کو پسپائی پر مجبور کردیا سکیورٹی فورسز کا دفاع وطن کے لیےغیرمتزلزل عزم ملک کی سالمیت یقینی بنارہا ہے، پاک فوج کا آپریشن غضب للحق تمام مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

  • رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم  کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرز کبھی کسی نہ کسی طرح معتبر جریدہ تھا لیکن اب یہ انتشار اور غلط معلومات کا آلہ بن چکا ہے پچھلے کچھ دنوں میں اس نے بغیر کسی ثبوت کے جعلی خبروں کی تعداد پوسٹ کی ہے۔

    یہ ایک معمول بن گیا ہے کہ RAW اور افغان طالبان کے میڈیا سیل کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کو رائٹرز حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ چند مثالیں ہیں پاکستانی سی او اے ایس کے بارے میں جعلی خبریں جس میں صدر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا پاکستان سوڈان کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر رہا ہے کابل پر فضائی حملوں میں 400 شہریوں کی ہلاکت پر افغان طالبان کا جھوٹا دعویٰ،وغیرہ-

    تازہ مثال کنڑ پر ایک خیالی فضائی حملہ ہے را اور افغان بیسڈ اکاؤنٹس نے مل کر فضائی حملوں کی مہم شروع کی جو پھر ڈرون حملے کی شکل اختیار کر گئی جس کے بعد توپ خانے سے گولہ باری کی گئی پاکستان کی وزارت اطلاعات کے بیانیہ اور وضاحت میں ابہام کے باوجود، رائٹرز نے ایک غیر نمائندہ افغان حکومت کے بیانیے کو وسعت دینے کا انتخاب کیا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گردوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    رائٹرز کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان نے جب بھی فضائی حملے کیے یا کوئی فوجی کارروائی کی، اس نے ہمیشہ کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے حق سے دریغ کرنے کی ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔

  • پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔

    واضح رہے کہ یہ سرحدی کشیدگی فروری 2026ء سے جاری تناؤ اور حالیہ سیز فائر کی کوششوں کے بعد ہوئی ہے۔

  • افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور غفلت :افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا

    افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور غفلت :افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا

    طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی اور نااہلی کے باعث افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا-

    افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور غفلت کے باعث افغانستان میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے لگا۔ طالبان رجیم کی لاپروائی سے خطے میں موذی وبا کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جس پر عالمی ادارے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

    افغان میڈیا خامہ پریس کے مطابق یونیسف نے افغانستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسداد پولیو مہم تیز کرنے پر زور دیا،یونیسف کے مطابق افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے ہر بچے کے لیے پولیو ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے،افغانستان میں صحت کے اداروں کو بدامنی، سیکیورٹی مسا ئل اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ماہرین کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے انسداد پولیو مہم ناکام اور صحت عامہ کے مسائل دن بہ دن سنگین ہوتے جا رہے ہیں، پولیو مہم جیسے حساس انسانی مسئلے کو بھی طالبان رجیم نے اپنی سیاسی انا اور شدت پسندانہ نظریات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔

    ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کےساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد افغان طالبان صوبے نورستان اورکنڑ میں سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوئے، افغان طالبان سرحدی چوکیوں سے پسپائی کے بعد مساجد میں نا صرف چھپ گئے بلکہ عام شہریوں کے روپ میں علاقوں سے فرار بھی ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سیکیورٹی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام اور اپنی عبرتناک شکست چھپانے کیلئے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، افغان طالبان رجیم کی غفلت نےعوام کو فاقہ کشی پر مجبور کیا، مقامی آبادی نے مدد کیلئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز سے رجوع کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف حالیہ کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسزکسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر یہ واضح پیغام دے دیا کہ اب دہشتگردوں کی سرپرستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی : افغان طالبان  رجیم کا سفاک چہرہ  بے نقاب

    دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی : افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ بے نقاب

    بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی نے افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔

    افغان طالبان رجیم دہشت گردی کی حمایت اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے سبب دنیا بھر کے لیے ناقابل قبول ہو چکی ہے طالبان رجیم کے جابرانہ قوانین افغان شہریوں کے بنیادی حقوق اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔

    امریکی تھنک ٹینک فارن پالیسی ان فوکس کے مطابق طالبان رجیم کے سخت گیر نظام اور عالمی سطح پر تنہائی نے افغان ریاست کی قانونی حیثیت اور شہر ی حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، افغان طالبان کے القاعدہ اور فتنۃ الخوارج جیسے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ تعلقات برقرار ہیں اور یہ ان کے خلاف کارروائی سے بھی گریزاں ہیں، افغان طالبان رجیم کا خودمختاری کا دعویٰ محض ایک ڈھونگ ہے اور عالمی سطح پر ایک ملک کے سوا کسی نے اسے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ، بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور پہچان نہ ہونے کی وجہ سے طالبان رجیم افغانستان کی نمائندگی کے لیے مکمل قانونی درجہ نہیں رکھتی ۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہا اور اقتصادی و انسانی بحران کا شکار ہےافغان طالبان کی القاعدہ اور فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی)جیسے گروہوں کی پشت پناہی محض ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سیکیورٹی رسک ہے۔

  • افغان طالبان  کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغان طالبان کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت ،افغانستان میں مزاحمتی تنظیم این ایم ایف کے قیام کا اعلان

    افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے نوجوانوں نے مشترکہ طور پر نیشنل موبلائزیشن فرنٹ(این ایم ایف) کے قیام کا اعلان کیا ہے، تاکہ افغان طالبان کے قبضے اور دہشت گردی کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔

    افغان ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو مقامی افغان ذرائع کے ذریعے بتایا جا رہا ہے جس میں ایک نئے گروپ کے ابھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کی شناخت نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (NMF) کے نام سے کی گئی ہے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس نئے اعلان کردہ محاذ کی حمایت اور شرکت کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (این ایم ایف) نے کہا ہے کہ طالبان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں اور افغانستان پر جبراً قبضہ کر چکے ہیں، نیا محاذ قائم کرنے کا مقصد ملک کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔

    شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    این ایم ایف کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ سابقہ سوویت یونین کے خلاف جہاد ایک فرض تھا، اسی طرح آج طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت اور جہاد بھی ایک فرض بن چکا ہے،افغانستان کی بڑی آبادی پریشان اور مظلوم ہے اور اب عوام کے نمائندے خود اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،یہ اقدام طالبان کی دہشت گردی کی سرپرستی کی پالیسیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے اور وہ افغانستان میں امن، استحکام اور عوامی حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    واضح رہے کہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ ایک افغان مزاحمتی تنظیم ہے جو بھرپور انداز میں طالبان کے خلاف سرگرم ہے اس کا قیام شمالی اور مشرقی افغانستان کے نوجوانوں نے کیا، جو ظلم و جبر اور دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے این ایم ایف خود کو افغان عوام کا حقیقی نمائندہ اور طالبان کے خلاف مزا حمتی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، تنظیم کے مطابق اس کا مقصد ملک میں امن، استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہے، یہ تنظیم عوامی جذ با ت اور قومی وقار کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط محاذ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست