Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • افغان طالبان کا خواتین کے لباس پر متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت، ایک ہفتے میں 10 سے زائد خواتین گرفتار

    افغان طالبان کا خواتین کے لباس پر متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت، ایک ہفتے میں 10 سے زائد خواتین گرفتار

    افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کی اخلاقی پولیس نے خواتین کے لباس سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت کر دیا ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مبینہ طور پر 10 سے زائد خواتین کو مقررہ حجاب اور لباس کے قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔

    مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ زیادہ تر گرفتاریاں ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے علاقے کارتے لگان میں قائم خواتین کی مارکیٹ کے اطراف کی گئیں،ان کارروائیوں کے باعث خواتین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مارکیٹ کی کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    ہلمند کے رہائشی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 10 سے زائد خواتین کو طالبان کے مقرر کردہ حجاب اور لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے یا وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کی ہدایات نہ ماننے کے الزام میں حراست میں لیا گیا،گرفتاری کے خدشے کے باعث اب بہت سی خواتین مارکیٹ جانے سے گریز کر رہی ہیں،گزشتہ دو روز کے دوران بھی متعدد خواتین کو اسی مارکیٹ سے مبینہ طور پر مناسب حجاب نہ پہننے اور کسی محرم مرد کے بغیر سفر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ خواتین کی مارکیٹ کے قریب ایک خاتون اور طالبان کی اخلاقی پولیس کے اہلکار کے درمیان جھڑپ بھی پیش آئی،خاتون گاڑی سے اتر کر مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتی تھیں لیکن اہلکار نے انہیں روک لیااہلکار نے خاتون کا ہاتھ پکڑا جس پر انہوں نے اپنے جوتے سے اہلکار کو مارا، جس کے بعد دونوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ بعد ازاں متعدد شہریوں نے مداخلت کر کے معاملہ ختم کرایا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد طالبان کی اخلاقی پولیس نے مارکیٹ میں خواتین کی نگرانی، تلاشی اور پوچھ گچھ میں مزید اضافہ کر دیا اور پابندیاں مزید سخت کر دیں،اب بہت سی خواتین گرفتاری سے بچنے کے لیے خود بازار جانے کے بجائے خریداری کی ذمہ داری اپنے مرد رشتہ داروں کو سونپ رہی ہیں۔

    دوسری جانب خواتین کی مارکیٹ کے تاجروں نے بتایا کہ طالبان کی سخت پابندیوں کے باعث گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور کاروبار تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے،فروخت میں شدید کمی کے باعث متعدد دکاندار کرایہ ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں،اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو انہیں اپنی دکانیں بند کرنا پڑیں گی۔

    طالبان حکام نے ہلمند میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں سے متعلق ان اطلاعات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔

  • سابق رکن پارلیمنٹ کی افغان طالبان،رجیم کے خاتمے کی پیشگوئی

    سابق رکن پارلیمنٹ کی افغان طالبان،رجیم کے خاتمے کی پیشگوئی

    افغان طالبان کے خلاف عالمی سطح پر مزاحمت میں تیزی شروع ہو چکی ہے، دنیا بھر میں مقیم افغان رہنما جابررجیم کے خلاف میدان میں آگئے ہیں،سابق افغان رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے رجیم کے خاتمے کی پیش گوئی کی ہے-

    افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سابق رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے طالبان رجیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف اسلام کو بدنام کررہےہیں،افغان طالبان کا مقصد اسلام کو خواتین، جدید تعلیم، فن اور انسانیت کیخلاف جابر مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے ایک مخصوص اور طے شدہ مدت تک طالبان رجیم کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ پس پردہ محرکین اپنے مذموم اہداف مکمل کر سکیں، جب دین اسلام کے خلاف یہ منفی مقصد پورا ہو جائے گا تو افغان طالبان رجیم کا وجود بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

    عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیوں نے ان کی اصلیت دنیا پر واضح کر دی ہے، افغان معاشرہ اب مزید اس جبر کو تسلیم نہیں کرے گا ۔ افغانستان میں جاری مسلح مزاحمتی تحریکیں اور ان کی بڑھتی کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ افغان عوام اس جھوٹے اور جابر رجیم کو مسترد کر چکے ہیں۔

  • افغان طالبان کاسینئر عہدیدار ذبیح اللہ قاتلانہ حملے میں ہلاک

    افغان طالبان کاسینئر عہدیدار ذبیح اللہ قاتلانہ حملے میں ہلاک

    افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں طالبان حکومت کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کے ایک محافظ کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ضلع بہارک میں اس وقت پیش آیا جب ذبیح اللہ امیری اپنے دفتر جا رہے تھے موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے بہارک،فیض آباد شاہراہ پر ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

    بدخشان کی سکیورٹی کمان کے ترجمان احسان اللہ کامکار نے بتایا کہ حملے کے بعد ذبیح اللہ امیری کے محافظوں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    طالبان حکومت کے مقامی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ حملے کے پس منظر اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے،تاحال کسی فرد یا تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ طالبان پولیس کے ترجمان نے بھی اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آیا حملہ طالبان مخالف گروہوں سے منسلک تھا یا نہیں۔

    ذبیح اللہ امیری طالبان حکومت کی نمایاں میڈیا شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور گزشتہ چند برسوں سے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

  • بدخشان میں طالبان مخالف جنگجوؤں کا ضلعی ہیڈکوارٹر پر علامتی قبضہ، اپنا پرچم  لہرا دیا

    بدخشان میں طالبان مخالف جنگجوؤں کا ضلعی ہیڈکوارٹر پر علامتی قبضہ، اپنا پرچم لہرا دیا

    افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً 5 سال بعد پہلی مرتبہ طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ کر لیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں طالبان مخالف مسلح جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کر کے چند گھنٹوں کے لیے کنٹرول حاصل کر لیا، جسے طالبان کی اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح 20 سے 25 مسلح افراد نے ضلع کے انتظامی کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا مختصر جھڑپ کے بعد حملہ آوروں نے ضلعی انتظامیہ کی عمارت، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کر لیا اور کمپاؤنڈ پر اپنا پرچم بھی لہرا دیا۔

    ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کیا، اسلحہ، گولہ بارود، فوجی سازوسامان اور سرکاری گاڑیاں اپنے قبضے میں لیں، جس کے بعد وہ چند گھنٹوں بعد علاقے سے نکل گئے بعض مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور اپنے ساتھ طالبان کے چند اہلکاروں کو بھی لے گئے، تاہم اس دعو ے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی حملے کی ذمہ داری خود کو ’پیٹریاٹک سولجرز فرنٹ‘ کہنے والے ایک گروپ نے قبول کی ہے۔

    واقعے کے بعد طالبان نے صوبائی دارالحکومت فیض آباد سے اضافی نفری یفتلِ سفلی روانہ کر دی، جبکہ ضلع کے اوپر طالبان کے ہیلی کاپٹر گشت کرتے رہے اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی یفتلِ سفلی، فیض آباد کے قریب واقع بدخشان کا ایک اہم اور تزویراتی ضلع سمجھا جاتا ہے، جس کے باشند ے ماضی میں بھی صوبے کی سیاسی اور مقامی طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں بدخشان افغانستان کے نسبتاً غیر مستحکم صوبوں میں شامل ہو چکا ہے، جہاں طالبان مخالف مسلح سرگرمیوں کے علاوہ مقامی طالبان کمانڈروں اور دیگر صوبوں سے آنے والی فورسز کے درمیان اختلافات، سونے اور قیمتی پتھروں کی کانوں پر کنٹرول، پوست کی کاشت اور منشیا ت کی اسمگلنگ سے متعلق تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

    مقامی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدخشان سے باہر کے طالبان اہلکاروں کی بڑی تعداد میں تعیناتی پر عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے صوبے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

  • افغانستان میں 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت   سے متعلق طالبان کی شرائط قبول کر لیں

    افغانستان میں 75 فیصد امدادی اداروں نے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی شرائط قبول کر لیں

    افغانستان میں کام کرنے والے 75 فیصد امدادی اداروں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے خواتین کی ملازمت سے متعلق طالبان کی عائد کردہ شرائط قبول کر لی ہیں-

    جینڈر اِن ہیومینیٹیرین ایکشن ورکنگ گروپ اور ہیومینیٹیرین ایکسیس ورکنگ گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نئے سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں کام کرنے والے 122 امدادی اداروں سے حاصل کردہ معلومات کا جائزہ لیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق طالبان کی پابندیوں، بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی اور خواتین کی ملازمت پر عائد سخت شرائط نے امدادی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، سرو ے میں بتایا گیا کہ 56 فیصد اداروں نے فنڈنگ میں کمی کے باعث افغان خواتین ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جبکہ 46 فیصد اداروں نے کہا کہ خوا تین اب پہلے کی طرح دفاتر میں آ کر کام نہیں کر سکتیں۔

    رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ پابندیاں ہرات میں دیکھی گئیں، جہاں 36 فیصد اداروں نے سخت رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد کابل (31 فیصد)، ننگرہار (22 فیصد)، قندھار (20 فیصد) اور کنڑ (17 فیصد) کا نمبر آتا ہے 45 فیصد امدادی ادارے اب بھی مرد اور خواتین دونوں عملے کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ 16 فیصد خواتین ملازمین طالبان کی پابندیوں کے باعث گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 61 فیصد اداروں نے بتایا کہ خواتین ملازمین کو سرکاری یا امدادی کام کے سلسلے میں سفر کے دوران ایک مرد سرپرست (محرم) کا ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے 49 فیصد اداروں کے مطابق خواتین ملازمین طالبان کی نقل و حرکت اور لباس سے متعلق پابندیوں کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور سیکیورٹی خدشات کا شکار ہیں بعض اداروں نے یہ بھی بتایا کہ کام پر جاتے ہوئے خواتین کو طالبان کی ’وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے اہلکا ر روک کر پوچھ گچھ کرتے ہیں خواتین پر عائد پابندیوں سے سب سے زیادہ تعلیم اور صحت کے شعبے متاثر ہوئے ہیں، جہاں خواتین کی خدمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن نے بھی خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی امداد میں مسلسل کمی کے باعث افغانستان سمیت بحران زدہ ممالک میں خواتین کی معاونت کرنے والی کئی تنظیمیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔

  • پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز مار گرائے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے، افغان طالبان رجیم نےاپنے زیرِکنٹرول علاقوں سےسرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں یہ ڈرونز پاکستان بھیجے،پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک متحرک ہے، مؤثرجوابی کارروائی کے نتیجے میں ڈرونز مار گرائے سکیورٹی فورسز نے چاروں آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور مار گرایا، سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی نظام کے ذریعے چاروں ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے، افغان طالبان کے ہتھکنڈے افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرے،افغان طالبان کا غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہاہے، افغان طالبان کو پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی پاکستان کی مسلح افواج ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں، مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، سرحد پارکسی بھی جارحیت کا آپریشن غضبُ الحق کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔

  • افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرست اعلیٰ، عالمی سطح پرپھرتصدیق

    افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرست اعلیٰ، عالمی سطح پرپھرتصدیق

    افغان میں موجود دہشتگرد نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کیلئےبڑا خطرہ ہے۔

    عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشتگردی نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کیلئےبڑا خطرہ ہے،عالمی برادری کو خطرے کی شدت تسلیم کرنے کیلئے مزید کتنی دہشت گردی اور درکار ہے؟ دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کے واضح ثبوتوں کے باوجود دنیا کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے،افغان طالبا ن سےعبوری تعلقات کےباوجود بعض ممالک کے سیکیورٹی ادارے تشویش کا شکار ہیں،افغانستان میں خواتین کو جانو روں سے بھی کم بنیادی حقوق دیئے جاتے ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں عالمی برادری کوافغان طالبان کی دہشتگردانہ پالیسیوں کیخلاف زبانی جمع خرچ کے بجائے سخت ترین رویہ اپنانا ہوگا۔

  • افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے،عاصم افتخار

    افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے،عاصم افتخار

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان نے دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ عالمی امن کیلئے خطرہ ہے، افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور دیگر دہشتگرد گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں، جبکہ افغانستان پاکستان اور دیگر ممالک کے سیکیورٹی خدشات کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے گزشتہ سال 5 ہزار 300 سے زائد دہشتگرد حملوں میں 1 ہزار 200 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار گئے، عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ صورتحال کو درست کرنے کا موقع اب بھی موجود ہے، تاہم یہ وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

  • پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز مار گرائے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے، افغان طالبان رجیم نےاپنے زیرِکنٹرول علاقوں سےسرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں یہ ڈرونز پاکستان بھیجے،پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک متحرک ہے، مؤثرجوابی کارروائی کے نتیجے میں ڈرونز مار گرائے سکیورٹی فورسز نے چاروں آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور مار گرایا، سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی نظام کے ذریعے چاروں ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے، افغان طالبان کے ہتھکنڈے افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرے،افغان طالبان کا غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہاہے، افغان طالبان کو پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی پاکستان کی مسلح افواج ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں، مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، سرحد پارکسی بھی جارحیت کا آپریشن غضبُ الحق کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔

  • افغان طالبان کا  مولانا فضل الرحمان سے  شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    افغان طالبان کا مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار

    امارت اسلامی افغانستان کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، اور شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا،ان رہنماؤں میں وزیر دفاع ملا یعقوب، وزیر داخلہ مولانا سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد شامل تھے۔

    جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے میڈیا سیل سے جاری بیان کے مطابق امارت اسلامی کی قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے شیخ ادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شیخ ادریس شہید کی بلندی درجات کے لیے دعاگو ہیں اور ان کی شہادت کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہیں، امارت اسلامی افغانستان شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کی شریک ہے اور پاکستانی عوام کی طرح افغانستان کے عوام بھی شیخ ادریس کی شہادت کے غم میں برابر کے شریک ہیں،جمعیت علما اسلام اور علما اور طلبا کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چارسدہ کے معروف عالم دین اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کو 5 مئی کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا اور تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور ایک حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے۔