Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • صدرمملکت کی افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں پرحملوں کی مذمت

    صدرمملکت کی افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں پرحملوں کی مذمت

    صدرمملکت آصف علی زرداری نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے۔

    ایوان صدر سے جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم کی گئی افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنی ان ذمہ دار یوں سے مسلسل مکر رہی ہے جن کے تحت اسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ افغان دہشت گرد حکومت ہمارے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے تو دوسری جانب اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے پاکستان خلیج کے خطے اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے، غیر قانونی اور دہشت گرد طالبان حکومت نے یہ سرخ لکیر عبور کر کے اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لیے ہیں۔

    یمنی حوثیوں کا ایران کی حمایت کا اعلان

    انہوں نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون کے ملبے سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔

    افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

  • آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق کے دوران پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں موثر انداز میں جاری رکھی ہو ئی ہیں، پاک فوج کے بہادر جوان اندر گئے اور ہتھیاروں کو قبضے میں لے کر واپس لے آئے ہندوستانی طالبان نے انہیں آتے دیکھ کر دوڑ لگا دی-

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں متعدد افغان طالبان ہلاک جبکہ باقی پسپائی اختیار کرتے ہوئے فرار ہو گئے، پاک فوج کے بھرپور جواب میں دشمن فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 مارچ 2026 کو، سیکورٹی فورسز نے دو سوویت نژاد 73mm HGL-9 ہیوی گرنیڈ لانچرز کو افغان طالبان کے زیر قبضہ پوزیشنوں سے برآمد کیا یہ ہتھیار پوسٹ 2 اور پوسٹ 3 سے طالبان جنگجوؤں کے پوسٹوں کو چھوڑ کر ژوب سیکٹر کے سامنے والے فرنٹ لائن علاقے سے فرار ہونے کے بعد ملے تھے ان بھاری ہتھیاروں کی برآمدگی سرحد کے ساتھ جاری پیش رفت کو نمایاں کرتی ہے کیونکہ سیکیورٹی فورسز خطے میں اپنی کارروائیاں اور نگرا نی جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

    کینیڈا میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ

    دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

  • افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    مختلف سفارتی ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان رجیم نے ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کے اہم کمانڈروں کو کابل میں موجود گرین زور، خصوصاً ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ انہیں محفوظ رکھا جاسکے پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے بھی گزشتہ روز ٹویٹ میں کہا کہ کچھ سفار تی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کابل کے گرین زون، خاص طور پر وزیر اکبر خان علاقے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی، گل بہادر، بشیر زیب اور دیگر مطلوب دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں، ذرائع کے مطابق ان کا قیام سفارتی علاقے کے قریب خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور کئی بین الاقو امی سفارت کار جلد کابل چھوڑ سکتے ہیں۔

    سیکیورٹی اور علاقائی ماہرین کے مطابق طالبان نے 1990 کی دہائی میں اپنی سابقہ جنگی حکمت عملی کی طرح دہشت گردوں کو ایسے علاقوں میں رکھا ہے جہاں حملہ کرنا دیگر ممالک کے لیے سیاسی اور سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماضی میں طالبان نے جرمن کلب جیسے بین الاقوامی کمپاؤنڈز میں قیام کر کے اپنے رہنماؤں کو محفوظ بنایا تھا۔

    ایران کو یقینا فتح ہوگی، روسی فوجی ماہر کی پیشگوئی

    افغان طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی اراکین کو پناہ لینے والے قرار دیا اور کہا کہ یہ دہشت گرد نہیں بلکہ مہاجر ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروہ تسلیم کیا گیا ہے، جس پر اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک نے انہیں پاکستان میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم اور دیگر شامل ہیں، ان کے تربیتی کیمپ اور نیٹ ورکس مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔

    ایران کیخلاف امریکا واسرائیل جنگ:چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے۔ بین الاقوامی تعاون اور مضبوط انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے بغیر افغانستان دوبارہ علاقائی اور عالمی دہشت گردوں کا گڑھ بن سکتا ہے طالبان کی جانب سے ان گروہوں کو پناہ دینا اور ان کی موجودگی کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنا خطے میں تشویش اور سفارتی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    پاکستان کا افغان طالبان رجیم کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق جاری ہے، اور اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے ہیں،عطااللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں اس کے علاوہ 226 چیک پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، جبکہ 35 پر پاکستان نے قبضہ کرلیا ہے، 198 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان بھر میں 56 مقامات کو مؤثر انداز میں فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    واضح رہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عسکری کارروائیاں کی تھیں، جس کے جواب میں پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کا اعلان کیا،پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ اسے کالعدم ٹی ٹی پی یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

  • آپریشن غضب للحق:خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ناکام حملے،جوابی کارروائی میں 67 افغان طالبان ہلاک

    آپریشن غضب للحق:خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ناکام حملے،جوابی کارروائی میں 67 افغان طالبان ہلاک

    خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رات بھر جاری رہنے والی کارروائیوں کے دوران 67 افغان طالبان مارے گئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپ ڈیٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں افغان طالبان کے حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا ہےشمالی بلوچستان میں افغان طالبان نے قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن اضلاع میں 16 مختلف مقامات پر جسمانی حملے کیے جبکہ 25 مقامات پر فائر ریڈ کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم تمام حملے کامیابی سے پسپا کر دیے گئے کارروائی کے دوران 27 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دفاع وطن کے دوران ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک جوان شہید جبکہ 5 اہلکار زخمی ہوئے۔

    علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    وزیر اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں بھی ایک مقام پر جسمانی حملے کی کوشش کی گئی جبکہ 12 مقامات پر فائر ریڈ کیے گئے، جنہیں بغیر کسی جانی نقصان کے ناکام بنا دیا گیا،صوبے میں رات بھر جاری رہنے والی کارروائیوں کے دوران 40 افغان طالبان مارے گئے فالو اپ آپریشن تاحال جاری ہے اور تفصیلی بریفنگ دوپہر میں جاری کی جائے گی۔

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن آج ہو گا

  • آپریشن غضب للحق :ہلاک افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 435  ،188 چیک پوسٹیں تباہ ،31 پوسٹوں پر قبضہ  کر لیا

    آپریشن غضب للحق :ہلاک افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 435 ،188 چیک پوسٹیں تباہ ،31 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا

    افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق میں اب تک مارے جانے والے افغان طالبان اہلکاروں کی مزید تفصیلات جاری کردی ہیں-

    پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے اعداد و شمارجاری کیے ہیں،کہ آپریشن کے دوران افغان طالبان کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، اب تک آپریشن میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 435 ہوگئی ہے جب کہ افغان طالبان کے 630 سے زائد اہلکار زخمی ہیں۔

    وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی 188 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور پاکستان سیکیورٹی فورسز نے 31 افغان پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہےب تک افغان طالبان رجیم کے 188 ٹینکس، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ بھی اس آپریشن میں تباہ کی گئی ہیں جب کہ افغانستان بھر میں 51 مقامات فضا سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، پینٹاگون

    دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خوست ایمونیشن ڈپو اور اور ڈرون اسٹوریج سائٹ تباہ کردیا گیا ہے پیر کے روز سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیاں جاری ہیں پاک افواج نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا خوست میں ایمونیشن ڈپو تباہ کردیا ہے پاک افواج کی مؤثر جوابی کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے جلال آباد میں ایمونیشن ڈپو اور ڈرون اسٹوریج سائٹ کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج فتنہ الخوارج اور افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو موثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کو پاک افغان سرحد پربلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے۔

    ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند

    واضح رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اورکابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقامات پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔

  • پریشن غضب للحق جاری، افغان طالبان مرکز پوسٹ پر کنٹرول حاصل

    پریشن غضب للحق جاری، افغان طالبان مرکز پوسٹ پر کنٹرول حاصل

    آپریشن غضب للحق جاری ہے جب کہ افغان طالبان مرکز پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج موثر جواب دے رہی ہے، 28 فروری 2026 کو دن کی روشنی میں بہادر پاکستانی جوانوں کی افغانستان میں داخل ہونے کی خصوصی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔

    سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستانی فوجی جوانوں نے شمالی وزیرستان سے ملحقہ سرحدی باڑ عبور کی اور تیزی سے افغان طالبان کی مرکز پوسٹ کی جانب پیش قدمی کی، پاکستانی فورسز کو دیکھتے ہی افغان طالبان فرار ہونے لگے۔

    خامنہ ای کی شہادت پوری امت مسلمہ کا نقصان ہے، حافظ نعیم

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے مؤثر جوابی کاروائی کرتے ہوئے *افغان طالبان مرکز پوسٹ * پر کنٹرول حاصل کر لیا، پاک فوج نے بھرپور کارروائی کے دوران افغان طالبان کے *کمپاؤنڈز کلیئر* کر کے دشمن کے جھنڈے اتار دیے۔

    سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

    ایران کی عبوری قیادت کونسل تشکیل ، آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر

  • ’آپریشن غضب اللحق‘:  افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،عطا اللہ تارڑ

    ’آپریشن غضب اللحق‘: افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،عطا اللہ تارڑ

    افواج پاکستان نے افغانستان کا 32 سکوئر کلومیٹر رقبہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کا 32 اسکوائر کلومیٹر رقبہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی جانب سے پاک افغان سرحد پر پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان سیکیورٹی فورسز نے سخت اور فیصلہ کن ردعمل دیا ژوب سیکٹر میں پاکستان سیکیورٹی فورسز نے افغانستان کے 32 مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جسے غدوانہ انکلیو کا نام دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ‘آپریشن غضب للحق’ کی تازہ ترین صورتحال جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے سرحدی محاذوں پر ‘فیصلہ کن برتری’ حاصل کر لی ہے اور کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

    ایران نے برج خلیفہ کے قریب پام جمیرہ ہوٹل پر میزائل داغ دیئے

    انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اب تک افغان طالبان کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں مزید بتایا گیا کہ 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے وزیر اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 163 ٹینک اور گاڑیاں بھی تباہ کی گئی ہیں۔

    عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کے لیے ہر محاذ پر جوانمردی سے دشمن کا مقابلہ کر رہی ہیں، بلا اشتعال جارحیت کا ہر سطح پر بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور سکیورٹی فورسز افغان طالبان کے فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور سرحدی دفاع کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    ایران پر اسرائیلی حملہ، ایرانی وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ کی شہادت کا دعویٰ

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے نیو افغان 8 پوسٹ کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا زؤبا سیکٹر میں افغان طالبان کی ڈیلٹا پوسٹ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کانڈک سی بیس چترال کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ خیبر پوسٹ کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔

    موجودہ صورتحال میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق‘ نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے آنے والے دنوں میں اس آپریشن کے نتائج اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی-

    ایران کے ایک بار پھر دبئی پر میزائل حملے

    دوسری جانب پوسٹ پر قبضہ کرلیا ہے، سیکورٹی ذرائع کے مطابق مذکورہ مقام پر قبضے کے بعد افطار کے وقت اذان دی گئی اور جوانوں نے روزہ افطار بھی کیا اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد اہلکاروں نے معمول کے مطابق افطار کے وقت اذان دی اور اجتماعی طور پر روزہ افطار کیا سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں صورتحال فی الحال قابو میں ہے تاہم سیکیورٹی الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔

  • دہشتگرد کارروائیوں سے روکنے کے لیے تحریری معاہدہ  ضروری ہے،رانا ثنااللہ

    دہشتگرد کارروائیوں سے روکنے کے لیے تحریری معاہدہ ضروری ہے،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے لیے تحریری معاہدہ نہیں کریں گے تو پاکستان خود اس کا بھرپور حل اپنائے گا۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں رانا ثنااللہ نے بتایا کہ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے: افغان سرزمین کسی بھی صورت میں پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہی اصول طالبان نے دوحہ معاہدے میں بھی عالمی منظرنامے پر رکھا تھا۔پاکستان نے افغان طالبان کو شواہد بھی فراہم کیے ہیں کہ افغانستان سے ہی حملے لانچ ہوتے ہیں اور وہاں سے ہمارے خلاف دہشتگرد کارروائیاں کی جاتی ہیں، لہٰذا سرحدی علاقوں میں ایسا بفر زون قائم کیا جانا چاہیے جس سے ممکنہ حملوں کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔ اُن کے مطابق یہی واحد اور جائز مطالبہ ہے۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ افغان طالبان بفر زون کی ضرورت زبانی طور پر تسلیم کر رہے ہیں مگر تحریری طور پر پابندی لکھ کر دینے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ یہ وعدہ تحریری صورت میں ہو تاکہ باہمی سمجھوتہ معاہدے کی شکل اختیار کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ نگرانی کے لیے غیرجانبدار دوست ممالک کا کردار ہو تاکہ معاہدے پر عمل کی مانیٹرنگ ممکن بن سکے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی ہو۔ رانا ثنااللہ نے ترکی اور سعودی عرب کو ایسے سہولت کار ممالک کے طور پر موزوں قرار دیا جو دونوں طرف کا اعتماد حاصل ہیں۔

    خواجہ آصف کی سربراہی میں مذاکراتی وفد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران سفارتی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ معاہدے کے ڈرافٹ متعدد بار تیار کیے جا چکے ہیں مگر کابل سے رابطے پر نئی شرائط سامنے آ جاتی ہیں۔رانا ثنااللہ نے مذاکرات میں انٹرنل مداخلت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ بھارت حالات بگاڑنے میں سرگرم عمل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان نے بیان کیا کہ اگر انہیں مالی امداد مل گئی تو وہ ٹی ٹی پی کو کہیں اور منتقل کر دیں گے، مگر اگر اُن کے پاس یہ اختیار ہی نہیں تو منتقلی کیسے ممکن ہے۔

    آخر میں اُنہوں نے واضح کیا کہ اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف عملی قدم اٹھانے میں ناکام رہے یا بفر زون قائم نہ کیا گیا تو پاکستان نے خود کارروائی کا اختیار محفوظ رکھا ہے اور ضرورت پڑنے پر سرحد پار جا کر وہ قدم اٹھائے گا، کیونکہ سرحدی علاقوں سے حملے ہمارے جوانوں کی جانیں لے رہے ہیں اور مزید برداشت ممکن نہیں.

    سرحدی کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

    2027 کے ای اسپورٹس اولمپکس کی میزبانی سعودی عرب سے واپس

    قصور :پولیس ڈرائیونگ سکول میں پاسنگ آؤٹ تقریب، صفیہ سعید مہمانِ خصوصی

  • پاک اور افغان سیز فائر، توسیع پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا،پاکستانی وفد کل دوحہ روانہ ہوگا

    پاک اور افغان سیز فائر، توسیع پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا،پاکستانی وفد کل دوحہ روانہ ہوگا

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر میں توسیع کے حوالے سے تاحال پاکستان کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم اس معاملے پر بات چیت کے لیے پاکستانی وفد کل دوحہ روانہ ہوگا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد ابھی ملک میں موجود ہے اور کل صبح دوحہ روانہ ہونے کا پروگرام ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری خبر کہ پاکستانی وفد پہلے سے دوحہ میں موجود ہے، بے بنیاد ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان 48 گھنٹے کی سیز فائر کے بعد افغانستان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق سیز فائر ختم ہونے کے باوجود جمعے کے روز سرحد کے دونوں جانب صورتحال پُرامن رہی۔

    افغان طالبان کے ترجمان نے جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ پہلے جنگ چاہتے تھے اور نہ اب چاہتے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ قطر کی ثالثی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اہم مذاکرات آج دوحہ میں متوقع ہیں، جن میں سیز فائر میں توسیع اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا

    پاک فوج کی پکتیکا میں بڑی کارروائی، گل بہادر گروپ کے 70 خوارج ہلاک

    ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف یو ایس چیمبر آف کامرس کا مقدمہ، ایچ ون بی ویزا فیس کو چیلنج

    سلطان جوہر جونیئر ہاکی کپ: پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ 3-3 گول سے برابر