Baaghi TV

Tag: افغان طالبان

  • افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کے عسکری ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ فضائی کارروائیاں کیں۔

    وزیر اطلاعات نے منگل کو ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ یہ کارروائیاں ان ہی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں جو افغان طالبان کے ذریعے دہشت گرد گروپوں فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کی مدد کے لیے استعمال ہو رہے تھےکابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت اور گولہ بارود کی ذخیرہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جن کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکوں سے بڑے گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی ظاہر ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ ننگرہار میں چار عسکری ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں لاجسٹک، گولہ بارود اور تکنیکی ڈھانچے تباہ کر دیے گئے طالبان کی طرف سے کیے جانے والے جھوٹے دعوے افغان اور عالمی سطح پر ان کے دہشت گردانہ اقدامات کو چھپا نہیں سکتے۔

    فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

    عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ تمام ٹارگٹ صرف ان انفراسٹرکچر کو درستگی کے ساتھ کیا گیا ہے جنہیں افغان طالبان حکومت اپنے متعدد دہشت گرد پراکسیوں بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی حمایت کے لیے استعمال کر رہی ہے، جیسا کہ ساتھ والی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے پروپیگنڈا کرنے والے طالبا ن حکومت کے جھوٹے دعوے خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی کرنے والے اپنے گھناؤنے اقدامات سے افغانوں اور دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ غضب للحق کے تحت پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی کے خلاف ماسٹر ٹیرر پراکسی کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کے لیے آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

  • آپریشن غضب للحق : باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق : باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ

    پاک افواج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد سے ملحقہ افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ کردی ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی جانب سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد کے قریب موجود افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے سرحدی علاقے میں قائم افغان طالبان کی پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا کارروائی کے دوران گائیڈڈ میزائل کے ذریعے بھی افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

    امریکی کمیشن کی آر ایس ایس ،را پر پابندی کی سفارش

    بنگلہ دیشی وزیراعظم نے نہریں کھودنے کے ملک گیر منصوبے کا افتتاح کر دیا

    بشنوئی گینگ کی گلوکار بادشاہ کو سر پر گولی مارنے کی دھمکی

  • آپریشن غضب للحق: چترال میں پاک افغان سرحد پر طالبان کی بادانی پوسٹ تباہ

    آپریشن غضب للحق: چترال میں پاک افغان سرحد پر طالبان کی بادانی پوسٹ تباہ

    آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فوج کی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے چترال میں ملحقہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بادانی پوسٹ کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بناکر تباہ کردیا ہے،بادانی پوسٹ کو مختلف زمینی ہتھیاروں اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے مکمل تباہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

    افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کوبلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن غضب للحق اپنے مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا اور سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

    ملک بھر میں عیدالفطر کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری

    نیتن یاہو زندہ ہیں تو وہ ایران کے اہم اہداف میں شامل ہیں،پاسداران انقلاب

    وزارتِ مذہبی امور نے حج پروازوں کے شیڈول کی معطلی کی خبروں کو مسترد کردیا

  • آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی  اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق:663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی اور 249 چیک پوسٹیں تباہ

    پاکستان سیکیورٹی فورسز 26 فروری 2026 کو شروع کی گئی ٹی ٹی اے کی دشمنیوں کے جواب میں آپریشن غضب للحق کو جاری رکھے ہوئے ہیں پاک افغان سرحد پر دشمنانہ کارروائیوں کو مؤثر طریقے سے پسپا کیا جا رہا ہے، جبکہ مسلسل سزا کی کارروائیاں ٹی ٹی اے کی آپریشنل ڈھانچہ میں ان کی عسکری صلاحیتوں اور معاونت کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کر رہی ہیں۔

    پاکستان سیکیورٹی فورسز نے کے پی کے میں پاک افغان بارڈر پر مضبوط آپریشنل تسلط برقرار رکھا، عسکریت پسندوں کی تیاریوں میں مشغول رہے، مربوط توپ خانے، مارٹر، ٹینکوں اور باجوڑ، کرم اور پاراچنار سیکٹر میں درست فائرنگ کے تبادلوں کے ذریعے دراندازی کی کوشش اور دشمن کی فائرنگ کی پوزیشنوں کو ناکام بنایا۔

    رپورٹنگ کی مدت کے دوران، سرحد پار سے ٹی ٹی اے کے عناصر کی طرف سے مارٹر، آرٹلری اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ سمیت متعدد معاندانہ کارروائیاں شروع کی گئیں اس کے علاوہ، تیراہ سیکٹر میں ٹی ٹی اے کے عسکریت پسندوں کی طرف سے 4 بار چھاپوں کی کوشش کی گئی، جن میں سے سبھی کو پاکستان سیکورٹی فورسز نے مربوط فائر پاور اور دفاعی ردعمل کے ذریعے کامیابی سے پسپا کر دیا۔

    کامران ٹیسوری تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    سرویلنس گرڈز نے کئی سیکٹرز میں دشمنی ڈرون کی سرگرمیوں اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کا بھی پتہ لگایا، جن پر کڑی نظر رکھی گئی اور جہاں ضروری ہو مصروف تھے، سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کی آپریشنل جگہ کو مزید محدود کر دیا۔

    بلوچستان فرنٹ کے ساتھ – پاک افغان بارڈر

    پاکستان سیکیورٹی فورسز قلعہ سیف اللہ، ژوب، نوشکی، چمن، چلتن اور سمبازہ سیکٹرز میں مضبوط آپریشنل پوزیشن اور آگے کی بالادستی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، مسلسل نگرانی، علاقے پر تسلط گشت اور توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ کسی بھی دشمنی کی سرگرمی کا فوری جواب دینے کے لیے۔

    زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    گڈوانہ انکلیو (ژوب سیکٹر) مضبوطی سے پاکستان کے کنٹرول میں ہے، دفاعی استحکام اور آس پاس کے علاقوں پر تسلط جاری ہے رپورٹنگ کی مدت کے دوران، سرحد پار سے آنے والے راکٹ فائر نے گڈوانہ انکلیو کو نشانہ بنایا، تاہم تمام راکٹ انکلیو کے علاقے میں گرے جس میں کوئی جانی یا بڑا نقصان نہیں ہوا۔

    افغانستان کے اندر اسٹریٹجک حملے

    12/13 مارچ 2026 کی رات کے دوران، پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردی سے منسلک بنیادی ڈھانچے کے خلاف درست حملے کیے، پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کی سہولت فراہم کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا اہم اہداف میں قندھار ایئر فیلڈ میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات تھیں، جنہیں افغان طالبان عناصر اور اس سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورک عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں مدد کے لیے استعمال کر رہے تھے-

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    پاک افواج کی کارروائیوں میں 663 افغان طالبا ن ہلاک ،887 سے زائد زخمی ہوئے اور 249 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 44 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا اور تباہ کی گئیں، 224 ٹینک/اے پی سی/گاڑیاں/توپ خانے تباہ کئے گئے جبکہ پاک فضائیہ نے 70 مقامات کو نشانہ بنایا-

    میدان جنگ میں بار بار کی ناکامیوں کے باوجود، TTA پروپیگنڈہ آؤٹ لیٹس زمینی صورتحال کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش میں جھوٹے دعوے اور مسخ شدہ بیانیہ پھیلاتے رہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سیکیورٹی فورسز سرحد پر واضح آپریشنل برتری اور مضبوط کنٹرول برقرار رکھتی ہیں-

    طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    علاوہ ازیں آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی گئی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 14/15 مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد ٹھکانوں سمیت فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ،ان حملوں میں پاک افواج نے قندھار میں ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ سٹوریج کو موثر انداز میں تباہ کیا ،یہ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ سٹوریج افغان طالبان اور دہشت گرد استعمال کرتے تھے –

    سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق جاری رہے گا اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دشمنی کے عزائم اور عسکریت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو پاک افغان سرحد کے اس پار سے پاکستان کو خطرہ لاحق نہیں ہو جاتا۔

  • ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    افغانستان کے شہر قندھار کے فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے قندھار کے اوپر نچلی پروازیں کیں، جس کے دوران علاقے میں فائرنگ کی تیز آوازیں بھی سنی گئیں عینی شاہدین کے مطابق گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھی جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی پاک فضائیہ کی جانب سے قندھار میں مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی کے علاقائی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے،علاوہ ازیں قندھار میں افواج پاکستان نے کل ہونے والے ڈرون حملوں کا بدلہ لے لیا، افغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    دوسری جانب افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا-

  • پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    پاکستان کے جوابی حملوں کے خوف سے افغان طالبان عہدیدار 4 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے صوبہ غور فرار ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبہ غور کے کم از کم چار ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے متعدد عہدیدار ہفتہ کی صبح چار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ممکنہ پاکستانی فضائی حملوں کے خوف سے اس صوبے میں پہنچے،افغان میڈیا نے ہیلی کاپٹر کی تصویر بھی جاری کی ہے جس میں افغان طالبان عہدیدار صوبہ غور پہنچے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی حملوں کے خوف سے طالبان کے کئی عہدیدار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان اور دایکندی کی طرف فرار ہوئے تھے۔

    حالیہ جنگ:روس ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا

    اسرائیل کی لبنان میں اسپتال پر بمباری، 12 ڈاکٹرز اور نرسیں جاں بحق

    ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

  • صدرمملکت کی افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں پرحملوں کی مذمت

    صدرمملکت کی افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں پرحملوں کی مذمت

    صدرمملکت آصف علی زرداری نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے۔

    ایوان صدر سے جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم کی گئی افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنی ان ذمہ دار یوں سے مسلسل مکر رہی ہے جن کے تحت اسے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ افغان دہشت گرد حکومت ہمارے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے تو دوسری جانب اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے پاکستان خلیج کے خطے اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے، غیر قانونی اور دہشت گرد طالبان حکومت نے یہ سرخ لکیر عبور کر کے اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لیے ہیں۔

    یمنی حوثیوں کا ایران کی حمایت کا اعلان

    انہوں نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون کے ملبے سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔

    افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

  • آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق کے دوران پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں موثر انداز میں جاری رکھی ہو ئی ہیں، پاک فوج کے بہادر جوان اندر گئے اور ہتھیاروں کو قبضے میں لے کر واپس لے آئے ہندوستانی طالبان نے انہیں آتے دیکھ کر دوڑ لگا دی-

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں متعدد افغان طالبان ہلاک جبکہ باقی پسپائی اختیار کرتے ہوئے فرار ہو گئے، پاک فوج کے بھرپور جواب میں دشمن فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 مارچ 2026 کو، سیکورٹی فورسز نے دو سوویت نژاد 73mm HGL-9 ہیوی گرنیڈ لانچرز کو افغان طالبان کے زیر قبضہ پوزیشنوں سے برآمد کیا یہ ہتھیار پوسٹ 2 اور پوسٹ 3 سے طالبان جنگجوؤں کے پوسٹوں کو چھوڑ کر ژوب سیکٹر کے سامنے والے فرنٹ لائن علاقے سے فرار ہونے کے بعد ملے تھے ان بھاری ہتھیاروں کی برآمدگی سرحد کے ساتھ جاری پیش رفت کو نمایاں کرتی ہے کیونکہ سیکیورٹی فورسز خطے میں اپنی کارروائیاں اور نگرا نی جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

    کینیڈا میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ

    دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

  • افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    مختلف سفارتی ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان رجیم نے ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کے اہم کمانڈروں کو کابل میں موجود گرین زور، خصوصاً ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ انہیں محفوظ رکھا جاسکے پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے بھی گزشتہ روز ٹویٹ میں کہا کہ کچھ سفار تی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کابل کے گرین زون، خاص طور پر وزیر اکبر خان علاقے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی، گل بہادر، بشیر زیب اور دیگر مطلوب دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں، ذرائع کے مطابق ان کا قیام سفارتی علاقے کے قریب خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور کئی بین الاقو امی سفارت کار جلد کابل چھوڑ سکتے ہیں۔

    سیکیورٹی اور علاقائی ماہرین کے مطابق طالبان نے 1990 کی دہائی میں اپنی سابقہ جنگی حکمت عملی کی طرح دہشت گردوں کو ایسے علاقوں میں رکھا ہے جہاں حملہ کرنا دیگر ممالک کے لیے سیاسی اور سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماضی میں طالبان نے جرمن کلب جیسے بین الاقوامی کمپاؤنڈز میں قیام کر کے اپنے رہنماؤں کو محفوظ بنایا تھا۔

    ایران کو یقینا فتح ہوگی، روسی فوجی ماہر کی پیشگوئی

    افغان طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی اراکین کو پناہ لینے والے قرار دیا اور کہا کہ یہ دہشت گرد نہیں بلکہ مہاجر ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروہ تسلیم کیا گیا ہے، جس پر اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک نے انہیں پاکستان میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم اور دیگر شامل ہیں، ان کے تربیتی کیمپ اور نیٹ ورکس مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔

    ایران کیخلاف امریکا واسرائیل جنگ:چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے۔ بین الاقوامی تعاون اور مضبوط انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے بغیر افغانستان دوبارہ علاقائی اور عالمی دہشت گردوں کا گڑھ بن سکتا ہے طالبان کی جانب سے ان گروہوں کو پناہ دینا اور ان کی موجودگی کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنا خطے میں تشویش اور سفارتی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    پاکستان کا افغان طالبان رجیم کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق جاری ہے، اور اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کیے ہیں،عطااللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں اب تک مختلف کارروائیوں میں 481 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 696 سے زیادہ زخمی ہیں اس کے علاوہ 226 چیک پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، جبکہ 35 پر پاکستان نے قبضہ کرلیا ہے، 198 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان بھر میں 56 مقامات کو مؤثر انداز میں فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    واضح رہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عسکری کارروائیاں کی تھیں، جس کے جواب میں پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کا اعلان کیا،پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ اسے کالعدم ٹی ٹی پی یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات