امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کو ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ روسی حکومت نے یوکرین پر حملے کی صورت میں یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا۔
باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں یوکرین کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور آنے والے دنوں میں ممکنہ انسانی حقوق بحران سے خبردار کیا۔
امریکی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باچلیٹ کے نام لکھے جانے والے خط میں کہا گیا کہ امریکا کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ روسی فورسز فوجی قبضے کے بعد مزاحمت کرنے والے یوکرینی باشندوں کو قتل اور گرفتار کرنے کے لئے ناموں کی فہرستیں تیار کر رہے ہیں۔
امریکی حکومت کی جانب سے خط میں لکھا گیا کہ ہمارے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ روسی فورسز پر امن مظاہروں کو ختم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کریں گے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انٹیلی جنس رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن بیلا روس میں موجود ہوں گے۔
ادھر اس حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ بیلا روس اپنی سرزمین پر روسی جوہری میزائلوں کے تعینات کیے جانے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔
روس نے اتوار کے روز یوکرین کی شمالی سرحد کے نزدیک فوجی تربیتی مشقوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ان مشقوں کے دوران میں روسی افواج کا ایک بڑا مجموعہ پڑوسی ملک بیلا روس منتقل ہو گیا شمال میں بیلا روس کی سرحد یوکرین سے ملتی ہے۔
بیلا روس میں روسی افواج کی موجودگی سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ ان افواج کو 3 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے کے واسطے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیف کی آبادی 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔
امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے مطابق روس نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے روس نے ہفتے کے روز بیلا روس میں روایتی مشقوں کے ساتھ جوہری تربیتی مشقوں کا بھی اجرا کیا۔ علاوہ ازیں سمندری مشقیں بحیرہ اسود کے ساحلوں کے نزدیک انجام دی جا رہی ہیں۔
جبکہ ماسکو نے ہمسایہ ملک پر ممکنہ حملے کے منصوبے سے انکار کیا ہے مگر یوکرین سے یہ گارنٹی طلب کی ہے کہ وہ نیٹو میں شمولیت اختیار نہیں کرے گا اور مشرقی یورپ سے نیٹو کی افواج کو ہٹا لیا جائے گا ان مطالبات کو مغربی اتحاد نےمسترد کر دیا ہے-
تل ابیب:اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات میں عالمی ادارے سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور اس کی سربراہ پر یہودی ریاست کے لیے ’غیر منصفانہ طور پر تعصب‘ رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات میں عالمی ادارے سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمیشن کی سربراہ ناوی پلے کو بھیجے گئے ایک خط میں اس سخت فیصلے نے اسرائیل اور جینیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ہیومن رائٹس کونسل کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا دیا ہے اس کے خط کا ذاتی مقصد پلے پر تھا، جو مشیل بیچلیٹ سے پہلے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ تھیں۔
اس خط میں، جس پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کی مندوب میرو ایلون شاہر کے دستخط ہیں، میں کہا گیا ہے کہ ’یہ میرے ملک کے لیے واضح ہے کہ اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ انسانی حقوق کی کونسل یا اس کے کمیشن آف انکوائری سے معقول، منصفانہ اور غیر امتیازی سلوک روا رکھا جائے گا-
کونسل نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان 11 روزہ جنگ کے چند دن بعد یعنی گذشتہ سال مئی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا اس لڑائی میں خواتین اور بچوں سمیت 260 سے زائد فلسطینی مارے گئے تھے جب کہ اسرائیل میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس وقت انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ نے کہا تھا کہ اسرائیلی کارروائیاں جن میں شہری علاقوں میں فضائی حملے بھی شامل ہیں، جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
اس کے بعد سے ہیومن رائٹس واچ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے بیچلیٹ اور ایچ آر ڈبلیو دونوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی شہروں پر حماس کی جانب سے اندھا دھند راکٹ داغے جانا بھی جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیل نے حماس کو عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گروپ عسکری سرگرمیوں کے دوران رہائشی علاقوں کو پناہ کے لیے استعمال کرتا ہے اور گنجان شہری علاقوں سے اسرائیل پر کئی راکٹ فائر کیے گئے۔ Palestinian demonstrators hurls stones at Israeli forces amid tear gas during ,Photo:Timesofsiraelclashes, as they protest Israeli Jewish settlements, in the Jordan Valley of the West Bank, Tuesday, Nov. 24, 2020. (AP Photo/Majdi Mohammed)
لیکن کونسل کے کمیشن آف انکوائری کی ذمہ داریوں میں غزہ جنگ کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کے خلاف بدسلوکی کی تحقیقات کرنا بھی شامل ہے کمیشن کو اسرائیل، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔
یہ ایسا پہلا کمیشن ہے جس کے پاس اس طرح کا ’موجودہ‘ مینڈیٹ ہے اسرائیل طویل عرصے سے اقوام متحدہ اور خاص طور پر انسانی حقوق کونسل پر اسرائیل کے خلاف تعصب رکھنے کا الزام لگاتا رہا ہے اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کے انسانی حقوق کا ریکارڈ کونسل کے ہر اجلاس میں زیر بحث آتا ہے۔
اسرائیل نے کونسل کی تشکیل کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایسے ممالک شامل ہیں جن کا خود انسانی حقوق کا ریکارڈ خراب ہے یا وہ اسرائیل کے خلاف کھلی دشمنی رکھتے ہیں 47 رکنی کونسل میں چین، کیوبا، اریٹیریا، پاکستان، وینزویلا اور متعدد عرب ممالک شامل ہیں۔
اسرائیل نے جنگ کے دوران اپنے طرز عمل اور فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی مطالبات کو بھی بارہا مسترد کیا ہے۔ دا ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ممکنہ اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ دشمنی سے متاثر ہے اور اسے ’غیر قانونی ریاست قرار‘ دینے کی بین الاقوامی مہم کا حصہ ہے۔ Smoke and flames rise during Israeli air strikes amid a flare-up of Israeli-Palestinian violence, in Gaza May 12, 2021. REUTERS/Ibraheem Abu Mustafa TPX IMAGES OF THE DAY
ایلون شاہر نے خط میں لکھا: ’یہ کمیشن آف انکوائری یقینی طور پر اسرائیل کو ’شیطانی ریاست‘ ظاہر کرنے کی کوششوں کا ایک اور افسوسناک باب ہے۔‘ خط میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی سربراہ کو ذاتی طور پر نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ایک سابق جج پلے نے اسرائیل کو نسلی عصبیت رکھنے والی قوم قرار دینے کے ’شرمناک‘ عمل اور اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی قیادت میں بین الاقوامی بائیکاٹ تحریک کی حمایت کی۔
اسرائیلی سفیر 29 دسمبر کو پلے کی جانب سے اسرائیل کی حکومت کے نام بھیجے گئے ایک خط کا جواب دے رہی تھیں، جس میں اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ کمیشن کی تشکیل کے بعد ظاہر کیے گئے ’اپنے عدم تعاون کے موقف پر نظر ثانی کرے۔‘
پلے نے لکھا تھا کہ کمیشن کو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس دورے کے لیے مارچ کے آخری ہفتے میں درخواست بھی دی گئی تھی جس کے تحت کمیشن کے چھ سے آٹھ عملے نے سفر کی کوشش کی۔ اسرائیلی سفیر نے خط میں کہا کہ کمیشن اس طرح کی رسائی یا اسرائیلی حکومت کا تعاون حاصل نہیں کر پائے گا۔
پلے کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ وہ جو ’الزام‘ لگاتی ہیں وہ ’اسرائیل مخالف تعصب‘ ہے۔ مثال کے طور پر 2017 میں ایک انٹرویو میں انہوں نے نسلی عصبیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ نسلی بنیادوں پر لوگوں کو جبری طور پر تقسیم کرنا ہے اور یہ اسرائیل میں ہو رہا ہے۔‘ پلے نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اسرائیل کی حکومت ماضی میں نسلی عصبیت رکھنے والے جنوبی افریقہ اور اسرائیل کے درمیان موازنے پر ناراض ہے۔‘
پلے نے اپنی تقرری کے بعد سے سامنے آنے والے اسرائیل مخالف تعصب کے الزامات کا عوامی طور پر کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔ کمیشن نے جمعرات کو اے پی کو ایک ای میل میں اس حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اراکین عوامی طور بیانات دینے اور نہ ہی متعلقہ فریقوں کے درمیان ان کی بات چیت کو عام کرنے کا اختیار رکھتے ہیں تاکہ ان کے کام کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔
نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔
باغی ٹی وی : سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھاکہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی جہنم بن چکی ہےافغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں اورعالمی امداد سے سرکاری ورکرز کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔
انتونیوگوتریس نے مزید کہا کہ ایسے اصولوں اور شرائط کو معطل کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف افغانستان کی معیشت بلکہ زندگی بچانے والی کارروائیوں کو بھی محدود کرتے ہیں۔
طالبان دہشتگردی کے خطرات کم کرنے کیلئےعالمی برادری اورسکیورٹی کونسل کےساتھ مل کر کام کریں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد حال ہی میں پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔
وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سےمطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں-
لندن: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اومی کرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ ابھی مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی-
باغی ٹی وی :برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کی ٹیکنیکل ہیڈ ماریا وین کرخوف نے کہا ہے کہ وائرس اپنی شکل مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں کورونا کی بھی متعدد شکلیں سامنے آچکی ہے اور اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے ویریئنٹ اومی کرون آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ مستقبل میں مزید ویریئنٹس سامنے آئیں گے۔
بی بی سی کو انٹرویو میں ماریا وین کرخوف نے کہا کہ کورونا وائرس اب بھی شکلیں تبدیل کرکے سامنے آرہا ہے اس لیے ہمیں اپنے معمولات زندگی کو بدلنے اور خود کو صورت حال کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہےکچھ لوگ اومی کرون کو زیادہ مہلک نہیں سمجھتے لیکن ایسا نہیں ہے کیوں کہ اس ویریئنٹ سے اسپتالوں میں مریضوں کی آمد بڑھ گئی ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اومی کرون ویریئنٹ ڈیلٹا ویریئنٹ کے مقابلے میں کم ہلاکت خیز ہے –
انہوں نے کہا کہ اس وبا سے بچنے کا واحد راستہ ویکسینیشن ہے اور تاحال دنیا بھر میں 3 ارب ایسے لوگ ہیں جنھیں اب تک کورونا ویکسین کا ایک بھی ٹیکہ نہیں لگا ہے اس لیے یعنی دنیا بھر میں ویکسینیشن کو بڑھانا ہے ماسک لازمی پہننا ہے اور سماجی فاصلے برقرار رکھنا چاہیئے۔
قبل ازیں ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن ڈیوس ایجنڈا 2022 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت میں ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا تھا کہ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اقدامات اٹھائے جائیں جن کی وجہ سے اس کے شرح پھیلاؤ میں کمی آئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو اور یہ ہمیشہ انسانی معاشرے میں موجود رہے لیکن ساتھ ہی امکان ظاہر کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے سبب اسپتالوں میں عائد کی جانے والی ہنگامی صورتحال کا سال رواں میں خاتمہ ہو سکتا ہے۔
مائیکل ریان نے واضح کیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کا واحد مؤثر طریقہ کار ویکسینیشن کرانا اور جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ مستقبل میں کورونا مستقل بنیادوں پر انسانی معاشرے میں رہتا بھی ہے تو وہ اس قدر مہلک و خطرناک ثابت نہیں ہو گا جتنا اپنے ابتدائی دور میں تھا کورونا کے تیز پھیلاؤ کی وجہ سے بھی انسانوں میں قوت مدافعت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب کورونا وبا کے خاتمے کیلئے ویکسی نیشن کا عمل دنیا بھر میں جاری ہے تاہم ایک فرد کی کامل ویکسی نیشن کی تعریف کیا ہے، اس امر میں ویکسین تیار کرنے والی فارمیسیز سمیت شعبہ صحت کے حکام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہےامریکا میں سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اپنی 2 اہم ذمہ داریوں میں توازن قائم کر رہا ہے جس میں ویکسین شدہ افراد کو بوسٹر شاٹس کی اہمیت بتانا اور جنہیں ابھی تک ایک بھی ویکسین نہیں لگی انہیں ویکسین لگوانے پر قائل کرنا شامل ہے۔
سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیل ولینسکی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ جن افراد نے ابھی حال ہی میں کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگوائی ہے اور وہ بوسٹر کے ابھی اہل نہیں ہوئے، وہ اپ-ٹو-ڈیٹ ہیں اور جو ویکسین کی 2 ڈوز لگواچکے ہیں اور اہل ہونے کے بابوجود بوسٹر شاٹس نہیں لگوائے، وہ اپ-ٹو-ڈیٹ نہیں کہلائے جاسکتے۔
لیکن رائٹرزنے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا سی ڈی سی کی ڈائریکٹر سے اختلاف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں میری تجویز یہ ہے کہ بوسٹر شاٹس کے بجائے ہر سال ایک بار باقاعدگی سے کورونا ویکسین لگائی جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ کچھ کاروباری اداروں، یونیورسٹیوں اور ان جیسے دیگر اداروں میں عملے سے بوسٹر شاٹس سے متعلق پوچھا جارہا ہے لیکن کامل ویکسی نیشن کے حوالے سے اکثر ادارے سی ڈی سی کی تعریف اپنائے ہوئے ہیں کہ کورونا ویکسی نیشن کے ابتدائی مراحل مکمل ہونے کے بعد ایک فرد کی ویکسی نیشن مکمل ہوجاتی ہے۔
جبکہ دی گلوب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کینیڈا کے شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ کامل ویکسی نیشن کی تعریف کا دوبارہ تجزیہ کررہے ہیں۔
جنیوا:پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں تیزی لائے اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرے تاکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو روکا جا سکے اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کو روکا جا سکے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی تنظیم کے کام سے متعلق رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کو امن و سلامتی کاموں کا مرکز رہنا چاہیے۔ پاکستانی سفیر نے اپنی تقریر میں کہا ہم سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کو فروغ دینے اور کشمیری عوام کے خلاف بھارتی دہشت گردی کے راج کو ختم کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا خاطر خواہ اختیار استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کچھ نہیں کر رہی تو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے چارٹر کی طرف سے فراہم کردہ اختیار کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی میں کارروائی کر کے امن اور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
منیر اکرم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بنیادی خطرہ جموں و کشمیر کے تنازعہ سے لاحق ہے اور بھارت کی طرف سے مسلم اکثریتی مقبوضہ جموںوکشمیر کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
منیر اکرم نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارت کی طرف سے کئے گئے وسیع غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی اور کونسل اور سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کیلئے کوششوں کا آغاز کریں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سنگین جرائم کیلئے بھارت سے اب تک کوئی جوابدہی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کے کالے قوانین ان نو لاکھ فورسز اہلکاروں کو مکمل استثنیٰ فراہم کرتے ہیں جنہیں بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تعینات کرکھا ہے۔۔ سفیر منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر پریس کلب پر حالیہ حملہ اور اسکی بندش مقبوضہ علاقے میں مجرمانہ کارروائیوں اور نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لیے بھارتی وحشیانہ جبر کی ایک اور مثال ہے ۔
یروشلم :اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے افغان مہاجرین کی مدد کا اعلان کرتے ہوئے 5 لاکھ ڈالرز عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، یا رہے کہ اسرائیل کا عطیہ اسی دن آیا جب اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے 4.4 بلین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ افغانستان کی مدد کے لیے اسرائیل نے تاجکستان میں افغان مہاجرین کے لیے خوراک، طبی امداد اور دیگر امداد کے لیے اقوام متحدہ کو 500,000 ڈالر عطیہ کیے ہیں۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلون اُشپیز نے کہا کہ ان کے ملک کو "افغان طالبان سے بھاگنے والے افغانوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بننے پر فخر ہے”۔
اُشپیز نے مزید کہا کہ اس امداد نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اسرائیل کی وابستگی کو اجاگر کیا،
اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان میں 22 ملین افراد اور پڑوسی ممالک میں مزید 5.7 ملین بے گھر ہونے والے افغان – اس کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد – کو اس سال اہم امداد کی ضرورت ہے۔
اپیل میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے لیے بین الاقوامی عطیات اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNHCR) کے لیے 623 ملین ڈالر کی درخواست کی گئی۔
"ایک مکمل انسانی تباہی پھیل رہی ہے۔ میرا پیغام فوری ہے: افغانستان کے لوگوں پر دروازے بند نہ کریں،” اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کہا۔
انہوں نے زور دیا کہ "ہماری مدد کریں وسیع پیمانے پر بھوک، بیماری، غذائی قلت، اور بالآخر موت کو روکنے میں،
یاد رہے کہ پچھلے سال اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، ملک کے لیے غیر ملکی امداد بند کر دی گئی، جس نے کابل کو معاشی بحران میں ڈال دیا۔
گریفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کا انحصار زندگی بچانے والی امداد پر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ UNHCR کی توجہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ اور مدد پر ہے۔
جنیوا: اقوام متحدہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی قوتوں نے مالی امداد نہ کی تو افغانستان میں لوگ بھوک و افلاس کا شکارہوکرمر جائیں گےجبکہ ماہرین پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ افغانستان میں رواں برس 47 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کریں گے جن میں 11 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ نے افغانستان میں رواں برس 2022 میں بھوک و افلاس اور صحت عامہ سے نمٹنے کے لیے 5 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے انسانی المیے کے شکار ملک میں شہری گزر بسر کے لیے اپنی بچیوں کی شادیاں پیسوں کے عوض کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دو دہائیوں سے جنگ کے زخم خوردہ افغان عوام کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے 4.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ مزید 62 کروڑ 30 لاکھ دیگر ممالک میں پناہ لینے والے لاکھوں افغانوں کی مدد کے لیے درکار ہوں گے یہ رقم افغانستان میں دو کروڑ 20 لاکھ افراد جب کہ پانچ پڑوسی ممالک میں 57 لاکھ سے زائد پناہ لیے ہوئےافغانوں کی ہنگامی بنیاد پر امداد پر خرچ ہوں گے۔
اقوام متحدہ نے تاریخ میں پہلی بار کسی ایک ملک کے لیے 5 ارب ڈالر کی خطیر رقم کی اپیل کی ہےطالبان کے گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کردیا گیا تھا جس کے بعد سے ملک شدید مالی مسائل سے دوچار ہے اور غربت، مہنگائی، بے روزگاری کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے کہا تھا کہ مریکہ نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کیے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی رسد بھی تعطل کا شکار ہے اس وقت کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس خوراک، رہنے کی جگہ، گرم کپڑے اور پیسے نہیں ہیں دنیا کو بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے اور انسانی ہمدردی کا فرض پورا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہ موسم کی صورت حال خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہےطالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کو تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں-
بیلجیم :اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ،اطلاعات کے مطابق بیلجیم میں پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے اقوام متحدہ اورعالمی برادری پرزور دیا ہے کہ اقوام عالم کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے،ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آج پھر5 جنوری کا دن ہے جب جموں و کشمیر تنازعہ کے جمہوری عمل کے ذریعے اس کی سرپرستی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کی 73 ویں سالگرہ ہے۔
ظہیر احمد جنجوعہ نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ 5 جنوری 1949 کی بھارت اور پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ کے کمیشن کی قرارداد کشمیر کے عوام کو ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی ضمانت دیتی ہے، جسے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح نظر اندازی کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ، بھارت نے مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی جیل اور سب سے زیادہ عسکری زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر من مانی حراستوں، عصمت دری اور تشدد، حراستی قتل، جبری گمشدگیوں اور اسٹیجڈ مقابلوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں ماورائے عدالت قتل کے ذریعے ظلم و ستم میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں 5 اگست 2019 سے اب تک 500 سے زائد کشمیریوں کی شہادت ہوئی ہے۔ یہ بھارتی ریاست کے مکروہ رویے اور اخلاقی دیوالیہ پن کا واضح مظہر ہے۔
ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے، ہندوستان اپنے غیر قانونی قبضے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بشمول زمینوں پر قبضے، غیر کشمیریوں کی آمد اور متنازعہ علاقے میں اجنبی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون بالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ یو این ایس سی کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیریوں نے اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس کا اقوام متحدہ نے ان سے وعدہ کیا تھا۔ بھارتی مظالم کی جتنی بھی مقدار کشمیری عوام کو دبا یا جا سکتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قربانیاں بہت جلد رنگ لائیں گی۔
بیلجیم میں پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے کہاہے کہ ہم عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ، یورپی یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا مکمل ادراک کرے اور بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے لیے وضاحت طلب کرے
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر پرعزم ہے اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ان کی خواہشات کے مطابق کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول تک ان کی ہر طرح کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
آخر میں ظہیر احمد جنجوعہ نے کہا میں آپ سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے میں کشمیریوں کی آواز بنیں اور ایک مضبوط بین الاقوامی ردعمل کا اظہار کریں۔تاکہ کشمیریوں کو جلد آزادی مل سکے
اسلام آباد: وزیر اعظم کی جدوجہد،پاکستان کی کامیابی:پاکستان ایشیا کا فاریسٹری چیمپئن منتخب ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے گرین وژن کی دنیا بھر میں پذیرائی جاری ہے، اقوام متحدہ نے پاکستان کو ایشیا کا فاریسٹری چیمپئن منتخب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق 10 بلین ٹرین سونامی اور پروٹیکٹڈ ایریا اینیشی ایٹو کی ایک اور کامیابی سامنے آ گئی ہے، اقوام متحدہ نے پاکستان کو ایشیا کا فاریسٹری چیمپئن منتخب کر لیا ہے۔
پاکستان کو یو این ادارہ برائے موسمیاتی تبدیلی نے فاریسٹری چیمپئن قرار دیا ہے، پاکستان بطور ریجنل چیمپئن ایشیائی ممالک کی فاریسٹری منجمنٹ میں مدد کرے گا، معاون خصوصی ملک امین اسلم کو بھی اہم ذمہ داری سونپ دی گئی۔
پاکستان نےعالمی یوم ماحولیات پر اسلامی ممالک، دنیا بھر میں قائدانہ کردار ادا کیا، اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں صرف 3 ممالک کو فاریسٹری چیمپئن منتخب کیا ہے، براعظم افریقہ اور براعظم امریکا سے بھی ایک ایک ملک فاریسٹری چیمپئن بنایا گیا۔
اقوام متحدہ نے گزشتہ ماہ فاریسٹری چیمپئن سے متعلق ابتدائی طور پر آگاہ کیا تھا، اب اقوام متحدہ نے باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی ایشیا بھر میں اپنا کردار ادا کرے۔
ملک امین اسلم نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم کے وژن نے عالمی برادری میں پاکستان کو عزت دلا دی ہے، پاکستان کو ماحول دوست پالیسیوں پر عمل درآمد کے باعث یہ اعزاز ملا ہے، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیات کے اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ادھر ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت اورپاکستان مخالف عناصرکو اس اعزاز کے ملنے پربڑی تکلیف ہورہی ہے ، سوشل میڈیا پراس کامیابی کوتسلیم کرنے کی بجائے پہلے عمران خان پرتنقید کی جارہی ہے اورپھراس اعزاز پردُکھ ہورہا ہے
ادھرپاکستان کو چیمپئن منتخب ہونے پرعالمی برادری کی طرف سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے
جنیوا: پاکستان میں او آئی سی کے اجلاس سے قبل ہی اقوام متحدہ میں افغان سفیر مستعفی ہوگئے،اطلاعات کے مطابق افغانستان کی معزول حکومت کے اقوام متحدہ میں سفیر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نئی طالبان حکومت نے اس نشست کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کرنے کے لیے جمعے کے روز درخواست دی ہے۔
اس حوالے سے اقوام متحدہ کے معاون ترجمان فرحان حق نے ذرائع کو بتایا کہ جمعرات کو موصول ہونے والے ایک خط کے مطابق سابق حکومت کے مندوب غلام اسحاق زئی نے 15 دسمبر سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگست میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے ملک اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور اقوام متحدہ میں افغان مشن کے لیے اپنا کام کاج جاری رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔
گذشتہ ستمبر میں اسحاق زئی نے اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ وہ اب بھی افغانستان کے سفیر ہیں۔ انہوں نے نومبر کے اواخر میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی میٹنگ میں حصہ بھی لیا تھا جس میں طالبان حکمرانوں کی کھل کر نکتہ چینی کی تھی۔ سابق صدر اشرف غنی نے جون میں انہیں اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔
دوسری طرف طالبان نے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ وہ اس کے سابق ترجمان محمد سہیل شاہین کو افغانستان کے نمائندہ کے طورپر منظوری دے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ کے اوائل میں ایک قرارداد منظور کرکے افغانستان کے لیے نمائندگی کی باہم مخالف دعووں پر اپنا فیصلہ غیر معینہ مدت کے لیے موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ طالبان نے اس فیصلے پر اقوام متحدہ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارہ افغان عوام کے حقوق کو نظر انداز کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں افغانستان کے نمائندہ کے لیے طالبان کے نامزد امیدوار سہیل شاہین نے کہا کہ یہ نشست اب افغانستان کی نئی حکومت کو دی جانی چاہئے کیونکہ یہ عالمی ادارے کے لیے ساکھ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ اب افغانستان میں ایک نئی خود مختار حکومت قائم ہے۔
دریں اثنا افغانستان کے اقوام متحدہ مشن نے ٹویٹ کیا کہ سفارت کار نصیر فائق چارج ڈی افیئرز کے طور پر مشن کی قیادت کریں گے۔ وہ اقوام متحدہ میں اپنے ساتھی شہریوں کے تحفظات اور جائز مطالبات کا اشتراک کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
یاد رہےکہ دوسری طرف پاکستان میں اسلامی ممالک کی تنظیم کا اہم اجلاس کل سے اسلام آباد میں شروع ہورہا ہے جس میں اسلامی دنیا افغانستان کے حوالے سے اہم فیصلے کرے گی