Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے29 ستمبر کو اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں سماعت کی، دوران سماعت الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ انتخابات کے لیے الیکشن ایکٹ میں ترمیم بھی ضروری ہے، مخصوص نشستوں سے متعلق معاملا ت بھی کلیئر نہیں ہیں، اگلے دو ہفتوں میں نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

    عدالت نے کہا کہ سماعت چھٹیوں کے بعد ہوگی، اگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو سی ایم دائر کردی جائے، ایم سی آئی کی آمدن اور اخراجات کی مکمل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرادی گئی،عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا کیا اسٹیٹس ہے، الیکشن ایکٹ سے متعلق بل ایسا کوئی پراسسس میں ہے؟

    جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ بل پراسس میں ہے، کیبنٹ سے بھی ہوگیا ابھی پارلیمنٹ میں پیش ہونا ہے، نشستوں سے متعلق معاملہ وزیر اعظم کو دوبارہ بھجوایا گیا ہے ڈائریکٹ الیکشن ہوسکتا ہے لیکن ایم سی آئی کا نہیں ہوسکتا جب تک نشستوں کا معاملہ حل نہیں ہوتا، عدالت نے کہا کہ ایم سی آئی تیار ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار وفاقی حکومت کا کیا اسٹیٹس ہے، شیڈول کب دیں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ میٹنگ میں ایک ہفتہ کا وقت دیا تھا، کل دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی ہے، اگست کے پہلے ہفتہ میں شیڈول دیں گے-

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا لوکل گورنمنٹ اسمبلی کے بغیر پراپرٹی ٹیکس معاملات ہوسکتے ہیں؟ اصل مسئلہ ترمیم کا ہے، وفاقی حکومت ہی معاملات کو دیکھے گی اس کے بعد معاملات ٹھیک ہوجائیں گے، بعد ازاں، الیکشن کمیشن کی جانب سے 29 ستمبر کو اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کرانے کی یقین دہانی کرادی گئی، کیس کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

  • نئی سیاسی جماعت "عوام پاکستان”پر الیکشن کمیشن میں اعتراض عائد

    پاکستان کی نئی سیاسی جماعت "عوام پاکستان”پر اعتراض عائد کر دیا گیا ، اعتراض الیکشن کمیشن میں دائر کیا گیا ہے

    الیکشن کمیشن میں چیئرمین ’ہم عوام پاکستان پارٹی‘ محمد امجد چوہدری نے اعتراض دائر کیا ہے اور کہا ہے کہ عوام پاکستان پارٹی کا نام ہماری جماعت ہم عوام پاکستان پارٹی سے ملتا جلتا ہے ،الیکشن کمیشن سے استدعا ہے کہ عوام پاکستان پارٹی کو بطور جماعت درج نہ کیا جائے، الیکشن ایکٹ کے مطابق ہر سیاسی جماعت کا الگ نام ہونا چاہیے، ہماری جماعت چار 5 سال سے موجود ہے ہمارا ووٹ بینک ہے، اگر ایک نام سے جماعت درج ہوئی تو ہمارا ووٹ بینک متاثر ہو گا

    واضح رہے کہ سابق ن لیگی رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے عوام پاکستان پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بنائی ہے جس کی لانچنگ تقریب کچھ دن قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی تھی، تقریب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سردار مہتاب عباسی، مفتاح اسماعیل شریک ہوئے،سابق وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور زعیم قادری بھی اجلاس میں شریک ہوئے،ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین بھی عوام پاکستان پارٹی کے اسٹیج پر موجود تھے،

    نئی سیاسی جماعت عوام پاکستان پارٹی کا نعرہ ’’بدلیں گے نظام‘‘ رکھا گیا ہے، عوام پاکستان پارٹی کے جھنڈے کا رنگ سبز اور نیلا رکھا گیا جس میں پارٹی کا نام سفید رنگ سے تحریر ہے، رکن آگنائزنگ کمیٹی فاطمہ عاطف کا کہنا ہے کہ پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن 19 جون کو ہوئے، شاہد خاقان عباسی کو پارٹی کا کنوئینر جبکہ مفتاح اسماعیل کو سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے.

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • امیدواروں کو   فارمز 45 فراہم نہ کرنے پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    امیدواروں کو فارمز 45 فراہم نہ کرنے پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کو الیکشن فارمز 45 فراہم نہ کرنے کا کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا،درخواست گزار کی جانب سے سلمان اکرم راجہ بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے ،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اپلوڈ کیے گئے فارمز ہمیں نہیں دیے گئے،ہماری استدعا ہے کہ کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر یہ کیس لگا تو اس قسم کے دیگر کیسز بھی لگانے پڑیں گے، ابھی چھٹیوں کا روسٹر نہیں بنا وہ بنے گا پھر دیکھیں گے، عدالت نے کیس چھٹیوں میں مقرر کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • الیکشن ٹربیونل،راجہ خرم نواز نے  فارمز اور بیان حلفی جمع کروا دیا

    الیکشن ٹربیونل،راجہ خرم نواز نے فارمز اور بیان حلفی جمع کروا دیا

    اسلام آباد الیکشن ٹریبونل،این اے 48 کے انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے خلاف الیکشن پٹیشن پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے علی بخاری کی درخواست پر سماعت کی،راجہ خرم نواز نے اپنا جواب، تمام فارمز اور بیان حلفی ٹریبیونل میں جمع کروا دیے، الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر پر لازم ہے کہ وہ فارم 45 پولنگ ایجنٹ کو دے،پریزائیڈنگ افسر اگر فارم 45 نہیں دیتا تو اس نے وجوہات لکھنی ہیں،پریذائڈنگ افسر کو بلائیں گے پوچھیں گے کیا انہوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں؟261 پریذائڈنگ افسر ہیں ان تمام کو پارٹی تو نہیں بنا سکتے،

    کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو کون ذمہ دار ہے؟ہم تہہ تک جائینگے، جسٹس طارق محمود جہانگیری
    عدالت نے ممبر اسمبلی راجہ خرم نواز اور ریٹرننگ افسر کو فارم 45، 46، 47 رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ نے ای ایم ایس سسٹم کا کیا کیا؟ پریزائیڈنگ افسران نے فارمز آپ کو بھیجے یا نہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں اس کے بارے میں کمیشن سے پوچھ کر بتاؤں گا، جسٹس طارق محمود جہانگیر ی نے کہا کہ پریزائڈنگ افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولنگ ایجنٹ کو تمام متعلقہ فارمز مہیا کریں، اگر پریزائیڈنگ افسر فارمز ایجنٹوں کو فراہم نہیں کرتا تو الیکشن ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی،پریزائیڈنگ افسر دس پیکٹ بنائے گا اور سب پولنگ ایجنٹوں کے دستخط لے گا، اگر ایسا نہیں ہو گا تو وہ اسکی وجوہات لکھے گا،وکیل علی بخاری نے کہا کہ ہمیں تو اندر ہی نہیں جانے دیا گیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ کیا آپ اور آپ کے ایجنٹ سے ان دس لفافوں پر دستخط لیے گئے؟علی بخاری نے کہا کہ نہ مجھ سے اور نہ میرے ایجنٹ سے سائن لیے گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے اعتراض کیا کہ یہ معاملہ الیکشن پٹیشن میں نہیں اٹھایا گیا، الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ یہ سول کوٹ نہیں ٹریبیونل ہے، ہم نے معاملے کی تہہ تک جانا ہے،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو کون ذمہ دار ہے؟ واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کسی حد تک بھی جائیں گے،

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ کسی کو سرٹیفائیڈ کاپی چاہیے تو رجسٹرار کو درخواست دے کر لے سکتا ہے، اگر کوئی عام شہری بھی ریکارڈ دیکھنا چاہتا ہے دیکھ سکتا ہے کو کوئی روک ٹوک نہیں،کوئی جرنلسٹ بھی ریکارڈ دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے،این اے 48 سے متعلق ٹریبیونل نے سماعت 15 جولائی تک ملتوی کر دی

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • فارم 45 جمع نہ کروانے پر ن لیگی اراکین کو جرمانہ

    فارم 45 جمع نہ کروانے پر ن لیگی اراکین کو جرمانہ

    اسلام آباد کے تین حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی کی پٹیشنز پر سماعت ہوئی

    الیکشن ٹریبیونل کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ سات دن سے زیادہ کی تاریخ نہیں دی جا سکتی ،روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے 180 دن کے اندر اندر فیصلہ کرنا ہے،قانون کہتا ہے کہ اگر جیتنے والا امیدوار تاخیر کی کوششیں کرتا ہے تو اسے شوکاز کرکے پندرہ دن میں اس کی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے،یہ الیکشن ٹریبیونل کے کام کرنے کا بنیادی اصول ہے، کیا کسی کو اس پر اعتراض ہے؟

    ن لیگی امیدواروں کے وکیل نے کہا کہ 19 فروری کو نوٹیفکیشن ہوا ،3 اپریل کو پیٹیشن دائر ہوئی ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے بغیر وکالت نامے کے بات کرنے والے طارق فضل چوہدری کے وکیل کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک آپ کا وکالت نامہ نہیں آتا ،آپ بات نہیں کر سکتے ،

    اسلام آباد کے الیکشن ٹریبیونل نے مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدواروں سے دوبارہ بیانِ حلفی طلب کر لیے،

    الیکشن ٹریبونل میں سماعت کے موقع پر سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کمرہ عدالت میں موجود تھے،عامر مغل کے حلقے کے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس طارق محمود جہانگیری نے باقی تمام وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کی،الیکشن کمیشن کے وکیل نے اسلام آباد الیکشن ٹریبونل کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ ” الیکشن پٹیشنز کے پہلے قابل سماعت ہونا دیکھ لیں کیونکہ لاہور میں 50 فیصد الیکشن پٹیشنز قابل سماعت نا ہونے پر مسترد ہو چکی ہیں ".جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سے تینوں پٹیشنز کی روزانہ سماعت ہوگی لیکن ہر حلقے کی الگ الگ سماعت ہوگی ،عامر مغل کے حلقے کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی

    راجہ خرم نواز کو اویجنل فارم 45 جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا، الیکشن ٹربیونل نے راجہ خرم نواز کو آخری موقع دے دیا.فارم 45 جمع نہ کرانے پر الیکشن ٹربیونل نے راجہ خرم نواز کو 30 ہزار جرمانہ کر دیا،الیکشن ٹریبیونل نے اسلام آباد کے حلقہ این اے 48 کے کامیاب امیدوار راجہ خرم نواز سے فارم 45، 46 اور 47 دوبارہ طلب کر لیے،ٹربیونل نے تین دن میں فارم جمع کروانے کا حکم دے دیا،

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے انجم عقیل کے وکیل کو اعتراضات پر پیٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آپ اپنے اعتراضات تحریری طور پر دے دیں تاکہ فریقین کو نوٹس کرکے جواب لے لیا جائے،

    آئندہ سماعت پر ٹریبونل کے آرڈرز پر عمل نا ہوا تو ممبرشپ معطلی کے لیے شوکاز کریں گے،جسٹس طارق محمود جہانگیری
    طارق فضل چوہدری کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ قانون کے مطابق کارروائی چلے گی ،سماعت پرسوں کے لیے رکھ دی گئی،فارم 45,46 اور 47 جمع نہ کرانے پر طارق فضل چوہدری کو 20 ہزار جرمانہ کردیا گیا،طارق فضل چوہدری روسٹرم پر آ گئے ،اور جواب جمع کرانے کے لیے جمعے تک کا وقت مانگ لیا کہا،پرسوں تک جواب جمع کرانا مشکل ہے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر ٹریبونل کے آرڈرز پر عمل نا ہوا تو ممبرشپ معطلی کے لیے شوکاز کریں گے

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    سپریم کورٹ،الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی.

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ پر پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض کر دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس امیدالدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں،دورانِ سماعت تحریکِ انصاف کے امیدواروں کے وکیل نیاز اللّٰہ نیازی نے تشکیل شدہ بینچ پر اعتراض کر دیا،نیاز اللّٰہ نیازی نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ہم اپنا اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں،وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہمارا کیس کو کسی اور بینچ میں بھیجا جائے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی جن کے وکیل ہیں انہوں نے فریق بننے کی استدعا کر رکھی ہے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوبھی معاونت کیلئے نوٹس جاری کیا تھا، عدالت نے فریق بننے کی استدعا منظور کر لی تھی،عدالت نے گزشتہ حکم نامہ میں دیگر صوبوں میں ٹربیونلز کی تشکیل کا ریکارڈ مانگا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بینچ میں شمولیت پر وکیل نیازاللہ نیازی نے اعتراض اٹھایا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سلمان اکرم راجہ جو کہ کیس میں مرکزی فریق ہیں، ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو بھی میری بینچ میں شمولیت پر اعتراض ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں اعتراض نہیں کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا نیاز اللہ نیازی نے گزشتہ سماعت پر درخواست دی، ہم نے منظور کی،درخواست منظور ہونے کے بعد اعتراض عائد کردیا،کیا ہم انکا کیس پاکستان بار کونسل کو بھیج دیں؟ عدالت نے نیاز اللہ نیازی کا وکالت لائسنس سے متعلق معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجنے پر اپنی رائے محفوظ کر لی

    کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب بس بہت ہوگیا،عدالت کو پہلے ہی بہت زیادہ اسکینڈلائز کیا جاچکا ہے مزید سکینڈلائز کرنا بند کریں، بینچز اب اکیلے چیف جسٹس نہیں تین رکنی کمیٹی بناتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟نیازی صاحب جب پہلے دو رکنی بینچ تھا تو آپکو اعتراض نہیں تھا اب آپکو اعتراض ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکار
    وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ صرف مجھے نہیں جو اس وقت جیل میں ہے اسے بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض ہے، الیکشن ٹریبونل کیس میں نیاز اللہ نیازی نے عمران خان کے اعتراض سے متعلق بنچ کو بتایا تو جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا لوگوں کی خواہشات پر عدالتیں نہیں چلتیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جن کی آپ بات کرہے ہیں انہوں نے جیل سے درخواست دی تھی کہ انہیں سنا جائے،عدالت نے انہیں اجازت دی اور جیل سے پیشی یقینی بنا کر انہیں سنا،اب آپ جاکر بیٹھ جائیے، ہمیں آپکو نہیں سننا،سوچیں گے کہ آپ کے خلاف ایکشن کے لئے پاکستان بار کونسل کو لکھیں یا نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکارکر دیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اعتراض سن لیا ہے تشریف رکھیں، یہ الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کے درمیان معاملہ ہے،کسی پرائیویٹ شخص کا اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی پرائیویٹ پارٹیز کو آپ نے فریق کیسے بنا دیا ،

    کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ کیا کوئی صدارتی آرڈیننس آیا ہے ٹریبونل کی تشکیل سے متعلق؟اٹارنی جنرل نے آرڈینینس سے متعلق تفصیلات بارے عدالت کو آگاہ کر دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈینینس میں ترمیم کی گئی ہے،بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں پہنچ چکا ہے، الیکشن ایکٹ کی سیکشن 140 کو کو اسکی اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بل اور آرڈینینس عدالت میں پیش کر دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرڈیننس کا کا اس کیس پر اثر ہو گا،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 15 فروری کا خط جمع کرائیں وہ بہت ضروری ہے،آپ نے پینل مانگا تھا اس کا کیا مطلب ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ججز کی فہرست درکار تھی تو ویب سائٹ سے لے لیتے؟ کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا، کیا اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں بھی پینل مانگے گئے تھے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن چیف جسٹس سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کر سکتا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے اچھے طالبان اور برے طالبان کی بات ہوتی تھی اب کیا ججز بھی اچھے برے ہونگے؟

    الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے،جسٹس عقیل عباسی
    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بطور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جو نام دیے وہ قبول کر لئے گئے،پنجاب میں الیکشن کمیشن نے کیوں مسئلہ بنایا ہوا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ آپ کے نکات سے مکمل متفق ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے متفق ہونے کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن کا پہلا موقف درست نہیں تھا،کیا متفقہ طور پر ٹربیونلز کو کام جاری رکھنے اور حتمی فیصلہ نہ سنانے کا حکم دیدیں؟جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عقیل عباسی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹربیونل کے جج کا پینل مانگنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مشورہ دیا کہ آپ اب جا کر چیف جسٹس سے مشاورت کرلیں، ابھی مشاورت میں کیا رکاوٹ ہے؟

    سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کو واپس بھیجنے کا عندیہ دیدیا ! ریمار کس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ بیٹھ کر حل نکال لیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام ججز اچھے ہیں سب کا احترام کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے آپس میں لڑیں تو ملک تباہ ہوتا ہے،ججز تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کب ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتائوں گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس کو کہا جاتا کہ کن علاقوں کیلئے ججز درکار ہیں وہ فراہم کر دیتے، ملتان کیلئے جج درکار ہے وہ اس رجسٹری میں پہلے ہی جج موجود ہوگا، کیا لازمی ہے کہ ملتان کیلئے لاہور سے جج جائے جبکہ وہاں پہلے ہی جج موجود ہے،الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا تھا۔

    کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں دو آئینی اداروں میں لڑائی ہو، کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے، ہم کیس زیر التوا رکھ لیتے ہیں تب تک الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ شاید حل نکال لیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کی لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبیونلز کا فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ابھی معطل نہیں کرسکتے، ہم ججزآپس میں مشاورت کر لیتے ہیں، مشاورت کیلئے مختصر وقفہ لے لیتے ہیں

    دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ وکیل الیکشن کمیشن نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو لکھا 27 جون کا خط دکھایا، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چاروں ہائی کورٹس کو پہلے ٹربیونل تعیناتی کے لیے بھی خطوط لکھے، ریکارڈ کے مطابق پہلے دو ٹربیونلز لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ مل کر بنائے گئے تھے جو ناکافی تھے، اس کے بعد چھ مزید ججز کے نام بطور ٹربیونل لاہور ہائی کورٹ نے بھیجے، الیکشن کمیشن نے 6 میں سے دو ججز کو ہی ٹریبیونل تعینات کیا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا ابھی مشاورت نہیں ہوئی،الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے درمیان فیس ٹو فیس ملاقات ہوتی تو معاملہ شاید حل ہو جاتا،

    سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 26 اپریل کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ،الیکشن کمیشن نے لاہور ہاٸیکورٹ سے پینل مانگنے کا خط بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گی،اٹارنی جنرل نے بتایا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی تعییناتی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ہے، پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملاقات ممکن ہے،

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،چیف جسٹس

    کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل ن لیگ شہزاد شوکت نے کہا کہ جیت کا تناسب پانچ فیصد سے کم ہو تو دوبارہ گنتی کی جا سکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا ،ہم دوبارہ گنتی کے اختیار کو کیسے ختم کر سکتے ہیں؟ ہر کیس کو سننا شروع کردیں تو زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا، الیکشن سے متعلق کیسز کو جلد مقرر کر رہے ہیں،جب کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو وکلا کی تیاری نہیں ہوتی،اگر ایک کیس کو 155 گھنٹے سنیں گے تو سپریم کورٹ چوک ہو جائے گی،

    این اے 154 لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    ہمارے دور میں کچھ غلط ہوا تھا تو اس کو دہرانا نہیں چاہیے، عون چوہدری

    زیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری کی ملاقات

  • پی ٹی آئی کا نام سُنتے ہی الیکشن کمیشن تلملانا شروع کردیتا ہے،کنول شوذب

    پی ٹی آئی کا نام سُنتے ہی الیکشن کمیشن تلملانا شروع کردیتا ہے،کنول شوذب

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کی ہے اور کہا ہے عدالت میں کیس تاخیر کا شکار کیا جا رہا، الیکشن کمیشن کے رویئے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے.

    تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کیس کو مزید لمبا کرنے پر تشویش ہے، عدم استحکام مزید بڑھے گا،اور جب تک پارلیمان میں وہ لوگ نہیں آئیں گے جن کو عوام نے بھیجا پارلیمان کی اخلاقی حیثیت نہیں ہو گی، فارم 47 والے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے، بجٹ میں دیکھ لیا کہ عوام پر کتنے ٹیکس مسلط کئے گئے

    اٹارنی جنرل کےمنہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، کانپیں ٹانگ رہی تھیں، فردو س شمیم نقوی
    فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کےمنہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے، کانپیں ٹانگ رہی تھیں، جب کانپیں ٹانگنے لگیں تو میری بہن کا جو کیس ہے وہ خود بیان کرے گی، عدالت میں واضح مثال دی گئی کہ جے یو آئی کی صفر سیٹ پھر بھی انکو سیٹ دی گئی،

    تحریک انصاف کی رہنما کنول شوذب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا نام سُنتے ہی الیکشن کمیشن تلملانا شروع کردیتا ہے، آپ آنکھوں پر پٹی نہیں باندھ سکتے، 13 جنوری پر واپس جائیں اور دیکھیں اُس کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا رویہ تھا، آپکو دیکھنا پڑے گا، کس طرح الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے ساتھ سلوک کیا، عامر ڈوگر کھڑے ہیں سب نے تین چار چار فارم جمع کروائے، یہ ایک فارم عدالت اٹھا لائے، آر او کے آفس کے باہر ڈالے کھڑے کئے گئے تھے، ہمیں سکروٹنی نہیں کرنے دی گئی،ہمارے امیدواروں کو اٹھایا گیا، الیکشن والے دن فسطائیت برپا کی گئی، اس سب کو دیکھیں ،یہ عدالت نہیں انسانی حقوق پر نظر نہیں ڈالے گی تو کون دیکھے گا،الیکشن کمیشن ایک نیوٹرل ادارہ ہونا چاہئے،آئینی ادارہ ہونا چاہئے، لیکن یہاں الیکشن کمیشن کا رویہ کچھ اور ہے ، اس الیکشن کی انکوائری ہونی چاہئے کہ کیا کچھ ہوا.

    تعصب پر مبنی فیصلہ کرکے ہم سے بلا نہ چھینا جاتا تو آئین و قانون کیساتھ کھلواڑ نہ ہوتا،ملک عامر ڈوگر
    تحریک انصاف کے رہنما ملک عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ مُلک میں سیاسی، آئینی و معاشی بحران کی ذمہ دار سُپریم کورٹ ہے، اگر تعصب پر مبنی فیصلہ کرکے ہم سے بلا نہ چھینا جاتا تو آئین و قانون کیساتھ کھلواڑ نہ ہوتا،مخصوص نشستوں کا کیس ایک دن کا کیس ہے، مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ ہمیں انصاف دے گی، کیس ضروری طور پر تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے، قوم کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، نامکمل پارلیمنٹ نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا،

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ ، سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بنچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ وکیل مخدوم علی خان نے بتایا آئین کے مطابق سیٹیں سیاسی جماعتوں کو ملیں گی نہ کہ آزاد امیدواروں کو، سیاسی جماعتیں تب مخصوص نشستوں کی اہل ہوں گی جب کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہوگی ،میرے پاس ریکارڈ آگیا ہے، 2002 اور 2018 میں مخصوص نشستوں سے متعلق بھی ریکارڈ ہے،2002 کی قومی اسمبلی میں 14آزاد اراکین تھے، 14آزاد اراکین کو نکال کر باقی مخصوص نشستوں کا فارمولا نکالا گیا،ان 14آزاد اراکین کی مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں میں بانٹی گئیں، ایک اسمبلی میں بلوچستان میں 20فیصد آزاد اراکین تھے، آزاد اراکین کو ہمیشہ الگ کیا جاتا رہا،

    کیا سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آزاد اراکین کو پولیٹیکل پارٹیز سے الگ رکھنے کے نتائج کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں تقریباً 33فیصد اراکین اسمبلی آزاد ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 51کی زیلی شق چھ کی اصل لینگویج تک خود کو محدود رکھ رہا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے باہر کردیا، کیا سپریم کورٹ کی آئینی زمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی یہی سوال کیا گیا تھا،میں آخر میں آرٹیکل 187پر دلائل دونگا ،

    جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق 2002 میں آرٹیکل 51 لایا گیا، 2002 میں مخصوص نشستوں کی تعداد 10 تھی،2018 میں 272 کل نشستیں تھیں تین پر انتخابات ملتوی ہوئے اور 13 آزاد امیدوار منتخب ہوئے، 9 امیدوار سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے مخصوص نشستوں کا فارمولا 265 نشستوں پر لاگو ہوا، 2018 میں 60 خواتین کی اور 10 اقلیتی سیٹیں مخصوص تھیں،2002 کے انتخابات میں بلوچستان میں 20 فیصد آزاد امیدوار منتخب ہوئے تھے، مخصوص نشستوں کے تعین میں آزاد امیدواروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا،جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہماری آئینی ذمہ داری نہیں کہ پہلے الیکشن کمیشن کی غلطی کو درست کریں؟ الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی ،بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کے ناطے کیا یہ ہماری زمہ داری نہیں کہ اسے درست کریں،

    کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟جسٹس منیب اختر
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہے کیا آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحادکونسل میں آزادامیدواروں کی شمولیت ہوسکتی ہے، کیا سنی اتحادکونسل مخصوص نشستوں کی اہل ہے یا نہیں؟جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آزاد امیدواروں کی تعداد 2024 میں بہت بڑی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق کسی صورت کوئی نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں کبھی آزاد اراکین کا معاملہ عدالت میں نہیں آیا، اس مرتبہ آزاد اراکین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کیس بھی آیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اسمبلی مدت ختم ہونے میں 120 دن رہ جائیں تو آئین کہتا ہے انتخابات کرانے کی ضرورت نہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے، سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے؟ جن کو آپ آزاد کہہ رہے وہ آزاد نہیں انکو الیکشن کمیشن نے فیصلے سے آزاد کیا۔

    آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں،آپ پھر اس پوائنٹ پر اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں کہ نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں، موجودہ سچوئشن بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا یہ ان کا کام ہے، آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصل صدیقی نے کہا تھا اگر سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں ملتی تو خالی چھوڑ دیں، پارلیمانی پارٹی کےلیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت نے انتخابات میں نشست جیتی ہو،
    پارلیمانی پارٹی ارکان کے حلف لینے کے بعد وجود میں آتی ہے،پارلیمانی پارٹی کی مثال غیرمتعلقہ ہے کیونکہ اس معاملے کا تعلق انتخابات سے پہلے کا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کا ذکر آئین میں کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ذکر صرف آرٹیکل 63 اے میں ہے، آرٹیکل 63 اے کے اطلاق کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی موجود ہو،

    پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کر چکا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس اختیار کے تحت پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کرتا ہے؟ پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جواب الجواب دلائل میں وہ خود بتا دیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وہ نہیں، آپ بتائیں الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن پر کیا کہتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل کو دکھادیا،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا نوٹیفکیشن بھی دکھا دیا ،وکیل فیصل صدیقی نے کہ کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نوٹیفکیشن سے زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر بھی بنا چکا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار پارلیمانی پارٹی نہیں بنا سکتے،آزادامیدواروں نے اسی میں شامل ہونا ہوتا ہے جو پارٹی ایک سیٹ کم سے کم جیت کر آئی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی سیاسی جماعت کے جیتے ہوئے امیدوار ہوں تو سیاسی پارٹی آٹومیٹکلی پارلیمانی پارٹی بن جاتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزادامیدوار پارٹی بنا لے تو آرٹیکل 51 نافذ نہیں ہوگا، آزادامیدوار کی اسمبلی سے باہر تو پارٹی تصور کی جائےگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار کسی ایسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا جو پارلیمانی پارٹی نہ ہو،

    نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سرکاری طور پر ہونے والے کمیونکیشن کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سے ان نوٹیفکیشنز کا تعلق نہیں، اٹارنی جنرل منصوراعوان نے علامہ اقبال کے بانگ درا کے شعر کا حوالہ دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، میرا شوق دیکھ اور میرا انتظار دیکھ،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ،جسٹس منیب اختر
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تشریح مان لیں تو پارلیمان میں بیٹھے اتنے لوگوں کا کوئی پارلیمانی لیڈر نہیں ہوگا؟ موقف مان لیا تو کسی کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ہونے پر کارروائی ممکن نہیں ہوگی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ہے،بتائیں نا الیکشن کمیشن انہیں پارلیمانی پارٹی مان کر کیسے نشستوں سے محروم کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کو بتا رہا ہے کہ ہمارے ریکارڈ میں یہ پارلیمانی جماعت ہے، ریکارڈ کسی وجہ سے ہی رکھا جاتا ہے ناں؟

    اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسا ہوسکتا کہ سیاسی جماعت اگر پارلیمانی پارٹی نہ ہو لیکن سیٹ جیتے تو پارلیمانی پارٹی تصور کی جاسکتی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات ہی تعین کریں گے کہ پارلیمانی پارٹی کون ہوگی،آزادامیدوار اگر ہوں تو پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو سکتے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں آزادامیدوار کے بارے میں نہیں پوچھ رہی، میں انتخابات میں حصہ لینے کے حق کے حوالے سے پوچھ رہی، آپ کے مطابق سیاسی جماعت ہی پارلیمانی پارٹی بنے گی، ابھی تو ہم دیکھ رہے آزادامیدوار سیاسی جماعت ہیں یا نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں،لیکن ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد پارلیمانی پارٹی بن چکی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد ضمنی انتخابات میں جیتتی ہے تو پارلیمانی پارٹی بن سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک آئینی ادارے نے غیر آئینی تشریح کی اور سپریم کورٹ توثیق کرے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں، ہر فیصلے نے آئین کو فالو کیا، کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا کیس،سپریم کورٹ نے سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار،الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار،الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں کیس زیرسماعت ہونے کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابی نشان واپسی اور تضادات سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار ہے، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں الگ معاملہ زیرسماعت ہے، میری درخواست الگ ہے،

    تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت موجود ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل کا عدالت میں اعتراف
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگ رہا تھا سپریم کورٹ پیر تک کیس نمٹا دے گی لیکن لگتا ہے کچھ وقت اور لگے گا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج بھی جوڈیشل کمیشن اجلاس کی وجہ سے ڈیڑھ گھنٹہ سماعت کا کہا گیا ہے،لگتا یہی ہے کہ کل یا پرسوں تک سپریم کورٹ کیس کا فیصلہ کر دے گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک جماعت کا انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا وہ بطور سیاسی جماعت ختم ہو جائے گی؟ کیا تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں اب بھی درج ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی، تحریکِ انصاف بطور سیاسی جماعت موجود ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک شخص آزادالیکشن لڑتاہےلیکن کہتاہےکہ اس سیاسی جماعت سےہوں توہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ میں بتاتا ہوں کہ ہوا کیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جو ہوا اسکو چھوڑ دیں میں مفروضوں پر بات نہیں کر رہا، عدالتی سوال کا جواب دیں، پی ٹی آئی بطور جماعت موجود ہے، اُسکے چیئرمین، سیکرٹری وغیرہ ہیں نا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرائے،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے درخواست دائر کی لیکن الیکشن کمیشن نے خارج کر دی، سلمان راجہ نے درخواست دی کہ انتخابی نشان نہ دیں لیکن پی ٹی آئی کا امیدوار مان لیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے 5 جولائی تک جواب طلب کر لیا.