Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • الیکشن ٹربیونل،مریم نواز کی جانب سے درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا مسترد

    الیکشن ٹربیونل،مریم نواز کی جانب سے درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا مسترد

    لاہور ہائیکورٹ الیکشن ٹریبونل،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی نا اہلی کے لیے الیکشن پیٹیشن پر سماعت ہوئی

    الیکشن ٹربیونل نے مریم نواز کی جانب سے درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا مسترد کر دی، الیکشن ٹریبونل نے انتخابی عذرداری پر سماعت 25 جولائی تک ملتوی کردی،مریم نواز کے وکیل نے سماعت کے آغاز میں الیکشن پیٹیشن کی قانونی حیثیت پر اعتراض کر دیا اور کہا کہ محض الزامات پر الیکشن پیٹیشن دائر نہیں ہو سکتی ۔الیکشن پیٹیشن میں دستخط اور دستاویزات پر اوتھ کمشنر کے دستخط نہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پریزائیڈنگ افسر کو بلا کر انگوٹھے میچ کروالوں۔

    جسٹس انوار حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں ہے کہ جلد از جلد الیکشن اپیلوں پر ٹرائل کیا جائے، ٹریبونل کو کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیں، حلقہ پی پی 159 میں کل کتنے پولنگ اسٹیشنز تھے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ اسکیم میں رجسٹرڈ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 102 ہے،جسٹس انوار حسین نے استفسار کیا کہ فارم 45 ویب سائٹ پر جاری کیوں نہیں ہوئے؟الیکشن کمیشن کے وکیل نے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت مانگ لی۔الیکشن ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے وکیل کی استدعا منظور کر لی اور کیس کی سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    دوسری جانب الیکشن ٹریبونل ،این اے117 لاہور سے علیم خان کی کامیابی کانوٹیفیکیشن روکنے کےلئے انتخابی عذرداری پر سماعت ہوئی،عدالت نے الیکشن پیٹیشن پر سماعت 25جولائی تک ملتوی کردی عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ریکارڈ پیش کرنےکی مہلت دےدی عدالت نے علیم خان کےوکیل کوجواب داخل کرانےکی ہدایت کردی

  • سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی،وکیل الیکشن کمیشن سکندر مہمند نے کہا کہ کوشش کروں گا آدھے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کر لوں،پی ٹی آئی کے پارٹی ٹکٹ پر بیرسٹر گوہر کے بطور چیئرمین دستخط ہیں،ٹکٹ جاری کرتے وقت تحریک انصاف کی کوئی قانونی تنظیم نہیں تھی،پارٹی تنظیم انٹرا پارٹی انتخابات درست نہ کرانے کی وجہ سے وجود نہیں رکھتی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ 22 دسمبر کو جاری شدہ ہیں، انٹراپارٹی انتخابات کیس کا فیصلہ 13 جنوری کا ہے تب تک بیرسٹر گوہر چیئرمین تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات 23 دسمبر کو کالعدم قرار دیدیے تھے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 26 دسمبر کو معطل ہوچکا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ غلطی کہاں سے ہوئی اور کس نے کی ہے یہ بھی بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کئی امیدواروں نے پارٹی وابستگی نہیں لکھی اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اصل چیز پارٹی ٹکٹ ہے جو نہ ہونے پر امیدوار آزاد تصور ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس معاملے پر میں اور آپ ایک پیج پر ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پیچ پھاڑ دیں مجھے ایک پیج پر نہیں رہنا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے جاری کردہ پارٹی ٹکٹس کی قانونی حیثیت نہیں،حامد رضاء نے 13 جنوری پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا،حامد رضاء کے کاغذات نامزدگی اور سرٹیفیکٹ میں تضاد ہے

    حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن
    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین تھے اور ہیں،صاحبزادہ حامد رضا خود کو پارٹی ٹکٹ جاری کر سکتے تھے،صاحبزادہ حامد رضا نے خود کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا، حامد رضا نے کاغذات نامزدگی میں لکھا کہ ان کا تعلق سنی اتحاد کونسل سے ہے جس کا پی ٹی آئی سے اتحاد ہے، حامد رضا نے پی ٹی آئی کا پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے حامد رضا کے کاغذات منظور کر لئے تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے بیان حلفی میں ڈیکلریشن پی ٹی آئی نظریاتی کا جمع کرایا تھا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ حامد رضا کو آزاد امیدوار قرار دینے سے پہلے کیا ان سے وضاحت مانگی گئی تھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے درخواست دے کر شٹل کاک کا انتخابی نشان مانگا تھا، ریکارڈ میں پارٹی ٹکٹ نظریاتی کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد کاغذات نامزدگی میں تضاد پر کوئی نوٹس کیا گیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسر سکروٹنی میں صرف امیدوار کی اہلیت دیکھتا ہے انتخابی نشان کا معاملہ نہیں،حامد رضا خود کو سنی اتحاد کونسل کا امیدوار قرار نہیں دینا چاہتے تھے، حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،چودہ جنوری سے سات فروری تک تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات کروا سکتی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات ہوتے بھی تو کیا فرق پڑنا تھا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان مل جاتا اور وہ انتخابات کیلئے اہل ہوجاتی،

    آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے، وکیل الیکشن کمیشن
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس صورتحال میں تو انتخابی شیڈول ہی ڈسٹرب ہوجاتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اتنی خاص رعایت کس قانون کے تحت ملنی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابات کا معاملہ کئی سال سے الیکشن کمیشن میں زیرالتواء تھا، الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی انتخابات تو ہوچکے تھے معاملہ ان کی قانونی حیثیت کا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے،

    گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس سوال کا جواب دے چکا ہوں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا نہ ان کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ باپ پارٹی کو نشستیں دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا،باپ پارٹی کو نشستیں دینے کے معاملے پر کوئی سماعت نہیں ہوئی تھی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک معاملے پر دو مختلف موقف کیسے لے سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باپ پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا تھا؟ کیا ایسی کوئی پابندی ہے کہ کسی بھی اسمبلی میں نشست ہو تو مخصوص سیٹیں مل سکتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ آئین و قانون کے مطابق آٹھ فروری کو پانچ عام انتخابات ہوئے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر اسمبلی کیلئے الگ عام انتخابات ہوتے ہیں، الٰیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل مکمل کر لئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک وکیل نے ایک کیس میں کچھ موقف اپنایا شام کو کچھ اور، مختلف موقف کا سوال ہونے پر وکیل نے کہا میں اب زیادہ سمجھدار ہوگیا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے اپنے نوٹ میں کچھ معلومات مانگی تھیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کا نوٹ میں نہیں پڑھ سکا،

    الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،بیرسٹر گوہر
    عدالت نے بیرسٹر گوہر کو روسٹرم پر بلا لیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ سے پوچھا تھا کہ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا یا نہیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بطور پارٹی امیدوار اور آزاد امیدوار بھی کاغذات جمع کرائے تھے، الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،عدالتی فیصلہ رات گیارہ بجے آیا ہمیں آزاد امیدوار شام چار بجے ہی قرار دیدیا گیا تھا،ایک امیدوار ایک حلقہ کیلئے چار کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتا ہے، پارٹی ٹکٹ کے کئی خواہشمند ہوتے ہیں جسے ٹکٹ ملے وہی امیدوار تصور ہوتا ہے، الیکشن کمیشن نے عدالت سے کاغذات نامزدگی چھپائے ہیں،

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا لئے
    معاون وکیل نے کہا کہ فاروق نائیک عدالت نہیں پہنچ سکے، پیپلزپارٹی کے وکیل اور شہزاد شوکت نے مخدوم علی خان کے دلائل اپنا لئے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی ف الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا رہی ہے، اقلیتوں کی پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے مس پرنٹ ہوا تھا جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی، اقلیتوں کے حوالے سے الگ سیکشن موجود ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے درست کام کیا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کل تو مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس میں کچھ اور کہہ رہے تھے اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کررہے تھے۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے کے ساتھ ہیں،مسلم لیگ ن کے بیرسٹر حارث عظمت نے تحریری دلائل جمع کرا دیے.جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ امیدواروں کو آزاد قرار دینا غلط تھا تو پارٹی شمولیت کا 3 دن کا وقت دوبارہ شروع ہوگا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا۔

    دوران سماعت جسٹس منیب اختر اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک دوسرے کو جواب دیا،جسٹس منیب اختر الیکشن کمیشن کو ملبہ کسی اور جگہ گرانے کی بجائے پھر اس نقطہ پر لے آئے جس وجہ سے بلا چھینا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ذمہ داری لینے کا کہہ دیا، سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بری الذمہ ہوگئے،جسٹس منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو "نامناسب” کہا تو چیف جسٹس معاملہ عمران خان پر لے گئے

    الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟چیف جسٹس
    وکیل الیکشن کمیشن نے بار بار 13 جنوری بلے سے متعلق کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن کرائے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک نہیں ہوئے،پشاور ہائی کورٹ نے کہا ٹھیک ہوئے، لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے اور بلا چھین لیا،

    سپریم کورٹ ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کتنا وقت لیں گے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے 45 منٹ درکار ہوں گے، سماعت میں مختصر وقفہ کردیا گیا ۔

    عدالت نے مولوی اقبال حیدر کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے الیکشن نہیں لڑا تو آپ ہمارے لئے کوئی نہیں ہیں،اپنا کیس چلانا ہو تو کالا کوٹ نہیں پہن سکتے،

    مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، چیف جسٹس
    پنجاب اور بلوچستان حکومت نے اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بھی اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی نوٹس پر بطور ایڈووکیٹ جنرل دلائل دوں گا، متفرق درخواست میں تحریری دلائل جمع کروا چکا ہوں،الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ سے مطمئن نہیں ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کے پی کے میں انتخابات درست نہیں ہوئے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ فیصل صدیقی کے دلائل سے اتفاق کرتا ہوں، گزشتہ انتخابات میں کے پی کے میں باپ پارٹی نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا،باپ پارٹی کے پاس کے پی میں کوئی جنرل نشست نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی میں تین افراد نے شمولیت اختیار کی تھی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ آزاد کی شمولیت پر الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کو مخصوص نشست دی تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی کی بلوچستان میں حکومت تھی، قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی بھی تھے، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کیلئے باقاعدہ نیا شیڈیول جاری کیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے اور اب مختلف موقف اپنایا ہے، الیکشن کمیشن آج کہتا ہے گزشتہ انتخابات میں کیا گیا ان کا فیصلہ غلط تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کے پی حکومت نے اس وقت یہ فیصلہ چیلنج کیا تھا؟ اگر چیلنج نہیں کیا تھا تو بات ختم،پی ٹی آئی کے2018 میں بھی پارٹی انتخابات نہیں ہوئے تھے، پی ٹی آئی کو 2018 میں انتخابی نشان کیسے ملا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر جائیں گے تو چیئرمین سینٹ کا انتخاب بھی کھل جائے گا،مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ باپ پارٹی نے کے پی اسمبلی کیلئے کوئی فہرست جمع نہیں کرائی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو فارمولہ الیکشن کمیشن نے پہلے اپنایا تھا اب کیوں نہیں اپنایا جا رہا،ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے دلائل مکمل ہو گئے

    اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،اٹارنی جنرل
    ‏سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت یقینی بنانے کیلئے مخصوص نشستیں رکھی گئیں،مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی سے ہی مل سکتی ہیں، خواتین کو پہلی مرتبہ سینیٹ میں بھی بڑی تعداد میں نمائندگی 2002 میں ملی، سال 1990 سے 1997 تک خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کر دی گئی تھیں،17ویں ترمیم میں خواتین کی مخصوص نشستیں شامل کی گئیں،اسمبلیوں کی نشستیں جنرل انتخابات اور پھر مخصوص نشستوں سے مکمل کی جاتی ہیں، اسمبلیوں میں نشستوں کو مکمل کرنا ضروری ہے،آئین کا مقصد خواتین، غیر مسلمانوں کو نمائندگی دینا ہے،اگر اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،

    جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے،جسٹس شاہد وحید کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ بات آپ کس بنیاد پر کر رہے ہیں، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کچھ کہتا ہے اور 94 کچھ لیکن آپ کی کوشش ہے کہ ہم 95 سے ہو کر 94 کو پڑھیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں 2002 سے یہی فارمولا استعمال ہو رہا ہے ؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سال 2002 میں الیکشن ایکٹ 2017 نہیں تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا،

    آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سارا تنازع شروع ہی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنے پر ہوا،اس نکتے پر بعد میں جواب دوں گا،اصل نکتہ یہ ہے کہ کوئی مخصوص نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے بعد پہلا انتخاب 2018 میں ہوا تھا،آپ 2002 کی مثال دے رہے ہیں جو بہت پرانی بات ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا تعین ہوا لیکن انہیں دی نہیں گئیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے بغیر آزاد امیدوا مخصوص نشستیں نہیں مانگ سکتے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر سنی اتحاد والے ارکان آزاد ہیں تو ان کی مخصوص نشستوں کا تعین کیوں کیا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،آزاد امیدوار مقررہ وقت میں کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ بن سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے حساب سے انگریزی میں لکھی بات بہت آسان ہے،اتنے دن ہوگئے آرٹیکل 51 کی تشریح کرتے ہوئے ہم مفروضوں پر کیوں چل رہے ہیں، اپنی سوچ اور نظریہ آئین پر مسلط نہیں کیا جا سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مشکلات آپ کے بنائے ہوئے رولز پیدا کر رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کاش میرا دماغ چیف جسٹس جیسا ہوتا تو پڑھتے ہی سمجھ جاتا، اتنی کتابیں اسی لئے پڑھ رہے ہیں کہ سمجھ آ جائے، کمزور ججز کو بھی ساتھ لیکر چلیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ ایسا لکھنا چاہیے کہ میٹرک کا طالبعلم بھی سمجھ جائے،آئین اور قانون ججز اور وکلاء نہیں عوام کیلئے ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں جس کا جو حق ہے اس کو ملنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر حق کی بات ہے تو اس کا مطلب ہے آپ آدھا فیصلہ کر چکے، حق کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے آئین کو دیکھنا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فارمولا تو الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، جس کو الیکشن کمیشن چاہے آزادامیدوار بنا دے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آزاد امیدواروں نے چیلنج کیا؟ کیا ہمارے سامنے کوئی آزاد امیدوار آیا؟

    الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات طلب
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی سوال بڑی سیاسی جماعت کو غلط تشریح کرکے انتخابات سے باہر کرنا ہے، نشستوں کی تقسیم بعد کی چیز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن سے مانگا کیا جا رہا ہے، عدالت نے الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے آزاد امیدواروں کی سیاسی جماعتوں میں شمولیت سے پہلے اور بعد نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات بھی طلب کر لیں.

    عدالت نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل 1:30 بجے تک سماعت کرینگے کیونکہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل دلائل مکمل کر لونگا، مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل 1:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی لسٹ طلب کی تھی وہ نہیں ملی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سارا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے،کیس سے متعلق حتمی پیپر بک جمع کرا دیے ہیں،الیکشن کمیشن سے کہاہے کہ 81 آزادامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مجھے دیں ،تحریک انصاف کے فارم 66 بھی عدالت کو فراہم کردوں گا،حامدرضا نے کاغذات نامزدگی میں کہا میرا تعلق سنی اتحاد اور اتحاد تحریک انصاف سے ہے،حامدرضا کے دستاویزات میں کہا تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں،تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں،حامدرضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیاگیا،حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،

    حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟جسٹس منیب اختر کا استفسار
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والے دستاویزات میں تو حامد رضا نے نہیں لکھا کہ میں آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑنا چاہ رہا ہوں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ حامدرضا خود کو آزادامیدوار نہ کہیں، تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامدرضا نے جمع نہیں کروایا،حامدرضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف کا دیاہے،حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں،وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامدرضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد کیا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی،

    جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 12جنوری کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ کےبعدایک پارٹی کےسرٹیفکیٹ جمع کرانے کےبعد کیا دوسری پارٹی کاسرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کےپاس امیدوارکے کاغذات نامزدگی کےساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے،پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ مختلف شہروں کے ریٹرننگ افسران ہوتے، ہر ریٹرننگ افسر اپنے طریقے سے کام کرےگا نا؟ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے،اگر ڈیکلریشن، سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزادامیدوار ہوتاہے،

    دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟جسٹس نعیم اختر افغان
    حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کے مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیاجائے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکیٹ بھی دےلیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزادامیدوار ظاہر کردیاہو؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان سے کنفیوژ نہ کریں، ہم تحریک انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں سرٹیفیکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کررہا،جس پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لایا جارہا اسی پارٹی کا امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جارہا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جو سمجھ آرہا کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرے، چیف جسٹس قاض فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آرہا لیکن آگے بڑھتے ہیں،

    کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟چیف جسٹس
    امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار پارٹی وابستگی اور ٹکٹ جمع کرائے تو کیا اسے آزاد ظاہر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ جن 81 امیدواروں کی فہرست آپ نے دی ہے اس میں 35 نے وابستگی ظاہر نہیں کی، 65 امیدواروں نے ریٹرننگ افسر کو انتخابی نشان کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار الیکشن کے حوالے سے کتنے غیر سنجیدہ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے پارٹی وابستگی اور ٹکٹ دونوں پی ٹی آئی کے ظاہر کیے،انتخابی نشان الگ چیز ہے ان امیدواروں کو پی ٹی آئی کا کیوں تصور نہ کیا جائے، امیدواروں نے نہیں الیکشن کمیشن نے انکی حیثیت پارٹی سے آزاد تبدیل کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے تحریری نہیں زبانی طور پر پر پارٹی وابستگی واپس لی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوئی، پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی تھی تو امیدوار پارٹی ٹکٹ کہاں سے لاتے؟امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے، سکندر مہمند نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تضادات کے باوجود امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے وقت ہی کہا پی ٹی آئی کو نشان نہیں ملے گا،الیکشن کمیشن نے بعد میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات منظور بھی کیے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو نان پارٹی انتخابی نشان دے سکتا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائےگا نا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آزادامیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا،

    سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، جسٹس منیب اختر
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریک انصاف کی بات ہورہی جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملےگا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کردیں،سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا،22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا نگران حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟کیا کسی نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگران حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟

    سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو،چیف جسٹس
    امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے تو انتخابات عارف علوی نہ کرواتے، دنیا بھر کی باتیں کررہے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟ سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ایک آئینی ادارہ تسلیم کرتے ہیں ، امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے پانچ رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہوگیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوار تو کہہ رہا کہ میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزاد امیدوار ہیں،امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزاد امیدوار ہوں، وہ تو کہہ رہا کہ سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، اگر الیکشن کمیشن نے کوئی دستاویز نہیں دیکھا تو عدالت کو دکھانے کا توکوئی جواز نہیں،

    آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟جسٹس جمال مندوخیل
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم ایک اپیل سن رہے ہیں ہمارے سامنے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا معاملہ نہیں، اس کے باوجود ہمارے سامنے 90 فیصد دلائل انتخابی نشان پر ہو رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے پانچ جج ہمارے فیصلے کو برقرار رکھ چکے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے کے پابند نہیں،ہم نے جو اصل مسئلہ ہے اسے دیکھنا ہے، سوال یہ ہے الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو ڈس فرنچائز کیسے کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر فیصلہ کیا انتخابی نشان نہیں ہو گا تو پی ٹی آئی جماعت نہیں ہو گی؟ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے اور اس میٹنگ کا ریکارڈ دکھائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں ریکارڈ دیکھ کر بتاوں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بھی بتائیں الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے کسی کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کا؟ وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے ، آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کا جواب یہی ہے نا کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟ بس ہمیں یہ بتا دیں الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر یہ سوچا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بنچ آپ کو خود بتا رہا ہے آپ کی تشریح غلط تھی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ صرف آبزرویشن ہیں ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں آیا، انتخابی نشان والے فیصلے کیخلاف نظر ثانی زیر التوا ہے،یہ بات درست نہیں ہے، ہم نے تشریح صیحح کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کرکے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ 80 سے زائد امیدواروں کو، چھ امیدواروں نے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا لیکن چھ کو بھی الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار قرار دےدیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مجھے بتائیں کاغذات نامزدگی واپس نہ لیں تو حلف کی کیا حیثیت ہے؟ میرے سوال کا جواب نہیں دیا جارہا،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا آپ نے شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھا ہے, وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چند امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے اور آزادامیدوار خود کو ظاہرکیا، آزادامیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے، کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے،دیکھنا ہوگا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے، آزادامیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آزادامیدوار نے خود کو امیدوار ظاہرنہیں کیا، الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن کہہ رہا کیسے شامل ہوسکتے؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزادامیدوار کہا اور اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا،

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتاہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ حقائق واضح ہوتے جس کے لیے آپ کا یا میرا بولنا نہیں ضروری، الیکشن کمیشن کے عدالت کو فراہم کیے گئے دستاویزات میں تضاد ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فارم 33 الیکشن کمیشن بناتا جس میں امیدوار اپنا سرٹیفیکیٹ دیتا ہے ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے شٹل کاک مانگا لیکن شٹل کاک تو الیکشن کمیشن کے پاس نشان دستیاب تھا ہی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟

    ڈی جی لاء نے روسٹرم پر مخصوص نشستوں کے حصول سے متعلق سنی اتحادکونسل کامنشور پڑھا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کا منشور پڑھ کر انہیں مخصوص نشستیں دیتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے ضروری لگا کہ سنی اتحاد کا منشور عدالت کے سامنے لایاجائے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا میں تمام پارٹیوں کا دیکھوں یا ایک پارٹی کا منشور دیکھوں؟ دیگر پارٹیوں کے منشور کو نظر انداز کیوں کروں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کسی اور پارٹی کا منشور نہ دیکھیں، آپ میری بات سنیں، میں ہر کسی کو سوال کا جواب دینے کی کوشش کررہاہوں،

    الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل سکندر بشیر کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز پڑھے گئے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر مخصوص نشست لینی ہے تو جنرل سیٹ جینتی پڑےگی جو سنی اتحاد جیتنے میں ناکام رہی،آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں، فل کورٹ میں مختلف خیالات سامنے آتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر فریقین کے وکلاء کو بھی ایسے ہی ٹریٹ کیا گیا جیسے آپ کو کیاگیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف اور سنی اتحاد نےکوئی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، سنی اتحاد نے نہیں دی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابات سے الگ کردیاتھا، سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو کیا اثرات پڑیں گے؟الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کتنا وقت لگےگا؟ ایک دو منٹ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے کافی وقت دلائل دینے میں لگیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم تو کوشش کررہے کہ جلد ختم کریں، پیر کا دن رکھ لیں؟ ساڑھے گیارہ بجے؟ تحریک انصاف کی لسٹ آج فراہم کردیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی لسٹ دےدوں گا،سپریم کورٹ نے دیگر وکلاء کو تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ دیگر امیدواروں کے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن بھی فراہم کردیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے،صرف عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ درخواست دائر کر دی ہے،

    ‏مخصوص نشستوں کا کیس یکم جولائی بروز سوموار تک ملتوی کر دیا گیا،‏فل کورٹ بینچ مخصوص نشستوں پر سماعت آج بھی مکمل نہ کر سکا

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • توہین الیکشن  کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں بنتی،شعیب شاہین

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں بنتی،شعیب شاہین

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور توہین چیف الیکشن کمشنر کیسز کی سماعت ہوئی-

    الیکشن کمیشن میں نثار محمد درانی کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے سابق وزیراعظم عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کی سماعت کی، عمران خان کے وکیل شعیب شاہین کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تاہم فواد چوہدری آج بھی کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے، فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری کے معاون کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے کمیشن کو بتایا کہ ہمیں کیس کے حوالے سے نوٹس موصول نہیں ہوا میڈیا سے پتہ چلا ہے جس پر ممبر کمیشن نے ریمارکس دئیے کہ ہوسکتا ہے نوٹس عمران خان کے گھر گیا ہو،جس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کم از کم کونسل کو تو خود جانا چاہیئے تھا، بنی گالہ میں تو کوئی نہیں ہے دونوں میاں بیوی جیل میں ہیں، اس پر ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ نوٹس بنی گالہ کے ایڈریس پر ہی بھیجا ہے۔

    کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث پیسکو افسر گرفتار

    الیکشن کمیشن نے وکیل شعیب شاہین سے پوچھا کہ ہائیکورٹ میں آپ کی رٹ کا کیا بنا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ میں معاملہ زیر سماعت ہے، عدالت نے کمیشن کو فائنل آرڈر جاری کرنے سے روکا ہے، اگر کمیشن جیل ٹرائل نہیں کرتا تو پروڈکشن آرڈر کے بغیر کیس کیسے آگے چلے گا؟۔

    وکیل شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے یا جیل ٹرائل کا مطالبہ بھی کیا، اس پر ممبر کمیشن نے وکیل سے پوچھا کہ آپ کو کونسی تاریخ سوٹ کرتی ہے؟ جس پر شعیب شاہین نے جواب دیا کہ محرم کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیں۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 کمانڈرز گرفتار

    الیکشن کمیشن نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس کو 3 سال ہو گئے ہیں، جس پر شعیب شاہین نے بتایا کہ ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں بنتی، ممبر سندھ نے استفسار کیا کہ جو ہمارے ساتھ ہوا ہے اس کا کیا؟ جس وکیل نے جواب دیا کہ آپ کے ساتھ زبانی کلامی ہوا جو بھی ہوا، میں نے دہشت گردی کے کیسز بھگتے ہیں ، میں ایک لاکھ ووٹ لے کر کامیاب ہوا لوگوں نے مجھے ووٹ دئیے،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف کیس کی مزید سماعت 11 جولائی تک ملتوی کردی۔

    بعد ازاں فواد چوہدری کی جانب سے ان کے وکیل فیصل چوہدری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ ہم چھلاوے نہیں ہیں جو ایک ہی وقت میں کئی جگہ پر پیش ہوسکیں،الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کے خلاف بھی کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کردی۔

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائی کورٹ،الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف پی ٹی آئی امیدواروں کی درخواستوں پر کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کر دی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ منٹ وقت لے لیں ، کیا پانچ منٹ سے بھی وقت کم کردوں؟ آپ اس آرڈیننس کا کیسے دفاع کریں گے؟ کون سا آسمان گرنے لگا تھا کہ قائم مقام صدر سے رات و رات آرڈیننس جاری کروا دیا،پارلیمنٹ کو ختم کردیتے ہیں،اور آرڈیننس کے زریعے حکومت چلواتے ہیں ، آپ لوگوں نے آرڈیننس کی فیکٹری لگا رکھی ہے، ایک واہ فیکٹری ہے اور دوسری آرڈیننس فیکٹری ، وہ اسلحہ بنانے ہیں آپ آرڈیننس بناتے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا ٹریبیونل تبدیلی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا، انجم عقیل عدالت میں سوری ، سوری کرتے رہے، جج کے تعصب پر اپنے الفاظ پر شرمندگی اور معذرت کا اظہار کیا،عدالتی زبان قرار دیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جھاڑ پلا دی کہا کہ آپ نے بیان حلفی بھی لگایا ہوا ہے کہ جو درخواست میں لکھا وہ درست ہے،آپ انگریزی پڑھ سکتے ہیں؟ پڑھیں،آپ نےاقرباء پروری لکھا ہے آپ نے یہ الزام کیوں لگایا؟انجم عقیل کے ساتھ کھڑے وکیل کےلقمےپر چیف جسٹس عامر فاروق سخت برہم ہو گئے،کہا میں نے ذاتی طور پر طلب کیا ہے تو انہیں خود بات کرنے دیں،انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں،میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، عدالت نے حکم دیا کہ انجم عقیل خان ہر سماعت پر حاضری یقینی بنائیں ، عدالت نے کیس کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی

    آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا انجم عقیل خان سے مکالمہ
    دوران سماعت انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بات ابھی نہیں کر رہے، آپ نے جو الزامات لگائے اس متعلق بتائیں، انجم عقیل خان نے کہا کہ میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ جج صاحب نے کہاں تعصب ظاہر کیا جہاں آپکو لگا یہ انصاف نہیں کرینگے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپکی درخواست پر ساری کارروائی کی، آپ بتا تو دیں،آپ سوری سوری کر رہے ہیں، یہ بتائیں Bias کیا ہوتا ہے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج نہیں ہے، یہ سادہ انگریزی ہے، جج صاحب متعصب تھے کیونکہ انہوں نے آپکی سفارش نہیں مانی؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ نہیں، ہم نے سفارش کی ہی نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اچھا، یہ مجھے نہیں پتہ سفارش کی ہے یا نہیں، آپ پارلیمنٹیرین ہیں، آپ قانون بنائیں گے، آپ نے پوری اکانومی چلانی ہے، آپ وہاں جا کر بھی کہیں گے کہ مجھے اکانومی کا نہیں معلوم؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ لیگل گراؤنڈز پر میرے وکیل عدالت کو بتائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکیل اپنے سے تو نہیں کرتا، آپ نے کہا تو انہوں نے درخواست دی ہو گی نا، مجھے تو کوئی جلدی نہیں، آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے، آپ سے آخری بار پوچھ رہا ہوں بتائیں ورنہ آپ اپنا نقصان کرینگے، ہم سب اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں آپکو جواب دینا ہو گا،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس منیب اختر،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ فیصلوں میں آئینی تشریح کی قدرتی حدود سےمطابقت پر زور دیا گیا ہے، آرٹیکل 51 اور 106 سے 3 ضروری نکات بتانا ضروری ہیں، آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت کی غلط تشریح دی ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق آئین کو نظر انداز کیا۔

    آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل صدیقی سے کہا کہ الیکشن کمیشن یا آپ کیا سوچ رہے ہیں وہ چھوڑ دیں، الیکشن کمیشن بھی آئین پر انحصار کرے گا، الیکشن کمیشن آئین کی غلط تشریح بھی کر سکتا ہے، عدالت کسی کی طرف سے آئین کی تشریح پر انحصار نہیں کرتی، آپ اپنی نہیں آئین کے مطابق تشریح بتائیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور فیصل صدیقی میں بلے کے نشان پر اہم بحث ہوئی، وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپ کے فیصلے کی جس لیول پر انٹرپٹیشن کی آپ دیکھئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا،وکیل نے کہا کہ اس ملک میں متاثرہ فریق کیلئے کوئی چوائس نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،صرف آئین پر رہیں،وکیل نے کہا کہ ایک رات پہلے انتخابی نشان لے لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا تو نہیں لیا، آپ تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں آپ کا نشان کیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا ،گھوڑا

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی،بلے باز کے نشان سے متعلق وضاحت کروں گا کہ کیا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کیا ہوا، آپ فیکٹس پر ذرا فوکس کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان لئے جانے کے بعد معاملہ کنفیوژ ہوگیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل آسان ہے، پی ٹی آئی سیاسی جماعت موجود ہے، آزاد امیدوار اس میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین پر عمل نہ کرکے ملک کی دھجیاں اڑا دی گئیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کی آپ کی تشریح الگ ہے میری الگ ہے،

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو سپریم کورٹ فیصلے کے سبب آزاد امیدوار قرار دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ تمام امیدوار پی ٹی آئی کے تھے حقائق منافی ہیں، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے سرٹیفکیٹس جمع کروا کر واپس کیوں لیے گئے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ جنھوں نے الیکشن لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی انھیں کیوں مخصوص نشستیں دی جائیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ آپ کے دلائل سے تو آئین میں دیے گئے الفاظ ہی غیر موثر ہو جائیں گے، سنی اتحاد کونسل تو پولیٹیکل پارٹی ہی نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارٹی الیکشن نہیں لڑتی بلکہ امیدوار الیکشن لڑتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے دلائل مفادات کا ٹکراؤ ہیں، یا آپ سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کریں یا پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں، ہم نے صرف دیکھنا ہے آئین کیا کہتا ہے، ہم یہ نہیں دیکھیں گے الیکشن کمیشن نے کیا کیا، نظریاتی میں گئے اور پھر سنی اتحاد کونسل میں چلے گئے، آپ صرف سنی اتحاد کونسل کی نمائندگی کر رہے ہیں، ملک میں ایسے عظیم ججز بھی گزرے ہیں جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا،صرف آئین پر رہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان چلے جانے کے بعد پولیٹیکل پارٹی نہیں رہی،لیکن پولیٹیکل ان لسٹڈ پولیٹیکل پارٹی تو ہے، الیکشن کمیشن نے ان لسٹڈ پارٹی تو قرار دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی، اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، یہ تو آپکے اپنے دلائل کے خلاف ہے،

    جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیا تو اپیل کیوں دائر نہیں کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ اس سوال کا جواب سلیمان اکرم راجہ دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رولز آئین کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے کہا تھا 80 فیصد لوگ آزاد ہو جاتے ہیں تو کیا دس فیصد والی سیاسی جماعتوں کو ساری مخصوص نشستیں دے دیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل آئین یہی کہتا ہے، کسی کی مرضی پر عمل نہیں ہو سکتا، اس ملک کی دھجیاں اسی لیے اڑائی گئیں کیونکہ آئین پر عمل نہیں ہوتا،میں نے حلف آئین کے تحت لیا ہے،پارلیمنٹ سے جاکر آئین میں ترمیم کرا لیں، ہمارے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے ہیں،امریکہ اور برطانیہ کے آئین کو صدیاں گزر چکی ہیں، جب آئین کے الفاظ واضح ہیں تو ہماری کیا مجال ہم تشریح کریں کیا ہم پارلیمنٹ سے زیادہ عقلمند یا ہوشیار ہو چکے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ ہماری انا کی بات ہو جائے گی،مشکل سے ملک پٹری پہ آتا ہے پھر کوئی آکر اڑا دیتا ہے،پھر کوئی بنیادی جمہوریت پسند بن جاتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت فورٹریس آف ڈکشنری نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن ملکوں کا آپ حوالہ دےرہے ان کے آئین کل نہیں بنے،پاکستان کے آئین کو بنے پچاس سال ہوئے اور اس کا حال کیا کیا ہے، انگلستان میں لکھا ہوا آئین نہیں، تاریخ دیکھتے ہیں،

    جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، جو کچھ 2018 میں ہوا وہی ابھی ہوا، جنھوں نے پریس کانفرنسز نہیں کیں، انھیں اٹھا لیا گیا،یہ باتیں سب کے علم میں ہیں، کیا سپریم کورٹ اس پر اپنی آنکھیں بند کر لے، وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ میں آپکی باتوں سے مکمل متفق ہوں،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی پی ٹی آئی کے صدر تھے، کیا انہوں نے انتخابات کی تاریخ دی ، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تھا جو انتخابات نہیں کروا سکا،ہم نے انتخابات کی تاریخ دلوائی تھی،انتخابات ہم نے کروائے ، پی ٹی آئی نے تو لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن رکوانے کی کوشش کی ، کبھی کبھی سچ بول دیا کریں ، باہر جا کر بڑے بڑے شو کر کےجھوٹ نا بولا کریں، الیکشن ہم نے کروائے تھے، تحریک انصاف اور ان کے صدر عارف علوی اور عمران خان تو الیکشن روکنے پر لگے ہوئے تھے۔الیکشن کمیشن ایک عرصے سے تحریک انصاف کو پارٹی الیکشن کروانے کا کہہ رہا تھا لیکن پارٹی الیکشن نہیں کروائے،عمران خان بطور وزیراعظم بھی الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہورہے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا
    چیف جسٹس قاضی فائز جب 13 جنوری بلے کے نشان کے کیس کے فیصلے سے متعلق وضاحت دے رہے تھے تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا میں اس پر بات نہیں کروں گا کیونکہ نظرثانی درخواست زیر التوا ہے جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم نظر ثانی درخواست دائر ہوئی ہے ،مجھے علم نہیں، پتہ کریں، حامد خان کئی بار ملے کبھی ذکر نہیں کیا، حامد خان نے بھی نظر ثانی درخواست دائر ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی بات ہوئی تھی جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دہانی کرائی تھی کہ نظر ثانی زیر التوا ہے اس لیے اس حوالے سے بات نا کی جائے .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست سے لا علمی کا اظہار کردیا،آفس سے تفصیلات مانگ لیں،پی ٹی آئی وکیل سے کہا کہ آپ نے یاددہانی نہیں کروائی.

    الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو جماعت سیاسی نہیں اور الیکشن نہیں لڑی اس کی مخصوص نشستیں کہاں جائیں گی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرے خیال میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا،

    آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا،چیف جسٹس
    جسٹس اطہر من اللہ اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میں بحث ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا آئین کو پسند کیوں نہیں کرتے؟ آئین آئین ہوتا ہے، وکیل نے کہا کہ ایک بات کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں، آپ سیاسی بات کرتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہم یہاں انسانی حقوق کے دفاع کیلئے موجود ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا، آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا، عدالت سمجھتی سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جنہوں نے آپ کو جوائن کیا کیا ان میں کوئی غیر مسلم ہے، اہم سوال ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، دیکھنا پڑےگا،

    پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،چیف جسٹس
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیمطابق سنی اتحاد کونسل کا آئین خواتین اور غیر مسلم کو ممبر نہیں بناتا کیا یہ درست ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خواتین کو نہیں غیر مسلم کی حد تک یہ پابندی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں ،قائد اعظم کا فرمان بھی دیکھ لیں ،کیا آپ کی پارٹی کا آئین ، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں،بطور آفیسر آف کورٹ اس سوال کا جواب دیں ،وکیل نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب اس لئے نہیں دے رہا کہ یہ اتنا سادہ نہیں،ہر آزاد ایم این اے، ایم پی ائے کا حق ہے کہ جس جماعت میں شامل ہو، میں دفاع نہیں کروں گا کہ پی ٹی آئی، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کیں، مخصوص نشستیں صرف متناسب نمائندگی کے سسٹم کے تحت ہی دی جا سکتی ہیں، متناسب نمائندگی کے نظام کے علاوہ مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا کوئی تصور نہیں،مخصوص نشستیں امیدواروں کا نہیں سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے،الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے آزاد امیدوار کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے، دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ شمولیت صرف پارلیمان میں موجود جماعت میں ہوسکتی ہے،الیکشن کمیشن کی یہ تشریح خودکشی کے مترادف ہے،

    وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے،چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آج بھی پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت مانتا ہے، ایوان کو نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا، میری نظر میں ایوان کو مکمل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن ووٹرز کے حقوق کا محافظ ہونے کے بجائے مخالف بن گیا ہے، مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو ملنی ہیں یا پی ٹی آئی کو یہ الیکشن کمیشن نے طے کرنا تھا، ہمارے ہوتے ہوئے بھی بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، ملک آئین کے مطابق چلا ہی کب ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلایا جائے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کر لئے.

    وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ خلاف آئین ہے،فیصل صدیقی اپیل کے حوالے سے تفصیل سے دلائل دے چکے،ہماری تین درخواستیں تھیں عدالت چاہے تو معاونت کےلیے تیار ہوں،مزید معاونت بھی کردوں گا، وکیل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسدجان کے دلائل مکمل کرلیے.

    سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں،جسٹس منصور علی شاہ
    کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کردیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کنول شوزب پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر ہیں، الیکشن ایکٹ کیمطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا، کنول شوزب کوپہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کنول شوزب کیا اکیلی تھیں جو سنی اتحاد کونسل میں نہیں گئیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب عام انتخابات میں منتخب نہیں ہوئیں، مخصوص نشستیں پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کو ملنے پر انہیں منتخب ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اوکے، تو یہ متاثرہ فریق ہیں، کیا کنول شوزب نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کنول شوزب متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر کیسے براہ راست سپریم کورٹ آ سکتی ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس عدالت میں چیلنج کیا تھا اس کا فیصلہ کہاں ہے؟ وکیل نے کہا کہ فیصلہ کچھ دیر تک ریکارڈ کا حصہ بنا دوں گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہی نہیں کیا گیا اس کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کنول شوز ب سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں شامل ہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کنول شوزب کا نام سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں موجود ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی فہرست میں نام دکھائیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فہرست لی ہی نہیں تو ریکارڈ سے کیسے دکھا سکتا ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سب کچھ ہے آپ کے پاس لیکن کاغذات نہیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ آٹھ فروری کے حوالے سے بھی درخواست زیر التواء ہے،عدالت نے ہر غیرمتعلقہ معاملے پر ازخودنوٹس لیا ہے لیکن الیکشن پر نہیں، انتخابات سے متعلق دائر درخواست سن لی جائے تو شاید یہ تمام ایشوز حل ہوجائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فیصل صدیقی کا کیس تباہ کر رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ کسی کا کیس تباہ نہیں کر رہا، سمجھ نہیں آ رہا آپ بار بار یہ کیوں کہہ رہے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ دلائل کیلئے کتنا وقت لیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک گھنٹے سے زائد وقت لوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک گھنٹہ آپ کو نہیں دے سکتے،اس کیس کو ہم اتنا طویل نہیں کر سکتے،ہزاروں دیگر مقدمات زیر التوا ہیں،زیر التوا مقدمات والوں پر تھوڑا رحم کر لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں جسٹس اطہر من اللہ سے وسیع تناظر میں متفق ہوں،میری رائے میں پی ٹی آئی کو ہمارے سامنے آنا چاہیے تھا، پی ٹی آئی کو آکر کہنا چاہئے تھا یہ ہماری نشستیں ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسے حالات تھے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو سُنی اتحاد کونسل میں جانا پڑا؟ کیا پی ٹی آئی کو پارٹی نہ ماننے والے آرڈر کیخلاف درخواست اسی کیس کے ساتھ نہیں سُنی جانی چاہئے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ نے ہماری اپیل واپس کر دی، رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے تھے، رجسٹرار آفس نے کہا انتخابی عمل نشان الاٹ کرنے سے آگے بڑھ چکا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ اہم ترین معاملہ تھا لیکن آپ نے اپیل دائر نہیں کی، چیمبر اپیل دائر نہ کرنے سے اہم ترین معاملہ غیرموثر ہوگیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا چیمبر اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی معاملات میں جانے کے بجائے عدالت 184/3 کا اختیار کیوں نہیں استعمال کر سکتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سُنی اتحاد کونسل اگر بیان دے کہ کنول شوزب انکی امیدوار ہونگی تو درخواست سن سکتے ہیں،

    ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ سلمان صاحب 86 لوگ ایک جماعت سے الیکشن لڑ کر بعد میں ایک شخص کو جوائن کر گئے کیوں؟ ہمیں وہ مجبوری تو بتا دیں وہ مجبوری کیا تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا، کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رک نہیں سکتا، سلمان اکرم راجہ صاحب بات سن بھی لیا کریں کیا ہم اب آپکے مفروضوں پر چلیں گے یا آئین پر چلیں گے۔ کل کو ہر کوئی آکر کہہ دے گا کہ یہ مجبوری تھی اسلئے آئین چھوڑ دیں، ملک مجبوریوں پر نہیں چل سکتا۔ جس نے آپکو غلط مشورہ دیا اس پر مقدمہ دائر کریں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہاں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا،فاطمہ جناح نے انتخابات میں حصہ لیا تو تب بھی عوام سے حق چھینا گیا،مکمل سچ کوئی نہیں بولتا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی بیانات میں نہیں جاوں گا آئین و قانون پر دلائل دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جیتنے کے بعد آزاد اُمیدوار سُنی اتحاد کونسل میں کیوں شامل ہوئے؟ آپ کو پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہئے تھا، آپ پی ٹی آئی کا انتخاب کرتے تو آپ کا کیس اچھا ہوسکتا تھا.

    سپریم کورٹ، دوران سماعت خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلنے پر چیف جسٹس کا نوٹس
    سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران خاتون کے فون سےہری لائٹ جلنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹس لے لیا،سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے تھے کہ اس دوران خاتون کے موبائل فون سے لائٹ جلی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ پیچھے سے کون تصویر لے رہا تھا؟وکلا نے کہاکہ خاتون کے پاس ڈائری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ خاتون بیٹھی ہیں، کیا گرین چیز سے پکچر لے رہی ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کھڑی ہو جائیں ، آپ کے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟خاتون کے فون میں دیکھیے کیا کر رہی ہیں اور ہری لائٹ کیا تھی جو دیکھنے میں آئی؟

    آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں کہ مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے،چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86امیدوار آزاد منتخب نہیں ہوئے، لوگوں نے انہیں سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے طور پر منتخب کیا، 86 امیدواروں کو کیوں لگا کہ ایک ہی جماعت سے منسلک ہونا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلمان صاحب تھوڑا سا برداشت رکھیں، اگر آپ اپنا آزاد کا سٹیٹس برقرار رکھیں گے تو پھر بھی اُنہی سیاسی جماعتوں کو جائیں گی آپ کو نہیں ملیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو جیتی گئی نشستوں سے زیادہ نہیں مل سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے توشروع میں کہا تھا ایک رکن بھی پارلیمنٹ میں خالی نہیں چھوڑا جاسکتا، آپ کہہ رہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنا کوئی مسئلہ نہیں ,ہر چیز قانون کی بنیاد پر ہوتی ہے ,بظاہر قانون کی زبان بڑی واضح ہے ,ہر سیاسی جماعت کی اپنی منزل ہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد مشاورت سے سنی اتحاد کونسل کو اپنایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے درست کہا کہ جب آپ آزاد امیدوار ہیں تو پھر ایسی جماعت میں جانا ہوگا جس نے سیٹ انتخابات میں حاصل کی ہوں گی ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہ رہے کہ الیکشن میں نہ جیتے آزاد ملے تو سیٹ حاصل کرلی ؟ جواضح کردیا گیا ہے کہ جو سیٹیں آپ نے جیتی ان میں آزاد شامل ہوں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن میں جیتی گئی سیٹیں اور حاصل کردہ دونوں میں فرق ہیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حاصل کردہ سیٹوں سے مطلب جیتی گئی سیٹ لیا جا رہا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت ماننے سے کونسا آئینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کون جیتا کون آگیا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 25 بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ووٹر سب کے منشور نہیں پڑھتا ج،چھوٹی سیاسی جماعت میں اگر آذاد امیدوار شامل ہوجاے تو کیا ہوگا ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی ارب پتی سیاسی جماعت خرید لے ؟کل کوئی ارب پتی کہے کیا الیکشن لڑنا پارٹی اور آزاد امیدوار خریدوں گا پھر ؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 نمائندے آزاد نہیں تھے انہیں پی ٹی آئی کی وجہ سے ووٹ پڑے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم آزاد امیدوار ہونے کی ہی وجہ سے سیاسی جماعت میں شامل ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ لیں کوئی آزاد امیدوار نہیں ؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آذاد امیدوار آزاد ہی رہتے تو پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پھر مخصوص نشستیں خالی رہتیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو آپ آئین کے بر خلاف جا رہے ہیں،آج تک کبھی ایسا ہوا نہیں مخصوص نشستوں کو خالی رکھا جائے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شروع میں الیکشن کمیشن نے ساری سیٹیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کردی،بعد میں مقدمہ بازی کی وجہ ان سیٹوں کو روک دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے ہم آزاد ممبر ہوئے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مکمل طور پر غلط سمجھا گیا.

    پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ گر آزادامیدوار ایک جماعت میں دو تین ماہ بعد شامل ہوتے تو کیا جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے کی اہلیت ہوگی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسی وجہ سے تین دنوں میں شامل ہونے کا قانون ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت ہی عجیب سا قانون ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ماننے والی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں بہت غلط فیصلے کیے،پی ٹی آئی نے اپنی غلطیوں کو بار بار دہرایا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل ہے آپ کو پی ٹی آئی کا امیدوار سمجھا جائے یا سنی اتحاد کونسل کا،آپ پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل ہیں سنی اتحاد کونسل کی بات نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ بات تو ماننے والی ہے مجموعی طور پرتحریک انصاف نے برے انداز میں کیس کو چلایا ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے چودہ مختلف فیصلے رکھوں گا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ سنی اتحاد یا پی ٹی آئی کو چاہتے ہیں،صرف درخواست گزار کی بات ہو رہی ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صرف درخواست گزار کی انفرادی بات نہ کی جائے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دے رہے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں عدالت سے معذرت خواہ ہوں ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنے درخواست گزار کی بات کریں دوسروں کی بات کیسی کر رہے ہیں، ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز نے سنی اتحاد کونسل جوائن کرنے پر احتجاج کیا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ نہیں ہمارے خلاف صرف الیکشن کمیشن تھا،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ، عزت کا حقدار ، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی غلطیوں کا حل ہم ڈھونڈیں؟ ہم نے الیکشن کمیشن کو نہیں منظور کیا، آپ نے کیا، غلطیاں تو کی نا،کنول شوذب کوئی عوام کی نمائندہ نہیں ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018 میں ایک سیاسی جماعت مشکلات کا شکار تھی، 2024 میں بھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ کو الیکشن کمیشن میں خرابی محسوس ہوئی درخواست دائر کریں یا قوانین میں ترامیم کریں، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، عزت کا حقدار ہے، یہی مسئلہ ہے کہ پاکستان میں کچھ پھلنے پھولنے نہیں دیاجاتا،سپریم کورٹ بھی عزت کے ساتھ برتاؤ کی حقدار ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 86 ممبران نے کاغذات جمع کرواتے وقت کہاکہ تحریک انصاف کے ہیں؟ کیا عوام کو انتخابات کے سسٹم پر بھروسہ ہے؟ کیوں سچ نہیں بول سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا دل کچھ اور کہہ رہا ہے لیکن مجھے دماغ کے ساتھ دلائل دینے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے کسی کو اختلاف نہیں، آزاد امیدواروں کو کوئی تو شناخت ملے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ سکتےکہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعت کی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں،میں بطور آزاد امیدوار ہی کیس کو دیکھ رہا، بطور پی ٹی آئی امیدوار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ صاحب آپ جذبات میں دلائل دے رہے ہیں،جب سی ٹی اسکین کروانے جائیں تو ایک گولی دیتے ہیں جو ریلیکس کر دیتی ہے،از راہ تفنن بات کر رہا ہوں سلمان اکرم راجہ صاحب آپ بھی وہ گولی کھا لیا کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جمیعت علمائے اسلام میں بھی شامل ہوسکتےتھے، کس کی رائے تھی سنی اتحاد میں شامل ہونے کی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ممکن تھا کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ سیاسی ذہنیت نہ ملے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ اپنے ووٹرز کا حق دے رہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے پر مجبور کیا، ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچکزئی صاحب کی جماعت میں بھی جا سکتے تھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں ایسی جماعت کی تلاش تھی جس کے ساتھ چل سکیں کل وہ ہم میں ضم ہو سکے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کو انتخابی نشان والے کیس میں بھی کہا تھا مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہو تو عدالت آجانا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے مسئلہ پیدا ہوا تو کیا یہ عدالت اسے درست کر سکتی ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کرے تو میں اسے عظیم فیصلہ کہوں گا، پاکستان کے عوام بھی اس فیصلے پر جشن منائیں گے، سنی اتحاد نے انتخابات سے قبل اعلان کیا کہ تحریک انصاف میں ضم ہو جائیں گے، جب تحریک انصاف بطور آزاد انتخابات لڑی تو حامدرضا نے بھی آزادامیدوار الیکشن لڑا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حامدرضا اپنی ہی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے ؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حامد رضا بطور تحریک انصاف امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو یہی نہیں معلوم کہ حامدرضا نے اپنے کاغذات میں کس پارٹی کا نام لکھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو کنول شوذب کا معلوم نہیں، حامدرضا نے کیوں آزادامیدوار الیکشن لڑا، سنی اتحاد کہاں ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ صاف شفاف انتخابات کروائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 86 لوگوں کی بات نہ کریں، آپ ایک درخواستگزار ہیں، 86 درخواستگزار نہیں، ایم کیو ایم آپ کی حکومت کا حصہ تھی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے، ہم آئین کی تشریح چاہتےہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایم کیو ایم والے آپ کے ساتھ تھے، آج نہیں، کل سنی اتحاد نے بھی ایسا کیا تو ہمارے پاس آئیں گے؟کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کل صبح ساڑھے نو بجے کیس کی سماعت کریں گے،کل تمام وکلا کو سن کر کیس ختم کریں گے،تمام وکلا مختصر دلائل دیں،پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک،الیکشن کمیشن کے وکیل اور اٹارنی جنرل کے دلائل رہ گئے ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں ایک متاثرہ فریق کی نمائندگی کر رہا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا،جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی وکیل فیصل صدیقی اور کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کرلیے ، کیس کی آئندہ سماعت 25 جون کو دوبارہ ہوگی ،

    الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے،الیکشن کمیشن
    قبل ازیں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا،سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جمع کروایا جواب

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کا کیس،الیکشن کمیشن نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں الاٹ نہیں کی جاسکتیں، مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی،سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشتوں کیلئے کوئی فہرست جمع نہین کرائی۔امیداروں کی طرف سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سرٹیفیکیٹ مانگا گیا۔ امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے خود دستبردار ہوگئے۔تحریک انصاف نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔الیکشن کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے۔سنی اتحاد کونسل کو الیکشن نے مخصوص نشتیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتوں کیلئے اہل نہیں۔ مخصوص نشتیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ فیصلہ میں کوئی سقم نہیں۔ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشتوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق غیر مسلم اس جماعت کاممبر نہیں بن سکتا۔سنی اتحاد کونسل آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کیخلاف شرط غیر آئینی ہے۔ سنی اتحاد کونسل مخصوص خواتین اور مخصوص اقلیتوں کی سیٹوں کی اہل نہیں۔

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    لاہور ہائیکورٹ کے 8 الیکشن ٹریبونلز کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کردی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کر دی، دائر درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے برخلاف ہے ،الیکشن ٹربیونلز تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے،اپیل کو کل سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 8 الیکشن ٹریبونلز تشکیل دینے کا فیصلہ دیا تھا،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر چیف جسٹس شہزاد ملک نے گزشتہ روز 8 ٹریبونلز کی تشکیل کے احکامات جاری کئے تھے

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • الیکشن کمیشن کا ٹربیونل تبدیلی کا فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    الیکشن کمیشن کا ٹربیونل تبدیلی کا فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے الیکشن ٹربیونل تبدیلی پر برہمی کا اظہار ریمارکس دیے کہ الیکشن ٹربیونل کیوں تبدیل کیا، الیکشن کمیشن کو جوابدہ ہونا ہے، اگر تعصب ہے تو بتائیں ورنہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست نہیں، تعصب ثابت کریں یا پھرتوہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کریں۔

    باغی ٹی وی : الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی، کیس میں درخواست گزار اور الیکشن کمیشن کے وکلا پیش ہوئے،کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ٹربیونلز تبدیل کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کس گراؤنڈ پر ٹربیونلز تبدیل کیا؟ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ٹربیونلز نے پروسیجر فالو نہیں کیا تھا جس پر اسے تبدیل کیا گیا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کیا ٹرانسفر کی نئی مثال قائم کر رہے ہیں؟ اگر تعصب ہے تو وہ بتائیں ورنہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست نہیں ہے، آپ تعصب ثابت کریں یا پھر توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کریں، جسٹس طارق محمود جہانگیری اس عدالت کے جج ہیں، الیکشن کمیشن آرڈر چیلنج کر لیتا لیکن ٹرانسفر کیسے اور کیوں کیا؟ تعصب کی بنیاد پر کیس ٹرانسفر کیا جاتا ہے مگر اس کا بھی طریقہ ہے اور سب سے پہلے متعلقہ جج سے ہی درخواست کی جاتی ہے کہ وہ کیس نا سنے۔

    جسٹس عامر فاروق نے پوچھا سرکار مجھے سمجھائے سال پہلے یہ ترمیم ختم کی تو اب پھر کیوں آرڈینینس کے ذریعے لے آئے؟ کیا ایمرجنسی تھی کہ راتوں رات آرڈیننس آ گیا؟ اگر قاعدہ قانون کے تحت چلنا ہے تو آرڈر کو چیلنج کریں، ٹربیونل کو ٹرانسفر نا کریں، الیکشن کمیشن نے میری سفارش پر خود ہی جسٹس طارق جہانگیری کو ٹربیونل جج بنایا تھا نا؟ یہ بتائیں الیکشن کمیشن کے پاس ریکارڈ منگوانے کا کونسا اختیار ہے اور کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن نے ریکارڈ منگوایا تھا؟ یہ ساری وہ چیزیں ہیں جن کا جواب الیکشن کمیشن کو دینا ہے۔

    سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران …

    دوران سماعت ایڈووکیٹ شعیب شاہین نے دلائل دیئے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کریں گے، میڈیا میں آرہاہے کہ ریٹائرڈ جج جسٹس شکور پراچہ کو ٹربیونل کا جج مقرر کیا گیا ہے، درخواست ہے عدالت اسٹیٹس کو برقرار رکھے اور معاملہ جوں کا توں رکھنے کا آرڈر جاری کر ے۔

    عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے پوچھا ابھی جو ٹربیونل بنایا ہے کیا وہ اسلام آباد کے لیے ہے ؟ وکیل نے جواب دیا 7 جون کو نوٹس ہو چکا جو ابھی میرے پاس نہیں ہے، میں تفصیلات لےکر عدالت کے سامنے رکھوں گا۔

    اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا الیکشن ٹربیونل کی تشکیل کا نوٹیفکیشن آپ کے پاس نہیں تو پھر میڈیا کے پاس کیسے چلا گیا، الیکٹرا نک میڈیا کو نئے ٹربیونل کی تشکیل کا کیسے معلوم ہوا ؟ آپ غلط کر رہے ہیں ایسا نہ کریں، الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا،اس موقع پر وکیل علی بخاری نے کہا کہ آج ہم 8 فروری کی پوزیشن پر واپس چلے گئے ہیں۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آئندہ سماعت تک نیا الیکشن ٹریبونل کارروائی سے روک دیا۔

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ چیئرمین منتخب

  • مسلم لیگ ن کی استدعا منظور، اسلام آباد کے حلقوں کا الیکشن ٹر بیونل تبدیل

    اسلام آباد(محمداویس)الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مسلم لیگ ن کو بڑا ریلیف مل گیا،الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کی استدعا منظور کرتے ہوئے اسلام آباد کے حلقوں کا الیکشن ٹریبونل تبدیل کردیا گیا ۔

    پیرکو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اسلام آباد کے حلقوں کاالیکشن ٹریبونل تبدیل کرنے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے تینوں قومی اسمبلی کے حلقوں سے کامیاب امیدواروں جن مین انجم عقیل،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور راجہ خرم۔نواز کی درخواست پر فیصلہ سنایا گیا ۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور تین ممبران جن میں ممبر شاہ محمد جتوئی،ممبر ناصر درانی اور ممبر اکرام اللہ خان نے جمعہ کو کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔

    کیا الیکشن کمیشن نے اب تک کسی انتخابی بے ضابطگی پر کسی قسم کی کوئی کارروائی کی؟ شعیب شاہین
    الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اور اسلام آباد سے ہارے ہوئے امیدوار شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 218 تین کے تحت شفاف انتخابات کروانے کا پابند ہے، الیکشن کمیشن نے آر اوز کی تعیناتی کا ملبہ عدلیہ پر ڈال دیا،الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کے خلاف شکایات پر کیا نوٹس لیا؟کیا الیکشن کمیشن نے اب تک کسی انتخابی بے ضابطگی پر کسی قسم کی کوئی کارروائی کی ہے،وقت نے ثابت کر دیا کہ الیکشن کمیشن کی جانبداری سے متعلق بانی پی ٹی آئی کے الزامات درست تھے، الیکشن ٹریبیونل نے اسلام آباد کے کٹھ پتلی ایم این ایز سے کہا کہ فارم 45 لے آئیں، ٹریبیونل سے کیسز کی منتقلی صرف تعصب یا مفادات کے ٹکراؤ کی بنیاد پر ہو سکتی ہے، انصاف کے نظام پر سمجھوتہ کیا جا چکا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابھی کیس زیر سماعت ہے الیکشن کمیشن نے پہلے ہی فیصلہ کر دیا،الیکشن کمیشن کا یہ کام نہیں کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کر کے کسی اور کو دے دے، الیکشن کمیشن کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا،

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل