Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی کی استدعا مسترد،سٹے آرڈر نہ ملا

    الیکشن کمیشن،پی ٹی آئی کی استدعا مسترد،سٹے آرڈر نہ ملا

    الیکشن کمیشن،اسلام آباد الیکشن ٹربیونل کی تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نےکیس کی سماعت کی،طارق فضل چودھری اور راجہ خرم نواز الیکشن کمیشن میں موجود تھے،شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر چیلنج کیا ہے،پیر تک سماعت ملتوی کردیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر کوئی سٹے آرڈر آجائے تو ہمیں دیدیں ہم سماعت روک دینگے،آپ کا اعتراض آگیا اسے ہم ریکارڈ پر لے آئیں گے، وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے اپنا رجسٹرار نہیں بنایا ،ہائیکورٹ رجسٹرار یہ کام نہیں کرسکتے،ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ مطلب الیکشن ٹربیونل میں درخواستیں دائر ہی نہیں ہوئیں؟وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل میں درخواست دائر ہی نہیں ہوئی،الیکشن ٹربیونل میں درخواستیں درست کرکے 10 اپریل کو جمع ہونا تھیں،الیکشن ٹربیونل جانبدرانہ کام کررہا ہے،سی پی سی کیس میں اپلائی ہوسکتا ہے، اگر کسی ایک پارٹی کو نہیں سنا جاتا تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، انکی درخواست میں لکھا ہے کہ انکے پاس ثبوت ہیں، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ انکی جانب سے کہا گیا کہ بیگ لائے گئے پھر کھولے گئے، آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ عدالتی طریقے کار کو دیکھا نہیں گیا، وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ جی معاملے میں عدالتی طریقے کار کو دیکھا نہیں گیا ،چارج ہونے سے پہلے بحث ہوتی، پھر ثبوت پیش کیے جاتے ہیں پھر کراس چیک ہوتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ اتنی دیر سے یہ نہیں کہہ پا رہے کہ ثبوت نہیں پیش کیے گئے،وکیل ن لیگ نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل میں درخواستیں درست کرکے 10 اپریل کو جمع ہونا تھیں مگر 15 کو کرائی گئیں،الیکشن ٹربیونلز میں پٹیشنز دائر کرنے سے لیکر اب تک غیر قانونی کام اور سنگین میٹریل غلطیاں کئےگئے،وقت کے بعد دائر کرنے پر پٹیشنز کو رد کردینا چاہیے تھا، الیکشن ٹربیونل میں درخواست گزٹ نوٹیفکیشن کے 45 دن میں درخواست دائر لازم ہے،الیکشن ٹربیونل نے فارم 45 کا موازنہ بھی کیا،ممبر بلوچستان نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ٹربیونل کے سامنے فارم 45 سیل بند تھے؟وکیل ن لیگ نے کہا کہ جی سیل بند لفافےتھے جج صاحب نے خود کھولےیہ کیس جوڈیشل فریم ورک میں نہیں چلایا گیا، الیکشن کمیشن میں وکیل ن لیگی امیدوار کے دلائل مکمل ہو گئے

    پی ٹی آئی وکیل نے اسلام آبادہائیکورٹ کےفیصلےتک الیکشن کمیشن کوسماعت روکنے کی استدعا کی جو الیکشن کمیشن نے مستردکردی،الیکشن کمیشن نے کہا کہ سٹےآرڈرنہیں،ن لیگ وکیل دلائل جاری رکھیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کاروائی کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،اسلام آبادسے پی ٹی آئی کے تینوں امیدوارعامر مغل،شعیب شاہین اور علی بخاری نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کر رکھا ہے،عدالت نے درخواستوں پر اعترضات دور کر دیے درخواستوں کو ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت کر دی،وکیل نے کہا کہ دو اعتراضات ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے کیا چیلنج کیا ہے، وکیل نے کہا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ 2017 سیکشن 151 چیلنج کیا ہے، عدالت نے درخواست پر اعتراض دور کر کے ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت کر دی.

  • الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کارروائی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کارروائی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کارروائی کےخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کرلی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعتراض کے باوجود درخواستوں کو کل سماعت کیلئے مقرر کیا، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کل تینوں درخواستوں پر سماعت کریں گے،رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نےاعتراضات کےساتھ درخواست کو کل سماعت کےلیےمقررکردیا، مذکورہ درخواستیں پی ٹی آئی کے رہنما اور امیدوارشعیب شاہین،علی بخاری،عامرمغل نے دائر کیں جس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اُدھر الیکشن کمیشن نے الیکشن ٹریبونل کے خلاف کارروائی غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کررکھی ہےدرخواست میں کہا گیا ہے کہ جب تک کیس زیرالتواہے اُس وقت تک الیکشن ایکٹ آرڈیننس پرحکم امتناع دیا جائے اور الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکا جائے۔

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ 10 جولائی تک طلب

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ 10 جولائی تک طلب

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ 10 جولائی تک طلب کرلی

    عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں نئے ریٹ پر پراپرٹی ٹیکس نوٹس معطل کردیے اور ریمارکس دیئے کہ پٹیشنرز کو پرانے ریٹ پر پراپرٹی ٹیکس جمع کرانا ہوگا،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی منظوری کے بعد یہ ٹیکس لگا سکیں گے۔درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی و دیگر وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ لوکل گورنمنٹ کے الیکشنز کیوں نہیں ہو رہے ؟الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے شیڈول دیا ہوا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 125 یونین کونسل کی حد تک حلقہ بندیاں ہو چکیں نئی کی ضرورت نہیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بھی فیصلہ ہے لوکل گورنمنٹ الیکشن کرانے ہیں،کیا بانی پی ٹی آئی ، نواز شریف ، شہباز شریف سب کی حکومتیں اس کی ذمہ دار ہیں کسی نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ الیکشن نہیں کرائے،جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن وکیل کو ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیشنل اسمبلی کے حلقوں سے یونین کونسل کو مکس نا کریں،ہر دو تین ماہ بعد کیا نئی حلقہ بندیاں ہوں گی ؟وفاقی حکومت سے پوچھ کر آئیں اسلام آباد لوکل گورنمنٹ الیکشن کی تاریخ بتا دیں،اگر تاریخ نا دی تو وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی توہین عدالت کا نوٹس کروں گا ، سی ڈی اے ایم سی آئی کے نام پر سارے شہر کی تباہی پھیر رہا ہے،بغیر لوکل گورنمنٹ آپ نے اربوں کے ٹیکس لگا دئیے،بغیر کسی اختیار کے سی ڈی اے نے ایم سی آئی کے اربوں روپے کے فنڈز استعمال کر دئیے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ اس حوالے سے دوسری عدالت میں بھی کیس زیر سماعت ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کسی دوسری کورٹ کا ذمہ دار نہیں میں اپنی کورٹ کو ذمہ دار ہوں،جو آپ کو سمجھ آتی ہے وہ تاریخ دے دیں ایک ہفتے کا وقت دے رہا ہوں،وفاقی حکومت اگر الیکشن نہیں کراتی تو میں ان کو دیکھ لوں گا۔

  • اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹربیونل منتقل کرنے کی درخواستیں قابل سماعت قرار

    الیکشن کمیشن،اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں کے نتائج کے خلاف کیسز دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے سماعت کی، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ کیس الیکشن ٹریبونل سے منتقل کرنے کی درخواست کی ہے،الیکشن کمیشن سیکشن 151 کے تحت کیس دوسرے ٹریبونل کو منتقل کرنے کا اختیار رکھتا ہے، الیکشن ٹریبونل سی پی سی کے علاوہ کوئی اختیار استعمال نہیں کرسکتا، الیکشن ٹریبونل نے یکطرفہ طور پر جانبدار کاروائی شروع کی ہوئی ہے، الیکشن ٹریبونل کی کاروائی سے جانبداری واضح ہے، الیکشن ٹریبونل نے ہمیں موقع دیے بغیر یکطرفہ طور پر کاروائی شروع کی ہے،الیکشن ٹریبونل کے ریمارکس سے میرا موکل حراساں ہے،ٹریبونل ٹرائل کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ کے اختیارات استعمال کر رہا جو غیر قانونی ہے،ٹریبونل ازخود نوٹسز لے رہا ہے جو ٹرائل کورٹ کے زمرے میں نہیں آتا، جانبداری کی وجہ سے ٹریبونل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہوں،

    اگر آپ نے کچھ غلط نہیں کیا تو آپ کو جیل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے،چیف الیکشن کمشنر
    چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ ٹریبونل کے کن احکامات سے آپ جانبداری کا الزام لگا رہے ہیں؟ وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ ٹریبونل نے ہمیں بلائے بغیر جرمانے اور یکطرفہ کاروائی کی،ٹریبونل نے موقع دیے بغیر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا، ٹریبونل کے سپیڈی ٹرائل سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جارہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ کیا آپ نے اعتراضات ٹریبونل کے سامنے رکھے؟ وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ ہم نے ٹریبونل کے سامنے اعتراضات نہیں رکھے، الیکشن کمیشن کا ریکارڈ ہمیں دکھائے بغیر دوسرے فریق کے ریکارڈ سے موازنہ شروع کردیا، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اعتراضات ٹریبونل کے سامنے رکھتے، سنوائی نہ ہوتی تو الیکشن کمیشن آتے، کیا آپ کو خوف ہے کہ آپ کو سنے بغیر فیصلہ ہوگا، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ خدشہ ہے ٹریبونل کیس مکمل کیے بغیر عبوری آرڈر جاری کرسکتا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد کی حد تک الیکشن کمیشن نے صرف ایک ٹریبونل قائم کیا ہے، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ الیکشن کمیشن نئے ٹریبونل بنا سکتا ہے، الیکشن کمیشن کسی ریٹائرڈ جج پر مشتمل ٹریبونل بنائے تاکہ آرام سے کاروائی ہو، ٹریبونل جج نے کہا کہ بیان حلفی جعلی ہوا تو ادھر سے جیل بھیج دوں گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر آپ نے کچھ غلط نہیں کیا تو آپ کو جیل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، وکیل راجہ خرم نواز نے کہا کہ کسی فریق کو جیل بھجوانا ٹریبونل کا اختیار نہیں ہے،الیکشن کمیشن فوری ٹریبونل کی کاروائی روکنے کے احکامات جاری کرے،وکیل انجم عقیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیسز خیبرپختونخوا کے ٹریبونلز کو بھی منتقل کرسکتا ہے،

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹربیونل منتقل کرنے کی درخواستیں قابل سماعت قرار دے دیں،الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے،الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 6 جون کو کرے گا ،الیکشن کمیشن نے ن لیگی ارکان قومی اسمبلی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنادیا

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ: سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 13 ججز پر مشتمل فل کورٹ نے سماعت کی،جسٹس مسرت ہلالی طبیعت ناسازی کے باعث فل کورٹ کا حصہ نہیں ہیں ،سلمان اکرم راجہ اور فیصل صدیقی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آگئے ، فیصل صدیقی نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم نامہ پڑھ کر سنایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی تنازع نہیں، کیونکہ وہاں ہماری کوئی نمائندگی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا 2 اپیلیں فائل کی گئی ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی دو اپیلیں ہم نے فائل کی ہیں، ایک میری اور دوسری خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے فائل کی گئی ،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا ایک کیس عدالتوں میں زیر التوا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کیس ہے تو ایڈووکیٹ جنرل استغاثہ بنتے ہیں، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کیس وزیر اعلی ٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر توہین عدالت کی کارروائی چلتی ہے تو کیا موقف ہوگا؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں دیا گیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک درخواست پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر نے دائر کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواستوں پر سماعت کرتے ہیں اس پر کیا فیصلہ آئے گا وہ دیکھیں گے، سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے کوئی نشست جیتی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی نہیں، سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں جیتی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں اور میرے ساتھی ججز کے سوال نوٹ کر لیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ پارٹی کسی کو نامزد کرے، سرٹیفکیٹ دے اور امیدوار کی بھی خواہش ہے کہ میں اس پارٹی سے آؤں اور الیکشن کمیشن اسے آزاد ڈیکلیئر کر دے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کس کو فریق بنایا گیا تھا اور فائدہ کس کو پہنچا، کس جماعت کو کتنی اضافی نشستیں ملیں وہ بتائیں، یہ بتائیں کہ یہ نشستیں کس کو گئیں؟ واضح ہے نشستیں سیاسی مخالفین کو گئی ہوں گی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینیفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں، تفصیل دے دیں؟ فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں،سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی جبکہ پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں جس میں سے 19 نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک استحکام پاکستان پارٹی کو ملی، اقلیتوں کی ایک متنازع نشست ن لیگ ، ایک پیپلزپارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی 5، 5 نشستیں ملیں، ایک نشست خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور ایک عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں

    مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی مخالفت ،ن لیگ پیپلز پارٹی کی حمایت کر دی
    جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دستاویز کو درخواست میں لگایا ہواہے ،
    آپ کو پارٹی تسلیم کیا گیا وہ آ پ کا تیار کردہ دستاویز ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ دستاویز الیکشن کمیشن کا سرٹیفائیڈ ہے، عدالت نے کہا کہ کیا وہ سرٹیفائیڈ فہرست تھی جو کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپنی فہرست دی تھی لیکن اس کو مانا نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا کی نمائندگی یہاں موجود ہے ؟ پیپلزپارٹی کی طرف سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،جے یو آئی کی جانب سے کامران مرتضٰی عدالت میں پیش ہوئے،خصوصی نشستوں سے متعلق کیس میں جے یو آئی نے اپنے وکیل سینٹر کامران مرتضی کے زریعے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے درخواست گزار یعنی پی ٹی آئی کے موقف کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی جماعت جے یو آئی پاکستان ہے یا ف؟کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایف نکل جائے تو کیا حیثیت ہو گی،کامران مرتضیٰ نے کہا کہ کسی بھی پارٹی سے کوئی بھی لیڈر نکل جائے تو حیثیت نہیں ہو گی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں نے اپنی نشستیں کتنی جیتی ہیں؟ جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل بتادی،مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے سیاسی جماعتیں اضافی مخصوص نشستیں رکھنا چاہتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت آئین کے تحت اضافی مخصوص نشست نہیں لے سکتی،

    سپریم کورٹ میں دوران سماعت بجلی چلی گئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں تو اب لاٸٹ بھی چلی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بجلی چلی گٸی تو پھر یہ جنریٹر سے کیوں نہیں آئی؟یہ ٹی وی اور لاٸٹس تو چل رہی ہے،

    دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خطاب نہ کریں، یہ نہ کریں، درخواست دینی ہے تو دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر کو بولنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ”الیکشن کمیشن نے ان ممبران کو آزاد ڈیکلیئر نہیں کیا بلکہ سنی اتحاد کونسل کا ممبر نوٹیفائی کیا ہے” چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ "کیا دیگر جماعتیں آپکی تائیدکرتی ہیں؟”- وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مائی لارڈ ان کو مال غنیمت ملا ہے وہ کیوں ہماری تایئد کریں گے،15دسمبر کو الیکشن شیڈول جاری کیا گیا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لیا، پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی،کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں 2 دن کا اضافہ کیا گیا، پشاور ہائیکورٹ نے بلے کے نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد آرٹیکل 17 کے تحت قائم سیاسی جماعت ختم ہوگئی تھی؟ کیا انتخابی نشان واپس ہونے پر سیاسی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کرسکتی؟ تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے سیاسی جماعت ختم ہوگئی اور جنازہ نکل گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی نے بطور سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لیا؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 218(3) پر فوکس بہت زیادہ رہتا ہے،کیا 17 فروری تک تمام جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان ہوچکا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کچھ کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جنرل نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا تھا، 2فروری کو الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں دینے کیلئے درخواست جمع کرائی، الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا، سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کیا گیا لیکن مخصوص نشستیں دینے سے انکار کردیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ درجنوں سیاسی جماعتوں نے کبھی جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے کوئی غلطی بھی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن کو درست کرنا چاہیے تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی،الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن کہتا ہے سنی اتحاد الیکشن نہیں لڑی ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ پہلے ہوچکی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی سنی اتحاد کو نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ عوام نے کسی آزاد کو نہیں سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن نے منطق کے بغیر فیصلہ دیا،ایک سیاسی جماعت الیکشن لڑ رہی ہو تو اس سے مخصوص نشستیں کیسے واپس لے سکتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی خود جماعت ہے تو کیس ختم ہوگیا،پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں پھر سنی اتحاد کونسل کیسے لے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اس کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں،یہ سارا معاملہ عوام کا ہے،عوام سے ان کا حق نہیں لیا جاسکتا،

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فہرستیں جمع کرائیں، لیکن الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سوالات کو چھوڑیں اپنے طریقے سے جواب دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شکر ہے ابھی آپ نے سوال نہیں پوچھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کیخلاف جا سکتا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 218 تین کا حوالہ دینا بہت پسند ہے،

    دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سارا معاملہ عوام کا ہے، ٹیکنکلٹی کے ذریعے عوام کا حق نہیں لیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کو یہ غلطی خود درست کرنی چاہئے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل سے کہا کہ کہ آپ مزید بحث کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کیس پر بحث کریں، میں آپ کو ریسکیو کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ ریسکیو ہونا نہیں چاہتے، دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے منع کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرا خیال ہے فیصل صدیقی صاحب ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں،آپ آگے بڑھیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے،فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے، اس قسم کا بیان تسلیم نہیں کیا جاسکتا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صاحب آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا،

    ،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،جسٹس جمال مندو خیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ پی ٹی آئی کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا ریکارڈ کچھ دیر تک جمع کرا دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن غیر قانونی کام کرے تو کیا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے مطابق تین روز میں آزاد امیدوار کوئی جماعت چن سکتے ہیں، ہوسکتا ہے چار روز بعد پی ٹی آئی سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئی ہو،شمیولیت صرف آزاد ارکان کر سکتے ہیں،کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے آزاد امیدوار تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ آزاد امیدوار کے طور پر ہی نوٹیفائی ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تکنیکی نکات کی بنیاد پر عوام کو ڈس فرنچائز نہیں کیا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اب غلطی تسلیم کرتے ہوئے آزاد ارکان کو دوبارہ تین دن کا وقت دیدے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلے کے نشان کو اتنا ہوا بنایا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ گمراہ ہوگئے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا، یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی کی کوئی نشست نہیں تھی،آزاد ارکان نے شامل ہونا تھا تو پی ٹی آئی میں ہی ہوجاتے،آپکے مطابق سنی اتحاد کی کوئی جنرل نشست تھی نہ ہی پی ٹی آئی کی،بلے کے نشان والے فیصلے کو نہ کسی نے پڑھا نہ ہی سمجھا،

    جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بول سکتے ، میرے قلم نے آدھے گھنٹے سے کچھ نہیں لکھا، آپ نے آدھے گھنٹے سے کچھ بھی نہیں لکھوایا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں پہلے حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں،آپ کا قلم سوکھنے نہیں دونگا،

    قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ریکارڈ دکھا دیں کس روز پی ٹی آئی نے درخواست کی اور سنی اتحاد کونسل نے منظور کی،وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا تمام ریکارڈ دے دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک کاغذکے ٹکڑے سے کیسے مان لیں کہ سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کی شمولیت ہوگئی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ قانون کیمطابق مخصوص نشستوں کیلئے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں، آزاد امیدوار بھی جماعت میں شامل ہوجائیں تو مخصوص نشستیں دی جانی ہیں ماضی میں ایک قانون آیا تھا کہ مخصوص نشستوں کیلئے الیکشن لڑنا اور پانچ فیصد ووٹ لینا لازم ہے ، وہ قانون بعد میں ختم کر دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا حقیقی پوزیشن یہی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی سارا تنازعہ یہی ہے،الیکشن کمیشن اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر چکا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نشست حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکشن میں جیتنا ضروری ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت سے بھی نشستیں لی جا سکتی ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں گیا وہاں ایک گھنٹے میں وکیل دلائل مکمل کرتے ہیں،کینیڈا کی سپریم کورٹ میں بھی ججز سوال پوچھ رہے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وقت مقرر کر دیں تو وکلاء اس کے اندر دلائل مکمل کر دینگے، یہ بات کینیڈا کی سپریم کورٹ سے نہیں اپنی بیگم سے سیکھی ہے، بیگم جو وقت مقرر کرتی ہے میں اس سے آگے نہیں جاتا،

    غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ نشستیں خالی چھوڑ دیں نہ آپکو ملیں نہ کسی اور کو،آرٹیکل 51 کے مطابق نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کسی اور کو دینے سے نشستیں خالی چھوڑنا ہی بہتر ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایسی جماعت جو الیکشن نہ لڑے سیاسی جماعت کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت ہی نہیں تھی تو اس میں شمولیت کیسے ہوسکتی؟سنی اتحاد میں شمولیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا یہ ضروری ہوگا کہ آرٹیکل 51 کی تشریح کیلئے ووٹرز کا حق بھی مدنظر رکھا جائے،اصل حق تو ووٹرز کا ہے باقی تو سب بعد کی باتیں ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ساری بحث سیاسی جماعتوں کے سیاق و سباق میں ہو رہی ہے،کیا الیکشن کمیشن ووٹرز کے حق کو متاثر کر سکتا ہے؟ غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے نشستیں پی ٹی آئی کو واپس دی جا سکتی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلا واپس لیکر کہا بیٹنگ کرو،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ
    بلا جماعت سے لیا تھا بلے بازوں سے نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ امیدوار خود بلے کا نشان مانگ سکتے تھے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو اس نکتے پر لازمی سنیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں ہماری بلے کے بغیر بھی بلے بلے ہوگئی ہے، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی،

    ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ایک ٹیکس کیس میں بھی لارجر بنچ بنا ہوا ہے وہ منسوخ کر رہے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کیوں بنائی تھی،پیپلز پارٹی اور تلوار چھین لیے گئے تھے، مسلم لیگ ن کیساتھ بھی یہی ہوا ہے،ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیر عتاب کیوں رہتا ہے، ایسی صورتحال میں قانون کی تشریح اسی تناظر میں ہی کرنی چاہیے سب کچھ سامنے بھی ہوتا ہے نظر بھی آ رہا ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ حق دار کو اس کا حق واپس کرکے انہیں نشستوں کا دعویٰ کرنے دیا جائے، لوگوں نے ووٹ تحریک انصاف کو دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے لیکن ہر چیز یہاں آتی ہے،کوئی یہاں سے خوش اور کوئی ناراض جاتا ہے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی,عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • ریٹرنگ افسر  آئندہ سماعت پر نہ آئے تو وارنٹ  جاری کریں گے،الیکشن ٹربیونل

    ریٹرنگ افسر آئندہ سماعت پر نہ آئے تو وارنٹ جاری کریں گے،الیکشن ٹربیونل

    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن ٹربیونل ،اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپیلیں ،اسلام آباد کے الیکشن ٹریبونل میں کیسں کی سماعت ہوئی

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم عدالت کی معاونت کرینگے،الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ فارم 45 ،46 اور 47 کی مصدقہ نقول تصدیق کر کے جمع کروا دیں،جب مصدقہ کاپیاں آ جائیں گی تو کافی چیزیں کلئیر ہو جائیں گی، سرٹیفائیڈ کاپیز جب الیکشن کمیشن دے گا تو اسکی اہمیت ہو گی ناں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ جو ٹیمپرنگ ہوئی ہے اسکو دیکھنا ہو گا کاپیوں سے وہ جانچنا ممکن نہیں، الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ اصل کاپی بھی آ جائے گی ابھی صرف اسکی کاپیاں منگوائی ہیں،ہر پارٹی کو حق ہے درخواست دینے کا اور اعتراضات دائر کرنے کا ہم نے سب کو سننا ہے، اگر آپ دلائل دینا چاہتے ہیں تو ٹھیک ورنہ انکی مصدقہ نقول آنے دیں وہ پہلے دیکھ لیتے ہیں،الیکشن سے متعلق مصدقہ کاپیاں مانگی ہیں اور ساتھ بیان حلفی بھی،اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو نتائج بھگتے گا، یہ ہائیکورٹ ہے سول کورٹ نہیں، یہاں ایسے نہیں جس طرح مرضی کوئی ریکارڈ دے اور چلا جائے،

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک فریق کہہ رہا ہے ان کے پاس فارم 45 ہیں وہ جیتے ہوئے ہیں دوسرا بھی یہی کہہ رہا ہے، سرٹیفائیڈ کاپیز اور بیان حلفی آ جائے تو دیکھ لیتے ہیں،اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو جیل جائے گا، فرانزک کے لیے پاکستان اور بیرون ملک بھی بھیج سکتے ہیں، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ این اے 48 کے ریٹرنگ افسر کی طرف سے کون ہے؟شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی کوئی نہیں آیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو نہیں آئے ان کے ڈیلی جنگ، ڈیلی ڈان، دی نیوز، پی ٹی وی، ریڈیو پر اشتہار جاری کریں،ریٹرنگ افسر کو حتمی وارننگ ہے اگر آئندہ سماعت پر نہیں آئے گا وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے،

    الیکشن ٹریبیونل کے نوٹس فریقین کو کب موصول ہوئے؟ جسٹس طارق محمور جہانگیری نے رجسٹرار آفس سے رپورٹ طلب کر لی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ اگر جواب جمع نہ کرایا تو اس کے اثرات وہ ہوں گے جو قانون میں درج ہیں،یہاں پر بیان ہو گا گواہی ہو گی قرآن پاک پر حلف ہو گا، خدا کو بھی انہوں نے جان دینی ہے، حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ لوکل کمیشن قائم کریں گے وہ معاملہ دیکھے گا، الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ ہر فام پر دستخط موجود ہیں تو پھر گڑ بڑ کیسے ہوئی؟ یہاں سب واضح کریں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام امیدوں کی موجودگی میں یہ شواہد ریکارڈ ہوتے ہیں،اصل فارم 45 دیا جاتا ہے وہ الیکشن کمیشن کے پریزائیڈنگ افسر کو دیا جاتا ہے، الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ فارم 45 تو سب امیدواروں ہے پاس موجود ہیں،آپ حلف اٹھا کر بتائیں گے ناں کہ کس کا فارم 45 صحیح ہے اور کس کا غلط،جس نے غلط بیانی کی اسکے خلاف 193 کے تحت کاروائی ہوگی،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

  • خواجہ سلمان رفیق کی پی پی 153 لاہور سے کامیابی کیخلاف درخواست منظور

    خواجہ سلمان رفیق کی پی پی 153 لاہور سے کامیابی کیخلاف درخواست منظور

    ‏لاہور ہائیکورٹ الیکشن ٹریبونل،صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی پی پی 153 لاہور سے بطور ایم پی اےکامیابی کا نوٹیفکیشن چیلنج ،الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے خواجہ سیلمان رفیق کی کامیابی کے خلاف درخواست سماعت کے لئے منظور کرلی

    الیکشن ٹربیونل نے الیکشن کمیشن ، ایم پی اے خواجہ سیلمان رفیق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،جسٹس سلطان تنویر احمد پر مشتمل الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے انتخابی عذرداری پر سماعت کی ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ناکام امیدوار میاں اویس انجم نے خواجہ سیلمان رفیق کی کامیابی کےخلاف ٹریبیونل سے رجوع کیا،میاں اویس انجم نےخواجہ سیلمان رفیق کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے.

    ‏لاہور ہائیکورٹ الیکشن ٹربیونل این اے 125 سے ن لیگی رہنما افضل کھوکھر کی کامیابی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹربیونل نے درخواست عدم پیروی کی وجہ سے خارج کردی ،سماعت کے دوران درخواست گزار خود اور نہ ان کے وکیل پیش ہوئے ،جسٹس سلطان تنویر احمد نے ناکام امیدوار جاوید عمر کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،

    دبئی لیکس شرم کا مقام ہے،زرتاج گل

    پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف

    بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آنے پر وضاحت

    ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل بھی دبئی میں جائیدادوں کے مالک

    محسن نقوی اور شرجیل میمن کی دبئی لیکس پہ وضاحت

    دبئی پراپرٹی لیکس میں حکمران اشرافیہ کا بدنما کرپٹ چہرہ سامنے آیا ہے، سینٹر مشتاق احمد

    عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی بھی دبئی میں جائیداد کی مالک

  • ملتان ضمنی انتخابات بارے الیکشن کمیشن کا اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن آف پاکستان ملتان NA 148 میں 19 مئی 2024ء کو منعقد ہونے والے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو مطلع کرتا ہے کہ الیکشنز ایکٹ2017 کی سیکشن182 کے مطابق 17 مئی , 2024 کی شب 12 بجے کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی جلسے، جلوس، کارنر میٹنگ یا اس نوعیت کی سیاسی سرگرمی کا نہ تو انعقاد کرے گا اور نہ ہی اس میں شرکت کرے گا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو قانون کی مذکورہ بالا شق کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مذکورہ بالا وقت کے بعد سیاسی مہم، اشتہارات و دیگر تحریری مواد جس سے کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت کا شبہ ہو، کی الیکٹراننگ اور پرنٹ میڈیا پر تشہیر پر پابندی ہے۔میڈیا پولنگ کے اختتام کے ایک گھنٹہ گذرنے کے بعد انتخابی نتائج نشر کر سکتا ہے جس میں واضح طور پر بتایا جائے گا کہ یہ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد   اضافی مخصوص نشستوں کے اراکین کی رکنیت معطل

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اضافی مخصوص نشستوں کے اراکین کی رکنیت معطل

    الیکشن کمیشن نے اسمبلیوں کی اضافی مخصوص نشستیں معطل کر دیں، اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے،

    الیکشن کمیشن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مجموعی طور پر 77 ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کے نوٹیفکیشن معطل کیے گئے،الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں خواتین کی 19، اقلیتوں کی 3، خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی 21، اقلیتوں کی 4 نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل کر دی ہے، پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 24، اقلیتوں کی 3 نشستوں جبکہ سندھ اسمبلی میں خواتین کی 2، اقلیتوں کی ایک نشست پر ارکان کی رکنیت معطل کردی ہے،یہ مخصوص نشستیں اضافی طور پر ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں،مخصوص نشستوں سے اراکین کی معطلی کے بعد اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کے اراکین کے نمبرز تبدیل ہو گئے ہیں.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی نشستیں 119 سے کم ہو کر 105 ہو گئی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی نشستیں 72 سے کم ہو کر 67 ،جے یو آئی کی نشستیں 10 سے کم ہو کر 7 ہو گئی ہیں ،قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کی 84 نشستیں اور ایم کیو ایم کی 21 نشستیں برقرار ہیں، قومی اسمبلی میں ق لیگ کی پانچ اور استحکام پاکستان پارٹی کی چار نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں،ایم ڈبلیو ایم،بی این پی اور مسلم لیگ ضیا کی ایک ایک نشست برقرار ہے

    اسپیکر سندھ اسمبلی کو الیکشن کمیشن کا مراسلہ موصول ہو گیا،سندھ اسمبلی کے مخصوص نشستوں پر کامیاب تین ارکان کی رکنیت معطل ہونگی ،اعلی عدالت کے حکم بعد الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی حصے میں آنے والی مخصوص نشستوں پر کامیاب کی معطلی کا حکم نامہ جاری کر دیا،سندھ اسمبلی میں مخصوص نشست پر کامیاب پی پی پی کی سمیتا افضال کی رکنیت معطل کی گئی،متحدہ قومی موومنٹ کی مسرت جبین کی رکنیت معطل کی گئی، مخصوص نشست پر کامیاب پی پی پی کے سریندر ولاسائی کی رکنیت بھی معطل کی گئی،الیکشن کمیشن نے معطلی کا نوٹفکیشن جاری کردیا

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی,عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ملک میں انٹرپرینیورشپ اور انوویشن کے فروغ کے لیئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی "سٹیٹ آف یوتھ انٹرپرینیورشپ ایکوسسٹم ان پاکستان رپورٹ” لانچنگ کی تقریب سے یہاں سوموار کو خطاب کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لیئے کوشاں ہے، ہمارے نوجوانوں میں بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں،آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کے لیئے بے پناہ مواقع ہیں، ملک کی معاشی ترقی میں آئی ٹی سیکٹر کا بڑا اہم کردار ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا نوجوانوں کو جدید آئی ٹی سکلز سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر اعظم پاکستان ویژن کے تحت آئی ٹی کے شعبے میں سکلز ٹریننگ کو فروغ دے رہیں ہیں،نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشرے کا مفید شہری بنائیں گے۔

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل