Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ملک میں انٹرپرینیورشپ اور انوویشن کے فروغ کے لیئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی "سٹیٹ آف یوتھ انٹرپرینیورشپ ایکوسسٹم ان پاکستان رپورٹ” لانچنگ کی تقریب سے یہاں سوموار کو خطاب کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لیئے کوشاں ہے، ہمارے نوجوانوں میں بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں،آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کے لیئے بے پناہ مواقع ہیں، ملک کی معاشی ترقی میں آئی ٹی سیکٹر کا بڑا اہم کردار ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا نوجوانوں کو جدید آئی ٹی سکلز سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر اعظم پاکستان ویژن کے تحت آئی ٹی کے شعبے میں سکلز ٹریننگ کو فروغ دے رہیں ہیں،نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشرے کا مفید شہری بنائیں گے۔

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیس کی سماعت ہوئی،

    دائر اپیل پر سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں قومی اسمبلی کے اعدادو شمار دیں، اُن میں سے کتنے آزاد امیدوار ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ چارٹ کے مطابق ٹوٹل قومی اسمبلی میں 82 سیٹس ہیں آپکی مخصوص سیٹیں نیشنل اسمبلی میں کتنی بنتی ہیں تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا 23 ہماری مخصوص بنتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا وہ فارمولا بتائیں جس کے تحت 23 بنتی ہیں،بیرسٹر گوہر نے کہا آرٹیکل 51 ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا 51 فارمولا نہیں ہے۔ سات امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیا گیا، وکیل خواتین اراکین اسمبلی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا، وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کر دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان بے کہا کہ اپیلیں لارجر بنچ ہی سن سکتا ہے، عدالت نے بنچ پر اعتراض مسترد کر دیا

    انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے صرف الیکشن میں حصہ نہیں لیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آزاد اراکین کو کتنے دنوں میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آزاد اراکین قومی اسمبلی کو تین روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے،دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لے گی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی،

    قانون میں کہاں لکھا بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک بات تو طے ہے جس جماعت کی جتنی نمائندگی ہے اتنی ہی مخصوص نشستیں ملیں گی،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ، کیا جس پارٹی سنی اتحاد کونسل کی بات کی جا رہی ہے، وہ رجسٹرڈ ہے؟کیا اُسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ جی بالکل سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ ہے اور اسے انتخابی نشان الاٹ کیا گیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہی سیاسی جماعتوں میں بانٹی جائیں گی؟ عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کریں گے،

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو ساڑھے گیارہ بجے طلب کرلیا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے۔عدالت نے سماعت آج 11:30 بجے تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن حکام کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر نمٹانا چاہتے ہیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت وقفہ کے بعد شروع ہو گئی،الیکشن کمیشن حکام سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کردی،جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس کیس میں دو اہم سوالات آپ سے پوچھیں گے،سلمان اکرم راجہ کے بعد آپکو سنتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے کہا کہ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں اس لیے مخصوص نشستیں نہیں مل سکتی لیکن بعد میں اسے سیاسی جماعت قبول کر کے فہرست جاری کر دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے تو آپس میں ہی مطابقت نہیں رکھتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے تناسب سے تو نشستیں لے سکتی ہیں،باقی نشستیں انہیں کیسے مل سکتی ہیں؟جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا باقی بچی ہوئی نشستیں بھی انہیں دی جاسکتی ہیں؟قانون میں ایسا کچھ ہے؟ اگر قانون میں ایسا کچھ نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟اگر قانون میں ایسا نہیں تو پھر کیا ایسا کرنا آئینی اسکیم کے خلاف نہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن سوموٹو اختیار سے بچی ہوئی نشستیں دوبارہ انہیں جماعتوں کو نہیں دی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو کام ڈائریکٹ نہیں کیا جاسکتا وہ ان ڈائریکٹ بھی نہیں ہوسکتا، ایک سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کو ان ڈائریکٹ طریقے سے نظر انداز کرنا کیا درست ہے؟

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق تحریک انصاف کی درخواستیں سماعت کےلئے منظور کر لیں ،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر رہے ہیں، تاہم فیصلوں کی معطلی صرف اضافی سیٹوں کو دینے کی حد تک ہوگی، سپریم کورٹ نے تحریکِ انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق تحریکِ انصاف کی درخواست پر سماعت 3 جون تک ملتوی کر دی

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا،پشاور ہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں،اسپیکر کے پی نے پشاور ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں.

    اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی،بیرسٹر گوہر
    عدالتی فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں، اب حکومت دو تہائی اکثریت سے محروم ہوگی، خیبرپختونخوا سمبلی سے مخصوص نشستوں پر حلف نہیں لیا گیا،ہم نے کہا تھا صدارتی الیکشن نہ کروائیں ،عدلیہ پر اعتماد ہے درخواست ہے کہ باقی کیسز بھی اٹھائے جائیں،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیٹیں دوسری پارٹیوں کو اٹھا کر دے دی گئیں، ہمارے پاس انتخابی نشان نہیں تھا مگر پھر بھی 180 سیٹیں ہم جیت گئے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، مگر کٹھ پتلیوں کو ایم این اے بنا دیا گیا ہے،

    آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا،وفاقی وزیر قانون
    مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ فیصلے کی معطلی پر حکومتی مؤقف سامنے آ گیا ،وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا عدالت عظمیٰ کے عبوری حکم نامے پر بیان سامنے آیا ہے، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کے تحت 5 رکنی لارجر بینچ کا معاملے کی سماعت کرنا موزوں ہوتا ،مناسب ہوتا اگر لارجر بینچ ہی کوئی عبوری حکم نامہ بھی جاری کرتا ،یہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کا معاملہ ہے، پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار کے معاملے میں امتناع کے حکم سے احتراز برتا جانا چاہیے تھا، منتخب رکن کے قانون سازی کے اختیار پر زد پڑتی ہو تو زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے ، آرٹیکل 67 واضح ہے کہ رکن کی طرف سے کی گئی قانون سازی قانونی نااہلیت کے باوجود برقرار رہتی ہے ،آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا، امید ہے حتمی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا،

    قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان
    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا حکم نامہ ،قومی اسمبلی میں 23 مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل ہونے کا امکان ہے،سنی اتحاد کونسل کے کوٹے کی 23 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کی گئی تھیں،قومی اسمبلی میں خواتین کی 14 مخصوص نشستیں ن لیگ کو دی گئی تھیں ،خواتین کی چار مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی دو جے یو آئی کو دی گئی تھیں،اقلیتوں کی تین مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں تقسیم کی گئی تھیں،20 اراکین کی معطلی سے حکمران اتحاد کی پارٹی پوزیشن بھی متاثر ہوگی ،اس وقت 227 اراکین پر حکمران اتحاد مشتمل ہے جو کہ20 اراکین کی معطلی کے بعد 207 رہ جائے گی ،حکمران اتحاد کی دو تہائی اکثریت بھی ختم ہو جائے گی،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا موقف سامنے آگیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے اس کیس میں ہمیں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ۔مخصوص نشستوں پر بعد میں 23 اراکین نے حلف لیا تھا،اس حوالے سے نوٹیفیکیشن الیکشن کمیشن کی طرف سے موصول ہوا تھا ،اب بھی ان اراکین کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن سے آنا ہے،جیسے ہی الیکشن کمیشن کوئی حکم یا نوٹیفیکیشن بھجواتا ہے اس پر عمل ہو گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان
    دوسری جانب اسپیکر سندھ اسمبلی نے بھی قانونی ماہرین سے مشاورت کی ہے،شارٹ آرڈر یا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی فیصلہ کریں گے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے براہ راست مخصوص نشستوں کو ڈی سیٹ کرنے کی صورت میں اپیل میں جانے کا امکان ہے،پیپلزپارٹی کو دو اور ایم کیو ایم کو ایک مخصوص نشست اضافی ملی ،سمیتا افضال سید ، سریندر ولاسائی پی پی جبکہ فوزیہ حمید ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں،سندھ اسمبلی اجلاس میں آئندہ سال کےلیے بجٹ تجاویز پیش کی جائیں گی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • لاہور ہائیکورٹ،الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کیلیے دائر درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کیلیے دائر درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ:الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر تیاری کے لیے مزید 15 مئی تک مہلت دے دی ، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت چیف الیکشن کمشن بننے کے لیے ضروری نہیں کہ ہائی کورٹ کا جج ہو ۔کہیں نہیں لکھا کہ صرف جج کو ہی چیف الیکشن کمشنر لگایا جائے،ٹیکنو کریٹ بھی چیف الیکشن کمشنر لگ سکتا ہے ۔درخواست گزار نے کہا کہ آریٹکل 199کے تحت درخواست یہاں قابل سماعت ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ قانونی حوالوں سے دلائل دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ اعلی عدلیہ کے فیصلے لائے ہیں جس کے تحت درخواست یہاں قابل سماعت ہے،میں صرف آپکے لیے دعا کر سکتا ہوں ۔آپ تیاری نہیں کرتے سوچے سمجھے بغیر درخواست دائر کر دیتے ہیں،آپ چیف الیکشن کمشنر کی کوالیفیکشن بتائیں، درخواست گزار نے کہا کہ آریٹکل 213 میں چیف الیکشن کمشن کی کوالیفیکشن موجود ہے ۔

    لاہور ہائیکورٹ آفس نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا دیا تھا ،اعتراض میں کہا گیا تھا کہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں قابل سماعت نہیں ہے،بہتر ہے درخواست گزار اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرے ،لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے شہری طالب حسین کی درخواست پر سماعت کی

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کیلئے اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کیلئے اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشتوں کیلئے اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کر دی گئیں بینچ تشکیل دے دیا گیا

    اسپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی کی اپیلوں پر بھی بینچ تشکیل دے دیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 8 مئی کو اپیلوں پر سماعت کریگا،جسٹس محمد علی مظہر ،جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،رجسٹرار آفس نے سنی اتحاد کونسل اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کو نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کا فیصلہ دیا تھا،پشاور ہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں،اسپیکر کے پی نے پشاور ہائیکورٹ فیصلہ کیخلاف اپیلیں دائر کیں

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • عام انتخابات, مبینہ دھاندلی پر  تحریک انصاف نے وائٹ پیپر جاری کردیا

    عام انتخابات, مبینہ دھاندلی پر تحریک انصاف نے وائٹ پیپر جاری کردیا

    اسلام آباد: الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وائٹ پیپر جاری کردیا-

    باغی ٹی وی :اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بیرسٹر گوہر، عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن ان حقائق کی روشنی میں تحقیقات کرے اور دھاندلی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات کی جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں فارم 45 کے مطابق نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا، فارم 47 کو بنایا گیا اور ہماری فتح کو شکست میں بدلا گیا الیکشن میں دھاندلی کے خلاف ہم نے احتجاج کیا اور ہم نے جو اتحاد بنایا تھا وہ بھی احتجاج جاری رکھیں گے، ہم نے الیکشن کمیشن کو بارہا کہا کہ جو آپ کے پٹیشن ہیں ان پر جلد از جلد فیصلے کریں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہم قومی اسمبلی میں 180 نشستیں جیت چکے تھے اور ہماری نشستیں فارم 47 کے ذریعے دوسری جماعتوں کو دی گئیں جس کے نتیجے میں ہماری مخصوص نشستیں بھی چلی گئیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج، ٹریبونل، سپریم کورٹ، عدالتیں اور الائنس کے جلسوں کے ساتھ آج ہم 300 صفحات پر مبنی ایک وائٹ پیپر جاری کرنے جا رہے ہیں یہ وائٹ پیپر ان حقائق پر مبنی ہے جسے گارڈین، واشنگٹن پوسٹ، دی ٹائمز اور پاکستان کے پورے میڈیا نے تسلیم کیا ہے۔

    تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وائٹ پیپر سے ثابت ہوتا ہے کہ جب الیکشن کمیشن کو پتہ چلا کہ تحریک انصاف سوئپ کر رہی ہے تو ایک بھونڈا طریقہ اختیار کیا اور فارم 47 پر انحصار کیا تحریک انصاف کے ہزار ووٹ کو تبدیل کردیا اور ہمارے سو ووٹ کو 1100 کردیا، یہ بھونڈا طریقہ کار اختیار کیا گیا ، چیف الیکشن کمشنر اور ان کے کمیشن کے اراکین کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے عوام کی امانت میں کھلم کھلا خیانت کی ہے۔

    جبکہ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہمیشہ الیکشن میں دھاندلی ہوتی ہے، ہم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانے کی کوشش کی، ہم نےآوورسیز پاکستانیوں کو حق دینے کی بات کی الیکشن کمیشن کا کام شفاف اور وقت پر الیکشن کروانا ہے، اسمبلی ختم ہونے کے بعد 90 دن میں الیکشن ہونا تھے، 90 دن میں انتخابات نہ کروا کر آئین کو توڑا گیا تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھینا گیا، انتخابی نشان چھیننے سے بڑا کوئی ظلم نہیں، انتخابی نشان نہ ملنے کے باوجود بڑی کامیابی حاصل کی۔

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن مستعفی،عمر حمید دوبارہ سیکرٹری تعینات

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آصف حسین کی طبعیت ناساز، استعفیٰ دے دیا

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آصف حسین نے استعفیٰ دے دیا ہے، الیکشن کمیشن نے سیکرٹری آصف حسین کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے،عمر حمید خان صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ سیکرٹری الیکشن کمیشن تعینات کر دیئے گئے ہیں، عمر حمید خان کودوبارہ دو سال کےلئے سیکرٹری الیکشن کمیشن تعینات کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے عمر حمید کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا،عمر حمید خرابی صحت کی وجہ سے طویل رخصت پر چلے گئے تھے اب حیرت انگیز طور پر آصف حسین بھی خرابی صحت کی وجہ سے مستعفی ہوگئے ہیں

    واضح رہے کہ عمر حمید کو 9 جولائی 2021 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کا سیکریٹری تعینات کردیا گیا تھا اور 16جنوری 2024 کو استعفے تک عہدے پر براجمان رہے تھے، اسکے بعد آج انہیں دوبارہ تعینات کر دیا گیا ہے، وہ کل بروز جمعہ 3مئی کو سیکرٹری الیکشن کمیشن کا چارج سنبھالیں گے (محمداویس)

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل خطرے میں،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا،

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے حالیہ انتخابات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیئے،پارٹی انتخابات کے بغیر جنرل کونسل، مرکزی مجلس عاملہ کے انتخاب اور اجلاسوں پر بھی تحفظات کا اظہارکیا گیا،5 سال سے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ہی نہیں ہوئے تو مختلف پارٹی تنظیمیں کیسے کام کر رہی ہیں، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کی کوئی باڈی نہیں بچی، نہ ہی کوئی انتخابی نشان ہے، مسلسل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 208 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، کیوں نہ پارٹی کے خلاف کاروائی کی جائے،

    الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ جب باڈیز ہی نہیں تو جنرل باڈی کا اجلاس کیسے بلایا جا سکتا ہے؟ جنرل باڈی کے تحت کیسے چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جا سکتا ہے؟الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے تحفظات پر تحریری طور پر جواب طلب کر لیا،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف انٹراپارٹی الیکشن کے خلاف درخواستگزاروں کے تحفظات پر بھی جواب مانگ لیا،الیکشن کمیشن تحریری جواب آنے پر سماعت مقرر کرے گا،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • علی امین گنڈاپور کی نااہلی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    علی امین گنڈاپور کی نااہلی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا سالانہ گوشواروں میں غلط بیانی کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی

    ڈی جی پولیٹیکل فنانس مسعود اختر الیکشن کمیشن پیش ہوئے،علی امین گنڈاپور کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،درخواست گزار کفیل احمد نے علی امین گنڈاپور کی نااہلی کی درخواست واپس لے لی،الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کفیل احمد کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی،وکیل علی امین گنڈا پور نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا اذخود نوٹس معطل کردیا ہے، ممبر اکرام اللہ خان نے کہا کہ کیا پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روکا ہے؟ وکیل علی امین گنڈا پور نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کاروائی کرنے سے بھی روکا ہے، الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے کیس چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں سناگیا

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور چیف فیڈرل الیکشن کمیشنر رئوف حسن الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس الیکشن کمیشن مسعود اختر الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرائے، سپریم کورٹ کا 23 نومبر اور 22 دسمبر کا فیصلہ ہے،انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات ہیں اس کی وضاحت ضروری ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جو بھی اعتراض ہے اس کا جواب دیں گے، ہمیں تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا تحریری طور پر دیں گے تو جواب دے دیں گے نوٹس ملا تو جواب دیا ۔الیکشن کمیشن نے اعتراضات کی تفصیلات پی ٹی آئی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر جواب مانگ لیا،آئندہ سماعت کی تاریخ کا اعلان بعد میں ہوگا.

    ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،بیرسٹر گوہر
    الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ جو الیکشن ہم نے تین مارچ کو کروائے تھے اس پر مجھے اور رؤف حسن کو نوٹس آیا تھا،نوٹس میں صرف سماعت کی تاریخ کا بتایا گیا تھا، اس میں جس طریقے سے آخری جو ہیرنگ کی تھی اس میں کچھ پوائنٹ ہمیں بتائے گئے تھے لیکن اس بار نہیں بتائے گئے،ہمیں کوئی اعتراض نوٹس میں نہیں بتایا گیا تھا،آج الیکشن کمیشن نے سٹاف سے پوچھا آپ کیا کہنا چاہیں گے، سٹاف نے کہا کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے آرڈر میں کچھ ہماری آبزرویشن ہیں، پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات پر آج مختصر سماعت ہوئی،پی ٹی آئی جواب جمع کرائےگی، کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی، اب الیکشن کمیشن ہمیں کونسی تاریخ دے گی اس پر پھر بات میں بحث ہو گی، پاکستان کی 175سیاسی جماعتیں ہیں، ان میں تحریک انصاف کی طرح کسی نے بھی شفاف انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرائے، ہمارا انٹراپارٹی الیکشن صاف شفاف ہوا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے آرڈ ر کو مدنظر رکھا،جس میں الیکشن کمیشن نے ہمیں بیس دن کا وقت دیا تھا،ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے سوشل میڈیا پر بھی آگاہ کر دیا تھا،تین کا الیکشن تھا چار کا نوٹیفکیشن تھا ہمیں آج تک نوٹیفیکشن نہیں ملا،ہمیں بلے کا نشان بھی ملنا چاہیے،جتنی اوبزرویشن ہم نے پوائنٹ آؤٹ کی ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سب ٹھیک ہیں،سیاسی درجہ حرارت کم ہونا چاہیے،ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،عوام نے بینگن، چمٹے کو ووٹ دئیے،ہم بائیکاٹ کی طرف نہیں گئے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے،ہر طرح سے ہمیں دبانے کی کوشش کی گئی لیکن عوام نے ہمارا ساتھ دیا،ہم پارلیمنٹ کا حصہ بنے ہیں لیکن ہم پر بھی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • علی امین گنڈاپور کا اثاثوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹس پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

    علی امین گنڈاپور کا اثاثوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹس پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اثاثوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹس پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نےسید سکندر حیات شاہ ایڈووکیٹ کی وساطت سےدرخواست دائرکردیدرخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تمام اثاثے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیے گئے، ریٹرننگ آفیسر نے باریک بینی سےکاغذات کی جانچ پڑتال کی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہےکہ الیکشن ہوئے، علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ بن چکے، اب الیکشن کمیشن کے پاس کارروائی کا اختیار نہیں، کوئی متاثر ہو تو وہ الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرسکتا ہے،درخواست گزار کے وکیل کے مطابق الیکشن کمیشن نے اثاثوں سے متعلق وزیراعلیٰ کو کل طلب کیا ہے۔

    دیوار کے پیچھے جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور منہ ہمارا …

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے سالانہ گوشواروں میں غلط بیانی پر ازخود نوٹس لے لیاہے الیکشن کمیشن نے وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو سالانہ گوشواروں میں غلط بیانی کرنے پر نوٹس جاری کیا الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈاپور کو کل ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ طلب کیا ہے، اس ضمن میں جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور الیکشن کمیشن پیش ہوکر اثاثوں سے متعلق وضاحت دیں۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے ترک فوج کے کمانڈر کی ملاقات

    دوسری طرف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے تھانہ بنی گالا میں درج مقدمے میں علی امین گنڈاپورسمیت تمام ملزمان کو کیس سے باعزت بری کردیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور کیخلاف تھانہ بنی گالا میں درج مقدمہ کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ نے کی ،مدعی مقدمہ عامر زمان اپنے وکیل رضوان اعظم عباسی کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور کہا کہ ’وقوعے میں زخمی ہونے والا بندہ ملک سے باہر ہے‘، عدالت نے مدعی کو ہدایت دی کہ ’اس کی سکائپ آئی ڈی دیں‘،عدالت نے سکائپ کے ذریعے فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے شخص کا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت جاری کیں،عدالت کی جانب سے بیرون ملک ہونے کے باعث متاثرہ شخص محمد ولید کا آن لائن بیان لیا گیا، وکیل مدعی نے کہا کہ ’علی امین گنڈا پور 109 کی حد تک تھے، ان سے کمپرومائز ہوچکا ہے،نامزد ملزمان کو بھی معاف کردیا ہے‘، عدالت نے محمد ولید سے استفسار کیا کہ’ اس مقدمے میں آپ نے راضی نامہ کرلیا ہے؟‘محمد ولید نے بیان دیا کہ ’جی میں نے فی سبیل اللہ معاف کردیا ہے‘۔

    پنجاب اسمبلی میں نومنتخب ارکان نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا