Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • چیف الیکشن کمشنر کو کسی ملک میں سفیر تعینات کرنے کی افواہوں کو مسترد کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کو کسی ملک میں سفیر تعینات کرنے کی افواہوں کو مسترد کر دیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو کسی ملک میں سفیر تعینات کرنے کی افواہوں کو مسترد کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن نے وضاحتی بیان میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے بارے میں گمراہ کن افواہ ہے کہ اُن کو کسی ملک میں سفیر تعینات کیا جا رہا ہے یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، نہ ہی حکومت نے اُن کو ایسی کوئی پیش کش کی ہے اور نہ ہی اُن کا ایسا ارادہ ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے کی معیاد مکمل کرنے کے بعد بھی اپنے ملک میں ہی رہیں گے اور وہ کسی بھی بیرون ملک اسائنمنٹ کے طلب گار نہیں ہیں، ایسی افواہیں پھیلانے والے کو اور اس کی اس افواہ کو بڑھانے والوں کو تنبیہ کی جاتی ہے اور افواہ پھیلانے والے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی، چیف الیکشن کمشنر ایسے شرپسند عناصر کا مقابلہ کرنا بخوبی جانتے ہیں۔

    بیوی کو قتل کر کے سالی سے شادی کرنے والا شخص 38 سال بعد پٔکڑاگیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا

    جنوبی افریقہ کا اسرائیلی فوج میں بھرتی اپنے شہریوں کی گرفتاریوں کا اعلان

  • مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے،علی ظفرنے گزشتہ روز پیش نہ ہونے پر عدالت سے معذرت کی اور کہا کہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی سے بلّے کا نشان لیا گیا، پشاور ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر بلّا واپس کردیا تھا، سپریم کورٹ نے دوبارہ الیکشن کمیشن کے حق میں فیصلہ دے کر نشان واپس لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، الیکشن کمیشن نے ہماری سیٹیں ایک طرف کر کے باقی سیاسی جماعتوں کو دے دیں،عدالت نے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ یہ کیس کس حد تک ہم سن رہے ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ کیس قومی اسمبلی اور کے پی اسمبلی حد تک محدود ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ ان 78 سیٹوں کا ہم فیصلہ کریں گے، الیکشن کمیشن کو 6 درخواستیں موصول ہوئیں کہ سنی اتحاد کونسل حقدار نہیں، پہلا نکتہ سنی اتحاد سیاسی جماعت نہیں، دوسرا سنی اتحاد کونسل نے لسٹ نہیں دی، تیسرا نکتہ یہ کہ سیٹیں اگر ان کو نہیں ملتیں تو ہمیں دے دیں، کچھ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دیں کہ یہ سیٹیں انہیں دے دیں، درخواستیں دینے والی سیاسی جماعتیں تھیں، درخواست گزاروں نے اپنے لیے سیٹیں مانگ لیں، الیکشن کمیشن نے 2 وجوہات پر فیصلہ دیا کہ سنی اتحاد سیاسی پارٹی نہیں اور لسٹ نہیں دی، الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کی مخالفت کی، 4 نے حمایت کی، سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ پارٹی ہے اور اس کا انتخابی نشان بھی ہے، الیکشن میں حصہ نہ لینا اتنی بڑی بات نہیں، بعض اوقات سیاسی جماعتیں انتخابات سے بائیکاٹ کر سکتی ہیں، سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے،

    جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ اگر انتخابات میں حصہ نہیں لیتے پھر کیا ہو گا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں پہلے اس پر بات کر رہا ہوں کہ میں سیاسی جماعت ہوں، میں سیاسی جماعت ہوں تو میرے بنیادی آئینی حقوق کیا ہیں؟ آرٹیکل 17 کے تحت میرے کئی بنیادی حقوق بنتے ہیں، آئین کہتا ہے کہ جس جماعت نے جتنی سیٹیں جیتی ہیں، اس کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائینگی، ہم نے الیکشن کمیشن کا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ چیلنج کیا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے سیکشن 104 کو بھی چیلنج کیا ہے، الیکشن کمیشن نے سیکشن 104 اور 51 کی غلط تشریح کی ہے، سوال آیا کہ سیاسی پارٹی؟ میرے خیال میں جماعت وہ ہے جو ان لسٹ ہے، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 210 اور 202میں سیاسی پارٹی کا ذکر موجود ہے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا لیکن یہ ضروری نہیں، بائیکاٹ بھی الیکشن کا حصہ ہوتا ہے، عدالت نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اگر ایک پارٹی الیکشن نہ لڑے تو پھر پولیٹیکل پارٹی ہوتی؟ پولیٹیکل پارٹی تو سیٹیں جیتنے کیلئے الیکشن میں حصہ لیتی ہے، علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے پاس انتخابی نشان ہے اور الیکشن لڑنے کا اختیار ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی پارٹی الیکشن میں حصہ نے لے تو وہ پارٹی رہتی ہے یا نہیں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے، کوئی سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں لے سکتا جب تک سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہو، آئین میں پولیٹیکل جسٹس کا ذکر واضح لکھا ہوا ہے، ہر وہ شہری جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے یا کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے، آرٹیکل 72 کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کئی حقوق حاصل ہیں، سیاسی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں،حکومت بنا سکتی ہے، مخصوص نشستیں حاصل کر سکتی ہے،

    جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے،عدالت
    عدالت نے کہا کہ پاکستان میں 100 سے زائد سیاسی جماعتیں ہیں،کل تو ہر کوئی بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑے گا، کامیاب ہونے کے بعد پھر وہ بھی مخصوص نشستیں مانگے گا، مخصوص نشستیں کیوں دوسری جماعتوں کو نہ دی جائیں؟ علی ظفر نے کہا کہ پہلی بار لوگوں نے شخصیات کو ووٹ دیا ہے، جس نے جتنی سیٹیں جیتیں اسے اسی تناسب سے سیٹیں ملتی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ انکی سیٹیں بڑھا دی جائیں، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اگر یہ سیٹیں نہیں دی گئیں تو پارلیمنٹ پوری نہیں ہو گی؟علی ظفر نے کہا کہ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ آپ آئین کی ایسی تشریح کریں کہ یہ خلا پیدا نہ ہو، یہ کہیں نہیں لکھا کہ آپ لسٹ دوبارہ نہیں دے سکتے، یہ دوسرا شیڈول بھی جاری کر سکتے ہیں، جنرل الیکشن کا بھی انہوں نے سیکنڈ شیڈول جاری کیا، یہ کہنا کہ آپ لسٹ اب نہیں دے سکتے یہ غلط ہے، عدالت نے کہا کہ جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے، علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ لسٹ کب دینی ہے،بہتر سمجھ یہ ہو گی کہ انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کا الیکشن شیڈول آ جائے، سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک دن مخصوص ہو گا، یہ نہیں لکھا کب ہوگا، دوسری لسٹ پر کوئی پابندی نہیں کہ آپ لسٹ نہیں دے سکتے، سیکشن 104 ہم سے ہمارے آئینی حقوق نہیں چھین رہا،

    آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،علی ظفر
    جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کو انکا مخصوص نشست کا حصہ مل چکا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ جو حالات بن گئے پہلی مرتبہ ایسا ہوا، جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کیا یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہنی چاہئیے، علی ظفر نےکہا کہ بلکل خالی بھی رہنی چاہئیے اور دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کبھی پہلے ہوا ہے، علی ظفر نے کہا کہ باپ پارٹی کو 2018 میں مخصوص سیٹ الاٹ کی گئیں ہیں ،جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا ہے کہ آپ نے وہ دستاویزات نہیں دیئے، علی ظفر نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ باب کا حق تو زیادہ ہے۔ جس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا، علی ظفر نے کہا کہ ہمیں پھر آپ بیٹا سمجھ لیجیے، کے پی میں اکثریت کو کیسے اپنے مخصوص نشستوں سے محروم رکھا جائے، آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،یہاں پر پارٹی کو ووٹ ملا ہے, جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ پارٹی کو ووٹ ملا ہے،

    سکندر بشیر نے کہا کہ یہ درخواستیں تمام اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے لیے ہیں جو کہ اس عدالت کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہیں،سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں ان درخواستوں سے مماثلت رکھتی ہیں،تمام درخواستوں میں ایک ہی درخواست گزار ہے،درخواستوں میں ایک ہی پیٹرن کو فالو کیا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں بھی لارجر بینچ کے لیے استدعا کی گئی ہے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ پہلی درخواست ہمارے سامنے موجود ہیں, دیگر صوبوں کےہائیکورٹ اپنے فیصلے دیں گے،الیکشن کمیشن کے وکیل کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مبشر عدالتی معاونت کے لیے روسٹرم پر آگئے،ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل اسی کیس میں پہلے وکیل ہونے کے باعث عدالتی معاون نہیں ہوسکتے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیا تو پھر وہ پارلیمنٹری پارٹی بن گئی،پولیٹکل پارٹی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے الیکشن میں حصہ لیا ہو.

    مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج کر دیا ہے،پشاور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنادیا ،پانچ رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کا کیس خارج کردیا

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

  • قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری

    قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کردیا

    ملک بھر میں خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات 21 اپریل کو ہوں گے،الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق قومی اسمبلی کی 6،پنجاب اسمبلی کی 12 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے،خیبرپختونخوا اسمبلی کی2،بلوچستان اسمبلی کی2 اور سندھ اسمبلی کی 1 نشست پرضمنی انتخابات ہوں گے،ضمنی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی16 سے18 مارچ تک جمع کرائے جاسکیں گے،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 21 مارچ کو ہوگی،کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیلیں 25 مارچ تک جمع کرائی جاسکیں گی،الیکشن ٹریبونل 28 مارچ تک اپیلیں نمٹائیں گے،کاغذات نامزدگی 29 مارچ تک واپس لیے جاسکیں گے،حتمی امیدواروں کی فہرست 29 مارچ کو آویزاں کی جائے گی،انتخابی نشانات 30 مارچ کو الاٹ کیے جائیں گے،

  • سینٹ انتخابات 2024 کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل

    سینٹ انتخابات 2024 کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

    2018 میں منتخب ہونے والے 52 سینیٹرز اپنی 6 سالہ مدت پوری ہونے کے بعد 12 مارچ 2024 کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ تاہم سابقہ فاٹا سے منتخب 4 ارکان سینٹ کی جانب سے خالی ہونے والی نشستوں پر سینٹ کا انتخاب نہیں ہوگا۔ کیونکہ 2018 میں سابقہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سینٹ میں فانا کے لیے مختص نشستیں پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت ختم ہو چکی ہیں۔  کل 48 نشستوں پر سینٹ کا انتخاب عمل میں آئے گا،پنجاب کی 12،سندھ کی 12 خیبرپختون خوا کی 11 بلوچستان کی 11اور اسلام آباد کی ایک نشست پر الیکشن ہوں گے ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول 14 مارچ کو جاری کیا جائے گا اور اس حوالے سے کاغذات نامزدگی آج سے الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اور صوبائی الیکشن کمشنرز پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا اور بلوچستان کے دفاتر سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ امیدوار کا غذات نامزدگی15 اور 16 مارچ کو متعلقہ ریٹرنگ آفیسرز ، جن کی تعیناتی عمل میں لائی جا چکی ہے، کے دفاتر میں جمع کروا سکتے ہیں جبکہ پولنگ 2 اپریل کو ہوگی۔ مزید معلومات کے لیے فون نمبر 9219335-051 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • جے یو آئی کے کوٹے پر نامعلوم خاتون کی مخصوص نشست پر کامیابی،مولانا کی تحقیقات کی درخواست

    جے یو آئی کے کوٹے پر نامعلوم خاتون کی مخصوص نشست پر کامیابی،مولانا کی تحقیقات کی درخواست

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کا بلنڈر ،جے یو آئی کے کوٹے پر نامعلوم خاتون کا مخصوص نشست پر کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا

    کامیابی کا نوٹیفیکیشن کے پی سے قومی اسمبلی کی مخصوص نشست کے لئے جاری کیا گیا ،جاری شدہ نوٹیفیکیشن کا نمبر ایف 6 آف 2024 ہے ،جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نوٹیفئکیشن منسوخ کرکے تحقیقات کرنے کی درخوست دے دی ، الیکشن کمیشن کو دی گئی درخواست میں کہا گیا کہ صدف احسان نہ تو پارٹی کی رکن ہیں نہ ہی ان کا نام جے یو ائی کی فہرست میں ہے ،صدف احسان کا نوٹیفیکیشن منسوخ کر کے حنا بی بی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے ،مخصوص نشست کے لئے اجنبی خاتون کے نام کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے معاملے کی تحقیقات کروائی جائے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کومخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد مخصو ص نشستیں دیگر جماعتوں کو دی گئی ہیں،

    مخصوص نشتیں نہ دینے کے خلاف درخواست متعلقہ بینچ کو بھیجنے کا حکم

    مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مکمل، مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کر دی،سنی اتحادکونسل فارغ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عمران خان کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

  • الیکشن کمیشن،بابر اعوان اور فروغ نسیم کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ،سماعت رک گئی

    الیکشن کمیشن،بابر اعوان اور فروغ نسیم کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ،سماعت رک گئی

    پی ایس 119 کراچی غربی میں ایم کیو ایم کے امیدوار کی کامیابی کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے دو رکنی کمیشن نےسماعت کی

    ایم کیو ایم کے کامیاب امیدوار علی خورشیدی کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کمیشن میں پیش ہوئے،آزاد امیدوار سعید آفریدی کے وکیل بابر اعوان بھی پیش ہوئے،دوران سماعت بابر اعوان اور فروغ نسیم کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، بابر اعوان کے دلائل کے درمیان فروغ نسیم کی مسلسل روک ٹوک کی، بابر اعوان نے کہا کہ جو کراچی میں کرتے ہو وہی یہاں کرنا چاہتے ہو؟ آپ یہاں گن پوائنٹ پر فیصلے نہیں لے سکتے،تلخ جملوں کے بعد کمیشن سماعت چھوڑ کر چلا گیا،کیس کی سماعت روک دی گئی

    قبل ازیں پی پی 117 فیصل آباد،کامیاب آزاد امیدوار رانا عبدالرزاق اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے،ہارنے والے ن لیگی امیدوار رضوان بٹ کے وکیل بھی پیش ہوئے، وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ ری کاؤنٹنگ کی جائے، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کتنی لیڈ سے ہارے اور کیا آپ نے آر او کو درخواست دی،وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ ہم چودہ ہزار کی لیڈ سے ہارے اور آر او کو درخواست نہیں دی، وکیل آزاد امیدوار نے کہا کہ میری جیت کے بعد میرے مدمقابل نے مبارکباد کا فون کیا اور اب ری کاؤنٹنگ کا مطالبہ کررہے ہیں،الیکشن کمیشن نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا.

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

  • این اے 139 پاکپتن،دھاندلی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    این اے 139 پاکپتن میں انتخابی نتائج کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے سماعت کی،

    ہارنے والے آزاد امیدوار راؤ عمر ہاشم خان کے وکیل پیش ہوئے ، وکیل آزاد امیدوار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جو فارم 45 اپلوڈ کئے وہ ہمارے فارم سے مختلف ہیں، ہم نے یو ایس بی میں تمام ثبوت جمع کروا دیے،ہم فارم 45 کے مطابق لیڈ کے ساتھ جیتے ہوئے ہیں،ہمارے اور تحریک لبیک پاکستان کے پاس موجود فارم 45 ایک جیسے ہیں،

    کمرہ عدالت میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار کے نمائندگان بھی موجود تھے،کامیاب ہونے والے ن لیگی احمد رضا خان مانیکا کے وکیل بھی پیش ہوئے، وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ جب فارم 47 ایشو ہورہے تھے آزاد امیدوار ادھر موجود تھے، یہ تمام اعتراض جو اب اٹھا رہے ہیں ان کو پہلے اٹھانے چاہئیے تھے، میری استدعا ہے ہمارے خلاف دائر درخواست مسترد کی آجائے، اگر ہمارے مدمقابل کو نتائج پر اعتراض ہے تو وہ الیکشن ٹریبونل سے رجوع کریں،کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

    پی پی 117 فیصل آباد،کامیاب آزاد امیدوار رانا عبدالرزاق اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے،ہارنے والے ن لیگی امیدوار رضوان بٹ کے وکیل بھی پیش ہوئے، وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ ری کاؤنٹنگ کی جائے، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کتنی لیڈ سے ہارے اور کیا آپ نے آر او کو درخواست دی،وکیل ن لیگی امیدوار نے کہا کہ ہم چودہ ہزار کی لیڈ سے ہارے اور آر او کو درخواست نہیں دی، وکیل آزاد امیدوار نے کہا کہ میری جیت کے بعد میرے مدمقابل نے مبارکباد کا فون کیا اور اب ری کاؤنٹنگ کا مطالبہ کررہے ہیں،الیکشن کمیشن نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

  • مخصوص نشتیں نہ دینے کے خلاف درخواست متعلقہ بینچ کو بھیجنے کا حکم

    مخصوص نشتیں نہ دینے کے خلاف درخواست متعلقہ بینچ کو بھیجنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ: سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشتیں نہ دینے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے کیس متعلقہ بنچ کو بھجوانے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی،عدالتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی نوعیت کی درخواست پر ایک اور سنگل بنچ سماعت کررہا ہے۔اس درخواست کو بھی متعلقہ بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کیا جائے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے عبداللہ ملک ایڈوکیٹ کی درخواست پر سماعت کی ، درخواست میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام چیلنج کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی ہے اور مخصوص سیٹیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی ہیں، سنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائیکورٹ سمیت لاہور ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام چیلنج کر رکھا ہے

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے ایڈووکیٹ اشتیاق اے خان کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخوا ست میں الیکشن کمیشن سمیت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ تو ٹربیونل ہے اور نہ ہی عدالت ہے، پنجاب اسمبلی میں سیٹوں کے تناسب سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔الیکشن کمیشن کا عمل آئین میں ترمیم کے مترادف ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ اپنے اختیارات سے تجاوز ہے، عدالت الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104، رول 94 خلاف آئین قرار دے۔

  • سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کے لیے ریٹرننگ افسران مقرر

    سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کے لیے ریٹرننگ افسران مقرر

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کے لیے ریٹرننگ افسران مقرر کردئیے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کے مطابق چاروں صوبوں سے سینیٹ کی سات، 7 جنرل نشستوں 2، 2 خواتین اور 2،2 ٹیکنوکریٹ نشستوں پر انتخابات ہوں گے، اس کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے 1، 1 اقلیتی نشست پر بھی انتخاب ہوگا جبکہ اسلام آباد کی 1 جنرل اور 1 ٹیکنوکریٹ نشست پر انتخاب ہوگا،چاروں صوبوں میں سینیٹ انتخابات کے لیے متعلقہ صوبائی الیکشن کمشنر ریٹرننگ افسران مقرر کیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد کے لیے ڈی جی ٹریننگ الیکشن کمیشن ریٹرننگ افسر کو مقرر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات اپریل کے پہلے ہفتے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، انتخابات کیلئے پولنگ 3 اپریل کو قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی، سندھ اور پنجاب سے 12،12 اور اسلام آباد کے 2 سینیٹرز کا انتخاب ہو گا جب کہ خیبر پختوانخوا اور بلوچستان سے 11،11 نئے سینیٹرز منتخب ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن نے کابینہ کیلئے اپنے نام فائنل کر لئے

    رمضان ریلیف پیکج کاحجم بڑھا دیا گیا

    چینی صدر کی نومنتخب پاکستانی ہم منصب کو مبارکباد

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کی تفصیلات و دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی گئیں

    تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں ،فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا گیا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،