Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • سنی اتحاد کونسل نے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام چیلنج کر دیا

    لاہور: سنی اتحاد کونسل نے پنجاب میں مخصوص نشستیں نہ ملنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے ایڈووکیٹ اشتیاق اے خان کی وساطت سے درخواست دائر کی، درخوا ست میں الیکشن کمیشن سمیت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ تو ٹربیونل ہے اور نہ ہی عدالت ہے، پنجاب اسمبلی میں سیٹوں کے تناسب سے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔الیکشن کمیشن کا عمل آئین میں ترمیم کے مترادف ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ اپنے اختیارات سے تجاوز ہے، عدالت الیکشن ایکٹ کا سیکشن 104، رول 94 خلاف آئین قرار دے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست چار ایک سے مسترد کر دی تھی، سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد ہونے کے پارٹی 77 مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی تھی اور یہ نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی کو مل گئی ہیں-

  • الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی رہنماؤں کو انتخابی نتائج کے تصدیق شدہ دستاویزات فراہم کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں کی انتخابی نتائج کی دستاویزات کی فراہمی کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی نے پی ٹی آئی رہنما تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور دیگر کی الیکشن نتائج کے مصدقہ دستاویزات حصولی کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزار وں کے وکیل شمائل احمد بٹ نے کہا کہ الیکشن رولز کہتا ہے امیدوار کو مصدقہ دستاویزات دینا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، ہم الیکشن کمیشن کے پاس جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے آر او کے پاس جائیں، وہاں جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل محسن کامران نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس فارم 45 اور 47 جب آئے تو ہم نے اپلوڈ کیے، جن آر اوز نے 14 دن کے اندر فارم جمع نہیں کیے الیکشن کمیشن نے ان آر اوز کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے، الیکشن کمیشں نے ویب سائٹ پر فارم اپلوڈ کئے ہیں وہاں سے یہ حاصل کرسکتے ہیں۔

    اعظم سواتی کے خلاف مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    جسٹس سید ارشد علی نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کو مصدقہ کاپی کون دے گا؟ جس پر وکیل محسن کامران نے جواب دیا کہ یہ آر اوز سے بھی دستاویزات لے سکتے ہیں، وہاں پر درخواست دیں، جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ الیکشن رولز میں الیکشن کمیشن کا ذکر ہے کہ دستاویزات دے گا۔

    بیوی کے جہاز میں نہ پہنچنے پر فلائٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے …

    درخواست گزاروں کے وکیل علی گوہر درانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ رولز 91 کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن مصدقہ دستاویزات فراہم کرے گا، دستاویزات ہر امیدوار کا حق ہیں، ہمیں خدشہ ہے کہ فارم 45 اور 47 میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کی جا رہی ہے۔

    جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ آپ کو تصدیق شدہ فارم دیں گے تو پھر اس کے بعد کیسے تبدیلی کریں گے؟ آپ کے پاس فارم ہو گا، بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو درخواست گزاروں کو انتخابی نتائج کے تصدیق شدہ دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخوا ستیں نمٹا دیں۔

    پاکستان کا غزہ میں رمضان المبارک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

  • الیکشن کمیشن کے خط کے باوجودصادق سنجرانی کا بطور چیئرمین سینیٹ سرکاری امور سرانجام دینے کا انکشاف

    اسلام آباد (محمداویس) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سینیٹ کی نشست خالی ہونے کا خط سیکرٹری سینیٹ کو بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : خط میں کہاگیا ہے کہ جس دن یہ سینیٹرز ممبرقومی وصوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اسی دن سے یہ نشستیں خالی ہوگئی ہیں، اس حوالے سے ضروری اقدامات فورا کئے جائیں،الیکشن کمیشن کے خط کے باوجود سینیٹر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ کے طور پر سرکاری امور سرانجام دے رہے ہیں،موقف کے لیے سیکرٹری سینیٹ سے بارہا رابطے کے باوجود رابطہ نہ ہوسکا۔

    پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کےخط کےبعد چیئرمین سینیٹ کو سرکاری معاملات سے الگ ہوکر تمام ذمہ داریاں ڈپٹی چیئرمین کے سپرد کردینی چاہیے،دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 28فروری کو سیکرٹری سینیٹ کے نام خط لکھا جس میں کہا گیا کہ سینیٹ کے 7 سینیٹرزجنرل الیکشن 2024میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے ہیں ان میں مولانا عبدالغفور حیدری اور یوسف رضاگیلانی قومی اسمبلی کے ممبر بننے ہیں نثار احمد کھوڑو اور جام مہتاب سندھ اسمبلی اور سرفراز بگٹی پرنس احمد عمر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں-

    ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی حمایت کر دی

    آئین کے آرٹیکل 223کے مطابق یہ سینیٹر اب سینیٹ کا حصہ نہیں رہے ہیں ان سات سینیٹرز میں سے 6 سینیٹرز نے متعلقہ اسمبلیوں میں حلف لے لیا ہے مگر چیئرمین سینیٹ الیکشن کمیشن کے خط کے باوجود بطور چیئرمین سینیٹ سرکاری امور سرانجام دے رہے ہیں جبکہ اس دوران انہوں نے سینیٹ اجلاس کی بھی صدارت کی ہے الیکشن کمیشن کے واضح احکامات کے باجود سینیٹر صادق سنجرانی بطور چیئرمین سرکاری امور سرانجام دے رہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کے خط کی روشنی میں وہ اب چیئرمین سینیٹ نہیں رہے ہیں الیکشن کمیشن نے سیکرٹری سینیٹ کو لکھا ہے کہ وہ خط کی روشنی میں ضروری اقدمات فورا اٹھائیں اس حوالے سے سیکرٹری سینیٹ سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ موقف دے دیں مگر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

    ترکی کی رمضان میں فلسطینیوں کیلئے مقدس مقامات بند کرنے پر اسرائیل کوسنگین نتائج کی …

    سینیٹ رولز کے مطابق چیئرمین سینیٹ کی نشست خالی ہونے کے 7دن کے اندر نئے چیئرمین کے لیے انتخاب ہونا چاہیے ، جبکہ سینیٹر صادق سنجرانی 15فروری کو ممبر بلوچستان اسمبلی منتخب ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ نہیں رہے ،پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر جن کے خط کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے سینیٹ سیکرٹری کو خط لکھا انہوں نے اس حوالے سے موقف دیتے ہوئے بتایاکہ الیکشن کمیشن نے خط لکھ دیا ہے تو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو سرکاری کام نہیں کرنا چاہیے اب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو سرکاری امور چلانے چاہیے ۔

    احتساب عدالت میں حسن اور حسین نواز کے وارنٹ گرفتار ی کی معطلی …

  • پلڈاٹ کی رپورٹ نے الیکشن 2024 کی شفافیت پہ کئی سوال اٹھا دیئے

    پلڈاٹ کی رپورٹ نے الیکشن 2024 کی شفافیت پہ کئی سوال اٹھا دیئے

    پلڈاٹ نے عام انتخابات 2024 بارے رپورٹ جاری کر دی، پلڈاٹ کی رپورٹ نے الیکشن 2024 کی شفافیت پہ کئی سوال اٹھا دیئے ہیں،

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے 2024 کے عام انتخابات کے بارے میں اپنا جائزہ رپورٹ جاری کیا ہے جو پچھلے انتخابی ادوار کے مقابلے میں شفافیت کے اسکور میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
    2024 کے عام انتخابات کے حوالے سے رپورٹ ایک سوالنامے کے ساتھ آزادانہ تجزیے پر مبنی ہے جسے سول سوسائٹی کے ایک آزادانہ رائے رکھنے والے گروپ نے بنایا تھا، جس میں سیاستدان، وکلاء، انسانی حقوق کے کارکن، ماہرین تعلیم، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ریٹائرڈ فوجی حکام کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر آگاہ نوجوان شامل تھے۔اس رپورٹ میں، پلڈاٹ نے مندرجہ ذیل اہم مسائل پر روشنی ڈالی ہے جنہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے معیار کو منفی طور پر متاثر کیا ہے:

    پلڈاٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پولنگ سے قبل انتخابات کے شیڈول میں تاخیر، سیاسی جبر، نگران حکومت کی جانب سے غیر جانبداری کا فقدان دیکھا،خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال تھی، پولنگ کے دن موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی نے نہ صرف ای ایم ایس کو متاثر کیا بلکہ انتخابی عمل میں عوام کی شرکت کے لیے بھی مشکلات پیدا کیں،پولنگ مکمل ہونے کے بعد غیر حتمی نتائج کے اعلان میں تاخیر نے انتخابات کی ساکھ پر سنگین سوالات کو جنم دیا،فارم-45 اور فارم-47 کے درمیان بڑے پیمانے پر فرق کے الزامات نے بھی انتخابات کی ساکھ کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر فارم 45، 46، 48 اور 49 کی اشاعت میں تاخیر ہوئی،الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 95 (10) کی خلاف ورزی نے الیکشن کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ پولنگ کے دن سے لے کر 25 دنوں تک ایک بڑا تنازعہ بنی رہی ،دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں الاٹ کی گئیں،

    پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عام انتخابات 2024ء میں سب سے کم منصفانہ اسکور ریکارڈ کیا گیا، یہ پچھلے انتخابی ادوار کے مقابلے میں شفافیت کے اسکور میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے، پری پول مرحلے کے لیے تشخیص کا اسکور 50 فیصد تھا جو 2013ء کے 62 فیصد کے اسکور سے نمایاں طور پر کم ہے، الیکشن کے دن پولنگ کے عمل کا اسکور 58 فیصد رہا، یہ 2018ء کے اسکور سے کم تھا جو 64 فیصد تھا، ووٹنگ، پولنگ عملے کی کارکردگی اور پولنگ اسٹیشنز کا معیار 2018ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے، مجموعی طور پر عام انتخابات 2024ء کے معیار نے 49 فیصد اسکور کیا ہے، معیار کا اسکور نہ صرف 50 فیصد سے کم ہے بلکہ پچھلے 2 انتخابات کے مجموعی اسکور سے بھی کم ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ووٹوں کی گنتی، نتائج مرتب کرنا، ٹرانسمیشن، استحکام، عارضی نتائج کا اعلان اور انتخابات کے بعد کے عمل کو کم از کم 40 فیصد اسکور ملا، الیکشن کمیشن 2024ء کے عام انتخابات میں ہونے والی بےضابطگیوں کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے،الیکشن کمیشن عبوری نتائج کی ترسیل، استحکام اور اعلان میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرے،الیکشن مینجمنٹ سسٹم کے ناکارہ ہونے کی صورت میں نتیجہ جاری کرنے کی آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کی کمی کو تسلیم کرے اور متبادل سسٹم بنایا جائے۔الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت مطلوبہ فارم 45، 46، 48 اور 49 کی دستخط شدہ کاپیاں شائع کرنے میں ناکامی کو تسلیم کرے۔پلڈاٹ یہ بھی سفارش کرتا ہے کہ عام انتخابات 2024 سے متعلق تنازعات کو ختم کرنے کے لیے، ایک واضح راستہ طے کیا جائے۔ غور کرنے کے لیے صرف دو ممکنہ راستے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ الیکشن ٹربیونلز کو ہر کیس کی بنیاد پر تنازعات حل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگرچہ الیکشن ٹربیونلز کو انتخابی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کے لیے 180 دن کی قانونی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، لیکن بہت سی درخواستوں کا فیصلہ کرنے میں کافی زیادہ وقت لگتا ہے۔ پلڈاٹ کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ پنجاب میں 2018 کے عام انتخابات کے بعد بنائے گئے آٹھ کے مقابلے میں صرف دو الیکشن ٹربیونلز بنائے گئے ہیں اور مبینہ طور پر اس بار الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نو درخواستیں دائر کی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار انتخابی درخواستوں کے فیصلے میں زیادہ تاخیر متوقع ہے۔ پلڈاٹ پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ الیکشن ٹربیونلز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ تمام انتخابی درخواستوں کا فیصلہ 180 دنوں کی قانونی ڈیڈ لائن کے اندر کیا جا سکے۔ دوسرا، الیکشن ٹربیونلز کے علاوہ، عام انتخابات 2013 کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی طرح انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، الیکشن میں‌دھاندلی کے حوالہ سے تمام سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا، آزاد امیدوار انتخابات میں بڑی تعداد میں جیتے،

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    الیکشن 2024: پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،اپسوس سروے

    متنازع انتخابات، کمزور اتحادی حکومت،پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا، موڈیز

    انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلانے والوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

    انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ سے خارج

    عام انتخابات، اپنی ہار تسلیم کرنیوالے سیاستدان

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

  • مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ نے حلف اٹھانے سے روک دیا،سنی اتحاد کونسل کی درخواست منظور

    مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ نے حلف اٹھانے سے روک دیا،سنی اتحاد کونسل کی درخواست منظور

    پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نشان لینے کے باعث پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے، پی ٹی آئی حمایت یافتہ کامیاب امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیا، خیبرپختونخوا میں 21 مخصوص خواتین اور 4 اقلیتی نشستیں اور جماعتوں میں تقسیم کیے گئے۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ یہ کیس صرف خیبرپختونخوا کی حد تک ہے یا پورے ملک تک، جس پر قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایک ہی فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اسلئے اب مخصوص نشستیں نہیں دے سکتے،

    جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ آپ کا کیس یہ ہے کہ سیٹیں کسی اور کو نہیں دی جاسکتی، جس پر قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک ممبر نے اختلافی نوٹ بھی یہ بات لکھی ہے۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا پھر یہ سیٹیں خالی رہیں گی؟ یہ سیٹیں تو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مختص ہوتی ہے اگر آپ کو نہیں ملتی تو پھر کیا یہ خالی رہے گی۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کہتا ہے کہ الیکشن سے پہلے لسٹ دیا دی جائے، جس پر قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ نوٹیفکیشن ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جن کو سیٹیں دی گئی ہے وہ حلف نہ لیں۔عدالت نے کہا کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو حلف سے روکا جائے، ہم اس کو دیکھتے ہیں پھر کوئی آرڈ کریں گے۔بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ نے قاضی انور ایڈووکیٹ کے دلائل کے بعد حکم امتناعی پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست منظور کر لی،مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان اسمبلی کو حلف اٹھانے سے روک دیا، پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے

    سنی اتحاد کونسل نے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لئے درخواست دائر کی تھی،درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہم سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوگئے ہیں, اب پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل کا حصہ ہیں،مخصوص نشستیں الیکشن میں جنرل سیٹوں کی تناسب سے دی جاتی ہیں،الیکشن کے بعد بھی مخصوص نشستوں کی لسٹ دی جا سکتی ہے.

    عدلیہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکے کو ناکام بنائے،تحریک انصاف
    پشاور: مخصوص نشستوں کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف چترال کے صدر اور رکن قومی اسمبلی عبد الطیف نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر 14 روز میں فارم 45 اپلوڈ نہیں کیے گئے ،الیکشن کے نام پر ڈھونگ رچایا گیا ،الیکشن سے قبل ہی دھاندلی شروع کی گئی ،مخصوص نشستوں سے محروم رکھنے کی سازش انتخابات سے قبل کی گئی، امیدواروں کو ہراساں کیا گیا اور پارٹی نشان چھینا گیا ،چیف الیکشن کمشنر کا کردار مکمل طور پر جانبدارانہ رہا ،الیکشن کمیشن شفاف اور غیر جانبدار آئینی کردار ادا کرنے میں ناکام رہا، چیف الیکشن کمشنر فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے، عوام کی جانب سے مسترد شدہ لوگ مخصوص نشستوں پر نمائندگی کریں گے، دنیا میں پیغام دیا جارہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ناکام ہوگئی،اس اقدام کے خلاف عدلیہ سے رجوع کیا ہے، عدلیہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکے کو ناکام بنائے،

    مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مکمل، مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کر دی،سنی اتحادکونسل فارغ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عمران خان کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

    توہین الیکشن کمیشن کیس، علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنےکا حکم

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی ،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا

  • سنی اتحاد کونسل کی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    سنی اتحاد کونسل کی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پشاور ہائیکورٹ: سنی اتحاد کونسل نے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لئے درخواست دائر کردی

    درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہم سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوگئے ہیں, اب پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل کا حصہ ہیں،مخصوص نشستیں الیکشن میں جنرل سیٹوں کی تناسب سے دی جاتی ہیں،الیکشن کے بعد بھی مخصوص نشستوں کی لسٹ دی جا سکتی ہے،درخواست آج سماعت کے لئے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    پی ایس ایل کی خالی نشستیں بھی انکو دے دیں، فیصل جاوید پھٹ پڑے
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ الیکشن کا کل ایک مخصوص فیصلہ آیا آج ہم ہائیکورٹ جارہے ہیں، مخصوص نشستیں ہمارا حق بنتا ہے،جو جس پارٹی کا تناسب ہوگا اسے مخصوص نشستیں ملیں گی آرٹیکل 51 میں لکھا ہوا ہے، پی ٹی آئی کی جائز نشستیں روکی گئیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کو دیدی گئیں،آپ پی ایس ایل کی خالی نشستیں بھی انکو دیدیں ، دنیا بھر میں جہاں جہاں الیکشن ہورہے ہیں وہاں کی بھی مخصوص نشستیں انکو دیدیں، پانامہ میں الیکشن ہورہے ہیں انکی مخصوص نشستوں کو بھی انہیں الاٹ کردیں، پی ٹی آئی نے 180 سیٹیں جیتیں اور ہماری سیٹیں چرا لی گئی ہیں،عوام نے جنھیں چنا ہے انہیں انکا مینڈیٹ دیا جانا چاہیئے، آپ کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو سیاست نہیں آتی آج اسکا نام لیکر آپ سیٹیں ہتھیا رہے ہیں،آپ کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو سیاست نہیں آتی آج آپ اسکے نام پر اپنی ریٹنگ بڑھا رہے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور انکی اہلیہ کو فوری رہا کیا جائے انصاف و عدل قائم کیا جانا چاہے، خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستیں 26 دیدی گئیں جے یو آئی نے 7 سیٹیں جیتی انہیں مخصوص سیٹیں دے دیں، عشاریہ 73 پر یہ فارمولا بنا کر ہماری مخصوص نشستیں دیدی گئیں ہیں ،

    مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مکمل، مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کر دی،سنی اتحادکونسل فارغ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عمران خان کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

    توہین الیکشن کمیشن کیس، علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنےکا حکم

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی ،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا

  • 14 دنوں میں فارم 45 اپلوڈ نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

    14 دنوں میں فارم 45 اپلوڈ نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: انتخابات کے بعد 14 دنوں میں فارم 45 اور 47 ویب سائٹ پر اپلوڈ نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری کرکے جواب طلب کرلیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی ،متحدہ وحدت المسلمین کی جانب سے وکلاء ایمان زینب مزاری عدالت پیش ہوئی ،عدالت نے درخواست گزار و سربراہ ایم ڈبلیو ایم راجہ علامہ ناصر عباس کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی، ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق 14 دنوں میں انتخابی نتائج کے فارمز ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے ہوتے ہیں،الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق صرف فارمز نہیں بلکہ تمام متعلقہ دستاویزات کو اپلوڈ کرنا ہوتا ہے، 8 فروری کو انتخابات ہونے مگر ابھی تک متعلقہ دستاویزات اپلوڈ نہیں کئیے گئے، الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز کسی حد تک فارم 45 اپلوڈ کئیے اور پھر ہٹا دئیے، عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لئے ملتوی کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے فارم 45،46،48 اور 49 جاری کئے ہیں،الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی و قومی اسمبلی کے حلقوں کے فارمز جاری کئے ہیں،الیکشن کمیشن نے حلقہ وائز فارمز ویب سائٹ پرجاری کئے ہیں ،الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ وہ 14دن کے اندر تمام فارم 45 ویب سائٹ پر ڈالے گا لیکن الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور فارم 45 عام انتخابات کے ایک ماہ بعد ویب سائٹ پر ڈالے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    صدارتی انتخاب کے لئے ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوں گے،ملک میں صدارتی عہدہ 1956کے آئین میں رکھا گیا،اس کے بعد 1962 اور 1973کے آئین میں بھی صدر کا عہدہ رکھا گیا،صدر مملکت کا مسلمان ہونا اور عمر 45سال سے زیادہ ہونا ضروری ہے،صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے،صدر نے وزیر اعظم کے ایڈوائس پر کام کرنا ہوتا ہے

    صدارتی انتخاب کے لئے الیکٹوریل کالج سینیٹ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ہیں،اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر کاانتخاب الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر صدر کا انتخاب کرتے تھے،صدر مملکت کے لئے بھی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی شرط موجودہے،ووٹرز لسٹ میں ممبران اسمبلی ہیں جنہوں نے حلف لیا ہو،ریٹرننگ افسران حروف تہجی کے اعتبار سے ووٹرز لسٹ بنائیں گے،اسمبلیوں کے پریزائڈنگ صوبائی چیف جسٹسز ہوں گے، پریذائیڈنگ افسر فارم پانچ فائیو پر ابتدائی نتائج جاری کریں گے،آر او چیف الیکشن کمشنرحتمی نتائج فارم سیون پر جاری کریں گے،صدارتی امیدوار کے کاغذات کی چانچ پڑتال کے دوران تجویز اور تاہید کنندہ کا طلب کیا جا سکتا ہے،ریٹرننگ افسر صدارتی امیدوار کو بھی ضرورت پر طلب کر سکتا ہے

    صدارتی انتخاب کے لئے کوئی ٹریبونل نہیں ، صدارتی انتخاب میں کاغذات کی چانچ پڑتال پر ریٹرننگ افسر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے ،آر او کے فیصلوں کے خلاف امیدوار اعلی عدالتوں سے بھی رجوع کرتے ہیں،صرف ایک امیدوار رہ جانے کی صورت میں آر او ان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا،آر او حتمی نتیجے پر مشتمل فارم 7 وفاقی حکومت کو نوٹیفیکیشن کے لئے جاری کرے گا

    صدارتی انتخاب کی پولنگ دس سے چار بجے تک ہو گی،سپیکر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرتے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ افسر ہوں گے،صوبائی اسمبلیوں میں صوبائی چیف جسٹس پریزائڈنگ افسر ہوں گے،پنجاب ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سات مارچ کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ،پنجاب اسمبلی میں پریزائڈنگ افسر صوبائی الیکشن کمشنر ہوں گے،ووٹرز اپنا اسمبلی کارڈ دکھا کر ووٹ ڈال سکیں گے،صدارتی انتخاب میں ووٹرز کو بیلٹ پیپر پر کراس کا نشان لگانا ہوتا ہے ،صدارتی بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے ناموں کے سامنے خانہ بنا ہوتا ہے،ووٹرز ان مٹ خصوصی پنسل ووٹ کے لئے استعمال کریں گے،بیلٹ پیپر خراب ہونے کی صورت میں دوسرا بیلٹ پیپر جاری ہو گا،ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعےہو گی،بیلٹ پیپر کی پشت پر پریزائڈنگ افسر کے دستخط اور سٹمپ ہو گا،پریزائڈنگ افسر کی سٹمپ کے بغیر بیلٹ پیپر جعلی تصور ہو گا،صدارتی الیکشن کے دوران اسمبلی ہالز میں کیمروں کو بھی آف یا کور کیا جاۓ گا،نتائج کے لئے ہر امیدوار کا الگ لفافہ ہو گا جس میں ان کے ووٹ ہوں گے،صدارتی انتخاب کے لئے پرئزائڈنگ افسر کو بیلٹ پیپرز کا حساب دینا ہوتا ہے،

    صوبائی اسمبلیوں اور مشترکہ پارلیمنٹ کے نتائج کے بعد آر او کا کام شروع ہوگا،سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ووٹرز کاایک ایک ووٹ ہے.پنجاب ،سندھ اور کے پی کے اسمبلی کے لئے فارمولہ ،ڈالے گئے ووٹوں کو بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین سے ضرب دیا جائے گا،ضرب کے بعد اعداد کو اس اسمبلی کے کل ممبران پر تقسیم کیا جائے گا.
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخابات میں مقابلہ آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کے محمود اچکزئی کے مابین ہے، دونوں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

  • الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کر دی،سنی اتحادکونسل فارغ

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کر دی،سنی اتحادکونسل فارغ

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد خالی مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کردی ہے

    الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی سے اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا نوٹی فیکشن جاری کردیا۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کو ایک ایک نشست مل گی۔ نیلم ، جیمز اقبال اور رمیشن کمار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں،قومی اسمبلی میں پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کا نوٹی فیکشن بھی جاری کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی کو دو اور مسلم لیگ ن کو ایک نشست مل گئی۔ ثمینہ خالد گھرکی ، نتاشہ دولتانہ اور تمکین نیازی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئی ہیں

    الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کی خالی مخصوص نشستوں کی تقسیم شروع کردی ہے۔ پیپلز پارٹی کو مزید دو نشستیں مل گئیں، سندھ میں ایم کیو ایم کو ایک اور نشست مل گئی۔پیپلز پارٹی کی سمیتا افضال خواتین کی کی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بن گئیں ، پیپلز پارٹی کے سریندر ولاسائی اقلیت کی نشست پر رکن سندھ اسمبلی بن گئے جبکہ ایم کیو ایم کی فوزیہ حمید بھی سندھ اسمبلی کی رکن بن گئی ہیں ۔ سندھ اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے بعد پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی۔پیپلزپارٹی ارکان اسمبلی کی تعداد 116 ہو گئی ، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی کی تعداد 37 ہو گئی ۔جی ڈی اے کے تین ، پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد 9 اور جماعت اسلامی کا ایک رکن ہے.

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں اقلیتوں کی باقی تین نشستیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور جمعیت علماء اسلام میں تقسیم کردی گئی ہیں ۔مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اور جمیعت علما اسلام کو ایک ایک نشست الاٹ کردی گئی ہے

    انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عمران خان کا اتوار کو احتجاج کا اعلان

    توہین الیکشن کمیشن کیس، علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنےکا حکم

    واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی ،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا

  • انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    عام انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے انتخابی فارمز جاری کردیئے

    الیکشن کمیشن نے فارم 45،46،48 اور 49 جاری کئے ہیں،الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی و قومی اسمبلی کے حلقوں کے فارمز جاری کئے ہیں،الیکشن کمیشن نے حلقہ وائز فارمز ویب سائٹ پرجاری کئے ہیں،الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ وہ 14دن کے اندر تمام فارم 45 ویب سائٹ پر ڈالے گا لیکن الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور فارم 45 عام انتخابات کے ایک ماہ بعد ویب سائٹ پر ڈالے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 124سے زائد ایسی عذرداریاں ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کو فارم 45 کے مطابق رزلٹ دیا جائے ،الیکشن کمیشن نے اپنی مرضی کے مطابق فارم لیٹ ویب سائٹ پر ڈالے.فارم 45 اور 47 کے حوالہ سے پارٹیاں اور امیدوار احتجاج کرتے بھی نظر آئے،

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان