Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • سینیٹ کے 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے

    سینیٹ کے 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے

    سینیٹ کے 52 ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے
    مجموعی طور پر مسلم لیگ ن کی حمایت سے منتخب سینیٹرز کی 13، پیپلز پارٹی کی 12 ، پی ٹی آئی کی 8، جمیعت علماء اسلام ف کی 2، پی کے میپ کی حمایت سے منتخب 2، نیشنل پارٹی کی 2، بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت سے منتخب 6، جماعت اسلامی کی 1, ایم کیو ایم کی 1، مسلم لیگ فنکشنل کی 1 نشستیں خالی ہوں گی ۔

    پی ٹی آئی کے 17،پیپلز پارٹی کی 9، مسلم لیگ ن کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی کی 7، جمیعت علماء اسلام ف کی 3، ایم کیو ایم کے 2،اے این پی کی 2مسلم لیگ ق کے 1، 2 آزاد نشست باقی رہ جائیں گی۔ فاٹا انضمام کے بعد سینیٹ میں بقایہ فاٹا کے4 آزاد سینٹرز کی مدت مکمل ہونے کے بعد سینیٹ سے فاٹا نشستیں ختم ہو جائیں گی۔

    اسلام آباد سے دو سینٹرز اسد جونیجو اور مشاہد حسین سید ریٹائر ہو جائیں گے ۔

    سندھ سے 12 سینٹرز ریٹائر ہوں گے ، ان میں سینٹر رضا ربانی ، امام دین شوقین ، مولو بخش چانڈیو، سید محمد علی شاہ جاموٹ، فروغ نسیم ، مظفر شاہ ، وقار مہدی ، خالدہ سکندر میندرو ، رخسانہ زبیری ، کیشو بائی، قرت العین مری اور انور لعل دین شامل ۔
    پنجاب سے ریٹائر ہونے والے 12 سینٹرز میں قائد ایوان اسحاق ڈار اور قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم کے علاوہ ڈاکٹر آصف کرمانی، رانا محمود الحسن، مصدق ملک، شاہین خالد بٹ، ولید اقبال ، حافظ عبدالکریم ، نذہت صادق ، سیمی ایزدی، کامران مائیکل شامل ہیں۔ رانا مقبول کی نشست انکے انتقال کے باعث خالی ہو گئی تھی۔

    خیبر پختونخوا سے ریٹائر ہونے والے 11 سینٹرز میں بہرمند خان تنگی ، فیصل جاوید ، فدا محمد، پیر صابر شاہ ، طلحہ محمود ، مشتاق احمد، دلاور خان ، اعظم سواتی ، مہر تاج روغانی اور دوبینہ خالد شامل ۔ شوکت ترین کی نشست استعفی کے بعد پہلے ہی خالی ہو چکی ۔

    بلوچستان سے ریٹائر ہونے والے 11سینیٹرز میں چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی ، احمد خان، مولوی فیض محمد ، کہدا بابر ، محمد اکرم ، شفیق ترین، طاہر بزنجو، نصیب اللہ بازئی ، عابدہ عظیم اور ثنا جمالی شامل ہیں۔

    فاٹا سے چار سینیٹرز ہدایت اللہ خان ، ہلال الرحمان ، شمعیم افریدی اور ڈپٹی چئیرمین مرزا محمد آفریدی ریٹائر ہو جائیں گے۔عام انتخابات میں کامیابی کے بعد 6 سینیٹر کی نشستیں خالی ہو گئی ہیں جن پر ضمنی الیکشن 14 مارچ کو ہو گا۔

    الیکشن کمیشن کا سینیٹ کےعام انتخابات 3اپریل کو کرانے کا فیصلہ
    سینیٹ کی48نشستوں پر عام انتخابات 3اپریل کوہوں گے،الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے عام انتخابات کا شیڈول تیار کرلیا،سینیٹ کے انتخابات کیلئے پولنگ3اپریل کو قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی،3 اپریل کو سندھ،پنجاب سے بارہ،بارہ جبکہ اسلام آباد کے دو سینیٹرز کاانتخاب ہوگا ،خیبر پختوانخواہ اور بلوچستان سے گیارہ،گیارہ نئے سینیٹرز منتخب ہوں گے ،

    رپورٹ، محمد اویس ،اسلا م آباد

    سینیٹ اجلاس، گرفتار خواتین کو رہا کرو، پی ٹی آئی کا احتجاج،جے یو آئی کا بھی مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے،سینیٹر مشتاق احمد

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

     سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے بہرامند تنگی نے اپنی قرارداد واپس لے لی

  • اکبر ایس بابر متحرک، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات دوبارہ چیلنج

    اکبر ایس بابر متحرک، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات دوبارہ چیلنج

    اسلام آباد: پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کامعاملہ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیئے گئے،

    دو الگ درخواستیں الیکشن کمیشن میں دائر کی گئیں،محمود خان اور محمد مزمل نے درخواستیں دائرکیں، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشنز کالعدم قرار دئیے جائیں، پی ٹی آئی کا پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روکا جائے،

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    مجھے دانستہ طور پر انٹرا پارٹی الیکشن سے محروم رکھا گیا،اکبر ایس بابر
    تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ آج پھر پی ٹی آئی کے تازہ ترین فراڈ کو ناکام بنانے کے لیئے حاضر ہوئے ہیں،تازہ ترین انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر فراڈ قابل قبول نہیں،مجھے کہا جاتا آپ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں کیوں شرکت نہیں کرتے، مجھے دانستہ طور پر انٹرا پارٹی الیکشن سے محروم رکھا گیا،مجھے دھمیکیاں دی گئیں اور غلیظ الزامات لگائے گئے،آج درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے، میں نے اپنی ذات کے لیئے کوئی مطالبہ نہیں کیا،

    گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • پشاور ہائیکورٹ ،الیکشن  نتائج کی دستاویزات فراہمی کے لیے درخواستوں پر نوٹس جاری

    پشاور ہائیکورٹ ،الیکشن نتائج کی دستاویزات فراہمی کے لیے درخواستوں پر نوٹس جاری

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی الیکشن کے نتائج کی دستاویزات کی فراہمی کے لیے درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا اور آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا

    پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد نے تیمور جھگڑا، کامران بنگش، محمود جان اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ آپ فارم 45 مانگ رہے ہیں؟درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ جی، ہم وہی مانگ رہے ہیں اور نہیں دیا جا رہا، الیکشن کمیشن جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ فارم آر اوز کے پاس ہیں، آر اوز کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو نتائج کی مصدقہ کاپیاں چاہئے؟درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ جی، مصدقہ دستاویز کے بغیر ہم الیکشن ٹریبونل میں نہیں جا سکتے،پشاور ہائیکورٹ نے درخواستوں کی سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی

    اگر میں الیکشن واقعی ہارا ہوں تو کابینہ میں میرا حق ہی نہیں بنتا،تیمور سلیم جھگڑا
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فارم 45 دینے کی درخواست دی مگر اب تک نہیں دیے، میرے حلقے کے فارم 45 الیکشن کمیشن نے اپلوڈ کر کے دوبارہ ڈیلیٹ کیے، جوڈیشل انکوائری کر کے ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی جائے،چیف سیکریٹری اور آئی جی نے کیا کِیا آج تک؟ ہم انتقامی کارروائی نہیں بلکہ انصاف چاہتے ہیں، ہم سب وزیراعلیٰ کو خط لکھیں گے کہ جوڈیشل انکوائری ہو،علی امین گنڈاپور اور بانی پی ٹی آئی صوبائی کابینہ بنائیں گے، اگر میں الیکشن واقعی ہارا ہوں تو کابینہ میں میرا حق ہی نہیں بنتا

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کو بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی۔

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل اور دیگر درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا. فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بروقت ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کروائی گئیں۔الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی سمیت تمام پارلیمانی پارٹیوں کو دینے کا حکم دے دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی،سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی کسی نشست پر الیکشن نہیں لڑا،چئیرمین سنی اتحاد کونسل نے بھی اپنا انتخابی نشان ہونے کے باوجود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا،الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت فیصلہ سنایا،چیف الیکشن کمشنر،ممبر سندھ،پنجاب اور بلوچستان نے نشستیں اکثریتی فیصلے کی حمایت کی،ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔نوٹ میں کہا کہ "معزز ممبران کے ساتھ اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو الاٹ نہیں کی جاسکتیں، یہ مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم تک خالی رکھنی چاہئیں ".

    8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے تھے، بلے کا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے اور جیت کر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،جس کے بعد سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے لئے درخواست دائر کی تھی جس پر باقی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص سیٹوں کے لئے فہرست جمع نہیں کروائی جس کی بنیاد پر انہیں سیٹیں نہیں دی جا سکتیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو بھی اس کیس میں سنا تھا، اور فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ،صدارتی ،سینیٹ انتخاب ملتوی کیے جائیں،علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل سامنے آیا ہے، علی ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ افسوس ناک ہے، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرے گی،الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ مخصوص سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں،الیکشن کمیشن کافیصلہ غیرآئینی ہے،صدارتی انتخاب اورسینیٹ الیکشن میں ہمیں نقصان ہوگا،الیکشن کمیشن نےہمیں مخصوص نشستوں کےحق سےمحروم کیاہےہماری جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے تک صدارتی الیکشن اور سینیٹ کے انتخابات نہیں ہوسکتے،صدارتی اور سینٹ کے الیکشن ملتوی کیے جائیں ،پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اگر صدارتی انتخابات اور سینٹ کے انتخابات ہوئے تو ہم اس کو قبول نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن جانبدار ہے، اپنی ذمہ داریاں آئینی طریقے سے پوری نہیں کی، وہ فوری مستعفی ہو اور ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے، ہم مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ جائیں گے اور وہاں سے فیصلہ آنے تک وزیراعظم، سینیٹ اور صدارتی انتخاب قابل قبول نہیں۔الیکشن کمیشن نے فیصلہ وزیر اعظم کے الیکشن سے پہلے جاری نہیں کیا،پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑسکی، آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا، لوگ کنفیوژ نہیں ہوئے ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ لوگوں کو ووٹ دیا ،آئین کہتا ہے فری اینڈ فیئر الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، آج ہاوس کے سامنے مطالبہ ہے کہ پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو،

    الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ ،چیلنج کریں گے،شعیب شاہین
    تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ درست ہے،
    امید ہے ہائیکورٹ سے ریلیف ملے گا ، سپریم کورٹ جانے کا حق رکھتے ہیں ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے ، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کیخلاف ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے رابطے شروع کردیئے، پی ٹی آئی نے سینئر قیادت کا اجلاس طلب کرلیا، تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب نے اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے بارے گفتگو کی جائے گی،پی ٹی آئی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی،اجلاس میں فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوگی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی تھی،بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

  • سینیٹ کی خالی سیٹوں پر انتخابات کیلئے شیڈول جاری

    سینیٹ کی خالی سیٹوں پر انتخابات کیلئے شیڈول جاری

    عام انتخابات کے بعد سینیٹ کی خالی نشستوں پر انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا

    الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کی 6 خالی نشستوں پر الیکشن 14 مارچ کو ہوگا، سینیٹ کی نشستوں کیلئے کاغذاتِ نامزدگی 2 سے 3 مارچ تک جمع کرائے جاسکیں گے،امیدواروں کی فہرست 3 مارچ کو آویزاں کی جائے گی اور کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 5 مارچ کو ہوگی، کاغذاتِ نامزدگی پر اپیلیں 7 مارچ تک جمع کرائی جاسکیں گی اور ٹربیونلز 9 مارچ تک اپیلیں نمٹائیں گے جبکہ کاغذاتِ نامزدگی 10 مارچ تک واپس لیے جاسکتے ہیں، سینیٹ نشستوں کیلئے پولنگ قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں ہوگی۔ قومی اسمبلی کے ممبران اسلام آباد سے ایک نشست پر ممبر کو منتخب کریں گے،

    واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی، مولانا عبدالغفور حیدری، نثار کھوڑو، جام مہتاب، پرنس احمد عمر اور سرفراز بگٹی کی نشستیں خالی ہوئی ہیں،سب نے استعفے دیئے تھے،

    گزشتہ روز سینیٹ کی 10 نشستیں خالی ہونے کا معاملہ ، پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا تھا،پیپلز پارٹی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو خط میں کہا گیا ہے کہ آٹھ سینیٹرز قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حالیہ انتخابات میں کامیاب ہوئے، اسمبلیوں کے انتخابات جیتنے والوں میں یوسف رضا گیلانی، عبدالغفور حیدری، نثار کھوڑو شامل ہیں،جام مہتاب،سرفراز بگٹی،صادق سنجرانی،پرنس عمر،نزہت صادق بھی شامل ہیں،نگران وزیراعظم بھی سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوچکے ہیں،پاکستان مسلم لیگ ن کے مرحوم سینیٹر رانامقبول کی نشست بھی تاحال خالی ہے،دس خالی نشستوں پر فوری الیکشن کرایا جائے

    آئی ایم ایف کو خط ،بحث کے لیے تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع

    سینیٹ کی دس خالی نشستوں پر الیکشن کروایا جائے،پیپلز پارٹی کا خط

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    دوسری نشست سنبھالتے ہی پہلی نشست خالی ہوجاتی ہے ،الیکشن کمیشن
    پیپلزپارٹی کے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کے خط کا جواب دے دیا،الیکشن کمیشن نے سینیٹر تاج حیدر کے نام خط کا جواب دیا جس میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 223 کے مطابق اگر کسی ایوان کا ممبر دوسری نشست سے کامیاب ہو تو پہلی سیٹ نہیں رکھ سکتا،دوسری نشست سنبھالتے ہی پہلی نشست خالی ہوجاتی ہے ،

  • الیکشن کمیشن کی طرف سے پیپلزپارٹی کے خط پر جواب کے بعد نئی قانونی پیچیدگیاں

    الیکشن کمیشن کی طرف سے پیپلزپارٹی کے خط پر جواب نے نئی قانونی پیچیدگیاں پیدا کردیں،کمیشن کے خط کے مطابق جنرل الیکشن میں حصہ لے کر کامیاب ہونے والے تمام سینیٹرز اب سینیٹ کا حصہ نہیں ہیں،پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن کو 11خالی نشستوں پر جلد ازجلد الیکشن کرانے کا جوابی خط لکھ دیا،الیکشن کمیشن کے خط کے باوجود چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کام جاری رکھا ہوا ہے۔

    16 فروری کو ہی چیرمین سینیٹ کے صوبائی اسمبلی کے نشست پر کامیابی کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی بتادیا تھا کہ قانون کے مطابق چیئرمین سینیٹ آخری سیشن کی صدارت نہیں کرسکیں گے ۔الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے 16فروری کے بعد دیئے گئے تمام احکام غیرقانونی ہوگئے۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے 25فروری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھا اور اس میں جنرل الیکشن میں کامیاب ہونے والے سینیٹرز کے بارے میں قانونی رائے طلب کی جس پر الیکشن کمیشن نے 27فروری کو جوابی خط لکھا کہ آئین کے شق 223کی ذیلی4 کی ذیلی شق 1اور 2 کے تحت ایک ایوان کا ممبر اگر دوسرے ایوان کے لیے الیکشن لڑتا ہے اور جیت جاتا ہے تو اس کی کامیابی کے ساتھ ہی پہلے ایوان کی سیٹ خالی ہوجائے گی ۔

    جوابی خط کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی نے 29فروری کو ایک اور خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ سینیٹ کی 11نشستیں خالی ہیں ایوان نامکمل ہے اس لیے جلد ازجلد الیکشن کا شیڈول دیا جائے اور ان خالی نشستوں کو مکمل کیا جائے ۔ان خالی نشستوں کے حوالے سے 8 نشستیں جنرل الیکشن میں سینیٹرز کی کامیابی کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں ان میں سینیٹر یوسف رضاگیلانی،سینیٹر جام مہتاب،سینیٹر نثار کھوڑو،سینیٹر عبدالغفور حیدری سینیٹر سرفراز بگٹی ،سینیٹر نزہت صادق، سینیٹر صادق سنجرانی،سینیٹر پر نس عمر شامل ہیں جبکہ تین نشستیں میں سے ایک رانا مقبول کی وفات اور دو نشستیں سینیٹر شوکت ترین اور ایک انورالحق کاکڑ کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے واضح خط کے باوجود چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی سرکاری کام جاری رکھے ہوئے ہیں الیکشن کمیشن کے خط کے بعد 16فروری کے بعد چیئرمین سینیٹ کے تمام احکامات اور سینیٹ کی صدارت سمیت دیگر احکامات غیرقانونی ہوگئے ہیں اس ادارے نے 16فروری کو ہی چیئرمین سینیٹ کے صوبائی اسمبلی کے نشست پر کامیابی کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی خبر دی تھی کہ قانونی طور پر چیئرمین سینیٹ آخری سیشن کی صدارت نہیں کرسکتے ہیں ۔(محمداویس)

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

  • صدارتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا

    صدارتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • سینیٹ کی دس خالی نشستوں پر الیکشن کروایا جائے،پیپلز پارٹی کا خط

    سینیٹ کی دس خالی نشستوں پر الیکشن کروایا جائے،پیپلز پارٹی کا خط

    سینیٹ کی 10 نشستیں خالی ہونے کا معاملہ ، پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا ،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو خط میں کہا گیا ہے کہ آٹھ سینیٹرز قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حالیہ انتخابات میں کامیاب ہوئے، اسمبلیوں کے انتخابات جیتنے والوں میں یوسف رضا گیلانی، عبدالغفور حیدری، نثار کھوڑو شامل ہیں،جام مہتاب،سرفراز بگٹی،صادق سنجرانی،پرنس عمر،نزہت صادق بھی شامل ہیں،نگران وزیراعظم بھی سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوچکے ہیں،پاکستان مسلم لیگ ن کے مرحوم سینیٹر رانامقبول کی نشست بھی تاحال خالی ہے،دس خالی نشستوں پر فوری الیکشن کرایا جائے

    واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا،یوسف رضا گیلانی، نزہت صادق، مولانا عبدالغفور حیدری نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دیا اور قومی اسمبلی کا حلف لے لیا،سرفراز بگٹی نے بھی دو روز قبل سینیٹ کی سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا،

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    دوسری نشست سنبھالتے ہی پہلی نشست خالی ہوجاتی ہے ،الیکشن کمیشن
    پیپلزپارٹی کے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کے خط کا جواب دے دیا،الیکشن کمیشن نے سینیٹر تاج حیدر کے نام خط کا جواب دیا جس میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 223 کے مطابق اگر کسی ایوان کا ممبر دوسری نشست سے کامیاب ہو تو پہلی سیٹ نہیں رکھ سکتا،دوسری نشست سنبھالتے ہی پہلی نشست خالی ہوجاتی ہے ،

  • صدارتی انتخابات،پنجاب میں چیف جسٹس کی بجائے ممبر الیکشن کمیشن پریزائڈنگ افسر تعینات

    اسلام آباد ( محمد اویس)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پریزائیڈنگ افسران کا نوٹیفکیشن جاری کیا ۔

    قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔

    دوسری جانب ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن یکم مارچ 2024ء کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا۔ آئین کے تحت کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائیگا۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔ خواہش مند امیدواران کا غذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا اور بلوچستان سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور راہنمائی کیلئے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے ٹیلی فون نمبر 9219335-051 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

  • الیکشن کمیشن میں بڑے پیمانے پرتقرر وتبادلے

    الیکشن کمیشن میں بڑے پیمانے پرتقرر وتبادلے

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں بڑے پیمانے پرتقرر وتبادلے کئے گئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کے مطابق گریڈ 21 کے افسر ڈی جی الیکشن سیل اور سربراہ الیکشن ونگ سعید گل ڈی جی ٹریننگ،ریجنل الیکشن کمشنر ملتان ندیم قاسم ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ٹریننگ ای سی پی سیکریٹریٹ،ریجنل الیکشن کمشنر بہاولپور محمد شاہد کو ریجنل الیکشن کمشنر ملتان تعینات کیا گیا ہے۔

    اسی طرح ریجنل الیکشن کمشنر سرگودھا عامر اشفاق قریشی ریجنل الیکشن کمشنر بہاولپور،ریجنل الیکشن کمشنر گوجرانوالہ زاہد سبحانی ڈائریکٹر صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب ،ابرار جتوئی کو ریجنل الیکشن کمشنر سرگودھا تعینات کردیا گیا،جبکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر راجن پور شاہد اسلام ریجنل الیکشن کمشنر گوجرنوالہ،محمد سعید کو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر تلا گنگ تعینات کر دیا گیا،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سوار فریدہ کو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر تورغر تعینات کیا گیا ہے۔

    انیسویں صدی کا امریکی افسانہ نگار، نقاد اورعظیم ناول نگار ہنری جیمز

    الیکشن کمشنر اپر دیر جہانزیب خان ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سوات تعینات،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ گلزار اختر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر لودھراں تعینات،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ژوب محمد سلیم کو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر موسیٰ خیل تعینات کیا گیا ہے۔

    جبکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اٹک نور الخطاب ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر چارسدہ،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر تورغر بختیار الملک ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اپر دیر۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر چارسدہ سفیہ اکبر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر راولپنڈی،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر لودھراں عدنان ظفرکو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ملتان تعینات کیا گیا ہے۔

    شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد میں عشائیہ،بلاول اور زرداری کی شرکت

    اسی طرح الیکشن کمشنر موسیٰ خیل صفدر نصیر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ژوب،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کیماڑی سیدہ حمیرا ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ٹھٹھہ ،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ٹھٹھہ عمران ارائیں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کیماڑی تعینات کیا گیا ہے ،الیکشن افسر اسلام آباد ھما ظفر کو الیکشن افسر پاکپتن تعینات کیا گیا ہے،سعید گل ایڈیشنل ڈی جی لوکل گورنمنٹ کا اضافی چارج سنبھالیں گے۔

    ندیم حیدر ایڈیشبل ڈی جی الیکشن ون کی ذمہ داری بھی سنبھالیں گے،شاہد اسلم کو ریجنل الیکشن کمشنر گجرات کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا،محمد اقبال ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر راجن پور ، سجاد حسین ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ،محمد قیوم ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بہاولنگر،محمد عرفان ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر چترال کا اضافی چارج بھی سنبھالیں گے۔

    پی ٹی آئی کاآئی ایم ایف کو خط غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے،انوارالحق