Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • صدارتی انتخاب کیلئے پریذائیڈنگ افسران مقرر

    صدارتی انتخاب کیلئے پریذائیڈنگ افسران مقرر

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کیلئے پریذائیڈنگ افسران مقرر کردئیے۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کے مطابق پریزائیڈنگ افسران صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی وصول کریں گے،نوٹیفکیشن کے مطابق پریزائیڈنگ آفیسرز صدارتی الیکشن کیلئے متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ کے عمل کی نگرانی کریں گے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں صدارتی الیکشن کیلئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پریذائیڈنگ افسر مقرر کیے گئے۔

    پنجاب اسمبلی کیلئے الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی پریزائیڈنگ افسر ہوں گے سندھ اسمبلی کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ پریذائیڈنگ افسر کی خدمات انجام دیں گے،جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کیلئے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ پریزائیڈنگ افسر مقرر کردئیے گئےبلوچستان اسمبلی کیلئے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ پریذائیڈنگ افسر ہوں گے۔

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب …

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر مملکت کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی گئی، کمیٹی میں خورشید شاہ، ایاز صادق، نوید قمر اور رانا تنویر حسین شامل ہیں،کمیٹی بدھ کی رات مسلم لیگ ق، آئی پی پی اور جے یو آئی ف کے قائدین سے ملاقات کرے گی، کمیٹی اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ مانگے گی، کمیٹی دوسری جماعتوں سے ووٹ کے لیے جمعرات کو اراکین کے حلف برداری کے بعد رابطہ کرے گی۔

    برطانوی شاہی خاندان کے اہم فرد انتقال کر گئے

  • الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،حامد رضا

    الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،حامد رضا

    سنی اتحاد کے چئیرمین حامد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط حقائق کے بر عکس ہے،

    حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنرل الیکشن کروائے جانے پر الیکشن کمیشن پارٹیوں کو خط لکھتا ہے کہ پانچ فیصد کوٹا خواتین کو دیا جاتا ہے، سنی اتحاد نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا،اس کو آرٹیکل 206 کی بنیاد پر پڑھا گیا ہے، چونکہ ہم نے جنرل الیکشن میں حصہ نہیں لیا، ہم نے یہ کسی جگہ پر نہیں کہا کہ ہمیں مخصوص نشتیں نہیں چاہئیے، ہمارے پاس خط موجود ہے،وہ خط صرف ہمیں نہیں لکھا گیا تمام جماعتوں کو لکھا گیا ہے، میرا بیان حلفی وہاں پر موجود ہے کہ اگر ہم الیکشن لڑیں گے تو مخصوص نشتیں لیں گے، چیف الیکشن کمشنر کی مرضی ہے وہ جو مرضی سمجھ لیں،

    واضح رہے کہ مخصوص سیٹوں کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو دے دیا،سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے 26 جنوری کو الیکشن کو خط لکھا سربراہ سنی اتحاد کونسل نے خط میں لکھا ہمیں مخصوص نشستیں نہیں چاہیے،بیرسٹر علی ظفر نے خط سے لاعلمی کا اظہار کیا.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • این اے 15 مانسہرہ،الیکشن کمیشن نے نوا ز شریف کو دیا جھٹکا،درخواست مسترد

    این اے 15 مانسہرہ،الیکشن کمیشن نے نوا ز شریف کو دیا جھٹکا،درخواست مسترد

    الیکشن کمیشن نے این اے 15 مانسہرہ سے انتخابی عذرداری کیس میں نواز شریف کی درخواست خارج کردی۔

    الیکشن کمیشن نے این اے 15 مانسہرہ پر ری الیکشن سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی درخواست خارج کر دی ، الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی،الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کو تین دن میں حلقے کا حتمی نتیجہ مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔

    گزشتہ روز وکلاء کے دلائل مکمل ہونے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، کیپٹن ر صفدر اور نوازشریف کے وکیل جہانگیر جدون کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے ، دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے 15 فروری کو آر او رپورٹ مانگی، 650 صفحات کی آر او رپورٹ دی گئی ، ہمار اکیس اب آر او کی رپورٹ کے رکارڈ پر ہوگا، درخواست گزار کو 82 ہزار سے زائد ووٹ ملے ، مخالف امیدوار کو ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد ووٹ پڑے، مسترد ووٹ 9 ہزار 82 تھے ، این اے 15 میں ٹوٹل 550 پولنگ سٹیشن تھے ، ہمیں 123 پولنگ سٹیشنز کا لا ڈھاکہ کے تھے ، ان کے فارم 45 نہیں ملے ، الیکشن کے دن موبائل انٹرنیٹ کنیکٹوٹی نہیں تھی، پریزائیڈنگ افسر نے ذاتی طور پر آراو کو رزلٹ دینا تھا، کچھ بیلٹ بیگز کی سیل مکمل اور کچھ کی جزوی ٹوٹی تھی، فارم 51 نہیں ملا، ہم نے دیکھنا تھا کہ کون سی سیل ٹوٹی ،یہ ڈسکہ سے زیادہ حساس کیس ہے ، ٹیمپرنگ کی گئی ، اے آر او پر ایف آئی آر کٹی کہ سامان چھوڑ کر کہا ں چلے گئے ،ایف آئی آر میں ہے کہ اے آر او بتائے بغیر ہسپتال سے غائب ہو گئے ۔

    این اے 15 دوبارہ الیکشن کروایا جائے، نواز شریف کے وکیل کا کمیشن سے مطالبہ
    ممبر کمیشن نے پوچھا کہ فارم 51 آپ کو کیوں فراہم کیا جائے ؟آپ نے سیل ٹوٹے بیگز دیکھنے ہیں تو ٹربیونل میں جائیں، آپ کے پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 ملے ؟پریزائیڈنگ افسر کیوں آپ کو فارم 45 نہیں دے رہے تھے، سارے ملے ہوئے تھے ؟ جہانگیر جدون نے کہا کہ بیلٹ بیگز کی ٹیمپرنگ ہوئی، فارم 45 کی ٹیمپرنگ کی گئی، این اے 15 کا الیکشن نہ آئین ، نہ الیکشن ایکٹ نہ الیکشن رول کے مطابق ہے ، ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ پورے ملک کے الیکشن کے بارے میں تو نہیں کہہ رہے ناں ؟جہانگیر جدون نے کہا کہ ریکارڈ ٹیمپر ہونے کے باعث ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، اس حلقے میں ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، پورا حلقہ مثاتر ہواہے،ممبرکمیشن نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن ہو، جہانگیر جدون نے کہا کہ اب گنتی کی گنجائش نہیں، پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروایا جائے ، یہاں برف تھی، کنیکٹوٹی نہیں تھی، حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دیا جائے .

    واضح رہے کہ این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گستاسب کامیاب ہوئے تھے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی این اے15انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی تھی تا ہم نواز شریف کے وکیل دوبارہ پیش ہوئے اور عذر داری بحال کرنے کی درخواست دی تھی،الیکشن کمیشن نے درخواست منظور کر لی تھی، الیکشن کمیشن نے آر او کا بھی تبادلہ کر دیا تھا،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ پر اپنی شکست تسلیم کریں این اے 15 مانسہرہ میں کہیں سےدھاندلی کی شکایت نہیں ملی، وہ خود بھی امیدوار تھے اور سارے حلقے میں ان کے ایجنٹ موجود تھے این اے 15سے وہ خود اور نواز شریف ہارگئے ہیں نواز شریف جس بنیاد پر عدالت جا رہے ہیں وہ بہت کمزور ہے-

    مانسہرہ این اے 15 انتخابی نتائج،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی نتائج چیلنج کیئے تھے،نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے انتخابی نتائج چیلنج کیے،درخواست میں کہا گیا کہ 125 پولنگ اسٹیشن کے نتائج مکمل نہیں ہوئے،آار او نے بقیہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے بغیر ہی فارم 47 جاری کر دیا،نواز شریف نامکمل فارم 47 پر ہارے ، انھیں فارم 47 پر تحفظات ہیں،مانسہرہ این اے 15 کے نتائج روکے جائیں،بقیہ پولنگ اسٹیشن کو حتمی نتیجے میں شامل کیے جائیں ،تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے

    این اے 15 مانسہرہ، نواز شریف کو شکست، آزاد امیدوار جیت گیا
    این اے 15 مانسہرہ ، نواز شریف ہار گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار شہزاد محمد گستاسپ خان نے ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انچاس ووٹ حاصل کئے،نواز شریف نے اس حلقے سے80 ہزار 382 ووٹ حاصل کئے ہیں، نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسہ بھی کیا تھا ،کیپٹن ر صفدر بھی مانسہرہ میں نواز شریف کی بھر پور مہم چلاتے رہے، اس حلقے سے اعظم سواتی دستبردار ہو گئے تھے

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،

    بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،
    اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں گی یا نہیں، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹی گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،علی ظفر
    الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، دونوں طرف سے بحث ختم ہو چکی ہے، آئین پاکستان واضح کہتا ہے جیتنے والی سیٹوں کی تعداد کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائیں،ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں لیکن موقع ملے تو دوسرے کا حق غبن کرتی ہیں،آج مخالف جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ ہم اپنا مخصوص حصہ لے چکے ہیں،قانون میں کہاں قدغن ہے کہ دوبارہ فہرست نہیں دی جا سکتی،اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹیں گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں کوئی حیرات نہیں ہمارا آئینی حق ہے، ہم نے کہا یہ الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑ سکتا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 29 فروری کو صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی، یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 (4) کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 ایام کے اندر کروانا لازم ہے۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 91 اور 130 کے تحت تمام اسمبلیوں کی پہلی نشست انتخابات کے بعد 21 ایام کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔ 29 فروری 2024 کو تمام اسمبلیاں وجود میں آجائیں گی اور اس طرح سے صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی۔ الیکشن کمیشن یکم مارچ 2024ء کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا۔ آئین کے تحت کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائیگا۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔ لہذا تمام خواہش مند امیدواران آج سے ہی کا غذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا اور بلوچستان سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور راہنمائی کیلئے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے ٹیلی فون نمبر 051-9219335 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • این اے 15مانسہرہ،نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    این اے 15مانسہرہ،نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی این اے 15 سے متعلق درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    الیکشن کمیشن میں نواز شریف کی درخواست پر سماعت ہوئی،وکلاء کے دلائل مکمل ہونے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا، کیپٹن ر صفدر اور نوازشریف کے وکیل جہانگیر جدون کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ، دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے 15 فروری کو آر او رپورٹ مانگی، 650 صفحات کی آر او رپورٹ دی گئی ، ہمار اکیس اب آر او کی رپورٹ کے رکارڈ پر ہوگا، درخواست گزار کو 82 ہزار سے زائد ووٹ ملے ، مخالف امیدوار کو ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد ووٹ پڑے، مسترد ووٹ 9 ہزار 82 تھے ، این اے 15 میں ٹوٹل 550 پولنگ سٹیشن تھے ، ہمیں 123 پولنگ سٹیشنز کا لا ڈھاکہ کے تھے ، ان کے فارم 45 نہیں ملے ، الیکشن کے دن موبائل انٹرنیٹ کنیکٹوٹی نہیں تھی، پریزائیڈنگ افسر نے ذاتی طور پر آراو کو رزلٹ دینا تھا، کچھ بیلٹ بیگز کی سیل مکمل اور کچھ کی جزوی ٹوٹی تھی، فارم 51 نہیں ملا، ہم نے دیکھنا تھا کہ کون سی سیل ٹوٹی ،یہ ڈسکہ سے زیادہ حساس کیس ہے ، ٹیمپرنگ کی گئی ، اے آر او پر ایف آئی آر کٹی کہ سامان چھوڑ کر کہا ں چلے گئے ،ایف آئی آر میں ہے کہ اے آر او بتائے بغیر ہسپتال سے غائب ہو گئے ۔

    این اے 15 دوبارہ الیکشن کروایا جائے، نواز شریف کے وکیل کا کمیشن سے مطالبہ
    ممبر کمیشن نے پوچھا کہ فارم 51 آپ کو کیوں فراہم کیا جائے ؟آپ نے سیل ٹوٹے بیگز دیکھنے ہیں تو ٹربیونل میں جائیں، آپ کے پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 ملے ؟پریزائیڈنگ افسر کیوں آپ کو فارم 45 نہیں دے رہے تھے، سارے ملے ہوئے تھے ؟ جہانگیر جدون نے کہا کہ بیلٹ بیگز کی ٹیمپرنگ ہوئی، فارم 45 کی ٹیمپرنگ کی گئی، این اے 15 کا الیکشن نہ آئین ، نہ الیکشن ایکٹ نہ الیکشن رول کے مطابق ہے ، ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ پورے ملک کے الیکشن کے بارے میں تو نہیں کہہ رہے ناں ؟جہانگیر جدون نے کہا کہ ریکارڈ ٹیمپر ہونے کے باعث ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، اس حلقے میں ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، پورا حلقہ مثاتر ہواہے،ممبرکمیشن نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن ہو، جہانگیر جدون نے کہا کہ اب گنتی کی گنجائش نہیں، پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروایا جائے ، یہاں برف تھی، کنیکٹوٹی نہیں تھی، حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دیا جائے .

    واضح رہے کہ این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گستاسب کامیاب ہوئے تھے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی این اے15انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی تھی تا ہم نواز شریف کے وکیل دوبارہ پیش ہوئے اور عذر داری بحال کرنے کی درخواست دی تھی،الیکشن کمیشن نے درخواست منظور کر لی تھی، الیکشن کمیشن نے آر او کا بھی تبادلہ کر دیا تھا،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ پر اپنی شکست تسلیم کریں این اے 15 مانسہرہ میں کہیں سےدھاندلی کی شکایت نہیں ملی، وہ خود بھی امیدوار تھے اور سارے حلقے میں ان کے ایجنٹ موجود تھے این اے 15سے وہ خود اور نواز شریف ہارگئے ہیں نواز شریف جس بنیاد پر عدالت جا رہے ہیں وہ بہت کمزور ہے-

    مانسہرہ این اے 15 انتخابی نتائج،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی نتائج چیلنج کیئے تھے،نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے انتخابی نتائج چیلنج کیے،درخواست میں کہا گیا کہ 125 پولنگ اسٹیشن کے نتائج مکمل نہیں ہوئے،آار او نے بقیہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے بغیر ہی فارم 47 جاری کر دیا،نواز شریف نامکمل فارم 47 پر ہارے ، انھیں فارم 47 پر تحفظات ہیں،مانسہرہ این اے 15 کے نتائج روکے جائیں،بقیہ پولنگ اسٹیشن کو حتمی نتیجے میں شامل کیے جائیں ،تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے

    این اے 15 مانسہرہ، نواز شریف کو شکست، آزاد امیدوار جیت گیا
    این اے 15 مانسہرہ ، نواز شریف ہار گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار شہزاد محمد گستاسپ خان نے ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انچاس ووٹ حاصل کئے،نواز شریف نے اس حلقے سے80 ہزار 382 ووٹ حاصل کئے ہیں، نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسہ بھی کیا تھا ،کیپٹن ر صفدر بھی مانسہرہ میں نواز شریف کی بھر پور مہم چلاتے رہے، اس حلقے سے اعظم سواتی دستبردار ہو گئے تھے

  • مخصوص نشستیں،سنی اتحاد کونسل کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر

    مخصوص نشستیں،سنی اتحاد کونسل کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے آج کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نےسنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں میں تمام جماعتوں کونوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے، الیکشن کمیشن نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس دیا جائے،پیپلزپارٹی کی فریق بننے کی درخواست منظور کر لی گئی،الیکشن کمیشن نےتمام درخواستوں کو یکجا کردیا، الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا،الیکشن کمیشن کل دوبارہ سماعت کریگا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ مخصوص نشستوں کے معاملہ پر آئین قانون و رولز پر تشریح درکار ہے،

    سنی اتحاد کونسل کی جانب مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کو نوٹس جاری کر دیئے ،سنی اتحاد کونسل کی درخواست کل الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی،ایم کیو ایم، مسلم لیگ نون، اور پاکستان پیپلز پارٹی کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقررکر دی گئیں،جمعیت علمائے اسلام پاکستان، جی ڈی اے، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،الیکشن کمیشن کا فل بینچ کل درخواستوں پر سماعت کرے گا،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کل تک ملتوی
    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں سنی اتحاد کو نسل کو مخصوص نشستیں دینے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ میں ان کو نہیں جانتا کہ ان کو تکلیف کیا ہے یہ پہلے بتائیں ۔اعظم نزیر تارڑ نے کہاکہ سیاسی جماعتیں بھی اس کیس میں آجائیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ہم اپنی جماعت کی طرف سے آئے ہیں ذاتی حیثیت میں نہیں آیا ۔فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ کیا سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتیں لینے کے قابل ہے کہ نہیں۔ علی ظفر نے کہا کہ پہلے ان کو مخصوص نشتیں لینےکا دعویٰ کرنا ہوگا اس کے بعد ہی یہ پارٹی بن سکتے ہیں، اعظم نذیر تارڑ پارٹی نہیں ہے ان کی پٹیشن قبول نہیں ہوئی ہے مخصوص نشستیں جو لے نہیں سکتے وہ کیس نہیں کرسکتے ۔ پہلے یہ دعوی کریں کہ یہ مخصوص نشستیں ہماری ہیں ۔کوئی دوسرے کا حق نہیں لے سکتا ہے ۔ اگر کل کوئی کہا کہ میں صدر بنانا چاہتا ہوں اور کمیشن میں آجائے کہ مجھے صدر بناؤ کیا بن جائے گا ۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج ہمارا کیس نہیں لگا ہے۔ اعظم نزیر نے کہاکہ ایسی جماعت لےکر آئیں گے جو ایک جماعت جیت کر نہیں آئی ہے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری درخواست میں 86 ایم این ایز ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں لینے کے قابل ہے کہ نہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس کیس میں سب پارلیمانی جماعتوں کو کمیشن بلائے ۔کیس کو کل تک ملتوی کردیا گیا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    پنجاب اسمبلی کا سیشن غیر قانونی تھا،ہمیں مخصوص سیٹیں دی جائیں، بیرسٹر گوہر
    الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشست دینے کا کیس لگا تھا چھ کیس لگے تھے ان میں چھ لوگوں نے چیلنج کیا ہے مگر سنی اتحاد کونسل کا کیس نہیں لگا ہوا تھا ۔جنرل الیکشن میں سازش کرکے ہمیں الگ کیا گیا ہم سے بلا لیا گیا ۔ہمارے امیدواروں کو بلا نہیں دیا انہوں نے آزاد لڑ کر دوتہائی اکثریت حاصل کی ہے پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے حمایت امیدوار 86 ہیں انہون نے سنی اتحاد کو جوائن کیا ہے ،ہم نے درخواست کی کہ ہمیں مخصوص نشستیں دی جائیں ۔3دن کے اندر ہمارے امیدوارسنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے ۔الیکشن کمیشن عوام کی امنگوں کا خیال رکھے گا ان سیٹوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق ہے ،الیکشن کمیشن سے التجا ہے کہ مخصوص نشستوں کے مکمل کئے بغیر سیشن نہ ہو۔اگر ہوگا تو غیر قانونی ہوگا۔
    پنجاب اسمبلی کا سیشن غیر قانونی تھا .

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا نے کہاکہ ہم تحریک انصاف کے اتحادی ہیں ہماری درخواست نہیں لگائی گئی مگر ہمارے مخالف درخواستوں کولگا یا گیا یہ بنارسی ٹھگ ہیں ۔ان میں کچھ شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے وہ ان میں نہیں ہے ۔ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ،ہم تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں.

    ویمن اور مینارٹیز کی سیٹ کے پی کے میں پی ٹی آئی کا حق ہے، علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بڑا افسوس ہوا کچھ دن سے میڈیا پر باتیں ہورہی ہیں، آئین میں لکھا ہے مخصوص نشستیں قوانین کے مطابق ملیں گی،ویمن اور مینارٹیز کی سیٹ کے پی کے میں پی ٹی آئی کا حق ہے، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کا دعوی کررہی ہیں، ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں جماعتوں جمہوریت کے منافی اقدام کررہے ہیں، اگر ایسا کیا گیا تو یہ آئین اور قانون کے خلاف ہوگا،

    سنی اتحاد کونسل پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں موجود ہی نہیں،عطا تارڑ
    الیکشن کمیشن کے باہرمسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشتوں پر پارلیمان میں موجود جماعتوں کا حق بنتا ہے،سنی اتحاد کونسل پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں موجود ہی نہیں ، سربراہ سنی اتحاد کونسل حامد رضا نے خود آزاد حثیت میں الیکشن میں حصہ لیا ، آپ نے کوئی کاغذات جمع نہیں کرائے ، یہ تو ایسا ہے کہ کوئی جرم ہوا ہی نہیں اور ایف آئی آر ہو ، یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے امید ہے انصاف ہو گا،

    مخصوص سیٹیں،فیصلہ کسی کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں ہو گا ،اعظم نذیر تارڑ
    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ رولز میں واضح ہے کہ جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں انھیں نشستیں دی جائیں ،جنہوں نے الیکشن کے دوران کاغذات جمع کرائے اور ان کی پارلیمان میں موجودگی ہو ان کا حق ہے ، یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ کس کو کتنی سیٹیں ملیں گی ،جو بھی فیصلہ ہو گا قانون کے مطابق ہو گا ،ہم نے کل الیکشن کمیشن کے سامنے دلائل رکھنے ہیں ، فیصلہ کسی کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں ہو گا ، پی ایم ایل این کے 9 اراکین پنجاب اور قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ،وہ نشستیں چھوڑ کر قومی اسمبلی میں آئیں گے،

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی درخواست کو کل سماعت کیلئے مقرر کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کی درخواست پر اوپن سماعت کرنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن کا پانچ رکنی بینچ کل سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت کرے گا،الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کر دی، جس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کرے گا۔

    الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہیں، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔

    سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کا وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ماننے سے …

    ایف بی آر کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے،سینیٹر مشتاق خان

    146 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

  • کھلے عام قانون سے کھلواڑ،انتخابات کو 18 دن بیت گئے،فارم 45 ویب سائٹ پر نہ آ سکے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کھلے عام قانون کی خلاف ورزیاں شروع کردیں جنرل الیکشن 2024کے 18 دن بعد بھی فارم 45 ویب سائٹ پر نہیں ڈالے،الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ وہ 14دن کے اندر تمام فارم 45 ویب سائٹ پر ڈالے گا ۔ترجمان الیکشن کمیشن نے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود موقف نہیں دیا ۔

    جنرل الیکشن 2024کو انققاد ہوئے18 دن گزر گئے ہیں مگر اس کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان تمام صوبائی و قومی اسمبلیوں کے حلقوں کے فارم 45 جو پریزائڈنگ آفیسرز نے جاری کئے ہیں ان کو ویب سائٹ پر نہیں ڈالا گیا ہے 8 فروری کو الیکشن ہوئے ہیں قانون کے مطابق 14 دن کے اندر فارم 45کو ویب سائٹ پر شائع کرنے کا پابند ہے ۔الیکشن ایکٹ کی شق 95 کی ذیلی شق 10 اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو پابند بناتی ہے کہ وہ الیکشن پول ڈے کے 14دن کے اندر تمام فارم 45 اپنی ویب سائٹ پر شائع کرئے گا ۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 124سے زائد ایسی عذرداریاں ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کو فارم 45 کے مطابق رزلٹ دیا جائے ۔اس حوالے سے ترجمان الیکشن کمیشن سے باربار رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا کہ کیوں ابھی تک فارم 45 ویب سائٹ پر شائع نہیں کئے گئے ہیں۔
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • این اے 15مانسہرہ،نواز شریف کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت

    این اے 15مانسہرہ،نواز شریف کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت

    اسلام آباد: نواز شریف کی این اے 15 مانسہرہ کی انتخابی عذرداری پر سماعت ہوئی

    نواز شریف کے وکیل بیرسٹر جہانگیر جدون الیکشن کمیشن پیش ہوئے،گستاسب خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان پیش ہوئے، جہانگیر جدون نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کی رپورٹ تاحال ہمیں نہیں دی گئی، ریٹرننگ افسر کی رپورٹ پڑھے بغیر دلائل نہیں دے سکتے، بابر اعوان نے کہا کہ آر او کی رپورٹ سب کو مل گئی، گشتاسب خان 25 ہزار کی لیڈ سے جیتے، قانون کے مطابق 25 ہزار کا فرق ہو تو دوبارہ گنتی نہیں کی جاسکتی، الیکشن کمیشن کے حکم کی وجہ سے گشتاسب خان کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا ہوا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم اسٹے ختم کردیتے ہیں، دلائل کیلئے مزید وقت دے دیتے ہیں، صرف دلائل کیلئے اسٹے کو مزید نہیں بڑھا سکتے، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے اسٹے کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیے،

    چیف الیکشن کمشنر نے جہانگیر جدون کو آج ہی دلائل دینے کی ہدایت کر دی،کیس کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دی گئی

    فارم 47 مرتب کرتے وقت نواز شریف کی جانب سے کوئی آر او آفس نہیں گیا،بابر اعوان
    این اے 15 نواز شریف کی عذرداری پر دوبارہ سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو دستاویزات دینے کا حکم دیدیا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آج اسٹے ختم کرنے کی درخواست پر عبوری آرڈر جاری کریں گے، اسٹے کو غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا، اس کیس میں بار بار التواء کیا جارہا ہے،کیس جتنا مرضی طویل کریں، ہم اسٹے پر فیصلہ کردیتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے جہانگیر جدون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کبھی آپ تاخیر سے آتے ہیں، کبھی کہتے ہیں ریکارڈ نہیں ملا، وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیں حتمی دلائل دینے کا آخری موقع دے، 125 پولنگ سٹیشنز کا نتیجہ فارم 47 میں شامل نہیں کیا گیا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے رپورٹ میں 125 پولنگ سٹیشنز کے ووٹ شامل نہ ہونے کا دعویٰ مسترد کیا ہے، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ فارم 47 مرتب کرتے وقت نواز شریف کی جانب سے کوئی آر او کے آفس نہیں گیا،الیکشن کمیشن نے این اے 15 مانسہرہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو کل دلائل دینے کی ہدایت کر دی

    واضح رہے کہ این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گستاسب کامیاب ہوئے تھے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی این اے15انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی تھی تا ہم نواز شریف کے وکیل دوبارہ پیش ہوئے اور عذر داری بحال کرنے کی درخواست دی تھی،الیکشن کمیشن نے درخواست منظور کر لی تھی، الیکشن کمیشن نے آر او کا بھی تبادلہ کر دیا تھا،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ پر اپنی شکست تسلیم کریں این اے 15 مانسہرہ میں کہیں سےدھاندلی کی شکایت نہیں ملی، وہ خود بھی امیدوار تھے اور سارے حلقے میں ان کے ایجنٹ موجود تھے این اے 15سے وہ خود اور نواز شریف ہارگئے ہیں نواز شریف جس بنیاد پر عدالت جا رہے ہیں وہ بہت کمزور ہے-

    مانسہرہ این اے 15 انتخابی نتائج،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی نتائج چیلنج کیئے تھے،نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے انتخابی نتائج چیلنج کیے،درخواست میں کہا گیا کہ 125 پولنگ اسٹیشن کے نتائج مکمل نہیں ہوئے،آار او نے بقیہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے بغیر ہی فارم 47 جاری کر دیا،نواز شریف نامکمل فارم 47 پر ہارے ، انھیں فارم 47 پر تحفظات ہیں،مانسہرہ این اے 15 کے نتائج روکے جائیں،بقیہ پولنگ اسٹیشن کو حتمی نتیجے میں شامل کیے جائیں ،تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے

    این اے 15 مانسہرہ، نواز شریف کو شکست، آزاد امیدوار جیت گیا
    این اے 15 مانسہرہ ، نواز شریف ہار گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار شہزاد محمد گستاسپ خان نے ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انچاس ووٹ حاصل کئے،نواز شریف نے اس حلقے سے80 ہزار 382 ووٹ حاصل کئے ہیں، نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسہ بھی کیا تھا ،کیپٹن ر صفدر بھی مانسہرہ میں نواز شریف کی بھر پور مہم چلاتے رہے، اس حلقے سے اعظم سواتی دستبردار ہو گئے تھے