Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،

    تحریک انصاف کے وفد نے الیکشن کمیشن میں حکام سے ملاقات کی اور تحریک انصاف نے نوے دن میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا،آئین کے آرٹیکل 224کے تحت نوے روز میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی زمہ داری ہے،پی ٹی آئی وفد کی جانب سے نوے روز میں انتخابات بارے قوانین اور عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دئیے گئے،پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آئین مقدم ہے ایکٹ آئین کے ماتحت ہوتا ہے،ملاقات میں پی ٹی آئی وفد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی قیادت ویڈیولنک پر شریک ہونا چاہتی تھی مگر اجازت نہیں دیشاہ محمود قریشی،عمرایوب،سینیٹر شبلی فراز،عون بپی اور اعجاز چودھری کو ویڈلنک پر شریک کرنا چاہیئے تھا،وقت کی کمی کے باعث ویڈیولنک سہولت میسر نہیں تھی،

    پی ٹی آئی وفد نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ خوش آئند ہے کہ الیکشن کمیشن نے مشاورت کے لئے بلایا،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے تین نکات رکھے،الیکشن کمیشن کو بتایا کہ نوے دن میں انتخابات ہونے ہیں،آئین اور سپریم کورٹ کے دو فیصلے نوے دن انتخابات کا کہتا ہے،نوے دن میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ آئین کی پاسداری کریں،پی ٹی آئی ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے،90دن میں شفاف الیکشن کرائیں تو ہم سے کوئی شکایت نہیں ملے گی،ہم آئین کے مطابق پورا تعاون کریں گے.

    واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے آئین کے مطابق نوے دن میں الیکشن کروانے ہین تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو گی، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن نوے روز میں ہی ہونے چاہئے، اس ضمن میں شاہ محمود قریشی نے نگران وزیراعظم کو خط بھی لکھا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلایا ہے تو وہیں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لئے بلا لیا ہے، الیکشن کب ہوں گے ، ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • چیف الیکشن کمشنر نے  صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    صدر مملکت کی جانب سے 12 نومبر کو عام انتخابات کی تاریخ کی خبریں آئیں تو اسکے فوری بعد ایوان صدر سے واضح تردید تو نہیں آئی تا ہم یہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک تاریخ طے نہیں ہوئی

    صدر پاکستان عارف علوی نے 12 نومبر بروز اتوار کو پورے پاکستان میں الیکشن کی تاریخ دے دی، صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو آج ملاقات کے لئے بلایا تھا تا ہم چیف الیکشن کمشنر ملاقات کے لئے نہ گئے ، بلکہ جواب دے دیا،الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں قانونی ٹیم نے بریفنگ دئ،لیگل ٹیم نے تجویز دی کہ صدر مملکت سے عملی مشاورت کے بجائے بذریعہ خط جواب دیا جائے،صدرمملکت کا خط اختیارات سے تجاویز ہے،الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،آرٹیکل 51کے تحت حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے،آئینی طور پرآئندہ عام انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہیں،

    الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر صدرمملکت سے ملاقات نہیں کریں گے۔ صدر کے خط کا جواب دے دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر الیکشن کے حوالے سے صدر پاکستان سے منسوب نومبر 12 کی تاریخ میں کوئی صداقت نہیں ۔ ابھی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ،

    ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خط پر وزارت ِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی ،ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے پر رائے مانگی ،ایوانِ صدر نے صدر مملکت کے کل کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے مؤقف پر رائے مانگی ہے ،ایوانِ صدر کی جانب سے خط وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام لکھا گیا ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • امریکی سفیر کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات

    امریکی سفیر کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی الیکشن کمیشن آمد ہوئی ہے

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی الیکشن کمیشن میں ملاقات ہوئی ہے،امریکی سفیر نے ملاقات میں پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کے رہنماؤں کا انتخاب کرنا پاکستانی عوام کا کام ہے۔ پاک-امریکہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے پاکستانیوں کے منتخب کردہ نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا،

    واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے آئین کے مطابق نوے دن میں الیکشن کروانے ہین تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو گی، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن نوے روز میں ہی ہونے چاہئے، اس ضمن میں شاہ محمود قریشی نے نگران وزیراعظم کو خط بھی لکھا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلایا ہے تو وہیں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لئے بلا لیا ہے، الیکشن کب ہوں گے ، ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • نئی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست،فریقین سے جواب طلب

    نئی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست،فریقین سے جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ: الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا ،عدالت نے سماعت 6 ستمبر تک ملتوی کردی ،عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے سرکاری وکیل کو عام انتخابات کی تاریخ کی بابت ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کردی ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ چار ماہ کے اندر حلقہ بندیاں ہونا ناممکن ہے، الیکشن کروانے کی آڑ میں تیس ملین لوگوں کو الیکشن سے نکال نہ دیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق صدر پاکستان نوے روز میں الیکشن کرانے کی تاریخ دینے کا پابند ہے ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں یہی معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے شہری مقسط سلیم کی درخواست پر سماعت کی ،شہری نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا ہے ،درخواست میں عام انتخابات کی تاریخ کے لیے بھی استدعا کی گی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا،موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی اقدامات کرتے ہوئے مقررہ مدت میں الیکشن نہیں کرائے، نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، عدالت حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک نئی حلقہ بندیوں کیخلاف حکم امتناعی جاری کرے۔

    الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا

    پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا

    چیئرمین تحریک انصاف کا انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے کا معاملہ,الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین تحریک انصاف کے جانب سے بیرسٹر علی ظفر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،کیس کی سماعت تین رکنی کمیشن نے کی، علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دس جون 2022 میں پارٹی کے آئین کے مطابق ہوئے ،الیکشن کے بعد یکم اگست 2022 کو پارٹی آئین میں ترمیم کی گئی ، نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ ہم نے پارٹی الیکشن ترمیم سے پہلے کروا دیے ، رکن الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ نے پارٹی کے الیکشن 2019 کے آئین کے تحت کروائے ، علی ظفرنے کہا کہ جی بلکل ہم نے 2019 کے آئین کے تحت الیکشن کروائے ، ہمارے چیف الیکشن کمیشن نے زبانی کہا کہ ہم 2019 والی ترمیم واپس لے رہے ہیں ،

    رکن کمیشن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے آرڈر میں آ گیا کہ 2019 کی ترمیم واپس لی گئی ہے،علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل آپ کے آرڈر میں آیا جو بلکل غلط تھا ہم 2022 والی ترمیم واپس لے رہے تھے ہمارے وکیل سے غلطی ہوئی تھی، رکن کمیشن نے کہا کہ آپ نے اگر ترمیم کی ہے تو پھر ترمیم کے بعد الیکشن کروائیں ناں، آپ کو نوٹس یہ بھی کیا ہے کہ آپ نے پارٹی کا پورا آئین ہی تبدیل کر دیا ہے، علی ظفر نے کہا کہ انور مقصود صاحب سے غلطی ہوئی ہے وہ اس پر بیان حلفی دیں گے، یکم اگست دوہزار باٸیس کو پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں دوبارہ ترامیم کیں ، پی ٹی آٸی کے وکلاء نے زبانی دوسری ترمیم واپس لینے کی بات کی ، معزز بنچ نے غلط فہمی کی بنیاد پہ زبانی کی گٸی بات کو حکم نامے کا حصہ بنایا،

    ممبر کمیشن جسٹس اکرام اللہ نے کہا کہ آپ حکم نامہ ملنے کے باوجود کیوں خاموش رہے ، کیا آپ کو معلوم نہیں تھا، بیرسٹر علی گوہر نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا اس لیے ردعمل نہیں دیا، ممبر کمیشن نے کہا کہ دو اگست کو آپ کو نوٹس ملا تو جواب کیوں نہیں دیا، علی ظفر نے کہا کہ آج اسی نوٹس کا جواب دینے ہی آئے ہیں ،ممبر کمیشن احسن بھروانہ نے کہا کہ نوٹس اس بات پہ دیا کہ جو پارٹی آٸین میں جو ترامیم ہوٸیں وہ نہیں کرسکتے تھے، ممبر کمیشن نثار درانی نے کہا کہ آپ کو جو غلط فہمی ہوٸی اس کا جواب جمع کرا دیں، ظفر اقبال نے کہا کہ پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا،اس کیس کا بغور جاٸزہ لینے کی ضرورت ہے ،کیس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی گئی

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • الیکشن کمشنرکا صدر مملکت کے خط پراجلاس طلب،سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت

    الیکشن کمشنرکا صدر مملکت کے خط پراجلاس طلب،سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے خط لکھے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے معاملے پر اجلاس آج طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی:دی نیوز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں ممبران اور سیکرٹری الیکشن کمیشن شریک ہوں گے،اجلاس میں صدر مملکت کے دعوت نامے اور الیکشن کی تاریخ سے متعلق آئینی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا کیونکہ الیکشن کمیشن قانوناً صدر مملکت سے مشاورت کا پابند نہیں،اس معاملے پر قانون واضح ہے، صدر نے اس مقصد کیلئے آئین کی غلط شق کا حوالہ دیا ہے،صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو آئین کے آرٹیکل 48 (5)کا حوالہ دیتے ہوئے دعوت دی ہے۔

    عام انتخابات کی تاریخ کے تعین کیلئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ شاید صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی خواہش کے مطابق اُن سے ملاقات نہ کریں کیونکہ انتخابات کی تاریخ کا معاملہ قانون میں حالیہ ترمیم کے بعد خالصتاً الیکشن کمیشن آف پاکستان کا استحقاق ہے۔

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی

    آئین کا آرٹیکل 48 (5) کے متعلقہ حصے کے مطابق جب کہ صدر مملکت قومی اسمبلی تحلیل کرے، شق (الف) میں شامل کسی امر کے باوجود، وہ اسمبلی کے لئے عام انتخابات منعقد کرانے کیلئے کوئی تاریخ مقرر کرے گا جو تحلیل کیے جانے کی تاریخ سے 90 دن سے زیادہ نہیں ہوگی۔

    اس معاملے میں دیکھا جائے تو قومی اسمبلی صدر مملکت نے نہیں بلکہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر مدت مکمل ہونے کے بعد تحلیل کی گئی صدر صرف 58(2) کے تحت اختیار استعمال کرتے ہوئے اس وقت اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو جائے اور کسی رکن کے پاس ایوان میں اکثریت نہ ہو۔

    ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 10 اگست کو صدر پاکستان کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری ارسال کی تھی جس پر صدر عارف علوی نے اسی روز دستخط کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کر دی تھی وزیراعظم نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی۔ ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آج سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام ایف کے وفود سے ملاقات کرے گا اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو ملاقات کے لئے دعوت نامے بھجوا دیے ہیں، پی ٹی آئی کا وفد سہ پہر 2 بجے اور جے یو آئی کا وفد 3 بجے کمیشن سے مشاورت کرے گا۔

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    جے یو آئی (ف) ترجمان کے مطابق ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے پارٹی وفد آج 3 بجے الیکشن کمیشن سے ملاقات کرے گا سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے ملاقات کی دعوت موصول ہوئی تھی وفد کی قیادت مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کریں گے جبکہ وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، جلال الدین ایڈووکیٹ اور مولانا عطاء الحق درویش و دیگر شامل ہوں گے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملاقات میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے مشاورت ہو گی۔

  • توہین عدالت کارروائی: الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری

    توہین عدالت کارروائی: الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری

    چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی ،چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہم نے لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس چیلنج کیا ہوا ہے،چیئرمین تحریک انصاف جیل میں ہیں،چیئرمین تحریک انصاف کو آج حاضری سے استثنی دی جائے، وکیل انور منصور نے کہا کہ اسد عمر کے کیسز انسداد دہشتگردی عدالت میں ہیں، ویاں کیسز ہیں، شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں شوکاز نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا، مجھے ابھی تک چیئرمین تحریک انصاف سے ملنے نہیں دیا گیا، میری کلائنٹ سے ملاقات ہو گی تو اس کے بعد اس پوزیشن میں ہوں کہ جواب جمع کرانا یا کچھ اور،ڈی جی لا نے کہا کہ فرد جرم لگانی ہو تو روبکار کے ذریعے بھی یہاں بلایا جا سکتا ہے، الیکشن کمیشن نے اسد عمر اور چیئرمین تحریک انصاف کے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی

    لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے- لاہور ہائی کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن کی جاری توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر سماعت میں ہوئی جسٹس وحید خان نے سماعت کی، بیرسٹر سمیر کھوسہ کی وساطت سے دائر کی گئی درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا اور چئیر مین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو 20 جون کا حکم نامہ چیلنج کیا ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیاعدالت نے درخواست چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے فل بنچ کے روبرو لگانے کی سفارش کردی جسٹس محمد وحید خان نےریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کیس میں اپنی کارروائی جاری رکھے سپریم کورٹ کے کے فیصلے تک الیکشن کمیشن توہین عدالت کیس کا حتمی فیصلہ نہیں کرے گا۔

    حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر …

    عدالت نے درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے، اور ریمارکس دیئے کہ دو ملزمان میں سے ایک کو شوکاز نوٹس جاری کر رہے ہیں، شریک ملزم کی معذرت قبول کرکے معافی دے رہے ہیں یہ تو امتیازی سلوک واضح نظر آرہا ہے۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

  • الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    لاہور: الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق درخواست لاہور کے شہری کی جانب سے دائر کی گئی ، درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا،موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی اقدامات کرتے ہوئے مقررہ مدت میں الیکشن نہیں کرائے، نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، عدالت حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک نئی حلقہ بندیوں کیخلاف حکم امتناعی جاری کرے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آج سے باضابطہ طور پر حلقہ بندیوں کا آغاز کردے گا، اور پہلے مرحلے کے تحت آج سے حلقہ بندیاں کمیٹیوں کی تشکیل ہوگی حلقہ بندیاں کمیٹیوں کی تشکیل آج کے اجلاس میں ہوں گی، کمیٹیاں وفاقی دارلاحکومت اور صوبوں کیلئے قائم ہوں گی ، جو ضلعی نقشہ جات، آبادی سمیت ضروری ڈیٹا حاصل کریں گی۔

    نئی مردم شماری پرالیکشن کمیشن کیجانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا

    کمیٹیاں31 اگست تک ضلع کی مردم شماری رپورٹ سمیت دیگر معلومات حاصل کرے گی، تیسرے مرحلہ میں حلقہ بندیاں کمیٹی کی چار روزہ ٹرینگ کا آغاز یکم ستمبر سے ہوگا، 8 ستمبر سے 7 اکتوبر تک ابتدائی حلقہ بندیاں مکمل کی جائیں گئیں۔

    9 اکتوبر کو ابتدائی حلقہ بندیوں کی تفصیلات شائع کی جائیں گی، جس پر اعتراضات یا تجاویز 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک دائر کرسکیں گے، اور الیکشن کمیشن 10 اکتوبر سے 9 دسمبرتک اعتراضات پر سماعت کرکے فیصلہ کرے گا، جب کہ 14 دسمبر کو حتمی حلقہ بندیوں مکمل ہوں گی۔

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

  • نئی مردم شماری پرالیکشن کمیشن کیجانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا

    نئی مردم شماری پرالیکشن کمیشن کیجانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا

    اسلام آباد: نئی مردم شماری پر الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا-

    باغی ٹی وی: باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آج سے باضابطہ طور پر حلقہ بندیوں کا آغاز کردے گا، اور پہلے مرحلے کے تحت آج سے حلقہ بندیاں کمیٹیوں کی تشکیل ہوگی حلقہ بندیاں کمیٹیوں کی تشکیل آج کے اجلاس میں ہوں گی، کمیٹیاں وفاقی دارلاحکومت اور صوبوں کیلئے قائم ہوں گی ، جو ضلعی نقشہ جات، آبادی سمیت ضروری ڈیٹا حاصل کریں گی۔

    کمیٹیاں31 اگست تک ضلع کی مردم شماری رپورٹ سمیت دیگر معلومات حاصل کرے گی، تیسرے مرحلہ میں حلقہ بندیاں کمیٹی کی چار روزہ ٹرینگ کا آغاز یکم ستمبر سے ہوگا، 8 ستمبر سے 7 اکتوبر تک ابتدائی حلقہ بندیاں مکمل کی جائیں گئیں۔

    ایمان مزاری اور علی وزیر کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ

    9 اکتوبر کو ابتدائی حلقہ بندیوں کی تفصیلات شائع کی جائیں گی، جس پر اعتراضات یا تجاویز 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک دائر کرسکیں گے، اور الیکشن کمیشن 10 اکتوبر سے 9 دسمبرتک اعتراضات پر سماعت کرکے فیصلہ کرے گا، جب کہ 14 دسمبر کو حتمی حلقہ بندیوں مکمل ہوں گی۔

    قومی اسمبلی چونکہ اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل تحلیل کر دی گئی ہے لہٰذا آئین کے مطابق انتخابات 90 روز میں ہونا ہیں، تاہم انتخابات حالیہ دنوں منظور کی گئی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ہونے ہیں اس لیے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنی ہوں گی گذشتہ حلقہ بندی شیڈول کے اعلان کے بعد تقریباً چار ماہ میں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کا شیڈول مکمل کیا۔

    دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں …

    انتخابی کمیشن کو اگر نئی حلقہ بندیوں کے لیے چار ماہ درکار ہوں گے تو انتخابات پھر اس سال ہونا ناممکن ہو جائے گا، حلقہ بندیوں کے مکمل ہونے کے بعد انتخابی مہم کے لیے تین ماہ درکار ہوں گے جس کی وجہ سے آئندہ برس مارچ میں عام انتخابات کی توقع کی جاسکتی ہےوفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے منگل کو ایک نجی ٹی وی کو بتایا تھا کہ اگر نئی حلقہ بندیاں ہوئیں تو فروری کے تیسرے ہفتے یا مارچ کے پہلے ہفتے میں انتخابات ہوں گے ان کی رائے کے مطابق آئینی تقاضہ ہے کہ حلقہ بندیاں ہونی چاہئیں۔

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے گرفتار

  • نگراں حکومت پنجاب کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم جاری

    نگراں حکومت پنجاب کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے نگراں حکومت پنجاب کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے قانون دان آفتاب باجوہ کی درخواست پرتحریری حکم جاری کر دیا،جس میں کہا گیا کہ سرکاری وکیل نے نشاندہی کی ہےکہ الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری نہیں ہواالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے،الیکشن کمیشن آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ داخل کرائے، درخواست پر مزید سماعت 7 ستمبر کو ہوگی۔

    قبل ازیں سرکاری وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ نگران حکومت کا کام الیکشن کروانا ہےکیا ہم اس کو خودکار طریقے پر چھوڑ کر چلے جائیں، عدالت نے ریمار کس دیئے کہ اگلے ماہ الیکشن شیڈول نہیں ہیں، اگر نگران کو کام سے روک دیں تو کسی نے تو حکومت کرنی ہے؟اگر یہ حکومت چلی جاتی ہے تو پھر بھی نگران حکومت ہی کرائے گی، وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ یہ نگران حکومت غیر قانونی ہے۔

    رفعت مختارآئی جی سندھ تعینات

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب میں نگراں حکومت کی آئین میں دی گئی معیاد ختم ہوچکی ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کی تاریخ میں توسیع کی لیکن نگراں حکومت پنجاب کی معیاد میں کو توسیع نہیں کی،صوبائی نگراں حکومت کی معیادختم ہونے پراس کی قانونی حیثیت باقی نہیں رہیں، عدالت نگران وزیر اعلیٰ کو فوری عہدے سے ہٹانے کا حکم دے۔

    درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت نگراں حکومت پنجاب کو کام سے روکنے اور الیکشن کمیشن کو پنجاب میں نئی نگراں حکومت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دیا جائے۔

    عراق کا پاکستانی زائرین کیلئے مفت ویزافراہمی کا اعلان