Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    اسلام آباد: لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کمیشن کو وقت دینا پڑے گا، فروری کے آخریا مارچ میں الیکشن ہو جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کو صاف شفاف الیکشن کرانے کی ذمہ داری لگاتا ہے الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،ضروری ہے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے تاکہ شک دور ہو جائے ،الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے، توقع ہے نگران حکومت 5سے 6ماہ تک چلے گا، نگران حکومت کی مدت پر الیکشن کمیشن کو سامنے آکر ابہام دور کرنا چاہیےسی سی آئی کے فیصلے میں پیپلز پارٹی بھی شامل تھی، پیپلز پارٹی کا آفٹرتھا ٹ کہہ لیں یا سیاسی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی کو حق حاصل ہے کہ ہر سیاسی حربہ استعمال کرے۔

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست دانوں کے بغیر حکومتیں نہیں چلتیں، تمام اسٹیک ہولڈر کو ساتھ بیٹھ کر سوچنا ہو گاکہ ہم فیل کیوں ہیں ، چوری شدہ الیکشن کی وجہ سے ہم فیل ہوتے رہے ہیں وہ لوگ اسمبلیوں میں لائے گئے، جن کہ جگہ نہیں تھی، علم نہیں تھا کہ حالات اس حد تک خراب ہیں-

    دوسری جانب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے۔

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

    گورنر پنجاب نے کہا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے، الیکشن ایکٹ 2017 بڑا واضح ہے، اور وہ بتاتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ الیکشن کمیشن نے صدر کی مشاورت سے طے کرنی ہے اس مشاورت میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ یہ بھی آئین کی ضرورت ہے کہ جب مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو اس کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں، حلقہ بندیاں چار مہینے کا عمل ہیں اور الیکشن کے عمل کیلئے 60 دن مانگے جاتے ہیں،میری رائے میں الیکشنز ’فروری 2024 میں ہوتے نظر آرہے ہیں اس سے آگے جانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی نوے دن میں الیکشنز کرائیں تو حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں، حلقہ بندیاں کرائیں تو الیکشنز 90 دن میں ممکن نہیں۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

  • نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں-

    باغی ٹی وی: کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا اجلاس کنوینر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدارت میں پاکستان ہاؤس میں ہوااجلاس میں حلقہ بندیوں سمیت عام انتخابات سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے، اراکین رابطہ کمیٹی سے الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے گئے دعوت نامے سے متعلق تجاویز لی گئیں-

    اراکین رابطہ کمیٹی نے کہا کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لئے ضروری ہیں نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں، نئی منصفانہ حلقہ بندیوں کیلئے آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    دوسری جانب جماعت اسلامی نے الیکشن میں تاخیر پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا ہے، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے درخواست تیار کرلی ہے، جسٹس ریٹائرڈ غلام محی الدین کے توسط سے سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے درخواست دائر کی جائےگی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی ہے،اسمبلی تحلیل کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا آئین کے آرٹیکل 224 میں واضح ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے نمائندوں اور نگران وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کو بنیاد بنا کر الیکشن میں تاخیر کی جارہی ہے۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کوبحال کر دیا گیا،لیٹر جاری

    درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہےکہ مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں دو وزرائےاعلیٰ نےاپنےنگران حکومت کےپہلے دورانیےکو مکمل کیا ہے اب ان حکومتوں کی حیثیت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے عدالت الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ٹو کے تحت جنرل الیکشن کا اعلامیہ جاری کرنےکا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرنےکے لیے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کرے-

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

  • الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: جماعت اسلامی نے الیکشن میں تاخیر پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے درخواست تیار کرلی ہے، جسٹس ریٹائرڈ غلام محی الدین کے توسط سے سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے درخواست دائر کی جائےگی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی ہے،اسمبلی تحلیل کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا آئین کے آرٹیکل 224 میں واضح ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے نمائندوں اور نگران وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کو بنیاد بنا کر الیکشن میں تاخیر کی جارہی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہےکہ مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں دو وزرائےاعلیٰ نےاپنےنگران حکومت کےپہلے دورانیےکو مکمل کیا ہے اب ان حکومتوں کی حیثیت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے عدالت الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ٹو کے تحت جنرل الیکشن کا اعلامیہ جاری کرنےکا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرنےکے لیے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کرے-

    چیئرمین پی ٹی آئی کو پنجاب میں الیکشن میں دلچسپی نہیں تھی،پرویز خٹک

    واضح رہے کہ قبل ازیں پیپلز پارٹی نے بھی انتخابات میں 90 روز سےزیادہ کی تاخیر کی کھل کر مخالفت کی تھی،پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کے بعد ان کے خلاف اپیلیں ہوئیں تو سال ڈیڑھ سال انہی چکروں میں پڑے رہیں گے، اس لیے الیکشن 90 روز کے اندر اندر ہونے چاہئیں، آئین میں 90 دن کا ذکر ہے، حلقہ بندیوں کا ذکر نہیں، اسمبلیوں کی نشستیں بھی نہیں بڑھائی جا رہیں،انہی حلقوں کی حدود کو کم زیادہ کرنا ہے، یہ کام کرنا بھی ہے تو 2 ماہ میں مکمل کر لیا جائے، پیپلز پارٹی کا اجلاس بلا کر فیصلہ کریں گے کہ الیکشن میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ میں جانا ہے یا نہیں۔

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی، صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی۔

    سربراہ بی این پی عوامی اور سابق صوبائی وزیر اسد بلوچ کے گھر پر …

    اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن کو آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا ہوتا ہے، آئین کے مطابق مدت پوری ہونے سے قبل اگر اسمبلی توڑی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانے ہوتے ہیں تاہم اگر نئی مردم شماری ہو تو آئین کے آرٹیکل 15(1)کے سب سیکشن 5کے تحت الیکشن کمیشن پاکستان از سر نو حلقہ بندیاں کرانے کا قانونی طو رپر پابند ہے۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 دن میں نہیں ہو سکتےالیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرنےکا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ کا وقت مختص کردیا،حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبرکو کی جائےگی، ملک بھر میں8 ستمبر سے7 اکتوبر تک حلقہ بندیاں کی جائیں گی، اکتوبر سے 8 نومبر تک حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز دی جائیں گی، 5 ستمبرسے7 ستمبر تک قومی وصوبائی اسمبلیوں کا حلقہ بندیوں کا کوٹہ مختص کیا جائےگا، حلقہ بندیوں سےمتعلق انتظامی امور 31 اگست تک مکمل کیے جائیں گے۔

    لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی

  • پیپلز پارٹی کا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا دوسرا اجلاس لاہور میں بلانے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا دوسرا اجلاس لاہور میں بلانے کا فیصلہ

    آئندہ انتخابات کا معاملہ ،پیپلز پارٹی نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا دوسرا اجلاس لاہور میں بلانے کا فیصلہ کر لیا

    پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس آئندہ ہفتے لاہور میں ہوگا,اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، چئیرمن بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنما اور ممبران شریک ہونگے,پیپلز پارٹی نے حالیہ کراچی میں ہونے والی سی ای سی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو سوموار کو الیکشن کمیشن سے ملاقات کرے گی ،کمیٹی الیکشن کمیشن سے مقررہ وقت میں انتخابات کروانے کے حوالے سے تجاویز پیش کرے گی کمیٹی میں سید نئیر بخاری، شیری رحمان، فیصل کریم کنڈی و دیگر کو شامل کیا گیا ہے,کمیٹی آئندہ سی ای سی میں الیکشن کمیشن کے ساتھ ہونے والی انتخابات کے حوالے سے ملاقات پر ممبران کو آگاہ کرے گی, کمیٹی کی الیکشن کمیشن سے ملاقات کی روشنی میں سی ای سی میں آئندہ کے فیصلے کیے جائیں گے,

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے سنٹرل سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل اجلاس میں ملکی حالیہ الیکشن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،سی آئی سی نے آئینی مدت کے اندر انتخابات کے انعقاد پر اتفاق کیا، الیکشن کمیشن آرٹیکل 224 کو اوور رول نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن جنرل الیکشن 2023 کروائے جائیں،ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کا انعقاد وقت پر ہونا چاہیے،اگر کسی بہانے کے ساتھ تاخیر ہوئی تو یہ آئین شکنی ہوگی،اگر مردم شماری کے بعد سیٹوں میں اضافہ نہیں ہو رہا تو یہ پوائنٹ اتنا اہمیت کا حامل نہیں، معاشی بحران بڑھتا جا رہا ہے, عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو چکا ہے، نگران حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور الیکشن کے انتظامات کرے،ہم پرسوں الیکشن کمیشن سے ملاقات میں اپنے مطالبات رکھیں گے،الیکشن کے انعقاد کے لیے ہم ہر قانونی حربہ استعمال کریں گے،اعتزاز احسن سوشل میڈیا پر تمام بیانات کی ترتید کر چکے ہیں،ان کی رکنیت کسی نے ختم نہیں کی،

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی،ایم کیو ایم کو مشاورت کے لئے بلا لیا

    الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی،ایم کیو ایم کو مشاورت کے لئے بلا لیا

    الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے متعلق مشاورتی عمل تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مختلف سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لیے طلب کر لیا ،پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو طلب کر لیا گیا ،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو دعوت نامے بھیج دیے گئے ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے متعلق مشاورت کے لیے آصف علی زرداری ،خالد مقبول صدیقی اور سراج الحق کو دعوت نامہ بھیج دیا ،

    ایم کیو ایم کے وفد کو 28 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ طلب کیا گیا ہے ،جماعت اسلامی کے وفد کو 28 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ طلب کیا گیا ہے .پیپلزپارٹی کے وفد کو 29 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے حلقہ بندیوں ،انتخابی شیڈول و دیگر ضروری امور پر بات کی جائے گی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جلد دیگر جماعتوں کو بھی خطوط لکھے جائیں گے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف اور جے یو آئی کو بھی مشاورت کے لیے دعوت نامے بھیجے گئے تھے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئی جی بلوچستان ،چیف سیکریٹری بلوچستان کو بھی 29 اگست کو طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان کو بھی 29 اگست کو مشاورت کے لیے طلب کیا ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے آئی جی سندھ ،چیف سیکریٹری سندھ کو بھی 29 اگست کو طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کو بھی 29 اگست کو مشاورت کے طلب کیا ہے

  • چاہتے ہیں جلد سے جلد منتخب حکومت آئے،احسن اقبال

    چاہتے ہیں جلد سے جلد منتخب حکومت آئے،احسن اقبال

    ن لیگی رہنما، احسن اقبال کی سربراہی میں ن لیگ کے چھ رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کی وفد میں احسن اقبال، سینیٹر اعظم نزیر تارڑ، زاہد حامد، رانا ثنااللہ ،عطاء تارڑ، اسد جونیجو شامل تھے،ملاقات میں ن لیگی وفد سے انتخابات کے شیڈول، تاریخ اور الیکشن کے روڈ میپ پر مشاورت کی گئی

    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ آج ن لیگ کا وفد ای سی پی کی دعوت پر آیا اور تجاویز پیش کیں ،ہم نے کہا سی سی آئی کے اجلاس کے بعد مردم شماری کروانے کے پابند ہیں ،الیکشن کمیشن نے ہماری تجویز پر یقین دہانی کروائی ہے ،ہم نے کہا ہے الیکشن میں پیسہ لگانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں ،ہم نے انتخابی عمل کی شفافیت کی بھی تجویز دی ہے کہا ہے کہ 2018 کے الیکشن کے نتائج والا معاملہ نہ ہو،خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کے لئے الیکشن کمیشن اقدامات کرے ،پی ٹی آئی کا مردم شماری کو نظر انداز کرنے کا مطالبہ سمجھ سے بالا تر ہے ،ضروری ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں جلد حلقہ بندیاں ہوں اور جلد از جلد انتخابات ہوں ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جلد سے جلد ایک  منتخب حکومت آئے اور پھر آئینی اور جمہوری طور پر منتخب ہونے کے بعد ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے

    الیکشن کمیشن کا سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری 

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے 7 رکنی وفد کی سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری کی قیادت میں چیئرمین الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ، مولانا عطاء الحق درویش ، جلال الدین ایڈوکیٹ ، راوعبدالقیوم ، عطاء اللہ شاہ ایڈوکیٹ ،نوراحمد ودیگر موجود تھے ۔اس موقع پرآئندہ انتخابات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال گیا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ جمعیت آئین کی دی ہوئی مدت میں صاف وشفاف الیکشن چاہتی ہے ۔2018 کے بدترین انتخابات کی تاریخ نہیں دھرانی چائیے۔

  • امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو بڑی اہم خبریں ہیں، ایک طرف تیاری ہو رہی ہے کہ نگران کابینہ میں اب مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے، تین کم از کم ایڈوائزر اور آ رہے ہیں، ایک سابق جرنیل، ایک سابق بیوروکریٹ، تیسرا ہو سکتا ہے سابق صحافی ہو یا جج، وہاں پر یہ تیاری ہو رہی کہ کابینہ کو بڑھانا، اسکا مطلب لمبا عرصہ چلنا ہے،لانگ ٹرم حکومت ہو گی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سے امریکی سفیر کی ملاقات ہوئی اور لمبی مشاورت ہوئی، اتنی لمبی کہ چار پانچ بار چائے منگائی گئی، پریس ریلیز میں کہا گیا کہ امریکی سفیر نے کہا آئین کے مطابق وقت پر الیکشن ہوں گے، امریکہ سے شفاف الیکشن کے لیئے جو مدد چاہئے وہ ملے گی، دوسری خبر آج کی کہ صدر نے آج چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلوایا تھا تو اس نے انکار کر دیا، ہمارے ملک کا چیف الیکشن کمشنر اپنے‌صدر کو نہیں ملنا چاہتا ، لکھ کر انکار کر رہا ہے،لیکن دوسرے ملک کے سفیر کو ملنے کے لئے ٹائم بھی نکال رہا، بریفنگ بھی دے رہا، یہ کیا وجہ ہے؟ اگر آئینی طور پر ملنا تھا کہ فارن آفس میں کوئی درخواست گئی؟ ملنے کا طریقہ کار ہےکہ فارن آفس کو لکھیں گے وجہ بتائیں گے اور فارن آفس اگر صحیح سمجھتا ہے تو وہ بتائے گا کہ فلاں سفیر ملنا چاہتا ہے آ کر مل لیں ، ملاقات فارن آفس میں ہوتی اور وہاں فارن آفس کا نمائندہ موجودہوتا ہے،یہاں تو فارن آفس کو کوئی ریکوئسٹ نہیں آئی، اسکے بغیر لمبی چوڑی میٹنگ ہوئی، اسکے بعد پریس ریلیز دے دی گئی، کیا مدد کرنے کی بات کی گئی؟ کیا وہ الیکشن کمیشن کو 12 ارب یا 20 ارب دے گا؟ سیکورٹی دے گا؟ اور اگر دے گا تو بدلے میں کچھ تو مانگے گا، وہ کیا مانگے گا؟ یہ کچھ نہیں پتہ، کسی کو نہیں پتہ، کیونکہ فارن آفس کو نہیں پتہ، اس سارے واقعہ کے بعد صدر مملکت کو چیف الیکشن کمشنر نے کہہ دیا کہ میں نہیں مل سکتا، میں کئی دنوں سے کہہ رہا ہوں کمزور آدمی، چھوٹے آدمی کے لئے یہاں‌کوئی قانون نہیں، اگر پاکستان کا سفیر امریکہ میں چیف الیکشن کمشنر کو ملنے کی کوشش کرے تو وہ ایمبسڈر فارغ ہو جائے گا، اسی وقت آفس سے لیٹر آ جائے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کاکڑ صاحب ہمارے وزیراعظم ہیں، وہ تقریریں اچھی کر رہے ہیں،کیا فارن آفس امریکی نمائندے کو بلا کر احتجاج کرے گا کہ بغیر بتائے یہ ملاقات کیوں ہوئی؟ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ میرے ویلاگ کے بعد فارن آفس اپنے لیٹر، فائل بنائے گا تا کہ کاغذی کاروائی پوری ہو، الیکشن کی ڈیمانڈ اس وقت تحریک انصاف کی ہے، کس نے پاکستان میں سی پیک کو رکوایا، کس نے پاکستان کے سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف میں گروی رکھوایا؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل چیف جسٹس نے پوری کوشش کی کہ توشہ خانہ کیس میں ہاوی ہوں اور اسکا فیصلہ مرضی کا ہائیکورٹ سے نکلوائیں، اسی لئے کہا کہ فیصلہ کرو اور دو بجے ہمارے پاس آو، اسلئے کہا کہ جو فیصلہ ہو گا اسکے بعد ہم سن لیں گے،جھوٹ اتنا ہو گیا کہ بابر اعوان نے ٹویٹ کی کہ میں عمران خان کو ملا، اور عمران خان نے کہا کہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھ رہا ہوں، وہ ترجمہ ہی پڑھ رہا ہو گا، قرات عمران خان نہیں پڑھ سکتا، 12 سال سے تو حضرت عمر کی زندگی پر لیکچر دے رہا تھا عمران خان اور کتاب وہ اب پڑھ رہا ہے، اسکو تو کتاب لکھنے کی ضرورت ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دشمن چاند پر پہنچ گیا اور ہم یہیں بیٹھے چن چڑھا رہے ہیں، مجھے لگتا ہے سارے چاند پر پہنچیں گے اور ہم کہیں گے زمین پر ہم اکیلے ہی رہ گئے، اب ہم ہی سپر پاور ہیں،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اب صاحب بہاد ر نے کہہ دیا الیکشن جلدی ہونے چاہئے کاکڑ صاحب اور ہمنوا جو کابینہ بڑھانے کے بارے سوچ رہے ہیں وہ اب یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ صاحب بہادر کو جواب کیا دینا ہے؟ سرپرائزنگ بات کہ صدر جب کہہ رہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے کیوں انکار کیا؟

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار نے وکلا شاہد کمال ، چوہدری امجد کے ذریعے آئینی سوالات اٹھائے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل کا 5 اگست 2023 کا اجلاس آئینی تھا؟ کیا پنجاب ، کے پی کے نگران وزرائے اعلٰی اجلاس میں شرکت کے مجاز تھے؟ کیا اپیلٹ فورم کی موجودگی میں اجلاس منعقد کیا جاسکتا تھا؟ کیا نگران حکومت 90 دن سے زیادہ برقرار رہ سکتی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کا آئینی حکم نظر انداز کرسکتا ہے؟

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا آئینی حکم نظر انداز کرکے حلقہ بندیاں شروع کی جا سکتی ہیں؟ کیا پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے بغیر صدر کا آئینی اختیار کم کرسکتی ہے؟

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اسی طرز کی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،

    تحریک انصاف کے وفد نے الیکشن کمیشن میں حکام سے ملاقات کی اور تحریک انصاف نے نوے دن میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا،آئین کے آرٹیکل 224کے تحت نوے روز میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی زمہ داری ہے،پی ٹی آئی وفد کی جانب سے نوے روز میں انتخابات بارے قوانین اور عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دئیے گئے،پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آئین مقدم ہے ایکٹ آئین کے ماتحت ہوتا ہے،ملاقات میں پی ٹی آئی وفد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی قیادت ویڈیولنک پر شریک ہونا چاہتی تھی مگر اجازت نہیں دیشاہ محمود قریشی،عمرایوب،سینیٹر شبلی فراز،عون بپی اور اعجاز چودھری کو ویڈلنک پر شریک کرنا چاہیئے تھا،وقت کی کمی کے باعث ویڈیولنک سہولت میسر نہیں تھی،

    پی ٹی آئی وفد نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ خوش آئند ہے کہ الیکشن کمیشن نے مشاورت کے لئے بلایا،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے تین نکات رکھے،الیکشن کمیشن کو بتایا کہ نوے دن میں انتخابات ہونے ہیں،آئین اور سپریم کورٹ کے دو فیصلے نوے دن انتخابات کا کہتا ہے،نوے دن میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ آئین کی پاسداری کریں،پی ٹی آئی ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے،90دن میں شفاف الیکشن کرائیں تو ہم سے کوئی شکایت نہیں ملے گی،ہم آئین کے مطابق پورا تعاون کریں گے.

    واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے آئین کے مطابق نوے دن میں الیکشن کروانے ہین تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو گی، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن نوے روز میں ہی ہونے چاہئے، اس ضمن میں شاہ محمود قریشی نے نگران وزیراعظم کو خط بھی لکھا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلایا ہے تو وہیں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لئے بلا لیا ہے، الیکشن کب ہوں گے ، ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • چیف الیکشن کمشنر نے  صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    صدر مملکت کی جانب سے 12 نومبر کو عام انتخابات کی تاریخ کی خبریں آئیں تو اسکے فوری بعد ایوان صدر سے واضح تردید تو نہیں آئی تا ہم یہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک تاریخ طے نہیں ہوئی

    صدر پاکستان عارف علوی نے 12 نومبر بروز اتوار کو پورے پاکستان میں الیکشن کی تاریخ دے دی، صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو آج ملاقات کے لئے بلایا تھا تا ہم چیف الیکشن کمشنر ملاقات کے لئے نہ گئے ، بلکہ جواب دے دیا،الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں قانونی ٹیم نے بریفنگ دئ،لیگل ٹیم نے تجویز دی کہ صدر مملکت سے عملی مشاورت کے بجائے بذریعہ خط جواب دیا جائے،صدرمملکت کا خط اختیارات سے تجاویز ہے،الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،آرٹیکل 51کے تحت حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے،آئینی طور پرآئندہ عام انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہیں،

    الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر صدرمملکت سے ملاقات نہیں کریں گے۔ صدر کے خط کا جواب دے دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر الیکشن کے حوالے سے صدر پاکستان سے منسوب نومبر 12 کی تاریخ میں کوئی صداقت نہیں ۔ ابھی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ،

    ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خط پر وزارت ِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی ،ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے پر رائے مانگی ،ایوانِ صدر نے صدر مملکت کے کل کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے مؤقف پر رائے مانگی ہے ،ایوانِ صدر کی جانب سے خط وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام لکھا گیا ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،