Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • عمران خان، اسد عمراور فواد چوہدری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیسزڈی لسٹ

    عمران خان، اسد عمراور فواد چوہدری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیسزڈی لسٹ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان، اسد عمراور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیسز کی ڈی لسٹ کردیئے۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن کے مطابق چیرمین پی ٹی آئی، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیسز کی 5 ستمبر کو سماعت نہیں ہوگی، الیکشن کمیشن کے ممبران کی عدم دستیابی کیوجہ سے کیسز ڈی لسٹ کیے گئے توہین الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائےگا-

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں الیکشن کمیش نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور متعدد انٹرویوز کے دوران الزمات عائد کرنے پر الیکشن کمیشن کی توہین اور ساتھ ہی عمران خان کو توہین چیف الیکشن کمشنر کا نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

    جی 20 اجلاس میں چینی صدرکےشرکت نہ کرنے پرمجھے بہت مایوسی ہوئی،جوبائیڈن

    الیکشن کمیشن نے نوٹس میں عمران خان کے مختلف بیانات، تقاریر، پریس کانفرنسز کے دوران اپنے خلاف عائد ہونے والے بے بنیاد الزامات اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف استعمال ہونے والے الفاظ، غلط بیانات و من گھڑت الزامات کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کو 30 اگست کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

    ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو توہین الیکشن کمیشن کے نوٹسز جاری کیے ہیں اور کہا گیا ہے کہ 30 اگست کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہوں۔

    منفرد اور حیرت انگیز آپریشن،10 ماہ کی بچی کے پیٹ میں بچہ ہونے کا انکشاف

    نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پیمرا کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19، 20 جولائی اور 7 اگست کو اپنی تقاریر، پریس کانفرنسز اور بیانات میں الیکشن کمیشن کے خلاف مضحکہ خیز اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی، توہین آمیز بیانات دیے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جو براہ راست مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے۔

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کو مخاطب کرکے نوٹس میں مزید کہا تھا کہ آپ نے 12 جولائی کو بھکر میں ہونے والے جلسے میں خطاب کیا جو ’اے آر وائی‘ پر نشر ہوا اور ساتھ ہی اگلے دن روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ہوا، جس میں آپ نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز باتیں کیں اور ان پر من گھڑت الزامات عائد کیے۔

    اسلام آباد میں چند مقامات پرتیز ہواؤں اورگرج چمک کےساتھ بارش کا امکان

  • پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات فیصلے پر نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے چار اپریل کے فیصلے پر نظر ثانی دائر کر رکھی ہے سماعت کے اغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے تیاری کیلئے مزید ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کردی۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت ایک ہفتہ کی تیاری کیلئے مہلت دے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف بتائیں آپ کے ساتھ ہم بھی کیس کا جائزہ لیں گے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نے کیس میں اضافی گراونڈز تیار کیے ہیں سب سے اہم سوال الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار کا تھا سیکشن 57,58 میں ترامیم کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب ذہن میں رکھیں یہ نظر ثانی ہے، وکیل نے کہا کہ دوہفتے پہلے سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات سے متعلق تفصیلی فیصلہ ملا،فیصلے کی روشنی میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوفیصلہ آیا وہ کیس ختم ہوچکا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا جواب ابھی عدالت میں ہمارے ساتھ ہی پڑھیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کانظرثانی کیس سے کوئی تعلق نہیں،انتخابات کی تاریخ دینے کا مقدمہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے،نظرثانی کیس میں جونکات اٹھانا چاہتے ہیں وہ بتائیں،

    جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی میں آپ دوبارہ دلائل نہین دے سکتے۔ یہ بتائیں کہ عدالتی فیصلہ میں غلطی کہاں ہے۔ سیکشن 230 کا نقطہ مرکزی کیس میں اٹھایا ہی نہیں گیا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین الیکشن کیشن کو اختیار نہیں ذمہ داری دیتا ہے، کیا صدر کی تاریخ الیکشن کمیشن کوتبدیل کرنے کا اختیار ہے،یہ بڑا اہم قانونی نقطہ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اختیارات کو الیکشن کمیشن نے آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنا ہے،جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا دلائل دے رہے ہیں۔ کبھی ادھر کبھی ادھر جا رہے ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تیسری مرتبہ آپ کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں۔ آپ کا نقطہ نوٹ کرلیا۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری کے روشنی میں اختیارات کا استعمال کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے نوے دن میں انتخابات ہونگے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے تاریخ تبدیل کرنے کا اختیار ہے۔ عدالت الیکشن کمیںشن کی دلیل سے اتفاق نہیں کرتی۔ نظر ثانی میں دوبارہ دلائل کی اجازت نہیں الیکشن کمیشن وکیل ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں الیکشن کمشن وکیل کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تو بتا دیں۔عدالت کے 14 مئی کو انتخابات کرانے کے فیصلہ میں سقم کیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اضافی دستاویزات کا جائزہ ابھی آپ کیساتھ ہی لین گے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات 90 روز نہیں کروا سکتا تو اسکا حل فیصلے میں بتا دے،اللہ نے ہمیں ایک دماغ اور 2 کان دیئے ہیں،آئین کسی کی جاگیر نہیں جو اسکی خلاف ورزی کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ صرف آئین اور قانون سے تبدیل ہوگی ،ہمیں اب آرٹیکل 254 کے چکر میں نہ ڈالیں،

    الیکشن کمیشن کی پنجاب انتخابات تاریخ پر دائرنظر ثانی درخواست خارج
    سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی کسی ادارے کو اختیار نہیں کہ آئین پر اثر انداز ہو،پنجاب انتخابات میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی قراردے دیا گیا،

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

  • الیکشن کمیشن کی چیف سیکرٹری کے پی کو عہدے سے فوری ہٹانے کی ہدایت

    الیکشن کمیشن کی چیف سیکرٹری کے پی کو عہدے سے فوری ہٹانے کی ہدایت

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چودھری کو عہدے سے فوری ہٹانے کی ہدایت کردی ہے جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی جانب سے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو ارسال خط میں کہا گیا ہے کہ آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کیلئے غیر جانبدار افسر کاہونا ضروری ہے.

    جبکہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن کو مطلوبہ مدد فراہم کرنے اور اپنے فرائض غیرجانبداری سے انجام دینے سے قاصر ہیں، خط میں کہا گیا کہ ندیم سلم چودھری کو فوری طورپر کسی موزوں اورتجربہ کار افسر سے تبدیل کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو غیرجانبداری اور مطلوبہ کارکردگی کے ساتھ چلانے کے اہل افسر کو چیف سیکرٹری تعینات کیا جائے۔ اور ہمیں رپورٹ کیا جائے،

  • پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے سینیٹر علی ظفر کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ چاروں صوبوں کے گورنرز کو انتخابات کی تاریخ کے لیے ہدایات جاری کرے،صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا آئینی حق آرٹیکل 58 ون کے تحت حاصل ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ الیکٹورل پراسس کوحلقہ بندیوں کےبہانے سے التوا میں ڈالے،مردم شماری سے متعلق فیصلہ کرنے والی مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل مکمل نہیں تھی، الیکشن کمیشن غیر آئینی مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر انحصار کر کے انتخابات میں تاخیر نہیں کر سکتا۔

    انڈونیشیا میں حجاب نہ پہننےپراسکول ٹیچرنے14 طالبات کےبال ہی کاٹ دیئے

    پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے اور فیصلے کے بعد جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، انتخابات بروقت نا ہونے سے پاکستان ایک اور آئینی بحران کا شکار ہو جائے گا الیکشن کمیشن کو انتخابات میں التوا کا اختیار آئینی رو سے جائز نہیں، کالعدم قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن، گورنرز اور مشترکہ مفادات کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب 90 روز میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا, جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے عدالت عظمی میں آئینی درخواست دائر کر دی،جماعت اسلامی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور صوبائی الیکشن کمشنرز کو فریق بنایا گیا ہے-

    لاہور:پولیس کااینٹی نارکوٹکس یونٹ منشیات فروش نکلا،4 اہلکار گرفتار،ڈی ایس پی فرارہو گیا

    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں،الیکشن کمیشن کو الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا جائےآرٹیکل 218(3) کے تحت نگران حکومتوں اور اتھارٹیز کو آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کا حکم دیا

  • الیکشن کمیشن سےمشاورت کیلئے پیپلز پارٹی نے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی

    الیکشن کمیشن سےمشاورت کیلئے پیپلز پارٹی نے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی

    پیپلز پارٹی نےالیکشن کمیشن سے عام انتخابات سے متعلق مشاورت کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ مشاورتی کمیٹی میں نیئرحسین بخاری، نویدقمر، شیری رحمان ،فیصل کریم کنڈی اورمراد علی شاہ شامل ہیں ۔ پانچ رکنی کمیٹی منگل کو الیکشن کمیشن میں مشاورت کیلئے پہنچے گی۔

    جبکہ پیپلز پارٹی کی کمیٹی عام انتخابات کی تاریخ کےحوالےسے اپنا مؤقف بھی پیش کرے گی اور خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر 302 روپے کا ہوگیا
    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ
    نوازشریف ہی عوام کومہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچائیں گے،مریم نواز
    پولیس موبائل پر حملہ، 2 اہلکار شہید
    برطانیہ میں کئی پروازیں منسوخ
    انوارالحق کاکڑ کینیا کا 3 روزہ سرکاری دورہ کریں گے
    چینی کی برآمد پر پابندی عائد

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن اب تک مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف اورجے یو آئی کے نمائندوں سے ملاقات کرچکا ہے، جن میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے مختلف تجاویز دی گئی ہیں تاہم واضح رہے کہ آئندہ عام انتخابات سے متعلق سیاسی جماعتوں کاالیکشن کمیشن سے ملاقاتوں کا دوسرارائونڈ بھی ہوگا۔

  • چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کا ملاقات سے انکار غیرآئینی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،درخواست عباد الرحمان لودھی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کی کسی شق کی بنیاد پر صدر کے آئینی اختیار سے انکار ممکن نہیں،عدالت قرار دے کہ صدر مملکت ہی 90 کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کے اہل ہیں،نگران حکومت کے اختیارات محدود ہوتے ہیں،صدر مملکت 90 دن میں انتخابات کی تاریخ دینے کیلئے نگران حکومت کی سمری کے محتاج نہیں،نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا،

    واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کو لے کر صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی تھی، صدر مملکت نے چیف الیکش کمشنر کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی ، آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل ملاقات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تاریخ طے کی جا سکے، خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت سے ملنے سے انکار کر دیا تھا ، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے صدر مملکت کو جوابی خط بھجوایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • انتخابات نئی حلقہ بندیوں سے ہوں،الیکشن کمیشن سے متفق ہیں ، ایم کیو ایم

    انتخابات نئی حلقہ بندیوں سے ہوں،الیکشن کمیشن سے متفق ہیں ، ایم کیو ایم

    الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے متعلق مشاورتی عمل شروع کر رکھا ہے، آج الیکشن کمیشن حکام سے جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم وفد کی الگ الگ ملاقاتیں ہوئی ہیں،

    رہنما ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار نے الیکشن کمیشن میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایم کیو ایم پاکستان کا وفد الیکشن کمیشن کی دعوت پر آیا، ملاقات میں کہا الیکشن کمیشن کے ساتھ ہیں ،اگر نئی مردم شماری کے نتائج سامنے آگئے ہیں تو نئے الیکشن نئی حلقہ بندی پر ہوں، الیکشن کمیشن بھی یہی چاہتا ہے ہم نے اس سے رضامندی ظاہر کی، ہم نے واضح کیا کہ الیکشن میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو، اگر الیکشن کمیشن 120 حلقہ بندیاں کرسکتا ہے تو اس کے ساتھ دیگر چیزوں کو بھی جوڑا جاسکتا ہے، ہم اور الیکشن کمیشن اس پیج پر ہیں کہ انتخابات نئی حلقہ بندیوں سے ہوں،نئی حلقہ بندیوں کو کم سے کم سے کم وقت میں نمٹایا جائے، ہماری آبادی کو کم ظاہر کیا جاتا ہے اور پھر اسی تناسب سے نمائندگی نہیں ملتی ،کراچی کی آبادی کو جان بوجھ کر کم گنا جاتا ہے، 6 سالوں میں کراچی کی آبادی میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے، شفاف الیکشن کی پہلی بنیاد شفاف حلقہ بندیاں ہیں،الیکشن کمیشن نے کل چیف سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ کو بلایا ہے،ہم نے پری الیکشن دھاندلی اور پوسٹ الیکشن دھاندلی پر بھی بات کی،

    ہمارا مطالبہ تھا اور ہے کہ 90 روز میں الیکشن ہونا چائیے،جماعت اسلامی
    جماعت اسلامی کی چیف الیکشن کمشنر سے انتخابی مشاورتی ملاقات ختم ہو گئی ،جماعت اسلامی کے وفد نے الیکشن مشاورت کے حوالے سےمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ تھا اور ہے کہ 90 روز میں الیکشن ہونا چائیے، اہم نے کہا حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کمیشن کو الیکشن کی تاریخ دینی چاہئیے، ہم نے پنجاب اور کے پی میں الیکشن نہ کروانے کے حوالے سے بھی اپنے خدشات رکھے،الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم بھی بے بس ہیں ، ہم نے کہا کہ شفاف الیکشن کروانا آپ کی ذمے داری ہے،ہم نے کہا کہ جس طرح الیکشن میں امیدوار ایک خاص حد تک خرچہ کرسکتا ہے اسی طرح پوری سیاسی جماعت پر بھی ایسی پابندی ہونی چاہئیے ،

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف اور جے یو آئی کو بھی مشاورت کے لیے دعوت نامے بھیجے گئے تھے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئی جی بلوچستان ،چیف سیکریٹری بلوچستان کو بھی 29 اگست کو طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان کو بھی 29 اگست کو مشاورت کے لیے طلب کیا ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے آئی جی سندھ ،چیف سیکریٹری سندھ کو بھی 29 اگست کو طلب کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کو بھی 29 اگست کو مشاورت کے طلب کیا ہے

    الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی تاریخ کا اعلان کرے، پیپلزپارٹی کا مطالبہ
    دوسری جانب سیکریٹری جنرل پیپلزپارٹی سید نیئر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ صدر اور الیکشن کمیشن کے درمیان خط وہ کتابت کے حوالہ سے پیپلزپارٹی آئین کے ساتھ کھڑی ہے آئین 90 دن کے اندر انتخابات کہتا ہے اس کا مطلب 90 دن کے اندر انتخابات کرانے ہیں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے آئین کی بحالی کیلئے بے مثال جدوجہد کی ہے نئی حلقہ بندی 90 دن کے اندر انتخابات میں رکاوٹ نہیں ہے آئین سے انحراف سے ملک کی ساکھ خراب ہوگی خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہو سکتے ہیں تو عام انتخابات کیوں نہیں ہو سکتے الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی تاریخ کا اعلان کرے

  • خیبرپختونخوا میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری

    خیبرپختونخوا میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری

    خیبرپختونخوا کے 21 اضلاع میں ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری ہے-

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کےمطابق آج پشاورمیں ضمنی بلدیاتی انتخابات 2 نیبرہوڈ اور 4 ویلیج کونسلز میں ہورہے ہیں پشاور میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے 15 پولنگ اسٹیشنز قائم کیےگئےہیں خیبرپختونخوا کے 21 اضلاع میں 65 ویلیج اورنیبرہوڈ کونسلز پر ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔

    بلدیاتی انتخابات کیلئے 159 پولنگ اسٹیشنز احساس ترین ، 84 حساس اور 13 پولنگ اسٹیشنز کو نارمل قرار دیا گیا ہے،پشاور نوشہرہ، چار سدہ، مردان، صوابی، خیبر، کوہاٹ بنوں لکی مروت، ایبٹ آباد ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام تورغر ، سوات، شانگلہ ، ملاکنڈ، لوئر و اپر دیر اور باجوڑ میں ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئےپولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے۔

    خیبر پختونخوا میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے

    الیکشن میں مجموعی طور پر تین لاکھ 85 ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جس میں دو لاکھ 8 ہزار 954 مرد ووٹرز اور ایک لاکھ 76 ہزار 835 خواتین ووٹرز شامل ہیں،ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کے صوبائی دفتر میں کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق صوبے میں ضمنی انتخابات کے لیے، 102 مردانہ ، 89 زنانہ اور 65 مشترکہ پولنگ سٹیشن ہیں، 256 پولنگ اسٹیشنوں میں کل 798 پولنگ بوتھ قائم کیے ہیں۔

    الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

  • ادارہ شماریات نے الیکشن کمیشن کوڈیٹا فراہم کردیا

    ادارہ شماریات نے الیکشن کمیشن کوڈیٹا فراہم کردیا

    اسلام آباد: وفاقی ادارہ شماریات نے الیکشن کمیشن کو شماریاتی اضلاع، چارجز، سرکلز اور بلاکس کا ڈیٹا فراہم کردیا۔

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر میں 475 شماریاتی اضلاع، 3265 چارجز، 20585 سرکلز اور 180051 بلاکس ہیں ان میں سےپنجاب میں 167 شماریاتی اضلاع، 1605 چارجز،11703 سرکلز، 93746 بلاکس،سندھ میں 146 شماریاتی اضلاع، 930 چارجز، 5140 سرکلز اور 43838 بلاکس ہیں خیبرپختونخواہ میں 123 شماریاتی اضلاع، 410 چارجز، 2777 سرکلز اور 28873 بلاکس، بلوچستان میں 38 شماریاتی اضلاع،، 305 چارجز، 855 سرکلز اور 1737 بلاکس اور اسلام آباد میں 1 شماریاتی ضلع، 15 چارجز، 110 سرکلز اور 1737 بلاکس شامل ہیں۔

    الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کےلیےوفاقی ادارہ شماریات سےمردم شماری کے اعداد و شمار، بلاکس، چارجز، تحصیل، تعلقہ، اضلاع اور ڈیجیٹلائزڈ نقشوں کی تفصیل طلب کی تھی،وفاقی ادارہ شماریات کے سربراہ ڈاکٹر نعیم الظفر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھاکہ27 اگست تک ڈیجیٹل مردم شماری کی تفصیل،2017 کی مردم شماری کا تقابلی جائزہ، تمام مردم شماری بلاکس، حلقوں،چارجز، تحصیل و تعلقہ اور اضلاع کی تفصیل کے ساتھ ڈیجیٹائزڈ نقشے فراہم کیے جائیں۔

    الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں ایک پرفارما بھی تیار کیا اایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل الیکشنز I کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، وفاقی ادارہ شماریات بھی کسی سینیئر افسر کو فوکل پرسن مقرر کرے اور 27 اگست تک مطلوبہ معلومات اور دستاویزات فراہم کی جائیں۔

    سفارت خانے کی آڑ میں کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی شراب اسمگل کرنے کی …

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے سرکاری اشاعت کے نتائج کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے شیڈول جاری کر دیا گیا، حتمی حلقہ بندیاں 14 دسمبر 2023 کو شائع کی جائیں گی۔ جمعرات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں اور محکمہ شماریات سے معاونت طلب کی ہے ، اس سلسلہ میں ضروری احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق تمام انتظامی یونٹس کی حدود کو جمعرات 17 اگست سے منجمد کر دیا گیا ہے،ہرصوبے میں ڈی لیمٹیشن کمیٹیاں 21 اگست تک بنائی جائیں گی ایڈمنسٹریٹو انتظامات 22 سے 31 اگست تک کئے جائیں گے کمیٹیوں کی ٹریننگ یکم سے 4 ستمبر تک ہو گی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کا ضلعی کوٹہ ڈی لیمٹیشن کمیٹیوں کو 5 سے 7 ستمبر کے دوران مہیا کیا جائے گا-

    ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں …

    ڈی لیمٹیشن کمیٹیوں کی جانب سے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست 8 ستمبر سے 7 اکتوبر تک جبکہ مجوزہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہو گی جبکہ ان پر کمیشن کے سامنے اعتراضات 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک دائر کئے جائیں گے جنہیں 10 نومبر سے 9 دسمبر تک نمٹایا جائے گا جس کے بعد حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت 14 دسمبر کو ہو گی۔