Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں

    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں

    کراچی:الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے اجرا کے بعد پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : کراچی کی 246 میں سے 235 پر الیکشن ہوئے جس میں سے الیکشن کمیشن نے 215بلدیاتی نشستوں پر امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیئے –

    عمران خان کی گرفتاری میں ناکامی پر مریم نواز کا ردعمل سامنے آگیا

    پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی کے ایم سی سٹی کونسل میں 84، 84 نشستیں ہوگئیں جبکہ پی ٹی آئی کی 40 نشستیں ہیں مسلم لیگ ن 5، جمیعت علمائے اسلام کی ایک نشست جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔ اس طرح، پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی مجموعی نشستیں 91 ہوجائیں گی۔

    حیدرآباد کی یونین کمیٹیز کی نشستوں پر الیکشن کمیشن نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس کے تحت حیدرآباد میں پہلی مرتبہ میئر پیپلزپارٹی کا آئے گا پیپلزپارٹی 92ن شستوں کے ساتھ حیدرآباد میں سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔

    آریانا گرانڈے اور نکی میناج کیلئے گانے لکھے، اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد

    حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں 160نشستیں ہیں جن میں پی ٹی آئی 39 نشستوں پر کامیاب ہوئی تحریک لبیک نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ 13نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے

    ضلع کونسل ٹھٹھہ کی 37نشستوں پر پیپلزپارٹی اور تین پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ کسی نشست پر دیگر جماعتوں کا امیدوار کامیاب نہ ہوسکا میونسپل کمیٹی ٹھٹھہ کی تمام 9 نشستوں پر پیپلزپارٹی امیدوار کامیاب ہوئے۔ ٹاؤن کمیٹی مکلی کی 7، ٹاون کمیٹی گھارو کی 8 اور ٹاؤن کمیٹی ساکرو کی 3 نشستوں پر پیپلزپارٹی امیدوار کامیاب ہوئے۔

    اسلام آباد پولیس نے زمان پارک سے واپس جانے کی خبروں کی تردید کر دی

  • پنجاب اسمبلی انتخابات، صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان کر دیا

    پنجاب اسمبلی انتخابات، صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان کر دیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 30 اپریل بروز اتوار کو پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کا اعلان کردیا

    صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کرنے کے بعد کیا!قبل ازیں الیکشن کمیشن نے پنجاب انتخابات کیلئے 30 اپریل سے7 مئی تک کی تاریخیں تجویز کی تھیں، الیکشن کمیشن نے صدرمملکت اور گورنر خیبرپختونخوا کو خط لکھ دیا ،چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدرمملکت کو خط ارسال کر دیا گیا الیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات کیلئے 30 اپریل سے 7 مئی تک کی تاریخیں تجویز کردیں

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن اور سیکریٹری نے شرکت کی، اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدر کوخط ارسال کر دیا، صدرمملکت کی جانب سے تاریخ کے انتخاب کے بعد آئینی فرض انجام دینے کیلئے تیار ہیں، الیکشن کمیشن نے گورنر خیبر پختونخواہ کو مراسلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں آپ کے جواب کے منتظر ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گورنر خیبرپختونخوا کو بھی خط ارسال کر دیا

  • پنجاب خیبر پختونخوا انتخابات،لاہور،پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں نمٹا دیں

    پنجاب خیبر پختونخوا انتخابات،لاہور،پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں نمٹا دیں

    پشاورہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا میں بروقت انتخابات کیس کی سماعت ہوئی ،جسٹس روح الامین اورجسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کی سماعت کی ،جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی مقصد کیلئے فیصلے میں سپارک چاہتے ہیں وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آج بھی مقررہ وقت پر الیکشن ہو سکتے ہیں ، سپریم کورٹ نے گورنر کو ڈائریکشن دے دی تو ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے،انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے جو تمام اداروں پر لاگو ہوتا ہے ،درخواست کو برخاست کر دیتے ہیں آپ عملدرآمد کیلئے دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ صوبائی حکومت،گورنر انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دیں،پشاورہائیکورٹ نے سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں کیس نمٹا دی

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کی تاریخ کیلئے صدر کو ہدایت جاری کرنے سے متعلق درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی ،لاہورہائیکورٹ میں الیکشن کی تاریخ کیلئے صدر کو ہدایت جاری کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس مزمل اختر شبیراورجسٹس چودھری محمد اقبال پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس چودھری محمد اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی پیش کی سپریم کورٹ نے فیصلے کے پیرا 14 میں صدر کو ہدایت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹائی جاتی ہے

  • مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواست پرالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

    مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواست پرالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کراچی کے مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کیخلاف فوری سماعت کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے تحریک انصاف کراچی کے مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔ پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان اسمبلی نے فوری سماعت کی استدعا کی۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کو کیا ایمرجنسی ہے کیوں آئے ہیں؟ پی ٹی آئی کے وکیل نے موقف دیا کہ ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہے ہماری درخواست فوری سنی جائے آپ نے 21 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے جب تک الیکشن ہوجائیں گے بیلٹ پیپرز چھپ گئے تو عوام کے کروڑوں روپے ضائع ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم درخواست کو سن کر فیصلہ کریں گے آپ جذباتی ماحول کیوں بنارہے ہیں ہم قانون کے مطابق سن کر فیصلہ کردیں گے عدالت نے فوری سماعت کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے عدالت نے 7 مارچ کے لئے درخواست کی سماعت مقرر کردی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے درخواست دائر کی تھی ایم این اے علی زیدی، آفتاب جہانگیر، فہیم خان، عطاء اللہ ایڈووکیٹ، سیف الرحمان محسود، آفتاب صدیقی، اسلم خان، نجیب ہارون اور عالمگیر خان شامل ہیں۔

    دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ارکین قومی اسمبلی کو غلط طور پر ڈی ناٹفائی کیا گیا ہے اور قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری کا پروسیس قانون کے مطابق پورا نہیں کیا۔

    درخواست میں استعفیٰ دینے والے ارکان سے ان کے استعفوں کی تصدیق نہیں کی گئی الیکشن کمیشن نے بھی اس فیصلے کی روشنی میں ایم این ایز کو ڈی نوٹیفائی کردیا استعفوں کی منظوری کے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔

  • مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر جواب طلب

    مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر جواب طلب

    مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر جواب طلب

    سندھ ہائیکورٹ،پی ٹی آئی کراچی کے مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں 16مارچ کو ہونے والے ضمنی الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کردی ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے وکیل سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ میں کیا ہوا ہے یہ بتائیں ،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی ہے لیکن لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر موجود ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ استعفیٰ منظور کرنے کا اسپیکر کے پاس اختیار نہیں ہے ،انہیں غلط طور پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا عدالت نے الیکشن کمیشن ،اسپیکر و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 21 مارچ کو جواب طلب کرلیا

    درخواست گزارکا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری کا پروسیس قانون کے مطابق پورا نہیں کیا،
    آفتاب صدیقی، اسلم خان، نجیب ہارون اور عالمگیر خان بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دیئے تھے جن کی منظوری تاخیر سے ہوئی تا ہم استعفے منظور ہو گئے،اسکے بعد پی ٹی آئی نے یوٹرن لیا اور استعفوں کی منظوری کے عمل کو عدالت میں چیلنج کردیا اوراعلان کیا کہ اب ہم اسمبلیوں میں جا کر بیٹھیں گے

  • انتخابات کےمعاملے پرصدارتی آفس میں مشاورت کا حصہ نہیں بن سکتے،الیکشن کمیشن  اپنے موقف پر قائم

    انتخابات کےمعاملے پرصدارتی آفس میں مشاورت کا حصہ نہیں بن سکتے،الیکشن کمیشن اپنے موقف پر قائم

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات کے معاملے پر صدارتی آفس کے مشاورتی عمل کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت الیکشن کمیشن میں اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے معاملے پر ابھی صدارتی آفس کے مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بن سکتا لہٰذا الیکشن کمیشن حکام ایوان صدر کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی گمشدگی کا معاملہ، سندھ پولیس نےعدالت میں جواب جمع کرادیا

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ انتخابات کا معاملہ مختلف عدالتی فورمز پر زیرالتوا ہے اور ادارہ 19 فروری کو صدرپاکستان کو جواب دے چکا ہے لہٰذا الیکشن کمیشن کا اب بھی وہی 19 فروری والا مؤقف ہے۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر ہنگامی مشاورت کے لیے ایوان صدر بلایا تھا جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا۔

    الیکشن کمیشن کا صدر مملکت کے ساتھ انتخابات کی تاریخ پر مشاورت سے انکار

    الیکشن کمیشن نے صدر کو دیئے گئے جوابی خط میں کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی اورقانونی ذمہ داری سےآگاہ ہے، گورنر خیبرپختونخوا اورپنجاب نے ابھی تک عام انتخابات کی تاریخ نہیں دی،گورنرپنجاب نےکہا کہ وہ معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

    صدر کو پنجاب اسمبلی کاانتخابی شیڈول جاری کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی ،درخواست گزار کےوکیل اظہر صدیق نے درخواست لاہور ہائیکورٹ سے واپس لےلی-

    لاہور ہائیکورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنا پر نمٹا دی،عدالت نے ریما رکس دیئے کہ الیکشن کمیشن اور گورنر نے سنگل بینچ کے فیصلے کو انٹراکورٹ اپیل میں چیلنج کردیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ دوسری جانب معاملے کو ڈویژن بینچ میں لے جاسکتے ہیں-

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی گمشدگی کا معاملہ، سندھ پولیس نےعدالت میں جواب جمع کرادیا

  • پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان  کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    لاہور:عدالت پی ٹی آئی پنجاب کے ایم این ایز کو ڈی نوٹی فائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

    باغی ٹی وی : تحریکِ انصاف کے مزید 70ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس شاہد کریم نے فواد چوہدری ، شاہ محمود قریشی پرویز خٹک ،اسد عمر سمیت 70 ارکان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں اسپیکر قومی اسمبلی ،الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے-

    دوران سماعت عدالت پی ٹی آئی کے پنجاب کے ایم این ایز کو ڈی نوٹی فائی کرنے سے متعلق الیکشن کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسپیکر نے استعفے منظور کرنے سے پہلے ارکان کا مؤقف نہیں لیا۔ الیکشن کمیشن نے استعفے منظور ہونے کے بعد ممبران کو ڈی نوٹیفائی کردیا۔ عدالت پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے اور الیکشن کمیشن کو متعلقہ حلقوں میں ضمنی انتخابات کا انعقاد روکنے کا حکم دے۔

    کوئٹۃ سے گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے ارکان قومی اسمبلی کی حد تک ضمنی الیکشن بھی روکنے کا حکم دے دیا۔

    بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ میں عدالت نے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی حد تک معاملہ 7مارچ کو سنا جائے گا۔

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور: گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے ایڈوکیٹ شہزاد شوکت نے سنگل بینچ کے فیصلے کی تشریح کے لیے درخواست دائر کی۔

    درخواست گزار کے مطابق سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ سے متعلق گورنر سے مشاورت کا حکم دیا ہے لیکن گورنر کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں جبکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل پر دستخط ہی نہیں کیے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب نے صوبے میں الیکشن کے حکم کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن وفد نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملاقات بھی کی تھی اس موقع پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب بھی موجود تھے، جنہوں نے صوبے میں انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔

    اجلاس میں فیصلے کی تشریح اور وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،عدالت

    آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،عدالت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا پھر بھی سی سی پی او تبدیل کیوں کیا گیا، غلام محمود ڈوگر کو ٹرانسفر کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ جس پروکیل پنجاب حکومت نےکہا کہ الیکشن کمیشن کی اجازت سےغلام محمود ڈوگر کو دوسری مرتبہ تبدیل کیا گیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئےکہ افسران کی تبدیلی میں الیکشن کمیشن کا کیا کردار ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار انتخابات کے اعلان ہونے کے بعد ہوتا ہے۔

    ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ پنجاب میں کیئر ٹیکر سیٹ اَپ آنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن سے اجازت لی گئی، آئین کے مطابق کیئر ٹیکر سیٹ اَپ آنے کے بعد 90 دنوں میں انتخابات ہونا ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ تو پھر بتائیں الیکشن ہیں کہاں؟ جسٹس مظاہر علی نےریمارکس دیئےکہ آدھے پنجاب کو ٹرانسفر کر دیا ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ کیا پنجاب میں ایسا کوئی ضلع ہے جہاں ٹرانسفر نہ ہوئی ہو۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے حکم کا علم نہیں تھا؟ الیکشن کمیشن اپنے کام کے علاوہ باقی سارے کام کر رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کو طلب کیے جانے کے بعد غلام محمود ڈوگر تبادلہ کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو ججز نے استفسار کیا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر پہنچ گئے ہیں؟ جس پر عدالتی عملے نے بتایا کہ ابھی تک سرکاری وکلاء واپس آئے اور نہ چیف الیکشن کمشنر۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ معمول کے مقدمات ختم ہوچکے اس لیے چیف الیکشن کمشنر پہنچیں تو آگاہ کیا جائے، جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پہنچنے تک سماعت ملتوی کی گئی۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سپریم کورٹ پہنچ گئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد سماعت دوبار شروع ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے اور انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، مقررہ وقت میں انتخابات نہ ہوئے تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی 90 دن میں انتخابات کے حوالے سے آئین میں کوئی ابہام نہیں نگراں حکومت تقرر و تبادلے نہیں کر سکتی اور نگراں حکومت کو تبادلہ مقصود ہو تو ٹھوس وجوہات کے ساتھ درخواست دے گی، الیکشن کمیشن وجوہات کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کرنے کا پابند ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عدالت حکم دے تو تبادلے روک دیں گے، الیکشن کی تاریخ خود دیں تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ مجھے موقع ملا ہے تو کچھ باتیں عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

    سلندر سلطان راجہ نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے یکساں پالیسی کے تحت پورے صوبے میں تقرری وتبادلوں کی اجازت نہیں دی، کچھ کمشنر، ڈی سی، آر پی او وغیرہ کا ٹرانسفر ضروری تھا،مجھے اپنے اختیارات اور آئینی تقاضے پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے آرمی سے سیکیورٹی مانگی تو انکار کر دیا گیا، عدلیہ سے آر اوز مانگے تو انہوں نے انکار کر دیا اور انتخابات کے لیے پیسہ مانگا اس سے بھی انکار کر دیا گیا۔ میرے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے، ایسے حالات میں کس طرح فری فیئر الیکشن کروائے جائیں۔ اگر عدالت ٹرانسفرز کو فری الیکشن میں رکاوٹ سمجھتی ہے تو نہیں کریں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے اس مسئلے پر حکومت سے رابطہ کیا ہے؟چیف الیکشن کمشنرنے جواب دیا کہ حکومت کو اپنے تمام ترمسائل سے آگاہ کیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو صوبےکی بات پر من وعن عمل نہیں کرنا ہوتا، الیکشن کمیشن نے تقرری و تبادلے میں دیکھنا ہوتاہےکہ ٹھوس وجوہات ہیں یا نہیں چیف الیکشن کمشنر کاکہناتھا کہ تفصیلی اجلاس میں صوبوں کوتقرری وتبادلےکی گائیڈ لائنزجاری کی ہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اگر چند کمشنرز، ڈی سی، آر پی او، ڈی پی اوز کے تبادلے نہ ہوئے تو انتخابات شفاف نہیں ہوں گے، عدالت حکم دے دےگی تو تبادلے نہیں کرنے دیں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئےکہ آپ تفصیلی رپورٹ دیں جائزہ لیں گےکہ کیا مشکلات ہیں لیکن 37 اضلاع ہیں سب میں ٹرانسفرز کردو یہ نہیں ہوگا، الیکشن کا اعلان کیا نہیں اور ٹرانسفرز کر دیں، 90 روز میں الیکشن آئین کی منشا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عدالت ایسا کوئی حکم نہیں دے رہی، آئین کا ایک ایک لفظ ہمیں پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے انتخابات کا معاملہ ہوا میں اڑا دیا مگر تقرری و تبادلےکی گائیڈ لائنز بنانا یاد ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان نہیں کرسکتا، اس پر جسٹس مظاہرنقوی نے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان نہیں کرسکتا؟

    چیف الیکشن کمشنر نےکہا کہ گورنر یا صدر انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں، آئین کے آرٹیکل105 کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا۔

    سپریم کورٹ نےالیکشن کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر الیکشن کمیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ مناسب ہوگا عدالت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے کیونکہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل آنے پر انتخابات کا کیس سنے گی یا اسی کیس میں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبادلہ کیا گیا اور غلام محمود ڈوگر کا الیکشن کمیشن کے کہنے پر ہی تبادلہ ہوا، ایسے پیش نہیں ہوتے تو ہم نوٹس دے کر بھی طلب کر سکتے ہیں۔

    وکیل عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ غلام محمود ڈوگر کو الیکشن کمیشن کے زبانی حکم پر تبدیل کیا گیا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا زبانی احکامات پر تبادلے کی بات درست ہے؟

    چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ چیف سیکریٹری نے 23 جنوری کو فون کرکے تبادلے کے متعلق کہا تھا اور تحریری درخواست آنے پر 6 فروری کو باضابطہ اجازت نامہ دیا۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو سپریم کورٹ کے احکامات کا علم نہیں تھا؟ چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ جو ریکارڈ ملا اس میں سپریم کورٹ احکامات کا ذکر نہیں تھا، تبادلوں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریماریس دیئے کہ آپ صرف آئین اور قانون کے پابند ہیں اپنی پالیسیوں کے نہیں۔

    دوران سماعت بار بار سر ہلانے پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کی سرزنش کر دی جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں اور کیوں روسٹم پر کھڑے ہو کر سر ہلا رہے ہیں؟ عمر حمید خان نے بتایا کہ میں سیکریٹری الیکشن کمیشن ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ جو بھی ہیں نشست پر بیٹھیں۔

    اٹارنی جنرل نے استدعا کی اگرضروری نہیں تو الیکشن کمشنرکل پیش نہ ہوں چیف الیکشن کمشنر کا بھی کہنا تھا کہ عدالت اجازت دے تو میری جگہ سیکرٹری یا سینیئر افسر کل پیش ہوجائےگاجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ ادارے کے سربراہ ہیں آپ خود پیش ہوں، سکون سے سنیں گے۔

    سپریم کورٹ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سمیت پنجاب میں تمام افسران کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو بھی کل پھر طلب کرلیا۔

  • پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں الیکشن سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: گورنر پنجاب کی زیرصدارت گورنر ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈی جی لا الیکشن کمیشن اور دیگر حکام بھی شریک ہیں جبکہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا –

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک افراد نے اپنی اپنی آئینی اور قانونی تجاویز دیں جبکہ اجلاس کے شرکا نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پروضاحت طلب کرنے پر اتفاق کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں لاہورہائیکورٹ سے فیصلےکی تشریح کیلئے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ صدر مملکت کو پنجاب الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دے، درخواست میں وفاقی حکومت، صدر ، گورنر پنجاب، نگران وزیر اعلیٰ کو فریق بنایا گیا-

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے 10 فروری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دیا،دوسری جانب عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا-