Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکی حکومت صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے،پاسداران انقلاب

    امریکی حکومت صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے،پاسداران انقلاب

    ایران کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے-

    ابراہیم ذوالفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ جاری بیان میں کہا کہ جب تک امریکی ہمارے خطے میں اپنی عسکری مہم جوئی جاری رکھیں گے، اس وقت تک کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا،امریکی حکومت نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے، 200 ڈالرز کے تیل کو ’ہیلو‘ کہہ دیں۔

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے ایک سینئر ترجمان ابوالفضل شیکرچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع تر ہوگا جو خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے اگر دوبارہ جنگ کی صورت پیدا ہوئی تو ایران کے حملے خطے کی سرحدوں سے باہر تک پہنچیں گے اور یہ گزشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ شدید اور زیادہ پرتشدد ہوں گے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے، اس سے قبل امریکی سینٹرل کمان(سینٹ کام) کا بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جس میں ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے، امریکی فورسز نے ایران کے ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ بارودی سرنگین بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی افواج کا دفاع کرے گی۔

  • مذاکراتی عمل کو بڑا دھچکا،امریکا نے ایران پر پھر حملہ کر دیا

    مذاکراتی عمل کو بڑا دھچکا،امریکا نے ایران پر پھر حملہ کر دیا

    جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششوں کے دوران امریکا نے جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے ، جس میں ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے بتایا کہ بارودی سرنگین بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی افواج کا دفاع کرے گی۔

    سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز نے بتایا کہ امریکی فوجیوں اور جنگی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی ، امریکی افواج کو ایرانی فوجی سرگرمیوں سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا،اس سے پہلے ایران کے شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں ایرانی میڈیا نے کہا تھا کہ بندرعباس میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔

  • ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی وہ ان لوگوں پر ہنستے ہیں جو بغیر حقائق جانے رائے دے رہے ہیں۔

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کو ناکام سیاستدان غلط انداز میں پیش کررہے ہیں، ڈیموکریٹ سینیٹر بار بار غلط پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے جیسا نہیں ہوگاٹرمپ کے مطابق اوباما انتظامیہ کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ ایسے معاہدے نہیں کرتے اور ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں امریکی مفادات کو ترجیح دی جائے گی،ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن دوسرا راستہ اختیار کرے گا امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دے گا تاہم اگر ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ نہ ہوسکا تو متبادل آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے ساتھ ایسے نکات زیر غور ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر محدود مدت کے بامعنی مذاکرات شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے مختلف راستوں کو محدود کرنا تھا معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی سخت نگرانی اور تصدیقی نظام بھی شامل تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرتے ہوئے اسے ناقص معاہدہ قرار دیا تھا۔ امریکی انخلا کے بعد ایران نے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کردیا تھا۔

  • ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش  ، امریکی میڈیا

    ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش ، امریکی میڈیا

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے بدلے کئی عرب اور مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ایک موقع پر خاموشی چھا گئی تو ٹرمپ نے پوچھا، ’’آپ لائن پر ہیں یا نہیں؟‘‘دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پا کستان، سعودی عرب اور قطر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم نہ کیا گیا تو ’’خطرناک نتائج‘‘ سامنے آسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے مذاکرات اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں سفارتی دباؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تاہم متعلقہ ممالک کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیاامریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اشارہ دیا کہ شاید ایران بھی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے، تاہم عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس تجویز پر خاموشی اختیار کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اس ممکنہ معاہدے میں کوئی بڑا سفارتی فائدہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام خود اس مجوزہ ڈیل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل منصوبے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے اہم معاملات کو نظر انداز کررہا ہےاسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ اگر 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کردی گئی تو ایران کو معاشی اور عسکری بحالی کا وقت مل جائے گا، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے لیے دوبارہ کارروائی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    اسرائیلی چینل 12 کے مطابق سینئر اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ ’’اسرائیل کے مفاد میں نہیں‘‘ جبکہ بعض حکام نے اسے ’’خراب اور انتہائی مسئلہ خیز ڈیل‘‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کی جانب سے طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ “مناسب اور بہترین” ہوگا جبکہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو انہوں نے ’’ناکام لوگ‘‘ قرار دیا،جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ’’72 گھنٹوں میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر نہیں ہوسکتا-

  • امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے اور دونوں فریق ایک ابتدائی فریم ورک تک پہنچ گئے ہیں، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    ایرانی ترجمان کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا محور صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، جبکہ ایران کا جوہری پروگرام اس وقت مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں امریکا کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے پاکستان کا کوئی وفد بھیجنے کا فی الحال پروگرام نہیں، تاہم پاکستان اس سفارتی عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے،فریقین کے درمیان کئی اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

    اسماعیل بقائی نےاسرائیلی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کی موجودہ صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • امید ہے امریکا  ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،وزیراعظم

    امید ہے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،وزیراعظم

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی-

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے بہت کام ہوچکا ہے اور معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،چین کی جانب سے پیش کیا گیا چار نکاتی ایجنڈا خطے میں امن کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور پاکستان اس کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کی ہے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطے کے امن اور معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحالیہ سفارتی رابطوں میں فیلڈ مارشل نے بھی اہم کردار ادا کیا اور مختلف سطحوں پر ہونے والے رابطوں کو مؤثر بنانے میں معاونت کی،پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف آج چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مصروف دن گزاریں گے جہاں وہ چینی صدر، وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گےوزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران پاک چین تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا وزیراعظم کو گریٹ ہال آف دی پیپلز آمد پر گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جائے گا جبکہ چین کے وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب کا استقبال کریں گے۔

    دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے جن میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور زیر غور آئیں گے، اس موقع پر معاہدوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد کی جائے گی وزیراعظم بیجنگ میں تیانمن اسکوائر جا کر عوامی ہیروز کی یادگار پر حاضری دیں گے اور پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔

    دورے کے دوران وزیراعظم چینی سرمایہ کاروں اور مختلف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری منصوبوں پر گفتگو متوقع ہے،وزیراعظم پاک چین سفارتی تعلقات کی75ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقر یب میں بھی شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا جائے گا۔

  • امن مذاکرات:ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے،مارکو روبیو

    امن مذاکرات:ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے،مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حل کے لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید خبریں آج سامنے آسکتی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس وقت چار روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں انہوں نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب جے شنکر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کہ میرے خیال میں امکان موجود ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر ملے گی، تاہم انہوں نے ممکنہ اعلان کی تفصیلات بیان نہیں کیں،امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد جنگی صورتحال کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا ہے ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کا بڑا حصہ طے پا چکا ہے اور اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات پر کام جاری ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست ایران ہے، ایران عوام کی فلاح، سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت پر وسائل خرچ کرتا ہے، ایران بین الاقوامی آ بی گزرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور شہری جہازوں کو یرغمال بنا رہا ہے، جس سے عالمی تجارت اور سمندری سلامتی کو خطرات لاحق ہیں،امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس حوالے سے جاری مذاکرات میں ایران کی رضامندی اور مکمل عملدرآمد ضروری ہوگا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کئی اہم امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔

    برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا معاہدہ ضروری ہے جو تنازع کا خاتمہ کرے اور آبنائے ہرمز میں غیر مشروط اور آزاد بحری آمد و رفت یقینی بنائے انہوں نے زور دیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر علاقائی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں کہا کہ ترکی ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفار ت کاری اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ترکی ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

    ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو ایک جامع فریم ورک معاہدے تک پہنچنا چاہیے جو جنگ بندی کو مضبوط بنائے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ یقینی کرے اور خطے کے تمام ممالک کے سکیورٹی مفادات کا تحفظ کرے۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو خطے میں امن اور سفارتی حل کے مشترکہ مقصد کے مزید قریب لے جانے والا اہم قدم ہے پاکستان خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام اور استحکام کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

    پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد اسلام آباد میں کی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف علاقائی ممالک سفارتی رابطوں میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو  ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    واشنگٹن ڈی سی میں واقع وائٹ ہاؤس کے باہر سیکرٹ سروس کے چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے میں 21 سالہ نوجوان کی شناخت منظر عام پر آ گئی ،حملہ آور کو نسائر بیسٹ کو حملہ آور کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ سے قبل یا دوران خود کو ’’حضرت عیسیٰ ‘‘ کا اوتار قرار دیا اور ذہنی طور پر غیر مستحکم سمجھا جا رہا تھاجبکہ وہ پہلے بھی وائٹ ہاؤس کے اطراف مشکوک سرگرمیوں اور غیر قانونی داخلے کی کوششوں کے باعث متعدد بار نشان دہی میں آ چکا تھا، جبکہ اسے پہلے بھی گرفتا ر کیا گیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال اسے دو مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا، جن میں ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے اور ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے جیسے الزاما ت شامل تھے اس کے خلاف وائٹ ہاؤس کے قریب جانے پر عدالتی پابندی بھی عائد تھی، جس کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کی گئی واقعے کے دن سیکر ٹ سروس اہلکاروں نے اسے 17ویں اسٹریٹ نارتھ ویسٹ کے قریب مشکوک حالت میں دیکھا، جہاں اس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک راہ گیر شدید زخمی ہوا۔

    جوابی کارروائی میں سیکرٹ سروس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو موقع پر ہی بے اثر کر دیا بعد ازاں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

  • ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری  پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے دو امریکی حکام کے جاری مغربی ایشیائی تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ہونے والے وسیع تر امن معاہدے کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو امریکی حکام نے کی ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، البتہ امریکی حکام کے مطابق ایران اصولی طور پر اپنے اس یورینیم ذخیرے سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک وسیع فہم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے حتمی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے مستقبل میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران یورینیم کو منتقل کرے گا، اس کی افزودگی کم کرے گا یا کسی اور طریقے سے اسے غیر مؤثر بنایا جائے گا۔

    اس پیش رفت کو مذاکرات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی تھی کہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی جاچکی ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب تصور کی جاتی ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ذخیرے کو مزید افزودہ کرکے کئی ایٹمی بموں کے لیے مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

    یہ معاملہ مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا تھا ایرانی مذاکرات کار مبینہ طور پر یورینیم ذخیرے سے متعلق کسی بھی عزم کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتے تھے، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے زور دیا کہ ابتدائی معاہدے میں تہران کو کم از کم ایک ابتدائی وعدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز تیار کیے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ زیادہ تر اصفہان کی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں محفوظ ہے، جسے گزشتہ سال امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے زیر غور آپشنز میں بنکر شکن بموں کے استعمال کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ زیرِ زمین ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کیا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کمانڈو کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران کے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے بعد یورینیم ذخیرے پر قبضہ کیا جاسکے، تاہم زیادہ خطرات کے باعث اس آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی زیر غور ایک ممکنہ راستہ 2015 کے اس جوہری معاہدے جیسا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے روس منتقل کردیے تھے ایک اور تجویز یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرکے اسے ہتھیاروں کے لیے ناقابلِ استعمال بنانا ہے۔

    مجوزہ معاہدے میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی رہائی بھی شامل ہونے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو سے متعلق زیادہ تر فنڈز اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب حتمی جوہری معاہدہ مکمل ہوجائے گا، تاکہ تہران مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو آزادانہ تیل فروخت کی اجازت دی جا سکتی ہے،تاہم خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا-

    امریکی خبر ایجنسی ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا بتانا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے جس کی مدت 60 روز ہوگی اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی معاہدے کے تحت ان 60 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے اور اس اقدام سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا تاہم عالمی تیل مارکیٹ کو بھی نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری تجارت بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا۔

    خبر ایجنسی کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایران فوری طور پر منجمد فنڈز کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں تھا تاہم امریکی مؤقف یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف عملی رعایتوں کے بعد کیے جائیں گے مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے امریکا کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور حساس جوہری مواد سے متعلق رعایتوں پر آمادہ ہے امریکی حکام کا بتانا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل ہے پاکستانی فریق اس معاہدے میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں اور فیلڈ مارشل معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعہ اور ہفتے کو تہران میں موجود رہےامریکی حکام کا کہنا ہےکہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں حل ہو جائیں گے اور معاہدے کا اعلان آج اتوار کے دن کیا جا سکتا ہے۔