Baaghi TV

Tag: امریکا

  • آبنائے ہرمز خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے،اسماعیل بقائی

    آبنائے ہرمز خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے،اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یکم مارچ سے ایران کے خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے-

    سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی اور جہاز رانی کی آزادی کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ناکہ بندی ختم کرنا کوئی سفارتی رعایت نہیں، بلکہ یہ محض ایک غیر قانونی عمل کا خاتمہ ہوگا جو سرے سے شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد یکم مارچ سے آبنائے ہرمز ایران کے ’خصوصی اقدامات‘ کے تحت کام کر رہا ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو صرف ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطے اور ہم آہنگی کے بعد ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران اور عمان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ساحلی ممالک نے خطے کی سلامتی، قومی مفادات اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے ایران اور عمان ایسے طریقہ کار وضع کریں گے جو ایک جانب دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو یقینی بنائے گا اور دوسری جانب عالمی جہاز رانی کے محفوظ تسلسل کی ضمانت بھی فراہم کرے گا۔

    ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر بھی ردعمل دیا جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کا ذکر کیا گیا تھااسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ان کی پوری توجہ صرف اور صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے’اس مرحلے پر یورینیم کی افزودگی کی تفصیلات اور افزودہ یورینیم کے حوالے سے بات کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران حالیہ تجربات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ایران اور عمان کی جانب سے مستقبل میں اختیار کیے جانے والے کسی بھی انتظامی طریقہ کار کا مقصد قومی سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا،مغربی ممالک کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم اور سخت زبان کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران ’یہ کرنا چاہیے‘ یا ’یہ کرنا ہوگا‘ جیسی زبان قبول نہیں کرتا اور اپنے فیصلے صرف اپنی قوم کے مفادات اور حقوق کی بنیاد پر کرتا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں روس اور چین کو خصوصی سہولتیں دینے کا اعلان کر دیا ہے-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روس اور چین کے جہازوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا اور اس حوالے سے نئی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

    ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ مشاورتی اجلاس اہم رہے تاہم موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں آیا یورینیم سے متعلق امور امریکا کے ساتھ جاری رابطوں کا حصہ بھی نہیں ہیں ایران اپنی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔

  • طبی معائنے کے بعدصدر ٹرمپ کو مکمل طور پر فٹ قرار

    79 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی معالج نے طبی معائنے کے بعد انہیں بہترین صحت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بطور صدر اپنی تمام ذمہ داریا ں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں تاہم انہیں وزن کم کرنے اور جسمانی سرگرمی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    امریکی بحریہ کے کیپٹن اور صدارتی معالج شان باربابیلا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی صحت بہترین ہے اور ان کی قلبی، پھیپھڑوں، اعصابی اور مجموعی جسمانی کارکردگی مضبوط ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ احتیاطی طبی مشوروں میں متوازن غذا، کم مقدار میں اسپرین کا استعمال، جسمانی سرگرمی میں اضافہ اور وزن میں کمی کی ہدایت شامل ہے۔

    3 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ واشنگٹن کے قریب واقع والٹر ریڈ میڈیکل اسپتال میں منگل کے روز کیے گئے طبی معائنے اور مختلف تشخیصی ٹیسٹوں کی تفصیلات پر مشتمل ہےڈاکٹر باربابیلا نے صدر کو کمانڈر اِن چیف اور سربراہ مملکت کے تمام فرائض انجام دینے کے لیے مکمل طور پر فٹ قرار دیا۔

    اگلے ماہ 80 برس کے ہونے والے ٹرمپ اس وقت 3 ادویات استعمال کر رہے ہی جن میں 2 کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے جبکہ ایک دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اسپرین شامل ہے ٹرمپ کا قد 6 فٹ 3 انچ (191 سینٹی میٹر) ہے جبکہ ان کا وزن 238 پاؤنڈ (108 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال اپریل میں ہونے والے طبی معائنے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس وقت ان کا وزن 224 پاؤنڈ تھا،رپورٹ میں ٹرمپ کی ٹانگوں میں معمولی سوجن اور ہاتھوں پر نشانات کا بھی ذکر کیا گیا جنہیں ڈاکٹرز نے معمولی اور بے ضرر قرار دیا۔

    معالج کے مطابق صدر کی قلبی کارکردگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے جبکہ جامع اعصابی معائنے میں ان کی ذہنی حالت نارمل پائی گئی جس میں ڈپریشن اور بے چینی کے ٹیسٹ بھی شامل تھے۔

    یہ معائنہ صدر کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد تیسرا طبی معائنہ تھا اور یہ ان کی صحت سے متعلق بڑھتی قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا جن میں ہاتھوں پر نیل پڑنے اور بعض ملاقاتوں کے دوران غنودگی کے تاثر جیسے معاملات شامل تھے۔

    صدر ٹرمپ نے طبی معائنے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ان کا طبی معائنہ بالکل بہترین رہا۔

  • ایران کا  جزیرہ قشم میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایران کا جزیرہ قشم میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریبی علاقے جزیرہ قشم میں امریکا کا جدید آربٹر ڈرون مار گرایا۔

    ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایئرڈیفنس فورس نے ہفتے کو امریکا-صہیونی جارح دشمن کا ڈرون کا سراغ لگایا گیا اور اس کے بعد گرایا گیا، جوائنٹ ایئرڈیفنس ہیڈکوارٹرز کے مشترکہ نیٹ ورک کے تحت فعال ایرانی فوج کے ایئر ڈیفنس نے بغیرپائلٹ کے طیارے کو مار گرایا۔

    واضح رہے کہ 26 مئی کو پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس کے ایئرڈیفنس یونٹ نے خلیج فارس کی فضا میں امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو نشانہ بنایا تھا اور خبرادار کیا تھا کہ امریکی کی جانب سے جارحیت کے ذریعے جنگ بندی کی کسی قسم کی خلاف ورزی کا جواب بھی بدترین دیا جائے گا، امریکی دہشت گرد فوج نے خطے میں کشیدگی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئےخلیج فارس کے خطے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم خفیہ نگرانی کے ذریعے پاسداران انقالب کے ایئرڈیفنس نے ایم کیو-9 ڈرون کی نشان دہی کی اور مار گرایا پاسداران انقلاب نے آر کیو-4 ڈرون اور ایف-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایرانی فضائی حدود سے فرار ہوگئے۔

  • ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، امریکی وزیر جنگ

    ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، امریکی وزیر جنگ

    واشنگٹن: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی-

    امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جو بھی معاہدہ طے پائے گا وہ ایک اچھا اور مؤثر معاہدہ ہو گا تاہم ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتاامریکا اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اور ضرورت پڑنے پر جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ تہران بخوبی جانتا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے اسے کیا اقدامات کرنا ہوں گے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے ہیں۔

    امریکی وزیر جنگ نے میری چینی وزیر دفاع کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی جس میں مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی منظوری دیتے وقت امریکی مفادات کو اولین ترجیح دیں گے۔

    انہوں نے جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور فلپائن کی دفاعی کوششوں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ ممالک جو ضرورت سے زیادہ امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتے ہیں انہیں امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک حقیقی دوستی فروغ پا رہی ہے۔

    انہوں نے یہ بات شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی فورم کے موقعے پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی، سنگاپور میں منعقدہ اس اہم سیکیورٹی فورم میں تقریباً 45 ممالک کے دفاعی حکام اور سیکیورٹی ماہرین شریک ہوئے پیٹ ہیگستھ نے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی قیادت نے امریکا اور ایران کے درمیا ن امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں بھارت کا ذکر کیا لیکن میں آسانی سے پاکستان اور ان کرداروں کا بھی ذکر کر سکتا تھا جو فیلڈ مارشل اور وزیراعظم امن مذاکرات میں ادا کر رہے ہیں،میرے خیال میں ایک غیر متوقع پیش رفت اور حقیقی دوستی وہاں فروغ پا رہی ہے، جو نہایت اہم ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں پاک امریکا تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے مارچ 2025 میں پاکستان نے دا عش خراسان کے ایک اہم رکن محمد شریف اللہ کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا جس پر صدر ٹرمپ نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا بعد ازاں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر جنگ بندی میں امریکی ثالثی اور پھر پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔

    صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاکستانی قیادت اور خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی، امریکا اور ایران کے درمیان رواں برس پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک اہم ثالثی کردار ادا کیا، اسلام آباد کی میزبانی میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد مذاکراتی نشستیں ہوئیں جن میں جنگ بند ی اور کشیدگی کے خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق پیٹ ہیگستھ کے حالیہ بیانات پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید مضبوط تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

  • ایران امریکا جنگ کے درمیان پاکستان قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا، ترک میڈیا

    ایران امریکا جنگ کے درمیان پاکستان قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا، ترک میڈیا

    ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تناظر میں پاکستان خطے میں ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

    ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق پاکستان نے خاموش، منظم اور مؤثر سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے جس نے اس کے علاقائی اور عالمی کردار کو نمایاں کیا ہے، خطے کی دیگر طاقتوں کے برعکس پاکستان نے اشتعال انگیز بیانات کے بجائے خاموش، منظم اور بیک چینل ڈپلومیسی کو ترجیح دی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارت کاری تشہیر سے دور اور عملی روابط پر مبنی رہی، جس کے باعث مشکل حالات میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کا سلسلہ جاری رکھا جا سکا پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، عسکری اور انٹیلیجنس ساکھ، اور مختلف عالمی و علاقائی طاقتوں کے ساتھ متوا زن تعلقات نے اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان بیک وقت قطر، ترکی، سعودی عرب، چین اور ایران کے ساتھ فعال سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، جس نے اسے خطے میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے کے قابل بنایا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور معاہدوں نے بھی پاکستان کی علاقائی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔

    ترک میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف سخت اور واضح مؤقف اختیار کیا، جس سے پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کو مزید استحکام ملا مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں پاکستان ایک قابل قبول ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم اس اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کو معاشی چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی، ایرانی، سعودی، قطری اور ترک حکام بھی ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کے سفارتی کردار اور ثالثی کوششوں کی تعریف کر چکے ہیں۔

  • امریکا نے ایرانی شہریوں پر  پریسیژن اسٹرائیک میزائل کا استعمال کیا،ایران

    امریکا نے ایرانی شہریوں پر پریسیژن اسٹرائیک میزائل کا استعمال کیا،ایران

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے جنگ کے دوران ایرانی شہریوں پر طویل فاصلے تک درست ہدف کو نشانہ بنانے والے پریسیژن اسٹرائیک میزائل کا استعمال کیا۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 28 فروری کو ہونے والے ایک امریکی میزائل سسٹم کی تفصیلات جاری کی ہیں یہ حملہ کھیلوں کے ایک ہال (اسپورٹس ہال) پر کیا گیا تھا جو امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے روز کا واقعہ بتایا گیا ہے۔

    اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اس حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں دو سالہ بچی بھی شامل تھی، اس حملے میں ایک نئے ہتھیار کے نظام کا استعمال کیا گیا جس میں ایئر برسٹ میزائلز شامل تھے ان میزائلوں سے تیز رفتار ٹنگسٹن پیلٹس خارج ہوئے تھے جو پورے علاقے میں ہر سمت انتہائی تباہ کن طاقت کے ساتھ پھیل گئے تھے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ غلطی نہیں تھا بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا جس کے تحت ایک نئے ہتھیار کی تباہ کن صلا حیت کو ایرانی شہریوں پر آزمایا گیا۔ انہوں نے اسے ایک واضح اور قابلِ مذمت جنگی جرم قرار دیا یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے ز مرے میں آتا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    امریکی ریاست میری لینڈ میں قائم دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق یہ طویل فاصلے تک درست ہدف کو نشانہ بنانے والا پریسیژن اسٹرائیک میزائلز سسٹم ہے کمپنی نے دسمبر 2023 میں امریکی فوج کو پہلے پریسیژن اسٹرائیک میزائلز فراہم کیے تھے یہ میزائل 60 کلومیٹر (37 میل) سے لے کر 499 کلومیٹر (310 میل) سے زائد فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ان جدید میزائلوں ایم ایل آر ایس ایم 270 اور ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم کو فیملی آف لانچرز کے ساتھ ہم آہنگ بنایا گیا ہے، جو دونوں بھی لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ ہیں اور برطانیہ اور امریکا کی افواج استعمال کرتی ہیں۔

    ایم ایل آر ایس ایم کا مطلب ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹمز ہے، جو میزائل فائر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور برطانیہ نے 2022 میں اس کے متعدد سسٹمز یوکرین کو بھیجے تھے۔ HIMARS کا مطلب ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم ہے، اور اسی سال امریکا نے بھی اس کے کئی یونٹس یوکرین کو فراہم کیے تھے۔

    ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم کا ایم – 142 ایک ہائی ٹیک، ہلکا اور پہیوں پر نصب راکٹ لانچر ہے جو میدانِ جنگ میں زیادہ تیزی اور نقل و حرکت کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ہر یونٹ میں چھ جی پی ایس گائیڈڈ راکٹ یا بڑے میزائل جیسے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل شامل کیے جا سکتے ہیں، اور انہیں صرف ایک چھوٹے عملے کے ذریعے تقریباً ایک منٹ میں دوبارہ لوڈ کیا جا سکتا ہے، پریسیژن اسٹرائیک میزائل کو تیزی سے تیار کیا جا سکتا ہے، اور کمپنی امریکی فوج کے طویل فاصلے تک درست نشانے والے اسلحہ کے تیز تر منصوبے کے مطابق پیداوار اور ترسیل کے لیے تیار ہے۔

  • امریکی حکومت صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے،پاسداران انقلاب

    امریکی حکومت صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے،پاسداران انقلاب

    ایران کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے-

    ابراہیم ذوالفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ جاری بیان میں کہا کہ جب تک امریکی ہمارے خطے میں اپنی عسکری مہم جوئی جاری رکھیں گے، اس وقت تک کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا،امریکی حکومت نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے، 200 ڈالرز کے تیل کو ’ہیلو‘ کہہ دیں۔

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے ایک سینئر ترجمان ابوالفضل شیکرچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع تر ہوگا جو خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے اگر دوبارہ جنگ کی صورت پیدا ہوئی تو ایران کے حملے خطے کی سرحدوں سے باہر تک پہنچیں گے اور یہ گزشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ شدید اور زیادہ پرتشدد ہوں گے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے، اس سے قبل امریکی سینٹرل کمان(سینٹ کام) کا بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جس میں ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے، امریکی فورسز نے ایران کے ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ بارودی سرنگین بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی افواج کا دفاع کرے گی۔

  • مذاکراتی عمل کو بڑا دھچکا،امریکا نے ایران پر پھر حملہ کر دیا

    مذاکراتی عمل کو بڑا دھچکا،امریکا نے ایران پر پھر حملہ کر دیا

    جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششوں کے دوران امریکا نے جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے ، جس میں ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے بتایا کہ بارودی سرنگین بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی افواج کا دفاع کرے گی۔

    سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز نے بتایا کہ امریکی فوجیوں اور جنگی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی ، امریکی افواج کو ایرانی فوجی سرگرمیوں سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا،اس سے پہلے ایران کے شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں ایرانی میڈیا نے کہا تھا کہ بندرعباس میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔

  • ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی وہ ان لوگوں پر ہنستے ہیں جو بغیر حقائق جانے رائے دے رہے ہیں۔

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کو ناکام سیاستدان غلط انداز میں پیش کررہے ہیں، ڈیموکریٹ سینیٹر بار بار غلط پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے جیسا نہیں ہوگاٹرمپ کے مطابق اوباما انتظامیہ کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ ایسے معاہدے نہیں کرتے اور ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں امریکی مفادات کو ترجیح دی جائے گی،ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن دوسرا راستہ اختیار کرے گا امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دے گا تاہم اگر ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ نہ ہوسکا تو متبادل آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے ساتھ ایسے نکات زیر غور ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر محدود مدت کے بامعنی مذاکرات شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے مختلف راستوں کو محدود کرنا تھا معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی سخت نگرانی اور تصدیقی نظام بھی شامل تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرتے ہوئے اسے ناقص معاہدہ قرار دیا تھا۔ امریکی انخلا کے بعد ایران نے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کردیا تھا۔

  • ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش  ، امریکی میڈیا

    ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش ، امریکی میڈیا

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے بدلے کئی عرب اور مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ایک موقع پر خاموشی چھا گئی تو ٹرمپ نے پوچھا، ’’آپ لائن پر ہیں یا نہیں؟‘‘دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پا کستان، سعودی عرب اور قطر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم نہ کیا گیا تو ’’خطرناک نتائج‘‘ سامنے آسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے مذاکرات اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں سفارتی دباؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تاہم متعلقہ ممالک کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیاامریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اشارہ دیا کہ شاید ایران بھی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے، تاہم عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس تجویز پر خاموشی اختیار کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اس ممکنہ معاہدے میں کوئی بڑا سفارتی فائدہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام خود اس مجوزہ ڈیل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل منصوبے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے اہم معاملات کو نظر انداز کررہا ہےاسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ اگر 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کردی گئی تو ایران کو معاشی اور عسکری بحالی کا وقت مل جائے گا، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے لیے دوبارہ کارروائی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    اسرائیلی چینل 12 کے مطابق سینئر اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ ’’اسرائیل کے مفاد میں نہیں‘‘ جبکہ بعض حکام نے اسے ’’خراب اور انتہائی مسئلہ خیز ڈیل‘‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کی جانب سے طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ “مناسب اور بہترین” ہوگا جبکہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو انہوں نے ’’ناکام لوگ‘‘ قرار دیا،جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ’’72 گھنٹوں میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر نہیں ہوسکتا-