Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے اپنے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تباہ شدہ زیرِ زمین میزائل تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا اور بھاری مشینری، بلڈوزرز اور ڈمپ ٹرکوں کی مدد سے بند سرنگوں اور راستوں کو کھول دیا امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈوں کے داخلی راستے تباہ کرکے اس کی میزائل صلاحیت محدود کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے متعدد مقامات پر بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران نے 18 زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر حملوں کے بعد بند ہونے والے 69 میں سے 50 سرنگی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں، جبکہ کئی تباہ شدہ سڑکیں بھی مرمت یا دوبارہ تعمیر کر دی گئی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ کشیدگی یا حملے شروع ہوئے تو ایران اب بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن اسٹڈیز سے وابستہ تجزیہ کار سیم لیئر کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور جب تک لانچرز اور عملہ موجود ہے، ایران میزائل فائر کرتا رہ سکتا ہے،ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کئی سو میٹر گہری چٹانوں کے نیچے قائم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنگ کے دوران ایران مسلسل خطرات کے باوجود سرنگوں کی کھدائی اور بحالی میں مصروف رہا، جبکہ امریکا اور اسرائیل اکثر ان مشینوں کو بھی نشانہ بناتے رہے جو ملبہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران بارہا ایران کے میزائل پروگرام کو بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنا جنگ کے اہم اہداف میں شامل بتایا تھا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سی این این کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان شان پارنل نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً 1000 میزائل زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ موجود ہیں، جبکہ ایران کا میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔

  • امریکا آسٹریلیا کو سیکنڈ ہینڈ  ورجینیا کلاس آبدوزیں دے گا

    امریکا آسٹریلیا کو سیکنڈ ہینڈ ورجینیا کلاس آبدوزیں دے گا

    امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے تاریخی ’آوکس‘ سیکیورٹی معاہدے میں ایک اہم ترین تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت امریکا اب آسٹریلیا کو ایک بھی نئی جوہری آبدوز فراہم نہیں کرے گا، بلکہ اس کی جگہ تینوں سیکنڈ ہینڈ (استعمال شدہ) ورجینیا کلاس آبدوزیں دی جائیں گی۔

    آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی بھی نئی ورجینیا کلاس کشتی نہ خریدنے کا مقصد نظام کو آسان ترین بنانا ہے اس سے قبل آسٹریلیا کو ایک نئی اور 2 پرانی آبدوزیں ملنے کی توقع تھی، تاہم اب تینوں ہی استعمال شدہ آبدوزیں خریدنے سے آسٹریلیا کے دفاعی بجٹ میں خطیر رقم کی بچت ہوگی۔

    آسٹریلوی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ اگرچہ اس تبدیلی سے طویل المدتی معاہدے کی مجموعی لاگت پر کوئی بنیادی اثر نہیں پڑے گا، جس کا تخمینہ اب بھی کم از کم 370 ارب ڈالرز ہے، لیکن تینوں استعمال شدہ آبدوزوں کے انتخاب سے آسٹریلوی عملے کے لیے تربیت اور آپریشنل امور انتہائیجوہری آبدوز آسان اور سستے ہو جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس راستے پر چلتے ہوئے ہر ممکنہ کفایت شعاری کے آپشن کو تلاش کررہے ہیں، جو مجموعی پروگرام کی لاگت میں ایک مفید مالیاتی بچت کا باعث بنے گا آوکس معاہدے کی لاگت اس کے پورے دورانیے کے دوران آسٹریلیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا محض 0.15 فیصد بنتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے ایک مشترکہ بیان میں آبدوزوں کی فراہمی کے اس معاہدے میں کی جانے والی حالیہ ترمیم کی باقاعدہ تصدیق کی تھی اس نئی حکمت عملی کے تحت سال 2030 کے اوائل سے آسٹریلوی عملہ ان استعمال شدہ امریکی آبدوزوں پر باقاعدہ فرائض سرانجام دینا شروع کر دے گا، جس سے خطے میں دفاعی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

  • امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے-

    رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا، اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عا ئد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا،اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کی یقینی ضمانت موجود نہ ہو۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بیان آج صبح منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران دیا کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،ایران کے لیے واحد معیار یہ ہے کہ وہ اپنی جانب سے کسی بھی عہد و ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے عملی اور ٹھوس نتائج حاصل کرے۔

    یہ بیان انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے اور پارلیمانی پریزیڈیم کے ہمراہ حلف اٹھانے کے بعد دیا کہا کہ تہران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب اس بات کا یقین ہو کہ ایرانی عوام کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں اور معاہدے کے نتائج عملی طور پر سامنے آ چکے ہیں،محض وعدوں یا یقین دہانیوں کی بنیاد پر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایٹم بم حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گااگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

  • ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج  دیا،امریکی ویب سائٹ

    ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج دیا،امریکی ویب سائٹ

    ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج کر اہم شقوں میں بڑی تبدیلی مانگ لی ہے-

    امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے میں متعدد ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو مزید سخت اور واضح بنانا چاہتے ہیں۔

    عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیا اور اس میں نظرثانی کی ہدایت جاری کی،صدر ٹرمپ خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے مستقبل، اس کے ذخائر اور ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق مزید وضاحت چاہتے ہیں امریکی قیادت کا مؤقف ہےکہ ان نکات کو حتمی معاہدے میں زیادہ واضح انداز میں شامل کیا جانا چاہیےتاکہ بعد میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے۔

    امریکی عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بحری آمد و رفت کی بحالی سے متعلق بعض شقوں کی زبان میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ معاہدے کی شرائط زیادہ مضبوط اور قابلِ عمل ہونی چاہئیں امریکا کی جانب سے مجوزہ ترامیم ایران کو بھجوا دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ تہرا ن ان پر تقریباً تین دن کے اندر اپنا جواب دے گا اگر دونوں فریق متنازع نکات پر اتفاق کر لیتے ہیں تو معاہدہ ایک ہفتے یا اس سے بھی کم وقت میں طے پا سکتا ہے۔

    مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سب سے بڑی سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات اب بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہیں-

  • کوئی  قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،ٹرمپ

    کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایسے ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے جسے انہوں نے جاری مذاکرات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے وہ تمام اہداف حاصل کر رہا ہے جو اس نے ایرا ن کے حوالے سے مقرر کیے تھے، وہ کسی جلد بازی میں نہیں ہیں کیونکہ جلد بازی کی صورت میں بہتر اور دیرپا معاہدہ ممکن نہیں ہو سکتا۔

    ٹرمپ کے مطابق ابتدائی طور پر ایرانی مؤقف صرف جوہری ہتھیار نہ بنانے تک محدود تھا تاہم امریکی اعتراض کے بعد اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ ایران کسی بھی شکل میں جوہری نوعیت کا عسکری ہتھیار خریدنے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، ایرانی مذاکرات کار انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں اور بات چیت میں وقت لگ رہا ہے تاہم واشنگٹن اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے پائیدار نتائج چاہتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہےواشنگٹن تمام ممکنہ آپشنز اپنے پاس رکھتا ہے اور موجودہ صورتحال میں تمام تر سفارتی اور تزویراتی برتری امریکا کے پاس ہے۔

    امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی بحالی سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے گی۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت انتہائی کمزور پوزیشن میں ہےایرانی فوج، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور ان کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے، بعض سابق جنگوں سے یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے،ماضی میں عراق میں ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار مختلف حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ مستقبل میں خطے میں استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

  • امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    امریکاکا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ

    خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، امریکی فوج نے ایک تجارتی بحری جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ جہاز نے ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری محاصرے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، گمبیا کے پرچم تلے چلنے والا تجارتی جہاز ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جہاز کو متعدد بار متنبہ کیا گیا، تاہم اس نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیاحملے کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا اور ایران کی جانب اپنا سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اب تک پانچ تجارتی جہازوں کو غیر فعال کیا جا چکا ہے، جبکہ 116 دیگر جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ ایرانی بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکیں امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور پابندیوں یا محاصرے کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

  • امریکا : دورانِ پرواز طیارہ ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش ناکام

    امریکا : دورانِ پرواز طیارہ ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش ناکام

    امریکا میں ’یونائیٹڈ ایئرلائنز‘ کی ایک جہاز پرواز کے دوران مبینہ طور پر کاک پٹ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مسافر کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد طیارے کو ہنگامی طور پر لینڈ کرانا پڑا۔

    ’یونائیٹڈ ایئرلائنز‘ کی پرواز یو اے 2005 شکاگو کے اوہیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے منی ایپولس کے لیے روانہ ہوئی تھی، دورانِ پرواز ایک ’بے قابو‘ مسافر کے جارحانہ رویے کے باعث طیارے کا رُخ تبدیل کر کے وسکونسن کے ڈین کاؤنٹی ریجنل ایئرپورٹ پر اتار دیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق نامعلوم مرد مسافر مبینہ طور پر روسی زبان میں چیخ و پکار کر رہا تھا اور اس نے کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر طیارے میں موجود عملے اور دیگر افراد کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی واقعے کے دوران پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو ’سکواک کوڈ 7500‘ ارسال کیا، جو طیارے کے ممکنہ ہائی جیک ہونے یا ہائی جیکنگ کی کوشش کی نشان دہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مسافر کو حراست میں لے لیا۔

    ایئرلائن کے مطابق ’پرواز میں 147 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے اور خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا، حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ مسافر کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری رہا-

  • آبنائے ہرمز خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے،اسماعیل بقائی

    آبنائے ہرمز خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے،اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یکم مارچ سے ایران کے خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت چل رہا ہے-

    سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی اور جہاز رانی کی آزادی کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ناکہ بندی ختم کرنا کوئی سفارتی رعایت نہیں، بلکہ یہ محض ایک غیر قانونی عمل کا خاتمہ ہوگا جو سرے سے شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد یکم مارچ سے آبنائے ہرمز ایران کے ’خصوصی اقدامات‘ کے تحت کام کر رہا ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو صرف ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطے اور ہم آہنگی کے بعد ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں ایران اور عمان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ساحلی ممالک نے خطے کی سلامتی، قومی مفادات اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے ایران اور عمان ایسے طریقہ کار وضع کریں گے جو ایک جانب دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو یقینی بنائے گا اور دوسری جانب عالمی جہاز رانی کے محفوظ تسلسل کی ضمانت بھی فراہم کرے گا۔

    ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر بھی ردعمل دیا جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے خاتمے کا ذکر کیا گیا تھااسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال ان کی پوری توجہ صرف اور صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے’اس مرحلے پر یورینیم کی افزودگی کی تفصیلات اور افزودہ یورینیم کے حوالے سے بات کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران حالیہ تجربات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ایران اور عمان کی جانب سے مستقبل میں اختیار کیے جانے والے کسی بھی انتظامی طریقہ کار کا مقصد قومی سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا،مغربی ممالک کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم اور سخت زبان کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران ’یہ کرنا چاہیے‘ یا ’یہ کرنا ہوگا‘ جیسی زبان قبول نہیں کرتا اور اپنے فیصلے صرف اپنی قوم کے مفادات اور حقوق کی بنیاد پر کرتا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں روس اور چین کو خصوصی سہولتیں دینے کا اعلان کر دیا ہے-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روس اور چین کے جہازوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا اور اس حوالے سے نئی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

    ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ مشاورتی اجلاس اہم رہے تاہم موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں آیا یورینیم سے متعلق امور امریکا کے ساتھ جاری رابطوں کا حصہ بھی نہیں ہیں ایران اپنی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔