Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا  میں شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کر کے خودکشی کر لی

    امریکا میں شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کر کے خودکشی کر لی

    امریکی ریاست آئیووا (Iowa) کے مشرقی شہر مسکاٹائن (Muscatine) میں ایک مسلح شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

    مسکاٹائن پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تحقیقاتی بیان کے مطابق بظاہر یہ ہولناک واقعہ ایک “گھریلو تنازع” کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم تاحال اس قتلِ عام کی اصل اور قطعی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی جب پولیس افسران جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہیں ایک رہائش گاہ کے اندر سے 4 افراد کی لاشیں ملیں جنہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

    پولیس چیف نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ اگرچہ مشتبہ قاتل پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو چکا تھا، لیکن جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ویلیس میک فارلینڈ کے نام سے کر لی گئی پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا اور اسے شہر کے دریا کنارے واقع پل کے پاس ڈھونڈ نکالا، جب پولیس افسر ان اس سے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    پولیس چیف کے مطابق ملزم کی خودکشی کے بعد جب مزید شواہد اور معلومات سامنے آئیں تو پولیس نے تلاشی کے دوران مزید دو مردوں کی لاشیں برآمد کیں جنہیں ملزم نے نشانہ بنایا تھا ان میں سے ایک لاش قریبی گھر اور دوسری ایک کاروباری مرکز سے ملی تمام مقتولین مبینہ طور پر حملہ آور کے خاندان کے ہی ارکان تھے جن کی تاحال باقاعدہ شناخت پبلک نہیں کی گئی، تاہم ایک امریکی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق مقتولین میں کم از کم دو بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہونے والے حملہ آور کا ماضی میں بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا، تاہم اس کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ مسکاٹائن تقریباً 24 ہزار کی آبادی پر مشتمل ایک ساحلی شہر ہے جو ریاست آئیووا کے دارالحکومت ڈیس موئنز سے 155 میل مشرق میں واقع ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تاخیر اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت مزید اضافے کے بعد 94.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی مزید بڑھ گئی ہے امریکی خام تیل کے نرخ 91.41 ڈالر فی بیرل ہو گئے ہیں، اماراتی تیل مربان کی قیمت بھی مزید اضافے کے بعد 94.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    ماہرین نے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا ہے، واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، چند دن قبل حکومت نے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔

    توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل پر بھاری پریمیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی خریدار شدید اضطراب کے عالم میں مشرقِ وسطیٰ سےباہر متبادل سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،کیونکہ خلیج فارس میں شپنگ کےراستے مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے مالیاتی اسکرینوں پر ایک واضح تضاد پیدا کر دیا ہے۔

  • حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پرایران کا سخت ردعمل

    حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پرایران کا سخت ردعمل

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے،ایسے ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں جو غیرقانونی حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہیں،یورپی یونین کو ان ممالک پر تنقید بند کرنی چاہیے جو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسے فوجی اڈوں اور عسکری وسائل کو نشانہ بنانا، جو کسی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوں، حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود یا وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کے فقدان اور لبنان کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بد لتی ہوئی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو سست کر دیا ہے موجودہ حالات میں لبنان میں جنگ بندی انتہائی اہم ہے لبنان میں جنگ بندی، امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے کا لازمی اور بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔

  • امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا،قالیباف

    امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا،قالیباف

    ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا-

    محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا امریکا نہ صرف ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنے اتحادی اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے سے بھی نہیں روک رہا۔

    قالیباف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بحری ناکہ بندی اور لبنان میں صہیونی حکومت کے جنگی جرائم میں اضافہ، امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی عدم پاسداری کا واضح ثبوت ہیں ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور بالآخر اس کے نتائج سامنے آتے ہیں، وقت آنے پر تمام معاملات واضح ہو جائیں گے۔

    قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکا، اسرائیل اور لبنان سے متعلق صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

  • پاسدارانِ انقلاب کا ایران پر حملوں میں استعمال ہونیوالے فضائی اڈے پر حملہ

    پاسدارانِ انقلاب کا ایران پر حملوں میں استعمال ہونیوالے فضائی اڈے پر حملہ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرواسپیس فورس نے ایک ایسے فضائی اڈے (ایئر بیس) کو نشانہ بنایا ہے، جسے مبینہ طور پر امریکا نے جزیرہ سیریک پر ایک ٹیلی کام ٹاور پر حملے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے رائٹرز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے سرکاری بیان میں اس فضائی اڈے کے عین محلِ وقوع (لوکیشن) کی وضاحت نہیں کی، تاہم یہ کارروائی دونوں ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ جوابی کارروائی ہرمزگان صوبے کے جزیرہ سیریک پر امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد عمل میں لائی گئی اور اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا گیا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ اگر اس قسم کی جارحیت دوبارہ دہرائی گئی تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے اور کویت کی جانب سے بھی اپنی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

  • ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    ایران نے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا، امریکی میڈیا

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے اپنے زیرِ زمین میزائل اڈوں کو دوبارہ بحال کر لیا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تباہ شدہ زیرِ زمین میزائل تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا اور بھاری مشینری، بلڈوزرز اور ڈمپ ٹرکوں کی مدد سے بند سرنگوں اور راستوں کو کھول دیا امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈوں کے داخلی راستے تباہ کرکے اس کی میزائل صلاحیت محدود کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے متعدد مقامات پر بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران نے 18 زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر حملوں کے بعد بند ہونے والے 69 میں سے 50 سرنگی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں، جبکہ کئی تباہ شدہ سڑکیں بھی مرمت یا دوبارہ تعمیر کر دی گئی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ کشیدگی یا حملے شروع ہوئے تو ایران اب بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    جیمز مارٹن سینٹر فار نان پرولیفریشن اسٹڈیز سے وابستہ تجزیہ کار سیم لیئر کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور جب تک لانچرز اور عملہ موجود ہے، ایران میزائل فائر کرتا رہ سکتا ہے،ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کئی سو میٹر گہری چٹانوں کے نیچے قائم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جنگ کے دوران ایران مسلسل خطرات کے باوجود سرنگوں کی کھدائی اور بحالی میں مصروف رہا، جبکہ امریکا اور اسرائیل اکثر ان مشینوں کو بھی نشانہ بناتے رہے جو ملبہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران بارہا ایران کے میزائل پروگرام کو بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنا جنگ کے اہم اہداف میں شامل بتایا تھا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سی این این کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان شان پارنل نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً 1000 میزائل زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ موجود ہیں، جبکہ ایران کا میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک دوبارہ فعال ہو چکا ہے۔

  • امریکا آسٹریلیا کو سیکنڈ ہینڈ  ورجینیا کلاس آبدوزیں دے گا

    امریکا آسٹریلیا کو سیکنڈ ہینڈ ورجینیا کلاس آبدوزیں دے گا

    امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے تاریخی ’آوکس‘ سیکیورٹی معاہدے میں ایک اہم ترین تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت امریکا اب آسٹریلیا کو ایک بھی نئی جوہری آبدوز فراہم نہیں کرے گا، بلکہ اس کی جگہ تینوں سیکنڈ ہینڈ (استعمال شدہ) ورجینیا کلاس آبدوزیں دی جائیں گی۔

    آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی بھی نئی ورجینیا کلاس کشتی نہ خریدنے کا مقصد نظام کو آسان ترین بنانا ہے اس سے قبل آسٹریلیا کو ایک نئی اور 2 پرانی آبدوزیں ملنے کی توقع تھی، تاہم اب تینوں ہی استعمال شدہ آبدوزیں خریدنے سے آسٹریلیا کے دفاعی بجٹ میں خطیر رقم کی بچت ہوگی۔

    آسٹریلوی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ اگرچہ اس تبدیلی سے طویل المدتی معاہدے کی مجموعی لاگت پر کوئی بنیادی اثر نہیں پڑے گا، جس کا تخمینہ اب بھی کم از کم 370 ارب ڈالرز ہے، لیکن تینوں استعمال شدہ آبدوزوں کے انتخاب سے آسٹریلوی عملے کے لیے تربیت اور آپریشنل امور انتہائیجوہری آبدوز آسان اور سستے ہو جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس راستے پر چلتے ہوئے ہر ممکنہ کفایت شعاری کے آپشن کو تلاش کررہے ہیں، جو مجموعی پروگرام کی لاگت میں ایک مفید مالیاتی بچت کا باعث بنے گا آوکس معاہدے کی لاگت اس کے پورے دورانیے کے دوران آسٹریلیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا محض 0.15 فیصد بنتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے ایک مشترکہ بیان میں آبدوزوں کی فراہمی کے اس معاہدے میں کی جانے والی حالیہ ترمیم کی باقاعدہ تصدیق کی تھی اس نئی حکمت عملی کے تحت سال 2030 کے اوائل سے آسٹریلوی عملہ ان استعمال شدہ امریکی آبدوزوں پر باقاعدہ فرائض سرانجام دینا شروع کر دے گا، جس سے خطے میں دفاعی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

  • امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے-

    رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا، اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عا ئد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا،اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کی یقینی ضمانت موجود نہ ہو۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بیان آج صبح منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران دیا کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے،ایران کے لیے واحد معیار یہ ہے کہ وہ اپنی جانب سے کسی بھی عہد و ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے عملی اور ٹھوس نتائج حاصل کرے۔

    یہ بیان انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے اور پارلیمانی پریزیڈیم کے ہمراہ حلف اٹھانے کے بعد دیا کہا کہ تہران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب اس بات کا یقین ہو کہ ایرانی عوام کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں اور معاہدے کے نتائج عملی طور پر سامنے آ چکے ہیں،محض وعدوں یا یقین دہانیوں کی بنیاد پر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایٹم بم حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گااگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔