Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ٹرمپ کی  ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کی مہلت

    ٹرمپ کی ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کی مہلت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔

    اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا مرحلہ وار ایران کے اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا آغاز بڑے بجلی گھروں سے ہوگا، واشنگٹن اس معاملے میں کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    ٹرمپ کے بیان پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    یاد رہے کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک، توانائی کے انفراسٹرکچر اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی شپنگ کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو کر معطل ہو چکی ہے، اور عالمی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    یو اے ای کے صدر کا امارات میں تمام افراد کو خصوصی ایس ایم ایس

    امریکی صدر نے ایک اور موقع پر میڈیا پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کو نقشے سے مٹا چکا ہے، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایران میں اپنے اہداف کئی ہفتے پہلے ہی حاصل کر چکا ہے، ایرانی قیادت ختم ہو چکی ہے جبکہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ بھی تباہ ہو چکی ہیں،ایران کے پاس اب دفاع کے لیے کچھ باقی نہیں بچا اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی معاہدے کے خواہاں نہیں۔

    فضا علی نے دوسری شادی کر لی

    واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے پر غور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اپنی سکیورٹی خود یقینی بنانا چاہیے۔

  • ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ہفتے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پرجاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبر دار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس نے بجٹ معاہدہ نہ کیا تو وہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اہلکار ایئرپورٹس پر تعینات کیے جائیں گے، جو غیر قانونی تارکین وطن کو فوری طور پر گرفتار کریں گے،بیان میں خاص طور پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایئرپورٹس کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی تقریباً 5 ہفتوں سے نئی فنڈنگ سے محروم ہے، جس کے باعث جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن جاری ہے اس صورت حال میں ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکار بغیر تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے عملے کی کمی اور ایئرپورٹس پر طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، ریپبلکنز نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ بحال کرنے پر زور دیا ہے جب کہ ڈیموکریٹس ٹی ایس اے جیسے اداروں کے لیے علیحدہ فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جس میں امیگریشن آپریشنز شامل نہ ہوں۔

    ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

    دریں اثنا ایلون مسلک نے پیشکش کی ہے کہ وہ اس تعطل کے دوران ٹی ایس اے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں امریکا کے بڑے ایئرپورٹس، جن میں ہیوسٹن، اٹلانٹا، نیو اورلینز اور فلاڈیلفیا شامل ہیں، شدید تاخیر کا شکار ہیں، جہاں بعض مقامات پر سیکیورٹی چیک کے لیے انتظار کا دورانیہ تین گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

  • پاکستان  اور چین سمیت 5 ممالک امریکا کے لیے خطرہ قرار

    پاکستان اور چین سمیت 5 ممالک امریکا کے لیے خطرہ قرار

    واشنگٹن میں قومی سلامتی کے حوالے سے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک اہم ترین بریفنگ کے دوران پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ یہ پانچوں ممالک اپنے روایتی میزائلوں کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرنے میں مصروف ہیں، اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے چین اور روس اس وقت امریکا کے لیے سب سے بڑے اور براہ راست چیلنج بن کر ابھرے ہیں کیونکہ وہ ایسا جدید دفاعی نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی سیکیورٹی کو ناکام بنا سکتا ہے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں بھی چین امریکا کا سخت ترین حریف ثابت ہو رہا ہے۔

    امریکا کا ایران کے خلاف مزید فوجی تعیناتی پر غور

    دوسری جانب شمالی کوریا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے میزائل پہلے ہی امریکا تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بین البراعظمی میزائل بنانے کے پروگرام اور جوہری صلاحیت کو حالیہ حملوں کے ذریعے کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے تلسی گبارڈ نے بتایا کہ اگرچہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت کو حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے لیکن وہ اب بھی خطے میں موجود اپنے ساتھیوں کی مدد سے امریکی مفادات پر حملے کرنے کی پوزیشن میں ہے 2025 میں ہونے والی کارروائیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موقع ملنے پر ایرانی حکومت دوبارہ اپنے میزائل اور ڈرون فورس کو کھڑا کر نے کی کوشش کرے گی۔

    قطر کا ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

    سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگر ایران کی فوجی سرگرمیوں کو نہ روکا جاتا تو وہ تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ایرانی میزائل یورپ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے تھے اگر ایران اپنی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتا تو وہ براہ راست امریکہ کو دھمکانے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا تھا۔

    سماعت کے دوران جب ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے یہ سوال پوچھا کہ کیا ایران اگلے چھ ماہ کے اندر امریکا تک پہنچنے والے میزائل بنا سکتا تھا، تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اس کا کوئی واضح وقت نہیں بتایا انہوں نے سینیٹر کے خدشات کو درست تو قرار دیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ایران کو ایسا کرنے میں کتنا عرصہ درکار ہوتا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران کی صلاحیتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم وہ کسی حتمی تاریخ پر بات کر نے سے گریز کر رہے ہیں۔

    بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    دوسری جانب ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے بند کمرہ بریفنگ میں کانگریس کے عملے کو بتایا تھا کہ ان کے پاس ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران امریکا پر کسی بڑے حملے کی فوری تیاری کر رہا تھا۔

    اس دوران امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور ارکان پارلیمنٹ نے اس جنگ کے معاشی اثرات اور امریکی ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالرز کے اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا ہے تلسی گبارڈ نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس وقت مختلف بیرونی ممالک کے ساتھ ساتھ شدت پسند نظریات سے بھی شدید خطرات کا سامنا ہے، انتہا پسند گروہ اب بھی متحرک ہیں اور شریعت کی بنیاد پر خلافت کے قیام کا نظریہ پھیلا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں،یہ مخصوص نظریہ مغربی طرز زندگی اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے-

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

  • امریکا  کا ایران کے خلاف مزید فوجی تعیناتی پر غور

    امریکا کا ایران کے خلاف مزید فوجی تعیناتی پر غور

    امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے اگلے مرحلے میں مزید فوجی تعیناتی پر غور کر رہا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جاری جنگ کے ممکنہ نئے مرحلے میں داخل ہونے کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے یہ ممکنہ تعیناتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو وسعت دینے کے لیے مزید آپشنز فراہم کر سکتی ہے، جب کہ جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور منصوبوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانا شامل ہے، جو بنیادی طور پر فضائی اور بحری افواج کے ذریعے ممکن ہوگا، تاہم اس مقصد کے لیے ایران کے ساحلی علاقوں میں امریکی فوج کی تعیناتی بھی زیرغور ہے۔

    قطر کا ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

    اسی طرح ایران کے خارگ جزیرے پر زمینی افواج بھیجنے کا آپشن بھی زیر بحث آیا ہے، جو ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد مرکز ہے امریکی حکام کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ایران اس جزیرے کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا 13 مارچ کو خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے جب کہ صدر ٹرمپ ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم جزیرے کو تباہ کرنے کے بجائے اس کا کنٹرول حاصل کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

    ادھر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے بھی امریکی افواج تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے، تاہم ماہر ین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور خطرناک آپریشن ہوگا۔

    بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ فی الحال زمینی افواج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم صدر ٹرمپ تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں، امریکی آپریشن کا مقصد ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو ختم کرنا، اس کی بحریہ کو کمزور کرنا، پراکسی گروپس کو روکنا اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے باز رکھنا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی افواج کی تعیناتی صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ امریکی عوام میں اس جنگ کی حما یت محدود ہے اور وہ ماضی میں امریکا کو نئی جنگوں سے دور رکھنے کا وعدہ کرتے رہے ہیں۔

    عیدالفطر: مری جانے والے سیاحوں کیلئے نئی ایڈوائزری سامنے آگئی

  • امریکی صدر  کا  چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

    امریکی صدر کا چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ دورۂ چین میں ممکنہ تاخیر پر امریکی وضاحت کو نوٹ کرلیا ہے-

    ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے انہوں نے چینی صدر کے ساتھ ملاقات کو قریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے،چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس دورے کا آبنائے ہرمز کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

    دوسری جانب امریکا اور چین کے درمیان پیرس میں ہونے والے حالیہ تجارتی مذاکرات کو مثبت قرار دیا گیا ہے، جو دونوں بڑی معیشتوں کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا کرتے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فائز رحمان

    علی لاریجانی کی قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی،جعفریہ الائنس

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

  • فٹبال ورلڈ کپ: ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ

    فٹبال ورلڈ کپ: ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ

    ایران نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ کر لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے کہا ہے کہ ایران نے فیفا کے ساتھ ورلڈ کپ 2026 کے میچز کی میزبانی کے معاملے پر بات چیت شروع کر دی ہے تاکہ ایرانی ٹیم کے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو میں منعقد کیے جا سکیں۔

    پیر کے روز میکسیکو میں ایرانی سفارت خانے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مہدی تاج کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایرانی قومی ٹیم کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتے، ایسی صورت میں ایرانی ٹیم امریکا کا سفر نہیں کرے گی، ایران فیفا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ میچز میکسیکو منتقل کیے جا سکیں۔

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    اس سے قبل ایرانی وزیر کھیل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کے بعد موجودہ صورت حال میں قومی ٹیم کے لیے عالمی ایونٹ میں شرکت مشکل ہو سکتی ہے ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت سمیت کئی سیاسی و عسکری شخصیات ہلاک ہوئیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت ہے تاہم ان کے مطابق اپنی سیکیورٹی کے پیش نظر ٹیم کے لیے امریکا میں کھیلنا مناسب نہیں ہو سکتا۔

    افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    واضح رہے کہ ایران نے 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جو 11 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا۔ ایرانی ٹیم کے دو گروپ میچز لاس اینجلس جبکہ ایک میچ سیئٹل میں شیڈول ہے،ایران ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی ایشیائی ٹیم بھی ہے، جس نے 25 مارچ 2025 کو اپنی جگہ یقینی بنائی تھی۔

    یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی جو اس وقت تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

  • ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر خیبر شکن، عماد میزائل سے حملے

    ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر خیبر شکن، عماد میزائل سے حملے

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی 57 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا، تازہ حملوں میں ایران کی جانب سے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی خلیجی خطے میں سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے ایرانی حملوں کی تصدیق کردی آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق یہ تازہ حملے ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے نام کیے گئے اور اسے رمضان میں والدہ کی گود میں خاندان کے ہمراہ شہید ہونے والے شیرخواربچے مجتبیٰ کے نام منسوب کیا گیا، حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے مرکزی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی مواصلاتی نظام شامل تھےاس مقصد کے لیے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اسی دوران قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر بھی حملہ کیا گیا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں، اس کارروائی میں ذوالفقار اور قیام درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ حملہ آور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

    دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکا کی کم از کم 17 فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران کئی تنصیبات کو ایک سے زائد بار نشانہ بنا چکا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق خطے میں امریکا کی مجموعی طور پر 22 فوجی تنصیبات موجود ہیں جن میں سے 11 تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق 9 مارچ کو ایران نے قطر میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

    سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی

    جنگ کے نتیجے میں اب تک امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو چکی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 3369 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خطے کے دیگر ممالک میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ کویت میں 6، اومان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر  ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد:امریکی سفارتخانہ بغداد کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔

    الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار انٹرنیشنل زون بغداد کو نشانہ بنا رہے ہیں،تاحال حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

  • ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل،  ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل، ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ سے ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

    ایران کے خلاف جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں ایک جانب پارٹی کے کئی بااثر رہنما اور کارکن اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضرو ری قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے،مبصرین کے مطابق اس اختلاف نے پارٹی کے اندر نظریاتی تقسیم کو واضح کر دیا ہے جو آئندہ انتخابات میں بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    امریکی میڈیا کی معروف شخصیت ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے،کارلسن، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔

    ریپبلکن ووٹروں میں بھی اس جنگ پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا، اگرچہ کچھ حلقے اس اقدام کو ضروری قرار دیتے ہیں، تاہم بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتی ہے،امریکا میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، مگر اس بار صورتحال مختلف ہے، ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    ایک عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں تاہم ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی واضح تقسیم موجود ہے۔ جو ووٹر خود کو “میگا” یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں ان میں تقریباً دس میں سے نو افراد جنگ کے حامی ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن جو خود کو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھتے ان میں حمایت کم اور مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

    امریکی پوڈکاسٹر جو روگن نے اس جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیا ہے، اسی طرح سابق رکنِ کانگریس میجوری ٹیلر گرین نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    کانگریس کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے ذریعے کانگریس کو جنگ پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا، تاہم یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی، اب تک جنگ سے متعلق واقعات میں کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عراق میں طیارہ حادثے میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

  • امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر ساحلی علاقوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہو سکتے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔

    امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس کوشش میں حصہ لیں گے تاکہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے کو محفوظ بنایا جاسکے ،دنیا کے متعدد ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے بحریہ تعینات کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے اس دوران امریکا ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں یا جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    تاہم انہوں نے اس بات کی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کون سے ممالک اس اقدام میں عملی طور پر شامل ہوں گے دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کن ممالک نے اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    خیال رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ