Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا-ایران امن معاہدے کے  مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری  مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    امریکا-ایران امن معاہدے کے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری مل گئی،واشنگٹن ٹائمز

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکا اور ایران آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم اعلان کر سکتے ہیں، امن معاہدے کے مجوزہ مسودے کی منظوری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

    امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے مجوزہ ڈرافٹ کو اہم شخصیات کی منظوری حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکا ف، جیرڈ کشنر اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اہم شخصیات نے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی اس پیشرفت کے بعد آئندہ 24 گھنٹوں میں باضابطہ اعلان متوقع ہے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے اعلان کے بعد خطے میں مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، پا کستان نے اس تمام سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار نبھایا۔

    قبل ازیں امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے، میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں،تازہ تجاویزمیں آبنائے ہرمزکوکھولنا، بعض ایرانی اثاثے بحال کرنا اور مذاکرات جاری رکھنا شامل ہے۔

  • نیو یارک ٹائمز نے  فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    نیو یارک ٹائمز نے فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیدیا

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دے دیا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمت کے قریب آگئے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہونے والی ہے، اس مفاہمت میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ اعلیٰ سطح کی سفارت کاری ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے مشرق وسطیٰ میں لوگوں نے نئی لڑائی کے امکان کے لیے کمر کس لی تھی، ایسے میں دونوں اطراف کے حکام نے کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدے کے قریب جا رہے ہیں، ایرانی اور امریکی حکام نے کہا کہ ہفتے کے روز مکمل جنگ کی واپسی کو روکنے کی آخری سفارتی کوششوں میں پیشرفت ہوئی، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی میں توازن برقرار ہے۔

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کرنے کے آخری مرحلے میں ہیں ایک ایسا فریم ورک جس میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گااسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم باہمی طور پر قابل قبول حل تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

  • ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں،جبکہ انہوں نے مشرق وسطی کا نقشہ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے،کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں، وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یور ینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔

    ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا کسی تفصیل کے ساتھ حل ہونا اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہےاس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے مشرق وسطی کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کردہ نقشے پر یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ لکھا، جس کے ساتھ سوالیہ نشان شامل تھا، جس نے مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا،نقشے پر امریکی صدر نے ایران کو امریکی پرچم میں دکھایا ہے،یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اور اسے علامتی سیاسی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

  • ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    ایرانی معاہدہ آج ہی قبول کیے جانے کی توقع ہے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ معاہدے کو آج ہی قبول کر سکتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں اہم اعلان کا اشارہ دیا ہے۔

    اپنے دورہ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مارکو بیورو نے کہا کہ ایران سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پس پردہ مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے یہ ممکن ہے کہ آج، کل یا پھر اگلے چند روز کے اندر ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان کرنے کے لیے موجود ہو۔

    ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے ایران اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے، جب کہ مختلف معا ملات پر سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکراتی عمل آگے بڑھ رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ مختصر مدت میں کسی بڑے نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اس تجویز کی مختلف شقوں پر فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں بعض نکات اور الفاظ پر اختلافات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے امریکی بحری جارحیت جسے امریکا بحری ناکا بندی قرار دیتا ہے کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی ثالثی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقاتیں کیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال، علاقائی امن اور جنگ بندی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان اہم ملاقاتوں میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی آرمی چیف کے ہمراہ شریک تھے۔

  • امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    امریکا ایران ثالثی: معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کے عمل میں بتدریج پیشرفت ہو رہی ہے اور معاملات کسی مثبت انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےخواجہ آصف نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ صورتحال ممکنہ حل کے قریب پہنچ چکی ہے،امید ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے پاکستان سمیت پورے خطے اور دنیا میں جلد امن قائم ہوگا،موجودہ کوششوں کے ذریعے دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں ضرور کامیاب ہوں گی۔

    دوران گفتگو وزیر دفاع نے تسلیم کیاکہ مہنگائی ایک حقیقت ہے اور محدود آمدن رکھنے والے طبقات اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں پاکستان کی معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، تاہم جنگی صورتحال کے باعث معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں معاشی بحالی کا عمل نہ صرف سست پڑا ، بلکہ بعض معاملات میں الٹا اثر بھی دیکھنے میں آیا ہے، اگر خطے میں امن قائم ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے معاشی بہتری کی راہ ہموار ہو جائے گی، حکومت کو اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔

  • امریکا نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا

    امریکا نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا

    امریکا نے کیوبا کے سابق صدر اور انقلابی رہنما راؤل کاسترو کے خلاف باضابطہ فوجداری الزامات عائد کر دیے ہیں، جن میں 1996 میں ایک امریکی مخالف تنظیم کے 2 طیاروں کو مار گرانے کے واقعے میں مبینہ کردار شامل ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 94 سالہ راؤل کاسترو پر الزام ہے کہ انہوں نے ’برادرز ٹو دی ریسکیو‘ نامی کیوبا سے جلاوطن امریکی تنظیم کے طیاروں کو مار گرانے کی اجازت دی تھی یہ واقعہ 24 فروری 1996 کو پیش آیا جب کیوبا کے ایم آئی جی لڑاکا طیاروں نے فلوریڈا کے قریب بین الاقوامی فضائی حدود میں 2 سیسنا طیاروں کو نشانہ بنایا تھا۔

    واشنگٹن میں فریڈم ٹاور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے بتایا کہ راؤل کاسترو اور دیگر کیوبن فوجی حکام پر ’امریکی شہریوں کے قتل کی سازش اور طیاروں کی تباہی‘ سمیت 4 الگ الگ قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں،جبکہ ان کے ساتھ مزید 5 سابق کیوبن فوجی افسران بھی اس مقدمے میں نامزد ہیں۔

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 امریکی شہری اور ایک قانونی مستقل رہائشی شامل تھا ڈپٹی ڈائریکٹر ایف بی آئی کرس رییا نے کہا کہ چاہے 5 ماہ ہوں، 5 سال یا 5 دہائیاں، امریکا اپنے شہریوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کا پیچھا جاری رکھے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گا جب تک کیوبا کے عوام کو آزادی نہیں مل جاتی۔

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کینل نے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ان کے مطابق یہ مقدمہ ’امریکی طاقت کے غرور اور کیوبا کے انقلاب کے خلاف سیاسی مہم‘ کا حصہ ہے کیوبا کے سفارت خانے نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ 1994 سے 1996 کے دوران طیاروں کی پروازوں کے حوالے سے متعدد بار امریکا کو آگاہ کیا گیا تھا ’اس لیے کسی کو لاعلمی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔‘

    یہ مقدمہ امریکا کی ان پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی فوجداری کارروائیاں شامل رہی ہیں۔

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت،  امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے لیں، بصورت دیگر فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک داخلی سفارتی مراسلے میں، جسے ’حساس مگر غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، یروشلم میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی قیادت کو یہ پیغام پہنچائیں کہ ریاض منصور کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے امیدواری ’کشیدگی میں اضافہ‘ کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے غزہ امن منصوبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اگر فلسطینی وفد نے نائب صدارت کی امیدواری واپس نہ لی تو امریکا فلسطینی اتھارٹی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

    واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود خودمختاری کے تحت انتظامی امور چلاتی ہے۔

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    امریکی سفارت کاروں کو فراہم کردہ نکات میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ ستمبر 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مشن سے وابستہ اہلکاروں پر ویزا پابندیاں نرم کی تھیں مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ ’دستیاب آپشنز پر دوبارہ غور کرنا بدقسمتی ہوگی۔

    اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، البتہ ویزا ریکارڈ کی رازداری کے باعث مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا امن منصوبہ، جو 2 برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، حماس کی جا نب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علا قے پر قابض ہیں، جہاں بیشتر عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں اور شہریوں کو علاقوں سے انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    مراسلے میں کہا گیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ریاض منصور پہلے ہی فروری میں جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے چکے ہیں، تاہم نائب صدارت کے منصب پر منتخب ہونے کی صورت میں بھی وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرسکتے ہیں اگر فلسطینی امیدوار دوڑ سے دستبردار نہ ہوئے تو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران فلسطینی نمائندہ اہم اجلاسوں کی صدارت کرسکتا ہے، جسے واشنگٹن خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور 16 نائب صدور کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 2 جون کو ہوگی فلسطینی وفد اقوام متحدہ میں ’ریاستِ فلسطین‘ کے نام سے نمائندگی کرتا ہے، تاہم اسے مکمل رکنیت حاصل نہیں 193 رکنی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جو ویٹی کن سٹی کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔

  • ترک اور امریکی صدور  کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترک اور امریکی صدور کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران سے جنگ بندی، شام اور لبنان کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترک صدارتی شعبہ مواصلات کے مطابق صدر اردوان نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کو ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازع امور کا معقول اور سفارتی حل ممکن ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ترکیہ خطے میں تنازعات کے حل کے لیے تعمیری اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

    صدر اردوان نے شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مستقل استحکام کا قیام پورے خطے کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ شام کے استحکام اور تعمیر نو کے لیے اپنی حمایت بلا تعطل جاری رکھے گا جبکہ انہوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہاں حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے۔

    صدر اردوان نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس اجلاس کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک مسجد پر حالیہ حملے پر صدر ٹرمپ سے تعزیت بھی کی اور کہا کہ ترکیہ کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی مخالفت کرتا ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی ریاست میری لینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ قرار دیا اور ترک صدر کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو سراہا ٹرمپ نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ میرے تعلقات بعض مضبوط رہنماؤں کے ساتھ ہیں، اردوان ایک مضبوط شخصیت ہیں اور میرے ان کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں جیسے کسی اور کے نہیں، انہوں نے اچھا کام کیا ہے، صدر اردوان امریکا کے اہم اتحادی رہے ہیں، اگرچہ بعض لوگ اس پر شبہ کرتے ہیں، لیکن ان کے بقول ترکیہ ایک بہترین اتحادی ثابت ہوا ہے اور ترک عوام اپنے صدر کا بے حد احترام کرتے ہیں

  • مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھانے کے خواہاں نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے مطابق اس سے پورے خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بہت زیادہ پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں ممالک فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز سے گریز چاہتے ہیں واشنگٹن کو یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے’ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔

    وینس نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی، جس میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے ایسے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی مقصد کے تحت ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ضروری سمجھا جا رہا ہے، واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک پر امریکا کے ساتھ تعاون کرے جس کے ذریعے مستقبل میں تہران دوبارہ اپنی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بحال نہ کر سکے،ہم مذاکرات کے ذریعے یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • کسی بھی نئی  جارحیت کی صورت میں ایران کی امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ

    کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں ایران کی امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ

    ایران کی اعلیٰ ترین فوجی کمانڈ نے امریکا اور اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی غلطی یا جارحیت کی صورت میں انہیں ایران کے سخت ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف غلط اندازے لگانے اور غلط فہمیوں کو دور کرلیں، ایران اور اس کی مسلح افواج پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیار، مضبوط اور ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں،اگر ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ تیز، فیصلہ کُن اور وسیع ہوگا۔

    میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ امریکا اور صہیونی فوج ماضی میں کئی بار ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کا امتحان لے چکے ہیں، تاہم ایران نے اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ دکھایا ہے،یران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اگر دشمن نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو ایران پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا اور اپنے دفاع میں جارح کا ہاتھ کاٹنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔