Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    امریکا نے بھارت کے شہریوں کو غیرقانونی طور پر ملک میں داخل ہونے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سخت مجرمانہ سزاؤں کی وارننگ جاری کر دی-

    بھارت میں قائم امریکی سفارت خانے نے منگل کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی قوانین توڑنے والوں کو ’سنگین فوجداری سزاؤں‘ کا سامنا کرنا پڑے گا، اگر کوئی امریکی قانون توڑے گا تو اسے سخت قانونی نتائج بھگتنے ہوں گے،ٹرمپ انتظامیہ امریکا میں غیرقانونی ہجرت کے خاتمے اور سرحدوں و شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ یا پاکستان سمیت دیگر ممالک، جن میں افغانستان، شام، میانمار اور چین شامل ہیں، میں قائم امریکی مشنز نے اس نوعیت کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    واضح رہے کہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے غیرقانونی ہجرت کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 2025 کے دوران بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشنز اور سخت پالیسیاں نافذ کی گئیں۔

    فروری میں ایک امریکی فوجی طیارہ 104 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے امرتسر لے کر پہنچا جو پہلی بار تھا کہ امریکا نے اس مقصد کے لیے فوجی طیارہ استعمال کیا اگرچہ اس سے قبل بھی بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا جاتا رہا ہے تاہم فوجی طیارے کا استعمال غیر معمولی اقدام قرار دیا گیا۔

    جونیئر اسکواش چیمپئن شپ : پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹائٹل جیت لیا

    امریکی حکومت نے ویزا پالیسیوں کو بھی مزید سخت کر دیا ہے ستمبر میں صدر ٹرمپ نے ایچ ون بی ہنرمند ویزا کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا حکم دیا یہ ویزا سائنس دانوں، انجینئرز اور کمپیوٹر ماہرین جیسے ہنرمند افراد کو امریکا میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزا فیس میں اضافے کے انسانی اثرات ہو سکتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بھارت کی بڑی تجارتی تنظیم ناسکام نے بھی ایچ ون بی ویزا فیس کے نفاذ کے شیڈو ل کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

    تاجروں کا 16 جنوری کو ملک بھر کے چوک بند کرنے کا اعلان

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق 20 جنوری کے بعد سے اب تک تقریباً 80 ہزار نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں،ان میں سے تقریباً 16 ہزار کیسز شراب نوشی کے بعد ڈرائیونگ، 12 ہزار تشدد اور 8 ہزار چوری کے الزامات سے متعلق تھے۔ حکام کے مطابق یہ تین جرائم اس سال ویزا منسوخی کے تقریباً نصف کیسز پر مشتمل ہیں۔

    جبکہ اگست میں امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا تھا کہ قیام کی مدت سے تجاوز اور قانون شکنی پر 6 ہزار سے زائد طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے جن میں چند کیسز دہشت گردی کی حمایت سے بھی متعلق تھے۔

  • ٹرمپ کی تہران پر قیامت برپا کرنے کی دھمکی ،ایران کاسخت ردعمل سامنے آگیا

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی وارننگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں انتہائی سخت جواب دے گا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے اقدام اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کی تعمیر جاری رہنے کی صورت میں اس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

    پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کیلیے انعامی رقم منظور

    فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران دوبارہ جوہری ڈھانچے کی تعمیر کی کوششوں میں مصروف ہے، اور اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو امریکا فوری حملوں کی حمایت کرے گا، ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کی بحالی کی صورت میں اسے تباہ کرنا ناگزیر ہو جائے گاصدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی معا ہد ے پر آ جانا چاہیے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات معاملات مطلوبہ انداز میں آگے نہیں بڑھ پاتے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کیفے ٹیریا، سینیٹر کی پلیٹ سے کاکروچ نکل آیا

  • نیتن یاہو کل امریکا کا دورہ کریں گے

    نیتن یاہو کل امریکا کا دورہ کریں گے

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اتوار کے روز امریکا روانہ ہوں گے-

    اسرائیلی وزیرِ اعظم ایک دن بعد فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے یہ رواں سال امریکا میں صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کی 5ویں ملاقات ہوگی،یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور علاقائی ثالث غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر پیشرفت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

    اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ملاقات میں ایران، اسرائیل-شام سیکیورٹی معاہدے پر ممکنہ بات چیت، لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی اور غزہ معاہدے کے آئندہ مراحل سمیت متعدد علاقائی امور زیرِ بحث آئیں گے۔

    تائیوان میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    واضح رہے کہ دسمبر کے وسط میں صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امکان ہے نیتن یاہو کرسمس کی تعطیلات کے دوران فلوریڈا میں ان سے ملاقات کریں گے۔

    حکومت نے یوٹیوبر عادل راجا پر بڑی پابندی عائد کردی

  • عسکری اور سیاسی قیادت ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے،خواجہ آصف

    عسکری اور سیاسی قیادت ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے،خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے امریکی جریدے ’فارن پالیسی‘ کی پاکستان کی سفارتی کامیابیوں سے متعلق رپورٹ پر ردعمل دیا ہے-

    نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دنیا آج پاکستان کے مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے اور خارجہ پالیسی کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے،عالمی سطح پر معتبر جریدے فارن پالیسی کی جانب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اعتراف خوش آئند اور بڑی کامیابی ہے اس رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نے عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ واشنگٹن میں پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کا اثر نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بڑی فتح ہےپاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک کو شکست دے کر اپنی عسکری برتری کو ثابت کیا، جس کا اعتراف امریکا سمیت دیگر ممالک نے بھی کیا آج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    شام میں داعش کا سینئیر رہنما ہلاک اور ایک گرفتار

    خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے معاملے پر بھی عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر رہی ہے، جو ایک اہم سفارتی پیشرفت ہےعسکری اور سیاسی قیادت ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے اور اسی باہمی تعاون کے نتیجے میں پاکستان کو 2025 میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، قوم کو ان کامیابیوں پر سیاسی اور عسکری قیادت کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں پاکستان کو ’وِنر‘ جبکہ بھارت کو ’لوزر‘ ملک قرار دیا ہے رپورٹ کے مطابق پاکستان نے خطے میں سفارتی نقشہ ازسرِ نو ترتیب دیا ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں واشنگٹن میں توازن پاکستان کے حق میں پلٹ گیا ہے امریکی جریدے نے ڈونلڈ ٹرمپ کی فیلڈمارشل عاصم منیر سے ذاتی قربت اور تعلقات کو اس سفارتی فتح کی اہم وجہ قرار دیا۔

    کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے اس نئے دور کی بنیاد بنی، جس کے نتیجے میں پاکستان امریکا کے ایک شراکت دار ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا اور وہ مقام حاصل کیا جو امریکا کے قریبی سمجھے جانے والے اتحادی ممالک بھی حاصل نہ کرسکے۔

  • جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز سے متعلق  مزید دستاویزات جاری

    جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز سے متعلق مزید دستاویزات جاری

    واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے سزا یافتہ بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز سے متعلق مزید دستاویزات جاری کر دیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق 29 ہزار صفحات پر مشتمل نئی دستاویزات میں سی سی ٹی وی ویڈیوز اور قانونی ریکارڈ شامل ہےامریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے دستاویزات میں صدر ٹرمپ کے خلاف 2020 کے انتخابات سے پہلے لگائے گئے غیردرست اور سنسنی خیز دعوے شامل ہیں جو کہ بے بنیاد اور جھوٹے ہیں ، ان دعوؤں میں سچائی ہوتی تو اب تک صدر ٹرمپ کے خلاف انہیں استعمال کیا جا چکا ہوتا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے 2 روز پہلے بھی جیفری ایپسٹین کیس کی دستاویزات جاری کی تھیں جن میں زیادہ تر تصاویر، کال لاگز، عدالتی ریکارڈ شامل تھا،ڈیموکریٹس اور کچھ ری پبلکن ارکان کی جانب سے صدر ٹرمپ پر ایپسٹین کیس سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام لگانے پرامریکی کانگریس نے گزشتہ ماہ ایپسٹین کیس سے متعلق تمام دستاویزات جاری کرنے کی منظوری دی تھی، ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ، سابق برطانوی شہزادے اینڈریو اور دیگر عالمی مشہور شخصیات کے مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط کا ذکر ہے۔

    پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،مفتاح اسماعیل

    رونالڈو نے سعودی عرب میں 2 لگژری ولاز خرید لیے

    روزانہ 2 لاکھ لیٹر جعلی دودھ فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    واضح رہے کہ ارب پتی امریکی جیفری ایپسٹین کو 2019 میں پولیس نے درجنوں خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے، بلیک میل کرنے اور جنسی غلام بنانے کے الزام پر گرفتار کیا تھا تاہم وہ اگست 2019 میں اپنی جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔

  • ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور ختم، ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان  مرکزی ستون

    ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور ختم، ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان مرکزی ستون

    نیویارک:واشنگٹن ٹائمز نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 2025 میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو دوبارہ لکھنے میں اصل کردار ادا کیا، جس سے پاکستان ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک میں بدل گیا۔

    واشنگٹن ٹائمز کے ایک آرٹیکل میں 2025 کو پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال قرار دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون بنایا گیا اور ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور ختم ہو گیا۔

    آرٹیکل میں کہا گیا کہ پاک امریکا تعلقات میں پہلا پگھلاؤ خفیہ کاؤنٹر ٹیررازم ایکسچینجز سے آیا، جس نے واشنگٹن کو پاکستان کے ساتھ سبسٹینٹو تعاون (Substantive Cooperation) کا واضح اشارہ دیا۔مارچ میں ٹرمپ نے قومی خطاب میں پاکستان کی غیر متوقع تعریف کی، جس نے امریکی پالیسی کا رخ بدل دیا۔

    مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر مگر شدید جھڑپ نے تعلقات میں فیصلہ کن موڑ لایا۔ پاکستان کی ملٹری کارکردگی، ڈسپلن، اسٹریٹجک فوکس اور ایسِمٹرک کیپیبلٹی (Asymmetric Capability) نے ٹرمپ کو حیران کر دیا اور پاکستان کو دوبارہ سنجیدہ ریجنل ایکٹر کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

    آرٹیکل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو سیزفائر پر بھارت کا ردعمل سخت ناگوار گزرا، جبکہ پاکستان نے ثالثی کی کوشش کو قبول کیا۔ جس کے نتیجے میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حیثیت واشنگٹن میں مزید مضبوط ہو گئی اس پیش رفت کے بعد پاکستان کو دوبارہ ایک سنجیدہ علاقائی قوت کے طور پر دیکھا جانے لگا اور واشنگٹن میں ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور اب ختم ہوچکا ہے،وہ ٹرمپ حکام جو پہلے پاکستان کو نظرانداز کرتے تھے، اب اس کا ذکر ایک شراکت دار ملک کے طور پر کرنے لگے ہیں۔

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق، پاکستان کی ملٹری ماڈرنائزیشن کو نئی عالمی اہمیت حاصل ہوئی اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ فعال کیا گیا، جس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نمایاں طور پر لیا گیا انہیں Disciplined Dark Horse اور Deliberate Mystery جیسے القابات دیے گئے اور وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ بھی ان کے لیے ایک تاریخی تقریب تھی۔

    جریدے کے مطابق فیلڈ مارشل کا سینٹ کام ہیڈکوارٹرز میں ریڈ کارپٹ استقبال ہوا، امریکی عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک بات چیت کی گئی، 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے۔

    امریکی اخبار نے لکھا کہ نئی امریکی پالیسی کی پائیداری دہلی اور اسلام آباد کے رویے سے مشروط رہے گی، 2025 میں امریکی پالیسی اورجنوبی ایشیا کاتوازن ری رائٹ کرنے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل نے اصل کردار ادا کیا۔

    آرٹیکل میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے نزدیک فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ تعلق کو ہاف جوکنگ ’برومانس‘ کہا گیا اور 2026 کے آغاز پر پاکستان کو امریکی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے ایران اور غزہ کے معاملات میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار کو بھی واشنگٹن نے اہم قرار دیا۔

    واشنگٹن ٹائمز نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 2025 میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو دوبارہ لکھنے میں اصل کردار ادا کیا، جس سے پاکستان ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک میں بدل گیا،اخبار کے مطابق پاکستان کا ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک بن جانا اور امریکا میں پاکستان کے بارے میں رائے کا اس قدر تیزی سے بدلنا ایک منفرد واقعہ ہے، جبکہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو اب ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔

  • امریکی ارکان کانگریس کا بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کا مطالبہ

    امریکی ارکان کانگریس کا بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کا مطالبہ

    واشنگٹن: امریکی ارکان کانگریس نے بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ری پبلکن رکن کانگریس اور امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (USCIRF) کی چیئرپرسن وکی ہرزلر اور نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صور ت حال مسلسل بگڑ رہی ہے اور اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

    امریکی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مشترکہ آرٹیکل میں ان رہنماؤں نے لکھا کہ چین میں مذہبی پابندیوں سے دنیا واقف ہے مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت بھی اب مذہبی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کی زد میں ہے بھارتی حکومت مختلف ریاستوں میں نافذ مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین کو مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور مذہبی رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔

    امریکی رہنماؤں نے کہا کہ بھارت کی 12 ریاستوں میں مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین موجود ہیں جنھیں مسیحی اور مسلم برادری کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ایسے کئی واقعات میں مذہبی کشیدگی اور تشدد بھی سامنے آیا جس میں حکومت اور مقامی انتظامیہ کا کردار مثبت نہیں تھا۔

    امریکی ارکان نے اپنے آرٹیکل میں گوا کی مثال دیتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ’لو جہاد‘ جیسے متنازع تصورات کو بنیاد بنا کر سخت قوانین کی بات کی گئی جوکہ محض ہندو قوم پرستانہ پروپیگنڈا ہے اتر پردیش میں بھی ایک مسیحی پادری اور ان کی اہلیہ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو زبردستی مذہب تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے تھے جو کہ بے بنیاد الزام تھا۔

    امریکی ارکان اسمبلی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مسلم لڑکوں سے ہندو لڑکیوں سے شادی کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے، مدھیہ پردیش میں جبری مذہب تبدیلی کے الزام پر سزائے موت تجویز کی جا رہی ہے جو انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے منافی ہےاگر بھارت واقعی امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے چا ہیے کہ اقلیتوں کیخلاف قوانین کو ختم کرے اور عملی طور پر مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کی پاسداری کرے مذہبی حقوق کا احترام نہ صرف بھارت کے اندرونی استحکام بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

  • امریکا کا داعش  کے خفیہ ٹھکانے پر نشانہ، نہایت مطلوب کمانڈر فضائی حملے میں ہلاک

    امریکا کا داعش کے خفیہ ٹھکانے پر نشانہ، نہایت مطلوب کمانڈر فضائی حملے میں ہلاک

    مریکا نے شام میں ایک فوج کارروائی کے دوران داعش کے ایک نہایت اہم اور خفیہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فضائی حملے میں داعش کا ڈرون کارروائیوں کا ذمہ دار ایک اہم سیل لیڈر اپنے 4 ساتھیوں سمیت مارا گیابرطانیہ میں قائم جنگی نگرانی کے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ کارروائی شام کے صوبے دیر الزور میں کی گئی۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ ہفتے ہونے والے اُس حملے کے جواب میں کی گئی جس میں شام میں تعینات دو امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھےایک شامی سکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی حملوں میں شام کے وسیع بدیہ (صحرائی) علاقے میں داعش کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا،جن میں حمص، دیر الزور اور رقہ کے صوبے شامل ہیں، ان کارر وائیوں میں کوئی زمینی آپریشن شامل نہیں تھا بلکہ صرف فضائی بمباری کی گئی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اہداف تدمر (پالمیرا) کے شمال میں واقع پہاڑی علاقوں میں تھے جو دیر الزور کی سمت پھیلے ہوئے ہیں، ایک دوسرے شامی سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی بمباری انتہائی شدید تھی اور تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔

    امریکی فوج نے بھی تصدیق کی کہ ان کارروائیوں کے دوران داعش کے 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو 13 دسمبر کے حملے کے جواب میں کی جانے والی "انتہائی سنجیدہ جوابی کارروائی” قرار دیا۔

    اگرچہ داعش کو شام اور عراق میں عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے تاہم اب بھی صحرائی اور دور دراز علاقوں چھپے جنگجو شہر میں آکر گویلا کارروائیاں کرتے ہیں،جن کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادی وقتاً فوقتاً صحرائی اور پہاڑیوں علاقوں میں فضائی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

  • صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں،صدر ٹرمپ نے یو ایس سٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ہر ماہ 100 سے 200 شہریت منسوخی کے کیسز امریکی وزارتِ انصاف کو بھیجے جائیں۔

    ناقدین کے مطابق یہ اقدام امریکا کی کثیرالثقافتی شناخت اور آئینی اقدار کے لیے ایک سنگین خطرہ ہےادھر امریکی وزارتِ انصاف کے ذرائع نے بتایا کہ 2017 سے اب تک 120 شہریت منسوخی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا میں شہریت حاصل کرنے والے غیرملکیوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہےمحکمۂ شماریات کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ سال 8 لاکھ غیر ملکیوں نے امریکی شہریت حاصل کی، جن کا تعلق میکسیکو، بھارت، فلپائن، ڈومینیکن ریپبلک اور ویتنام جیسے ممالک سے تھاچنانچہ ان تمام ممالک کے باشندوں کی امریکی شہریت کی منسوخی کے امکانات قوی ہیں جس میں سب سے زیادہ خطرہ بھارتیوں کے لیے ہے۔

    امیگریشن ماہرین اور سول رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قانونی سے زیادہ سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا مقصد غیر سفید فام اور غیر یورپی نژاد امریکیوں کو خوف میں مبتلا رکھنا ہے،جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی مزید آگے بڑھی تو امریکا میں بسنے والے لاکھوں شہریوں کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، اور یہ ملک کے جمہوری تشخص پر سیاہ دھبا ثابت ہو گا۔

    واضح رہے کہ 2018 میں شہریت منسوخی کے 90 کیسز سامنے آئے تھے جب کہ 2024 میں 13 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 8 کی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور 2017 سے2021 میں بھی سخت امیگریشن قوانین نافذ کیے تھےانھوں نے “زیرو ٹالرنس” پالیسی کے نام پر تارکین وطن خاندانوں کو جدا کیا اور مسلمانوں کے خلاف سفری پابندیاں عائد کی تھیں، اُس وقت بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی یہ پالیسیاں نسلی تعصب، خوف اور عدم تحفظ کو فروغ دے رہی ہیں۔

  • امریکا کا تائیوان کو 11 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان

    امریکا کا تائیوان کو 11 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان

    امریکا نے تائیوان کو 11 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی، جو اب تک تائیوان کے لیے امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا پیکج ہے، تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ کے تحت دوسرا اعلان ہے، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب چین کی جانب سے تائیوان پر فوجی اور سفارتی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق مجوزہ اسلحہ پیکیج میں مجموعی طور پر 8 اقسام کا اسلحہ اور فوجی سازو سامان شامل ہے، جن میں ہیمارس راکٹ سسٹمز، ہووٹزر توپیں، جیولن اینٹی ٹینک میزائل، الٹیئس لوئٹرنگ میونیشن ڈرونز اور دیگر دفاعی آلات کے پرزے شامل ہیں، امریکا تائیوان کی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے، مضبوط دفاعی طاقت کی تیزی سے تشکیل اور غیر متوازن جنگی حکمت عملی کو فروغ دینے میں مسلسل معاونت کر رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کی بنیاد ہے۔

    یہ اسلحہ پیکیج امریکی کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے، جہاں تائیوان کو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہےپینٹاگون کی جانب سے جاری علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ امریکی قومی، معاشی اور سیکیورٹی مفادات کے عین مطابق ہے اور اس سے تائیوان کی مسلح افواج کو جدید بنانے میں مدد ملے گی-

    اس موقع پر تائیوان کے صدارتی دفتر کی ترجمان کیرن کوو نے اسلحہ فروخت پر امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان دفاعی اصلاحات جاری رکھے گا، قومی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا مظاہرہ کرے گا۔

    ادھر گزشتہ ماہ تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے 2026 سے 2033 تک کے لیے 40 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب چین نے اس اسلحہ معاہدے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے خبردار کیا کہ تائیوان کو ہتھیار فراہم کر کے امریکا خود کو نقصان پہنچا رہا ہے اور چین کو روکنے کی یہ کوشش ناکام ہوگی۔

    امریکا- تائیوان بزنس کونسل کے صدر روپرٹ ہیمنڈ چیمبرز کے مطابق ہیمارس جیسے ہتھیار، جو یوکرین جنگ میں مؤثر ثابت ہو چکے ہیں، کسی ممکنہ چینی حملے کی صورت میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں،یہ اعلان تائیوان کے وزیرِ خارجہ لن چیالُنگ کے گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے غیر اعلانیہ دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں تاہم ان ملاقاتوں کے ایجنڈے سے متعلق کوئی باضابطہ تفصیل سامنے نہیں آسکی۔

    واضح رہے کہ امریکا کے چین کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں تاہم وہ تائیوان کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار ہے اور قانون کے تحت تائیوان کو دفاعی صلاحیت فراہم کرنے کا پابند ہے تاہم یہ معاملہ چین کے ساتھ تعلقات میں مستقل کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جب کہ تائیوان اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔