Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا, امریکا پہلے ہی ساڑ ھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے, وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گ ایران کی عسکری تیاری مکمل ہے، میزائل نظام فعال ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان ابراہ راست واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے ردعمل میں دیا گیا یا نہیں۔

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو کو   جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے،امریکی ماہر سیاسیات

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے،امریکی ماہر سیاسیات

    امریکی سیاسیات کے ماہر اور بین القوامی تعلقات کے اسکالر جان میئر شائمر نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔

    میئر شا ئمر نے ایک سوشل میڈیا پوڈ کاسٹ میں کہا کہ اگر نیورمبرگ ٹرائلز ہوتے اور اسرائیلی و امریکی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کیا جاتا، تو صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کے کئی مشیران کو پھانسی دی جاتی، نیورمبرگ ٹرائلز میں سابقہ نازی جرمن رہنماؤں کو نسل کشی اور جارحانہ جنگ کے الزامات پر سزائیں دی گئی تھیں،امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بلاوجہ دو حملے کیے، جن میں جون 2025 کا حملہ اور موجودہ جارحانہ کارروائی شامل ہے، اور اس میں ایران کے کسی فو جی اقدام کو جواز نہیں بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل نے غیر قانونی طریقے سے رہنماؤں کو قتل کیا اور غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ بھی لڑی۔

    28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی جارحیت میں اعلیٰ ایرانی افسران اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ان دشمنانہ کارروائیوں میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، شہری بنیادی ڈھانچے، اسکولز، اسپتالوں اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے سیکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے ایران کی مسلح افواج نے اس کے جواب میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے تقریبا روزانہ میزائل اور ڈرون آپریشنز کیے۔

  • ایران میں سپورٹس ہال پر امریکی میزائل حملے میں 21 شہری شہید

    ایران میں سپورٹس ہال پر امریکی میزائل حملے میں 21 شہری شہید

    ایران میں ایک اسپورٹس ہال پر امریکی میزائل حملے میں 21 شہری شہید ہوگئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شہید ہونے والے افراد میں نوعمر بھی شامل ہیں ایرانی حکومت نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "قابل نفرت جنگی جرم” قرار دیا ہے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ حملہ صوبہ فارس کے شہر لامرد میں اسپورٹس ہال پر ہوا امریکا کے نئے پریسجن اسٹرائیک میزائل نے معصوم نوجوانوں سے بھرے ایک پرہجوم اسپورٹس ہال کو نشانہ بنایا اس حملے میں 21 نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مارے گئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ میزائل اپنے ہدف سے اوپر پھٹتا ہے جس سے ہزاروں مہلک ٹکڑوں (ٹنگسٹن پیلٹس) منتشر ہوتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ انسانی جانی نقصان ہو سکے۔ بقائی نے امریکا پر جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے اور اس حملے کو قابل نفرت جنگی جرم قرار دیا ہے-

  • ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ایران کی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی حقیقی عسکری طاقت سے ناواقف ہیں-

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن ایران کی وسیع اور اسٹریٹجک طاقت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل مراکز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، جدید فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں ایران کی اسٹریٹجک عسکری پیداوار ایسے مقامات پر ہو رہی ہے جن کے بار ے میں دشمن کو علم نہیں اور نہ ہی وہ وہاں تک پہنچ سکتا ہے۔

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ترجمان کے مطابق اب تک جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ “غیر اہم” تھے ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ آئندہ کارروائیاں مزید سخت، وسیع اور تباہ کن ہوں گی ایران اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک دشمن کو مکمل اور حتمی شکست نہیں دی جاتی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں،امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے۔

    پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھارتی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں ایران کے ساتھ کیے گئے سفارتی وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی، جن میں 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی بھی شامل ہے امریکا نے مذاکرات کے دوران ہی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیاں کیں۔

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    ترجمان نے ایران پر جاری امریکی حملوں کو ’’وحشیانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کوئی بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں،ثالثوں کے ذریعے ملنے والے پیغامات میں امریکا کی جانب سے غیر معقول اور یکطرفہ مطالبات کیے جا رہے ہیں، جن میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو ترک کرنا اور اس کے میزائل دفاعی نظام کو محدود کرنا شامل ہے۔

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام ان پیغامات کو شدید شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس وقت ایران کی پوری توجہ اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع پر مرکوز ہے حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے ’’آپریشن ٹرو پرومس 4‘‘ کے تحت جوابی اقدامات شروع کیے ہیں، جن کے دوران اب تک درجنوں مراحل میں اہم امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

  • امریکی کلب ڈانسر نے  ایران کے خلاف نئی ممکنہ فوجی تعیناتیوں کا پردہ فاش کر دیا

    امریکی کلب ڈانسر نے ایران کے خلاف نئی ممکنہ فوجی تعیناتیوں کا پردہ فاش کر دیا

    امریکا کے شہر سان ڈیاگو سے تعلق رکھنے والی ایک کلب ڈانسر چارم ڈیز نے ٹک ٹاک ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ نوجوان امریکی فوجی اپنی اگلی تعیناتیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف ممکنہ جنگی مشن کے حوالے سے حساس معلومات عام جگہوں پر شیئر کر رہے ہیں۔

    ویڈیو میں چارم نے بتایا کہ حال ہی میں بڑی فوجی چھاؤنیوں کے قریب واقع کلبوں میں اُداس اور پریشان حال فوجیوں کا رش بڑھ گیا ہے جو اپنی روانگی سے قبل بڑی رقم خرچ کر رہے ہیں کئی نوجوان فوجیوں نے انہیں صاف بتایا کہ وہ اگلے ہفتے ایران کے خلاف محاذ پر روانہ ہو رہے ہیں، جن میں سے کئی بہت ہی کم عمر اور معصوم شکلوں والے ہیں۔

    سان ڈیاگو کا علاقہ امریکا کے بڑے فوجی مراکز کے قریب واقع ہے جہاں بحری اور زمینی فوج کے اہم اڈے موجود ہیں اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے پیشِ نظر امریکا کسی بڑی عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے،ہزاروں اضافی امریکی فوجی، جن میں میرین یونٹس اور ایلیٹ فورسز شامل ہیں، پہلے ہی خطے میں پوزیشن سنبھال چکے ہیں۔

    امریکی عوام میں اس ممکنہ جنگ کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور کئی خاندان اسے ایک غیر ضروری تنازع قرار دے کر اپنے پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں فکر مند ہیں اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے ان معلومات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی اور ویڈیو بنانے والی خاتون نے اسے محض ایک ذاتی مشاہدہ قرار دیا ہے، لیکن اس واقعے نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے دور میں فوجی رازوں کو چھپانا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔

  • سوئٹزرلینڈ کا امریکی فضائی دفاعی نظام  کی خریداری روکنے پر غور

    سوئٹزرلینڈ کا امریکی فضائی دفاعی نظام کی خریداری روکنے پر غور

    سوئٹزرلینڈ نے امریکا سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے لیے ادائیگیاں روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے-

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئس حکومت نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فراہمی کا شیڈول تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ ادائیگیوں کے مراحل بھی واضح نہیں ہیں، جس کے باعث ادائیگی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا کہ معاہدہ ختم کرنا بھی ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے وزیر دفاع مارٹن فِسٹر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت اب بھی اس دفاعی نظام کے حصول کی خواہاں ہے، تاہم تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا جارہا ہےہم اس وقت امریکا کے ساتھ تمام ممکنہ راستوں پر بات چیت کر رہے ہیں، جن میں معاہدہ ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے، کسی بھی ممکنہ منسوخی کی شرائط ابھی واضح نہیں ہیں اور اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

    دوسری جانب سوئس حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ایف-35 اے لڑاکا طیاروں کی خریداری سے متعلق ادائیگی کو مارچ 2026 کے اختتام تک پہلے ہی منتقل کردیا گیا ہے، تاکہ پیٹریاٹ سسٹم سے متعلق فیصلوں کے باعث اس اہم دفاعی منصوبے کی فراہمی متاثر نہ ہو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی خریداری کے حوالے سے آئندہ کے اقدامات سے متعلق جون کے اختتام تک وفاقی کونسل کو آگاہ کردیا جائے گا۔

  • یو اے ای آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، وال سٹریٹ جرنل

    یو اے ای آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، وال سٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے حملوں کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جس کے تحت اس کارروائی کی اجازت حاصل کی جاسکے اماراتی سفارتکاروں نے امریکا اور یورپ و ایشیا کی عسکری طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ اتحاد قائم کریں جو طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھول سکےیو اے ای کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امارات نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے جس میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ میں واقع بعض جزائر، بشمول ابو موسیٰ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہیے جو گزشتہ نصف صدی سے ایران کے کنٹرول میں ہے جبکہ امارات بھی اس پر دعویٰ کرتا ہے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی اب ایرانی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک ایران کو کمزور یا اس کی حکومت کو ختم نہ کر دیا جائے بحرین جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے اس قرارداد کی تیاری کر رہا ہے اور اس پر ووٹنگ جمعرات کو متوقع ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب یو اے ای اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کے قریب آ رہا ہے جس میں اتحادی ممالک سے جنگ کا زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہےٹرمپ اپنے مشیروں سے کہہ چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہیں اور اس معاملے کو دیگر ممالک پر چھوڑ سکتے ہیں۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ یو اے ای کو یقین ہے کہ ایشیا اور یورپ کے وہ ممالک جو اس وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کی صورت میں اس کارروائی میں شامل ہو جائیں گےروس اور چین اس قرارداد کو ویٹو کر سکتے ہیں جبکہ فرانس ایک متبادل مسودہ پیش کر رہا ہے تاہم اگر قرارداد منظور نہ بھی ہو تو بھی یو اے ای آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کسی بھی کوشش میں شامل ہونے کے لیے تیار رہے گا۔

  • ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے انہوں نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔

    اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں ایران کے معاملے میں دوست ممالک نے امریکا کی حمایت نہیں کی،ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو دو ستوں نے ساتھ نہیں دیا، ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اعلانات متوقع ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں امریکا کے اہم ترین اتحادی ممالک (نیٹو) نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔

  • سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے خلیج میں اپنے پڑوسی عرب ممالک کو پیغام دیا ہے کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تجزیے میں ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جنوبی خلیج فارس میں ہمارے پڑوسیوں کو ایک یاد دہانی کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے بلکہ وہ جنگ کے لیے میدان ہموار کرتے ہیں،خلیج تعاون تنظیم کے اکثر ممالک نے گزشتہ 50 سال سے ایران کے خلاف سیکیورٹی کو فروخت کیا ہوا ہے۔

    جواد ظریف نے ماضی میں پیش آنے والے واقعات کا سن وار جائزہ بھی پیش کیا اور بتایا کہ 1980 سے 88 تک صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ پر فنڈز دیے، 1985 میں ایران کی علاقائی سیکیورٹی تجاویز مسترد کردی 1990 سے 1992 کے دوران صدام حسین کے کویت پر مداخلت کو ختم کرنے میں مدد کے بعد ایران پر کشیدگی کا انتخاب کیا، جو ایران کے خلاف ان کے مرکزی مالی معاونت کرنے والے تھے۔

    سابق ایرانی وزیرخارجہ نے مزید واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2001 سے آج تک سانپ کا سر کاٹنے کی حکمت عملی اپنائی گئی، 2015 میں ایران کے جارحیت مخالف معاہدے کو مسترد کردیا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بیسز کے لیے ادائیگیاں کیں، 2015 سے آج تک انہوں نے جے او پی او اے کی مخالفت میں لابنگ کی اور ایرانی عوام پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں عوام کی معاشی حالت متاثر ہوئی جبکہ ان کی ذاتی دولت میں اضافہ ہوا۔

    جواد ظریف نے حوالہ دیا کہ 2019 میں ہرمز امن معاہدہ مسترد کردیا گیا اور ایران پر پابندیوں کی حمایت کی گئی ہے جس سے ایران کے لیے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہوجائےآج انہوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں دیگر تمام اتحادیوں سے بڑھ کر مدد کے لیے جلدی کی جبکہ اس کے بدلے انہیں ذلیل کیا گیا اور اسرائیل کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی چلاجائے گا لیکن ایران یہاں ہمیشہ رہے گا، سیکیورٹی سب کو ملنی چاہیے۔

  • چیچن قیادت نے ایران امریکا  کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن قیادت نے ایران امریکا کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن فوجی یونٹس نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو وہ ایرانی افواج کی مدد کے لیے میدان میں اتریں گے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق رمضان قدیروف کے وفادار چیچن فوجی دستوں نے ایران میں تعیناتی کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، یہ دستے اس صورت میں مداخلت کریں گے جب امریکا ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرے گا، چیچن فورسز کا کہنا ہے کہ وہ جاری تنازع کو’’مذہبی جنگ‘‘ سمجھتے ہیں اور اگر براہ راست مداخلت ہوئی تو اسے “جہاد” تصور کریں گے، جسے انہوں نے ’’حق اور باطل کی جنگ‘‘ قرار دیا۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے امریکا زمینی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے، جبکہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے، اسی دوران ایران کی قیادت اور دیگر اعلیٰ فوجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جوابی کارروائی میں ایران نے ا سرا ئیلی فوجی ٹھکانوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ یوکر ین بھی اس تنازع میں شامل ہےاور اس نے سینکڑوں ماہرین خطے میں بھیجے ہیں، چیچن فورسز، جنہیں ’’کدیروفسی‘‘ بھی کہا جاتا ہے،ماضی میں روس کے ساتھ یوکرین سمیت مختلف تنازعات میں شریک رہ چکی ہیں، اور اب ممکنہ طور پر ایران کے حق میں بھی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔