Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ،2 اسرائیلی جاسوس گرفتار

    ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ،2 اسرائیلی جاسوس گرفتار

    ایران کے مختلف شہروں میں امریکی اور اسرائیلی حملوں، گرفتاریوں اور امدادی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ایران نے امریکی ڈرون مار گرا نے کا دعویٰ کردیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایک ایم کیو-9 ریپر ڈرون مار گرایا ہے، جسے ایرا ن نے امریکی-اسرائیلی جارح دشمن کا ڈرون قرار دیا۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ کارروائی منگل کو انجام دی گئی اور ایران کی جانب سے مار گرائے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 146 ہو گئی ہے، ایم کیو-9 ریپر ڈرون عام طور پر نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی سیکیورٹی فورسز نے شمال مغربی علاقے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر حساس مقامات کی معلومات امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کو فراہم کرنے کا الزام ہے تسنیم نیوز کے مطابق ملزمان کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی کی جاتی تھی یہ گرفتاریاں صوبہ مشرقی آذربائیجان کے شہر اسکو میں عمل میں آئیں اور دونوں افراد کو عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم سے اصفہاں پر حملہ کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے،اس حملے کا ہدف اصفہان میں اسلحہ ڈپو تھا حملے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دھماکوں کی ویڈیوز سامنے آئیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کا مقصد ایران کو مزید سخت پیغام بھی دینا تھا۔

    واضح رہے کہ کچھ رپورٹس میں اصفہان کو جوہری تنصیبات کا حامل علاقہ بتایا گیا ہے تاہم اس مخصوص حملے کا ہدف زیادہ تر اسلحہ ڈپو اور فوجی انفراسٹرکچر بتایا جا رہا ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار  کیا ہے،ایرانی میڈیا

    امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے،ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے-

    ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں اہم ایرانی قیادت کو ہدف بنانے، بڑے شہروں اور ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنے، اور ممکنہ زمینی و محدود ایٹمی کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ ایران کے شمال مغر ب سے 4 ہزار افراد پر مشتمل اپوزیشن فورسز کے ساتھ زمینی حملہ کیا جائے گا، ایران کے جنوب مشرق سے 2 ہزار 500 امریکی فوجی داخل ہوں گے، فوجی اتا رنے کے لیے بندر عباس، کرمانشاہ، ارمیہ اور تبریز کے ہوائی اڈوں کا استعمال کیا جائے گا میزائل حملوں کے لیے 5 سے 15 فوجیوں پر مشتمل جنگی یونٹس پیرا شوٹ کے ذریعے شہری اور ایٹمی تنصیبات میں اتارے جائیں گے بعض فوجی اور ایٹمی مقامات پر محدود ایٹمی حملوں کی تیاری بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں جاری جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہ۔ اتوار کو بھی ایرانی شہروں پر بمباری جاری رہی اور اسرائیلی فوج نے ایران سے فائر کیے گئے راکٹوں کا سراغ لگایا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون ایران میں ہفتوں طویل زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام ضروری آپشنز فراہم کرنے کی تیاری میں ہے، امریکی انتظامیہ نے ایرانی جزیرے خارگ پر کنٹرول اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقو ں پر حملوں کے امکانات پر بھی غور کیا ہے۔

    اخبار کے مطابق زمینی کارروائی کے لیے پینٹاگون کی تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے تاہم ایک امریکی ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ زمینی کارروائی کی مدت دو ماہ ہو سکتی ہے امریکی منصوبوں میں سپیشل آپریشنز اور روایتی پیادہ فوج کے حملے شامل ہو سکتے ہیں، ایران میں جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی میرینز تعینات کر دیے گئے ہیں، اور امریکی فوج کی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

  • ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے دعوؤں پر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکی صدر قریب الوقوع امن کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب درحقیقت جنگ کے مزید قریب ہونے سے لیا جاتا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑائی پہلے ہی جاری ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معقول قرار دینے اور مذاکرات کے قریب ہونے کے بیانات کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، یہ امریکی پالیسی، خصوصاً ٹرمپ کے دور میں، ایک مخصوص طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایرانی حکام اس وقت اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں کے بجائے ممکنہ زمینی حملے کے خدشے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کے بیانات کا مرکز بھی زیادہ تر ایران کی دفاعی تیاریوں اور زمینی جنگ کے لیے آمادگی پر ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بجائے یہی صورتحال زیادہ متوقع ہے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں بدل جائے گی،صورتحال ٹرمپ کے لیے بدترین ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور جنگ پہلے ہی امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ امریکی کانگریس نے بھی تاحال اس جنگ کی باقاعدہ منظوری نہیں دی۔

    ایرانی حکام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو یہ ایک براہِ راست اور برابر کی لڑائی ہوگی ایران کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوجی اہلکار اور بڑی تعداد میں بسیج نیم فوجی فورس موجود ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں، ایسی کسی بھی زمینی جنگ کی صورت میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ کو طول دے گا بلکہ اسے امریکی قیادت، خصوصاً ٹرمپ کے لیے سیا سی طور پر نقصان دہ بھی بنا دے گا۔

  • عراق میں امریکی ملٹری بیس پر راکٹ حملہ، عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو آگ لگ گئی

    عراق میں امریکی ملٹری بیس پر راکٹ حملہ، عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو آگ لگ گئی

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹ فائر کے زور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں-

    الجزیرہ کے مطابق یہ راکٹ امریکی فوج کے زیرِ استعمال وکٹری بیس کو نشانہ بنا کر داغے گئے، جو بغداد سے تقریباً 20 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے فضائی دفاعی نظام ان راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ایک ’اے 32 بی‘ عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو نشانہ بنایا گیا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا یہ پہلا موقع ہے کہ وکٹری بیس کو اس طرح براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اس وقت اس اڈے پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھے کیونکہ امریکا پہلے ہی اس فوجی تنصیب کو خالی کر چکا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ حملہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، کیونکہ عراق پر امریکی حملے کے عروج کے دوران یہی علاقہ ملک کا سب سے محفوظ اور سخت سیکیورٹی والا مقام سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسی جگہ پر حملہ ہونا سیکیورٹی صورتحال میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

    دوسری جانب کرد خودمختار علاقے کے دارالحکومت اربیل میں بھی ایک ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، جہاں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہاں موجود فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو بروقت تباہ کر دیا۔

  • ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ چند ہزار یا محدود فوجی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ثابت ہوگی۔

    معروف دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی کی جنگیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہےامریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ پہلے سے موجود تقریباً 8 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکیں تاہم ماہرین کے مطا بق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کے لیے ناکافی ہے۔

    رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عراق میں 2007-2008 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، جبکہ لاکھوں مقامی فورسز بھی موجود تھیں، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا اسی طرح افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالات مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکے۔

    تجزیہ کار کے مطابق ایران کا رقبہ اور آبادی دونوں بہت بڑے ہیں، اور وہاں کی فوجی طاقت بھی خاصی مضبوط ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں ایسے میں کسی بھی زمینی جنگ کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی ابتدائی حملوں میں امریکا کچھ اہم اہداف حاصل کر سکتا ہے، جیسے تیل کی تنصیبات یا اہم جزائر پر کنٹرول، تاہم بعد میں شدید مزاحمت، گوریلا جنگ اور جدید ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کو طویل اور مہنگا بنا دے گا۔

    برطانوی فوج کے سابق سینئر افسران کا بھی کہنا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی ناکامی پر ختم ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا فیصلہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

  • ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں ایک امریکی سرویلنس طیارہ تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں امریکی ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم طیارہ کو نشانہ بنایا گیا یہ طیارہ جدید ریڈار سسٹمز سے لیس ہوتا ہے اور سیکڑوں میل دور تک دشمن طیاروں اور ڈرونز کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی انوینٹری میں کل 16 AWACS ہیں۔ جن میں سے 1 یا ممکنہ طور پر 2 تباہ ہو چکے ہیں، امریکی فوج میں فی الحال کوئی دوسرا AWACS نہیں ہے، اس کا متبادل E7A ابھی بھی آرڈرز پر ہے ابھی تک ڈیلیور نہیں ہوا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے طیارے کسی بھی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ فضائی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور بروقت معلومات فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،سابق امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ای تھری طیارے کی تباہی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے خلیج فارس کے خطے میں امریکی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات جاری کشیدگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    تاہم اس واقعے سے متعلق ابھی تک امریکی یا سعودی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اور ماہرین اس خبر کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

  • ایران اور امریکا  کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز پر ایران غور کر رہا ہے-

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 15 نکات شیئر کیے ہیں، جن پر تہران غور کر رہا ہے،اس عمل میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب پیغامات کی ترسیل جاری ہے، مصر، ترکی اور دیگر مما لک بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اسحاق ڈار نے میڈیا میں زیر گردش خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سفارتی سطح پر پیشرفت جاری ہے، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے موجودہ صورتحال میں مکالمہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں امریکی اور ایرانی حکام سمیت دیگر عالمی شخصیات کو بھی مخاطب کیا، جن میں عباس عراقچی، مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکاف شامل ہیں۔

  • ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے انہوں نے (ایران نے) کہا آپ سپریم لیڈر بن جائیں، میں نے کہا ’نو تھینک یو‘ (معذرت)“۔

    ٹرمپ کے مطابق کسی بھی ملک کی سربراہی سے زیادہ مشکل کام ایران کی قیادت ہے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ایران کے خلاف کارروائیوں کو اس ملک کی ’مکمل تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے، ایران خفیہ طور پر جنگ بندی چاہتا ہے لیکن داخلی ردعمل کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں،ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ نہیں کرے گا۔

  • ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ایف ایٹین لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے خبررساں ادارے آر ٹی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے،اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے-

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اس قسم کے دعوے معلوماتی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس میں غلط یا غیر مصدقہ ویڈیوز اور خبریں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ معلوماتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں دونوں فریق اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔