Baaghi TV

Tag: امریکا

  • صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی شہریت کی منسوخی کی تیاریاں تیز

    غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق غیر ملکی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں،صدر ٹرمپ نے یو ایس سٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ہر ماہ 100 سے 200 شہریت منسوخی کے کیسز امریکی وزارتِ انصاف کو بھیجے جائیں۔

    ناقدین کے مطابق یہ اقدام امریکا کی کثیرالثقافتی شناخت اور آئینی اقدار کے لیے ایک سنگین خطرہ ہےادھر امریکی وزارتِ انصاف کے ذرائع نے بتایا کہ 2017 سے اب تک 120 شہریت منسوخی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا میں شہریت حاصل کرنے والے غیرملکیوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہےمحکمۂ شماریات کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ سال 8 لاکھ غیر ملکیوں نے امریکی شہریت حاصل کی، جن کا تعلق میکسیکو، بھارت، فلپائن، ڈومینیکن ریپبلک اور ویتنام جیسے ممالک سے تھاچنانچہ ان تمام ممالک کے باشندوں کی امریکی شہریت کی منسوخی کے امکانات قوی ہیں جس میں سب سے زیادہ خطرہ بھارتیوں کے لیے ہے۔

    امیگریشن ماہرین اور سول رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قانونی سے زیادہ سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا مقصد غیر سفید فام اور غیر یورپی نژاد امریکیوں کو خوف میں مبتلا رکھنا ہے،جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی مزید آگے بڑھی تو امریکا میں بسنے والے لاکھوں شہریوں کی قانونی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، اور یہ ملک کے جمہوری تشخص پر سیاہ دھبا ثابت ہو گا۔

    واضح رہے کہ 2018 میں شہریت منسوخی کے 90 کیسز سامنے آئے تھے جب کہ 2024 میں 13 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 8 کی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور 2017 سے2021 میں بھی سخت امیگریشن قوانین نافذ کیے تھےانھوں نے “زیرو ٹالرنس” پالیسی کے نام پر تارکین وطن خاندانوں کو جدا کیا اور مسلمانوں کے خلاف سفری پابندیاں عائد کی تھیں، اُس وقت بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی یہ پالیسیاں نسلی تعصب، خوف اور عدم تحفظ کو فروغ دے رہی ہیں۔

  • امریکا کا تائیوان کو 11 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان

    امریکا کا تائیوان کو 11 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان

    امریکا نے تائیوان کو 11 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی، جو اب تک تائیوان کے لیے امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا پیکج ہے، تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ کے تحت دوسرا اعلان ہے، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب چین کی جانب سے تائیوان پر فوجی اور سفارتی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق مجوزہ اسلحہ پیکیج میں مجموعی طور پر 8 اقسام کا اسلحہ اور فوجی سازو سامان شامل ہے، جن میں ہیمارس راکٹ سسٹمز، ہووٹزر توپیں، جیولن اینٹی ٹینک میزائل، الٹیئس لوئٹرنگ میونیشن ڈرونز اور دیگر دفاعی آلات کے پرزے شامل ہیں، امریکا تائیوان کی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے، مضبوط دفاعی طاقت کی تیزی سے تشکیل اور غیر متوازن جنگی حکمت عملی کو فروغ دینے میں مسلسل معاونت کر رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کی بنیاد ہے۔

    یہ اسلحہ پیکیج امریکی کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے، جہاں تائیوان کو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہےپینٹاگون کی جانب سے جاری علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ امریکی قومی، معاشی اور سیکیورٹی مفادات کے عین مطابق ہے اور اس سے تائیوان کی مسلح افواج کو جدید بنانے میں مدد ملے گی-

    اس موقع پر تائیوان کے صدارتی دفتر کی ترجمان کیرن کوو نے اسلحہ فروخت پر امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان دفاعی اصلاحات جاری رکھے گا، قومی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا مظاہرہ کرے گا۔

    ادھر گزشتہ ماہ تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے 2026 سے 2033 تک کے لیے 40 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب چین نے اس اسلحہ معاہدے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے خبردار کیا کہ تائیوان کو ہتھیار فراہم کر کے امریکا خود کو نقصان پہنچا رہا ہے اور چین کو روکنے کی یہ کوشش ناکام ہوگی۔

    امریکا- تائیوان بزنس کونسل کے صدر روپرٹ ہیمنڈ چیمبرز کے مطابق ہیمارس جیسے ہتھیار، جو یوکرین جنگ میں مؤثر ثابت ہو چکے ہیں، کسی ممکنہ چینی حملے کی صورت میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں،یہ اعلان تائیوان کے وزیرِ خارجہ لن چیالُنگ کے گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے غیر اعلانیہ دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں تاہم ان ملاقاتوں کے ایجنڈے سے متعلق کوئی باضابطہ تفصیل سامنے نہیں آسکی۔

    واضح رہے کہ امریکا کے چین کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں تاہم وہ تائیوان کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار ہے اور قانون کے تحت تائیوان کو دفاعی صلاحیت فراہم کرنے کا پابند ہے تاہم یہ معاملہ چین کے ساتھ تعلقات میں مستقل کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جب کہ تائیوان اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔

  • امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں طیارہ گر کر تباہ

    امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں طیارہ گر کر تباہ

    امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک بزنس جیٹ طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔

    مقامی حکام کے مطابق حادثہ جمعرات کے روز اسٹیٹس ویل ریجنل ایئرپورٹ پر پیش آیا، جو ناسکار ٹیموں اور فورچون 500 کمپنیوں کے زیر استعمال ایک اہم علاقائی ہوائی اڈہ ہے،آئیریڈیل کاؤنٹی کے شیرف ڈیرن کیمبل نے میڈیا سے گفتگو میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، تاہم انہوں نے ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد بتانے سے گریز کیا کہاکہ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کردی گئیں۔

    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے مطابق سیسنا سی 550 طیارہ صبح 10 بجے کے کچھ دیر بعد اسٹیٹس ویل ریجنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران رن وے کے اختتامی حصے پر کریش ہوا-

    ایئرپورٹ ڈائریکٹر جان فرگوسن نے بتایا کہ حادثہ رن وے کے آخری حصے میں پیش آیا، جس کے باعث طیارہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا، حاد ثے کے بعد ایئرپورٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے رن وے پر پھیلے ملبے کو ہٹانے اور حفاظتی جانچ مکمل کرنے میں وقت لگے گا، جس کے بعد ہی پروازوں کی بحالی ممکن ہوسکے گی۔

    حادثے کے وقت موسم ابر آلود تھا اور ہلکی بوندا باندی بھی جاری تھی، جس کی تصدیق موسمیاتی ادارے نے کی ہے فائر بریگیڈ اور دیگر ریسکیو ادارے فوری طور پر رن وے پر پہنچے، جبکہ طیارے کے ملبے کے قریب آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے،حادثے کی تحقیقات نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) اور ایف اے اے مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات سامنے آئیں گی۔

  • چین ،امریکا جنگ کے حوالے سے پینٹاگون کی خفیہ رپورٹ لیک

    چین ،امریکا جنگ کے حوالے سے پینٹاگون کی خفیہ رپورٹ لیک

    واشنگٹن: پینٹاگون کی ایک انتہائی خفیہ رپورٹ کے مطابق اگر امریکا تائیوان پر جنگ کی صورت میں مداخلت کرے تو چین کے ہاتھوں اس کی شکست کا امکان بہت زیادہ ہو گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں تائیوان پر چینی حملے کے مختلف منظرنامے تشکیل دیئے گئے۔ جن میں دیکھا گیا کہ چین امریکی لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن، بڑے جنگی بحری جہازوں اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں تعیناتی سے قبل ہی مفلوج کرسکتا ہے، یہ انتباہ خفیہ دستاویز اوورمیچ بریف میں دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز پینٹاگون کے آفس آف نیٹ اسسمنٹ نے تیار کی ہے جس میں بتایا گیا کہ امریکا کا مہنگے اور جدید ہتھیاروں پر انحصار اسے چین کے تیزی سے بننے والے سستے ہتھیاروں کے مقابلے میں کمزور بناتا ہے چین نے ایسی صلاحیت حاصل کر لی ہے جو کسی بھی ممکنہ تنازع کے آغاز ہی میں امریکا کے اہم عسکری اثاثوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ چین کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسلحہ خانہ، خصوصاً اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ زن میزائل، جدید طیاروں کا پھیلتا ہوا بیڑا، بڑے بحری جہاز اور خلا میں کارروائی کی صلاحیت نے اسے خطے میں امریکی افواج پر واضح آپریشنل برتری حاصل کرا دی ہے۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جی آکن نے چند روز قبل امریکا کو خبردار کیا تھا کہ وہ تائیوان کے معاملے سے انتہائی احتیاط سے نمٹے۔

    نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان بھی خبردار کرچکے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکا کے اہم ہتھیار بہت جلد ختم ہوجائیں گے۔

    چین کے پاس تقریباً 600 ہائپر سونک ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے سفر کرسکتے ہیں اور انہیں روکنا انتہائی مشکل ہے بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اس کا واضح مؤقف ہے کہ 2کروڑ 30لاکھ آبادی والے اس جزیرے کو بالآخر چین سے ملا دیا جائے گا تائیوان خود کو ایک آزاد، خودمختار ملک قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کریں گے، چین نہیں۔

  • پاکستان اور امریکا کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں ،احسن اقبال

    پاکستان اور امریکا کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں ،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت مسلسل آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے جس سے پاکستان کے معاشی اور زرعی شعبے متاثر ہو سکتے ہیں، پاکستان عالمی قوانین اور معاہدات کی روشنی میں اس مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔

    اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے امریکا کی قائم مقام ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جنوبی وسطی ایشیائی امور شیلی سیور نے وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی امور پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں اور پاکستان قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے امریکا کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہےانہوں نے سائنسی، تکنیکی اور تعلیمی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ سائنسی اور تعلیمی اشتراک کو فروغ دینا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، فل برائٹ پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ امریکا کی معیاری جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو انسانی وسائل کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ انسانی وسائل ملک کا ’’بنیادی سافٹ ویئر‘‘ہیں جو انفرا اسٹرکچر کو فعال اور مؤثر بناتے ہیں، معیاری یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی نظام ہی ممالک کو سپر پاور بناتے ہیں، بھارت مسلسل آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے جس سے پاکستان کے معاشی اور زرعی شعبے متاثر ہو سکتے ہیں، پاکستان عالمی قوانین اور معاہدات کی روشنی میں اس مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔

    احسن اقبال نے امریکی وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت کے ہدف کی جانب بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت تعلیمی شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، پاکستان امریکا نالج کاریڈور کے ذریعے آئندہ 10 برسوں میں 10 ہزار معیاری پی ایچ ڈی اسکالرز تیار کرنے کا ہدف مقرر ہے جو مستقبل کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

  • امریکا کا القاعدہ برصغیر کے دو رہنماؤں پر انعام کا اعلان

    امریکا کا القاعدہ برصغیر کے دو رہنماؤں پر انعام کا اعلان

    امریکا نے القاعدہ برصغیر پاک و ہند کے دو سینئر رہنماؤں، اسامہ محمود اور عاطف یحییٰ غوری کی گرفتاری یا معلومات فراہم کرنے پر بھاری انعامات مقرر کر دیے ہیں۔ اسامہ محمود کے لیے ایک کروڑ ڈالر جبکہ عاطف یحییٰ غوری کے لیے 50 لاکھ ڈالر تک انعام رکھا گیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق دونوں شدت پسند 2015 میں بنگلا دیش میں میشیٹی حملے اور 2016 میں ڈھاکا میں امریکی سفارت خانے کے ملازم کے قتل میں ملوث رہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور ریوارڈز فار جسٹس پروگرام نے کہا ہے کہ معلومات سگنل، ٹیلی گرام، واٹس ایپ یا ٹور لنک کے ذریعے فراہم کی جا سکتی ہیں۔بیان کے مطابق اے کیو آئی ایس کا قیام ستمبر 2014 میں اس وقت کے القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری نے کیا تھا، جہاں ابتدا میں عاصم عمر امیر اور اسامہ محمود ترجمان مقرر ہوئے۔ بعد میں عاصم عمر کی ترقی کے بعد اسامہ محمود تنظیم کے سربراہ بن گئے۔

    اسامہ محمود عرف عطا اللہ، زر ولی اور ابو زر 2 ستمبر 1980 کو پیدا ہوئے، پاکستانی شہری ہیں اور خیال ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہیں۔ AQIS القاعدہ نیٹ ورک کے تحت پاکستان، بھارت، افغانستان، برما اور بنگلا دیش میں سرگرم مختلف جہادی گروہوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔تنظیم نے 26 فروری 2015 کو بنگلا دیش میں امریکی شہری روی احمد پر حملے اور 26 اپریل 2016 کو یو ایس ایڈ کے ملازم خولہاز منان اور ان کے دوست کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی

    ہنگو ،پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، تین اہلکار شہید

    ہنگو ،پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، تین اہلکار شہید

    بھارتی کرکٹر کا ایئر انڈیا میں سفر سے گریز کا مشورہ

    ہانگ کانگ کے رہائشی کمپلیکس میں خوفناک آگ، 36 ہلاک، 279 لاپتہ

  • امریکا نے یورپ کی 4 اینٹیفا تنظیموں کو دہشتگرد قرار دے دیا

    امریکا نے یورپ کی 4 اینٹیفا تنظیموں کو دہشتگرد قرار دے دیا

    امریکا نے یورپ میں سرگرم چار اینٹیفا تنظیموں کو دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    یہ اقدام امریکا میں سیاسی تشدد میں اضافے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔اس سے قبل ستمبر میں امریکی حکومت ملک میں فعال اینٹیفا نیٹ ورک کو ایک قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل کے بعد دہشتگرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق جن یورپی گروہوں کو اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ قرار دیا جا رہا ہے ان میں اینٹیفا اوسٹ (جرمنی)،انفارمل اینارکسٹ فیڈریشن – انٹرنیشنل ریولیوشنری فرنٹ (اٹلی)،آرمڈ پرو لیٹیرین جسٹس (یونان) اور ریولیوشنری کلاس سیلف ڈیفینس (یونان) شامل ہیں.

    رپورٹ کے مطابق ان چاروں تنظیموں کو آئندہ ہفتے فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشنز کی فہرست میں بھی شامل کیا جائے گا، جس کے بعد ان کے مالی اثاثے منجمد ہو جائیں گے، مالی لین دین پر پابندی ہوگی، امریکا میں داخلہ بند ہو جائے گا اور کسی بھی نوعیت کی حمایت سنگین جرم تصور ہوگی

    افغانستان اپنی زبان میں جواب چاہتا ہے، دہشتگرد ٹھکانوں پر کارروائی ہوگی: رانا ثنااللہ

    لاپتہ بھارتی سکھ خاتون یاتری نے پاکستانی شہری سے نکاح کرلیا

    غیر منصفانہ الیکشن میں جیت ممکن نہیں: راہول گاندھی

    وفاقی کابینہ کی منظوری، گوادر عمان فیری سروس جلد شروع ہوگی

  • امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد و ادارے نشانہ

    امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد و ادارے نشانہ

    امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ پابندیاں ان افراد اور کمپنیوں پر لگائی گئی ہیں جو ایران کے میزائل اور ڈرون تیار کرنے میں تکنیکی معاونت اور مالی تعاون فراہم کر رہے تھے۔امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کا یہ نیٹ ورک مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ تہران کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کا پھیلاؤ علاقائی استحکام کے لیے تشویش ناک ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیت کو محدود کرنا اور ہتھیاروں کی ترسیل کے نیٹ ورکس کو توڑنا ہے

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس مؤخر، اب کل ہوگا

    سیکیورٹی یقین دہانی،سری لنکن ٹیم کو دورہ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت

    چار ماہ میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر 75 ارب 96 کروڑ روپے خرچ

  • امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے،  خامنہ ای

    امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے، خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کے لیے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق منگل کو ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے، جو ایران کے لیے کسی فائدے کی حامل نہیں،امریکی فریق بضد ہے کہ ایران کو (یورینیم) افزودگی کی اجازت نہ ہو، ہم نے ہتھیار ڈالے نہ ڈالیں گے، ہم اس معاملے یا کسی اور معاملے میں دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔

    سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ،امریکا سے مذاکرات صرف ایران کو نقصان پہنچائیں گے،موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات نہ صرف بے فائدہ ہیں بلکہ بڑے نقصان دہ بھی ہیں، جن میں سے کچھ کو ناقابلِ تلافی بھی کہا جا سکتا ہے، پچھلے 10 سال کے تجربات کو نہ بھولیں، دوسرا فریق جس پر ہماری بحث ہے، وہ امریکا ہے، یہ فریق ہمیشہ وعدہ خلافی کرتا ہے، ہر بات پر جھوٹ بولتا ہے، دھوکا دیتا ہے اور ہر موقع پر فوجی دھمکیاں دیتا ہے، ایسے فریق سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، میری نظر میں امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر اور شاید دوسرے معاملات پر بھی مذاکرات ’مکمل بند گلی‘ ہیں۔

    متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب یورپی طاقتیں ایران کے خلاف اس کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے ملاقات کر رہی تھیں، مگر کسی سمجھوتے کے آثار نظر نہیں آئے۔

    یورپی ممالک اور امریکا کو شبہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن تہران نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا حق حاصل ہےجون میں اسرائیل نے ایران کے جوہری مراکز پر ایک بڑی فوجی کارروائی کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامل ہو کر امریکی جنگی طیاروں کو اہم اہداف پر بمباری کا حکم دیا،ٹرمپ انتظامیہ، جو طویل عرصے سے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر زور دے رہی تھی، نے ایران سے بات چیت کی آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن ایران کو واشنگٹن کی نیت پر شک ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے صدرآئی ایم ایف سربراہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

  • امریکا کا پوری عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے پر غور

    امریکا کا پوری عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے پر غور

    امریکا کی جانب سے رواں ہفتے پوری عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے-

    روئٹرز کے مطابق واشنگٹن پہلے ہی عدالت کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز پر انفرادی پابندیاں لگا چکا ہے، لیکن ادارے کے طور پر آئی سی سی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا ایک بڑی پیش رفت تصور ہوگی،معاملے سے آگاہ 6 ذرائع نے حساس نوعیت کے اس سفارتی معاملے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسی ’ادارہ جاتی پابندیوں‘ کا فیصلہ جلد ممکن ہے۔

    ایک ذریعے کے مطابق عدالت کے عہدیداران نے اس خدشے کے اثرات پر ہنگامی اندرونی اجلاس بھی منعقد کیے ہیں، جبکہ 2 دیگر ذرائع کے مطابق رکن ممالک کے سفارتکاروں کی سطح پر بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں،ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ عدالت پر ادارہ جاتی سطح پر پابندیوں پر غور ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے اس کی حتمی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

    عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے عدالت پر یہ الزام لگایا کہ وہ امریکا اور اسرائیلی اہلکاروں پر ’مبینہ دائرہ اختیار‘ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور کہا کہ واشنگٹن مزید اقدامات کرے گا،’آئی سی سی کے پاس اپنا راستہ بدلنے کا موقع ہے، جس کے لیے اہم اور موزوں ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں ضروری ہیں، جب تک آئی سی سی ہمارے قومی مفادات کے لیے خطرہ بنی رہے گی، امریکا اپنے بہادر اہلکاروں اور دوسروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے گا-

    3 سفارتی ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے 125 رکن ممالک میں سے کچھ امریکا کی جانب سے مزید پابندیوں کے خلاف اس ہفتے نیویارک میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران آواز اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

    تاہم ہیگ اور نیویارک میں موجود 4 سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام اشارے بتاتے ہیں کہ امریکا عدالت پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہے، ایک سینئر سفارتکار نے کہا کہ’انفرادی پابندیوں کا راستہ استعمال ہو چکا ہے، اب سوال یہ نہیں ہے کہ اگلا قدم اٹھایا جائے گا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اگلا قدم کب اٹھایا جائے گا-

    چین ایئرکرافٹ کیریئر سے جدید لڑاکا طیارے لانچ کرنے والا دوسرا ملک بن گیا

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور امریکا و اس کے اتحادی اسرائیل کے خلاف ’قانونی جنگ‘ کا ہتھیار قرار دیا۔

    یہ عدالت 2002 میں ایک معاہدے کے تحت قائم کی گئی تھی، جس کے تحت اسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم پر کارروائی کا اختیار ہے، بشرطیکہ وہ کسی رکن ملک کے شہری نے کیے ہوں یا رکن ملک کی سرزمین پر پیش آئے ہوں، اسرائیل اور امریکا اس کے رکن نہیں ہیں،عدالت فلسطین کو رکن تسلیم کرتی ہے اور اس نے قرار دیا ہے کہ اس سے اسے فلسطینی علاقے میں ہونے والے اقدامات پر دائرہ اختیار حاصل ہوتا ہے، جسے اسرائیل اور امریکا تسلیم نہیں کرتے۔

    پی سی بی کا ملک بھر میں سکولز کے لئے بڑے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز

    فروری میں وائٹ ہاؤس نے عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان پر بھی پابندیاں لگائی تھیں، جنہوں نے نیتن یاہو اور یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی، کریم خان اس وقت چھٹی پر ہیں اور ان پر عائد جنسی بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، جنہیں وہ مسترد کرتے ہیں۔